The Establishment of the Children of Israel in the Land and Their Provision from the Good Things
Allah tells;
وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِي إِسْرَايِيلَ
...
And indeed We settled the Children of Israel in an honorable dwelling place,
In these Ayat, Allah tells us about all the worldly and religious gifts which He bestowed upon the Children of Israel.
Allah's statement,
...
مُبَوَّأَ صِدْقٍ
...
honorable dwelling place,
means in Egypt and Syria, around Jerusalem, as it was said by some.
When Allah destroyed Fir`awn and his soldiers, the Mosaic State took control of all of Egypt as Allah said:
وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَـرِقَ الاٌّرْضِ وَمَغَـرِبَهَا الَّتِى بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِى إِسْرءِيلَ بِمَا صَبَرُواْ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُواْ يَعْرِشُونَ
And We made the people who were considered weak to inherit the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed. And the fair Word of your Lord was fulfilled for the Children of Israel, because of their endurance.
And We destroyed completely all the great works and buildings which Fir`awn and his people erected. (7:137)
He said in other Ayat:
فَأَخْرَجْنَـهُمْ مِّن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ
وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
So, We expelled them from gardens and springs. Treasures, and every kind of honorable place. Thus, and We caused the Children of Israel to inherit them. (26:57 -59)
He also said:
كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ
...
How many of gardens and springs that they left behind. .. (44:25-27)
They then continued with Musa, to seek Jerusalem -- the land of Ibrahim, the friend of Allah. There were giant people in Jerusalem. The Children of Israel refrained from fighting them. So Allah expelled them into the wilderness for forty years. During this time in the wilderness, first Harun died and then Musa. Yusha` bin Nun led after them. Allah supported them to conquer Jerusalem and rule it for a period of time.
His statement,
...
وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ
...
and provided them with good things,
means from the lawful, pure and useful provision that is good in nature and in Law.
Then Allah said:
...
فَمَا اخْتَلَفُواْ حَتَّى جَاءهُمُ الْعِلْمُ
...
and they differed not until the knowledge came to them.
There should be no reason for them to have any disputes among them since Allah has sent them knowledge and explained different matters and issues to them.
It has been mentioned in a Hadith,
إِنَّ الْيَهُودَ اخْتَلَفُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَإِنَّ النَّصَارَى اخْتَلَفُوا عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَسَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الاُْمَّةُ عَلَى ثَلَثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً مِنْهَا وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَاثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّار
The Jews separated into seventy-one sects, and the Christians separated into seventy-two sects, and this Ummah will separate into seventy-three sects, one of which is in Paradise, seventy-two in the Fire.
They asked, "Who are they O Messenger of Allah!"
He replied;
مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي
Those upon what I and my Companions are upon.
It was recorded by Al-Hakim in his Mustadrak with this wording.
So here Allah said,
...
إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ
...
Verily your Lord will judge between them,
Here the meaning is, to distinguish between them.
...
يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
the Day of Resurrection in that which they used to differ.
بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات
اللہ نے جو نعمتیں بنی اسرائیل پر انعام فرمائیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ شام اور ملک مصر میں بیت المقدس کے آپس پاس انہیں جگہ دی ۔ تمام و کمال ملک مصر پر ان کی حکومت ہوگئ ۔ فرعون کی ہلاکت کے بعد دولت موسویہ قائم ہوگئی ۔ جیسے قرآن میں بیان ہے کہ ہم نے ان کمزور بنی اسرائیلیوں کے مشرق مغرب کے ملک کا مالک کر دیا ۔ برکت والی زمین انکے قبضے میں دے دی اور ان پر اپنی سچی بات کی سچائی کھول دی ان کے صبر کا پھل انہیں مل گیا ۔ فرعون ، فرعونی اور ان کے کاریگریاں سب نیست و نابود ہوئیں اور آیتوں میں ہے کہ ہم نے فرعونیوں کو باغوں سے دشمنوں سے ، خزانوں سے بہترین مقامات اور مکانات سے نکال باہر کیا ۔ اور بنی اسرائیل کے قبضے میں یہ سب کچھ کر دیا ۔ اور آیتوں میں ہے ( كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ 25ۙ ) 44- الدخان:25 ) باوجود اس کے خلیل الرحمن علیہ السلام کے شہر بیت المقدس کی محبت ان کے دل میں چٹکیاں لیتی رہی ۔ وہاں عمالقہ کی قوم کا قبلہ تھا انہیوں نے اپنے پیغمبر علیہ السلام سے درخواست کی ، انہیں جہاد کا حکم ہوا یہ نامردی کر گئے جس کے بدلے انہیں چالیس سال تک میدان تیہ میں سرگرداں پھرنا پڑا ۔ وہیں حضرت ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ۔ ان کے بعد یہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے ساتھ نکلے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر بیت المقدس کو فتح کیا ۔ یہاں بخت نصر کے زمانے تک انہیں کا قبضہ رہا پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ انہوں نے اسے لے لیا پھر یونانی بادشاہوں نے وہاں قبضہ کیا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے تک وہاں یونانیوں کا ہی قبضہ رہا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ضد میں ان ملعون یہودیوں نے شاہ یونان سے ساز باز کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے احکام انہیں باغی قرار دے کر نکلوا دیئے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ السلام کو تو اپنی طرف چڑھا لیا اور آپ کے کسی حواری پر آپ کی شباہت ڈال دی انہوں نے آپ کے دھوکے میں اسے قتل کر دیا اور سولی پر لٹکا دیا ۔ یقینا جناب روح اللہ علیہ الصلوۃ والسلام ان کے ہاتھوں قتل نہیں ہوئے ۔ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف بلند کر لیا ۔ اللہ عزیز و حکیم ہے ۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد قسطنطنیہ نامی یونانی بادشاہ عیسائی بن گیا ۔ وہ بڑا پاجی اور مکار تھا ۔ دین عیسوی میں یہ بادشاہ صرف سیاسی منصوبوں کے پورا کرنے اور اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے اور دین نصاری کو بدل ڈالنے کے لیے گھسا تھا ۔ حیلہ اور مکر وفریب اور چال کے طور پر یہ مسیحی بنا تھا کہ مسیحیت کی جڑیں کھوکھلی کر دے ۔ نصرانی علماء اور درویشوں کو جمع کرکے ان سے قوانین شریعت کے مجموعے کے نام سے نئی نئی تراشی ہوئی باتیں لکھوا کر ان بدعتوں کو نصرانیوں میں پھیلا دیا اور اصل کتاب و سنت سے انہیں ہٹا دیا ۔ اس نے کلیسا ، گرجے ، خانقاہیں ، ہیکلیں وغیرہ بنائیں اور بیسیوں قسم کے مجاہدے اور نفس کشی کے طریقے اور طرح طرح کی عبادتیں ریاضتیں نکال کر لوگوں میں اس نئے دین کی خوب اشاعت کی اور حکومت کے زور اور زر کے لالچ سے اسے دور تک پہنچا دیا ۔ جو بےچارے موحد ، متبع انجیل اور سچے تابعدار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصلی دن پر قائم رہے انہیں ان ظالموں نے شہر بدر کر دیا ۔ یہ لوگ جنگلوں میں رہنے سہنے لگے اور یہ نئے دین والے جن کے ہاتھوں میں تبدیلی اور مسخ والا دین رہ گیا تھا اٹھ کھڑے ہوئے اور تمام جزیرہ روم پر چھا گئے ۔ قسطنطنیہ کی بنیادیں اس نے رکھیں ۔ بیت لحم اور بیت المقدس کے کلیسا اور حواریوں کے شہر سب اسی کے بسائے ہوئے ہیں ۔ بڑی بڑی شاندار ، دیرپا اور مضبوط عمارتیں اس نے بنائیں ۔ صلیب کی پرستش ، مشرق کا قبلہ ، کنیسوں کی تصویریں ، سور کا کھانا وغیرہ یہ سب چیزیں نصرانیت میں اسی نے داخل کیں ۔ فروع اصول سب بدل کر دین مسیح کو الٹ پلٹ کر دیا ۔ امانت کبیرہ اسی کی ایجاد ہے اور دراصل ذلیل ترین خیانت ہے ۔ لمبے چوڑے فقہی مسائل کی کتابیں اسی نے لکھوائیں ۔ اب بیت المقدس انہیں کے ہاتھوں میں تھا یہاں تک کہ صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فتح کیا ۔ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں یہ مقدس شہر اس مقدس جماعت کے قبضے میں آیا ۔ الغرض یہ پاک جگہ انہیں ملی تھی اور پاک روزی اللہ نے دے رکھی تھی جو شرعا بھی حلال اور طبعا بھی طیب ۔ افسوس باوجود اللہ کی کتاب ہاتھ میں ہو نے کے انہوں نے خلاف بازی اور فرقہ بندی شروع کر دی ۔ ایک دو نہیں بہتر ( ۷۲ ) فرقے قائم ہوگئے ۔ اللہ اپنے رسول پر درود سلام نازل فرمائے آپ نے ان کی اس پھوٹ کا ذکر فرما کر فرمایا کہ میری امت میں بھی یہی بیماری پھیلے گی اور ان کے تہتر فرقے ہو جائیں گے جس میں سے ایک جنتی باقی سب دوزخی ہوں گے پوچھا گیا کہ جنتی کون ہیں؟ فرمایا وہ جو اس پر ہوں جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں ۔ ( مستدرک حاکم ) اللہ فرماتا ہے ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن میں آپ ہی کروں گا