Surat ut Takasur

Surah: 102

Verse: 8

سورة التكاثر

ثُمَّ لَتُسۡئَلُنَّ یَوۡمَئِذٍ عَنِ النَّعِیۡمِ ٪﴿۸﴾  27

Then you will surely be asked that Day about pleasure.

پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then on that Day you shall be asked about the delights! meaning, `on that Day you all will be questioned concerning your gratitude towards the favors that Allah blessed you with, such as health, safety, sustenance and other things. You will be asked did you return His favors by being thankful to Him and worshipping Him.' Ibn Jarir recorded that Al-Husayn bin `Ali As-Suda'i narrated to him from Al-Walid bin Al-Qasim, who reported from Yazid bin Kaysan, who reported from Abi Hazim, who reported from Abu Hurayrah that he said, "Once while Abu Bakr and `Umar were sitting, the Prophet came to them and said, What has caused you two to sit here? They replied, `By He Who has sent you with the truth, nothing has brought us out of our houses except hunger.' The Prophet said, وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُه By He Who has sent me with the truth, nothing has brought me out other than this. So they went until they came to the house of a man from the Ansar, and the woman of the house received them. The Prophet said to her, Where is so-and-so? She replied, `He went to fetch some drinking water for us.' So the man came carrying his bucket and he said, `Welcome. Nothing has visited the servants (of Allah) better than a Prophet who has visited me today.' Then he hung his bucket near a palm tree, and climbed it and returned to them with a cluster of dates. So the Prophet said, Why didn't you pick (some of them)? The man replied, `I wanted you to choose with your own eyes.' Then he took a blade (to slaughter a sheep) and the Prophet said, Do not slaughter one that gives milk. So he slaughtered a sheep for them that day and they all ate. Then the Prophet said, لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ فَلَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَبْتُمْ هَذَا فَهَذَا مِنَ النَّعِيم You will be asked about this on the Day of Judgement. Hunger caused you to come out of your homes and you did not return until you had eaten this meal. So this is from the delights." Muslim also recorded this Hadith. It has been confirmed in Sahih Al-Bukhari and the Sunans of At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Majah from Ibn `Abbas that the Messenger of Allah said, نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغ Two favors are treated unjustly by most people: - health and - free time. This means that the people are lacking gratitude for these two favors. They do fulfill their obligations to them. Therefore, whoever does not maintain the right that is obligatory upon him, then he is unjust. Imam Ahmad recorded from Abu Hurayrah that the Prophet said, يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ قال عفان يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا ابْنَ ادَمَ حَمَلْتُكَ عَلَى الْخَيْلِ وَالاِْبِلِ وَزَوَّجْتُكَ النِّسَاءَ وَجَعَلْتُكَ تَرْبَعُ وَتَرْأَسُ فَأَيْنَ شُكْرُ ذَلِكَ Allah the Mighty and Majestic says on the Day of Judgement, "O Son of Adam! I made you ride upon the horses and camels, I gave you women to marry, and I made you reside and rule (in the earth). So where is the thanks for that" Ahmad was alone in recording this Hadith in this manner. This is the end of the Tafsir of Surah At-Takathur, and all praise and blessings are due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

8۔ 1 یہ سوال ان نعمتوں کے بارے میں ہوگا، جو اللہ نے دنیا میں عطا کی ہونگی جیسے آنکھ، کان، دل، دماغ، امن اور صحت، مال و دولت اور اولاد وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سوال صرف کافروں سے ہوگا بعض کہتے ہیں کہ ہر ایک سے ہوگا۔ بعض سوال مستلزم عذاب نہیں۔ جنہوں نے ان نعمتوں کا استعمال اللہ کے حکم کے مطابق کیا ہوگا وہ عذاب سے محفوظ ہوں گے اور جنہوں نے کفران نعمت کا ارتکاب کیا ہوگا وہ دھر لیے جائیں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] انسان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تو لاتعداد ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرمایا کہ (وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 18؀) 16 ۔ النحل :18) (١٤: ٣٤، ١٦: ١٨) یعنی تم پر اللہ کی نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اگر تم انہیں شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کرسکتے۔ تاہم ان نعمتوں کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو خداداد ہیں مثلاً جوانی اور صحت جو اکیلے ہی ہزار نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ ایسی نعمتوں کے متعلق یہ سوال ہوگا کہ ان کو تم نے کس قسم کی کوششوں میں صرف کیا تھا۔ اور دوسری وہ نعمتیں ہیں جن میں انسان کے اپنے کسب کو بھی دخل ہے۔ جیسے مال و دولت اور ہر قسم کی جائداد۔ ایسی نعمتوں کے متعلق دو طرح کے سوال ہونگے۔ ایک یہ کہ ان چیزوں کو کن اور کیسے ذرائع سے حاصل کیا اور دوسرا یہ کہ ان کو خرچ کون سے کاموں میں کیا۔ یعنی ان کا مصرف جائز تھا یا ناجائز ؟ اس کی مزید تفصیل درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے : ١۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : && یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کون سی نعمت کا ہم سے سوال ہوگا (ہماری خوراک) یہی دو کالی چیزیں (کھجور اور پانی) ہے دشمن سر پر ہے اور تلواریں ہمارے کندھوں پر رہتی ہیں (پھر باز پرس کس چیز کی ہوگی ؟ ) && آپ نے فرمایا : تاہم یہ ضرور ہوگا۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) ٢۔ سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تروتازہ کھجوریں کھلائیں اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ : یہ ان نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (مسلم۔ کتاب الاشربہ۔ باب جواز استتباعہ غیرہ)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(ثم نتسلن یومئذ عن النعیم : یعنی صحت و عافیت، کھانیپ ینے اور دوسری تمام نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا کہ ان کا کہاں تک شکر ادا کیا ؟ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی لذت اور معمولی سے معمولی عافیت ایسین ہیں جس کے بارے میں سوال نہ ہو۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر و عمر (رض) عنہمابھوک کی وجہ سے گھر سے نکلے اور ایک انصاری کے گھر آئے، اس نے مہمانی میں کھجوریں اور بکری کا گوشت پیش کیا۔ آپ نے گوشت اور کمجوریں کھائیں اور اوپر سے شیریں پانی پیا۔ جب خوب سیر ہوچکے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(والذی نفسی بیدہ التسالن عن ھذا النعیم یوم القیامۃ) (مسلم، الاشربۃ، باب جواز استباعہ غیرہ …: ٢٠٣٨)” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم سے قیامت کے دن اس نعمت کے بارے میں (بھی) ) سوال ہوگا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ۝ ٨ ۧ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل کا دن ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یا ددلاؤ۔ میں ایام کی لفظ جلالت کی طرف اضافت تشریفی ہے اور ا یام سے وہ زمانہ مراد ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے فضلو انعام کے سمندر بہا دیئے تھے ۔ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨{ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ ۔ } ” پھر اس دن تم سے ضرور پوچھا جائے گا نعمتوں کے بارے میں۔ “ اس دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک ایک نعمت کے بارے میں تم سے جواب طلبی ہوگی کہ دنیا میں تم نے اس کی کون کون سی نعمتوں سے استفادہ کیا اور ان کے حقوق کہاں تک ادا کیے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4 "Then" in this sentence dces not mean that accountability will be held after the culprits have been cast into Hell, but it means: "Then We give you the news that you will be questioned about these comforts of Iife," and obviously this questioning will be held at the time of accountability in the Divine Court. Its chief argument is that in several Ahadith it has been reported from the Holy Prophet (upon whom be peace) that the believers and the disbelievers, both will have to account for the blessings granted by Allah. However, the people who did not show ingratitude but spent their lives as grateful servants of Allah, will come out successful from the accountability, and those who proved thankless to Allah for His blessings and committed ingratitude by word or by deed, or by both; will emerge as failures. Hadrat Jabir bin `Abdullah says: "The Holy Prophet once visited us and we served him with fresh dates and gave him cool water to drink. Thereupon he said: "These are of the blessings about which you will be questioned." (Musnad Ahmad, Nasa'i, Ibn Jarir, Ibn al-Mundhir, Ibn Marduyah, `Abd bin Humaid, Baihaqi in Ash-Shu `ab) . Hadrat Abu Hurairah has reported that the Holy Prophet once asked Hadrat Abu Bakr and Hadrat `Umar to accompany him to the place of AbulHaitham bin at-Tahan Ansari. Thus, he took them to the oasis of Ibn at-Taihan-The latter brought a bunch of dates and placed it before them. The Holy Prophet said: "Why didn't you pluck the dates yourself? `He said: "1 thought you would yourselves select and eat dates of your choice." So, they ate the dates and drank cool water. At the end, the Holy Prophet said: "By Him in Whose hand is my Iife: this is of the blessings about which you will be questioned on the Resurrection Day: the cool shade, the cool dates, the cool water." (This tradition has been narrated in different ways by Muslim, Ibn Majah, Abu Da'ud, Tirmidhi, Nasa'i, Ibn Jarir, Abu Ya`la and others, on the authority of Hadrat Abu Hurairah, in some of which the name of the Ansari Companion has been mentioned and in some he has been referred to as a person from among the Ansar. This incident has been related with several details by Ibn Abi Hatim from Hadrat `Umar and by Imam Ahmad from Abu `Asib, the Holy Prophet's freed slave. Ibn Hibban and Ibn Marduyah have related a tradition from Hadrat 'Abdullah bin 'Abbas, which shows that an almost similar thing had happened in the house of Hadrat Abu Ayyub Ansari. These Ahadith make it explicit that not only the disbelievers but the righteous believers too will be questioned. As for the blessings which Allah has bestowed on man, they are unlimited and countless. There are many blessings of which man is not even conscious. The Qur'an says: "If you try to count the blessings of Allah, you will not be able to calculate them." (Ibrahim : 34) . Countless of them are the blessings which Allah has granted directly to man, and a large number of these are the blessings which man is granted through his own skill and endeavour. About the blessings that accrue to man in consequence of his own labour and skill, he will have to render an account as to how he acquired them and in what ways he expended them. In respect of the blessings directly bestowed by Allah, he will have to give an account as to how he used them. And in respect of all the blessings, on the whole, he will have to tell whether he had acknowledged that those blessings had been granted by Allah and whether he had expressed gratitude for them to Allah with his heart, and by word and deed, or whether he thought he had received all that accidentally, or as' a gift from many gods, or whether he Geld the belief that although those were the blessings of One God, in their bestowal many other beings also had a part, and for that very reason he had taken them as his gods and worshipped and thanked them as such.

سورة التکاثر حاشیہ نمبر : 4 اس فقرے میں پھر کا لفظ اس معنی میں نہیں ہے کہ دوزخ میں ڈالے جانے کے بعد جواب طلبی کی جائے گی ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر یہ خبر بھی ہم تمہیں دیے دیتے ہیں کہ تم سے ان نعمتوں کے بارے میں یہ سوال کیا جائے گا ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سوال عدالت الہی میں حساب لینے کے وقت ہوگا ۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ متعدد احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات منقول ہے کہ اللہ تعالی نے جو نعمتیں بندوں کو دی ہیں ان کے بارے میں جواب دہی مومن و کافر سب ہی کو کرنی ہوگی ۔ یہ الگ بات ہے کہ جن لوگوں نے کفران نعمت نہیں کیا اور شکر گزار بن کر رہے وہ اس محاسبہ میں کامیاب رہیں گے ، اور جن لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کا حق اد نہیں کیا اور اپنے قول یا عمل سے یا دونوں سے ان کی ناشکری کی وہ اس میں ناکام ہوں گے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم نے آپ کو ترو تازہ کھجوریں کھلائیں اور ٹھنڈا پانی پلایا ۔ اس پر حضور نے فرمایا یہ ان نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا ( مسند احمد ، نسائی ، ابن جریر ، ابن المنذر ، ابن مردویہ ، عبد بن حمید ، بیہقی فی الشعب ) حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے کہا کہ چلو ابو الہیثم بن التیہان انصاری کے ہاں چلیں ۔ چنانچہ ان کو لے کر آپ ابن التیہان کے نخلستان میں تشریف لے گئے ۔ انہوں نے لاکر کھجوروں کا ایک خوشہ رکھ دیا ۔ حضور نے فرمایا تم خود کیوں نہ کھجوریں توڑ لائے؟ انہوں نے عرض کیا ، میں چاہتا تھا کہ آپ حضرات خود چھانٹ چھانٹ کر کھجوریں تناول فرمائیں ۔ چنانچہ انہوں نے کھجوریں کھائیں اور ٹھنڈا پانی پیا ۔ فارغ ہونے کے بعد حضور نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں تمہیں قیامت کے روز جواب دہی کرنی ہوگی ، یہ ٹھنڈا سایہ ، یہ ٹھنڈی کھجوریں ، یہ ٹھنڈا پانی ( اس قصے کو مختلف طریقوں سے ملسم ، ابن ماجہ ، ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن جریر اور ابو یعلی وغیرہم نے حضرت ابو ہریرہ سے نقل کیا ہے جن میں سے بعض میں ان انصاری بزرگ کا نام لیا گیا ہے اور بعض میں صرف انصار میں سے ایک شخص کہا گیا ہے ۔ اس قصے کو مختلف طریقوں سے متعدد تفصیلات کے ساتھ ابن ابی حاتم نے حضرت عمر سے ، اور امام احمد نے ابو عسیب ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سے نقل کیا ہے ۔ ابن حبان اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک روایت نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قریب قریب اسی طرح کا واقعہ حضرت ابو ایوب انصاری کے ہاں پیش آیا تھا ) ۔ ان احادیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سوال صرف کفار ہی سے نہیں ، مومنین صالحین سے بھی ہوگا ۔ رہیں خدا کی وہ نعمتیں جو اس نے ا نسان کو عطا کی ہیں ، تو وہ لا محدود ہیں ، ان کا کوئی شمار نہیں کیا جاسکتا ، بلکہ بہت سی نعمتیں تو ایسی ہیں کہ انسان کو ان کی خبر بھی نہیں ہے ۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم ان کا پورا شمار نہیں کرسکتے ( ابراہیم ، 34 ) ان نعمتوں میں سے بے حدو حساب نعمتیں تو وہ ہیں جو اللہ تعالی نے براہ راست انسان کو عطا کی ہیں ، اور بکثرت نعمتیں وہ ہیں جو انسان کو اس کے اپنے کسب کے ذریعہ سے دی جاتی ہیں ۔ انسان کے کسب سے حاصل ہونے والی نعمتوں کے متعلق اس کو جواب دہی کرنی پڑے گی کہ اس نے ان کو کن طریقوں سے حاصل کیا اور کن راستوں میں خرچ کیا ۔ اللہ تعالی کی براہ راست عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں اسے حساب دینا ہوگا کہ ان کو اس نے کس طرح استعمال کیا ۔ اور مجموعی طور پر تمام نعمتوں کے متعلق اس کو بتانا پڑے گا کہ آیا اس نے اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ یہ نعمتیں اللہ کی عطا کردہ ہیں اور ان پر دل ، زبان اور عمل سے اس کا شکر ادا کیا تھا ؟ یا یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ اسے اتفاقا مل گیا ہے؟ یا یہ خیال کیا تھا کہ بہت سے خدا ان کے عطا کرنے والے ہیں؟ یا یہ عقیدہ رکھا تھا کہ یہ ہیں تو خدا ہی کی نعمتیں مگر ان کے عطا کرنے میں بہت سی دوسری ہستیوں کا بھی دخل ہے اور اس بنا پر انہیں معبود ٹھہرا لیا تھا اور انہی کے شکریے ادا کیے تھے؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: یعنی دُنیا میں جو نعمتیں میسر تھیں، اُن پر اﷲ تعالیٰ کا شکر کیسے ادا کیا؟ اور اُس کی کس طرح فرماں برداری کی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(102:8) ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم : ثم تراخی وقت کے لئے ہے۔ بمعنی پھر۔ لتسئلن مضارع مجہول لام تاکید بانون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم ضرور پوچھے جاؤ گے۔ تم سے ضرور سوال کیا جائے گا۔ یومئذ : یوم اسم ظرف منصوب۔ مضاف اذ مضاف الیہ۔ اس دن، ایسے واقعات کے دن۔ النعیم : اسم معرفہ۔ مجرور، نعمت، راحت، عیش۔ مراد اللہ تعالیٰ کی جملہ نعمتیں۔ ترجمہ :۔ پھر اس روز تم سے نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بیحد و حساب ہیں جیسا کہ فرمایا وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا۔ (14:34) اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنے لگو تو تم ان کو گن نہ سکو گے نعما، ظاہریہ، باطنیہ۔ تندرستی، جسم کے اعضاء کی خوبی، رزق، روزی۔ گرمیوں میں ٹھنڈا پانی، سایہ وغیرہ۔ جس سے کوئی فرد بشر خالی نہیں۔ ان کے علاوہ بیشمار نعمتیں ہیں جن کا بندہ شکر ادا کر ہی نہیں سکتا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 یعنی صحت عافیت کھانے پینے اور دوسری تمام نعمتوں کے بارے میں سال ہوگا کہ ان کا کہاں تک شکر ادا کیا ؟ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی لذت اور معمولی سے معمولی عافیت ایسی نہیں جس کے بارے میں سوال نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر اور عمر بھوک کی وجہ سے گھر سے نکلے اور ایک انصاری کے گھر آئے۔ اس نے صحابی میں کھجوریں اور بکری کا گوشت پیش کیا۔ آپ نے گوشت اور کھجوریں کھائیں اور اوپر سے شیریں پانی پیا جب خوب سیر ہوچکے تو آپ نے فرمایا :” مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم سے قیامت کے دن اس نعمت کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔ (فتح مقدر بحوالہ مسلم و اہل السنین

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف : تین آیات پر مشتمل اس چھوٹی سی صورت پر جتنا بھی غور و فکر کیا جاتا ہے اس میں معانی اور حقائق کی ایک دنیا جھلکتی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں عصر کی قسم کھائی ہے۔ عصر کے معنی نماز عصر، تاریخ انسانی، زمانہ یا حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور کی قسم کھا کر یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے سارے لوگ اس وقت تک دنیا اور آخرت میں سخت ناکام ہیں جب تک وہ ایمان لا کر عمل صالح اختیار نہ کریں۔ اگر انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں دو ہی قسم کے انسان نظر آتے ہیں کامیاب یا ناکام ۔ دنیا والوں نے تو کامیابی اور ناکامی کید و پیمانے مقرر رکھتے ہیں کہ جو شخص خوب مال و دولت کما کر اونچی سے اونچی بلڈنگیں تعمیر کرلے۔ اس کے آگے پیچھے گھومنے والے سیکڑوں آدمی ہوں تو وہ کامیاب ہے اور اگر کوئی شخص ایمان داری اور اپنے اخلاص، نیک نیتی اور حسن اخلاق کے باوجود غریب اور مفلس ہے تو وہ ناکام آدمی شمار کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ معیار بتایا ہے کہ ہر انسان اس وقت تک سخت ناکام ہے جب تک وہ ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار نہ کرلے۔ کامیاب وہ شخص ہے جس کی دنیا اور آخرت دونوں بہتر ہوں اور وہ شخص سخت ناکام ہے جو مال و دولت اور دنیاوی وسائل کمانے کے باوجود دنیا میں اللہ کے عذاب کا شکار ہو اور قیامت میں ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بن جائے۔ قوم عاد، قوم ثمود، قوم فرعون وغیرہ دنیا کی وہ قومیں ہیں جنہوں نے ہزاروں سال تک دنیا پر حکومتیں کی ہیں۔ دنیا بھر کے وسائل ان کے پاس تھے۔ مال و دولت اور خوش حالی کی کمی نہ تھی لیکن جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی انتہا کردی اور اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلایا تو وہ قومیں اللہ کے عذاب کا شکار ہوگئیں۔ ان کا مال و دولت، اونچی اونچی بلڈنگیں، تاج و تخت اور افراد کی کثرت ان کو عذاب الٰہی سے نہ بچا سکے۔ یہ تو دنیا کا معاملہ ہے آخرت میں ان پر دائمی عذاب یہ ہوگا کہ ان کو بھڑکتی آگ میں ڈال کر جہنم کو اوپر سے بند کردیا جائے گا۔ اللہ کی نظر میں یہ ناکام لوگ ہیں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو وسائل کے اعتبار سے کمزور تھے لیکن ایمان اور عمل صالح کی دولت سے مالا مال تھے وہ دنیا میں بھی سرخ رو ہوئے اور آخرت میں انہیں ہمیشہ کی راحتیں، آرام و سکون اور عیش و عشرت کے سامان عطا کئے جائیں گے یہ لوگ دنیا اور آخرت میں کامیاب ترین لوگ ہیں۔ اگر عصر سے رماد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو لوگ اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لائیں گے وہ گذشتہ قوموں کی طرح اس طرح ناکام ہوں گے کہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ ذلتوں کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن جو لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ختم نبوت پر ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کریں گے وہ دنیاوی اسباب کے لحاظ سے کتنے ہی کمزور کیوں نہ ہوں وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیاب ہوں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنہوں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتے ہوئے عمل صالح کا راستہ اختیار کیا وہ دنیا کے کامیاب ترین لوگ شمار کئے گئے ہیں۔ ان کی شان اور عظمت یہ ہے کہ ان صحابہ کرام (رض) کی طرف نسبت کرنے پر ہر شخص فخر محسوس کرتا ہے لیکن وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کی ہر نعمت سے محروم رہے آج وہ اس طرح مٹ گئے ہیں کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہیں ہے۔ اگر کچھ نام زندہ ہیں تو وہ بھی قرآن کی وجہ سے ہیں۔ لیکن کتنی افسوسناک حقیقت ہے کہ کوئی بھی ان کی طرف نسبت کرنے کو پسند نہیں کرتا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ لتسئلن میں خطاب عام ہے بقرینہ حدیث جس میں آپ نے حضرات شیخین (رض) سے فرمایا کہ تم لوگوں سے ان نعمتوں کے متعلق سوال کیا جاوے گا، کذا فی الصحاح، پس جب غیر مجرمین تک سوے سوال ہوگا گو اس پر کوئی ضرر مرتب نہ ہو تو مجرمین تو کیوں بچ جائیں گے ؟ اور ان کے لئے وہ مضر بھی ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

تم سے پوچھا جائے گا کہ یہ نعمتیں تم نے کہاں سے حاصل کیں۔ کہاں ان کو خرچ کیا۔ کیا اللہ کی اطاعت کرکے حاصل کیا اور اللہ کی اطاعت میں خرچ کیا یا اللہ کی معصیت کرکے حاصل کیا اور معصیت میں خرچ کیا۔ حلال راستہ سے کمایا اور حلال راہ میں خرچ کیا یا حرام راستہ سے کمایا اور حرام میں خرچ کیا۔ کیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا ؟ کیا ان کا حق ادا کیا۔ کیا اس میں دوسروں کو شر کی کیا یا خود ہی استعمال کرتے رہے۔ یہ سوالات لازماً تم سے ہوں گے کہ یہ دولت کس طرح اکھٹی کی اور کس طرح تم نے اس پر تفاخر کیا۔ یہ دولت اور یہ انعامات تمہیں اپنی مدہوشی اور غفلت کی وجہ سے ہلکی نظر آتی ہیں۔ اور کھیل نظر آتی ہیں لیکن ان کے پیچھے تو ایک بھاری ذمہ داری ہے اور ایک سخت جوابدہی ہے۔ یہ سورت نہایت ہی مختصر سورت اپنی تفسیر آپ ہے۔ یہ انسانی احساس پر چھاجاتی ہے ، اسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور انسانی قلب ونظر اس کی گرفت میں بوجھل نظر آتے ہیں۔ انسان یکدم دنیا کی حقیقت پاکر ، اس کی حقیر لذتوں اور کم قیمت ترجیحات کو چھوڑ کر فکر آخرت میں مشغول ہوجاتا ہے جبکہ عام لوگ جن کے دل ان حقائق اور اثرات سے فارغ ہوتے ہیں وہ ان حقیر چیزوں کے لئے مرمٹ رہے ہوتے ہیں۔ یہ سورت اس دنیا کو اس طرح پیش کرتی ہے جس طرح ایک طویل فلم میں ایک سیکنڈ کی ایک جھلک۔ الھکم ................ المقابر (2:102) ” تم کو تکاثر کی دھن نے قبرستان پہنچایا “۔ ان چند الفاظ میں پوری دنیاوی زندگی کی جھلک دکھا کر اسے لپیٹ لیا جاتا ہے۔ پھر دائمی اور حیات جاوداں کی فلم چلتی ہے۔ طویل زمانے میں اور مجرمین ابدالا باد تک بوجھ اٹھاتے پھریں گے۔ یہ تصور نہایت ہی خوبصورت انداز تعبیر میں دیا جاتا ہے اور اصل حقیقت اور انداز بیان یکساں ہوجاتے ہیں۔ ایک عظیم خوفناک اور گہرے معانی رکھنے والی سورت جو شخص بھی سمجھ کر پڑے گا ، جس کے اثرات زمین سے طوفان کی شکل میں اٹھ کر فضاﺅں میں جاکر دور بلند مطالع پر نمودار ہوتے ہیں ، جس کے معانی نہایت ٹھوس ہیں اور دل و دماغ کے سمندر میں نہایت ہی گہرائیوں میں جاکر قرارپکڑتے ہیں تو اس کا دل بوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کرہ ارض پر زندگی کی ایک جھلک اور چمک ، اپنے نتائج واثرات کے لحاظ سے کس قدر طویل ہے۔ تو ہر باشعور شخص اخروی زندگی کی طویل تیاری کی راہ پر چل نکلتا ہے۔ اور اس راہ میں پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کے حوالے سے بھی حساس ہوجاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ (رح) ٠٠٨﴾ صاحب روح المعانی نے یہاں طویل مضمون لکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نعمتوں کا سوال کس سے ہوگا اور کب ہوگا ؟ چونکہ یہ آیت بھی ما سبق پر معطوف ہے اور اس میں بھی جمع مذکر حاضر کا صیغہ لایا گیا ہے اس لیے سیاق کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب بھی انہی لوگوں سے ہوگا جو دوزخ کو دیکھیں گے اور دوزخ میں داخل ہوں گے اور یہ سوال بطور سرزنش اور ڈانٹ کے ہوگا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کس کام میں لگایا ؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو کچھ دیا تھا اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے کاموں میں لگانے کی بجائے دنیا میں منہمک رہے، اللہ کی یاد سے اور آخرت سے غافل ہوگئے۔ قال صاحب الروح قدروی عن ابن عباس انہ صرح بان الخطاب فی لترون الجحیم للمشرکین وحملوا الرؤیة علی رویة الدخول وحملوا السوال ھنا علی سوال التقریع والتوبیخ لما انھم لم یشکروا ذلک بالایمان بہ عزوجل۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ابن آدم کو قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا گویا کہ وہ بھیڑ کا بچہ ہے (یعنی ذلت کی حالت میں لایا جائے گا) اور اسے اللہ تعالیٰ شانہ کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا اللہ شانہ کا سوال ہوگا کہ میں نے تجھے نعمتیں دی تھیں اور تجھ پر انعام کیا تھا سو تو نے کیا کیا ؟ وہ کہے گا کہ اے میرے رب میں نے مال جمع کیا اور خوب بڑھایا اور اس سے زیادہ چھوڑ کر آیا جو پہلے تھا سو مجھے واپس لوٹا دیجئے میں سارا مال آپ کے پاس لے آتا ہوں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ تو مجھے وہ دکھا جو تو نے پہلے بھیجا تھا، ابن آدم پھر وہی بات کہے گا کہ میں نے مال جمع کیا خوب بڑھایا اور اس سے خوب زیادہ چھوڑ کر آیا جتنا پہلے تھا آپ مجھے واپس لوٹا دیجئے سارا مال لے کر آپ کے پاس واپس آجاتا ہوں (نتیجہ یہ ہوگا) اس شخص نے ذرا سی خیر بھی آگے نہ بھیجی ہوگی، لہٰذا اسے دوزخ کی طرف روانہ کردیا جائے گا۔ (رواہ الترمذی کما فی المشکوٰۃ صفحہ ٤٣٣) گو بظاہر متبادر یہی ہے کہ یہ خطاب ﴿ ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ ﴾ بھی انہی لوگوں کو ہے جو شروع سورت سے مخاطب ہیں لیکن عمومی الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اہل ایمان سے بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا سوال ہوگا، متعدد احادیث میں یہ مضمون وارد ہوا ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن انسان کے قدم (حساب کی جگہ سے) نہیں ہٹیں گے، جب تک اس سے پانچ چیزوں کا سوال نہ کرلیا جائے۔ (١) عمر کو کہاں فنا کیا۔ (٢) جوانی کو کن کاموں میں ضائع کیا۔ (٣) مال کہاں سے کمایا۔ (٤) اور کہاں خرچ کیا۔ (٥) علم پر کیا عمل کیا۔ (رواہ الترمذی) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بندہ سے نعمتوں کے بارے میں جو سب سے پہلا سوال کیا جائے گا، وہ یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ فرمائیں گے کیا ہم نے تیرے جسم کو تندرست نہیں رکھا تھا، کیا ہم نے تجھے ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا ؟ (روای الترمذی فی تفسیر سورة التکاثر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا دھیان رکھتے تھے اور اپنے صحابہ کرام (رض) کو بھی اس طرف متوجہ فرماتے تھے ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کو ہمراہ لے کر ایک انصاری صحابی کے گھر تشریف لے گئے انہوں نے کھجوروں کا خوشہ پیش کیا جن میں تین قسم کی کھجوریں تھیں، تر کھجوریں بھی اور خشک بھی اور کچی پکی کے درمیان بھی۔ صاحب خانہ انصاری نے ایک بکری بھی ذبح کی آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے کھجوریں کھائیں اور کھانا کھایا اور پانی پیا جب سیر ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) سے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، قیامت کے دن اس نعمت کے بارے میں تم سے ضرور سوال کیا جائے گا (کہ نعمت کا کیا حق ادا کیا اور اس سے جو قوت حاصل ہوئی اس کو کس کام میں لگایا شکر ادا کیا یا نہیں ؟ ) تم کو بھوک نے گھروں سے نکالا، ابھی تم واپس نہیں لوٹے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ نعمت عطا فرما دی۔ (رواہ مسلم) ایک حدیث میں اسی طرح کا قصہ مروی ہے کہ آپ اپنے دونوں ساتھیوں یعنی حضرت ابوبکر و عمر (رض) کے ساتھ ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے، انہوں نے کھجوروں کا ایک خوشہ پیش کیا آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے اس میں سے کھایا پھر ٹھنڈا پانی طلب فرمایا پانی پی کر آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن تم سے اس نعمت کے بارے میں سوال کیا جائے گا یہ سن کر حضرت عمر (رض) نے کھجوروں کا خوشہ ہاتھ میں لے کر زمین پر مارا جس سے کھجوریں بکھر گئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا قیامت کے دن ہم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہر نعمت کے بارے میں سوال ہوگا۔ سوائے تین چیزوں کے (١) اتنا چھوٹا سا کپڑے کا ٹکڑا جس سے آدمی اپنی شرم کی جگہ کو لپیٹ لے۔ (٢) (روٹی کا) ٹکڑا جس سے اپنی بھوک کو دفع کر دے۔ (٣) اتنا چھوٹا سا گھر جس میں گرمی اور سردی سے بچنے کے لیے بتکلف داخل ہو سکے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٣٦٩، از احمد و بیہقی فی شعب الایمان) حضرت عثمان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ انسان کے لیے تین چیزوں کے سوا کسی چیز میں حق نہیں ہے (وہ تین چیزیں یہ ہیں) (١) رہنے کا گھر۔ (٢) اتنا کپڑا جس سے اپنے شرم کی جگہ چھپالے۔ (٣) روکھی روٹی بغیر سالن کے اور اس کے ساتھ پانی۔ (رواہ الترمذی فی ابواب الزھد) حضرت عبداللہ بن شخیر نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ ﴿ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ﴾ پڑھ رہے تھے اور یوں فرما رہے تھے کہ انسان کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال (انسان تو سمجھ لے کہ تیرا کون سا مال ہے ؟ ) تیرا مال بس وہ ہے جو تو نے کھالیا اور فنا کردیا یا وہ ہے جو تو نے پہن لیا اور بوسیدہ کردیا۔ یا وہ ہے جو صدقہ دے دیا اور پہلے سے آگے بھیج دیا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔ اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ ان تینوں اموال کے علاوہ جو کچھ ہے اسے لوگوں کے لیے چھوڑ کر چلا جائے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٤٤٠) سنن ترمذی میں ہے کہ جب آیت کریمہ ﴿ ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ (رح) ٠٠٨﴾ نازل ہوئی تو حضرت زبیر (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم سے کون سی نعمت کا سوال ہوگا ہم تو کھجور اور پانی پر گزارہ کرتے ہیں، آپ نے فرمایا عنقریب نعمتیں مل جائیں گے۔ حضرت انس (رض) نے فرمایا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز انسان کے تین دفتر ہوں گے۔ ایک دفتر میں اس کے نیک عمل لکھے ہوں گے دوسرے دفتر میں اس کے گناہ درج ہوں گے، اور ایک دفتر میں اللہ کی وہ نعتیں درج ہوں گی جو اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں دی گئی تھیں۔ اللہ عزوجل سب سے چھوٹی نعمت سے فرمائیں گے کہ اپنی قیمت اس کے نیک اعمال میں سے لے لے۔ چناچہ وہ نعمت اس کے تمام اعمال کو اپنی قیمت لگا لے گی اور اس کے بعد عرض کرے گی کہ (اے رب ! ) آپ کی عزت کی قسم (ابھی) میں نے پوری قیمت وصول نہیں کی ہے، اب اس کے بعد گناہ باقی رہے اور نعمتیں بھی باقی رہیں (جن کی قیمت ادا نہیں ہوئی ہے) رہے نیک عمل سو وہ سب ختم ہوچکے ہوں گے، کیونکہ سب سے چھوٹی نعمت اپنی قیمت میں تمام نیک اعمال کو لگا چکی ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ پر رحم کرنا چاہیں گے (یعنی مغفرت فرما کر جنت عطا فرمانا چاہیں گے) تو فرمائیں گے کہ اے میرے بندے میں نے تیری نیکیوں میں اضافہ کردیا اور تیرے گناہوں سے درگزر کیا۔ راوی کہتے ہیں غالباً آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس موقع پر خدائے پاک کا ارشاد گرامی نقل فرماتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ میں نے تجھے اپنی نعمتیں (یوں ہی بغیر عوض کے) بخش دیں۔ (الترغیب والترہیب صفحہ ٣٩٧ ج ٤) اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی عنایت فرمایا ہے بغیر کسی استحقاق کے دیا ہے۔ اس کو یہ حق ہے کہ اپنی نعمت کے بارے میں سوال کرے اور مواخذہ کرے کہ تم میری نعمتوں میں رہے ہو، بولو ان نعمتوں کا کیا حق ادا کیا ؟ اور میری عبادت میں کس قدر لگے ؟ اور ان نعمتوں کے استعمال کے عوض کیا لے کر آئے ؟ یہ سوال بڑا کٹھن ہوگا، مبارک ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکریہ میں عمل صالح کرتے رہتے ہیں اور آخرت کی پوچھ سے لرزتے اور کانپتے ہیں، برخلاف ان کے وہ بدنصیب ہیں جو اللہ کی نعمتوں میں پلتے بڑھتے ہیں اور نعمتوں میں ڈوبے ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف ان کو ذرا دھیان نہیں اور اس کے سامنے جھکنے کا ذرا خیال نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتیں ہیں، قرآن مجید میں ارشاد ہے ﴿ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ﴾ پھر ساتھ ہی یوں فرمایا ﴿اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ (رح) ٠٠٣٤﴾ (اور اگر اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو شمار نہیں کرسکتے، بلاشبہ انسان بڑا ظالم بڑا ناشکرا ہے) ۔ بلاشبہ یہ انسان کی بڑی نادانی ہے کہ مخلوق کے ذرا سے احسان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے اور جس سے کچھ ملتا ہے اس سے دبتا ہے اور اس کے سامنے با ادب کھڑا ہوتا ہے حالانکہ یہ دینے والے مفت نہیں دیتے بلکہ کسی کام کے عوض یا آئندہ کوئی کام لینے کی امید میں دیتے دلاتے ہیں خداوند کریم خالق ومالک ہے، غنی و مغنی ہے وہ بغیر کسی عوض کے عنایت فرماتا ہے لیکن اس کے احکام پر چلنے اور سر بسجود ہونے سے انسان گریز کرتا ہے، یہ بڑی بد بختی ہے، اللہ کی نعمتوں کو کوئی کہاں تک شمار کرے گا جو نعمت ہے ہر ایک کا محتاج ہے ایک بدن کی سلامتی اور تندرستی ہی کو لے لیجئے، کیسی بڑی نعمت ہے جب پیاس لگتی ہے تو غٹا غٹ ٹھنڈا پانی پی جاتے ہیں، یہ پانی کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس پیدا کرنے والے کے احکام پر چلنے اور شکر گزار بندہ بننے کی بھی فکر ہے یا نہیں ؟ یہ غور کرنے کی بات ہے۔ فائدہ : حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ روزانہ ایک ہزار آیت پڑھ لو، صحابہ نے عرض کیا روزانہ ایک ہزار آیت پڑھنے کی کسے طاقت ہے ؟ آپ نے فرمایا کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ﴿اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ﴾ پڑھ لو (اس کے پڑھنے سے ہزار آیت پڑھنے کا ثواب ملے گا) ۔ (مشکوۃ صفحہ ١٦٠ از شعب الایمان)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) پھر تم سب اس دن دنیوی نعمتوں کے بارے میں باز پرس کی جائے گی۔ اوپر کی آیتوں میں تہویل اور تغلیظ فی التہدید کے لئے کفار کو خطاب تھا اور یہاں خطاب عام ہے کفار سے جو سوال نعمتوں کے بارے میں ہوگا وہ تو بیخ و تقریع کے لئے ہوگا کیونکہ انہوں نے نعمتوں کے استعمال کے بعد ناشکری اور مسلمانوں سے جو سوال ہوگا وہ تشریف اور تکریم کے لئے ہوگا۔ بہرحال ٹھنڈے پانی اور کھجوریں، ٹھنڈا سایہ، نیند کی لذت، شرائع کی تخفیف قرآن کا نزول اسلام کی بزرگی، غرض ہر قسم کی نعمتیں خواہ ظاہری ہوں یا وہ باطنی ہوں جسمانی ہوں یا روحانی ہوں۔ آفاقی ہوں یا ذاتی ہوں سب سے سوال ہوگا بعض علماء نے فرمایا صحت اور فراغ یہ دو نعمتیں بہت بڑی ہیں ان کے متعلق سوال ہوگا۔ بعض نے کہا سیدالمرسلین کی بعثت اور تشریف آوری سب سے بڑی نعمت ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ تم نے ان کی اطاعت کا کیا حق ادا کیا۔ عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا امن اور صحت گھر جہاں سکونت رکھتا تھا کپڑا جس سے بدن ڈھانکتا تھا، وہ غذا جس سے قوت حاصل کرتا تھا یہ سب چیزیں مسئول عنہ ہوگی۔ واللہ اعلم تم تفسیر سورة التکاثر