Surat ut Takasur
Surah: 102
Verse: 7
سورة التكاثر
ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَیۡنَ الۡیَقِیۡنِ ۙ﴿۷﴾
Then you will surely see it with the eye of certainty.
اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے ۔
ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَیۡنَ الۡیَقِیۡنِ ۙ﴿۷﴾
Then you will surely see it with the eye of certainty.
اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے ۔
Verily, you shall see the blazing Fire! And again you shall see it with certainty of sight!) This is the explanation of the previous threat which was in Allah's saying, كَلَّ سَوْفَ تَعْلَمُونَ ثُمَّ كَلَّ سَوْفَ تَعْلَمُونَ Nay! you shall come to know! Again nay! you shall come to know! Thus, Allah threatens them with this situation, which is what the people of the Fire will see. It is a Fire, which if it exhaled one breath, every angel who is near (to Allah) and every Prophet who was sent would all fall down on their knees due to fear, awe and the sight of its horrors. This is based upon what has been reported in the narrations concerning it. Allah then says, ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَيِذٍ عَنِ النَّعِيمِ
7۔ 1 پہلا دیکھنا دور سے ہوگا یہ دیکھنا قریب سے ہوگا، اسی لیے اسے عین الیقین (جس کا یقین مشاہدہ عین سے حاصل ہو) کہا گیا۔
[٥] دوزخ کے آثار تو تم مرنے کے فوراً بعد دیکھ لو گے۔ پھر جب قیامت کے دن تم میدان محشر میں اکٹھے کیے جاؤ گے تو پھر اسے اپنی آنکھوں سے یوں دیکھ لو گے کہ تمہیں اس کے یقینی ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہ جائے گا۔
Verse [ 102:8] ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ (Then you will be asked about all the pleasures [ you enjoyed in the world ].) This means that, on the Day of Judgment, all of you will be questioned whether you had shown gratitude towards Allah&s favors, or did you misuse them and were ungrateful to Allah? Some of these favors and bounties are explicitly mentioned elsewhere in the Qur&an: إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (...Surely, the ear, the eye and the heart - each one of them shall be interrogated about.) [ 17:36] These organs and their faculties comprehend millions of blessings of Allah, and man will be questioned as to how he used them every moment of his life. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said that first question that will be put by Allah to every person is: |"Did I not give you good health, and did I not give you cold water to quench your thirst?|" (Tirmidhi, and Ibn Hibban, with rating as sahib, from Abu Hurairah, as quoted by Ibn Kathir) The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is also reported to have said that no man will be able to move from his place unless he answers five questions: [ 1] How did he spend his life? [ 2] In what pursuits did he expend his youthful energy? [ 3] How did he earn his wealth - (by lawful means or unlawful means?) [ 4] Where did he spend his wealth - (in lawful ways or unlawful ways?) and [ 5] Did he act upon the knowledge Allah gave him? (Bukhari). Mujahid (رح) ، the leading authority on Tafsir, says that this question on the Day of Judgment relates to every delight of the world that he enjoyed - whether it is in connection with food, clothes, house, wife, children, kingdom, government or honor. Qurtubi, having cited this, concludes that this is absolutely true, because the question does not specify any particular blessing. Al-hamdulillah The Commentary on Surah At-Takathur Ends here
ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم یعنی تم سب سے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے متعلق باز پرس ہوگی کہ تم نے ان کا شکر کیا ادا کیا اور ان کو گناہوں میں تو خچ نہیں کیا، ان میں سے بعض نعمتوں کے متعلق تو خود قرآن میں دوسری جگہ وضاحت آگئی جیسا فرمایا ان السمع والبصر و الفوادکل اولیک کان عنہ مسؤ لا جس میں انسان کی قوت شنوائی، بینائی اور دل سے متعلق وہ لاکھوں نعمتیں آگئیں جن کو انسان ہر لمحہ استعمال کرتا ہے۔ حدیث :۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے روز بندہ سے جس چیز کا سب سے پہلے سوال ہوگا (وہ تندرستی ہے) اس کو کہا جائے گا کہ کیا ہم نے تمہیں تندرستی نہیں دی تھی اور کیا ہم نے تمہیں ٹھنڈا پانی نہیں پلایا تھا (الترمذی عن ابی ہریرہ و ابن حبان فی صحیحہ۔ ابن کثیر) حدیث :۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ محشر میں کوئی آدمی اپنی جگہ سے سرک نہ سکے گا جب تک پانچ سوالوں کا جواب اس سے نہ لیا جائے۔ ایک یہ کہ اس نے اپنی عمر کو کن کاموں میں فنا کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس نے اپنے شباب کی قوت کو کن کاموں میں خرچ کیا ہے۔ تیسرے یہ کہ جو مال اس نے حاصل کیا وہ کس کس طریقے جائز یا ناجائز سے حاصل کیا۔ چوتھے یہ کہ اس مال کو کہاں کہاں خرچ کیا، پانچویں یہ کہ جو علم اللہ نے اس کو دیا تھا اس پر کتنا عمل کیا۔ (رواہ البخاری) اور امام تفسیر مجاہد نے فرمایا کہ قیامت میں یہ سوال دنیا کی ہر لذت کے متعلق ہوگا (قرطبی) خوا ہ اس کا تعلق کھانے پینے سے ہو لیالباس اور مکان سے یا بیوی اور اولاد سے یا حکومت و عزت سے۔ قرطبی نے اس کو نقل کر کے فرمایا کہ یہ بالکل درست ہے اس سوال میں کسی خاص نعمت کی تخصیص نہیں ہے۔ سورة تکاثر کی خاص فضیلت :۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے خطاب کر کے فرمایا کہ کیا تم میں کوئی آدمی اس کی قدرت نہیں رکھتا کہ ہر روز قرآن کی ایک ہزار آیتیں پڑھا کرے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ روزانہ ایک ہزار آیتیں کون پڑھ سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں کوئی الہاکم التکاثر نہیں پڑھ سکتا، مطلب یہ ہے کہ الہاکم التکاثر روزانہ پڑھنا ایک ہزار آیتوں کے پڑھنے کی برابر ہے۔ (مظہری بحوالہ حاکم و بیہقی عن ابن عمر)
ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَيْنَ الْيَقِيْنِ ٧ ۙ عين ويقال لذي العَيْنِ : عَيْنٌ وللمراعي للشیء عَيْنٌ ، وفلان بِعَيْنِي، أي : أحفظه وأراعيه، کقولک : هو بمرأى منّي ومسمع، قال : فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] ، وقال : تَجْرِي بِأَعْيُنِنا[ القمر/ 14] ، وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنا[هود/ 37] ، أي : بحیث نریونحفظ . وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] ، أي : بکلاء تي وحفظي . ومنه : عَيْنُ اللہ عليك أي : كنت في حفظ اللہ ورعایته، وقیل : جعل ذلک حفظته وجنوده الذین يحفظونه، وجمعه : أَعْيُنٌ وعُيُونٌ. قال تعالی: وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] . ويستعار الْعَيْنُ لمعان هي موجودة في الجارحة بنظرات مختلفة، واستعیر للثّقب في المزادة تشبيها بها في الهيئة، وفي سيلان الماء منها فاشتقّ منها : سقاء عَيِّنٌ ومُتَعَيِّنٌ: إذا سال منها الماء، وقولهم : عَيِّنْ قربتک «1» ، أي : صبّ فيها ما ينسدّ بسیلانه آثار خرزه، وقیل للمتجسّس : عَيْنٌ تشبيها بها في نظرها، وذلک کما تسمّى المرأة فرجا، والمرکوب ظهرا، فيقال : فلان يملك كذا فرجا وکذا ظهرا لمّا کان المقصود منهما العضوین، وقیل للذّهب : عَيْنٌ تشبيها بها في كونها أفضل الجواهر، كما أنّ هذه الجارحة أفضل الجوارح ومنه قيل : أَعْيَانُ القوم لأفاضلهم، وأَعْيَانُ الإخوة : لنبي أب وأمّ ، قال بعضهم : الْعَيْنُ إذا استعمل في معنی ذات الشیء فيقال : كلّ ماله عَيْنٌ ، فکاستعمال الرّقبة في المماليك، وتسمية النّساء بالفرج من حيث إنه هو المقصود منهنّ ، ويقال لمنبع الماء : عَيْنٌ تشبيها بها لما فيها من الماء، ومن عَيْنِ الماء اشتقّ : ماء مَعِينٌ. أي : ظاهر للعیون، وعَيِّنٌ أي : سائل . قال تعالی: عَيْناً فِيها تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] ، وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] ، فِيهِما عَيْنانِ تَجْرِيانِ [ الرحمن/ 50] ، يْنانِ نَضَّاخَتانِ [ الرحمن/ 66] ، وَأَسَلْنا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ [ سبأ/ 12] ، فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الحجر/ 45] ، مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الشعراء/ 57] ، وجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ [ الدخان/ 25- 26] . وعِنْتُ الرّجل : أصبت عَيْنَهُ ، نحو : رأسته وفأدته، وعِنْتُهُ : أصبته بعیني نحو سفته : أصبته بسیفي، وذلک أنه يجعل تارة من الجارحة المضروبة نحو : رأسته وفأدته، وتارة من الجارحة التي هي آلة في الضّرب فيجري مجری سفته ورمحته، وعلی نحوه في المعنيين قولهم : يديت، فإنه يقال : إذا أصبت يده، وإذا أصبته بيدك، وتقول : عِنْتُ البئر أثرت عَيْنَ مائها، قال :إِلى رَبْوَةٍ ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ [ المؤمنون/ 50] ، فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِماءٍ مَعِينٍ [ الملک/ 30] . وقیل : المیم فيه أصليّة، وإنما هو من : معنت «2» . وتستعار العَيْنُ للمیل في المیزان ويقال لبقر الوحش : أَعْيَنُ وعَيْنَاءُ لحسن عينه، وجمعها : عِينٌ ، وبها شبّه النّساء . قال تعالی: قاصِراتُ الطَّرْفِ عِينٌ [ الصافات/ 48] ، وَحُورٌ عِينٌ [ الواقعة/ 22] . ( ع ی ن ) العین اور عین کے معنی شخص اور کسی چیز کا محافظ کے بھی آتے ہیں اور فلان بعینی کے معنی ہیں ۔ فلاں میری حفاظت اور نگہبانی میں ہے جیسا کہ ھو بمر ا ئ منی ومسمع کا محاورہ ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] تم تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو ۔ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی ۔ وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پر دریش پاؤ ۔ اور اسی سے عین اللہ علیک ہے جس کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت اور نگہداشت فرمائے یا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے نگہبان فرشتے مقرر کرے جو تمہاری حفاظت کریں اور اعین وعیون دونوں عین کی جمع ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، اور نہ ان کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ ۔ رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے آ نکھ کی ٹھنڈک عطا فرما ۔ اور استعارہ کے طور پر عین کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جو مختلف اعتبارات سے آنکھ میں پائے جاتے ہیں ۔ مشکیزہ کے سوراخ کو عین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ہیئت اور اس سے پانی بہنے کے اعتبار سے آنکھ کے مشابہ ہوتا ہے ۔ پھر اس سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے ۔ سقاء عین ومعین پانی کی مشک جس سے پانی ٹپکتا ہو عین قر بتک اپنی نئی مشک میں پانی ڈالواتا کہ تر ہو کر اس میں سلائی کے سوراخ بھر جائیں ، جاسوس کو عین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ دشمن پر آنکھ لگائے رہتا ہے جس طرح کو عورت کو فرج اور سواری کو ظھر کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں سے مقصود یہی دو چیزیں ہوتی ہیں چناچنہ محاورہ ہے فلان یملک کذا فرجا وکذا ظھرا ( فلاں کے پاس اس قدر لونڈ یاں اور اتنی سواریاں ہیں ۔ (3) عین بمعنی سونا بھی آتا ہے کیونکہ جو جواہر میں افضل سمجھا جاتا ہے جیسا کہ اعضاء میں آنکھ سب سے افضل ہوتی ہے اور ماں باپ دونوں کی طرف سے حقیقی بھائیوں کو اعیان الاخوۃ کہاجاتا ہے ۔ (4) بعض نے کہا ہے کہ عین کا لفظ جب ذات شے کے معنی میں استعمال ہوجی سے کل مالہ عین تو یہ معنی مجاز ہی ہوگا جیسا کہ غلام کو رقبۃ ( گردن ) کہہ دیا جاتا ہے اور عورت کو فرج ( شرمگاہ ) کہہ دیتے ہیں کیونکہ عورت سے مقصود ہی یہی جگہ ہوتی ہے ۔ (5) پانی کے چشمہ کو بھی عین کہاجاتا ہے ۔ کیونکہ اس سے پانی ابلتا ہے جس طرح کہ آنکھ سے آنسو جاری ہوتے ہیں اور عین الماء سے ماء معین کا محاورہ لیا گیا ہے جس کے معنی جاری پانی کے میں جو صاف طور پر چلتا ہوا دکھائی دے ۔ اور عین کے معنی جاری چشمہ کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : عَيْناً فِيها تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے ۔ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] اور زمین میں چشمے جاری کردیئے ۔ فِيهِما عَيْنانِ تَجْرِيانِ [ الرحمن/ 50] ان میں دو چشمے بہ رہے ہیں ۔ يْنانِ نَضَّاخَتانِ [ الرحمن/ 66] دو چشمے ابل رہے ہیں ۔ وَأَسَلْنا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ [ سبأ/ 12] اور ان کیلئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا ۔ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الحجر/ 45] باغ اور چشموں میں ۔ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الشعراء/ 57] باغ اور چشمے اور کھیتیاں ۔ عنت الرجل کے معنی ہیں میں نے اس کی آنکھ پر مارا جیسے راستہ کے معنی ہوتے ہیں میں نے اس کے سر پر مارا فادتہ میں نے اس کے دل پر مارا نیز عنتہ کے معنی ہیں میں نے اسے نظر بد لگادی جیسے سفتہ کے معنی ہیں میں نے اسے تلوار سے مارا یہ اس لئے کہ اہل عرب کبھی تو اس عضو سے فعل مشتق کرتے ہیں جس پر مارا جاتا ہے اور کبھی اس چیز سے جو مار نے کا آلہ ہوتی ہے جیسے سفتہ ورمحتہ چناچہ یدیتہ کا لفظ ان ہر دومعنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی میں نے اسے ہاتھ سے مارا یا اس کے ہاتھ پر مارا اور عنت البئر کے معنی ہیں کنواں کھودتے کھودتے اس کے چشمہ تک پہنچ گیا قرآن پاک میں ہے :إِلى رَبْوَةٍ ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ [ المؤمنون/ 50] ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور ہوا پانی جاری تھا ۔ فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِماءٍ مَعِينٍ [ الملک/ 30] تو ( سوائے خدا کے ) کون ہے جو تمہارے لئے شیریں پال کا چشمہ بہالائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ معین میں لفظ میم حروف اصلیہ سے ہے اور یہ معنت سے مشتق ہے جسکے معنی ہیں کسی چیز کا سہولت سے چلنا یا بہنا اور پر بھی بولا جاتا ہے اور وحشی گائے کو آنکھ کی خوب صورتی کہ وجہ سے اعین دعیناء کہاجاتا ہے اس کی جمع عین سے پھر گاواں وحشی کے ساتھ تشبیہ دے کر خوبصورت عورتوں کو بھی عین کہاجاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : قاصِراتُ الطَّرْفِ عِينٌ [ الصافات/ 48] جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں ( اور ) آنکھیں بڑی بڑی ۔ وَحُورٌ عِينٌ [ الواقعة/ 22] اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ۔ يقن اليَقِينُ من صفة العلم فوق المعرفة والدّراية وأخواتها، يقال : علم يَقِينٍ ، ولا يقال : معرفة يَقِينٍ ، وهو سکون الفهم مع ثبات الحکم، وقال : عِلْمَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 5] «2» ، وعَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 7] «3» وحَقُّ الْيَقِينِ [ الواقعة/ 95] وبینها فروق مذکورة في غير هذا الکتاب، يقال : اسْتَيْقَنَ وأَيْقَنَ ، قال تعالی: إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَما نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ [ الجاثية/ 32] ، وَفِي الْأَرْضِ آياتٌ لِلْمُوقِنِينَ [ الذاریات/ 20] ، لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ [ البقرة/ 118] وقوله عزّ وجلّ : وَما قَتَلُوهُ يَقِيناً [ النساء/ 157] أي : ما قتلوه قتلا تَيَقَّنُوهُ ، بل إنما حکموا تخمینا ووهما . ( ی ق ن ) الیقین کے معنی کسی امر کو پوری طرح سمجھ لینے کے ساتھ اس کے پایہ ثبوت تک پہنچ جانے کے ہیں اسی لئے یہ صفات علم سے ہے اور معرفت اور وغیرہ سے اس کا در جہ اوپر ہے یہی وجہ ہے کہ کا محاورہ تو استعمال ہوات ہے لیکن معرفۃ الیقین نہیں بولتے اور قدر معنوی فرق پایا جاتا ہے جسے ہم اس کتاب کے بعد بیان کریں گے استیتن والقن یقین کرنا قرآن میں ہے : ۔ إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَما نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ [ الجاثية/ 32] ہم اس کو محض ظن ہی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا ۔ وَفِي الْأَرْضِ آياتٌ لِلْمُوقِنِينَ [ الذاریات/ 20] اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ [ البقرة/ 118] یقین کرنے والوں کیلئے اور آیت کریمہ : ۔ وَما قَتَلُوهُ يَقِيناً [ النساء/ 157] اور انہوں نے عیسیٰ کو یقینا نہیں کیا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ انہیں ان کے قتل ہوجانے کا یقین نہیں ہے بلکہ ظن وتخمین سے ان کے قتل ہوجانے کا حکم لگاتے ہیں ۔
(102:7) ثم لترونھا عین الیقین : ثم تراخی وقت کے لئے ہے۔ بمعنی پھر۔ لترونھا۔ لام تاکید کا ۔ ترون مضارع تاکید بانون ثقیلہ کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع جحیم ہے پھر (یعنی قبروں سے اٹھنے کے بعد ، قیامت کے روز) تم اس کو ضرور بالضرور دیکھ لوگے۔ عین الیقین مضاف مضاف الیہ۔ یقین کی آنکھ۔ یہ لترون کا مفعول مطلق ہے۔ علامہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں :۔ رؤیت اور معائنہ ہم معنی ہیں۔ (اس لئے یہاں علم سے مراد ہے مشاہدہ) عین الیقین لترون کا مفعول مطلق ہے اگرچہ دونوں کا مادہ جدا جدا ہے مگر معنی ایک ہی ہے۔ اس تقریر سے رؤیر کو اس جگہ بمعنی علم قرار دینے کا قول دفع ہوگیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنی آنکھوں سے ایسا معائنہ کرلو گے جو یقین کا موجب ہوگا۔ یہی سبب ہے کہ رؤیت اور مشاہدہ سے جو علم حاصل ہوتا ہے اس کو عین الیقین کہا جاتا ہے ۔ رؤیت چشم حصول علم کا سب سے قوی ذریعہ ہے۔ (تفسیر مظہری)
ف 11 بعض لوگ (یعنی اہل ایمان) اسے دور سے دیکھیں گے اور بعض لوگ (یعنی کفار) اسے قریب سے دیکھیں گے جبکہ وہ اس کے اندر پھینکے جائیں گے۔
1۔ یعنی وہ رویت استدلالیہ نہیں جس پر یقین کا ترتب گاہے دیر میں ہوتا ہے بلکہ رویت مشاہدہ جس پر یقین کا ترتب فوری ہے، و نیز مشاہدہ میں اکشاف بھی زیادہ ہے، استدلالیات سے بھی اور ضروریات عقلیہ سے بھی اس کے خود دیکھنے کو نفس یقین فرمایا جو کہ عین الیقین سے مراد ہے باوجودیکہ وہ سب یقین ہے۔
اور اب آخری ضرب ایسی سخت لگائی جاتی ہے کہ ایک غافل سے غافل انسان بھی بیدار ہوکر رہ جاتا ہے ، چوکنا ہوجاتا ہے اور جو منہ کے رخ سرپٹ دوڑرہا ہے وہ بھی ذرا رک کر اس طرف متوجہ کرتا ہے اور بڑے سے بڑے مالدار کا عیش بھی مکدر ہوجاتا ہے ، وہ کانپنے لگتا ہے اور اس کے دل پر ان نعمتوں کے حوالے سے خوف طاری ہوجاتا ہے۔
(7) خدا کی قسم تم لوگ اس جہنم کو ایسا دیکھنا دیکھو گے جو خود یقین ہے یعنی یقین کی آنکھ سے دیکھو گے اور عینی مشاہدہ کرو گے اور اس وقت یقین کرنے میں کسی دلیل کی ضرورت نہ ہوگی کیونکہ استدلال میں کبھی یقین کا ترتب فوری ہوتا ہے اور کبھی تاخیر سے ہوتا ہے لیکن مشاہدہ کرنے میں بغیر کسی دلیل کے یقین کا ترتب فوری ہوتا ہے نیز مشاہدے میں انکشاف بھی زیادہ ہے یہی مراد عین الیقین ہے۔ صاحب مدارک کے الفاظ یہ ہیں الرویۃ التیھی نفس الیقین یہی وجہ ہے کہ ہر منکر اس دن امنابہ کا نعرہ لگاتا ہوگاحالان کہ یہ ایمان اس وقت بیکار اور بےسود ہوگا۔