TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2299 - باب: جھوٹی گواہی کی مذمت کا بیان - Chapters on witnesses - Jam e Tirmazi in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 5 in this chapter
باب: جھوٹی گواہی کی مذمت کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ، عَنْ فَاتِكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خَطِيبًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏ عَدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ سورة الحج آية 30، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفُوا فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ لِأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ سَمَاعًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Ayman bin Khuraim narrated that the Prophet (s.a.w) stood to give a Khutbah and said: O you people False witness is tantamount to Shirk with Allah Then the Messenger of Allah (s.a.w)recited: So shun the Rijs of the idols, and shun false speech.
ایمن بن خریم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور» ”تو بتوں کی گندگی سے بچے رہو ( ان کی پرستش نہ کرو ) اور جھوٹ بولنے سے بچے رہو“ ( الحج: ۳۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سفیان بن زیاد کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور لوگوں نے سفیان بن زیاد سے اس حدیث کی روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے، ۳- نیز ہم ایمن بن خریم کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع بھی نہیں جانتے ہیں۔
2299
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 9, Hadith 2299 Arabic reference : Book 35, Hadith 2468
ضعيف، ابن ماجة (2372) // ضعيف سنن ابن ماجة (518) ، تخريج الإيمان لابن سلام (49 / 118) ، طبع المكتب الإسلامي، المشكاة (3779 و 3780) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2299
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۷۴۸)

Related Chapters

110
1
Chapter: What Has Been Related Aout The Severity Of Lying And False Speech
باب: جھوٹ اور جھوٹی گواہی وغیرہ پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
2
بغیر مطالبے کے گواہی دینے والے کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
3
جھوٹی گواہی کی قباحت کا بیان
Musnad Ahmad
4
(10) CHAPTER. What has been said about false witness.
جھوٹی گواہی دینا بڑا گناہ ہے
Sahih Bukhari
5
(11) CHAPTER. (To play tricks) in marriage.
نکاح پر جھوٹی گواہی گزر جائے تو کیا حکم ہے
Sahih Bukhari
6
CHAPTER: Regarding false witness.
باب: جھوٹی گواہی دینے کی برائی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
7
: جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی حدیث روایت کرنے والے کی مذمت۔
Sunnan Ibn e Maja
8
Chapter: False Witness
جھوٹی گواہی دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
9
Chapter: What Has Been Related About Fasting Based Upon Testimony
باب: چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Severity Of Neglecting Hajj
باب: حج ترک کرنے کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What has been related about one woman's testimony about suckling
باب: رضاعت کے سلسلہ میں ایک عورت کی گواہی کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About One Who Makes A False Oath About His Merchandise
باب: سودے پر جھوٹی قسم کھانے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Was Been Related About The False Oath To Deprive The Muslim Of His Wealth
باب: جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ہتھیانے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About 'The Proof Is Required From The Claimant And The Oath Is Required From The One The Claim Is Against'
باب: گواہی مدعی پر اور قسم مدعیٰ علیہ پر ہے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Hatred
باب: آپس میں بغض رکھنے کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Stinginess
باب: بخیل کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Al-Fuhsh(Obscenity) [And At-Tafahhush(Uttering Obscenities)]
باب: بےحیائی اور بد زبانی کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Vilification
باب: گالی گلوچ کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Verbally Abusing The Muslim Is Disobedience, And Fighting Him Is Disbelief
باب: گالی گلوچ کی مذمت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Arguing
باب: تکرار کرنے اور لڑائی جھگڑے کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: ان لوگوں کا بیان جن کی گواہی درست نہیں
Jam e Tirmazi
22
باب: قیامت کے دن انسانی اعمال پر گواہیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Whoever Dies While He Bears Witness To La Ilaha Illallah
باب: موت کے وقت لا إلہ إلا اللہ کی گواہی دینے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Concealing Knowledge
باب: علم چھپانے کی مذمت
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Lying Against The Messenger Of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Whoever Reports A Hadith Which Knows Is A Lie
باب: جان بوجھ کر جھوٹی موضوع حدیث بیان کرنے والے کی برائی کا بیان
Jam e Tirmazi
27
بَاب الْإِنْفَاق وكراهية الْإِمْسَاك
سخاوت کی فضیلت اور بخل کی مذمت کا بیان
Mishkat
28
بَاب الْأَقْضِيَة والشهادات
فیصلوں اور گواہیوں کا بیان
Mishkat
29
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
30
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
Musnad Ahmad
31
وسوسے کی مذمت اور وضو کے پانی میں اسراف کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
32
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
Musnad Ahmad
33
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
34
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
35
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
36
گھوڑوں کی قابل تعریف اور قابل مذمت صفات کا بیان
Musnad Ahmad
37
جھوٹی قسم کے بارے میں سختی کا اور منبر نبوی پر اس قسم کے بڑا جرم ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
38
اس شخص کا بیان جس نے جھوٹی قسم اٹھائی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا
Musnad Ahmad
39
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود چھوڑ دینے والے شخص کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
40
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
41
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
42
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
ظالم حاکموں کی مذمت اور مُنصِف حکمرانوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
44
دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان
Musnad Ahmad
45
عورتوں کی گواہی کا بیان
Musnad Ahmad
46
گواہی دینے والے کو لوگوں کے ڈر کی وجہ سے حق چھپانے سے ممانعت کا بیان اور (بغیر مطالبے کے) ثواب حاصل کرنے کے لیے شہادت دینے والے کی گواہی کا بیان
Musnad Ahmad
47
عورتوں کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
48
مال کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
49
دنیا کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
50
عمارتوں کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

23
Sunnan Abu Dawood
3599
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي سُفْيَانُ يَعْنِي الْعُصْفُرِيَّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ، ‏‏‏‏‏‏بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ:‏‏‏‏ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ‏‏‏‏ 30 ‏‏‏‏ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ سورة الحج آية 29-30 .
Narrated Khuraym Ibn Fatik: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم offered the morning prayer. When he finished it, he stood up and said three times: False witness has been made equivalent to attributing a partner to Allah. He then recited: So avoid the abomination of idols and avoid speaking falsehood as people pure of faith to Allah, not associating anything with Him.
خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی:«فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشركين به» بتوں کی گندگی اور جھوٹی باتوں سے بچتے رہو خالص اللہ کی طرف ایک ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے ہوئے بغیر ( سورۃ الحج: ۳۰ ) ۔
Jam e Tirmazi
2300
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ الْعُصْفُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالشِّرْكِ بِاللَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ سورة الحج آية 30 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا عِنْدِي أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَخُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ لَهُ صُحْبَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ وَهُوَ مَشْهُورٌ.
Khuraim bin Fatik Al-Asadi narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) performed the Subh (Fajr)prayer. Then when he turned he got up to stand and said: O you people! False witness is tantamount to Shirk with Allah. Saying it three times, then he recited this Ayah And shun false speech Until the end of the Ayah.
خریم بن فاتک اسدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب پلٹے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے“، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے یہ مکمل آیت تلاوت فرمائی «واجتنبوا قول الزور» ”اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، ۲- خریم بن فاتک کو شرف صحابیت حاصل ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، اور مشہور صحابی ہیں۔
Mishkat
3779
وَعَن خُريمِ بن فاتكٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ: «عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ قَرَأَ: (فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بهِ) رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
خریم بن فاتک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر ادا کی ، جب آپ فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر تین مرتبہ فرمایا :’’ جھوٹی گواہی کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ پلیدی یعنی بتوں کی پوجا سے بچو اور جھوٹی بات (جھوٹی گواہی) سے بچو ، اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتے ہوئے اس کی طرف یک سو ہو جاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Sunnan Ibn e Maja
2372
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْعُصْفُرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ‏‏‏‏ 30 ‏‏‏‏ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ سورة الحج آية 30-31 .
It was narrated that Khuraim bin Fatik Al-Asadi said that : the Prophet(ﷺ) prayed the Morning prayer, and when he had finished, he stood up and said: “Bearing false witness is equivalent to associating others with Allah,” three times. Then he recited this Verse: “And shun lying speech (false statements), Hunafa' Lillah (i.e., worshiping none but Allah), not associating partners (in worship) to Him.”
خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے ، یہ جملہ آپ نے تین بار دہرایا، پھر آیت کریمہ: «واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشركين به» جھوٹ بولنے سے بچو، اللہ کے لیے سیدھے چلو، اس کے ساتھ شرک نہ کرو ( سورة الحج: ۳۰-۳۱ ) کی تلاوت فرمائی۔
Jam e Tirmazi
2858
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَادِرُوا بِنِقْيَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا عَرَّسْتُمْ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ.
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: When you travel through fertile land, then give the camels their fill of the land, and when you travel through drought, then hasten while they are fresh, and when you camp late, then stay away from the road, for indeed it is the route of the beasts and the abode of poisonous vermin in the night.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ہریالی اور شادابی کے زمانہ میں سفر کرو تو اونٹ کو زمین سے اس کا حق دو ( یعنی جی بھر کر چر لینے دیا کرو ) اور جب تم خزاں و خشکی اور قحط کے دنوں میں سفر کرو اس کی قوت سے فائدہ اٹھا لینے میں کرو تو جلدی ۱؎ اور جب تم رات میں قیام کے لیے پڑاؤ ڈالو تو عام راستے سے ہٹ کر قیام کرو، کیونکہ یہ ( راستے ) رات میں چوپایوں کے راستے اور کیڑوں مکوڑوں کے ٹھکانے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Mishkat
182
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى خَمْسَةِ أَوْجُهٍ: حَلَالٍ وَحَرَامٍ وَمُحْكَمٍ وَمُتَشَابِهٍ وَأَمْثَالٍ. فَأَحِلُّوا الْحَلَالَ وَحَرِّمُوا الْحَرَامَ وَاعْمَلُوا بِالْمُحْكَمِ وَآمِنُوا بِالْمُتَشَابِهِ وَاعْتَبِرُوا بِالْأَمْثَالِ . هَذَا لَفْظَ الْمَصَابِيحِ. وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الايمان وَلَفْظُهُ: «فَاعْمَلُوا بِالْحَلَالِ وَاجْتَنِبُوا الْحَرَامَ وَاتَّبِعُوا الْمُحْكَمَ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن پانچ امور کے متعلق نازل ہوا ، حلال و حرام ، محکم و متشابہ اور امثال ۔ تم حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو ، محکم پر عمل کرو اور متشابہ پر ایمان لاؤ اور امثال (پہلی امتوں کے واقعات) سے عبرت حاصل کرو ۔‘‘ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں ۔ بیہقی نے شعب الایمان میں ان الفاظ سے نقل کیا ہے :’’ حلال پر عمل کرو ، حرام سے اجتناب کرو اور محکم کی اتباع کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۲۲۹۳) ۔
Mishkat
3897
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَقَّهَا مِنَ الْأَرْضِ وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوا عَلَيْهَا السَّيْرَ وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «إِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَبَادِرُوا بِهَا نِقْيَهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں چلو تو اونٹ کو زمین سے اس کا حق دو ، (انہیں چرنے دو) ، اور جب تم قحط سالی میں چلو تو پھر تیزی سے چلو ، جب تم رات کے وقت پڑاؤ ڈالو تو راستے سے اجتناب کرو کیونکہ رات کے وقت وہ چوپاؤں کی راہیں اور زہریلی چیزوں کا ٹھکانا ہیں ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جب تم قحط سالی میں سفر کرو تو پھر جب تک ان (اونٹوں) کا گودا باقی ہے جلدی سے سفر کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Mishkat
4424
وَعَن جَابر قَالَ: أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثُّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّواد» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، فتح مکہ کے روز ابو قحافہ (ابوبکر ؓ کے والد عثمان بن عامر) کو بلایا گیا تو ان کا سر اور ان کی داڑھی ثغامہ (سفید گھاس) کی طرح سفید تھی ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی سفیدی کو کسی دوسرے رنگ میں تبدیل کرو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Mishkat
4573
وَعَن نافعٍ قَالَ: قَالَ ابنُ عمر: يَا نَافِع يَنْبغ بِي الدَّمُ فَأْتِنِي بِحَجَّامٍ وَاجْعَلْهُ شَابًّا وَلَا تَجْعَلهُ شَيخا وَلَا صَبيا. وَقَالَ ابْنِ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ وَهِيَ تُزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَتُزِيدُ فِي الْحِفْظِ وَتُزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا فَمَنْ كَانَ مُحْتَجِمًا فَيَوْمَ الْخَمِيسِ عَلَى اسْمِ اللَّهِ تَعَالَى وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ فَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي أُصِيبَ بِهِ أَيُّوبُ فِي الْبَلَاءِ. وَمَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ إِلَّا فِي يَوْمِ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةِ الأربعاءِ» . رَوَاهُ ابنُ مَاجَه
نافع بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ نے فرمایا : نافع ! میرا فشارِ خون بڑھ رہا ہے کسی پچھنے لگانے والے نوجوان کو میرے پاس لاؤ ، دیکھنا وہ بوڑھا یا بچہ نہ ہو ، راوی بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ خالی پیٹ پچھنے لگوانا زیادہ بہتر ہے ، وہ عقل و فہم اور حافظہ میں اضافہ کرتا ہے ، جس شخص نے پچھنے لگوانے ہوں تو وہ جمعرات کے روز اللہ تعالیٰ کا نام لے کر پچھنے لگوائے ، جمعہ ہفتہ اور اتوار کو پچھنے لگوانے سے اجتناب کرو ۔ پیر اور منگل کو پچھنے لگواؤ اور بدھ کے روز پچھنے لگوانے سے اجتناب کرو ، کیونکہ یہ وہ دن ہے جس روز ایوب ؑ آزمائش کا شکار ہوئے ، جذام اور برص بدھ کے روز یا بدھ کی رات ہی ظاہر ہوتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔