Surat Hood

Surah: 11

Verse: 18

سورة هود

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ؕ اُولٰٓئِکَ یُعۡرَضُوۡنَ عَلٰی رَبِّہِمۡ وَ یَقُوۡلُ الۡاَشۡہَادُ ہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ کَذَبُوۡا عَلٰی رَبِّہِمۡ ۚ اَلَا لَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾

And who is more unjust than he who invents a lie about Allah ? Those will be presented before their Lord, and the witnesses will say, "These are the ones who lied against their Lord." Unquestionably, the curse of Allah is upon the wrongdoers.

اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور سارے گواہ کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا خبردار ہو کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Those Who invent Lies against Allah and hinder Others from His Path are the Greatest Losers Allah, the Exalted says, وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا أُوْلَـيِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الاَشْهَادُ ... And who does more wrong than he who invents a lie against Allah. Such will be brought before their Lord, and the witnesses will say, Allah, the Exalted, explains the condition of those who lie against Him and that their scandal in the Hereafter will be presented before the heads of creation (for testimony) from the angels, Messengers, Prophets and the rest of mankind and Jinns. This is just as Imam Ahmad recorded from Safwan bin Muhriz. Safwan said, "I was holding the hand of Ibn Umar when a man was brought to him. The man said, `How did you hear the Messenger of Allah describe An-Najwa (secret counsel or confidential talk) on the Day of Resurrection?" Ibn Umar said, `I heard him say, إِنَّ اللهَ عزَّ وَجَلَّ يُدْنِي الْمُوْمِنَ فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ وَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ وَيَقُولُ لَهُ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ قَدْ هَلَكَ قَالَ فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْم Verily, Allah, the Mighty and Sublime, will draw near the believer and He will place His shade over him. He will conceal him from the people and make him confess to his sins. He will say to him, "Do you recognize this sin? Do you recognize that sin? Do you recognize such and such sin?" This will continue until He makes him confess to all of his sins and he (the believer) will think to himself that he is about to be destroyed. Then Allah will say, "Verily, I have concealed these sins for you in the worldly life and I have forgiven you for them today." Then he (the believer) will be given his Book of good deeds. As for the disbelievers and the hypocrites, the witnesses will say, ... هَـوُلاء الَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَى رَبِّهِمْ أَلاَ لَعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ These are the ones who lied against their Lord! No doubt! The curse of Allah is on the wrongdoers." Both Al-Bukhari and Muslim recorded this narration in the Two Sahihs. Concerning Allah's statement,

اللہ جل شانہ پہ بہتان باندھنے والے جو لوگ اللہ کے ذمے بہتان باندھ لیں ، ان کا انجام اور قیامت کے دن کی ساری مخلوق کے سامنے کی ان کی رسوائی کا بیان ہو رہا ہے ۔ مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپا لے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے؟ اور فلاں بھی اور فلاں بھی؟ یہ اقرار کرتا جائے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ بس اب ہلاک ہوا ۔ اس وقت الرحم الراحیمن فرمائے گا کہ میرے بندے دنیا میں ان پر پردہ ڈالتا رہا سن آج بھی میں انہیں بخشتا ہوں ۔ پھر اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ اسے دے دیا جائے گا ۔ اور کفار اور منافقین پر نو گواہ پیش ہوں گے جو کہیں گے کہ یہی وہ ہیں جو اللہ پر جھوٹ بولتے تھے یاد رہے کہ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے ۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے ۔ یہ لوگ اتباع حق ، ہدایت اور جنت سے اوروں کو روکتے رہے اور اپنا طریقہ ٹیڑھا ترچھا ہی تلاش کرتے رہے ساتھ ہی قیامت اور آخرت کے دن کے بھی منکر ہی رہے اور اسے مانا ہی نہیں ۔ یاد رہے کہ یہ اللہ کے ماتحت ہیں وہ ان سے ہر وقت انتقام لینے پر قادر ہے ، اگر چاہے تو آخرت سے پہلے دنیا میں ہی پکڑ لے لیکن اس کی طرف سے تھوڑی سی ڈھیل انہیں مل گئی ہے ۔ بخاری و مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دے دیتا ہے بالآخر جب پکڑتا ہے تب چھوڑتا ہی نہیں ۔ ان کی سزائیں بڑھتی ہی چلی جائیں گی ۔ اس لیے کہ اللہ کی دی ہوئی قوتوں سے انہوں نے کام نہ لیا ۔ سننے سے کانوں کو بہرہ رکھا ۔ حق کی تابعداری سے آنکھوں کو اندھا رکھا جہنم میں جاتے وقت خود ہی کہیں گے کہ ( آیت لو کنا نسمع اونعقل ما کنافی اصحاب السعیر ) یعنی اگر سنتے ہوتے عقل رکھتے ہوتے تو آج دوزخی نہ بنتے یہی فرمان ( آیت الذین کفروا و صدوا عن سبیل اللہ زدنا ھم عذابا فوق العذاب الخ ) میں ہے کہ کافروں کے لیے اللہ کی راہ سے روکنے والوں کے لیے عذاب پر عذاب بڑھتا چلا جائے گا ۔ ہر ایک حکم عدولی پر ، ہر ایک برائی کے کام پر سزا بھگتیں گے ۔ پس صحیح قول یہی ہے کہ آخرت کی نسبت کے اعتبار سے کفار بھی فروع شرع کے مکلف ہیں ۔ یہی ہیں وہ جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور خود اپنے تئیں جہنمی بنایا ۔ جہاں کا عذاب ذرا سی دیر بھی ہلکا نہیں ہوگا ۔ آگ کے شعلے کم ہو نے تو کہاں اور تیز تیز ہوتے جائیں گے جنہیں انہوں نے گھڑ لیا تھا یعنی بت اور اللہ کے شریک وغیرہ آج وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گے بلکہ نظر بھی نہ پڑیں گے بلکہ اور نقصان پہنچائیں گے ۔ وہ تو ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کے شرک سے صاف مکر جائیں گے ۔ گو یہ انہیں باعث عزت سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ان کے لیے باعث ذلت ہیں ۔ کھلے طور پر اس بات کا قیامت کے دن انکار کر دیں گے کہ ان مشرکوں نے انہیں پوجا ۔ یہ ارشاد خلیل الرحمن علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ ان بتوں سے گو تم دنیوی تعلقات وابستہ رکھو لیکن قیامت کے دن ایک دوسرے کا انکار کر دیں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگیں گے ۔ اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور کوئی کسی کو کوئی مدد نہ پہنچائے گا ۔ یہی مضمون ( اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ ١٦٦؁ ) 2- البقرة:166 ) میں ہے یعنی اس وقت پیشوا لوگ اپنے مریدوں سے دست بردار ہو جائیں گے عذاب الٰہی آنکھوں دیکھ لیں گے اور باہمی تعلقات سب منقطع ہو جائیں گے ۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں وہ بھی ان کی ہلاکت اور نقصان کی خبر دیتی ہیں ۔ یقینا یہی لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے ۔ جنت کے درجوں کے بدلے انہوں نے جہنم کے گڑھے لیئے ۔ اللہ کی نعمتوں کے بدلے جہنم کی آگ قبول کی ۔ میٹھے ٹھنڈے خوشگوار جنتی پانی کے بدلے جہنم کا آگ جیسا کھولتا ہوا گرم پانی انہیں حورعین کے بدلے لہو پیپ اور بلند و بالا محلات کے بدلے دوزخ کے تنگ مقامات انہوں نے لیے ، رب رحمن کی نزدیکی اور دیدار کے بدلے اس کا غضب اور سزا انہیں ملی ۔ بیشک یہاں یہ سخت گھاٹے میں رہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

18۔ 1 یعنی جن کا اللہ نے کائنات میں تصرف کرنے کا یا آخرت میں شفاعت کا اختیار نہیں دیا ہے۔ ان کی بابت یہ کہا جائے کہ اللہ نے انھیں یہ اختیار دیا ہے۔ 18۔ 2 حدیث میں اس کی تفسیر اس طرح آتی ہے کہ ' قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ایک مومن سے اس کے گناہوں کا اقرار و اعتراف کروائے گا کہ تجھے معلوم ہے کہ تو نے فلاں گناہ بھی کیا تھا، فلاں بھی کیا تھا، وہ مومن کہے گا ہاں ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میں نے ان گناہوں پر دنیا میں بھی پردہ ڈالے رکھا تھا، جا آج بھی انھیں معاف کرتا ہوں، لیکن دوسرے لوگ یا کافروں کا معاملہ ایسا ہوگا کہ انھیں گواہوں کے سامنے پکارا جائے گا اور گواہ یہ گواہی دیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا (صحیح بخاری) ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢ ٢] اللہ پر جھوٹ لگانے کی مختلف صورتیں :۔ افتراء کے معنی یہ ہے کہ کوئی بات خود ایجاد کرکے اللہ کے ذمہ لگا دی جائے یا اسے شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کی جائے اور یہ کام گناہ کبیرہ ہے پھر افتراء کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ مثلاً کسی حلال چیز کو حرام یا حرام کو حلال قرار دینا اور شریعت کا حکم ثابت کرنا یا اللہ کے سوا کسی دوسرے بزرگ، نبی یا پیر فقیر کو یا آستانے کو اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا یا یہ سمجھنا کہ اگر قیامت کو ہم سے مواخذہ ہوا تو ہمارے پیروں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ ہمیں چھڑا لیں گے یا منزل من اللہ کلام کو منزل من اللہ نہ سمجھنا اور یہ سب باتیں شرک یا اس سے ملتی جلتی ہیں ایسے لوگوں سے قیامت کے دن کسی قسم کی رو رعایت نہیں ہوگی۔ علی رؤس الاشہادان کے جرم کو ثابت کرکے قرار واقعی سزا دی جائے گی جبکہ دوسرے مومن گنہگاروں سے اس قسم کی سختی نہ ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے نرمی کا سلوک اختیار کریں گے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سستی نجات کا عقیدہ رکھنے والے دراصل آخرت کے منکر ہیں :۔ ایک دفعہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) طواف کر رہے تھے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا : ابن عمر (رض) ! سرگوشی کے متعلق آپ نے نبی سے کچھ سنا ہے ؟ (جو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مومنوں سے کرے گا) انہوں نے کہا : میں نے سنا آپ فرماتے تھے : مومن اپنے پروردگار کے قریب لایا جائے گا یہاں تک کہ پروردگار اپنی ایک جانب کرلے گا پھر اس کے سارے گناہ اسے بتلائے گا اور فرمائے گا && فلاں گناہ تجھے معلوم ہے ؟ && مومن کہے گا && پروردگار ! مجھے معلوم ہے && دوبارہ یہی سوال و جواب ہوگا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا && دنیا میں میں نے تیرا گناہ چھپائے رکھا اور آج تجھے معاف کرتا ہوں && پھر اس کی نیکیوں کا دفتر لپیٹ دیا جائے گا (اس کو دے دیا جائے گا) رہے دوسرے لوگ یا کافر لوگ۔ تو شہادتیں مکمل ہوجانے کی بنا پر ان کے متعلق اعلان کیا جائے گا کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) [٢ ٢۔ الف ] اشہاد۔ شاہد کی جمع بھی آتی ہے جیسے صاحب کی جمع اصحاب آتی ہے اور شہید کی بھی جیسے شریف کی جمع اشراف آتی ہے اور یہ گواہ فرشتے اور کراماً کاتبین بھی ہوسکتے ہیں۔ انبیاء بھی، عامۃ الناس بھی اور جب اپنا جرم تسلیم نہ کرنے پر اصرار کریں گے تو اس کے اعضاء وجوارح بھی اس کے خلاف گواہی دیں گے اور شہادتوں کی بنا پر ہی اس پر فرد جرم عائد کی جائے گی کہ فی الواقع ان لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا : یعنی اپنی جان پر ظلم کرنے والے بہت ہیں، مگر اس سے بڑھ کر کوئی نہیں جو جھوٹ گھڑ کر اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دے، مثلاً مخلوق کو خالق کی صفات رکھنے والا قرار دے، بتوں، ولیوں اور دیوتاؤں کو اللہ کے حضور بلا اجازت سفارش کی جرأت رکھنے والے سمجھے، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے اور مسیح (علیہ السلام) یا کسی اور کو اللہ کی اولاد یا اس کا حصہ یا ٹکڑا قرار دے۔ موضح میں ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کئی طرح سے ہے، مثلاً علم میں غلط نقل کرنا۔ (آل عمران : ٧٨) نبوت یا وحی کا جھوٹا دعویٰ کرنا۔ (انعام : ٩٣) خواب بنا لینا، ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ مِنْ أَفْرَی الْفِرٰی أَنْ یُّرِیَ عَیْنَیْہٖ مَا لَمْ تَرَ ) [ بخاري، التعبیر، باب من کذب فی حلمہ : ٧٠٤٣ ] ” سب سے بڑے جھوٹوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو وہ چیز دکھائے جو انھوں نے نہیں دیکھی (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے) ۔ “ درایت یا عقل کو دین کے معاملات میں درمیان لے آنا۔ (قصص : ٥٠) اُولٰۗىِٕكَ يُعْرَضُوْنَ عَلٰي رَبِّهِمْ : اللہ تعالیٰ ایسے مفتری اور جھوٹے کفار و مشرکین اور منافقین کو قیامت کے دن سب کے سامنے رسوا کرے گا اور گواہ بھی سب کے سامنے ان کے رب تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کی شہادت دیں گے۔ البتہ مومن گناہ گاروں کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا۔ عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : ( إِنَّ اللّٰہَ یُدْنِي الْمُؤْمِنَ فَیَضَعُ عَلَیْہِ کَنَفَہٗ وَیَسْتُرُہٗ فَیَقُوْلُ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا ؟ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا ؟ فَیَقُوْلُ نَعَمْ أَيْ رَبِّ ، حَتَّی قَرَّرَہٗ بِذُنُوْبِہِ وَرَأَی فِيْ نَفْسِہِ أَنَّہٗ ھَلَکَ ، قَالَ سَتَرْتُھَا عَلَیْکَ فِيْ الدُّنْیَا، وَأَنَا أَغْفِرُھَا لَکَ الْیَوْمَ ، فَیُعْطَي کِتَابَ حَسَنَاتِہِ ، وَأَمَّا الْکَافِرُ وَالْمُنَافِقُوْنَ فَیَقُوْلُ الْأَشْھَادُ : (هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰي رَبِّهِمْ ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ ) [ ھود : ١٨] ) [ بخاری، المظالم، باب قول اللہ تعالیٰ : ( ألا لعنۃ اللّٰہ علی الظالمین ) : ٢٤٤١ ] ” اللہ تعالیٰ مومن کو قریب کرے گا اور اس پر اپنا دامن ڈال کر پردے میں کرے گا، پھر کہے گا کہ تو فلاں گناہ پہچانتا ہے ؟ کیا فلاں گناہ پہچانتا ہے ؟ وہ کہے گا، ہاں اے رب ! یہاں تک کہ جب اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروا لے گا اور وہ اپنے دل میں سمجھ لے گا کہ وہ ہلاک ہوگیا تو (اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا، میں نے دنیا میں تجھ پر ان گناہوں پر پردہ ڈالا اور آج میں تجھے وہ بخشتا ہوں، تو اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی۔ رہا کافر اور منافق، تو گواہ کہیں گے : (هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰي رَبِّهِمْ ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ ) ” یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا۔ سن لو ! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ “ وَيَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ ۔۔ : گواہوں سے مراد ان کے پیغمبر یا وہ فرشتے جو عمل لکھتے ہیں اور علماء جنھوں نے اللہ کے احکام کی تبلیغ کی۔ یہ سب گواہ کفار کے متعلق اعلان کریں گے کہ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے جھوٹی باتیں منسوب کرتے تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اور ایسے شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے ( کہ اس کی توحید کا اس کے رسول کی رسالت کا اور اس کے کلام ہونے کا انکار کرے) ایسے لوگ ( قیامت کے روز) اپنے رب کے سامنے ( مفتری ہونے کی حیثیت سے) پیش کئے جائیں گے اور ( اعمال کے) گواہ فرشتے ( علی الاعلان) یوں کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنے رب کی نسبت جھوٹی باتیں لگائی تھیں، سب سن لو کہ ایسے ظالموں پر خدا کی ( زیادہ) لعنت ہے جو کہ ( اپنے کفر و ظلم کے ساتھ) دوسروں کو بھی خدا کی راہ ( یعنی دین) سے روکتے تھے اور اس ( راہ دین) میں کجی ( اور شبہات) نکالنے کی تلاش ( اور فکر) میں رہا کرتے تھے ( تاکہ دوسروں کو گمراہ کریں) اور آخرت کے بھی منکر تھے ( یہ فرشتوں کے اعلان کا مضمون تھا، آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ) یہ لوگ ( تمام) زمین ( کے تختہ) پر ( بھی) خدا تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے تھے ( کہ کہیں جا چھپتے اور خدا تعالیٰ کے ہاتھ نہ آتے) اور نہ ان کا خدا کے سوا کوئی مددگار ہوا ( کہ بعد گرفتاری کے چھڑا لیتا) ایسوں کو ( اوروں سے) دونی سزا ہوگی ( ایک کافر ہونے اور ایک دوسروں کو کافر بنانے کی کوشش کرنے کی) یہ لوگ ( مارے نفرت کے احکام الہٰی کو) سن نہ سکتے تھے اور نہ ( غایت عناد سے راہ حق کو) دیکھتے تھے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو برباد کر بیٹھے اور جو معبود انہوں نے تراش رکھے تھے ( آج) ان سے سب غائب ( اور گم) ہوگئے ( کوئی بھی تو کام نہ آیا پس) لازمی بات ہے کہ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ میں یہی لوگ ہوں گے ( یہ تو انجام ہوگا کافروں کا آگے مسلمانوں کا انجام مذکور ہے کہ) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے اچھے کام کئے اور ( دل سے) اپنے رب کی طرف جھکے ( یعنی انقیاد اور خشوع دل میں پیدا کیا) ایسے لوگ اہل جنت ہیں ( اور) وہ اس میں ہمیشہ رہا کریں گے ( یہ دونوں کے انجام کا تفاوت بیان ہوگیا، آگے تفاوت حال کی مثال ہے جس پر انجام کا تفاوت مرتب ہوتا ہے پس ارشاد ہے کہ) دونوں فریق ( مذکورین یعنی مومن و کافر) کی حالت ایسی ہے جیسے ایک شخص ہو اندھا بھی ہو اور بہرا بھی ( جو نہ عبارت کو سنے نہ اشارہ کو دیکھے تو اس کے سمجھنے کی عادۃً کوئی صورت ہی نہیں) اور ایک شخص ہو جو دیکھتا بھی ہو اور سنتا بھی ہو ( اس کو سمجھنا بہت آسان ہو) کیا یہ دونوں شخص حالت میں برابر ہیں ( ہرگز نہیں، یہی حالت کافر اور مسلمان کی ہے کہ وہ ہدایت سے بہت دور ہے اور یہ ہدایت سے موصوف ہے) کیا تم ( اس فرق کو) سمجھتے نہیں ( ان دونوں میں فرق بدیہی ہے اس میں شبہ کی گنجائش نہیں ) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللہِ كَذِبًا۝ ٠ ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُعْرَضُوْنَ عَلٰي رَبِّہِمْ وَيَقُوْلُ الْاَشْہَادُ ہٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰي رَبِّہِمْ۝ ٠ ۚ اَلَا لَعْنَۃُ اللہِ عَلَي الظّٰلِــمِيْنَ۝ ١٨ ۙ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں فری الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ، ( ف ری ) الفری ( ن ) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں جھوٹ شرک اور ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا ۔ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔ ها هَا للتنبيه في قولهم : هذا وهذه، وقد ركّب مع ذا وذه وأولاء حتی صار معها بمنزلة حرف منها، و (ها) في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ [ آل عمران/ 66] استفهام، قال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ [ آل عمران/ 66] ، ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] ، هؤُلاءِ جادَلْتُمْ [ النساء/ 109] ، ثُمَّ أَنْتُمْ هؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ [ البقرة/ 85] ، لا إِلى هؤُلاءِ وَلا إِلى هؤُلاءِ [ النساء/ 143] . و «هَا» كلمة في معنی الأخذ، وهو نقیض : هات . أي : أعط، يقال : هَاؤُمُ ، وهَاؤُمَا، وهَاؤُمُوا، وفيه لغة أخری: هَاءِ ، وهَاءَا، وهَاءُوا، وهَائِي، وهَأْنَ ، نحو : خَفْنَ وقیل : هَاكَ ، ثمّ يثنّى الکاف ويجمع ويؤنّث قال تعالی: هاؤُمُ اقْرَؤُا كِتابِيَهْ [ الحاقة/ 19] وقیل : هذه أسماء الأفعال، يقال : هَاءَ يَهَاءُ نحو : خاف يخاف، وقیل : هَاءَى يُهَائِي، مثل : نادی ينادي، وقیل : إِهَاءُ نحو : إخالُ. هُوَ : كناية عن اسم مذكّر، والأصل : الهاء، والواو زائدة صلة للضمیر، وتقوية له، لأنها الهاء التي في : ضربته، ومنهم من يقول : هُوَّ مثقّل، ومن العرب من يخفّف ويسكّن، فيقال : هُو . ( ھا ) ھا ۔ یہ حرف تنبیہ ہے اور ذا ذہ اولاٰ اسم اشارہ کے شروع میں آتا ہے اور اس کے لئے بمنزلہ جز سمجھنا جاتا ہے مگر ھا انتم میں حرف ھا استہفام کے لئے ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ [ آل عمران/ 66] دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا ۔ ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] دیکھو تم ایسے صاف دل لوگ ہو کہ ان لوگوں سے ودستی رکھتے ہو ۔ هؤُلاءِ جادَلْتُمْ [ النساء/ 109] بھلا تم لوگ ان کی طرف سے بحث کرلیتے ہو ۔ ثُمَّ أَنْتُمْ هؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ [ البقرة/ 85] پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کردیتے ہو ۔ لا إِلى هؤُلاءِ وَلا إِلى هؤُلاءِ [ النساء/ 143] نہ ان کی طرف ( ہوتے ہو ) نہ ان کی طرف ۔ ھاءم ـ اسم فعل بمعنی خذ بھی آتا ہے اور ھات ( لام ) کی ضد ہے اور اس کی گردان یون ہے ۔ ھاؤم ھاؤم ۔ ھاؤموا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ هاؤُمُ اقْرَؤُا كِتابِيَهْ [ الحاقة/ 19] لیجئے اعمالنامہ پڑھئے اور اس میں ایک لغت بغیر میم کے بھی ہے ۔ جیسے : ۔ ھا ، ھا ، ھاؤا ھائی ھان کے بروزن خفن اور بعض اس کے آخر میں ک ضمیر کا اضافہ کر کے تنبیہ جمع اور تذکرو تانیث کے لئے ضمیر میں تبدیل کرتے ہیں جیسے ھاک ھاکما الخ اور بعض اسم فعل بنا کر اسے کھاؤ یھاء بروزن خاف یخاف کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک ھائی یھائی مثل نادٰی ینادی ہے اور بقول بعض متکلم مضارع کا صیغہ اھاء بروزن اخال آتا ہے ۔ لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨) اور ایسے شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ کی افتراء کرے، ایسے لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور فرشتے اور انبیاء کرام اعلانیہ یوں کہیں گے کہ یہ وہ کافر ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نسبت جھوٹی باتیں لگائی تھیں ایسے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨ (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا) جس نے خود کوئی چیز گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردی۔ (اَلاَ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ) ان جھوٹ گھڑنے والوں میں غلام احمد قادیانی آنجہانی اور اس جیسے دوسرے مدعیان نبوت بھی شامل ہوں گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20.To invent a lie against God consists of stating that beings other than God also have a share with God in His godhead, that like God they are also entitled to be served and worshipped by God's creatures. Inventing a lie against God also consists of stating that God is not concerned with providing guidance to His creatures, that He did not raise Prophets for that purpose, and that He rather left men free to behave as they pleased. Inventing a lie against God also consists of stating that God created human beings by way of jest and sport and that He will not have them render an account to Him, and that He will not requite them for their deeds. 21. Such a proclamation would be made on the Day of Judgement.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :20 یعنی یہ کہے کہ اللہ کے ساتھ خدائی اور استحقاق بندگی میں دوسرے بھی شریک ہیں ۔ یا یہ کہے کہ خدا کو اپنے بندوں کی ہدایت و ضلالت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس نے کوئی کتاب اور کوئی نبی ہماری ہدایت کے لیے نہیں بھیجا ہے بلکہ ہمیں آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جو ڈھنگ چاہیں اپنی زندگی کے لیے اختیار کرلیں ۔ یا یہ کہے کہ خدا نے ہمیں یونہی کھیل کے طور پر پیدا کیا اور یونہی ہم کو ختم کر دے گا ، کوئی جواب دہی ہمیں اس کے سامنے نہیں کرنی ہے اور کوئی جزا و سزا نہیں ہونی ہے ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :21 یہ عالم آخرت کا بیان ہے کہ وہاں یہ اعلان ہوگا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

13: گواہی دینے والوں میں وہ فرشتے بھی شامل ہیں جو انسانوں کے اعمال پر لکھنے پر مقرر ہیں، اور وہ انبیائے کرام علیہم السلام بھی جو اپنی اپنی امتوں کے بارے میں گواہی دیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٨۔ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) کی حدیث ہے اس میں اس آیت کی تفسیر اور شان نزول آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح فرمائی ہے کہ میدان محشر میں نامہ اعمال بٹنے سے پہلے اللہ تعالیٰ بعضے مسلمان گنہگاروں کو اپنے بہت ہی پاس بلا کر ایسے ہر ایک شخص کے گناہ اس کو یاد دلاوے گا جب وہ مسلمان گنہگار اپنے ہر ایک گناہ کا اقرار کرے گا اور دل میں جان لیوے گا کہ اب میں دوزخ کو بھیجا جاؤں گا اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے فرماوے گا کہ دنیا میں میں نے تیرے یہ گناہ چھپائے اور لوگوں سے تیری عیب پوشی کی آج بھی تیرے گناہ چھپاتا ہوں یہ کہہ کر اس شخص کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دینے کا حکم فرمادے گا اور یہ لوگ بعد حساب و کتاب کے جنت میں چلے جاویں گے اور کافروں اور منافقوں کو حساب سے پہلے ہی فرشتے اور نیک اہل محشر پکار پکار کر کہویں گے ان پر خدا کی لعنت ہے یہی لوگ ہیں جو خدا اور رسول اور خدا کے حکموں اور آج کے دن کو جھٹلاتے تھے ١ ؎ اسی میدان محشر کے فرشتوں کی شہادت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے چناچہ اس کا ذکر اوپر بھی گزر چکا ہے غرض ان لوگوں کا نامہ اعمال الٹے ہاتھ میں دیا جاوے گا اور حساب و کتاب کے بعد یہ لوگ دوزخ چلے جاویں گے۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٤١ ج ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:18) یعرضون علی۔ پیش کئے جائیں گے۔ مضارع مجہول صیغہ جمع مذکر غائب۔ عرض الشیٔ بفلان کسی چیز کو کسی کے پیش کرنا عرض الشیٔ علیہ کوئی چیز کسی کو دکھلانا یا پیش کرنا۔ قرآن مجید میں ہے ثم عرضہم علی الملئکۃ (2:31) پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔ اور یوم یعرض الذین کفروا علی النار (46:20) اور جس روز کافر دوزخ کے سامنے کئے جائیں گے۔ الاشھاد۔ گواہی دینے والے۔ گواہ۔ شاہد کی جمع ہے۔ جیسے صاحب کی جمع اصحاب ہے یا شھید کی جمع ہے۔ جیسے شریف کی جمع اشراف ہے۔ یہاں اشھاد سے مراد وہ ملائکہ ہیں جو انسان کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ یا اس سے مراد رسول اور پیغمبر اور انبیاء ہیں۔ یا اس سے مراد جملہ خلائق ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ مثلا بتوں کو اللہ کے حضور سفارشی سمجھے یا فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے۔ (قرطبی) ۔ موضح میں ہے کہ خدا پر جھوٹ باندھنا کئی طرح ہے مثلا علم میں غلط نقل کرنا، خواب بنا لینا یا دریت و عقل کو دین کے معاملات میں درمیان میں لے آنا یا دعویٰ کرنا کہ کشف رکھتا ہوں یا اللہ کے مقرب ہوں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی اس توحید کا اس کے رسول کی رسالت کا اس کے کلام کے کلام ہونے کا انکار کرے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی تکذیب، آخرت کا انکار کرنا۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ کفار یہ الزام عائد کرتے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید اپنی طرف سے بنالیتا ہے۔ ان کا یہ الزام بھی تھا کہ مرنے کے بعد اللہ کے حضور پیش ہونے کا تصور اس شخص کے الفاظ کی جادوگری ہے حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ باتیں من جانب اللہ کیا کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے ! بلکہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ جو حقیقت میں اللہ کو جھٹلانا ہے۔ جو شخص اللہ پر جھوٹ بولتا ہے اس سے بڑھ کر کون بڑا ظالم ہوسکتا ہے ؟ ان جھوٹوں کا اس وقت کیا حال ہوگا جب انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا اور ان پر شہادتیں قائم کی جائیں گی۔ تب یہ کوئی جواب نہیں دے پائیں گے۔ اس وقت گواہ کہیں گے کہ ظالموں پر اللہ کی پھٹکارہو۔ یہ لوگ قیامت کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی وجہ سے یہ لوگ قولاً اور عملاً اللہ کی راہ میں رکاوٹ بننے کے ساتھ کفر کررہے ہیں۔ (عَنْ کَنَانَۃَ الْعَدَوِیِّ قَالََ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ (رض) عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، أخْبَرَنِیْ عنِ الْعَبْدِ ، کَمْ مَعَہٗ مِنْ مَلَکٍ ؟ فَقَالَ مَلَکٌ عَلٰی یَمِیْنِکَ عَلٰی حَسُنَاتِکَ ، وَھُوَ آمِرٌ عَلٰی اَّلذِی عَلٰی الشِّمَالِ ، إذَا عَمِلْتَ حَسَنَۃً کُتِبَتْ عَشْرًا، فَإذَا عَمِلْتَ سَیِّءَۃً قَالَ الَّذِی عَلٰی الشِّمَالِ لِلَّذِیْ عَلٰی الْیَمِیْنِ اَکْتُبُ ؟ قَالَ لَا لَعَلَّہٗ یَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَیَتُوْبُ )[ ابن کثیر ] ” کنانہ بن عدی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہنے لگے اللہ کے رسول آدمی کے ساتھ کتنے فرشتے ہوتے ہیں آپ نے فرمایا ایک فرشتہ دائیں جانب جو نیکیاں تحریر کرتا ہے اور وہ بائیں جانب والے فرشتے سے با اختیار ہوتا ہے۔ جب انسان نیکی کرتا ہے تو وہ دس نیکیاں لکھ لیتا ہے۔ جب برائی کرتا ہے تو بائیں جانب والا دائیں جانب والے سے کہتا ہے کیا میں لکھ لوں ؟ وہ کہتا ہے نہیں شاید کہ استغفار کرلے اور توبہ کرلے۔ “ مسائل ١۔ اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں جو اللہ پر افترا بازی کرتا ہے۔ ٢۔ قیامت کے دن جھوٹے اللہ کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ٣۔ جھوٹوں کے خلاف گواہ پیش کیے جائیں گے۔ ٤۔ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے۔ ٥۔ آخرت کا انکار کرنے والے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن مجرم کے خلاف شہادتیں : ١۔ قیامت کے دن جھوٹ باندھنے والوں کے خلاف گواہ پیش کیے جائیں گے۔ (ہود : ١٨) ٢۔ قیامت کے دن مجرم کے ہاتھ، پاؤں اور زبان اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ (النور : ٢٤) ٣۔ قیامت کے دن مجرموں کے مونہہ پر مہر لگادی جائے گی ہاتھ اور پاؤں اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ (یٰس : ٦٥) ٤۔ یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے۔ تو ان کے کان، آنکھیں اور جسم ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ (حٰم السجدۃ : ٢٠) ٥۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے۔ (البقرۃ : ١٤٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب سیاق کلام ان لوگوں کی طرف رخ کرتا ہے جن لوگوں کا زعم یہ ہے کہ حضور نعوذ باللہ اپنی جانب سے اس قرآن کو پیش کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ اور رسول اللہ دونوں کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ لوگ اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں موجود ہیں اور ایسے افتراء پردازوں کا مقدمہ اللہ کے ہاں پیش ہے۔ چاہے ان لوگوں کی تکذیب یہ ہو کہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے منزل ہے یا نہیں یا یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ اور لوگوں کو شریک کرتے ہوں ، یا یہ لوگ اللہ کے ساتھ دوسرے انسانی خداؤں کو اللہ کے اقتدار اعلیٰ میں شریک ٹھہراتے ہوں۔ آیات عام ہیں تاکہ سب قسم کے افتراء پرداز اس کے مدلول میں شامل ہوجائیں۔ غرض ان لوگوں کو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے ، ان کی تشہیر ہو رہی ہے ، انہیں شرمندہ کیا جا رہا ہے ، سر عام۔ اسی منظر میں دوسری جانب مومنین ہیں جو مطمئن کھڑے ہیں اور ان کے لیے ان کے رب کی طرف سے انعامات منتظر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں قسم کے لوگوں کا تقابل اس طرح پیش فرماتا ہے۔ ایک طرف اندھے اور بہرے ہیں اور دوسری جانب سننے اور دیکھنے والے ہیں : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أُولَئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الأشْهَادُ هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ (١٨) الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُمْ بِالآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ (١٩) أُولَئِكَ لَمْ يَكُونُوا مُعْجِزِينَ فِي الأرْضِ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ (٢٠) أُولَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (٢١) لا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الآخِرَةِ هُمُ الأخْسَرُونَ (٢٢)إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُوا إِلَى رَبِّهِمْ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (٢٣) مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأعْمَى وَالأصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلا أَفَلا تَذَكَّرُونَ (٢٤) " اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے ؟ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔ سنو ! خدا کی لعنت ہے ظالموں پر . ان ظالموں پر جو خدا کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں ، اس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں ، اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ وہ زمین میں اللہ کو بےبس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلہ میں کوئی ان کا حامی تھا۔ انہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا۔ وہ نہ کسی کی سن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سوجھتا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ ان سے کھویا گیا جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔ ناگزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے رب ہی کے ہو کر رہے ، تو یقیناً وہ جنتی لوگ ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو ہو اندھا بہرا اور دوسرا ہو دیکھنے اور سننے والا ، کیا یہ دونوں یکساں ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم (اس مثال سے) کوئی سبق نہیں لیتے ؟ " جھوٹا باندھنا تو بذات خود ایک بڑا جرم ہے ، اور جس پر افترا باندھا جائے یہ اس پر ایک عظیم ظلم ہے۔ لیکن اگر یہ افترا ذات باری پر باندھا جائے تو یہ ایک عظیم جرم ہے ، اور نہایت ہی خطناک جسارت ہے۔ اس لیے کہ أُولَئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الأشْهَادُ هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ ۔ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔ کس پر جھوٹ ؟ اپنے رب پر جھوٹ ، کسی اور پر نہیں۔ اس منظر میں ان جیسے لوگوں کو اچھی طرح شرمندہ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس شرمناک جرم کی سزا کے طور پر ان پر لعنت اور ملامت وارد ہوتی ہے۔ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ " سنو خدا کی لعنت ہے ظالموں پر " اور گواہ بھی یہ شہادت دے دیں گے۔ یہ گواہ کون لوگ ہوں گے ، ملائکہ ، رسول ، اور اہل ایمان یہ تمام مخلوق خدا سب کی سب گواہ بن جائے گی۔ یہ نہایت ہی بڑی شرمندگی اور سر عام ملامت ہوگی ، مجمع عام ہوگا اور اس کے سامنے ان کو اس شرمندگی سے دوچار ہونا ہوگا۔ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ " سنو خدا کی لعنت ہے ظالموں پر "۔ ظالموں سے مشرکین مراد ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ پر افتراء باندھتے ہیں تاکہ عوام الناس کو اللہ کی راہ سے روکیں اور یبغونھا عوجا " ان کے راستے کو کجی کرنا چاہتے ہیں " وہ نہ درستگی چاہتے ہیں اور نہ راہ راست کو پسند کرتے ہیں۔ وہ ہر معاملے میں ٹیڑھ ، پہلو تہی اور انحراف کے عاشق ہیں ، چاہے وہ راستے پر جا رہے ہوں ، چاہے وہ زندگی گزارنے کی کوئی حالت ہو یا کوئی اور معاملہ درپیش ہو۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ " اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں " ھُم کے لفظ کو دو بار اس لیے لایا گیا ہے کہ اس سے حصر اور تاکید مقصود ہے اور یہ بتانا مطلوب ہے کہ یہ انکار ان کے رگ و پے میں بسا ہوا ہے اور وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ یہ ان کی علامت ہو۔ وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں وہی ظالم کہلاتے ہیں وہ جب اسلام کے صراط مستقیم اور سواء السبیل سے پھرتے ہیں تو ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے پورے نظام کو ٹیڑھا کردیتا ہے اور انسان کی سوچ کے دھارے پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ اللہ تو چاہتا ہے کہ انسان راہ مستقیم پر گامزن ہوکر شرف کے مقام تک پہنچ جائے ، جبکہ غیر اللہ کی غلامی نفس انسانی کے اندر ذلت پیدا کردیت ہے اور اس کے نتیجے میں سوسائٹی کے اندر ظلم اور تجاوز پرورش پاتا ہے حالانکہ اللہ کا منشا یہ ہے کہ ہر سوسائٹی میں عدل و انصاف قائم ہو۔ اور لوگوں کی جدوجہد کا رخ اس فضول مقصد کے حصول کی طرف مڑجاتا ہے کہ وہ اہل زمین کو اپنا رب اور الہ بنانا چاہتے ہیں اور انسانوں کے ارد گرد ناچتے اور ڈھول پیٹتے ہیں اور ان کو اس قدر بڑھاتے چڑھاتے ہیں کہ یہ انسان حقیقی رب کی جگہ لے لیں حالانکہ یہ بونے اور حقیر لوگ جو خود مخلوق ہیں ، خالق حقیقی کے خلا کو کس طرح بھر سکتے ہیں۔ ان ارضی ارباب کے یہ حقیر اور بونے بندے رات دن کوشش کرتے ہیں کہ ان جھوٹے خداؤں کی خدائی قائم ہو ، یہ لوگ ان تھک جد و جہد کرتے ہیں۔ وہ ہر وقت ان ارضی بتوں کو روشن رکھتے ہیں اور ان کی شخصیات کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے ارد گرد اور ان کے تکیوں اور آستانوں پر میلے اور ڈھول دھمکاتے برپا رکھتے ہیں اور گانے بجانے اور دوسری دلچسپیوں کے ذریعے ان کی تعریف اور تسبیح بھی کرتے رہتے ہیں لیکن ان تمام دلچسپیوں اور ان تمام انتھک مساعی کے نتیجے میں انسان کے لیے کوئی بھی مفید نتیجہ نہیں نکلتا۔ اس سے زیادہ انسانیت کی بدبختی اور کیا ہوگی کہ انسان کی پوری زندگی کی جدوجہد یوں اکارت جائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے ‘ اور اہل ایمان کے لئے اللہ کی طرف سے جنت کا انعام مشرکین اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد تجویز کرتے تھے اور اس کے لئے شریک ٹھہراتے تھے اور جب انہیں اس بارے میں نصیحت کی جاتی تھی تو کہتے تھے۔ (ھٰٓؤُلٓاءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ) (کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے لئے سفارش کردیں گے) اور یوں بھی کہتے تھے۔ (مَا نَعْبُدُھُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی) (کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے) ظاہر ہے کہ یہ باتیں انہوں نے خود ہی تجویز کرلیں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کی خبر نہ دی گئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا یہ افتراء ہے اور بہتان ہے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے شریک تجویز کرنا پھر یہ کہنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کردیں گے اور یہ کہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں گے اس کا معنی یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ بات بتادی گئی بلکہ اللہ کی کتابیں اور اللہ کے نبی اس کے خلاف بتاتے رہے لہٰذا ان لوگوں کے یہ سب دعوے للہ تعالیٰ پر بہتان ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر افتراء کرے اور اس ملک قدوس پر جھوٹ باندھے ان لوگوں کی رسوائی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اُولٰٓءِکَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰی رَبِّھِمْ ) (کہ یہ لوگ اللہ پر پیش کئے جائیں گے اس وقت ان کے دعو وں اور احوال واقوال کا حساب لیا جائے گا) (وَیَقُوْلُ الْاَشْھَادُ ھآؤُلَاءِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی رَبِّھِمْ ) (اور وہاں جو گواہ ہوں گے وہ کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا) گواہوں سے حضرات انبیاء کرام اور ملائکہ عظام (علیہ السلام) اور دیگر مؤمنین مراد ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان کے اعضاء اور جوارح مراد ہیں جو ان کے خلاف گواہی دیں گے ‘ یہ گواہی دینے والے حضرات یہ اعلان بھی فرمائیں گے کہ (اَلاَ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ) (خبردار ‘ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

22: زجر مع تخویف اخروی تا ھُمُ الْاَخْسَرُوْنَ وہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے جو بلا دلیل عقل ونقل اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرے جن سے اس کی ذات گرامی پاک اور منزہ ہے مثلاً اپنے کود ساختہ معبودوں کو عنداللہ شفیع غالب کہنا وغیرہ۔ بان نسب الیہ ما لا یلیق بہ کقولھم الملائکۃ بنات اللہ تعالیٰ اللہ عن ذلک علوا کبیرا و قولھم لالھتھم ھؤلاء شفعاءنا عند اللہ (روح ج 12 ص 30) ۔ 23: یہ کفار و مشرکین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ الاشھاد سے فرشتے (مطلقا یا حفظہ یا کراما کاتبین) انبیاء (علیہم السلام) اور مومنین مراد ہیں۔ وہ خدا کے سامنے ان افتراڑ کرنے والوں کے بارے میں شہادت دیں گے کہ یہ دنیا میں اللہ پر افتراء کیا کرتے تھے۔ اَلَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ الخ یہ ادخال الٰہی ہے اور اشہاد (گواہوں) کا کلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب سے ایک اصول بیان فرمایا ہے کہ ان مشرکین پر خدا کی لعنت ہے اور وہ رحمت الٰہی سے دور ہیں جو دوسرے لوگوں کو بھی راہ توحید سے بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وَیَبْغُوْنَھَا عِوَجًا اور ان کے دلوں میں شبہات پیدا کر کے ان کو ایمان و توحید اور اطاعت و عبادت سے روک کر شرک و معاصی کی ترغیب دیتے ہیں۔ یعنی انھم کما ظلموا انفسہم بالتزام الکفروالضلال فقد اضافوا الیہ المنع من الدین الحق والقاء الشبھات و تعویج الدلائل المستقیمۃ (کبیر ج 7 ص 204) ای یعدلون بالناس عنھا الی الشرک (قرطبی ج 9 س 19) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

18 اور اس سے بڑھ کر کون شخص ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یہ جھوٹ باندھنے والے اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کئے جائیں گے اور گواہی دینے والے فرشتے یوں گواہی دیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا اور افترار کیا تھا سب سن لو کہ ایسے ظالموں پر اللہ کی پھٹکار اور لعنت ہو۔