Surat Younus

Surah: 10

Verse: 41

سورة يونس

وَ اِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقُلۡ لِّیۡ عَمَلِیۡ وَ لَکُمۡ عَمَلُکُمۡ ۚ اَنۡتُمۡ بَرِیۡٓـئُوۡنَ مِمَّاۤ اَعۡمَلُ وَ اَنَا بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۱﴾

And if they deny you, [O Muhammad], then say, "For me are my deeds, and for you are your deeds. You are disassociated from what I do, and I am disassociated from what you do."

اور اگر آپ کو جھٹلاتے رہیں تو یہ کہہ دیجئے کہ میرے لئے میرا عمل اور تمہارے لئے تمہارا عمل ، تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمہارے عمل سے بری ہوں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to be Free and Clear from the Idolators Allah says; وَإِن كَذَّبُوكَ ... And if they belie you, Allah said to His Prophet: `If these idolators belie you, then be clear from them and their deeds.' ... فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ... Say: "For me are my deeds and for you are your deeds!" Similarly, Allah said: قُلْ يأَيُّهَا الْكَـفِرُونَ لااَ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ Say: "O you disbelievers! I worship not that which you worship." (109:1-2) to the end of the Surah. Ibrahim Al-Khalil (the Friend) and his followers said to the idolators among their people: إِنَّا بُرَءاواْ مِّنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ Verily, we are free from you and whatever you worship besides Allah. (60:4) ... أَنتُمْ بَرِييُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَاْ بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ You are innocent of what I do, and I am innocent of what you do!"

مشرکین سے اجتناب فرما لیجئے فرمان ہوتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ مشرکین تجھے جھوٹا ہی بتلاتے رہیں تو تو ان سے اور ان کے کاموں سے اپنی بےزاری کا اعلان کردے ۔ اور کہہ دے کہ تمہارے اعمال تمہارے ساتھ میرے اعمال میرے ساتھ ۔ جیسے کہ وہ سورۃ ( آیت قل یاایھالکافرون ) میں بیان ہوا ہے ۔ اور جیسے کہ حضرت خلیل اللہ اور آپ کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں ۔ جنہیں تم نے اللہ کے سوا اپنا معبود بنا رکھا ہے ۔ ان میں سے بعض تیرا پاکیزہ کلام بھی سنتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ کا بلند و بالا کلام بھی ان کے کانوں میں پڑ رہا ہے ۔ لیکن ہدایت نہ تیرے ہاتھ نہ ان کے ہاتھ گو یہ فصیح و صحیح کلام دلوں میں گھر کرنے والا ، انسانوں کو پورا نفع دینے والا ہے ۔ یہ کافی اور وافی ہے ہے لیکن بہروں کو کون سنا سکے؟ یہ دل کے کان نہیں رکھتے ۔ اللہ ہی کے ہاتھ ہدایت ہے ۔ یہ تجھے دیکھتے ہیں ، تیرے پاکیزہ اخلاق ، تیری ستھری تعلیم تیری نبوت کی روشن دلیلیں ہر وقت ان کے سامنے ہیں لیکن ان سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ۔ مومن تو انہیں دیکھ کر ایمان بڑھاتے ہیں ۔ لیکن ان کے دل اندھے ہیں عقل و بصیرت ان میں نہیں ہے ۔ مومن وقار کی نظر ڈالتے ہیں اور یہ حقارت کی ۔ ہر وقت ہنسی مذاق اڑاتے رہتے ہیں ۔ پس اپنے اندھے پن کی وجہ سے راہ ہدایت دیکھ نہیں سکتے ۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت کار ہے کہ ایک تو دیکھے اور سنے اور نفع پائے دوسرا دیکھے سنے اور نفع سے محروم رہے ۔ اسے اللہ کا ظلم نہ سمجھو وہ تو سراسر عدل کرنے والا ہے ، کسی پر کبھی کوئی ظلم وہ روا نہیں رکھتا ۔ لوگ خود اپنا برا آپ ہی کر لیتے ہیں ۔ اللہ عزوجل اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرماتا ہے کہ اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی اسے حرام کر دیا ہے ۔ خبردار ایک دوسرے پر ظلم ہرگز نہ کرنا ۔ اس کے آخر میں ہے اے میرے بندو ! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں جنہیں میں جمع کر رہا ہوں پھر تمہیں ان کا بدلہ دونگا ۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر بجا لائے اور جو اس کے سوا کچھ اور پائے وہ صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے ( مسلم )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

41۔ 1 یعنی تمام تر سمجھانے اور دلائل پیش کرنے کے بعد بھی اگر وہ جھٹلانے سے باز نہ آئیں تو پھر آپ یہ کہہ دیں، مطلب یہ ہے کہ میرا کام صرف دعوت و تبلیغ ہے، سو وہ میں کرچکا ہوں، نہ تم میرے عمل کے ذمہ دار ہو اور نہ میں تمہارے عمل کا سب کو اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے، وہاں ہر شخص سے اس کے اچھے یا برے عمل کی باز پرس ہوگی۔ یہ وہی بات ہے جو " قل یا ایھا الکافروں لا اعبد ماتعبدون " میں ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں کہی تھی " انا برآء منکم ومما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم " بیشک ہم تم سے اور جن جن کی تم الہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں، ہم تمہارے عقائد سے منکر ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ ۔۔ : یعنی اگر وہ حجت پوری ہونے کے بعد بھی جھٹلانے پر اصرار کریں تو انھیں صاف کہہ دیں کہ مجھ پر قرآن اور اللہ کے احکام پہنچانے کا جو فریضہ عائد کیا گیا تھا، میں نے اسے کسی کمی یا زیادتی کے بغیر ادا کردیا ہے، اگر تم اس پر ایمان لانے سے انکار کرو تو تم اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہو گے، مجھ پر اس کا کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔ اس مفہوم کی چند مزید آیات کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (١٣٩) ، آل عمران (٢٠) ، شوریٰ (١٥) اور سورة الکافرون مکمل۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اور اگر ( ان دلائل کے بعد بھی) آپ کو جھٹلاتے رہیں تو ( بس اخیر بات) یہ کہہ دیجئے کہ ( اچھا صاحب) میرا کیا ہوا مجھ کو ملے گا اور تمہارا کیا ہوا تم کو ملے گا تم میرے عمل کے جواب دہ نہیں ہو، اور میں تمہارے عمل کا جوابدہ نہیں ہوں ( جس طریقہ پر چاہو رہو آپ معلوم ہوجاوے گا) اور (آپ ان کے ایمان کی توقع چھوڑ دیجیئے کیونکہ) ان میں (گو) بعض ایسے (بھی) ہیں جو (ظاہر میں) آپ کی طرف کان لگا لگا کر بیٹھتے ہیں ( لیکن دل میں ارادہ ایمان اور حق طلبی کا ہیں ہے پس اس اعتبار سے ان کا سننا نہ سننا برابر ہے پس ان کی حالت بہروں کی سی ہوئی تو) پھر کیا آپ بہروں کو سنا ( کر ان سے ماننے کا انتظار کر) تے ہیں گو ان کو سمجھ بھی نہ ہو ( ہاں اگر سمجھ ہوتی تو بہرے پن میں بھی کچھ کام چل سکتا) اور ( اسی طرح) ان میں بعض ایسے ہیں کہ ( ظاہراً ) آپ کو ( مع معجزات و کمالات) دیکھ رہے ہیں ( لیکن طلب حق نہ ہونے سے ان کی حالت مثل اندھوں کے ہے تو) پھر کیا آپ اندھوں کو رستہ دکھلانا چاہتے ہیں گو ان کو بصیرت بھی نہ ہو ( ہاں اگر بصیرت ہوتی تو اندھے پن میں بھی کچھ کام چل سکتا اور ان کی عقلیں جو اس طرح تباہ ہوگئیں تو) یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا ( کہ ان کو قابلیت ہدایت کی نہ دے اور پھر مؤ اخذہ فرماوے) لیکن لوگ خود ہی اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں ( کہ قابلیت موہوبہ کو ضائع کردیتے ہیں اور اس سے کام نہیں لیتے ) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ۝ ٠ ۚ اَنْتُمْ بَرِيْۗـــــُٔوْنَ مِمَّآ اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۝ ٤١ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے برأ أصل البُرْءِ والبَرَاءِ والتَبَرِّي : التقصّي مما يكره مجاورته، ولذلک قيل : بَرَأْتُ من المرض وبَرِئْتُ من فلان وتَبَرَّأْتُ وأَبْرَأْتُهُ من کذا، وبَرَّأْتُهُ ، ورجل بَرِيءٌ ، وقوم بُرَآء وبَرِيئُون . قال عزّ وجلّ : بَراءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ التوبة/ 1] ( ب ر ء ) البرء والبراء والتبری کے اصل معنی کسی مکردہ امر سے نجات حاصل کرتا کے ہیں ۔ اس لئے کہا جاتا ہے ۔ برءت من المریض میں تندرست ہوا ۔ برءت من فلان وتبرءت میں فلاں سے بیزار ہوں ۔ ابررتہ من کذا وبرء تہ میں نے اس کو تہمت یا مرض سے بری کردیا ۔ رجل بریء پاک اور بےگناہ آدمی ج برآء بریئوں قرآن میں ہے ؛۔ { بَرَاءَةٌ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة التوبة 1) اور اس کے رسول کی طرف سے بیزاری کا اعلان ہے ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤١) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ کی قوم آپ کے ارشادات کو جھٹلاتی رہے تو یہ فرما دیجیے کہ میرا کیا ہوا اور میرا دین مجھ کو ملے گا اور تمہارا کیا ہوا اور تمہارا کیا ہوا اور تمہارا دین تمہیں ملے گا، تم میرے کیے ہوئے کے جواب دہ نہیں ہو اور میں تمہارے کیے ہوئے کا جواب دہ نہیں ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(اَنْتُمْ بَرِیْٓءُوْنَ مِمَّآ اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِیْْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ ) نہ میرے عمل کی کوئی ذمہ داری تم لوگوں پر ہے اور نہ تمہارے کیے کا میں ذمہ دار ہوں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

49. Since every individual is himself accountable for his deeds, there is no point in engaging in unnecessary discussions which are often actuated by obduracy. For if the Prophet (peace be on him) was indeed inventing lies, he would bear the evil consequence of such an action. On the other hand, if his opponents were denying the truth, their action will not hurt the Prophet (peace be on him), but rather hurt themselves.

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :49 یعنی خواہ مخواہ جھگڑے اور کج بحثیاں کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اگر میں افترا پردازی کر رہا ہوں تو اپنے عمل کا میں خود ذمہ دار ہوں تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ۔ اور اگر تم سچی بات کو جھٹلا رہے ہو تو میرا کچھ نہیں بگاڑتے ، اپنا ہی کچھ بگاڑ رہے ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٢۔ ٤١۔ ان آیتوں میں مشرکین مکہ کا ایک اور حال بیان فرمایا کہ جب قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو یہ لوگ سنتے ہیں مگر اس سننے سے ان کا یہ مقصود نہیں ہوتا کہ اس پر ایمان بھی لاویں فقط سننا ہی سننا ہے اسی طرح اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان لوگوں میں سے بعضے تمہاری طرف دیکھتے ہیں کہ ظاہر ظاہر معجزے اللہ تعالیٰ نے تم کو دئیے ہیں مگر یہ دیکھنا ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اس دیکھنے سے وہ ایمان لانے کا ارادہ نہیں کرتے ہیں اگر آپ چاہیں کہ یہ سب راہ راست پر آجائیں تو یہ غیر ممکن ہے کیونکہ جس طرح بہروں اور اندھوں کو نہ تم کچھ سنا سکتے نہ دکھا سکتے ہو اسی طرح ان کے دلوں کو قابو کر کے ان کو ہدایت بھی نہیں کرسکتے کیوں کہ ان لوگوں میں ایمان لانے کی اور حق ناحق سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے یہ بعینہ جانور ہیں دیکھتے بھی ہیں سنتے بھی ہیں مگر ان میں سمجھنے کا مادہ نہیں ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) کی حدیث گزر چکی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اسی طرح ابوذر (رض) سے صحیح مسلم ترمذی اور ابن ماجہ میں ایک روایت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک ظلم نہیں پسند کرتا اس نے اپنی ذات پر بھی ظلم کو حرام کیا ہے اور اپنے بندوں پر بھی ظلم کو حرام کردیا ہے کہ آپس میں کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔ ١ ؎ اور اللہ پاک نے ہر شخص کے عمل گن گن کر رکھے ہیں جس کی جزا و سزا قیامت کے دن بھرپور دی جائے گی۔ آیتوں اور حدیثوں کو ملا کر یہ تفسیر قرار پاتی ہے کہ جو لوگ علم الٰہی میں بد ٹھہر چکے ہیں وہ مانند بہروں اور اندھوں کے ہیں۔ قرآن کا سننا یا معجزوں کا دیکھنا ان کو کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا لیکن ساتھ اس کے یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ظلم پسند نہیں ہے اس لئے اس نے زبردستی کسی کے ذمہ کوئی برائی نہیں لگائی بلکہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ہر شخص جو کچھ کرنے والا تھا وہ اس کے علم ازلی سے باہر نہیں تھا اس واسطے اس نے وہ سب اپنے علم کے نتیجہ کے طور پر لوح محفوظ میں لکھ لیا اور جزا و سزا کا مدار اس نتیجہ پر نہیں رکھا۔ غرض ہر ایک نیک وبد کے دنیاوی ظہور پر جزا وسزا کا مدار رکھا ہے مگر اللہ کا علم تغیر وتبدل سے پاک ہے اس لئے دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ آخر کو لوح محفوظ کے نوشتہ کے موافق آن ٹھہرتا ہے اس کے برخلاف دنیا میں کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ ١ ؎ صحیح مسلم ص ٣١٩ ج ٢ باب تحریم الظلم۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:41) بریؤن۔ بیزار۔ بےتعلق ۔ بری الذمہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 ۔ یعنی اگر اتمام حجت کے بعد بھی تکذیب پر اصرار کریں تو انہیں آگاہ کردو کہ مجھ پر تبلیغ قرآن کا جو فریضہ عائد کیا گیا تھا میں نے اس بدوں کسی کمی یا بیشی کے سرانجام دیدیا ہے۔ اب مگر تم اس پر ایمان لانے سے انکار کرو تو تم اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہوگے مجھ پر اس کا کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٤١ تا ٥٣ اسرار و معارف ہربات کی ایک حد ہوتی ہے اور بارگاہ الوہیت سے راہنمائی فرمایا جانا تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جو دلائل اس کی ذات کی طرف سے نازل ہوئے وہ نہایت مضبوط اور حقیقت کے اظہار کا سبب ہیں ۔ اگر اس پر بھی کچھ لوگ مطمئن نہیں ہوتے تو آپ انھیں فرمادیجئے کہ میں جس راہ پر چل رہا ہوں وہ میرے لئے ہے یعنی اس کا نتیجہ میرے سامنے آئے گا اور جو کردارتم نے اپنا رکھا ہے اس کا انجام تمہی کو بھگتناپڑے گا۔ لہٰذا میرے عمل کی بازپرس سے تم بری ہو اور تمہارے کردار کے انجام کی جوابدہی مجھ سے ہرگز نہ ہوگی کہ میں طمع یا خوف رکھوں دینی امور میں دلائل سے سمجھانا شرط ہے زبرستی منوانا جائز نہیں لہٰذا ثابت ہے کہ دینی کام میں دلائل سے حق کو ثابت کرنا اہم فریضہ ہے اس کے بعد کوئی اس بات پہ ایمان لاتا ہے یا نہیں ، یہ فریق ثانی یعنی سننے والوں کی ذمہ داری ہے لہٰذا مبلغ کے لئے اس بات کی قطعا ضرورت نہیں کہ زبردستی منوانے کی کوشش کرے جیسا کہ آجکل تبلیغ کے نام پر ہر جگہ فساد ہو رہے ہیں اور ہر مقرر حددرجہ جارحانہ طرزبیان اختیار کرنے کو ترجیح دے رہا ہے ۔ الا ماشاء اللہ کہ درحقیقت قبول کرنا تو قلب کا کام ہے اور جب قلب پر ظلمت چھا جاتی ہے تو انسان کی حسیں بھی مثاثرہوتی ہیں ۔ قلب کی تباہی کے اثرات اور صحیح بات سننے یا درست انداز میں دیکھنے پہ قادر نہیں ہوپاتا لہٰذا نہ ماننے والے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات تو سننے تھے یا ان میں سے بعض تو ضرور سننے کے لئے حاضر خدمت ہوتے تھے مگر دل کا اندھیرا نہ انھیں سننے دیتا اور نہ سمجھنے ۔ لہٰذا ارشاد ہوا کہ ان میں سے بعض آپ کے ارشادات سننے آتے ہیں مگر آپ کے پاس تو اختیار نہیں کہ ان کے بہرے پن یا عقل کے اندھے پن کو دور کریں یہ اختیار تو اللہ کریم نے ہر انسان کو خود بخشا ہے کہ وہ اپنے لئے کیا پسند کرتا ہے ۔ اگر انھوں نے کفر کی راہ اپنالی تو یہ ان کا اپنا فعل ہے ایسے ہی وہ آپ کو دیکھتے ہیں مگر انھیں کمالات رسالت دکھائی نہیں دیتے کہ وہ ہیں یعنی ان رنگوں کو دیکھنے کے معاملے میں اندھے ہیں اور اس کا علاج خودان کے پاس ہے کہ وہ اپنے دل کی گہرائی سے کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ تقدیر اور اختیار اور یہ فیصلہ ان پر مسلط نہیں کیا جائے گا نہ ہی آپ ان پر مسلط کریں گے کہ اس کا اختیار خود ان کے پاس ہے ۔ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اللہ نے انھیں ایسا کردیا ہے کہ اگر اللہ زبردستی یا حکما ایسا کردیں تو یہ ظلم ہوگا کہ کسی انسان کو کفرپہ مجبور بھی کردے اور پھر اسی جرم پر اسے سزا بھی دے اور اللہ کریم ہرگز ظلم نہیں کرتے بلکہ راستہ اختیار کرنا یہ ان کی اپنی پسند ہے اور اگر اپنی کے باعث انھیں دکھ اٹھا نے پڑیں تو یہ ظلم وہ خود اپنے ساتھ کر رہے ہیں۔ موت کافر سے بھی پہچان نہیں چھین سکتی اور اس کا علم سلامت رہتا ہے آخر ایک روز سب لوگ میدان حشر میں جمع ہوں گے تو ایک دوسرے کو خوب پہچان رہے ہوں گے بلکہ وہ طویل عرصہ جو ان کی موت کے وقت سے قیام قیامت تک گزرا ہوگا ان کے علم کو متاثر نہ کرسکے گا اور دنیا کا قیام انھیں یادہوگا اور جان رہے ہوں گے کہ حیات دنیا آخرت کے مقابلہ میں بس یوں نظر آتی ہے جیسے لمحہ بھر تھی یا کوئی ایک آدھ گھڑی تھی یعنی موت اور برزخ کے طویل اثرات بھی ان سے علم یاحافظہ نہ چھین سکیں گے اور علم کا ہونا حیات کی دلیل ہے لہٰذا کافر کو بھی ایک طرح کی حیات نصیب ہوتی ہے اور موت صورت حیات کی تبدیلی کا نام ہے فناکانام نہیں۔ بلکہ ان حقائق سے انکار کرنے والے اور موت کو فناسمجھ کر آخرت کے حساب وکتاب کے لئے تیاری نہ کرنے والے لوگ سخت نقصان میں ہیں کہ انھیں ہر حال یہ صورت تو پیش آئے گی اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبروبعض عذاب وار دہوں اور آپ بھی انھیں عذاب لٰہی میں گرفتار دیکھ یا آپ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد ایسا ہی ہوگا اور کسی حدتک مختلف عذاب دیکھ کر پھر انھیں اللہ کی بارگاہ میں بھی حاضر ہونا ہوگا ۔ جو ان کے کردار کے ہر پہلو سے باخبر ہے اور اسے دیکھ رہا ہے پھر اس کے مطابق ان کو نتائج بھی پیش آئیں گے ۔ ہر قوم کے پاس اللہ کے رسول آئے ہر طبقہ اور ہر قوم کے پاس اللہ کے رسول ضرور مبعوث ہوئے ان کی ہدایت کا سامان کیا گیا اور رسول کا مبعوث ہونا کسی بھی قوم کو کسی خاص عمل یاعقیدے پہ مجبور نہیں کرتا بلکہ پیغام رسالت کے بعد ان سے پوراپورا انصاف کیا جاتا ہے کبھی کسی قوم سے زیادتی نہیں کی جاتی یعنی بعث رسول کے بعد ایمان لانے یا کفر راہ اپنا نے کا اختیار لوگوں کے اپنے پاس ہوتا ہے اور جس طرح کا فیصلہ وہ اپنی پسند سے کرتے ہیں اس کے مطابق انھیں انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ یہ فیصلے مالک کی بارگاہ سے صادرہوتے ہیں اور اللہ کے رسولوں کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہوتا ہے نہ کہ ان فیصلوں کانفاذ ، مگر ان کا جاہلانہ اعتراض یہ بھی ہے کہ اگر آپ سچے رسول ہیں اور آپ کے ارشاد کے مطابق کفر پہ عذاب اور تباہی نازل ہوتی ہے یا جہنم میں داخل ہونا پڑے گا تو پھر ایسا کروا دیجئے کہ پتہ تو چلے کہ واقعی آپ سچے تھے ۔ بھلایہ بھی کوئی عقل کی بات ہے کہ جب سب کچھ ہوچکے تو اعتبار کرنے سے کیا حاصل اور یقین کا کیا فائدہ۔ نیزرسول بھی تو اللہ کا بندہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے پیغام لاتا ہے لہٰذا ان سے فرمادیجئے کہ جہاں تک نفع نقصان کا تعلق ہے توبندہ ہونے کے ناطے خود میرا معاملہ بھی اللہ کریم کے دست قدرت میں ہے میں خود اپنے نفع ونقصان کا مالک بھی نہیں ہوں بلکہ میرے فیصلے بھی اسی بارگاہ عالی میں سے صادرہوتے ہیں تو بھلا تمہارے لئے میں کیسے کرسکتا ہوں ۔ ہاں ! یہ بات میں تمہیں یقین سے بتاسکتا ہوں کہ ہر قوم کے لئے ایک وقت معین ہے اور سب کے پاس وقت مقررہ تک ہی مہلت ہے جب وہ گھڑی آجاتی ہے تو نہ لمحہ بھرفرصت ہی ملتی ہے اور نہ ہی وہ گھڑی وقت سے لمحہ بھر پہلے آتی ہے۔ ان سے کہیئے کہ تمہارا یہ مطالبہ ہی کس قدر جاہلیت پہ مبنی ہے کہ عذاب واقع ہوتوتم جان لوگے ۔ بھلاتم ماننے کے لئے بچ سکوگے ذراعقل سے کام لو اور سوچو کہ اگر تم رات کی تاریکی میں جب تم بیخبر پڑے ہوتے ہو عذاب وارد ہوجائے اور تمہیں اٹھنے کی فرصت بھی نہ دے یا دن کو کھلی آنکھوں بھی آجائے تو تم کیا کرلوگے ؟ کچھ بھی تو نہیں ۔ تمھارا کیا خیال ہے کہ جب واقع ہوچکے گا تو تم مانوگے اور اگر تم مانناچاہا بھی تو یہ کہہ کر تمہیں رد نہیں کردیا جائے گا کہ اب مانتے ہو جب عذاب واقع ہونا شروع ہوگیا خواہ موت کے وقت یاوی سے اور پہلے جب ماننے کا وقت تھا اس وقت ایمان لانے کی بجائے تمہیں عذاب طلب کرنے کی جلدی تھی ۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ اللہ بندے کی توبہ قبول کرتا ہی رہتا ہے حتی کہ بندہ غرغرئہ موت میں گرفتارہوجائے یعنی جب موت کا غرغرہ شروع ہوجاتا ہے تو وقت گزرچکا ہوتا ہے کہ اس وقت برزخ اور آخرت سامنے ہوتی ہے ایمان بالغیب جو مطلوب ہے نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اس وقت تو کفار کو ایک ہی جواب ملتا ہے کہ اب دائمی عذاب کے مزے چکھو ، یہ سب تمہارا اپنا ہی کیا دھرا ہے اور تمہارے عقائدواعمال ہی کا نتیجہ ہے اسی لئے ارشاد ہے کہ یہ توبہ کا قبول نہ ہونا کافر کے لئے ہے مومن کی گناہ سے توبہ غرغرئہ موت کے وقت بھی نصیب ہوجائے تو قبول ہوجاتی ہے۔ یہ بڑی جستجوں میں لگے رہتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا ہوگا ؟ یا موت بھی ایک طرح کی زندگی ہی رہتی ہے یا پھر زندہ ہونا ہے حساب دینا ہے ۔ تو فرمائیے ! بیشک اور میرے رب کی قسم ! ایسا ہی ہوگا اور یہ حق ہے ۔ یہاں رب کی قسم ارشاد فرمائی گئی کہ نظام ربوبیت پہ نگاہ کرو تو وہ از خود یہ بتارہا ہے کہ اس سفر حیات کا ایک انجام بھی ہے اور اس نظام کا ہر کام اور ہر فعل اپنا نتیجہ پیدا کرتا ہے تو پھر حیات انسانی بغیر کسی نتیجے کے کیسے رہ سکتی ہے یہ سب کچھ نہ صرف یقینی ہوگا بلکہ تم سب اس کے ہونے کو روک بھی نہیں سکتے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 44 بریتون (وہ بری ہیں، ذمہ دار ہیں) یستمعون (وہ غور سے سنتے ہیں) تسمع (تو سنوائے گا) الصم (بہرے) العمی (ادھے) لایبصرون (وہ نہیں دیکھتے ہیں) لایظلم (وہ ظلم و زیادتی نہیں کرتا) تشریح :- آیت نمبر 41 تا 44 کفار و مشرکین ہر طرح کے حقائق اور سچائیوں کو جاننے کے باوجود جس طرح اپنے کفر و شرک پر ہٹ دھرمی، ضد اور تعصب پر جمے ہوئے تھے اور حق کی کسی بات کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ بشریٰ تقاضا تھا کہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بد دل اور تنگ ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان سے صاف صا کہہ دیجیے کہ میں جو کچھ کر ہا ہوں اس کا میں ذمہ دار ہوں لیکن عمل کی جس روش پر تم چل رہے ہو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کون حق پر ہے اور کون نہیں ہے ؟ اس کا فیصلہ بہت جلد ہوجائے گا۔ ان آیات میں یہ اشارہ بھی فرمایا دیا گیا کہ یہ لوگ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ جو لوگ کان رکھنے کے باوجود بہرے بن جائیں، آنکھیں ہوتے ہوئے ہر حق و صداقت کی بات سے اندھے بنے رہیں ان کو سنانا ارور دکھانا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ سنتا وہ ہے جو اپنے ضمیر و قلب کو لے کر آپس کے پاس آئے گا ۔ جس نے ہر نیک بات کو نہ سننے کا فیصلہ کرلیا ہو اور سننا ہی نہ چاہتا ہو اس کو ساری دنیا مل کر بھی سنانا اور دکھانا چاہے تو وہ سن نہیں سکتا دیکھ نہیں سکتا۔ ایسے اندھوں کو راستہ کیسے دکھایا جاسکتا ہے۔ اسی بات کو ایک جگہ قرآن کریم میں اس طرح فرمایا گیا ہے کہ ” بیشک اللہ تعالیٰ کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ خود ہی اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کریں۔ “ اللہ تعالیٰ نے حق و صداقت اور گمرایہ کے ہر استہ کو کھول کر بیان کردیا ہے پھر بھی اگر کوئی ان چیزوں سے منہ پھیر کر چلتا ہے تو وہ خود ظالم ہے جو اپنے اوپر ظلم کر رہا ہے اس کا الزام اللہ رب العالمین کو نہیں دیا جاسکتا۔ اگر غور کیا جائے تو حقیقت سامنے آتی ہے کہ سننے کو تو جانور بھی سنتا ہے دیکھتا ہے لیکن وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے کے باوجود سوائے اپنے چارے اور کھانے پینے کے اور کسی طرف توجہ نہیں کرتا اس کو ہر حال میں اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے اس کو اچھے اور برے سے کوئی تعقل نہیں ہوتا یہی اس کی حیوانیت ہے۔ کفار اور مشرکین کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ کہ وہ ایک سچائی کو جاننے کے باوجود اس لئے قبول نہیں کرتے کہ اس سے ان کے مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔ کفار مکہ جو قرآن کریم کے سب سے پہلے مخاطب ہیں وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کے ایک ایک لمحہ سے واقف تھے بچپن، جوانی اور ادھیڑ عمری کی زندگی کے وہ کونسے اوقات تھے جو ان کے سامنے نہ گذرے ہوں انہیں معلوم تھا کہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی سے ایک لفظ تک نہیں پڑھا۔ آپ کی زبان سے ایسا کلام کبھی نہیں سنا گیا لیکن اچانک آپ کی زبان مبارک پر وہ کلام جاری ہوگیا جو اپنی شان کے اعتبار سے اس قدر بلند اور باعظمت تھا کہ اس کے سامنے ساری دنیا عاجز اور مجبور ہو کر رہ گئی تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ جس شخص نے پوری زندگی کبھی جھوٹ نہیں بولا وہ اللہ کے معاملے میں کیسے غلط بیانی کرسکتا ہے۔ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دیانت، امانت اور صداقت سے وہ اچھی طرح واقف تھے لیکن اپنے رسم و رواج سے چمٹے ہوئے یہ لوگ کسی طرح اس سچائی کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ جب تک انسان کے اندر سے طلب پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک ساری دنیا مل کر بھی اس کو راہ ہدایت نہیں دکھا سکتی لیکن جب اندر سے اپنی اصلاح اور فکر آخرت کی طلب اور تڑپ پیدا ہوجاتی ہے تو پھر کبھی نہ کبھی اس کو ہدایت کی روشنی نصیب ہوجاتی ہے۔ اگر انسان اپنے دل و دماغ فکر و ذہن، کانوں اور آنکھوں پر وقتی مفادات کے پردے ڈال لیتا ہے تو پھر اس کو پوری روشنی کے باوجود کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کا انکار کرنے والے حقیقت میں بہرے اور اندھے ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑنا ہی بہتر ہے۔ منکرین قرآن کو باربار چیلنج دیا گیا کہ اگر تم یہ الزام لگانے میں سچے ہو کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن مجید اپنی طرف سے بنالیا ہے تو پھر تم اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ۔ لیکن اس چیلنج کا جواب دینے کی بجائے وہ یہی ہرزہ سرائی کرتے رہے۔ جس پر مزید بحث کرنے اور چیلنج دینے کی بجائے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم ہوا کہ آپ ان سے یہ کہہ کر بےمقصد بحث سے دامن بچائیں کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے۔ قیامت کے روز ہر کوئی اپنے عمل اور کردار کا انجام دیکھ لے گا۔ لہٰذا تمہیں ہمارے عمل کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں ہوگی اور ہمیں تمہارے کردار کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ ہر کسی نے اپنے کیے کا صلہ پانا ہے۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان میں ایسے لوگ بھی ہیں۔ جو بظاہر آپ کی بات سنتے ہیں۔ جو نہ سننے کے برابر ہے۔ اس طرح جیسے وہ بہرے ہوں یہ اس لیے ہے کہ وہ توجہ کے ساتھ سننے اور اس پر غور وفکر کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو ظاہری آنکھوں سے آپ کی طرف دیکھتے ہیں مگر ان کے دل کی آنکھیں بند ہوچکی ہیں۔ گویا کہ یہ بصیرت سے محروم ہیں۔ اس لیے آپ دل کے اندھوں کو ہدایت کی طرف نہیں لاسکتے۔ در حقیقت انہوں نے ظلم کرکے اپنے آپ پر گمراہی مسلط کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے منکرین حق کے بارے میں یہ وضاحت بھی فرمائی ہے : (أَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْأَرْضِ فَتَکُوْنَ لَہُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِہَا أَوْ اٰذَانٌ یَسْمَعُوْنَ بِہَا فَإِنَّہَا لَا تَعْمَی الْأَبْصَارُ وَلَکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ )[ الحج : ٤٦] ” کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوجاتے جو کچھ سمجھتے سوچتے اور کان ایسے جن سے وہ کچھ سن سکتے بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، اندھے تو دل ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ “ ان کے بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : (وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَہُمْ قُلُوْبٌ لَا یَفْقَہُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ أَعْیُنٌ لَا یُبْصِرُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَا یَسْمَعُوْنَ بِہَا أُوْلٰءِکَ کَالْأَنْعَامِ بَلْ ہُمْ أَضَلُّ أُوْلٰءِکَ ہُمُ الْغَافِلُوْنَ )[ الاعراف : ١٧٩] ” ہم نے جہنم کے لیے بہت سی مخلوق جنوں اور انسانوں سے پیدا کی۔ ان لوگوں کو دل دیے گئے مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ان کو آنکھیں عطا ہوئیں ان سے دیکھتے نہیں ان کے کان موجود ہیں مگر ان سے سنتے نہیں یہ لوگ چوپایوں سے بھی بدتر اور اپنے انجام سے غافل ہیں۔ “ (عَنْ اَبِیْ ذَرِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِےْمَا ےَرْوِیْ عَنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَنَّہٗ قَالَ ےَا عِبَادِیْ اِنِّیْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِیْ وَجَعَلْتُہٗ بَےْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوْا ےَا عِبَادِیْ کُلُّکُمْ ضَآلٌّ اِلَّا مَنْ ھَدَےْتُہٗ فَاسْتَھْدُوْنِیْ اَھْدِکُمْ ےَا عِبَادِیْ کُلُّکُمْ جَاءِعٌ اِلَّا مَنْ اَطْعَمْتُہٗ فَاسْتَطْعِمُوْنِیْ اُطْعِمْکُمْ ےَا عِبَادِیْ کُلُّکُمْ عَارٍ اِلَّا مَنْ کَسَوْتُہٗ فَاسْتَکْسُوْنِیْ اَکْسُکُمْ ےَا عِبَادِیْ اِنَّکُمْ تُخْطِءُوْنَ باللَّےْلِ وَالنَّھَارِ وَاَنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِےْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْ لَکُمْ ) [ رواہمسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم ] ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے۔ میرے بندو ! میں نے ظلم کو اپنی ذات پر حرام کرلیا ہے اور تمہارے درمیان بھی ظلم ناجائز قرار دیا ہے۔ اس لیے ایک دوسرے پر ظلم نہ کیا کرو۔ میرے بندو ! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے ماسوا اس کے جس کو میں ہدایت سے سرفراز کروں۔ پس تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا ‘ تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جس کو میں کھلاؤں۔ پس تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو ! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جس کو میں پہنا دوں گا۔ پس تم مجھ سے پہناوا طلب کرو میں تمہیں پہناؤں گا۔ میرے بندو ! تم رات دن گناہ کرتے ہو ‘ میں تمام گناہوں کو بخش دینے والا ہوں۔ مجھ سے بخشش طلب کرو ‘ میں تمہیں بخش دوں گا۔ “ مسائل ١۔ قرآن مجید جھٹلانے والوں کو ان کے جھوٹ کی سزا مل کر رہے گی۔ ٢۔ ہر کسی کو اس کے اعمال کے مطابق جزاو سزا ملے گی۔ ٣۔ جسے اللہ نہ سنانا چاہے اسے کوئی نہیں سنا سکتا۔ ٤۔ جسے اللہ راہ نہ دکھانا چاہے اسے کوئی راہ نہیں دکھلا سکتا۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ ٦۔ لوگ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر رحم کرتا ہے زیادتی نہیں کرتا : ١۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ اپنی جانوں پر خود ظلم کرتے ہیں۔ (یونس : ٤٤) ٢۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ (النساء : ٤٠) ٣۔ ہر شخص اپنے اعمال کو حاضر پائے گا اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ (الکھف : ٣٩) ٤۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اس کے اعمال کا صلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (المومن : ١٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وان کذبوک فقل لی عملی ولکم عملکم انتم بریؤن مما اعمل وانا برئ مما تعملون۔ اور (دلیل قائم ہونے اور لاجواب ہونے کے بعد بھی) اگر یہ آپ کی تکذیب کرتے رہیں تو آپ ان سے (بیزاری کا اظہار کر دیجئے اور) کہہ دیجئے : میرا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے (میرے عمل کا بدلہ مجھے ملے گا اور تمہارے عمل کا بدلہ تم کو ملے گا) تم میرے اعمال سے الگ ہو (میرے عمل کا مؤاخذہ تم سے نہ ہوگا ‘ میرا فعل تم کو ضرر نہیں پہنچا سکتا ‘ لہٰذا مجھے دکھ نہ دو اور مجھ پر تہمت تراشی نہ کرو) اور میں تمہارے عمل سے بیزار ہوں ‘ تمہارے اعمال کی گرفت مجھ سے نہ ہوگی۔ میں تو تم سے جو کچھ کہتا ہوں تمہاری بہتری کیلئے کہتا ہوں۔ رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے ارشاد فرمایا : جو چیز مجھے دے کر اللہ نے بھیجا ہے ‘ اس کی اور میری حالت اس شخص کی طرح ہے جس نے قوم والوں سے کہا ہو کہ (اس پہاڑ کے اس طرف) میں نے اپنی آنکھوں سے (دشمن کی) فوج دیکھی ہے (جو تم پر آخر رات میں حملہ کر دے گی اور تم کو قتل و غارت کر دے گی) میں تم کو اس خطرہ سے آگاہ کئے دیتا ہوں۔ بہت جلد (یہاں سے) نکل جاؤ اور بھاگ کر چلے جاؤ۔ اس شخص کے قول کو کچھ لوگوں نے مان لیا اور فرصت کو غنیمت سمجھ کر رات ہی کو چل دئیے ‘ اس طرح دشمن کے حملہ سے بچ گئے اور کچھ لوگوں نے اس شخص کو جھوٹا سمجھا اور صبح تک اپنی جگہ پر ڈٹے رہے۔ صبح کو دشمن کی فوج نے ان پر حملہ کردیا ‘ سب کو تباہ کردیا اور ان کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا۔ یہی حالت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے میری لائی ہوئی تعلیم کو مانا اور میری تصدیق کی ‘ یا تکذیب کی اور میری لائی ہوئی صداقت کو نہ مانا۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم من حدیث ابی موسیٰ ۔ کلبی اور مقاتل نے کہا : آیت جہاد سے یہ آیت منسوخ ہے جیسے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ منسوخ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

58: یہ زجر ہے۔ یعنی اگر حجت قائم کردینے کے باوجود مشرکین آپ کی تکذیب پر اصرار کریں اور نہ ماننے پر اڑ جائیں یہاں تک کہ آپ ان کے ایمان سے مایوس ہوجائیں تو آپ ان سے صاف فرما دیں میں تمہیں ماننے پر مجبور نہیں کرتا تم اپنی راہ پہ چلو، میں اپنی راہ پر گامزن ہوں، تم اپنے عمل تکذیب و اشراک کی سزا پاؤ گے، میں اپنے عمل تبلیغ وانذار اور طاعت و عبادت کی جزا پاؤں گا۔ ہر ایک کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا۔ “ لی ثواب عملی فی التبلیغ والانذار والطاعة لِله تعالیٰ (وَ لَکُمْ عَمَلُکُمْ ) اي جزاءہ من الشرک ” (قرطبی ج 8 ص 346) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

41 اور اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر باوجود ان دلائل کے بھی یہ آپ کی تکذیب کرتے رہیں تو آپ ان سے فرما دیجئے کہ میرا عمل میرے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں میں جو کچھ کر رہا ہوں اس کے تم جواب دہ نہیں ہو اور تم جو کرتے ہو اس کا میں ذمہ دار نہیں ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر میں جھوٹ پہنچائو حکم اللہ کا تو میں گنہگار ہوں تو تم نہیں اور اگر میں سچ لائوں پھر نہ کرو تو گناہ تم پر ہے تو ماننے میں تمہارا نقصان نہیں کسی طرح۔