Surat Hood

Surah: 11

Verse: 106

سورة هود

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ شَقُوۡا فَفِی النَّارِ لَہُمۡ فِیۡہَا زَفِیۡرٌ وَّ شَہِیۡقٌ ﴿۱۰۶﴾ۙ

As for those who were [destined to be] wretched, they will be in the Fire. For them therein is [violent] exhaling and inhaling.

لیکن جو بدبخت ہوئے وہ دوزخ میں ہونگے وہاں چیخیں گے چلائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Condition of the Wretched People and their Destination Allah, the Exalted, says, فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُواْ فَفِي النَّارِ ... As for those who are wretched, they will be in the Fire, Then Allah explains the situation of the wretched people and the happy people. He says, ... لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ in it they will experience Zafir and Shahiq. Ibn Abbas said, "Az-Zafir is a sound in the throat and Ash-Shahiq is a sound in the chest. This means that their exhaling will be Zafir and their inhaling will Shahiq." This will be due to the torment that they will be experiencing. We seek refuge with Allah from such evil.

عذاب یافتہ لوگوں کی چیخیں گدھے کے چیخنے میں جیسے زیر و بم ہوتا ہے ایسے ہی ان کی چیخیں ہوں گی ۔ یہ یاد رہے کہ عرب کے محاوروں کے مطاق قرآن کریم نازل ہوا ہے ۔ وہ ہمیشگی کے محاورے کو اسی طرح بولا کرتے ہیں کہ یہ ہمیشیگی والا ہے جب تک آسمان و زمین کو قیام ہے ۔ یہ بھی ان کے محاورے میں ہے کہ یہ باقی رہے گا جب تک دن رات کا چکر بندھا ہوا ہے ۔ پس ان الفاظ سے ہمیشگی مراد ہے نہ کہ قید ۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس زمین و آسمان کے بعد دار آخرت میں ان کے سوا اور آسمان و زمین ہو پس یہاں مراد جنس ہے ۔ چنانچہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہر جنت کا آسمان و زمین ہے ۔ اس کے بعد اللہ کی منشا کا ذکر ہے جیسے ( النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ ١٢٨؁ ) 6- الانعام:128 ) میں ہے ۔ اس استثنا کے بارے میں بہت سے قول ہیں جنہیں جوزی نے زاد المیسر میں نقل کیا ہے ۔ ابن جریر نے خالد بن معدان ، ضحاک ، قتادہ اور ابن سنان کے اس قول کو پسند فرمایا ہے کہ موحد گنہگاروں کی طرف استثناء عائد ہے بعض سلف سے اس کی تفسیر میں بڑے ہی غریب اقوال وارد ہوئے ہیں ۔ قتادہ فرماتے ہیں اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٨] اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک تو وہی ہے جو ترجمہ میں بیان کیا گیا ہے اور یہ مطلب قرآن کے دوسرے مقامات سے بھی ثابت ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جہنم کے بھڑکنے سے ایسی جگر خراش آوازیں پیدا ہوں گی جو ان بدبختوں کی مصیبت اور گھبراہٹ میں مزید اضافہ کرتی جائیں گی اور یہ مطلب بھی قرآن کے دوسرے مقامات سے ثابت ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا ۔۔ : ” زَفِیر “ اور ” شَھِیْق “ دونوں گدھے کی آوازیں ہیں۔ ” زَفِیر “ اس کے شروع کی آواز اور ” شَھِیْق “ اس کے آخر کی آواز، یعنی نہایت بری چیخنے چلانے کی آوازیں نکالیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَہُمْ فِيْہَا زَفِيْرٌ وَّشَہِيْقٌ۝ ١٠٦ ۙ «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء کلام کے لئے آتا ہے جیسے امابعد فانہ کذا ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ زفر قال : لَهُمْ فِيها زَفِيرٌ [ الأنبیاء/ 100] ، فَالزَّفِيرُ : تردّد النّفس حتی تنتفخ الضّلوع منه، وازْدَفَرَ فلان کذا : إذا تحمّله بمشقّة، فتردّد فيه نفسه، وقیل للإماء الحاملات للماء : زَوَافِرُ. ( ز ف ر ) الزفیر اس کے اصل معنی سانس کی اس قدر تیزی سے آمد وشد کے ہیں کہ اس سے سینہ پھول جائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَهُمْ فِيها زَفِيرٌ [ الأنبیاء/ 100] ان کے لئے اس میں چیخنا ہے ۔ ازد فر ( افتعال ) فلان کذا کسی چیز کو مشقت سے اٹھانا جس سے سانس پھول جائے ۔ اس لئے پانی لانے والی لونڈ یوں کو زوافر کہا جاتا ہے ۔ شهق الشَّهِيقُ : طول الزّفير، وهو ردّ النّفس، والزّفير : مدّه . قال تعالی: لَهُمْ فِيها زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ [هود/ 106] ، سَمِعُوا لَها تَغَيُّظاً وَزَفِيراً [ الفرقان/ 12] ، وقال تعالی: سَمِعُوا لَها شَهِيقاً [ الملک/ 7] ، وأصله من جبل شَاهِقٍ. أي : متناهي الطّول . ( ش ھ ق ) الشھیق ۔ کے معنی لمبی سانس کھینچناکے ہیں لیکن شھیق سانس لینے اور زفیر سانس چھوڑنے پر بولاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے لَهُمْ فِيها زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ [هود/ 106] اس میں ان چلانا اور دھاڑنا ہوگا ۔ سَمِعُوا لَها تَغَيُّظاً وَزَفِيراً [ الفرقان/ 12] اور چیخنے چلانے کو سنیں گے ۔ اصل میں یہ لفظ جبل شاھق سے ماخوذ ہے جس کے معنی انتہائ بلند پہاڑ کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٦۔ ١٠٧) اور پھر اس دن بعض لوگ تو شقی ہوں گے کہ ان کے لیے شقاوت لکھ دی ہوگی اور بعض سعید کہ ان کے لیے سعادت لکھی ہوئی ہوگی، سو جو لوگ شقی ہیں وہ دوزخ میں ایسے حال سے ہوں گے کہ اس میں ان کی چیخ و پکار پڑے گی، نعوذ باللہ جیسا کہ گدھا پہلی مرتبہ اپنے سینے سے آواز نکال کرچیختا ہے اور آخر میں چیختا ہے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، جیسا کہ آسمان و زمین پیدایش کے وقت سے لے کر فنا تک موجود ہیں اور آپ کے پروردگار کی مشیت ان کے جہنم میں رہنے کے بارے میں ہے، یا یہ کہ اہل شقاوت ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے جیسا کہ دوزخ کا آسمان اور دوزخ کی زمین موجود ہے، یا پھر یہ کہ آپ کا پروردگار ان لوگوں میں سے اس توحید والے کو نکال لے جس کی شقاوت کسی گناہ کی وجہ سے ہو کفر کے سبب سے نہ ہو، پھر اس کو اس کے ایمان خالص کی وجہ سے جنت میں داخل کردے آپ کا رب جو کچھ چاہے اس کو پورے طور سے کرسکتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ) وہ لوگ درد اور کرب کی وجہ سے چیخ و پکار کریں گے اور پھنکارے ماریں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠٦۔ ١٠٧۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بد بختوں کا حال بیان فرمایا کہ جن لوگوں نے دین حق کے قبول کرنے سے انکار کیا اور کجروی سے باز نہیں آئے اور بدبخت کے بدبخت ہی رہے ان کے واسطے دوزخ میں جگہ ہے وہاں یہ لوگ خوب روئیں گے پہنچیں گے چلائیں گے دہاڑیں گے مفسروں نے الا ماشاء ربک کی تفسیر میں دونوں مطلب بیان کئے ہیں ایک یہ کہ آگ میں یہ لوگ اتنے دنوں تک رہیں گے جتنے دنوں دنیا کے آسمان و زمین میں رہ چکے ہیں اور اگر خدا چاہے گا تو زیادہ دنوں تک رکھے گا یہ اس کی مرضی پر موقوف ہے اور دوسرا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ بد بخت ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے مگر خدا جس کو چاہے گا ہمیشہ ہمیشہ نہیں رکھے گا یہ بھی اس کی مرضی پر موقوف ہے کس لئے کہ آسمان و زمین آخرت میں بھی ہوں گے اسی کو فرمایا کہ جب تک آسمان و زمین رہیں گے اس وقت تک یہ لوگ دوزخ میں رہیں گے کیوں کہ اللہ پاک جو ارادہ کرتا ہے وہ کرتا ہے اس کے ارادہ کا کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ صحیح بخاری و مسلم میں انس بن مالک (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کلمہ گو گنہگار کے دل میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان ہے وہ بھی میری شفاعت کے قابل ہوگا اور دوزخ سے نکل کر جنت میں جاوے ١ ؎ گا۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے خالص دل سے ایک دفعہ بھی کلمہ پڑھا وہ بھی قیامت کے دن میری شفاعت کے قابل ٢ ؎ ہے۔ اس کے سوا اور بھی صحیح حدیثیں ہیں جن میں کلمہ گو گنہگاروں کا دوزخ سے نکل کر جنت میں جانے کا ذکر ہے ان صحیح حدیثوں کی بنا پر حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں الا ماشاء ربک کی صحیح تفسیر یہی قرار دی ٣ ؎ ہے۔ کہ اس آیت اور آگے کی آیت میں الا ماشاء ربک فرما کر اللہ تعالیٰ نے دونوں جگہ کلمہ گو گنہگاروں کو دوزخ اور جنت میں ہمیشہ رہنے کی حالت سے مستثنیٰ فرمایا ہے کیونکہ یہ لوگ دوزخ میں تو ہمیشہ یوں نہ رہے کہ آخر کو دوزخ سے نکل کر جنت میں چلے گئے اور جنت میں ہمیشہ یوں نہ رہے کہ ان لوگوں کو کچھ مدت دوزخ میں گزری اس صحیح تفسیر سے وہ اختلاف اٹھ جاتا ہے جس کا ذکر بعضے مفسروں نے اپنی تفسیروں میں کیا ہے اس صحیح تفسیر سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بعضے سلف سے یہ جو روایتیں ہیں کہ دوزخیوں کے دوزخ میں جانے کے بعد ایک زمانہ ایسا آوے گا کہ جہنم خالی پڑا رہے گا ان روایتوں کا یہ مطلب ہے کہ دوزخ کا پہلا طبقہ جس کا نام جہنم ہے اس میں کلمہ گو گنہگار ڈالے جاویں گے اور جب شفاعت کے ذریعہ سے یہ لوگ دوزخ کے اس طبقہ میں سے نکل کر جنت میں چلے جاویں گے تو دوزخ کا یہ طبقہ خالی پڑا رہے گا یہ مطلب ان روایتوں کا نہیں ہے کہ کسی زمانہ میں مشرک دوزخ سے نکل جاویں گے اور سارا دوزخ خالی پڑا رہے گا کیونکہ یہ مطلب قرآن و حدیث اور مذہب اہل سنت کے برخلاف معتزلے فرقے کا یہ مذہب ہے کہ جو کلمہ گو گنہگار بغیر توبہ کے مرجاوے گا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اس واسطے اپنے مذہب کی تائید کے خیال سے صاحب کشاف نے ان صحیح حدیثوں کے برخلاف جو کچھ اپنی تفسیر میں لکھا ہے اہل سنت اس کے قائل نہیں ہیں بلکہ اکثر سلف ان ہی صحیح حدیثوں کو دونوں آیتوں کی تفسیر ٹھہراتے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم میں انس بن مالک (رض) کی شفاعت کے ذکر میں ایک بڑی حدیث ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کوئی کلمہ گو گنہگار دوزخ میں باقی نہ ٤ ؎ رہے گا اس سے اہل سنت کے مذہب کی پوری تائید ہوتی ہے۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ٨٨ ر۔ ٤٨٩ باب الحوض والشفاعۃ۔ ٢ ؎ مشکوٰۃ ص ٤٨٩ باب الحوض والشفاعۃ۔ ٣ ؎ تفسیر ابن جریر ص ١١٩ ج ١٢۔ ٤ ؎ مشکوٰۃ ص ٤٨٨۔ ٤٨٩ باب الحوض والشفاعۃ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:106) شقوا۔ شقاوۃ سے ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ بدبخت ہوئے۔ فیہا۔ ای فی النار۔ زفیر۔ چلانا۔ زفر یزفر (ضرب) کا مصدر ہے۔ زفیر اور زھیق دونوں گدھے کی آوازیں ہیں۔ قال الحضاک والمقاتل والفراء الزفیر اول نھیق الحمار والشھیق اخرہ۔ زفیر گدھے کی شروع کی آواز ہے اور شہیق اس کی آخری آواز ہے الخازن بغدادی لکھتے ہیں :۔ الزفیر تردید النفس فی الصدر حتی تنتفخ منہ الضلوع والشھیق رد النفس الی الصدر۔ زفیر سانس کا سینہ میں اندر باہر آنا جانا ہے (اس شدت سے) کہ پسلیاں اس سے پھولنے لگیں۔ اور شہیق سانس کا سینہ کے اندر لے جانا ہے۔ (والزفیر مذہ واخراجہ من الصدر) اور زفیر سانس کو کھینچ کر سینہ سے باہر نکالنا ہے۔ مراد یہ ہے کہ اہل دوزخ طرح طرح کی دردناک آوازوں میں چیختے چلاتے رہیں گے۔ شھیق۔ دھاڑنا۔ چلانا۔ مصدر ہے۔ شھیق یشھق (ضرب) گدھے کا آواز نکالنا۔ نیز باب سمع اور فتح سے بھی آتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : شقی یعنی بدعقیدہ اور برے اعمال والے لوگوں کا انجام۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی ہے کہ قرآن مجید کا مستقل یہ اسلوب ہے کہ وہ نیک اور بد، اچھے اور برے، جنت اور جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن پاک کی تلاوت کرنے والاشخص بیک وقت اور برمحل فیصلہ کرسکے کہ اسے کونسا عقیدہ اور راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اسی اسلوب کے مطابق یہاں نیک وبد کا بیک محل ذکر کیا جارہا ہے۔ چناچہ کفر و شرک اور کبیرہ گناہوں کے مرتکب مجرموں کو دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا جس آگ کے بارے میں قرآن مجید بتلاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جلائی ہوئی آگ ہے جو لوگوں کے کلیجوں پر اتر جائے گی اور مجرموں کو آگ کے ستونوں کے ساتھ جکڑ دیا جائے گا۔ ( ابراہیم : ٤٩) اس آگ میں اس قدر جوش اور شدت ہوگی کہ اس سے گدھے کے ہینگنے کی طرح آوازیں نکلیں گی۔ ” زَفِیْرٌ“ گدھے کے ہینگنے کی ابتدائی آواز کو کہتے ہیں اور ” شَھِیْقٌ“ سے مراد گدھے کی وہ آواز ہے جب اسکے ہینگنے کا اختتام ہوتا ہے تو گلے کی آواز کے ساتھ اس کے سینے کی آواز بھی شامل ہوجاتی ہے۔ جہنم کی آگ کے جوش کی وجہ سے اس طرح آوازیں نکلیں گی۔ مجرم اس وقت تک جہنم میں رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم رہیں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہے۔ اللہ تعالیٰ وہی کچھ کرتا ہے جس کا وہ ارادہ فرماتا ہے۔ یہاں جہنمیوں کی سزا کی مدت کا ذکر کرتے ہوئے دو الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ ١۔ جب تک زمین و آسمان قائم رہیں گے جہنمی جہنم میں جلتے اور چلاتے رہیں گے۔ زمین و آسمان سے مراد دنیا کے زمین و آسمان نہیں ہیں یہ تو ختم کردیئے جائیں گے۔ قرآن مجید وضاحت کرتا ہے کہ اس دنیا کے خاتمے کے ساتھ قیامت کے دن دنیا کے زمین و آسمان کے علاوہ اور زمین و آسمان ہوں گے جن کے لیے کوئی فنا نہیں ہوگی۔ (ابراہیم : ٤٨) ٢۔ اس فرمان میں دوسرے الفاظ ” اِلََّامَاشَاءَ رَبُّکَ “ استعمال فرمائے ہیں۔ جن کا لفظی معنی ہے ” مگر تیرا رب جس طرح چاہے “ جس کا عمومی مفہوم یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید کفار اور مشرکین کو بھی کسی وقت جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ اس بارے میں اہل علم کے ذاتی اقوال اور استنباط ہیں۔ کہ ایک مدت کے بعد کفار اور مشرکین کو بھی جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ جس کی قرآن و حدیث سے کوئی دلیل نہیں ملتی۔ البتہ عقیدۂ توحید رکھنے والے کبیرہ گناہوں کے مرتکب مجرموں کو ان کی سزا پوری ہونے کے بعد جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں مستند دلائل موجود ہیں۔ اس لیے اِلَّامَاشَاءَ رَبُّکَ ‘ کا یہی مفہوم لینا چاہیے۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُجَاٗٗءُ بالْمَوْتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَنَّہُ کَبْشٌ أَمْلَحُ ۔۔ یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ ہَلْ تَعْرِفُوْنَ ہَذَا فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَیَنْظُرُوْنَ وَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ہَذَا الْمَوْتُ قَالَ وَیُقَالُ یَا أَہْلَ النَّارِ ہَلْ تَعْرِفُوْنَ ہَذَا قَالَ فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَیَنْظُرُوْنَ وَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ہَذَا الْمَوْتُ قَالَ فَیُؤْمَرُ بِہِ فَیُذْبَحُ قَالَ ثُمَّ یُقَالُ یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ وَیَا أَہْلَ النَّارِ خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ )[ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ ] ” حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا موت قیامت کے دن مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ابو کریب نے کچھ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان روک لیا جائے گا۔ پھر جنتیوں سے کہا جائے گا کیا تم اسے پہچانتے ہو تو وہ اسے پہچاننے کی کوشش کریں گے اور اس کی طرف دیکھیں گے اور کہیں گے ہاں یہ موت ہے۔ جہنمیوں سے کہا جائے گا کیا تم اسے پہچانتے ہو وہ بھی پہچاننے کی کوشش کریں گے۔ دیکھیں گے اور کہیں گے ہاں یہ موت ہے پھر حکم ہوگا اور اسے ذبح کردیا جائے گا پھر کہا جائے گا اے جنتیو ! جنت میں ہمیشہ رہو تمہیں موت نہیں آئے گی۔ اے جہنمیو ! جہنم میں ہمیشہ رہو تمہیں بھی موت نہیں آئے گی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت کی اور انہیں حسرت والے دن سے ڈرایئے جب فیصلہ کیا جائے گا۔ وہ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لائیں گے۔ “ مسائل ١۔ بد بخت جہنم میں جائیں گے۔ ٢۔ جہنم میں مجرم چیخ و پکار کریں گے۔ ٣۔ جب تک اللہ چاہے گا مجرم جہنم میں رہیں گے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے سو کرسکتا ہے۔ تفسیر بالقرآن جہنم میں مشرک اور کفار کا ہمیشہ رہنا اور چلانا : ١۔ بدبخت لوگ جہنم میں ہمیشہ چیختے اور چلاتے رہیں گے۔ (ھود : ١٠٦) ٢۔ مجرم لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الز خرف : ٧٤) ٣۔ جو لوگ ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں وہ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ : ٣٩) ٤۔ جو لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور تکبر کرتے ہیں وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الاعراف : ٣٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ سب لوگ جنت و جہنم میں “ اس وقت تک رہیں گے جب تک زمین و آسمان ہیں۔ ” یہ عربی محاورہ ہے جو استمرار اور دوام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ محاورات کا اپنا مفہوم ہوتا ہے اور ایک خاص اثر انگیزی ہوتی ہے ، یہاں بھی یہ محاورہ انداز تعبیر کے اعتبار سے بہت ہی خوب ہے۔ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (١١ : ١٠٧) “ بیشک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے ” یہ فقرہ ان لوگوں کے قلبی اطمینان کے لیے ہے جو خوش قسمت وافعہ ہوئے تھے کہ ان کا انعام دائمی ہوگا اور کبھی منقطع نہ ہوگا ، اگر چہ مفروصہ اپنی جگہ ہو کر اللہ تبدیل کرسکتا ہے لیکن چونکہ اللہ نے ان کے لیے ایسا ارادہ کرلیا ہے ، اس لیے انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ اس کی مشیت بہرحال آزاد ہے۔ جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ آخرت میں دونوں فریقوں کا انجام کیا ہوگا اور یہ بتا دیا گیا کہ دنیا میں بد خبت اقوام کا حشر کیا ہوگا اور آخ ، رت میں ان کی حالت کیا ہوگی ، یہاں ان پر کیا کیا عذاب آئے گا اور آخرت میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا اب سیاق کلام میں بات کا رخ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پھرجاتا ہے اور خطاب اب آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں سے ہے جو مکہ میں کمزور حالت میں ہیں ، ان کو تسلی دی جاتی ہے اور ان کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ جس راہ پر چل پڑے ہیں اس پر ثابت قدم رہیں اور مکہ کے منکریں کو مزید ڈرایا جاتا ہے کہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو ان اقوام کا ہوا جن کے قصص بیان ہوئے ۔ اگر چہ عذاب الہی میں تاخیر ہوئی ہے لیکن اس سے قبل بھی اللہ نے کئی اقوام کو لمبی مہلت دی ہے اور مہلت ختم ہونے کے بعد سب کو ان کے لیے کا اچھا یا برا پورا پورا بدلہ دے دیا گیا لیکن اپنی مقررہ معیاد کے بعد۔ عذاب اور حساب و کتاب میں تاخیر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اقوام حق پر تھیں ، جس طرح ان اقوام کے آباؤ و اجداد باطل پر تھے اسی طرح یہ بھی باطل پر تھیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

106 سو جو لوگ بدبخت ہیں وہ دوزخ میں ہوں گے انکی حالت یہ ہوگی کہ انکو وہاں چیخنا اور چلانا ہے۔