TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 558 - جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی۔ - The book of the times (of prayer) - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 6 in this chapter
جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی۔
أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْجُمُعَةِ أَوْ غَيْرِهَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ .
It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet (ﷺ) said: Whoever catches up with with a Rak'ah of Jumu'ah or any other (prayer), his prayer is complete.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جس نے جمعہ کی یا کسی اور نماز کی ایک رکعت پالی اس کی نماز مکمل ہو گئی  ۱؎۔
558
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 6, Hadith 558 Arabic reference : Book 6, Hadith 562
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 558
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة ۹۱ (۱۱۲۳)، (تحفة الأشراف: ۷۰۰۱) (صحیح)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎: یعنی پوری نماز کے وقت پر ادا کرنے کا ثواب اسے مل گیا نہ کہ بالفعل اسے پوری نماز مل گئی۔

Related Chapters

2,104
1
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
Musnad Ahmad
2
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
3
نماز خوف کی دوسری صورت امام ہرگروہ کو ایک ایک رکعت پڑھائے اور لوگ ایک ایک رکعت الگ الگ پڑھیں
Musnad Ahmad
4
نماز خوف کی تیسری صورت ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا
Musnad Ahmad
5
نمازِ خوف کی چوتھی صورت امام ہر گروہ کو ایک ایک رکعت پڑھا کر اس قدر انتظار کرے کہ وہ لوگ دوسری رکعت خود پڑھ لیں
Musnad Ahmad
6
نماز خوف کی پانچویں صورت امام ہر گروہ کو (الگ الگ) ایک سلام کے ساتھ دو دو رکعتیں پڑھائے
Musnad Ahmad
7
نماز خوف کی ساتویں صورت ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
Musnad Ahmad
8
(17) CHAPTER. Whoever got (or was able to offer) only one Raka of the Asr prayer before sunset.
جو شخص عصر کی ایک رکعت سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے پڑھ سکا تو اس کی نماز ادا ہوگئی
Sahih Bukhari
9
(29) CHAPTER. Whoever got (or was able to offer) one Raka of a prayer (in time).
جو کوئی کسی نماز کی ایک رکعت پالے ، اس نے وہ نماز پالی
Sahih Bukhari
10
Chapter: The one who catches up with a rak`ah of the prayer, he has caught up with that prayer
جسے نماز کی ایک رکعت مل گئی ، اسے وہ نماز مل گئی
Sahih Muslim
11
Chapter: Night prayers and the number of rak`ah offered by the Prophet (saws) at night, and that Witr is one rak`ah, and a one-rak`ah prayer is correct
رات کی نماز ‘رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی رات کی (نماز کی)رکعتوں کی تعداد اور اس بات کا بیان کہ وتر ایک رکعت ہے اور ایک رکعت صحیح نماز ہے
Sahih Muslim
12
Chapter: The night prayers are two by two, and Witr is one rakah at the end of the night
رات کی نماز دو رکعت ‘اور وتر رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے
Sahih Muslim
13
CHAPTER: One Who Catches One Rak’ah Of The Friday Prayer.
باب: جس نے نماز جمعہ کی ایک رکعت پائی اس نے جمعہ پا لیا ۔
Sunnan Abu Dawood
14
CHAPTER: Whoever Said That Only Two Ruku’ Should Be Performed (In Eclipse Prayer).
باب: نماز کسوف کی ہر رکعت میں ایک ایک رکوع ہے اس کے قائلین کی دلیل ۔
Sunnan Abu Dawood
15
جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز فجر کی ایک رکعت پا لی۔
Sunnan Nisai
16
جمعہ کی ایک رکعت پا لینے والے شخص کی نماز جمعہ کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
(45)Chapter: What Had Been Related About Performing The (Five Obligatory) Prayers With One Wudu
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
(95)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mustahadah That She Can Combine Two Prayers With One Ghusl
باب: مستحاضہ ایک غسل سے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کر سکتی ہے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: Something else (about the timings of Salat)
باب: اوقات نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
20
Chapter: , What Has Been Related About One Who Caught A Rak'ah About One Asr Before The Sun Has Set
باب: جسے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت مل جائے اسے عصر مل گئی
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays While Another Man Is With Him
باب: آدمی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ساتھ صرف ایک آدمی ہو تو مقتدی کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
23
Chapter: Something else about that
باب: طریقہ نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Performing Salat In One Garment
باب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Intertwine The Fingers During Salat
باب: نماز میں ایک ہاتھ کی انگلیوں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat After Fajr Begins Except For Two Rak'ah'
باب: طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Salat Of The Night Is Two By Two
باب: رات کی (نفل) نماز دو دو رکعت ہے
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About One (Rak'ah) For Al-Witr
باب: ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: [What Has Been Related] About Two Rak'ah When One Arrives While the Imam Is Delivering The Khubah
باب: خطبہ کے دوران آدمی آئے تو پہلے دو رکعت نماز پڑھے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: [What Has Been Related] About One Who Catches A Rak'ah Of The Friday Prayer
باب: جسے جمعہ کی صرف ایک رکعت ملی اس کو جمعہ مل گیا
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers
باب: دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Salat During The Night And The Day Is Two And Two
باب: رات اور دن کی (نفل) نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Mentioned About Reciting Two Surat In A Rak'ah
باب: ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: Something Else About That
باب: فضائل نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
36
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
Musnad Ahmad
38
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
نماز میں مسلمانوں کے ننگا ہونے کی ممانعت اور ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
40
دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے
Musnad Ahmad
41
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
Musnad Ahmad
43
سلام پھیر دینے والا وہ آدمی کیا کرے، جس کی ابھی تک ایک رکعت باقی ہو
Musnad Ahmad
44
جو شخص چار رکعت والی نماز کی پانچ رکعتیں ادا کر لے
Musnad Ahmad
45
ایک، تین، پانچ، سات اور نو رکعت وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھنے اور اس سے پہلے جفت رکعات ادا کرنے کا بیان ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
46
پانچ رکعت نمازِ وترکا بیان
Musnad Ahmad
47
اس کی دلیل کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ وتر کے علاوہ نماز تراویح آٹھ رکعت ہے
Musnad Ahmad
48
مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرانے کا اور حدیث ’’ایک دن میں ایک نماز دو مرتبہ نہ پڑھو‘‘کا بیان
Musnad Ahmad
49
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
Musnad Ahmad
50
خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,205
Sunnan Abu Dawood
2332
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ ابْنَةَ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَهَلَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَيْنَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ رَأَيْتُهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْتَ رَأَيْتَهُ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ وَرَآهُ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا نَزَالُ نَصُومُهُ حَتَّى نُكْمِلَ الثَّلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَفَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Kuraib: That Umm al-Fadl, daughter of al-Harith, sent him to Mu'aqiyah in Syria. He said: I came to syria and performed her work. The moon of Ramadan appeared while I was in Syria. We sighted the moon on the night of Friday. When I came to Median towards the end of the month (of Ramadan), Ibn Abbas asked me about the moon. He said: When did you sight the moon ? I said: I sighted it on the night of Friday. He asked: Did you sight it yourself ? I said: Yes, and the people sighted it. They fasted and Muawiyah also fasted. He said: But we sighted it on the night of saturday. Since then we have been fasting until we complete thirty days or we sight it. Then I said: Are the sighting of the moon by Muawiyah and his fasts not sufficient for us? He replied: No. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم commanded us to do so.
کریب کہتے ہیں کہ ام الفضل بنت حارث نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، میں نے ( وہاں پہنچ کر ) ان کی ضرورت پوری کی، میں ابھی شام ہی میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، ہم نے جمعہ کی رات میں چاند دیکھا، پھر مہینے کے آخر میں مدینہ آ گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے چاند کے متعلق پوچھا کہ تم نے چاند کب دیکھا؟ میں نے جواب دیا کہ جمعہ کی رات میں، فرمایا: تم نے خود دیکھا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے، اور روزہ رکھا ہے، معاویہ نے بھی روزہ رکھا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: لیکن ہم نے سنیچر کی رات میں چاند دیکھا ہے لہٰذا ہم چاند نظر آنے تک روزہ رکھتے رہیں گے، یا تیس روزے پورے کریں گے، تو میں نے کہا کہ کیا معاویہ کی رؤیت اور ان کا روزہ کافی نہیں ہے؟ کہنے لگے: نہیں، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے۔
Sunnan Nisai
585
أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَيَّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قال أَيُّوبُ حَدَّثَنَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ أَسْلَمَ مَعَكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ حُرٌّ وَعَبْدٌ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ هَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَقْرَبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أُخْرَى ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْتَهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَمَا دَامَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَيُّوبُ:‏‏‏‏ فَمَا دَامَتْ كَأَنَّهَا حَجَفَةٌ حَتَّى تَنْتَشِرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى يَقُومَ الْعَمُودُ عَلَى ظِلِّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْتَهِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ نِصْفَ النَّهَارِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْتَهِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَتَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ .
It was narrated that 'Amr bin 'Abasah said: I came to the Messenger of Allah, who became Muslim with you?' He said: 'Free men and slaves.' I said: 'Is there any moment which brings one closer to Allah than another?' He said: 'Yes, the last part of the night, so pray as much as you want until you pray Subh, then stop until the sun has risen until and it looks like a shield and (its shinning)spreads. Then pray as much as you want until an object's shadow is at its shortest, then stop until the sun passes its zenith, for Hell is stoked at midday. Then pray 'Asr, then stop until you pray 'Asr, then stop until the sun has set, for it sets between the horns of a Shaitan and rises between the horns of a Shaitan.' [1] [1] Similar has been recorded by Muslim.
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ کون اسلام لایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  ایک آزاد اور ایک غلام  ۱؎ میں نے عرض کیا: کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں دوسری گھڑیوں کی بنسبت اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ حاصل ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  ہاں، رات کا آخری حصہ ہے، اس میں فجر پڑھنے تک جتنی نماز چاہو پڑھو، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور اسی طرح اس وقت تک رکے رہو جب تک سورج ڈھال کی طرح رہے  ( ایوب کی روایت میں «وما دامت» کے بجائے «فما دامت» ہے )  یہاں تک کہ روشنی پھیل جائے، پھر جتنی چاہو پڑھو یہاں تک کہ ستون اپنے سایہ پر کھڑا ہو جائے ۲؎ پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اس لیے کہ نصف النہار  ( کھڑی دوپہر )  میں جہنم سلگائی جاتی ہے، پھر جتنا مناسب سمجھو نماز پڑھو یہاں تک کہ عصر پڑھ لو، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اس لیے کہ سورج شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان ڈوبتا ہے، اور دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔
Sunnan Nisai
1604
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا،‏‏‏‏ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .
It was narrated from Abu Hurairah that: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever prays Qiyam during Ramadan out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے  ( رات کا )  قیام کرے گا، تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے ۔
Sahih Bukhari
1072
حدثنا سليمان بن داود ابو الربيع ، قال : حدثنا إسماعيل بن جعفر ، قال : اخبرنا يزيد بن خصيفة ، عن ابن قسيط ، عن عطاء بن يسار ، انه اخبره ، انه سال زيد بن ثابت رضي الله عنه ، فزعم انه قرا على النبي صلى الله عليه وسلم والنجم فلم يسجد فيها .
Narrated `Ata' bin Yasar: I asked Zaid bin Thabit about prostration on which he said that he had recited An-Najm before the Prophet, yet he (the Prophet) had not performed a prostration.
ہم سے سلیمان بن داؤد ابوالربیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یزید بن خصیفہ نے خبر دی، انہیں (یزید بن عبداللہ) ابن قسیط نے، اور انہیں عطاء بن یسار نے کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ آپ نے یقین کے ساتھ اس امر کا اظہار کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم کی تلاوت آپ نے کی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
Sahih Bukhari
1237
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَأَخْبَرَنِي أَوْ قَالَ بَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ , قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ .
Narrated Abu Dhar: Allah's Apostle said, Someone came to me from my Lord and gave me the news (or good tidings) that if any of my followers dies worshipping none (in any way) along with Allah, he will enter Paradise. I asked, Even if he committed illegal sexual intercourse (adultery) and theft? He replied, Even if he committed illegal sexual intercourse (adultery) and theft.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا کہ ہم سے واصل بن حیان احدب (کبڑے) نے، ان سے معرور بن سوید نے بیان کیا اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ خواب میں ) میرے پاس میرے رب کا ایک آنے والا ( فرشتہ ) آیا۔ اس نے مجھے خبر دی، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اس نے مجھے خوشخبری دی کہ میری امت میں سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس پر میں نے پوچھا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگرچہ زنا کیا ہو اگرچہ چوری کی ہو۔
Sahih Bukhari
1478
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ ، قَالَ : فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ ، فَقُلْتُ : مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا , قَالَ أَوْ مُسْلِمًا ؟ , قَالَ : فَسَكَتُّ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا , قَالَ أَوْ مُسْلِمًا ؟ , قَالَ : فَسَكَتُّ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا يَعْنِي ؟ ، فَقَالَ : إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ ، وَعَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ بِهَذَا ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَجَمَعَ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي ، ثُمَّ قَالَ : أَقْبِلْ أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : فَكُبْكِبُوا قُلِبُوا فَكُبُّوا مُكِبًّا ، أَكَبَّ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ فِعْلُهُ غَيْرَ وَاقِعٍ عَلَى أَحَدٍ ، فَإِذَا وَقَعَ الْفِعْلُ ، قُلْتَ : كَبَّهُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ وَكَبَبْتُهُ أَنَا .
Narrated Sa`d (bin Abi Waqqas): Allah's Apostle distributed something (from the resources of Zakat) amongst a group of people while I was sitting amongst them, but he left a man whom I considered the best of the lot. So, I went up to Allah's Apostle and asked him secretly, Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer. The Prophet said, Or merely a Muslim (Who surrender to Allah). I remained quiet for a while but could not help repeating my question because of what I knew about him. I said, O Allah's Apostle! Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer. The Prophet said, Or merely a Muslim. I remained quiet for a while but could not help repeating my question because of what I knew about him. I said, O Allah's Apostle! Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer. The Prophet said, Or merely a Muslim. Then Allah's Apostle (p.b.u.h) said, I give to a person while another is dearer to me, for fear that he may be thrown in the Hell-fire on his face (by reneging from Islam).
ہم سے محمد بن غریر زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے اپنے باپ سے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ان سے ابن شہاب نے ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے خبر دی۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اشخاص کو کچھ مال دیا۔ اسی جگہ میں بھی بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے شخص کو چھوڑ دیا اور انہیں کچھ نہیں دیا۔ حالانکہ ان لوگوں میں وہی مجھے زیادہ پسند تھا۔ آخر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر چپکے سے عرض کیا ‘ فلاں شخص کو آپ نے کچھ بھی نہیں دیا؟ واللہ میں اسے مومن خیال کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ یا مسلمان؟ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں تھوڑی دیر تک خاموش رہا۔ لیکن میں ان کے متعلق جو کچھ جانتا تھا اس نے مجھے مجبور کیا ‘ اور میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! آپ فلاں شخص سے کیوں خفا ہیں ‘ واللہ! میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ یا مسلمان؟ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کو دیتا ہوں ( اور دوسرے کو نظر انداز کر جاتا ہوں ) حالانکہ وہ دوسرا میری نظر میں پہلے سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ کیونکہ ( جس کو میں دیتا ہوں نہ دینے کی صورت میں ) مجھے ڈر اس بات کا رہتا ہے کہ کہیں اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں نہ ڈال دیا جائے۔ اور ( یعقوب بن ابراہیم ) اپنے والد سے ‘ وہ صالح سے ‘ وہ اسماعیل بن محمد سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ وہ یہی حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری گردن اور مونڈھے کے بیچ میں مارا۔ اور فرمایا۔ سعد! ادھر سنو۔ میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔ آخر حدیث تک۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ( قرآن مجید میں لفظ ) «كبكبوا‏» اوندھے لٹا دینے کے معنی میں ہے۔ اور سورۃ الملک میں جو «مكبا‏» کا لفظ ہے وہ «أكب» سے نکلا ہے۔ «أكب» لازم ہے یعنی اوندھا گرا۔ اور اس کا متعدی «كب» ہے۔ کہتے ہیں کہ «كبه الله لوجهه» یعنی اللہ نے اسے اوندھے منہ گرا دیا۔ اور «كببته» یعنی میں نے اس کو اوندھا گرایا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا صالح بن کیسان عمر میں زہری سے بڑے تھے وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے ہیں۔
Sahih Bukhari
1824
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حَاجًّا فَخَرَجُوا مَعَهُ ، فَصَرَفَ طَائِفَةً مِنْهُمْ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ ، فَقَالَ : خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى نَلْتَقِيَ ، فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ إِلَّا أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ ، فَحَمَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى الْحُمُرِ ، فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا ، فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا ، وَقَالُوا : أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ؟ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الْأَتَانِ ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا ، وَقَدْ كَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ ، فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ ، فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا ، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا ، ثُمَّ قُلْنَا : أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ! فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا ، قَالَ : أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا ، أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا .
Narrated `Abdullah bin Abu Qatada: That his father had told him that Allah's Apostle set out for Hajj and so did his companions. He sent a batch of his companions by another route and Abu Qatada was one of them. The Prophet said to them, Proceed along the seashore till we meet all together. So, they took the route of the seashore, and when they started all of them assumed Ihram except Abu Qatada. While they were proceeding on, his companions saw a group of onagers. Abu Qatada chased the onagers and attacked and wounded a sheonager. They got down and ate some of its meat and said to each other: How do we eat the meat of the game while we are in a state of Ihram? So, we (they) carried the rest of the she-onager's meat, and when they met Allah's Apostle they asked, saying, O Allah's Apostle! We assumed Ihram with the exception of Abu Qatada and we saw (a group) of onagers. Abu Qatada attacked them and wounded a she-onager from them. Then we got down and ate from its meat. Later, we said, (to each other), 'How do we eat the meat of the game and we are in a state of Ihram?' So, we carried the rest of its meat. The Prophet asked, Did anyone of you order Abu Qatada to attack it or point at it? They replied in the negative. He said, Then eat what is left of its meat.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن موہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد ابوقتادہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( حج کا ) ارادہ کر کے نکلے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی ایک جماعت کو جس میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ ہدایت دے کر راستے سے واپس بھیجا کہ تم لوگ دریا کے کنارے کنارے ہو کر جاؤ، ( اور دشمن کا پتہ لگاؤ ) پھر ہم سے آ ملو۔ چنانچہ یہ جماعت دریا کے کنارے کنارے چلی، واپسی میں سب نے احرام باندھ لیا تھا لیکن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا۔ یہ قافلہ چل رہا تھا کہ کئی گورخر دکھائی دئیے، ابوقتادہ نے ان پر حملہ کیا اور ایک مادہ کا شکار کر لیا، پھر ایک جگہ ٹھہر کر سب نے اس کا گوشت کھایا اور ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ کیا ہم محرم ہونے کے باوجود شکار کا گوشت بھی کھا سکتے ہیں؟ چنانچہ جو کچھ گوشت بچا وہ ہم ساتھ لائے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو عرض کی یا رسول اللہ! ہم سب لوگ تو محرم تھے لیکن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا پھر ہم نے گورخر دیکھے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر کے ایک مادہ کا شکار کر لیا، اس کے بعد ایک جگہ ہم نے قیام کیا اور اس کا گوشت کھایا پھر خیال آیا کہ کیا ہم محرم ہونے کے باوجود شکار کا گوشت کھا بھی سکتے ہیں؟ اس لیے جو کچھ گوشت باقی بچا ہے وہ ہم ساتھ لائے ہیں۔ آپ نے پوچھا کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو شکار کرنے کے لیے کہا تھا؟ یا کسی نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا تھا؟ سب نے کہا نہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بچا ہوا گوشت بھی کھا لو۔
Sahih Bukhari
1854
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
Narrated `Abdullah bin `Abbas: Al-Fadl was riding behind the Prophet and a woman from the tribe of Khath'am came up. Al-Fadl started looking at her and she looked at him. The Prophet turned Al-Fadl's face to the other side. She said, My father has come under Allah's obligation of performing Hajj but he is a very old man and cannot sit properly on his Mount. Shall I perform Hajj on his behalf? The Prophet replied in the affirmative. That happened during Hajjat-al-Wada` of the Prophet .
(دوسری سند سے امام بخاری رحمہ اللہ نے) کہا ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خشعم کی ایک عورت آئی اور عرض کی یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کی طرف سے فریضہ حج جو اس کے بندوں پر ہے اس نے میرے بوڑھے باپ کو پا لیا ہے لیکن ان میں اتنی سکت نہیں کہ وہ سواری پر بھی بیٹھ سکیں تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔
Sahih Bukhari
2441
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، آخِذٌ بِيَدِهِ إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ ، فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ ، فَيَقُولُ : أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا ، أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا ، فَيَقُولُ : نَعَمْ ، أَيْ رَبِّ حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ ، وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ هَلَكَ ، قَالَ : سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا ، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ، فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ ، وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُونَ ، فَيَقُولُ : الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ ، أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ .
Narrated Safwan bin Muhriz Al-Mazini: While I was walking with Ibn `Umar holding his hand, a man came in front of us and asked, What have you heard from Allah's Apostle about An-Najwa? Ibn `Umar said, I heard Allah's Apostle saying, 'Allah will bring a believer near Him and shelter him with His Screen and ask him: Did you commit such-and-such sins? He will say: Yes, my Lord. Allah will keep on asking him till he will confess all his sins and will think that he is ruined. Allah will say: 'I did screen your sins in the world and I forgive them for you today', and then he will be given the book of his good deeds. Regarding infidels and hypocrites (their evil acts will be exposed publicly) and the witnesses will say: These are the people who lied against their Lord. Behold! The Curse of Allah is upon the wrongdoers. (11.18)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا کہ مجھے قتادہ نے خبر دی، ان سے صفوان بن محرزمازنی نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے جا رہا تھا۔ کہ ایک شخص سامنے آیا اور پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے ( قیامت میں اللہ اور بندے کے درمیان ہونے والی ) سرگوشی کے بارے میں کیا سنا ہے؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے نزدیک بلا لے گا اور اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور اسے چھپا لے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا تجھ کو فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا فلاں گناہ تجھ کو یاد ہے؟ وہ مومن کہے گا ہاں، اے میرے پروردگار۔ آخر جب وہ اپنے گناہوں کا اقرار کر لے گا اور اسے یقین آ جائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالا۔ اور آج بھی میں تیری مغفرت کرتا ہوں، چنانچہ اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی، لیکن کافر اور منافق کے متعلق ان پر گواہ ( ملائکہ، انبیاء، اور تمام جن و انس سب ) کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا۔ خبردار ہو جاؤ! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہو گی۔