Surat Younus

Surah: 10

Verse: 93

سورة يونس

وَ لَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ وَّ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۹۳﴾

And We had certainty settled the Children of Israel in an agreeable settlement and provided them with good things. And they did not differ until [after] knowledge had come to them. Indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ

اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا رہنے کو دیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں ۔ سو انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم پہنچ گیا یقینی بات ہے کہ آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان امور میں فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Establishment of the Children of Israel in the Land and Their Provision from the Good Things Allah tells; وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِي إِسْرَايِيلَ ... And indeed We settled the Children of Israel in an honorable dwelling place, In these Ayat, Allah tells us about all the worldly and religious gifts which He bestowed upon the Children of Israel. Allah's statement, ... مُبَوَّأَ صِدْقٍ ... honorable dwelling place, means in Egypt and Syria, around Jerusalem, as it was said by some. When Allah destroyed Fir`awn and his soldiers, the Mosaic State took control of all of Egypt as Allah said: وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَـرِقَ الاٌّرْضِ وَمَغَـرِبَهَا الَّتِى بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِى إِسْرءِيلَ بِمَا صَبَرُواْ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُواْ يَعْرِشُونَ And We made the people who were considered weak to inherit the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed. And the fair Word of your Lord was fulfilled for the Children of Israel, because of their endurance. And We destroyed completely all the great works and buildings which Fir`awn and his people erected. (7:137) He said in other Ayat: فَأَخْرَجْنَـهُمْ مِّن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا بَنِى إِسْرَءِيلَ So, We expelled them from gardens and springs. Treasures, and every kind of honorable place. Thus, and We caused the Children of Israel to inherit them. (26:57 -59) He also said: كَمْ تَرَكُواْ مِن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ ... How many of gardens and springs that they left behind. .. (44:25-27) They then continued with Musa, to seek Jerusalem -- the land of Ibrahim, the friend of Allah. There were giant people in Jerusalem. The Children of Israel refrained from fighting them. So Allah expelled them into the wilderness for forty years. During this time in the wilderness, first Harun died and then Musa. Yusha` bin Nun led after them. Allah supported them to conquer Jerusalem and rule it for a period of time. His statement, ... وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ... and provided them with good things, means from the lawful, pure and useful provision that is good in nature and in Law. Then Allah said: ... فَمَا اخْتَلَفُواْ حَتَّى جَاءهُمُ الْعِلْمُ ... and they differed not until the knowledge came to them. There should be no reason for them to have any disputes among them since Allah has sent them knowledge and explained different matters and issues to them. It has been mentioned in a Hadith, إِنَّ الْيَهُودَ اخْتَلَفُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَإِنَّ النَّصَارَى اخْتَلَفُوا عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَسَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الاُْمَّةُ عَلَى ثَلَثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً مِنْهَا وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَاثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّار The Jews separated into seventy-one sects, and the Christians separated into seventy-two sects, and this Ummah will separate into seventy-three sects, one of which is in Paradise, seventy-two in the Fire. They asked, "Who are they O Messenger of Allah!" He replied; مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي Those upon what I and my Companions are upon. It was recorded by Al-Hakim in his Mustadrak with this wording. So here Allah said, ... إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ ... Verily your Lord will judge between them, Here the meaning is, to distinguish between them. ... يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ the Day of Resurrection in that which they used to differ.

بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات اللہ نے جو نعمتیں بنی اسرائیل پر انعام فرمائیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ شام اور ملک مصر میں بیت المقدس کے آپس پاس انہیں جگہ دی ۔ تمام و کمال ملک مصر پر ان کی حکومت ہوگئ ۔ فرعون کی ہلاکت کے بعد دولت موسویہ قائم ہوگئی ۔ جیسے قرآن میں بیان ہے کہ ہم نے ان کمزور بنی اسرائیلیوں کے مشرق مغرب کے ملک کا مالک کر دیا ۔ برکت والی زمین انکے قبضے میں دے دی اور ان پر اپنی سچی بات کی سچائی کھول دی ان کے صبر کا پھل انہیں مل گیا ۔ فرعون ، فرعونی اور ان کے کاریگریاں سب نیست و نابود ہوئیں اور آیتوں میں ہے کہ ہم نے فرعونیوں کو باغوں سے دشمنوں سے ، خزانوں سے بہترین مقامات اور مکانات سے نکال باہر کیا ۔ اور بنی اسرائیل کے قبضے میں یہ سب کچھ کر دیا ۔ اور آیتوں میں ہے ( كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ 25؀ۙ ) 44- الدخان:25 ) باوجود اس کے خلیل الرحمن علیہ السلام کے شہر بیت المقدس کی محبت ان کے دل میں چٹکیاں لیتی رہی ۔ وہاں عمالقہ کی قوم کا قبلہ تھا انہیوں نے اپنے پیغمبر علیہ السلام سے درخواست کی ، انہیں جہاد کا حکم ہوا یہ نامردی کر گئے جس کے بدلے انہیں چالیس سال تک میدان تیہ میں سرگرداں پھرنا پڑا ۔ وہیں حضرت ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ۔ ان کے بعد یہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے ساتھ نکلے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر بیت المقدس کو فتح کیا ۔ یہاں بخت نصر کے زمانے تک انہیں کا قبضہ رہا پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ انہوں نے اسے لے لیا پھر یونانی بادشاہوں نے وہاں قبضہ کیا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے تک وہاں یونانیوں کا ہی قبضہ رہا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ضد میں ان ملعون یہودیوں نے شاہ یونان سے ساز باز کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کے احکام انہیں باغی قرار دے کر نکلوا دیئے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ السلام کو تو اپنی طرف چڑھا لیا اور آپ کے کسی حواری پر آپ کی شباہت ڈال دی انہوں نے آپ کے دھوکے میں اسے قتل کر دیا اور سولی پر لٹکا دیا ۔ یقینا جناب روح اللہ علیہ الصلوۃ والسلام ان کے ہاتھوں قتل نہیں ہوئے ۔ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف بلند کر لیا ۔ اللہ عزیز و حکیم ہے ۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد قسطنطنیہ نامی یونانی بادشاہ عیسائی بن گیا ۔ وہ بڑا پاجی اور مکار تھا ۔ دین عیسوی میں یہ بادشاہ صرف سیاسی منصوبوں کے پورا کرنے اور اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے اور دین نصاری کو بدل ڈالنے کے لیے گھسا تھا ۔ حیلہ اور مکر وفریب اور چال کے طور پر یہ مسیحی بنا تھا کہ مسیحیت کی جڑیں کھوکھلی کر دے ۔ نصرانی علماء اور درویشوں کو جمع کرکے ان سے قوانین شریعت کے مجموعے کے نام سے نئی نئی تراشی ہوئی باتیں لکھوا کر ان بدعتوں کو نصرانیوں میں پھیلا دیا اور اصل کتاب و سنت سے انہیں ہٹا دیا ۔ اس نے کلیسا ، گرجے ، خانقاہیں ، ہیکلیں وغیرہ بنائیں اور بیسیوں قسم کے مجاہدے اور نفس کشی کے طریقے اور طرح طرح کی عبادتیں ریاضتیں نکال کر لوگوں میں اس نئے دین کی خوب اشاعت کی اور حکومت کے زور اور زر کے لالچ سے اسے دور تک پہنچا دیا ۔ جو بےچارے موحد ، متبع انجیل اور سچے تابعدار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصلی دن پر قائم رہے انہیں ان ظالموں نے شہر بدر کر دیا ۔ یہ لوگ جنگلوں میں رہنے سہنے لگے اور یہ نئے دین والے جن کے ہاتھوں میں تبدیلی اور مسخ والا دین رہ گیا تھا اٹھ کھڑے ہوئے اور تمام جزیرہ روم پر چھا گئے ۔ قسطنطنیہ کی بنیادیں اس نے رکھیں ۔ بیت لحم اور بیت المقدس کے کلیسا اور حواریوں کے شہر سب اسی کے بسائے ہوئے ہیں ۔ بڑی بڑی شاندار ، دیرپا اور مضبوط عمارتیں اس نے بنائیں ۔ صلیب کی پرستش ، مشرق کا قبلہ ، کنیسوں کی تصویریں ، سور کا کھانا وغیرہ یہ سب چیزیں نصرانیت میں اسی نے داخل کیں ۔ فروع اصول سب بدل کر دین مسیح کو الٹ پلٹ کر دیا ۔ امانت کبیرہ اسی کی ایجاد ہے اور دراصل ذلیل ترین خیانت ہے ۔ لمبے چوڑے فقہی مسائل کی کتابیں اسی نے لکھوائیں ۔ اب بیت المقدس انہیں کے ہاتھوں میں تھا یہاں تک کہ صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فتح کیا ۔ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں یہ مقدس شہر اس مقدس جماعت کے قبضے میں آیا ۔ الغرض یہ پاک جگہ انہیں ملی تھی اور پاک روزی اللہ نے دے رکھی تھی جو شرعا بھی حلال اور طبعا بھی طیب ۔ افسوس باوجود اللہ کی کتاب ہاتھ میں ہو نے کے انہوں نے خلاف بازی اور فرقہ بندی شروع کر دی ۔ ایک دو نہیں بہتر ( ۷۲ ) فرقے قائم ہوگئے ۔ اللہ اپنے رسول پر درود سلام نازل فرمائے آپ نے ان کی اس پھوٹ کا ذکر فرما کر فرمایا کہ میری امت میں بھی یہی بیماری پھیلے گی اور ان کے تہتر فرقے ہو جائیں گے جس میں سے ایک جنتی باقی سب دوزخی ہوں گے پوچھا گیا کہ جنتی کون ہیں؟ فرمایا وہ جو اس پر ہوں جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں ۔ ( مستدرک حاکم ) اللہ فرماتا ہے ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن میں آپ ہی کروں گا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

93۔ 1 یعنی ایک تو اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے، آپس میں اختلاف شروع کردیا، پھر یہ اختلاف بھی لا علمی اور جہالت کی وجہ سے نہیں کیا، بلکہ علم آجانے کے بعد کیا، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ اختلاف محض عناد اور تکبر کی بنیاد پر تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٣] بنی اسرائیل کا شام کے علاقہ پر قبضہ اور تفرقہ بازی : یعنی ملک مصر میں بھی ان کو غلبہ دیا اور شام میں بھی اور یہ دونوں سرسبز اور شاداب ملک ہیں جہاں ہر طرح کے پھل اور غلے بکثرت پیدا ہوتے ہیں پھر ان مادی نعمتوں کے علاوہ انھیں تورات بھی عطا کی۔ جس میں ان کی زندگی کے ہر شعبہ کے لیے مکمل ہدایات موجود تھیں لیکن بعد میں یہی لوگ کئی فرقوں میں بٹ گئے تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ تورات ان کی صحیح رہنمائی کرنے کے لیے ناکافی تھی بلکہ اس کی وجہ نئے نئے فلسفیانہ مباحث پیدا کرنا، پھر آپس میں اختلاف کرنا، پھر فرقے بنانا اور اپنی اپنی چودھراہٹ کی خاطر ان کی آبیاری کرنا تھی۔ علماء و مشائخ کے حب جاہ نے ان فرقوں میں اتنا تعصب پیدا کردیا تھا کہ ان میں اتحاد کی صورت باقی نہ رہ گئی تھی حالانکہ اگر وہ اللہ کی کتاب کی طرف رجوع کرتے تو وہ پھر سے متحد ہوسکتے تھے۔ تفرقہ بازی کی وجہ اور اس کا علاج :۔ آج مسلمان بھی اسی فرقہ بازی کی لعنت کا شکار ہیں جس کا شکار یہود اور نصاریٰ ہوچکے تھے اور آج تک شکار ہیں۔ مسلمانوں کے فرقے بھی اسی ہٹ دھرمی اور ضد کا شکار ہیں اور ہر فرقہ اپنے اپنے حال میں مست اور مگن ہے۔ ان فرقوں کے قائدین کے حب مال اور جاہ کی خواہش اور ان کے مناصب سے ان کی دستبرداری ان فرقوں کے متحد ہونے میں آج بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ آج بھی اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت موجود ہے۔ اگر اس کی طرف رجوع کیا جائے تو اتحاد کی صورت آج بھی ممکن ہے بلکہ اتحاد کی ممکنہ صورت یہی ہوسکتی ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف رجوع کیا جائے اور اماموں، علماء اور مشائخ کے اقوال کو کتاب و سنت کے مقابلہ میں درخور اعتناء نہ سمجھا جائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ ۔۔ :” مُبَوَّاَ “ (ٹھکانا) کی ” صِدْقً “ کی طرف اضافت کا مطلب اس کی تعریف ہے، یعنی بہترین باعزت ٹھکانا۔ اہل عرب جس چیز کی تعریف کرنا چاہیں اسے ” صِدْقٌ“ کی طرف مضاف کردیتے ہیں، جیسے کہتے ہیں : ” رَجُلُ صِدْقٍ “ ” سچ مچ کا آدمی۔ “ فرمایا : (اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ ) [ یونس : ٢ ] اور فرمایا : (وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ ) [ بنی إسرائیل : ٨٠ ] یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو نہایت باعزت ٹھکانا، حکومت اور وافر صاف ستھری چیزیں کھانے کے لیے عطا فرمائیں۔ ان بنی اسرائیل سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی مراد لینا تو مشکل ہے، کیونکہ وہ تو موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم پر جہاد کے لیے نکلنے سے صاف انکار کی پاداش میں چالیس سال صحرائے سینا ہی میں بھٹکتے رہے تھے، البتہ ان کے بعد یوشع بن نون (علیہ السلام) کی قیادت میں نئی نسل نے فلسطین اور شام اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق فتح کیے، وعدہ یہ تھا : (يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ ) [ المائدۃ : ٢١ ] ” اے میری قوم ! اس مقدس زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔ “ پھر مصر پر بھی بنی اسرائیل کی حکومت قائم ہوگئی، جیسا کہ فرمایا : (كَذٰلِكَ ۭ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ) [ الشعراء : ٥٩ ] ” ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا۔ “ پھر بنی اسرائیل پر حکومت اور غلامی کے کئی دور آئے، کبھی داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) جیسے عظیم الشان حکمران آئے اور کبھی بخت نصر اور دوسرے کفار کے ہاتھوں ان کی پامالی ہوئی اور اس پامالی کا سبب ہمیشہ ان کا اختلاف بنا، جس کا باعث ان کی لاعلمی نہ تھا بلکہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے وہ احبارو رہبان کو رب بنا کر مختلف سیاسی اور دینی فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ احادیث میں ان کے بہتر (٧٢) فرقوں کا ذکر ہے، ان میں صحیح کون تھا اور غلط کون ! یہ فیصلہ اب قیامت کے دن رب تعالیٰ ہی فرمائیں گے۔ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَاۗءَھُمُ الْعِلْمُ کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ کی کتاب تورات کی صاف پیش گوئی کے مطابق بنی اسرائیل کا اتفاق تھا کہ خاتم النّبیین محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آنے والے ہیں، کسی کا بھی اختلاف نہ تھا اور کوئی اس سے لا علم نہ تھا، بلکہ سب آپ کے آنے کے منتظر تھے اور آپ کے آنے کی دعا کرتے تھے، جیسا کہ فرمایا : (وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) [ البقرۃ : ٨٩ ] ” حالانکہ وہ اس سے پہلے ان لوگوں پر فتح طلب کیا کرتے تھے جنھوں نے کفر کیا۔ “ مگر جب آپ تشریف لے آئے تو آپ کو پہچان لینے کے بعد محض ضد اور حسد کی وجہ سے ان کا اتفاق اختلاف میں بدل گیا۔ کسی نے کہا، وہ ہیں ہی نہیں جن کے آنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کسی نے کہا یہ ہمارے نہیں بلکہ صرف امیوں کے رسول ہیں۔ بعض خوش نصیبوں نے ایمان قبول بھی کرلیا، بہرحال علم کے بعد اختلاف کا فیصلہ اب رب تعالیٰ ہی فرمائیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The second verse (93) brings the future of a people bulldozed in disgrace by the Pharaoh into sharp focus making it stand out against the evil end of the tyrant. It was said that Allah gave the Bani Isra&il a good place to live. They had the whole country of Egypt for themselves. Then, they were given the holy lands of Jordan and Palestine which Allah Ta’ ala had assigned to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and his proge¬ny as their inheritance. A good place to live has been termed as: مُبَوَّأَ صِدْقٍ (translated as: ` a proper place to live& ) in the Qur&an. The word: صِدْقٍ (sidq) at this place means good and proper. The sense is that they were given a place to live that was suitable and proper for them in every way. Then it was said that Allah gave them their sustenance in the form of Halal and pure things so much so that they had the best of everything. Towards the end of the verse, once again, their penchant for crook¬edness and evil doing has been mentioned. Among them too, there were many who, soon after having power, failed to appreciate the blessings of Allah and went about disobeying Him. They recited the Torah and they knew the signs and marks of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) mentioned there. This awareness demanded that they should have been the first to believe in him as soon as he came. But, how strange that these very people believed in the coming of the last prophet, Sayyidna Muhammad al-Mustafa (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) before he actu¬ally came. They would tell people about the signs he would have and the time he would come. They would even use the wasilah (medium) of the last prophet in their prayers. But, when the last prophet came with a whole array of evidences of his veracity, and the signs identified in the Torah, these people started disputing among themselves. Some of them believed while the rest refused to do so. In this verse, the com¬ing of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to has been expressed by saying: جَاءَهُمُ الْعِلْمُ (knowledge came to them). Here, علم (` ilm) could also denote certi¬tude. In that case, it would mean that once the causes of observation and certitude converged together, these people started disputing. Some commentators have said that عِلم (ilm: knowledge) at this place denotes مَعلُوم (ma` lum: known), that is, when the blessed person who was already known through the prophesies of the Torah came before them face to face, they started disputing the truth. At the end of the verse, it was said that Allah Ta&ala will give His verdict about what they used to dispute, on the day of Qiyamah. Truth will then become distinct from falsehood and the upholders of truth will be sent to Paradise while the practitioners of falsehood, to Hell.

دوسری آیت میں فرعون کے انجام بد کے بالمقابل اس قوم کا مستقبل دکھلایا ہے جس کو فرعون نے حقیر و ذلیل بنا رکھا تھا، فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانہ عطا فرمایا کہ پورا ملک مصر بھی ان کو مل گیا اور اردن و فلسطین کی ارض مقدسہ بھی ان کو مل گئی جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم اور ان کی ذریت کے لئے میراث بنادیا تھا، اچھے ٹھکانے کو قرآن میں مُبَوَّاَ صِدْقٍ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے، صِدْقٍ کے معنی اس جگہ صالح اور مناسب کے ہیں، مطلب یہ کہ ایسا ٹھکانا ان کو دیا جو ان کے لئے ہر اعتبار سے لائق اور مناسب تھا پھر فرمایا کہ ہم نے ان کو حلال پاک چیزوں سے رزق دیا کہ دنیا کی تمام لذائذ اور راحتیں ان کو عطا فرما دیں۔ آخر آیت میں پھر ان کی کجروی اور غلط کاری کا ذکر ہے کہ ان میں بھی بہت سے لوگوں نے اقتدار پانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کی اور اس کی اطاعت سے پھرگئے، تورات میں جو نشانیاں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ لوگ پڑھتے تھے اس کا تقاضہ یہ تھا کہ آپ کے تشریف لانے کے بعد سب سے پہلے یہی لوگ ایمان لاتے، مگر یہ عجیب اتفاق ہوا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری سے پہلے تو یہ سب لوگ نبی آخر الزمان پر اعتقاد رکھتے اور ان کی نشانیوں اور ان کے ظہور کا وقت قریب ہونے کی خبریں لوگوں کو بتایا کرتے تھے اور اپنی دعاؤں میں نبی آخر الزمان کا وسیلہ دے کر دعا کیا کرتے تھے مگر جب نبی آخر الزمان اپنی پوری شہادتوں کے ساتھ اور تورات کی بتلائی ہوئی نشانیوں کے ساتھ تشریف لائے تو یہ لوگ آپس میں اختلاف کرنے لگے، کچھ لوگ ایمان لائے باقیوں نے انکار کیا، اس آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تشریف لانے کو لفظ جَاۗءَھُمُ الْعِلْمُ سے تعبیر کیا ہے، یہاں علم سے مراد یقین بھی ہوسکتا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ جب مشاہدہ کے ساتھ یقین کے اسباب جمع ہوگئے تو یہ لوگ اختلاف کرنے لگے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس جگہ علم سے مراد معلوم ہے یعنی جب وہ ہستی سامنے آگئی جو تورات کی پیشین گوئیوں کے ذریعہ پہلے سے معلوم تھی تو اب لگے اختلاف کرنے۔ آخر آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے اختلاف کا فیصلہ فرماویں گے حق و باطل نکھر جائے گا، اہل حق جنت میں اور اہل باطل دوزخ میں بھیجے جائیں گے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّرَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ۝ ٠ ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَاۗءَھُمُ الْعِلْمُ۝ ٠ ۭ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَھُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْہِ يَخْتَلِفُوْنَ۝ ٩٣ بَوءَ أصل البَوَاء : مساواة الأجزاء في المکان، خلاف النّبو الذي هو منافاة الأجزاء . يقال : مکان بَوَاء : إذا لم يكن نابیا بنازله، وبَوَّأْتُ له مکانا : سوّيته فَتَبَوَّأَ ، وبَاءَ فلان بدم فلان يَبُوءُ به أي : ساواه، قال تعالی: وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّءا لِقَوْمِكُما بِمِصْرَ بُيُوتاً [يونس/ 87] ، وَلَقَدْ بَوَّأْنا بَنِي إِسْرائِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍ [يونس/ 93] ( ب و ء ) البواء ۔ کے اصل معنی کسی جگہ کے اجزا کا مساوی ( اور سازگار موافق) ہونے کے ہیں ۔ یہ نبوۃ کی ضد ہے جس کے معنی اجزاء کی ناہمواری ( ناسازگاری ) کے ہیں ۔ لہذا مکان بواء اس مقام کے کہتے ہیں ۔ جو اس جگہ پر اترنے والے کے ساز گار اور موافق ہو ۔ بوات لہ مکانا میں نے اس کے لئے جگہ کو ہموار اور درست کیا اور تبوات اس کا مطاوع ہے جس کے معنی کسی جگہ ٹھہرلے کے ہیں قرآن میں ہے ؛۔ { وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّآ لِقَوْمِكُمَا } ( سورة يونس 87) اور ہم نے موسیٰ اور اس گے بھائی کی طرف دحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لئے مصر میں گھر بناؤ ۔ اِسْرَاۗءِيْلَ ( بني) ، جمع ابن، والألف في ابن عوض من لام الکلمة المحذوفة فأصلها بنو .(إسرائيل) ، علم أعجمي، وقد يلفظ بتخفیف الهمزة إسراييل، وقد تبقی الهمزة وتحذف الیاء أي إسرائل، وقد تحذف الهمزة والیاء معا أي : إسرال . صدق والصِّدْقُ : مطابقة القول الضّمير والمخبر عنه معا، ومتی انخرم شرط من ذلک لم يكن صِدْقاً تامّا، بل إمّا أن لا يوصف بالصّدق، وإمّا أن يوصف تارة بالصّدق، وتارة بالکذب علی نظرین مختلفین، کقول کافر إذا قال من غير اعتقاد : محمّد رسول الله، فإنّ هذا يصحّ أن يقال : صِدْقٌ ، لکون المخبر عنه كذلك، ويصحّ أن يقال : كذب، لمخالفة قوله ضمیره، وبالوجه الثاني إکذاب اللہ تعالیٰ المنافقین حيث قالوا : نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ... الآية [ المنافقون/ 1] ( ص دق) الصدق ۔ الصدق کے معنی ہیں دل زبان کی ہم آہنگی اور بات کو نفس واقعہ کے مطابق ہونا ۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک شرط نہ پائی جائے تو کامل صدق باقی نہیں رہتا ایسی صورت میں باتو وہ کلام صدق کے ساتھ متصف ہی نہیں ہوگی اور یا وہ مختلف حیثیتوں سے کبھی صدق اور کبھی کذب کے ساتھ متصف ہوگی مثلا ایک کا فر جب اپنے ضمیر کے خلاف محمد رسول اللہ کہتا ہے تو اسے نفس واقعہ کے مطابق ہونے کی حیثیت سے صدق ( سچ) بھی کہہ سکتے ہیں اور اس کے دل زبان کے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے کذب ( جھوٹ) بھی کہہ سکتے ہیں چناچہ اس دوسری حیثیت سے اللہ نے منافقین کو ان کے اس اقرار میں کہ : نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ... الآية [ المنافقون/ 1] ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے پیغمبر ہیں ۔ جھوٹا قرار دیا ہے کیونکہ وہ اپنے ضمیر کے خلاف یہ بات کہد رہے تھے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو طيب يقال : طَابَ الشیءُ يَطِيبُ طَيْباً ، فهو طَيِّبٌ. قال تعالی: فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ، وأصل الطَّيِّبِ : ما تستلذّه الحواسّ ، وما تستلذّه النّفس، والطّعامُ الطَّيِّبُ في الشّرع : ما کان متناولا من حيث ما يجوز، ومن المکان الّذي يجوز فإنّه متی کان کذلک کان طَيِّباً عاجلا وآجلا لا يستوخم، وإلّا فإنّه۔ وإن کان طَيِّباً عاجلا۔ لم يَطِبْ آجلا، وعلی ذلک قوله : كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] ( ط ی ب ) طاب ( ض ) الشئی یطیب طیبا فھم طیب ( کے معنی کسی چیز کے پاکیزہ اور حلال ہونے کے ہیں ) قرآن میں ہے : : فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] تو ان کے سوا عورتیں تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو ۔ ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے تم کو چھوڑدیں ۔ اصل میں طیب اسے کہا جاتا ہے جس سے انسان کے حواس بھی لذت یاب ہوں اور نفس بھی اور شریعت کی رو سے الطعام الطیب اس کھانے کو کہا جائے گا جو جائز طریق سے حاصل کیا جائے اور جائز جگہ سے جائز انداز کے مطابق لیا جائے کیونکہ جو غذا اس طرح حاصل کی جائے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خوشگوار ثابت ہوگی ورنہ دنیا کی خوشگوار چیزیں آخرت میں نقصان وہ ثابت ہونگی اسی بنا پر قرآن طیب چیزوں کے کھانے کا حکم دیتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں اور ان کو کھاؤ ۔ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ قِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، القیامت سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٣) اور ہم نے بنی اسرائیل کو فرعون کی ہلاکت کے بعد عمدہ سرزمین یعنی اردن اور فلسطین میں رہائش دی اور ہم نے من وسلوی اور غنیمتیں ان کو کھانے کا عطا کیں۔ اور یہودی و نصاری نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کے بارے میں اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ان کی کتاب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت وصفت کے بارے میں علم پہنچ گیا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کا پروردگار قیامت کے دن یہود و نصاری میں اس دین کے بارے میں فیصلہ کردے گا جس میں یہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰی جَآءَ ہُمُ الْعِلْمُ ) یعنی انہوں نے اس وقت اختلاف کیا اور تفرقے برپا کیے جبکہ ان کے پاس علم آچکا تھا۔ انہوں نے ایسا ناواقفیت کی بنیاد پر مجبوراً نہیں کیا تھا ‘ بلکہ یہ سب کچھ ان کے اپنے نفس کی شرارتوں کا نتیجہ تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

93. God continues to confront people with instructive signs, even though most of them, in total disregard of such signs, fail to derive any lesson from them. 94. That is, God provided an abode for them in Palestine for their exodus from Egypt. 95. Here reference is made to the schisms and dissensions which the Israelites caused and the ever new religious cults which they invented. It is pointed out here that they had not acted in ignorance of the truth; their actions rather emanated from mischievous designs. For they had been provided by God with the true religion and they knew its fundamental principles, its requirements, and the features which distinguish the true faith from the false ones. They were also well aware of what constitutes disobedience, on what matters man will be held to account by God, and on what principles man should fashion his life. Despite these clear directives the Israelites transformed their true faith into a multitude of religious cults, and developed them all on foundations altogether divergent from those provided by God.

سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :94 یعنی مصر سے نکلنے کے بعد ارض فلسطین سورة یُوْنُس حاشیہ نمبر :95 مطلب یہ ہے کہ بعد میں انہوں نے اپنے دین میں جو تفرقے برپا کیے اور نئے نئے مذہب نکالے اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کو حقیقت کا علم نہیں دیا گیا تھا اور ناواقفیت کی بنا پر انہوں نے مجبورا ایسا کیا ، بلکہ فی الحقیقت یہ سب کچھ ان کے اپنے نفس کی شرارتوں کا نتیجہ تھا ۔ خدا کی طرف سے تو انہیں واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ دین حق یہ ہے ، یہ اس کے اصول ہیں ، یہ اس کے تقاضے اور مطالبے ہیں ، یہ کفر واسلام کے امتیازی حدود ہیں ، طاعت اس کو کہتے ہیں ، معصیت اس کا نام ہے ، ان چیزوں کی بازپرس خدا کے ہاں ہونی ہے ، اور یہ وہ قواعد ہیں جن پر دنیا میں تمہاری زندگی قائم ہونی چاہیے ، مگر ان صاف صاف ہدایتوں کے باوجود انہوں نے ایک دین کے بیسیوں دین بنا ڈالے اور خدا کی دی ہوئی بنیادوں کو چھوڑ کر کچھ دوسری ہی بنیادوں پر اپنے مذہبی فرقوں کی عمارتیں کھڑی کرلیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

37: یعنی بنی اسرائیل کا عقیدہ ایک مدت تک دین حق کے مطابق ہی رہا، تورات اور انجیل میں آخری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کی جو خبر دی گئی تھی، اس کے مطابق وہ یہ بھی مانتے تھے کہ آخر میں نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لانے والے ہیں، لیکن جب آسمانی کتابوں میں مذکور نشانیوں کے ذریعے یہ علم آگیا کہ وہ نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں تو اس وقت انہوں نے دین حق سے اختلاف شروع کردیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٩٣۔ فرعون کے غرق ہونے کے بعد تمام ملک مصر بنی اسرائیل کے قبضہ میں آگیا مگر بنی اسرائیل کو مصر میں رہنے کا اتفاق اس سبب سے کم ہوا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی رہنے کی جگہ ملک شام عمالقہ قوم کے قبضہ میں جو چلا گیا تھا بنی اسرائیل فرعون سے جب نجات مل چکی تو حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر ملک شام فتح کریں لیکن شام کے ملک کے قریب آن کر بنی اسرائیل نے عمالقہ کی قوت جکو سنی تو عمالقہ کی لڑائی سے انکار کیا چالیس برس تک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک جنگل میں اس جرم کی سزا میں قید رکھا جس کا ذکر سورة مائدہ میں آچکا۔ پہلے حضرت ہارون (علیہ السلام) کا پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اس جنگل میں انتقال ہوا جتنے بنی اسرائیل نے لڑائی سے انکار کیا تھا جب وہ اسی جنگل میں مر کھپ گئے اور ان کی اولاد لڑنے کے قابل ہوئی اور قید کی میعاد جو اللہ تعالیٰ نے ٹھہرائی تھی وہ گزر چکی تو حضرت یوشع کے ہاتھ پر ملک شام فتح ہوا اور تمام ملک شام بنی اسرائیل کے قبضہ میں مدت تک رہا جب بنی اسرائیل نے طرح طرح کی سرکشی شروع کی تو بخت نصر بابلی نے آن کر ان کو خوب مارا اور ملک شام ان سے چھین لیا اس کے بعد پھر دوبارہ ملک ان کے ہاتھ آگیا پھر بادشاہ ہان یونان نے جو بت پرست تھے ملک شام پر قبضہ کرلیا اسی زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور نبی ہوئے یہود نے شاہان یونان کو حضرت عیسیٰ کی طرف بہکایا کہ یہ شخص شاہی رعیت کا مذہب خراب کرتا ہے اس وقت کے یونان کے بادشاہ نے کچھ فوج حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پکڑنے اور شہید کرنے پر مامور کی اور یہود بھی ان حضرت عیسیٰ کے مخالف لوگوں کی مدد کے لئے ان کے ساتھ ہوئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا اور حواریوں میں سے ایک شخص پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شباہت ڈال دی ان مخالف لوگوں نے اس کو حضرت عیسیٰ تصور کر کے سولی پر چڑھا دیا اس کے بعد سو برس کے قریب تک حضرت عیسیٰ کا دین کسی قدر زمین پر قائم رہا مگر اس زمانہ کا دین اصلی دین عیسوی تھا نہ اس زمانہ کے عیسائی گرجاؤں میں تصویریں بناتے تھے نہ صلیب کی پرستش کرتے تھے نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے نہ تثلیث کے قائل تھے نہ مشرق کی طرف نماز پڑہتے تھے نہ شراب اور سور کو حلال گنتے تھے اب یونان کا ایک بادشاہ جس کا نام قسطنطین تھا جس نے اپنے نام پر شہر قسطنطنیہ بسایا ہے عیسائی ہوا یہ شخص عیسائی ہونے سے پہلے بڑا دہریہ تھا مورخوں نے لکھا ہے کہ یہ شخص حیلہ کے طور پر دین عیسائی بگاڑنے کی نیت سے ظاہر میں عیسائی ہوا تھا غرض اس نے عیسائی ہوتے ہی آسمانی کتابوں کے عمل کا رواج کم کردیا عقلی قانون کی کتابیں بنوا کر ان کو رواج دیا آج کی تاریخ تک جو خرابیاں عیسائی مذہب میں نظر آتی ہیں وہ اسی کی ہیں دنیا میں اس تاریخ سے دین عیسائی کا زور تو ہوا مگر اس غیر اصلی دین کا اصلی دین پر جو چند پادری اس زمانہ میں تھے ان کو بستیاں چھوڑ کر جنگل میں رہنا پڑا۔ ملک شام و روم رفتہ رفتہ سب عیسائیوں کے قبضہ میں ہوگیا۔ چناچہ حضرت عمر (رض) کی خلافت تک بیت المقدس اور تمام ملک شام عیسائیوں کے قبضہ میں تھا۔ حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں لڑائی ہو کر ملک شام مسلمانوں کے قبضہ میں آیا غرض ایک مدت تک ملک شام بنی اسرائیل کے قبضہ میں جو رہا اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ تورات میں نبی آخر الزمان کے اوصاف تفصیل سے موجود تھے۔ اس لئے آپ کے پیدا ہونے اور نبی ہونے سے پہلے یہود آپ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے تھے لیکن جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آئے اور یہود نے قرآن کی وہ آیتیں بھی سنیں جن میں تورات کی تصدیق موجود تھی تو یہ لوگ فقط اس دشمنی سے آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے کہ یہ نبی آخر الزمان بنی اسیلت میں کیوں پیدا ہوئے ہماری قوم بنی اسرائیل میں کیوں نہیں پیدا ہوئے اور اسی سبب سے ان میں پھوڑ پڑ کر عبد اللہ بن سلام (رض) اور ان کے ساتھی تو راہ راست پر آگئے اور باقی کے لوگ اپنے حال پر رہے اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے { فما اختلفوا حتی جآء ھم العلم } سے اس آیت میں فرمایا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بخت نصر اور یونانی بادشاہوں کے زمانہ کی شرارتوں کے علاوہ ان لوگوں نے یہ بھی ایک شرارت کی کہ جان بوجھ کر نبی آخر الزمان کی نبوت میں اختلاف ڈال دیا۔ طبرانی کبیر اور اوسط میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی صحیح حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص علم دین کی کوئی بات لوگوں سے چھپاوے گا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جاوے گی۔ ١ ؎ یہ حدیث آیت کے ٹکڑے { ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون } کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جن تورات کے علماء نے جان بوجھ کر نبی آخر الزمان کے اوصا ف کو چھپایا ہے قیامت کے دن اور عذاب کے علاوہ ان کو یوں بھی رسوا کیا جاویگا کہ ان کے منہ میں آگ کی لگام دی جاوے گی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اہل کتاب میں سے جو شخص شریعت موسوی اور عیسوی کا پورا پیرو رہا اور اب شریعت محمدی کی پیروی بھی اس نے کی اس کو قیامت کے دن دوہرا اجر ملے گا۔ ٢ ؎ آیت میں جس پھوٹ اور قیامت کے دن اس پھوٹ کے فیصلہ کا جو ذکر ہے اس حدیث سے اہل کتاب کے اس گروہ کے اس دن کے فیصلہ کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے جنہوں نے پچھلی اور حال دونوں شریعتوں کی پیروی اختیار کی ہے۔ عربی زبان میں کسی چیز کی جب تعریف کرنی منظور ہوتی ہے تو اس چیز کے ساتھ صدق کا لفظ لگا دیتے ہیں جیسے (قدم صدق مبوا صدق) اس سے مطلب یہ ہوتا ہے کہ صدق دل سے یہ چیز اچھی شمار کی جاتی ہے سرزمین ملک شام ایک شاداب جگہ ہے اس لئے اس کو صبوأ صدق اور وہاں کے عمدہ میووں کو ستھری چیز فرمایا۔ ١ ؎ اترغیب ص ٣٦ ج الترھیب من کتم العلم۔ ٢ ؎ صحیح مسلم ص ٨٦ ج ١ باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الخ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(10:93) بوانا۔ ہم نے جگہ دی۔ ہم نے مناسب مقام تیار کیا۔ ہم نے ٹھہرنے کی جگہ تیار کی۔ (ملاحظہ ہو 10:87) تبویۃ سے ماضی جمع متکلم۔ مبوا۔ اسم ظرف ۔ ٹھہرنے کی جگہ ، مسکن۔ بواء اس جگہ کو کہتے ہیں جو ہموار ہو اور اس کے کچھ اجزاء اوپر نیچے نہ ہوں۔ صدق۔ راستی۔ سچائی۔ نام ۔ نیک۔ سچی بات۔ عمدہ۔ پسندیدہ۔ صدق یصدق کا مصدر ہے اس کے معنی لغت میں سچ کہنے اور سچ کر دکھانے کے ہیں۔ اور چونکہ یہ ذکر خیر کا سبب ہے اس لئے مجازاً نیک نام ۔ ثناء اور ذکر خیر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ الصدق۔ الکذب کی ضد ہے۔ اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں۔ خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا زمانہ مستقبل کے ساتھ۔ وعدہ کی قبیل سے ہو یا وعدہ کی قبیل سے نہ ہو۔ الغرض یہ بالذات قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں ۔ پھر قول میں بھی صرف خیر کے لئے آتے ہیں دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے۔ اسی لئے ارشاد ہے :۔ ومن اصدق من اللہ قیلا (4:122) اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے۔ یا انہ کان صادق الوعد (19:54) وہ وعدے کا سچا تھا۔ نیز ہر وہ فعل جو ظاہر و باطن کے اعتبار سے فضیلت کے ساتھ متصف ہوا سے صدق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس بناء پر ایسے فعل کو صدق کی طرف مضاف کیا جاتا ہے جیسے :۔ (1) فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر (54:55) یعنی سچے مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں۔ (2) ان لہم قدم صدق عند ربھم (10:12) ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (3) ولقد بوانا بنی اسرائیل مبوا صدق۔ ہم نے بنی اسرائیل کو بہترین ٹھکانہ عطا کیا۔ مبوئ۔ مضاف۔ صدق مضاف الیہ۔ مترلا صالحا (ایک اچھا ٹھکانہ) العلم۔ سے مراد (1) تورات ہے ۔ اور اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہیں جو تورات کے م درجات کی تاویل میں ان میں پیدا ہوگئے۔ اور نتیجۃً وہ کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ تفہیم القرآن۔ مدارک التنزیل) ۔ (2) قرآن ہے۔ اور اختلاف سے مراد یہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق اختلاف ہے بعض تورات میں مذکور نشانیوں کی بناء پر صحیح تاویل کرتے ہوئے قرآن اور رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے اور بعض نے بغض و حسد کی بناء پر انکار کردیا۔ (الخازن)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 ۔ یعنی ملک شام دیا کہ کوئی مخالف مند رہا۔ (موضح) ۔ یعنی بلاد مصر اور شام، بیت ا المقدس اور ” غرقابی “ کے بعد بنی اسرائیل کا مصر پر مکمل قبضۃ ہوگیا۔ ابن کثیر) ۔ مگر وہاں زیادہ عرصہ ٹھہرنے کا موقعہ نہیں ملا۔ ان کو حکم تھا کہ ملک شام عمالقہ سے فتح کرکے وہاں چلے جائو چناچہ یوشع کے زمانہ میں ان فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا۔ (ابن کثیر۔ روح) ۔ 12 ۔ یعنی اللہ کی کتاب تورات نازل ہوچکی اور اس میں بیان کردہ احکام کا انہیں پتا چل گیا۔ مطلب یہ ہے کہ آپس میں اختلاف اور تفرق کی وجہ یہ نہ تھی کہ ان کے پاس حقیقت کا علم نہ تھا بلکہ یہ سب کچھ انہوں نے جانتے بوجھتے شرارتِ نفس کی بنا پر کیا۔ بنی اسرائیل کے اختلافات کی داستان بہت طویل ہے۔ 13 ۔ وہاں معلوم ہوجائے گا کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر۔ پھر حق پرستوں کو اپنی نیکی کا انعام اور باطل پرستوں کو اپنی بدعملی کی سزا ملے گی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٩٣ تا ١٠٣ اسرار و معارف پھر ان نعمتوں کا تذکرہ جو بنی اسرائیل کو عطاہوئیں کہ بظاہرفرعون اور اس کی ساری حکومت انھیں رسوا کرنے پہ کمرباندھے ہوئے تھی کوئی ظاہری سبب ان کی نجات کا نہ تھا کہ انھوں نے اللہ پر بھر وسہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں نکل کھڑے ہوئے تو فرعون اور اس کا لشکرتباہ ہوگئے اور نبی اسرائیل کو وہ خوبصورت اور سرسبز و شاداب وادی جو انبیائے سابقین کا مسکن بھی تھی اور دنیاوی ودینی اعتبار سے ان کی پسنددیدہ بھی تھی یعنی اردن و فلسطین کی ارض مقدسہ عطاہوئی اور سلطنت مصر بھی انہی کو مل گئی اور بہترین نعمتیں بھی بطور رزق نصیب ہوئیں۔ آباد گھر تنومنداولاداچھی بیویاں شاداب کھیتیاں پررونق شہر اور بازار اللہ کا دین اور اس کا علم مسلسل نورنبوت اور یکے بعد دیگرے انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت اور بارعب اقتدار غرض دنیا وآخرت کی نعمتوں سے مالامال کردیا۔ لیکن ان بےنصیبوں نے بھی تب اختلاف کیا جب ان کے پاس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے سبب اور نزول قرآن کے باعث یقینی خبرآپہنچی جو پیشگوئی ان کی کتب میں تھی اور جس پر ایمان رکھتے تھے جس کے طفیل دعائیں مانگتے تھے جب وہ ہستی مجسم مبعوث ہوکرسامنے آئی تو اختلاف میں پڑگئے انعامات الٰہیہ کی قدرنہ کی مگر اللہ کی گرفت سے بچ تو نہ سکیں گے کہ اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے کہ ہر عمل پر اس کا پھل لگایا جائے چناچہ روزحساب ان کے اختلاف کا فیصلہ بھی کردیا جائے گا جس کے اثرات انھوں نے دنیا میں ذلیل اور تباہ ہوکربھگت لئے اور بھگت رہے ہیں ۔ شبہات کو پوچھ کر صاف کرنا چاہیئے لہٰذا اے مخاطب اے اللہ کی کتاب کو پڑھنے سننے والے تجھے بھی اس میں ہرگز کوئی شبہ نہ ہونا چاہیئے اور اگر ایسا ہے تو اہل علم سے جاکرتحقیق کر اور اپنے شبہات دور کرلے۔ یعنی اگر کوئی بھی شخص قرآن کی خبر یا حکم کے بارے کسی مخمصے کا شکارہوتو چھپاکرنہ رکھے بلکہ اہل علم سے جاکر تحقیق کرکے صحیح صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کرے اور علماء کافریضہ ہے کہ ایسے افراد کی مدد کریں اور انھیں شبہات کی دلدل سے نکالیں ۔ اور اے مخاطب ! یقینا اللہ کا کلام جو تجھے پہنچا ، یہ حق ہے اور تیرے پروردگار کی طرف سے ہے یہ اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے کہ انسانوں کی راہنمائی فرمائے لہٰذا اس میں کسی ادنی ترین شبہ کی بھی گنجائش نہیں ۔ اور کبھی بھول کر بھی اللہ کی آیات کا انکار کرنے والوں میں شامل نہ ہونا ورنہ دوعالم کا خسارہ تیرے حصے میں ہوگا۔ ہاں ! ان لوگوں کی بات الگ ہے جنہوں نے اس قدرنافرمانی کی کہ بطور سزا اور بطور ان گناہوں کے ثمر کے ان کو ہدایت کی استعداد سے محروم کردیا گیا اور جہنم ان کا مقدرٹھہرا۔ یقینا ایسے لوگ ایمان نہ لائیں گے انھیں لاکھوں دلائل دیئے جائیں یا وہ روشن ترین معجزات کا مشاہدہ کریں انھیں ایمان نصیب ہی نہ ہوگا کہ وہ درد ناک عذاب کو دیکھیں موت کے وقت یابرزخ میں تب مانیں گے جب ماننا کوئی نفع نہ دے گا اور سوائے یونس (علیہ السلام) کی بستی والوں کے کسی قوم کو ایمان نصیب نہ ہوا جو انھیں عذاب کے اس قدر قریب آجانے پر کام آجاتا اور بچالیتا ہاں وہ عذاب کے آثار دیکھ کر ایمان لے آئے تو اللہ نے ان سے عذاب ہٹالیا جو دنیا میں بھی انھیں ذلیل اور تباہ کردیتا اور انھیں پھر ایک مدت تک مہلت عطافرمادی گئی۔ قوم یونس (علیہ السلام) کا واقعہ اور مفسرین کرام یونس (علیہ السلام) کی قوم کا مسکن عراق اور موصل کی سرزمین میں نینوی کی مشہور بستی تھی اور ایک لاکھ کے لگ بھگ لوگ تھے انھوں نے ایمان قبول نہ کیا حتی کہ یونس (علیہ السلام) کو خبردی گئی کہ ان پر عذاب نازل ہوگا۔ چناچہ انھوں نے یہ اعلان فرمادیا کہ تین روز کے اندرتم لوگ تباہ ہوجاؤگے اور خودرات کو وہاں سے نکل گئے ۔ لوگوں کو یہ بات سن کر فکر ہوئی ۔ انھوں نے مشورہ کیا کہ دیکھاجائے کیا یونس (علیہ السلام) خود بستی میں رہتے ہیں یابستی چھوڑ دیتے ہیں کہ انھوں نے زندگی بھر جھوٹ نہیں بولا ۔ چناچہ دوسرے روزانھیں نہ پایا اور آسمان پر تاریکی پھیلتی دیکھی تو سب ایمان لے آئے۔ پہلے انھیں تلاش کیا نہ ملے تو بستی سے باہر میدان میں مرد عورتیں بچے بوڑھے سب جمع ہوکرتوبہ اور آہ فریاد کرنے لگے چناچہ اللہ کریم نے عذاب ہٹادیا اور ان کی توبہ قبول ہوئی اور یہ منفرد واقعہ عین قانون فطرت کے مطابق تھا کہ موت یا عذاب کے شروع ہونے سے پیشترتوبہ کرلی اگر عذاب کا وقوع شروع ہوجاتا جیسا کہ فرعون پر ہوچکا تھا تو توبہ قبول نہ ہوتی کہ وہ بعدازوقت ہوتی ۔ مفسرین کرام کے مطابق یہ واقعہ فرعون کے قصہ کے متصل بیان کرنے سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اللہ کتناکریم ہے اور کن آخری لمحات تک کافر کی توبہ بھی قبول فرمالیتا ہے۔ ادھر یونس (علیہ السلام) باہر ان کی تباہی کے منتظر تھے جب انھوں نے دیکھا ، تاریکی کے بادل چھٹ گئے اور عذاب واقع نہیں ہواتو انھیں اس بات کا سخت ملال ہوا کہ لوگ مجھے جھوٹا کہیں گے اور عذاب واقع نہ ہونے کو بطور ثبوت اچھالیں گے تو وہ بحیرہ روم میں ایک کشتی میں سوار ہوگئے کہ کہیں دورنکل جاؤں مگر اللہ کو یہ بات پسندنہ آئی چناچہ درمیان میں کشتی رک گئی ۔ لوگوں نے کہا کہ کوئی بھاگا ہوا غلام اس میں سوار ہے ۔ تو آپ کو احساس ہوا۔ فرمایا میں ہوں مجھے دریا میں ڈال دو ۔ پھر بھی لوگوں نے قرعہ ڈال کر دیکھا جو آپ ہی کے نام پہ نکلا تو دریا میں ڈال دیئے گئے جہاں ایک بہت بڑی مچھلی نے اللہ کے حکم سے نگل لیا اور اللہ نے وہاں ان کا ٹھکانہ بنادیا جہاں وہ مختلف روایات کے اعتبار سے چالیس روز یا سات روز یا پانچ روزیا چندگھنٹے ہی رہے اور اللہ سے دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے لا ا لہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین “ چناچہ اللہ نے دعاقبول فرمائی مچھلی نے کنارے پہ اگل دیا جہاں اللہ نے بیلیں اگادیں اور جنگلی بکری مقرر کردی جس کادودھ پی لیتے اور آخر قوم نے انھیں ڈھونڈ نکالا تو اس سارے واقعہ میں ان کی فطری شرم جو اپنے غلط ثابت ہونے پر انھیں لاحق ہوئی شان نبوت یہ تھی کہ وہ اللہ کے حکم کا انتظار فرماتے مگر فطری حیانے جلدی پہ مجبور کردیا تو یہ بات بھی قابل گرفت ٹھہری اللہ نے معجزاتی طور پر راستہ روک دیا اور اس میں مزید عظمت پیدا کردی اور ان کے وجود سے بہت سے معجزات ظاہر فرمادیئے ۔ نیزانھیں اس لغزش سے آگاہ فرمادیا اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی شان یہی ہوتی ہے کہ انھیں معمولی لغزش پر بھی متنبہ کردیا جاتا ہے یہی ان کی عصمت کا تقاضا ہے اور یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے۔ یہ مفہوم جو عرض کیا گیا اکثرتفاسیر کا خلاصہ ہے روح المعانی زمحشری مظہری قرطبی بجرمحیط طبری اور ابن کثیروغیرہم سب نے الفاظ کے اختلاف سے واقعہ کی اصل اسی قدر بیان فرمائی ہے بخلاف مولانا مودودی صاحب کی تفہیم القرآن کے جس میں انھوں نے دوسری جلد کے صفحہ ٣١٢ پر لکھا ہے کہ صحیفہ یونس کی تفصیلات پر غور کرنے سے اتنی بات صاف معلوم ہوجاتی ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) سے فریضہ رسالت ادا کرنے میں کچھ کوتاہیاں ہوگئی تھیں ۔ اھ۔ “ انھوں نے یہ بات چندسطورآگے تک لکھی ہے مگر یہ محض ان کی ذاتی رائے ہے جو اجماعی عقیدے کے خلاف اور صریح کفر ہے کہ نبی کے بارے یہ ایمان رکھاجائے کہ اس نے ادائے رسالت میں کوتاہی کی تو پھر عصمت کس بات کی اور نبوت کا کیا مقام ، العیاذابا للہ۔ حق یہ ہے کہ انھوں نے سب مفروضے تراشے ہیں اول تو صحیفہ یونس کا اعتبارہی نہیں دوسرے عذاب کا ٹل جاناخلاف دستور فرض کرلیا حالانکہ یہ عین دستورالٰہی کے مطابق تھا ۔ پھر یہ فرض کرلیا کہ نبی نے اللہ کا قانون توڑا تھا اور فریضہ دعوت کو چھوڑ کر بھاگ گئے تو یہ سب غلط اور ناجائز ہے اور ایسا ایمان رکھنا قطعی کفر ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ اس پر علماء نے گرفت نہ کی ہو اور یہ فتوی نہ دیا ہو۔ بلکہ یہاں تو بطورمثال یہ واقعہ بھی نقل فرمادیا کہ کہ توبہ کی قبولیت کب تک ہوتی ہے اور کب توبہ قبول نہیں ہوتی ۔ جیسے فرعون نے بھی توبہ کی اور قوم یونس نے بھی نیزان کا واپس نہ جانا اپنی رائے کے غلبہ سے تھا جو شان نبوت کے شایان نہ تھا نیزان کا گمان تھا کہ اس پر گرفت نہ ہوگی مگر اللہ نے اس پر تنبیہہ فرمادی مچھلی کر پیٹ میں رہناپڑایہ بھی اگرچہ ان کے لئے تنبیہہ تھی مگر لوگوں پر ان کی عظمت کے اظہارکاسبب تھی تحقیق کرنے والوں کو مقام نبوت کا پاس ضروری ہے شایدیہ بات کہ دین بیان کرنے میں انھوں نے کوتاہی کی خودمولانامودودی صاحب کے بارے کہی جائے تو نہ انھیں گوارہونہ ان کے متبعین کو۔ تو پھر ایک نبی کیلئے یہ الفاظ وہ کس جرأت سے کہتے ہیں ۔ اللہ کریم اس فتنے سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے ۔ اگر آپ کے پروردگار چاہتے توروئے زمین پر کوئی کافرنہ رہتا اور سب لوگ ایمان لے آتے مگر انھیں یہ زبردستی پسند نہیں لہٰذایہ کام انسان کی اپنی صوابدیدپر چھوڑدیا کہ چاہے تو ایمان لائے یا پھر نہ لاکر بھی دیکھ لے۔ لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی شدید خواہش و تمنا کے باوجود لوگوں کو زبردستی نور ایمان نہیں دے سکتے اور کوئی بھی انسان اللہ کے مقررکردہ اصول کے خلاف ایمان قبول نہیں کرسکتا کہ وہ اس کی آیات دیکھ کر اپنے دل کی گہرائی سے یہ فیصلہ کرے تو ایمان نصیب ہوگا ورنہ نہیں بلکہ قانون قدرت یہ ہے کہ جو لوگ اس بارہ میں سوچنا ہی گوارا نہیں کرتے اور عقل کو کام میں نہیں لاتے ان کے حصہ میں کفر کی غلاظت ہی آتی ہے ۔ آپ ان سے فرمادیجئے کہ ذرا ارض وسما میں غورکریں ایک ایک ذرہ ایک ایک پتہ آسمان کا ایک ایک ستارہ گردش لیل ونہار نظام کائنات کیا یہ اس کی عظمت کے کم گواہ ہیں ؟ لیکن بدنصیبوں کے گناہ اسقدربڑھ چکے کہ انھیں ایمان لانے کی استعدادہی سے محروم کرگئے انھیں نہ یہ دلائل فاعدہ دے سکتے ہیں اور نہ نزول عذاب یا اخرت کے عذاب کی دھکیاں ۔ اب تو ان کا یہ عملا حال ہے کہ پہلے تباہ ہونے والی اقوام کی طرح یہ بھی اپنے انجام کے منتظر ہیں ۔ آپ فرمادیجئے کہ میں بھی فیصلے کی گھڑی کا منتظر ہوں اس لئے کہ وقت آنے پر ہم ہمیشہ اپنے رسولوں کو اور ان کا اتباع کرنے والوں کو بچالیا کرتے ہیں ۔ یہی ہماری شان کے مناسب ہے کہ ہم اپنے چاہنے والوں کو ہمیشہ محفوظ رکھیں ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 93 بوانا (ہم نے ٹھکانا دیا) مبوا صدق (بہترین ٹھکانا) الطبیت (پاکیزہ چیزیں) اختلفوا (انہوں نے اختلاف کیا) العلم (علم (توریت) یقضی (وہ فیصلہ کرے گا) یختلفون (وہ اختلاف کرتے ہیں) تشریح :- آیت نمبر 93 آپ نے گزشتہ آیات میں ملاحظہ کرلیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے فرعون اور اس کے عظیم الشان لشکر کو غرق کر کے بنی اسرائیل کو نہ صرف فرعون کے ظلم و ستم اور اس کی غلامی سے نجات عطا فرما دی تھی بلکہ مکمل عافیت اور سلامتی کے ساتھ تمام بنی اسرائیل کو سمندر کے دوسرے کنارے پر پہنچا دیا تھا اور پھر اس صحرا میں اللہ نے نہ صرف اعلیٰ ترین غذاؤں اور کھانے پینے کا انتظام فرما دیا تھا بلکہ ان کی روحانی تسکین وتعلیم کیلئے توریت جیسی کتاب عطا فرما دی تھی۔ اس طرح دنیا و دنیا کی تمام نعمتوں سے ان کو نواز دیا گیا تھا مگر انہوں نے نافرمانی کے طریقے اختیار کر کے دین و دنیا کی ذلتوں کے طوق اپنے گلے میں ڈال لئے تھے۔ 1) اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرما دی تھی۔ 2) ان کو بہترین ٹھکانا عطا فرمایا اور ملک شام اور مصر جیسے صاف ستھرے سرسبز و شاداب علاقوں کا وارث بنا دیا۔ 3) من وسلویٰ جیسا رزق حلال عطا فرمایا۔ 4) صحرا میں سب سے بڑی نعمت پانی ہوتا ہے۔ اللہ نے ایک پتھر سے بارہ چشمے جاری کر کے ہر قبیلے کو پانی کی سہولتیں عطا فرما دیں۔ 5) سب سے بڑھ کر روحانی اور اخلاقی تسکین و تکمیل کے لئے توریت جیسی کتاب عطا کی گئی جس میں ان کے لئے پوری طرح اس بات کی وضاحت کردی گئی تھی کہ زندگی گذارنے کا طریقہ کیا ہے ؟ آخرت اور اس کے تقاضے کیا ہیں ؟ کس طرح اپنی اور دوسروں کی اصلاح ممکن ہے ؟ ثواب کیا ہے گناہ کیا ہے ؟ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے ؟ 6) اور کونسی نعمت تھی جو ان کو عطا نہیں کی گئی تھی مگر انہوں نے اللہ و رسول کی فرماں برداری کے بجائے نافرمانیاں شروع کردیں۔ اتحاد و اتفاق کے بجائے انتشار پیدا کر کے کئی فرقے بنا ڈالے اور حق و صداقت کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے باطل اور باطل پرستوں کے طریقے اختیار کرنے شروع کردیئے۔ جب ان کو عمالقہ سے جہاد کرنے کیلئے کہا گیا تو انہوں نے نہ صرف صاف انکار کردیا بلکہ یہاں تک گستاخی کر ڈالی کہ اے موسیٰ ! تم اور تمہارا رب کفار سے جنگ کرلیں ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ہم فتح کے منتظر بیٹھے ہی فتح ہوجائے ہمیں اطلاع کردینا ہم قبضہ کرلیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی گستاخی کی یہ سزا دی کہ اس صحرا میں ان کو چالیس سال تک اس طرح بھٹکا دیا کہ وہ ہر روز راستہ تلاش کرتے تھے مگر صبح سے شام تک راستہ تلاش کرنے کی جدوجہد کے باوجود اگلے دن صبح کو دیکھتے کہ وہ وہیں پر ہیں جہاں سے چلے تھے۔ اس طرح ان سے راستہ گم کردیا گا تھا۔ وہ چالیس سال تک صحراؤں میں بھٹکتے رہے۔ اتنے طویل عرصہ میں بالآخر یہ قوم حضرت ہارون اور پھر حضرت موسیٰ سے بھی محروم کردی گئی ۔ حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے انتقال کے بعد حضرت یوشع بن نون کے سمجھانے سے یہ قوم کچھ آگے بڑھی اور اس نے ارض فلسطین پر قبضہ کرلیا۔ مگر قوم بنی اسرائیل میں ہر خاندان نے اپنی اپنی حکومت قائم کرلی اور نہ صرف چھوٹے چھوٹے علاقوں میں بٹ گئے بلکہ توریت کا علم آجانے کے باوجود انہوں نے اتنے فرقے بنا لئے اور بحث و مباحثے کے ایسے دروازے کھول دیئے جس نے ان کو کسی قابل نہ رکھا۔ کفار اور مشرکین نے ان کے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر آہستہ آہستہ اہل ایمان کو کفر کے راستے پر ڈال دیا اور ملک کے ہر حصے پر قبضہ کرتے چلے گئے۔ بخت نصر کے زمانہ میں تو انتہا یہ تھی کہ ایک دفع پھر قوم بنی اسرائیل اس کا فر حکومت کی یرغمال اور غلام بنا لی گئی تھی۔ کائنات کی یہ سب سے بڑی سچائی ہے کہ جو قوم اللہ کا دین چھوڑ کر عمل کرنے کے بجائے بحث و مباحثہ میں لگ جاتی ہے اور اتحاد کے بجائے انتظار کا راستہ اختیار کرتی ہے وہ قوم نہ صرف برباد ہوجاتی ہے بلکہ ان کے ہاتھوں سے ان کے گھر برباد اور تباہ ہوجاتے ہیں۔ ان میں اتنے فرقے بن جاتے ہیں کہ سوائے بحث و مباحثہ کے عمل کی کوئی روشنی نظر نہیں آتی۔ بنی اسرائیل کے زوال کی اس سے بڑی نشانی اور کیا ہوگی کہ جب ان ہی بنی اسرائیل میں سے بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ تشریف لائے اور انہوں نے اعلان نبوت فرمایا تو نہ صرف ان بنی اسرائیل یعنی یہودیوں نے ان کا انکار کیا بلکہ بغاوت کا الزام لگا کر ان کو پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے حضرت عیسیٰ کو ان سے نجات عطا فرمائی اور ان کو آسمانوں پر اٹھا لیا جہاں وہ آج بھی زندہ ہیں۔ احادیث کی روشنی میں یہ بالکل واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ قیامت کے قریب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے۔ دجال کو قتل کریں گے ، صلیب کو توڑیں گے اور ایک وقت تک کے لئے اسلامی حکومت کو قائم فرما کر ان تمام اختلافات کو دور فرما دیں گے جو محض اس گمان پر قائم کردیئے گئے تھے کہ حضرت عیسیٰ کو پھانسی دیدی گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ کے بعد یہ سارے اختلافات دور ہوجائیں گے اور دین میں جو انہوں نے فرقے بنا ڈالے تھے اور سچائی اور گمراہی کے جو جھوٹے معیار انہوں نے قائم کرلئے تھے ان کا فیصلہ قیامت کے دن کردیا جائے گا۔ ان آیات میں اس طرح اشارہ ملتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں بنی اسرائیل جو نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت پر سر بستہ نظر آتے ہیں وہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ہر نبی کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ کیا تھا۔ وہ اگر آج ایمان کے مقابلے میں کفر کی حمایت کر رے ہیں تو یہ ان کے قومی مزاج کی بات ہے۔ اللہ نے اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ جس طرح انبیاء کرام کی مخالفت کی وجہ سے ان پر طرح طرح کے عذاب آئے اگر انہوں نے اللہ کے ان آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کی اور اطاعت قبول نہ کی تو قیامت تک ان کو راہ نجات حاصل نہ ہو سکے گی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ مبوا صدق کی تفسیر مصر وشام کے ساتھ درمنثور میں منقول ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل کے مرتبہ و مقام کا بیان۔ فرعون اور اس کے لشکر و سپاہ کو غرقاب کرنے کے بعد بنی اسرائیل کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے انہیں مقام صدق اور حلال و طیب رزق کی فراوانی سے ہم کنار کیا۔ لفظ صدق یہاں بڑے وسیع تر معانی میں استعمال ہوا ہے۔ صدق سے مراد وہ مرتبہ اور مقام ہے جو آل فرعون کی بربادی کے بعد بنی اسرائیل کو حاصل ہوا۔ دنیا میں بنی اسرائیل کی سچائی اور ان کی بزرگی کی دھوم مچ گئی۔ اقتدار کے اعتبار سے انہیں شام، مصر فلسطین اور اس پورے علاقے پر حکمرانی کا موقع ملا جس پر آل فرعون کا پھر یرا بلند ہوا کرتا تھا۔ کھانے پینے کے حوالے سے انہیں ہر پاک اور طیب نعمت سے نوازا گیا۔ انہی کے بارے میں قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل کو تورات، حکومت، نبوت، رزق طیب اور اس زمانے کی پوری دنیا پر فضیلت عطا کی گئی۔ (الجاثیہ : ١٦) چاہیے تو یہ تھا کہ یہ قوم اللہ تعالیٰ کی شکر گزار اور اس کے دین پر ثابت قدم رہتی لیکن کچھ ہی عرصہ کے بعد انہوں نے پے درپے انبیاء (علیہ السلام) کی گستاخیاں کیں اور اللہ تعالیٰ کی بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔ بنی اسرائیل کی ناشکری اور متلون مزاجی کا حال یہ تھا کہ جونہی فرعون غرق ہوا اور یہ دریا عبور کرکے آگے چلے تو انہوں نے راستہ میں ایسے لوگ دیکھے کہ جو بتوں کے سامنے سجدہ کرتے اور اعتکاف کی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ناشکری قوم سب کچھ بھول کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہمارے لیے بھی اس قسم کے الٰہ بنادیں جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے ناراضگی کے عالم میں فرمایا کہ تم تو جاہل قوم ہو۔ کیا میں اللہ کو چھوڑ کر تمہیں ان کی عبادت کی اجازت دوں حالانکہ اس نے پوری دنیا میں تمہارے وقار کو بلند کیا ہے۔ (الاعراف ١٣٨۔ ١٤٠) (وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِیْہِ وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ وَإِنَّہُمْ لَفِیْ شَکٍّ مِنْہُ مُرِیْبٍ )[ ھود : ١١٠] ” ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جس میں اختلاف کیا گیا اگر آپ کے رب کا حکم پہلے سے طے شدہ نہ ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا اور وہ اس کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ “ اختلاف فی نفسہ بری بات ہے لیکن قرآن و سنت کا علم آجانے کے بعد مذہبی تعصب، ذاتی مفاد اور اپنی انا کی خاطر حقائق ٹھکرائے رکھنا، پرلے درجے کی گمراہی ہے ایسے لوگ بہت کم ہدایت پایا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے روز ان کا فیصلہ کرے گا۔ یہاں اختلاف سے پہلی مراد گمراہی اور العلم سے مراد قرآن و سنت کا علم ہے۔ (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ وَسَمِعْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ےَقْرَأُخِلَافَھَا فَجِءْتُ بِہِ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَاَخْبَرْتُہُ فَعَرَفْتُ فِیْ وَجْھِہِ الْکَرَاھِےَۃَ فَقَالَ کِلَاکُمَامُحْسِنٌ فَلَا تَخْتَلِفُوْا فَاِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمُ اخْتَلَفُوْا فَہَلَکُوْا)[ رواہ البخاری : کتاب الخصومات، باب مایذکر فی الاشخاص والخصومۃ بین المسلم والیھود ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں۔ میں نے ایک آدمی کو تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ جبکہ میں نے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی تلاوت کے برعکس تلاوت کرتے سنا تھا۔ میں اسے لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے آپ سے پوری بات عرض کی تو میں نے آپ کے چہرے پر ناراضگی کے اثرات دیکھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم دونوں کی تلاوت درست ہے۔ اس طرح اختلافات نہ کیا کرو۔ تم سے پہلے لوگ اس اختلاف کی وجہ سے برباد ہوئے تھے۔ “ (عَنْ اَنَسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ (رض) اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَنِیْ اَنْ اَقْرَاَ عَلَےْکَ الْقُرْاٰنَ قَالَ اٰللّٰہُ سَمَّانِیْ لَکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَقَدْ ذُکِرْتُ عِنْدَرَبِّ الْعٰلَمِےْنَ قَالَ نَعَمْ فَذَرَفَتْ عَےْنَاہُ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَنِیْ اَنْ اَقْرَأَ عَلَےْکَ لَمْ ےَکُنِ الَّذِےْنَ کَفَرُوْا قَالَ وَسَمَّانِیْ قَالَ نَعَمْ فَبَکٰی)[ رواہ البخا ری : باب مناقب ابی بن کعب ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابی بن کعب (رض) سے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں قرآن مجید کی تلاوت تجھ سے سنوں ابی (رض) نے عرض کیا کہ اللہ نے آپ کو میرا نام لے کر فرمایا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاں میں جواب دیا۔ حضرت ابی (رض) نے پھر حیران ہو کر پوچھا کیا رب العالمین کے ہاں میرا ذکر ہوا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بالکل ذکر ہوا ہے۔ اس خوشی سے حضرت ابی (رض) کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور ایک روایت میں ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ” لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ کی تلاوت تجھ سے سنو۔ انہوں نے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں تیرا نام لیا ہے۔ یہ سن کر حضرت ابی بن کعب (رض) خوشی سے روپڑے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اعلیٰ مقام عنایت فرمایا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرمانبرداروں کو بہترین ٹھکانہ عطا فرماتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو پاک رزق عطا فرماتا ہے۔ ٤۔ کچھ لوگ حقیقت جاننے کے باوجود حقائق کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ اختلاف کرنے والوں میں فیصلہ فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات : ١۔ ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا اور انہیں عمدہ چیزوں کا رزق عطا کیا۔ (یونس : ٩٣) ٢۔ اے بنی اسرائیل میرے انعام یاد کرو جو میں نے تم پر کیے۔ (البقرۃ : ٤٠) ٣۔ اے بنی اسرائیل میری نعمتوں کو یاد کرو جو تم پر انعام کیں اور میں نے تمہیں ساری دنیا پر فضیلت دی۔ (البقرۃ : ٤٧) ٤۔ بنی اسرائیل کے لیے سمندر کو پھاڑا گیا۔ (البقرۃ : ٥٠) ٥۔ اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے بارہ چشمے جاری فرمائے۔ (الاعراف : ١٦٠) ٦۔ ہم نے بنی اسرائیل کوا ذیت ناک عذاب سے نجات دی۔ (الدخان : ٣٠) ٧۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو نبوت، کتاب، حکومت، رزق اور دنیا بھر میں عزت دی۔ (الجاثیہ : ١٦) ٨۔ تمام کھانے بنی اسرائیل کے لیے حلال تھے مگر جو انہوں نے اپنے اوپر حرام کرلیے۔ (آل عمران : ٩٣) ٩۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے صبر کی وجہ سے کامل بھلائیاں دیں۔ (الاعراف : ١٣٧) ١٠۔ ہم نے بنی اسرئیل پر بادلوں کا سایہ کیا اور ان کے لیے آسمان سے من وسلویٰ نازل کیا۔ (البقرۃ : ٥٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولقد بوانا بنی اسراء یل مبوا صدق اور ہم نے بنی اسرائیل کو سچائی کی جگہ رہنے کو دی (یعنی اچھے مقام میں ٹھہرنے اور رہنے کا ٹھکانا عطا کیا) مُبَوَّاَ صِدْقٍسے مراد ہے اچھی جگہ ‘ یعنی مصر یا اردن اور فلسطین۔ یہ وہی پاک سرزمین تھی جس کا حضرت ابراہیم اور آپ کی نسل کو عطا کرنا اللہ نے لکھ دیا تھا۔ ضحاک کے نزدیک مصر اور شام مراد ہیں۔ ورزقنھم من الطیبٰت اور ہم نے ان کو لذیذ چیزیں عطا کیں۔ فما اختلفوا پس بنی اسرائیل نے اختلاف نہیں کیا۔ یعنی رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کے زمانہ میں جو بنی اسرائیل تھے ‘ انہوں نے رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی بعثت سے پہلے نبی آخر الزماں کے مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کیا تھا۔ سب متفق تھے کہ جن صفات کا تذکرہ توریت میں ہے ‘ ان کا حامل اللہ کا رسول برحق ہوگا۔ لوگوں کو وہ بشارت بھی دیتے تھے کہ اللہ کے رسول برحق کی بعثت کا زمانہ قریب آگیا ہے۔ وہ لڑائی میں کافروں پر فتحیاب ہونے کی دعا بھی نبی آخر الزماں کے طفیل سے مانگتے تھے۔ حتی جاء ھم العلم یہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا۔ یعنی وہ شخص آگیا جس کی صفات کو وہ جانتے تھے۔ اس سے مراد ہے رسول اللہ ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی شخصیت مبارکہ۔ اس جگہ علم بمعنی معلوم ہے ‘ جیسے خلق بمعنی مخلوق۔ اللہ نے فرمایا ہے : ھٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ یہ اللہ کی مخلوق ہے۔ یا یہ معنی ہے کہ جب بنی اسرائیل کو علم ہوگیا کہ محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) انہی صفات کے حامل ہیں جن کا ذکر توریت میں آیا ہے اور آپ کے معجزات سے بھی ان کو واقفیت ہوگئی تو اس وقت آپس میں دو فریق بن گئے۔ کچھ ایمان لے ائے اور دوسرے فریق نے محض عناد و حسد کی وجہ سے نبوت کو ماننے سے انکار کردیا۔ ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون۔ جس مسئلہ میں یہ اختلاف کرتے ہیں قیامت کے دن اللہ اس کا فیصلہ کر دے گا اور ان کے باہمی اختلاف کو چکا دے گا۔ اہل حق کو اہل باطل سے الگ کر دے گا۔ اوّل کو عذاب سے محفوظ رکھے گا اور دوسرے کو ہلاک کر دے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانہ اور پاکیزہ رزق ملنا فرعون اور اس کے لشکر تو ڈبودئیے گئے اور بنی اسرائیل سمندر پار کر کے اپنے علاقہ فلسطین کے لئے روانہ ہوگئے۔ اپنی شرارتوں کی وجہ سے چالیس سال میدان تیہ میں گھومتے رہے اس کے بعد انہیں اپنے وطن میں ٹھکانہ مل گیا اور یہ لوگ وہاں صاحب اقتدار ہوگئے۔ ٹھکانہ بھی اچھا ملا اور کھانے پینے کیلئے پاکیزہ چیزیں نصیب ہوئیں۔ اللہ کی ان عظیم نعمتوں پر انہیں زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں مشغول رہنا چاہئے تھا۔ لیکن انہوں نے دین میں اختلاف شروع کردیا اور جہل کی وجہ سے نہیں بلکہ علم پہنچنے کے بعد آپس میں اختلاف کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ) بلاشبہ آپ کا رب قیامت کے دن ان امور میں فیصلہ فرما دے گا جن میں اختلاف کیا کرتے تھے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ اس سے وہ یہودی مراد ہیں جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تھے پہلے یہ لوگ آپ کی تشریف آوری کے انتظار میں تھے۔ جب آپ تشریف لے آئے اور قرآن مجید کو سن لیا اور آپ کے بارے میں جان لیا کہ آپ ہی اللہ کے آخری نبی ہیں ہم جن کے انتظار میں تھے تو اختلاف کر بیٹھے۔ اکثر نے تو تکذیب کی اور معدودے چند ہی مسلمان ہوئے ‘ اللہ تعالیٰ شانہ قیامت کے دن فیصلہ فرما دے گا۔ مکذبین آتش دوزخ میں داخل ہوں گے اور اہل ایمان نجات پائیں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

105: بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر و استقامت کی بدولت بہت بڑے بڑے انعامات فرمائے ان کو فرعون کی غلامی سے نجات دی اور ملک شام اور مصر ان کے قبضہ میں دیدئیے اور ہر قسم کی فراخی عیش سے ان کو متمتع کیا مگر انہوں نے انعاماتِ الٰہی کی قدر نہ کی، ان کا شکر ادا نہ کیا اور جس دین توحید کی خاطر انہیں یہ سب کچھ ملا تھا اس کی حفاظت نہ کی بلکہ اسے بدل ڈالا۔ “ فَمَا اخْتَلَفُوْا الخ ” اس کے ساتھ “ بَغْیًا ” کی قید ملحوظ ہوگی بقرینہ “ وَمَاتَفَرَّقُوْا اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا بَیْنَھُمْ ” (شوری رکوع 2) ۔ یعنی انہوں نے دلائل وبراہین سے مسئلہ توحید واضح ہوجانے کے بعد محض ضد وعناد اور بغاوت وکجروی سے اس میں اختلاف کیا۔ مزید تفصیل پہلے گذر چکی ہے ملاحظہ تفسیر سورة بقرہ ص 102 حاشیہ نمبر 407.“ فَاِنْ کُنْتَ الخ ” یہ زجر ہے۔ خطاب بظاہر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لیکن مراد غیر رسول ہے کیونکہ آپ کو تو شک تھا ہی نہیں۔ امام ثعلب اور امام مبرد فرماتے ہیں۔ “ فَاِنْ کُنْتُ فِیْ شَکٍّ ” کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہر کافر سے فرما دیں اگر تجھے کوئی شک ہے الخ۔ “ الخطاب للنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والمراد غیرہ اي لست فی شک ولکن غیرک شک قال ابو عمر محمد بن عبد الواحد الزاھد سمعت الامامین ثعلباً والمبرد یقولان معنی (فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ ) اي قل یا محمد للکافر فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِّمَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ ” (قرطبی ج 8 ص 382) ۔ قرآن مجید میں مسئلہ توحید و ایسے دلائل و بینات سے بیان کیا گیا ہے کہ اب اس میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی لیکن جو شخص قرآن کے ان دلائل وبراہین کے بعد اور اہل کتاب کے علماء ربانیین کے ایمان لے آنے کے بعد بھی اس میں شک کرے اور اسے نہ مانے تو اس کا انکار انصاف اور عقل پر مبنی نہیں ہوگا بلکہ محض ضد وعناد کی وجہ سے ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

93 اور بلاشبہ ہم نے فرعون کو فرعون کے بعد بنی اسرائیل کو پسندیدہ اور اچھی جگہ رہنے کو ٹھکانہ دیا اور انہیں ہم نے نفیس اور عمدہ چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں پھر انہوں نے دین میں اختلاف کرنا شروع کردیا اور یہ اختلاف بھی اس وقت شروع کیا جب ان کے پاس صحیح علم پہونچ گیا یقینا آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان ان امور کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے یعنی ٹھکانا دیا ملک مصر میں ملک شام میں یا دونوں میں ۔ اختلاف یا تو انبیاء کے احکام میں کیا یا خود انبیاء کے تسلیم کرنے میں کیا کہ بعض پر ایمان لائے اور بعض پر نہیں۔ جیسا کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے سے انکار کردیا احکام کا صحیح علم آجانے کے بعد اختلاف کرنا بہت ہی قابل افسوس ہے۔ صحیح علم سے مراد توریت ہے بعض حضرات کے نزدیک اس سے مراد قرآن کریم ہے اور بعض نے اس علم سے نبی آخر الزمان حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس مراد لی ہے۔ واللہ اعلم حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ملک شام دیا کہ کوئی مخالف ان کا نہ رہا 12