Those Who invent Lies against Allah and hinder Others from His Path are the Greatest Losers
Allah, the Exalted says,
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا أُوْلَـيِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الاَشْهَادُ
...
And who does more wrong than he who invents a lie against Allah. Such will be brought before their Lord, and the witnesses will say,
Allah, the Exalted, explains the condition of those who lie against Him and that their scandal in the Hereafter will be presented before the heads of creation (for testimony) from the angels, Messengers, Prophets and the rest of mankind and Jinns.
This is just as Imam Ahmad recorded from Safwan bin Muhriz. Safwan said,
"I was holding the hand of Ibn Umar when a man was brought to him. The man said, `How did you hear the Messenger of Allah describe An-Najwa (secret counsel or confidential talk) on the Day of Resurrection?"
Ibn Umar said, `I heard him say,
إِنَّ اللهَ
عزَّ وَجَلَّ يُدْنِي الْمُوْمِنَ فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ
وَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ
وَيَقُولُ لَهُ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا
أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا
أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا
حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ قَدْ هَلَكَ
قَالَ فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْم
Verily, Allah, the Mighty and Sublime, will draw near the believer and He will place His shade over him. He will conceal him from the people and make him confess to his sins.
He will say to him, "Do you recognize this sin?
Do you recognize that sin?
Do you recognize such and such sin?"
This will continue until He makes him confess to all of his sins and he (the believer) will think to himself that he is about to be destroyed.
Then Allah will say, "Verily, I have concealed these sins for you in the worldly life and I have forgiven you for them today."
Then he (the believer) will be given his Book of good deeds.
As for the disbelievers and the hypocrites, the witnesses will say,
...
هَـوُلاء الَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَى رَبِّهِمْ
أَلاَ لَعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
These are the ones who lied against their Lord! No doubt! The curse of Allah is on the wrongdoers."
Both Al-Bukhari and Muslim recorded this narration in the Two Sahihs.
Concerning Allah's statement,
اللہ جل شانہ پہ بہتان باندھنے والے
جو لوگ اللہ کے ذمے بہتان باندھ لیں ، ان کا انجام اور قیامت کے دن کی ساری مخلوق کے سامنے کی ان کی رسوائی کا بیان ہو رہا ہے ۔ مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے؟ اور فلاں بھی اور فلاں بھی؟ یہ اقرار کرتا جائے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ بس اب ہلاک ہوا ۔ اس وقت الرحم الراحیمن فرمائے گا کہ میرے بندے دنیا میں ان پر پردہ ڈالتا رہا سن آج بھی میں انہیں بخشتا ہوں ۔ پھر اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ اسے دے دیا جائے گا ۔ اور کفار اور منافقین پر نو گواہ پیش ہوں گے جو کہیں گے کہ یہی وہ ہیں جو اللہ پر جھوٹ بولتے تھے یاد رہے کہ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے ۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے ۔
یہ لوگ اتباع حق ، ہدایت اور جنت سے اوروں کو روکتے رہے اور اپنا طریقہ ٹیڑھا ترچھا ہی تلاش کرتے رہے ساتھ ہی قیامت اور آخرت کے دن کے بھی منکر ہی رہے اور اسے مانا ہی نہیں ۔ یاد رہے کہ یہ اللہ کے ماتحت ہیں وہ ان سے ہر وقت انتقام لینے پر قادر ہے ، اگر چاہے تو آخرت سے پہلے دنیا میں ہی پکڑ لے لیکن اس کی طرف سے تھوڑی سی ڈھیل انہیں مل گئی ہے ۔ بخاری و مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دے دیتا ہے بالآخر جب پکڑتا ہے تب چھوڑتا ہی نہیں ۔ ان کی سزائیں بڑھتی ہی چلی جائیں گی ۔ اس لیے کہ اللہ کی دی ہوئی قوتوں سے انہوں نے کام نہ لیا ۔ سننے سے کانوں کو بہرہ رکھا ۔ حق کی تابعداری سے آنکھوں کو اندھا رکھا جہنم میں جاتے وقت خود ہی کہیں گے کہ ( آیت لو کنا نسمع اونعقل ما کنافی اصحاب السعیر ) یعنی اگر سنتے ہوتے عقل رکھتے ہوتے تو آج دوزخی نہ بنتے یہی فرمان ( آیت الذین کفروا و صدوا عن سبیل اللہ زدنا ھم عذابا فوق العذاب الخ ) میں ہے کہ کافروں کے لیے اللہ کی راہ سے روکنے والوں کے لیے عذاب پر عذاب بڑھتا چلا جائے گا ۔ ہر ایک حکم عدولی پر ، ہر ایک برائی کے کام پر سزا بھگتیں گے ۔ پس صحیح قول یہی ہے کہ آخرت کی نسبت کے اعتبار سے کفار بھی فروع شرع کے مکلف ہیں ۔ یہی ہیں وہ جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور خود اپنے تئیں جہنمی بنایا ۔ جہاں کا عذاب ذرا سی دیر بھی ہلکا نہیں ہوگا ۔ آگ کے شعلے کم ہو نے تو کہاں اور تیز تیز ہوتے جائیں گے جنہیں انہوں نے گھڑ لیا تھا یعنی بت اور اللہ کے شریک وغیرہ آج وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گے بلکہ نظر بھی نہ پڑیں گے بلکہ اور نقصان پہنچائیں گے ۔ وہ تو ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کے شرک سے صاف مکر جائیں گے ۔ گو یہ انہیں باعث عزت سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ان کے لیے باعث ذلت ہیں ۔ کھلے طور پر اس بات کا قیامت کے دن انکار کر دیں گے کہ ان مشرکوں نے انہیں پوجا ۔ یہ ارشاد خلیل الرحمن علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ ان بتوں سے گو تم دنیوی تعلقات وابستہ رکھو لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے کا انکار کر دیں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگیں گے ۔ اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور کوئی کسی کو کوئی مدد نہ پہنچائے گا ۔ یہی مضمون ( اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ ١٦٦ ) 2- البقرة:166 ) میں ہے یعنی اس وقت پیشوا لوگ اپنے مریدوں سے دست بردار ہو جائیں گے عذاب الٰہی آنکھوں دیکھ لیں گے اور باہمی تعلقات سب منقطع ہو جائیں گے ۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں وہ بھی ان کی ہلاکت اور نقصان کی خبر دیتی ہیں ۔ یقینا یہی لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے ۔ جنت کے درجوں کے بدلے انہوں نے جہنم کے گڑھے لیئے ۔ اللہ کی نعمتوں کے بدلے جہنم کی آگ قبول کی ۔ میٹھے ٹھنڈے خوشگوار جنتی پانی کے بدلے جہنم کا آگ جیسا کھولتا ہوا گرم پانی انہیں حورعین کے بدلے لہو پیپ اور بلند و بالا محلات کے بدلے دوزخ کے تنگ مقامات انہوں نے لیے ، رب رحمن کی نزدیکی اور دیدار کے بدلے اس کا غضب اور سزا انہیں ملی ۔ بیشک یہاں یہ سخت گھاٹے میں رہے ۔