Surat Hood

Surah: 11

Verse: 27

سورة هود

فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ مَا نَرٰىکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثۡلَنَا وَ مَا نَرٰىکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیۡنَ ہُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاۡیِ ۚ وَ مَا نَرٰی لَکُمۡ عَلَیۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭ بَلۡ نَظُنُّکُمۡ کٰذِبِیۡنَ ﴿۲۷﴾

So the eminent among those who disbelieved from his people said, " We do not see you but as a man like ourselves, and we do not see you followed except by those who are the lowest of us [and] at first suggestion. And we do not see in you over us any merit; rather, we think you are liars."

اس کی قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا کہ ہم تو تجھے اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں اور تیرے تابعداروں کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح طور پر سوائے نیچ لوگوں کے اور کوئی نہیں جو بے سوچے سمجھے ( تمہاری پیروی کر رہے ہیں ) ہم تو تمہاری کسی قسم کی برتری اپنے اوپر نہیں دیکھ رہے ، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھ رہے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَقَالَ الْمَلُ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قِوْمِهِ ... The chiefs who disbelieved among his people said; The word `chiefs' (Al-Mala'u) here means the leaders and the heads of the disbelievers. They said, ... مَا نَرَاكَ إِلاَّ بَشَرًا مِّثْلَنَا ... We see you but a man like ourselves, This means, "You are not an angel. You are only a human being, so how can revelation come to you over us. We do not see anyone following you except the lowliest people among us, like the merchants, weavers and similar people. No people of nobility, or rulers among us follow you. These people who follow you are not known for their intelligence, wit, or sharp thinking. Rather, you merely invited them (to this Islam) and they responded to your call and followed you (ignorantly)." This is the meaning of their statement, ... وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلاَّ الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ ... nor do we see any follow you but the meanest among us and they (too) followed you without thinking. The statement, "without thinking," means that they merely followed the first thing that came to their minds. Concerning the statement, ... وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ ... And we do not see in you any merit above us, In this they are saying, "We do not see that you (and your followers) have any virtuous status above us in your physical appearance, your character, your provisions, or your condition, since you accepted this (new) religion of yours." ... بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ in fact we think you are liars. This means, "We think you are lying about that which you are claiming for yourselves of righteousness, piety, worship and happiness in the abode of the Hereafter when you arrive there." This was the response of the disbelievers to Nuh and his followers. This is a proof of their ignorance and their deficiency in knowledge and intelligence. For verily, the truth is not to be rejected because of the lowly status of those who follow it. Verily, the truth is correct in itself, regardless of whether its followers are of low status, or nobility. Actually, the reality concerning which there is no doubt, is that the followers of the truth are the noble ones, even though they may be poor. On the other hand, those who reject the truth are the lowly wretches, even though they may be wealthy. Thus, we see that usually the weakest of people are the ones who follow the truth, while the nobility and high-class people usually are opposed to the truth. This is as Allah says, وَكَذَلِكَ مَأ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِى قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوهَأ إِنَّا وَجَدْنَأ ءَابَأءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى ءَاثَـرِهِم مُّقْتَدُونَ And similarly, We sent not a warner before you to any town (people) but the luxurious ones among them said: "We found our fathers following a certain way and religion, and we will indeed follow their footsteps." (43:23) When Heraclius, the emperor of Rome, asked Abu Sufyan Sakhr bin Harb about the qualities of the Prophet, he said to him, "Are his followers the noble people, or the weak?" Abu Sufyan said, "They are the weakest of them." Then Heraclius said, "They (weak ones) are the followers of the Messengers." Concerning their statement, بَادِيَ الرَّأْيِ (without thinking), In reality this is not objectionable, or something derogatory, because the truth when it is made clear, does not leave room for second-guessing, or excessive thinking. Rather, it is mandatory that it should be followed and this is the condition of every pious, intelligent person. No one continues doubtfully pondering the truth (after it is made clear) except one who is ignorant and excessively critical. The Messengers - Allah's peace and blessings be upon them all - only delivered what was obvious and clear. Concerning Allah's statement, وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ (And we do not see in you any merit above us), They did not see this (the virtue of accepting Islam) because they were blind from the truth. They could not see, nor could they hear. Rather, they were wavering in their skepticism. They were wandering blindly in the darkness of their ignorance. They, in reality, were the slanderers and liars, lowly and despicable. Therefore, in the Hereafter they will be the greatest losers.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

27۔ 1 یہ وہی شبہ ہے، جس کی پہلے کئی جگہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ کافروں کے نزدیک بشریت کے ساتھ نبوت و رسالت کا اجتماع بڑا عجیب تھا، جس طرح آج کے اہل بدعت کو بھی عجیب لگتا ہے اور وہ بشریت رسول کا انکار کرتے ہیں۔ 27۔ 2 حق کی تاریخ میں یہ بات بھی ہر دور میں سامنے آتی رہی ہے کہ ابتداء میں اس کو اپنانے والے ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں معاشرے میں بےنوا کم تر سمجھا جاتا تھا اور صاحب حیثیت اور خوش حال طبقہ اس سے محروم رہتا۔ حتی کہ پیغمبروں کے پیروکاروں کی علامت بن گئی۔ چناچہ شاہ روم ہرقل نے حضرت ابو سفیان سے نبی کی بابت پوچھا تو اس میں ان سے ایک بات یہ بھی پوچھی کہ ' اس کے پیروکار معاشرے کے معزز سمجھے جانے والے لوگ ہیں یا کمزور لوگ ' حضرت ابو سفیان نے جواب میں کہا ' کمزور لوگ ' جس پر ہرقل نے کہا ' رسولوں کے پیروکار یہی لوگ ہوتے ہیں (صحیح بخاری) ۔ قرآن کریم میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ خوش حال طبقہ ہی سب سے پہلے پیغمبروں کی تکذیب کرتا رہا ہے۔ ( سورة زخرف۔ 23) (وَكَذٰلِكَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّذِيْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَآ ۙاِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ 23؀) 43 ۔ الزخرف :23) اور یہ اہل ایمان کی دنیاوی حیثیت تھی اور جس کے اعتبار سے اہل کفر انھیں حقیر اور کم تر سمجھتے تھے، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ حق کے پیروکار معزز اور اشراف ہیں چاہے وہ مال و دولت کے اعتبار سے فروتر ہی ہوں اور حق کا انکار کرنے والے حقیر اور بےحیثیت ہیں چاہے وہ دنیوں اعتبار سے مال دار ہی ہوں۔ 27۔ 3 اہل ایمان چونکہ، اللہ اور رسول کے احکام کے مقابلے میں اپنی عقل و دانش اور رائے کا استعمال نہیں کرتے، اس لئے اہل باطل یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بےسوچ سمجھ والے ہیں کہ اللہ کا رسول انھیں جس طرف موڑ دیتا ہے، یہ مڑ جاتے ہیں جس چیز سے روک دیتا ہے، رک جاتے ہیں۔ یہ بھی اہل ایمان کی ایک بڑی بلکہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ لیکن اہل کفر و باطل کے نزدیک یہ خوبی بھی " عیب " ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٤] یہ وہی اعتراض ہے جو کہ منکرین حق کی طرف سے تمام انبیاء پر ہوتا رہا ہے جن کے خیال میں نبی کو یا تو مافوق البشر مخلوق ہونا چاہیے یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہر وقت رہنا چاہیے یا کم از کم دنیوی وجاہت کے لحاظ سے یعنی مال و دولت اور شان و شوکت کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ جب تک ان کے نظریہ کے مطابق نبی کو ان چیزوں میں سے کوئی امتیازی چیز حاصل نہ ہو وہ نبی نہیں ہوسکتا۔ [٣٥] کسی نبی کے ابتدائی پیر و کاروں کے خصائل :۔ منکرین حق کا دوسرا بڑا اعتراض یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ نبی پر سب سے پہلے ایمان لانے والے لوگ وہ ہوتے ہیں جو معاشرہ اور قوم کے چودھریوں کے ہاتھوں ستم رسیدہ ہوں، غریب ہوں، نوجوان اور باہمت ہوں اور جو ایسے ظالمانہ معاشرہ کے سامنے ڈٹ جانے کی کچھ جرأت بھی رکھتے ہوں ایسے ہی لوگ ہر نبی کا ابتدائی سرمایہ ہوتے ہیں اور یہی لوگ قوم کے چودھریوں کی نظروں میں کھٹکتا خار بن جاتے ہیں حتیٰ کہ چودھری لوگ ان کی موجودگی میں نبی کے پاس بیٹھنا اور کوئی بات سننا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ان چودھریوں کے نظریات چونکہ خالصتاً مادہ پرستانہ ہوتے ہیں لہذا نبی کی دعوت کو رد کرنے کا انھیں یہ بہانہ بھی ہاتھ لگ جاتا ہے کہ اس نبی کے ہم نشین تو رذیل قسم کے لوگ ہیں لہذا ہم اسے سچا کیسے سمجھ سکتے ہیں کچھ شریف لوگ اس کے پیروکار ہوتے تو ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھتے اور اس نبی کی بات سنتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ : آلوسی نے فرمایا : ” اَلْمَلَاءُ “ کا لفظ اسم جمع ہے، جیسا کہ ” رَھْطٌ“ (گروہ) ہے۔ اس لفظ سے اس کا واحد کوئی نہیں آتا۔ ” مَلَأَ یَمْلَأُ “ کا معنی بھرنا ہے، یعنی ایک رائے پر متفق لوگوں کی جماعت، جس کے رعب و جلال اور ظاہری شکل و صورت سے آنکھیں بھر رہی ہوں۔ (راغب) مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا : نوح (علیہ السلام) اور دوسرے پیغمبروں کی امتوں کے کافروں کی طرح مکہ کے کافر بھی ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہی بات کہا کرتے تھے کہ جو شخص ہماری طرح کا بشر ہو، جو کھاتا پیتا، بازاروں میں چلتا پھرتا، سوتا جاگتا، بیویاں اور بال بچے رکھتا ہو، آخر وہ اللہ کا رسول کیسے ہوسکتا ہے۔ (دیکھیے فرقان : ٧) مطلب یہ ہے کہ رسالت اور بشریت میں تضاد ہے اور ان دونوں کا ایک شخص میں جمع ہونا ناممکن ہے، حالانکہ تمام انبیاء میں دونوں اوصاف جمع تھے، جیسا کہ فرمایا : (اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ۭ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) [ بنی إسرائیل : ٩٣ ] ” تو کہہ میرا رب پاک ہے، میں تو ایک بشر کے سو اکچھ نہیں جو رسول ہے۔ “ اور دیکھیے سورة فرقان (٢٠) اور مومنون (٣٣، ٣٤) کفار آپ کا بشر ہونا جانتے تھے، کیونکہ آپ انھی میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے آپ کو رسول ماننے سے انکار کردیا۔ افسوس کہ کچھ جدی پشتی مسلمان باپ دادا سے سن کر آپ کو رسول مانتے ہیں، مگر آپ کے بشر ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ ایک ہی ذہن ہے کہ انسان رسول نہیں ہوسکتا۔ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ ۔۔ : ” اَرَاذِلُ “ ” اَرْذَلُ “ کی جمع ہے، یعنی کم تر درجے کے لوگ۔ ” بَادِیَ “ ” بَدَا یَبْدُوْ “ (ظاہر ہونا) سے اسم فاعل ہو تو معنی ہوگا ظاہر دیکھنے میں اور ” بَدَءَ یَبْدَءُ “ (شروع ہونا) سے ہو تو معنی ہوگا پہلی نظر میں، یعنی اس وجہ سے بھی ہم آپ کی پیروی اختیار نہیں کرسکتے کہ کچھ لوگ جو آپ کے متبع ہوگئے ہیں وہ تو دیکھنے ہی سے نظر آتے ہیں کہ ہمارے رذالے یعنی کم تر درجے کے لوگ ہیں۔ گویا ان کی نظر میں اس شخص کے تابع ہونا، جس کے پیروکار معاشرے میں نچلے درجے کے لوگ ہوں، ان کی شان کے منافی ہے۔ (دیکھیے شعراء : ١١١) بعینہٖ یہی بات مکہ کے کھاتے پیتے لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ان کی پیروی ہماری قوم کے غلام اور نچلے طبقے کے لوگ کرتے ہیں۔ ( دیکھیے انعام : ٥٢ تا ٥٤) حالانکہ حق کی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس کے ابتدائی پیروکار دنیوی لحاظ سے کمزور لوگ ہی ہوئے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہرقل اور ابوسفیان کے سوال و جواب میں مذکور ہے کہ جب ابوسفیان نے بتایا کہ اس کی پیروی ضعفاء نے کی ہے تو ہرقل نے کہا، یہی لوگ تمام رسولوں کے پیروی کرنے والے رہے ہیں۔ [ بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی ۔۔ : ٧ ] وَمَا نَرٰي لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ : ” ہم تمہارے لیے اپنے آپ پر کوئی برتری نہیں دیکھتے “ قوم کا یہ خطاب نوح (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں سے ہے کہ کسی بھی چیز میں تم ہم سے بڑھ کر نہیں ہو۔ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ : یعنی اس بات میں کہ تم کہتے ہو نوح (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Some questions raised by the disbelievers appear in the third verse (27). Before we take these up, let us first look at the meanings of some of the words there. The word ملا : (mala) generally means a group. Some leading lexicographers say that a group of the chiefs of a people is called: ملا (mala& ). Bashar (بشر) is translated as human being or man. Aradhil (ارزذل) is the plural form of ardhal (ارذل). It means someone lowly, not having any status or respect among his people. The expression: بَادِيَ الرَّ‌أْيِ (badiyarra&y) means cursory or shallow opinion. As for their objections, the first one related to the status of Sayyid¬na Nuh (علیہ السلام) as a prophet and messenger: مَا نَرَ‌اكَ إِلَّا بَشَرً‌ا مِّثْلَنَا (We see that you are nothing but a man like us). In effect, they were saying that he ate, drank, walked, slept and woke up like them. How then, they ques¬tioned, could they accept this extraordinary status of his as a messenger and prophet of God? They thought that the person who is sent to men as a messenger from Allah should not belong to the genus of man, instead, he should be an angel whose distinct status had to be recognized by everyone, willingly or unwillingly. This was answered in the fourth verse (28) as follows: يَا قَوْمِ أَرَ‌أَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّ‌بِّي وَآتَانِي رَ‌حْمَةً مِّنْ عِندِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمْ لَهَا كَارِ‌هُونَ He said, |"0 my people, tell me when I am on a clear path from my Lord, and He has bestowed mercy upon me from Himself and it has been hidden from your sight. Shall we, then, im¬pose it upon you while you are averse to it?|". Here we are being told that for a rasul or messenger to be a man is not contrary to his mission as a prophet or messenger. In fact, a little thought would show that this is how it should be - that the rasul of men should be a man so that men find it comfortable to learn their re¬ligion from him. There is an enormous difference in the mental and emotional make up of men and angels. If an angel were to be sent as a rasul, learning religion from him would have become terribly difficult. The reason is that an angel is not hungry or thirsty or sleepy or plain tired, nor does he have to deal with all those human compulsions. How would he have the feeling for such human weaknesses? And, without this feeling, how could men have followed him deed-wise? This theme has appeared in other verses of the Qur&an, either explicitly or sugges¬tively, at several places. Bypassing these, they were exhorted to use their reason and realize that it was not the least necessary that a prophet and messenger should not be a man. But, what is necessary is that he brings with him some proof, argument and evidence from Al¬lah Ta` ala that could make it easy for people to accept that he was defi¬nitely a rasul sent by Allah. Those open proofs بَیِّنۃ (bayyinah) and binding arguments for common people take the form of miracles shown at the hands of prophets. Therefore, Sayyidna Nuh (علیہ السلام) said that he had brought with him the clear path, argument and mercy from his Lord. If they had seen it carefully and thought about it, they would not have refused to accept the invitation. But, their aversion and hostility made them blind, hence they opted to deny the truth and became adamant to it. But, this mercy of Allah Ta` ala that comes through a prophet is not something which could be caused to fall over the heads of people - un¬til they themselves show their inclination to have it. There is a hint here that the prophet would have passed on the wealth of& ‘Iman he had come with to them, if he could, despite their denial and obstinacy. But, this was against Divine law. A blessing is aspired for. People cannot be compelled to have it. From here it also stands proved that it has never been permissible, in any period of a prophet, that people should be compelled to become believers. Even those who continue to spread the ugly propaganda that Islam was spread by the sword are not themselves unaware of the truth of the matter. But, they find it convenient to use the power of a lie to sow seeds of doubt in the hearts of the ig¬norant only to keep the torches of their hatred burning. As a side benefit, it has also become easier to understand why an angel was not made a prophet. The reason is that an angel is endowed with supernatural power. He is way distinct from human beings in every facet of his existence. To see him and then to believe in him would have become an exercise in compulsion. With an angel in front of him, who could dare being obstinate - something so conveniently demonstrated before prophets? Then, according to the dictate of the Shari` ah, if a person believes unwillingly under the threat of some co¬ercive power, his belief and faith is not acceptable. In fact, the ideally desirable thing is to believe without seeing (al-&Iman bi&l-ghaib اَلاِیمَان بِالغَیب) - that one believes without having fully observed and witnessed the ultimate subduing power of Allah Ta` ala. The second objection they raised was: وَمَا نَرَ‌اكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَ‌اذِلُنَا بَادِيَ الرَّ‌أْيِ (and we do not see you followed by anyone but by the lowest among us who are of shallow opinion - 27). This objection has two aspects: (1) That the people of higher status would have been the first to accept your call, if it was correct and true; and that only such lowly people have accepted it shows that the call itself is not worth accepting. (2) That there is something else that stops us from accepting your call to believe. Suppose we were to believe, then we understand that we too will be taken as Muslims, like them and equal to them and, in rows of prayers as well as in other meetings, we will have to sit with them as equals. This we cannot do. These people were far from reality and very unaware indeed. Simply because poor people did not wallow in wealth and pride in office and status, they had elected to berate them as lowly and mundane - although, the thought itself is as ignorant as it can be. Honor and dis-grace, reason and understanding are not subservient to wealth and property. Rather, as experience bears out, power and wealth can become intoxicating enough as would stop its possessors from under-standing and accepting so many reasonable and correct things. These barriers do not stand before the meek and the poor. They go ahead and accept what is correct and true. This is the reason why the customary Divine practice through the lanes of time gone by has been no other but that the first among those who believe in prophets are none but the weak and the meek. This phenomenon has also been explained in past Scriptures. Pursuant to this, when the blessed letter from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) inviting him to believe reached the Byzan¬tine Emperor, Hiraql, he felt the need to ascertain the truth of the matter - because, he had read the signs of the noble prophets in the Torah and the Injil. Therefore, he assembled people of Arabia who were visiting Syria at that time and asked them some questions about those signs. One of these questions was, ` Are those who follow him the poor and the weak among his people, or those who are considered big and nota¬ble among them?& He was told, ` They are poor and weak.& Thereupon, Hiraql confessed, ` this is sign of his being a true prophet because those who follow prophets initially are these very poor and weak people.& In short, taking poor people to be lowly was ignorance on their part. In reality, ` radhil& or disgraced is he who does not recognize his creator and sustainer and disobeys what He has asked him to do. Therefore, the venerated Sufyan Ibn Said Ath-Thawri, was asked by someone, ` who is mean and disgraced?& He said, ` people who keep flat¬tering rulers and officials.& And Ibn al-Arabi said, ` mean is he who earns Dunya (benefits of worldly life) by selling his din دِین (religion).& Someone asked him, ` who is the meanest?& Then, he said, ` a person who ruins his religion and streamlines the worldly life of someone else.& Imam Malik said, ` mean is he who maligns the noble Compan¬ions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) because they are the greatest benefactors of the entire Muslim Ummah, and the source through which the blessings of &Iman and Shari` ah have reached us.& Returning to the ignorant thought expressed by the objectors, we see that it has been initially refuted in the third verse (29). It has been said that a prophet does not fancy anyone&s wealth or property. He takes no compensation for his service or good counsel to people. His compensation is with Allah alone. Therefore, the rich and the poor are equal in his sight. Let the rich not be scared about their wealth for no one would start asking for it once they become believers.

تیسری آیت میں مشرکین کی گفتگو ہے جس میں چند شبہات و اعتراضات کئے گئے ہیں، اس آیت کے حل طلب الفاظ کی تشریح یہ ہے :۔ لفظ مَلَاُ عام طور پر جماعت کے لئے بولا جاتا ہے، بعض ائمہ لغت کا کہنا ہے کہ قوم کے سرداروں اور ذمہ داروں کی جماعت کو مَلَاُ کہتے ہیں، بشر کا ترجمہ ہے انسان یا آدمی اَرَاذِلُ ارذل کی جمع ہے حقیر و ذلیل کو کہا جاتا ہے جس کی قوم میں کوئی حیثیت اور عزت نہ ہو، بَادِيَ الرَّاْيِ کے معنی ہیں ابتدائی اور سطحی رائے۔ ان لوگوں کا پہلا اعتراض حضرت نوح (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت پر یہ تھا کہ (آیت) مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا، یعنی آپ تو ہمیں جیسے انسان اور آدمی ہو، ہماری ہی طرح کھاتے پیتے چلتے پھرتے اور سوتے جاگتے ہو پھر ہم آپ کا یہ فوق العادت امتیاز کیسے تسلیم کرلیں کہ آپ خدا کے رسول اور پیغمبر ہیں۔ ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ انسانوں کی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا جائے وہ جنس بشر سے نہ ہونا چاہئے بلکہ کوئی فرشتہ ہو جس کا امتیاز سارے انسانوں کو چار و ناچار تسلیم کرنا پڑے۔ اس کا جواب چوتھی آیت میں یہ دیا گیا، (آیت) يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَاٰتٰىنِيْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ ۭ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَاَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ ۔ اس میں بتلایا گیا کہ رسول کا بشر یا آدمی ہونا تو نبوت و رسالت کے منافی نہیں بلکہ غور کرو تو یہی ضروری ہے کہ آدمیوں کا رسول آدمی ہونا چاہئے تاکہ آدمیوں کو اس سے دین سیکھنا آسان ہو انسان اور فرشتہ کے مزاج میں زمین آسمان کا تفاوت ہے، اگر فرشتہ کو رسول بنا کر بھیج دیا جاتا تو انسانوں کو اس سے دین سیکھنا سخت مشکل ہوجاتا، کیونکہ فرشتہ کو تو نہ بھوک لگتی ہے نہ پیاس نہ نیند آتی ہے نہ تکان ہوتا ہے، نہ اس کو انسانی ضروریات و حوائج پیش آتی ہیں وہ انسانوں کی اس کمزوری کا احساس کیسے کرتا، اور بغیر اس احساس کے انسان عمل میں اس کا اتباع کیسے کرسکتے، یہ مضمون قرآن کی دوسری آیتوں میں صراحةً اور اشارۃً کئی جگہ آچکا ہے یہاں اس کا ذکر کرنے کے بجائے یہ بتلایا کہ اگر عقل سے کام لو تو رسول و پیغمبر کے لئے یہ تو ضروری نہیں کہ وہ آدمی نہ ہو، ہاں یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بینہ اور حجت اس کے ساتھ ہو جس کو دیکھ کر لوگوں کو یہ تسلیم کرنا آسان ہوجائے کہ یہ خدا ہی کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہے، وہ بینہ اور حجت عام لوگوں کے لئے انبیاء (علیہم السلام) کے معجزات ہوتے ہیں، اسی لئے نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے ساتھ اللہ کی طرف سے بینہ اور حجت اور رحمت لے کر آیا ہوں تم اس کو دیکھتے اور غور کرتے تو انکار نہ کرتے، مگر تمہارے انکار وعناد نے تمہاری نگاہوں کو اس سے اندھا کردیا اور تم انکار کر بیٹھے اور اپنی ضد پر جم گئے۔ مگر خدا تعالیٰ کی یہ رحمت جو پیغمبر کے ذریعہ آتی ہے ایسی چیز نہیں کہ زبردستی لوگوں کے سر ڈال دی جائے، جب تک وہ خود اس کی طرف رغبت نہ کریں، اس میں اشارہ پایا گیا کہ دولت ایمان جو میں لے کر آیا ہوں اگر میرا بس چلتا تو تمہارے انکار اور ضد کے باوجود تمہیں دے ہی دیتا مگر یہ قانون قدرت کے خلاف ہے، یہ نعمت زبردستی کسی کے سر نہیں ڈالی جاسکتی، اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ زبردستی کسی کو مومن یا مسلمان بنانا کسی دور نبوت میں جائز نہیں رکھا گیا، بزور شمشیر اسلام پھیلانے کا سفید جھوٹ گھڑنے والے خود بھی اس حقیقت سے بیخبر نہیں مگر ایک بات ہے جو واقفوں کے دلوں میں تردد پیدا کرنے کے لئے چلتی کی جاتی ہے۔ اس کے ضمن میں اس کی وجہ بھی سمجھی گئی کہ فرشتہ کو رسول کیوں نہیں بنایا گیا، وجہ یہ ہے کہ فرشتہ جو مافوق العادت قوت و طاقت رکھتا ہے اور اپنے وجود کی ہر حیثیت میں انسان سے ممتاز ہے اس کو دیکھ کر ایمان لانا ایک جبری عمل ہوجاتا کس کی مجال تھی کہ فرشتہ کے سامنے وہ ہٹ دھرمی کرتا جو انبیاء کے سامنے کی جاتی ہے اور شرعاً وہ ایمان مقبول نہیں جو کسی قوت قاہرہ سے مجبور ہو کر اختیار کیا جائے، بلکہ مطلوب ایمان بالغیب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قوت قاہرہ کا پورا مشاہدہ کئے بغیر ایمان اختیار کیا جائے۔ ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا (آیت) وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ ، یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ آپ پر ایمان لانے والے سب سرسری نظر میں حقیر و ذلیل کمینے لوگ ہیں، کوئی شریف بڑا آدمی نہیں اس اعتراض کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ تمہاری بات اگر حق اور صحیح ہوتی تو قوم کے بڑے لوگ اس کو قبول کرتے، ان چھوٹے اور رذیل لوگوں کا قبول کرنا اس کی علامت ہے کہ آپ کی دعوت ہی قبول کرنے کے قابل نہیں، دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمارے لئے آپ کی دعوت ایمان قبول کرنے سے رکاوٹ یہ ہے کہ ہم ایمان لے آئیں تو بحیثیت مسلمان ہم بھی ان کے برابر سمجھے جائیں گے، نمازوں کی صفوف اور دوسری مجالس میں ہمیں ان کے ساتھ ان کے برابر بیٹھنا پڑے گا یہ ہم سے نہیں ہوسکتا۔ حقیقت سے دور ان ناواقفوں نے غرباء فقراء کو جن کے پاس مال کی بہتات نہیں اور دنیوی جاہ و مال نہیں ان کو اراذل قرار دے رکھا تھا، حالانکہ یہ خود ایک جاہلانہ خیال ہے، عزت و ذلت اور عقل و فہم مال و دولت کے تابع نہیں بلکہ تجربہ شاہد ہے کہ جاہ و مال کا ایک نشہ ہوتا ہے جو انسان کو بہت سی معقول اور صحیح باتوں کے سمجھنے اور قبول کرنے سے روک دیتا ہے، کمزور غریب آدمی کی نظر کے سامنے یہ رکاوٹیں نہیں ہوتیں وہ حق اور صحیح بات کو قبول کرنے میں مسابقت کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ زمان قدیم سے عادۃ اللہ یہی رہی ہے کہ پیغمبروں پر اول ایمان لانے والے غرباء فقراء ہی ہوتے ہیں، اور پچھلی آسمانی کتابوں میں اس کی تصریحات بھی موجود ہیں، اسی وجہ سے جب ہرقل شاہ روم کے پاس آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نامہ مبارک دعوت ایمان کے لئے پہنچا اور اس کو یہ فکر ہوئی کہ معاملہ کی تحقیق کرے چونکہ اس نے تورات و انجیل میں انبیاء (علیہم السلام) کی علامات پڑھی ہوئی تھیں اس لئے اس وقت عرب کے جو لوگ ملک شام میں آئے ہوئے تھے ان کو جمع کرکے ان علامات کے متعلق چند سوالات کئے۔ ان سوالات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ان کا اتباع کرنے والے قوم کے کمزور اور غریب لوگ ہیں یا وہ جو قوم کے بڑے کہلاتے ہیں ؟ ان لوگوں نے بتلایا کہ کمزور اور غریب لوگ ہیں ! اس پر ہرقل نے اقرار کیا کہ یہ علامت تو سچے نبی ہونے کی ہے کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کا اول اول اتباع کرنے والے یہی کمزور غریب لوگ ہوتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ غرباء و فقراء کو رذیل سمجھنا ان کی جہالت تھی، حقیقت میں رذیل تو وہ ہے جو اپنے پیدا کرنے والے اور پالنے والے مالک کو نہ پہچانے، اس کے احکام سے روگردانی کرے اسی لئے سفیان ثوری (رح) سے کسی نے پوچھا کہ کمینہ اور رذیل کون ہے ؟ تو فرمایا وہ لوگ جو بادشاہوں اور افسروں کی خوشامد میں لگے رہیں، اور ابن الاعرابی نے فرمایا وہ شخص جو اپنا دین برباد کرکے کسی دوسرے کی دنیا سنوارے، امام مالک (رح) نے فرمایا کہ کمینہ وہ شخص ہے جو صحابہ کرام کو برا کہے کیونکہ وہ پوری امت کے سب سے بڑے محسن ہیں جن کے ذریعہ دولت ایمان و شریعت ان کو پہنچی ہے۔ بہرحال ان کے جاہلانہ خیال کی تردید تیسری آیت میں اول تو اس طرح کی گئی ہے کہ پیغمبر کی نظر کسی کے مال پر نہیں ہوتی وہ کسی سے اپنی خدمت و ہمدردی کا معاوضہ نہیں لیتا اس کا معاوضہ تو صرف اللہ کے ذمہ ہوتا ہے اس لئے اس کی نطر میں امیر و غریب برابر ہوتے ہیں، تم اس سے نہ ڈرو کہ ہم مالدار ہیں، مسلمان ہوجائیں گے تو ہم سے مال کا مطالبہ کیا جائے گا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ ہُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ۝ ٠ ۚ وَمَا نَرٰي لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍؚ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ۝ ٢٧ ملأ المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ( م ل ء ) الملاء ( م ل ء ) الملاء ۔ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہوتونظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] نھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ بشر وخصّ في القرآن کلّ موضع اعتبر من الإنسان جثته وظاهره بلفظ البشر، نحو : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] ، ( ب ش ر ) البشر اور قرآن میں جہاں کہیں انسان کی جسمانی بناوٹ اور ظاہری جسم کا لحاظ کیا ہے تو ایسے موقع پر خاص کر اسے بشر کہا گیا ہے جیسے فرمایا : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا ۔ إِنِّي خالِقٌ بَشَراً مِنْ طِينٍ [ ص/ 71] کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں ۔ رذل الرَّذْلُ والرُّذَالُ : المرغوب عنه لرداء ته، قال تعالی: وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلى أَرْذَلِ الْعُمُرِ [ النحل/ 70] ، وقال : إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَراذِلُنا بادِيَ الرَّأْيِ [هود/ 27] ، ( رذل ) الرذل والرذال وہ چیز جس سے اس کے روی ہونے کی وجہ سے بےرغبتی کی جائے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلى أَرْذَلِ الْعُمُرِ [ النحل/ 70] اور تم میں سے ایسے بھی ہیں جو بدترین حالت کی طرف لوٹائے جاتے ہیں ۔ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَراذِلُنا بادِيَ الرَّأْيِ [هود/ 27] مگر جو ہم میں رذاے ہیں اور پرو ہو بھی گئے ہیں تو لے سوچے سمجھے ) سر سری نظر سے ۔ بادِيَ وقوله تعالی: بَادِئ الرأْي [هود/ 27] أي : ما يبدأ من الرأي، وهو الرأي الفطیر، وقرئ : بادِيَ بغیر همزة، أي : الذي يظهر من الرأي ولم يروّ فيه، وشیء بَدِيءٌ: لم يعهد من قبل کالبدیع في كونه غير معمول قبل . اور آیت کریمہ : { بَادِيَ الرَّأْيِ } ( سورة هود 27) رائے فطری یعنی وہ رائے جو ابتدا سے قائم کرلی جائے ۔ ایک قراءت میں بادی الرای بدوں ہمزہ کے ہے اس صورت میں اس کے معنی ظاہری رائے کے ہوں گے جس میں غور وفکر سے کام نہ لیا گیا ہو ۔ شیئ بدیئ ۔ انوکھی چیز جو پہلی مرتبہ دیکھنے میں آئے جیسا کہ البدیع جو پہلے معمول نہ ہو ۔ البداۃ وہ حصہ جس سے تقسیم کی ابتداء کی جائے اسی سے گوشت کے بڑے ٹکڑے کو بداء کہا جاتا ہے ۔ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٧) یہ سن کر قوم نوح کے سردار کہنے لگے کہ اے نوح ہم تو تمہیں اپنے جیسا آدمی دیکھتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم پر وہی لوگ ایمان لائے ہیں جو ہم میں بالکل کم تر اور کمزور ہیں اور وہ بھی سرسری رائے سے اور ان کی رائے بھی ٹھیک نہیں جو انہوں نے ایسا کیا ہے۔ اور ہم تم لوگوں کے دعوے میں کوئی بات خود سے زیادہ بھی نہیں پاتے تم بھی کھاتے پیتے ہو جیسا کہ ہم کھاتے پیتے ہیں بلکہ ہم تو تمہارے دعوے میں تمہیں بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧ (فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا نَرٰٹک الاَّ بَشَرًا مِّثْلَنَا) انہوں نے کہا کہ آپ تو بالکل ہمارے جیسے انسان ہیں۔ آپ میں ہمیں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی کہ ہم آپ کو اللہ کا فرستادہ مان لیں۔ (وَمَا نَرٰٹکَ اتَّبَعَکَ الاَّ الَّذِیْنَ ہُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ ) ہمیں بلا تامل نظر آ رہا ہے کہ چند مفلس ‘ نادار اور نچلے طبقے کے لوگ آپ کے گرد اکٹھے ہوگئے ہیں ‘ جبکہ ہمارے معاشرے کا کوئی بھی معزز اور معقول آدمی آپ سے متاثر نہیں ہوا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

30. Substantially, the same warning was delivered by the Prophet Muhammad (peace be on him) in the first few verses (viz. 2-3) of this surah. 31. This is exactly the same absurd objection which the Makkans raised against the Prophet Muhammad (peace be on him). They found it inconceivable that a mortal like themselves who ate arid drank, walked and slept, and who also had a family could be designated a Messenger by God. (See Ya Sin 36, n. Il;al-Shura42,n.41.) 32. Again, it is noteworthy that the same objection raised by Noah's people against him was raised by the Makkans against the Prophet (peace be on him). The objection being that it is only persons of insignificant position who joined the Prophet's (peace be on him) ranks. They, thus, tried to belittle both the Message and the Messenger by highlighting that his followers were either a few raw youths, a bunch of slaves, or a group of feeble-minded and superstitious commoners from the lower rungs of society. (See Towards Understanding the Qur'an, vol. Il,al-An'arn6,nn. 34-7,pp. 235-7, and Yunus 10, n. 78. p. 57 above.) 33. The believers claimed that they enjoyed God's favour and mercy, and that those who chose to deviate from their way were subject to God's wrath.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :31 وہی جاہلانہ اعتراض جو مکہ کے لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں پیش کرتے تھے کہ جو شخص ہماری ہی طرح کا ایک معمولی انسان ہے ، کھاتا پیتا ہے ، چلتا پھرتا ہے ، سوتا اور جاگتا ہے ، بال بچے رکھتا ہے ، آخر ہم کیسے مان لیں کہ وہ خدا کی طرف سے پیغمبر مقرر ہو کر آیا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ یٰس ، حاشیہ نمبر ۱۱ ) ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :32 یہ بھی وہی بات ہے جو مکہ کے بڑے لوگ اور اونچے طبقے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتے تھے کہ ان کے ساتھ ہے کون؟ یا تو چند سر پھرے لڑکے ہیں جنہیں دنیا کا کچھ تجربہ نہیں ، یا کچھ غلام اور ادنی طبقہ کے عوام ہیں جو عقل سے کورے اور ضعیف الاعتقاد ہوتے ہیں ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ انعام ، حواشی نمبر ۳٤ تا ۳۷ و سورہ یونس ، حاشیہ نمبر ۷۸ ) ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :33 یعنی یہ جو تم کہتے ہو کہ ہم پر خدا کا فضل ہے اور اس کی رحمت ہے اور وہ لوگ خدا کے غضب میں مبتلا ہیں جنہوں نے ہمارا راستہ اختیار نہیں کیا ہے ، تو اس کی کوئی علامت ہمیں نظر نہیں آتی ۔ فضل اگر ہے تو ہم پر ہے کہ مال و دولت اور خدم و حشم رکھتے ہیں اور ایک دنیا ہماری سرداری مان رہی ہے ۔ تم ٹٹ پونجیے لوگ آخر کس چیز میں ہم سے بڑھے ہوئے ہو کہ تمہیں خدا کا چہیتا سمجھا جائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٧۔ یہ جواب نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اس وقت دیا کہ جب نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ سوائے خدا کے اور کسی کی عبادت نہ کرو نہیں تو تم پر ایک بہت بڑا عذاب نازل ہونے کا خوف ہے اس پر ان کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ جیسے ہم انسان ہیں تم بھی انسان ہو پھر تم پر وحی آئی اور ہم پر نہ آئی یہ کیا بات ہے علاوہ اس کے جو لوگ تمہارے تابع ہوئے ہیں وہ سب کے سب ذلیل ہیں کوئی بھی ان میں شریف نہیں اور یہ ایمان بھی لائے تو کچھ سوچ سمجھ کر نہیں لائے کیوں کہ ان کو عقل ہی کب ہے اس لئے فقط ان لوگوں کے ایمان لانے سے کوئی فضیلت تم کو نہیں ہوسکتی تیسری بات یہ کہی کہ تم کو ہم اپنے سے بڑھ کر نہیں دیکھتے ہم سے زیادہ عزت دار نہیں ہو نہ مال و دولت میں نہ جاہ و مرتبہ میں اس لئے ہم تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں شیطان نے منکر قوموں کے دل میں یہ وسوسہ قدیم سے ڈال رکھا ہے کہ اللہ کا رسول فرشتہ ہونا چاہیے انسان تو سب ایک سے ہیں پھر یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ ایک انسان اللہ کا رسول ہو اور دوسرا نہ ہو یہی شبہ قوم عاد اور ثمود کو بھی تھا کہ اللہ کا رسول انسان کیوں کر ہوسکتا ہے چناچہ ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کے قصہ میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ مشرکین مکہ اس شبہ کے ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی ہونے کی صداقت ایک فرشتہ ہمارے روبرو بیان کرے۔ سورة انعام میں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے وہ گزر چکا کہ فرشتہ کو اصلی صورت میں دیکھنا تو انسانی قوت سے باہر ہے پھر اگر انسان کی صورت میں فرشتہ آوے گا تو ان لوگوں کا یہی شبہ باقی رہے گا ان لوگوں کا ایک یہ شبہ بھی قدیمی ہے کہ اگر انسان نبی ہو تو کوئی مالدار شخص ہونا چاہیے تاکہ اس کی قدرو منزلت کے سبب سے لوگ اس کا کہنا مانیں سورة زخرف میں اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ جس طرح اللہ نے اپنی حکمت کے موافق کسی کو غریب کسی کو مالدار کیا ہے اسی طرح اپنی مصلحت کے موافق جس کو چاہا اپنا رسول بنایا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کا حال ان لوگوں سے زیادہ معلوم ہے ان لوگوں کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے معتبر سند سے تفسیر ابن ابی الدنیا وغیرہ میں عبد اللہ بن عمر (رض) کا حال ان لوگوں سے زیادہ معلوم ہے ان لوگوں کو اس میں کچھ دخل نہیں معتبر سند سے تفسیر ابن ابی الدنیا وغیرہ میں عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ مالدار آدمی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیسا بھی عزیز ہو لیکن دنیا کے عیش و آرام کے معاوضہ میں کچھ نہ کچھ اس کا درجہ عقبیٰ میں ضرور گھٹ جاوے گا۔ ١ ؎ اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی میں مالدار لوگوں کو اس لئے نبی نہیں ٹھہرایا کہ نبوت درجہ بڑہنے کی چیز ہے اور مالدار اس کے برعکس ہے صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت سے ہرقل بادشاہ روم کا جو قصہ ہے اس میں یہ ہے کہ ہرقل نے ابو سفیان (رض) سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حال پوچھتے پوچھتے یہ بھی پوچھا کہ ان نبی کے پیرو مالدار لوگ ہیں یا غریب ابو سفیان (رض) نے جواب دیا کہ غریب اس پر ہرقل نے کہا کہ انبیاء کے پیرو قدیم سے غریب ہوتے چلے آئے ہیں ٢ ؎ ہرقل کے اس قول کا یہ مطلب ہے کہ مالدار لوگ اپنے مال و متاع کے غرور میں نبی کی نصیحت کم سنتے ہیں اس لئے انبیاء کے پیرو اکثر غریب ہوتے چلے آئے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) کے پیرو غریب لوگ جو تھے اس کا سبب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ ١ ؎ الترغیب ص ٢٣٥ ج ٢ باب الترغیب فی الزھد فی الدینا الخ۔ ٢ ؎ مشکوٰۃ ص ٥٢٥۔ ٥٢٦ باب علامات النبوۃ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:27) اراذلنا۔ ہم میں سے نیچ قوم ۔ ہمارے رذیل لوگ۔ ارذل کی جمع جو رذالۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بعض کے نزدیک یہ جمع الجمع ہے رذل کی جمع ارذل اور ارذل کی جمع اراذل ہے۔ بادی الرای۔ بادی النظر میں۔ ظاہراً ۔ سرسری نظر میں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ مکہ کے لوگ بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہی بات کہا کرتے تھے کہ جو شخص ہاری طرح کا بشر ہو جو کھاتا پیتا، بازاروں میں چلتا پھرتا، سوتا جاگتا اور بال بچے رکھتا ہو آخر وہ اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیسے ہوسکتا ہے۔ (دیکھئے سورة قرآن آیت 7) مطلب یہ ہے کہ رسالت اور بشریت میں تضاد ہے اور یہ کہ ان دونوں کا ایک شخص میں اجتماع محال ہے۔ 3 ۔ یعنی اس وہ سے بھی آپو کو ہم پر کوئی فضیلت نہیں ہے کہ کچھ لوگ آپو کے متبع ہوگئے ہیں کیونکہ وہ تو ہمارے رذالے ہیں جن کا کسی شخص کی اتباع کرنا کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ بعینہ یہی بات مکہ کے کھاتے پیتے سردار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کہا کرتے کہ ان کی پیروی ہماری قوم کے غلام اور نچلے طبقے کے لوگ کرتے ہیں۔ (دیکھئے آیت 45 تا 45) ۔ 4 ۔ یعنی بلا سوچے سمجھے۔ یا وہ اس قسم کے لوگ ہیں جو گہری سمجھ کے مالک نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر غور و فکر کرتے اور ذرا تامل سے کام لیتے تو تمہاری اتباع نہیں کرسکتے تھے۔ اگر یہ (بادی الرای) ’ نزاک “ کی ظرف ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ ان کی رذالت بالکل واضح ہے۔ (کذا فی الرضا) ۔ 5 ۔ یعنی تم لوگون کو۔ یہ خطاب حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ان کے ماننے ولوں سے ہے۔ 6 ۔ تم جو یہ کہتے ہو کہ نوح (علیہ السلام) خد ا کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم نوح کا حضرت نوح (علیہ السلام) کو جواب۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نمائندوں یعنی سرداروں نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تجھے اپنے ہی جیسا آدمی سمجھتے ہیں اور جو تیرے پیچھے چلنے والے ہیں۔ وہ ہم میں نہایت گھٹیا لوگ ہیں اور ہم اپنے آپ پر تم میں کوئی فوقیت نہیں دیکھتے بلکہ ہم تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ قرآن مجید اور تاریخ کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو آدمی اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی طرف سے سب سے پہلے ایسے ہی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی بنا پر ہی اہل مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ یہ نبی ہماری طرح کا انسان ہے۔ نبی تو انسان کی بجائے فرشتہ ہونا چاہیے تھا۔ جس کا جواب آپ کی زبان اطہر سے یوں کہلوایا گیا کہ ان سے فرمائیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چلنے پھرنے، کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور دیگر حاجات انسانی کے حوالے سے میں تمہارے جیسا انسان ہوں۔ جو حاجات اور ضروریات تمہیں پیش آتی ہیں بحیثیت انسان میں ان حاجات سے مبرا نہیں ہوں۔ اس لحاظ سے میں تمہارے جیسا انسان ہوں یعنی بنی نوع انسان میں سے ہوں۔ لیکن مجھ پر اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے گویا کہ میں اس کا نامزد نمائندہ ہوں اور اسکا پیغام یہ ہے کہ لوگو ! اللہ ایک کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں۔ (الکہف : ١١٠) حضرت نوح (علیہ السلام) کو دوسرا طعنہ یہ دیا گیا کہ تیرے ماننے والے ہماری سوسائٹی کے نچلے درجے کے لوگ ہیں۔ یہی طعنہ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی دیا گیا کہ تیرے قریب رہنے والے لوگ غریب کنگال اور نوکرچاکر قسم کے لوگ ہیں۔ اگر ان کو تو اپنے آپ سے دور ہٹائے تو ہم آپ کے قریب ہونے کے لیے تیار ہیں۔ قوم نوح کا یہ بھی کہنا تھا کہ تم لوگوں میں ہم اپنے پر کوئی فضیلت اور فوقیت نہیں دیکھتے یہ کہنا بھی ان کے تکبر اور رعونت کی وجہ سے تھا۔ ورنہ انبیاء کے پیروکار کردار کے سچے اور اعلیٰ اخلاق کے نمونے ہوا کرتے تھے جن میں سے کسی ایک کا مقابلہ ان کی پوری قوم سے نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جہاں تک پیغمبر کی سیرت کا تعلق ہے وہ تو اپنے دور کا منفرد اور ممتاز انسان ہوا کرتا ہے اس لیے یہ کہنا کہ پیغمبر یا اس کے تابع فرماں لوگوں میں کوئی افضلیت کی بات نہیں۔ اس سے بڑا کوئی جھوٹ نہیں ہوسکتا۔ لیکن کفار بالخصوص ان کے لیڈروں کا یہی پروپیگنڈہ ہوا کرتا تھا کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ اہل مکہ کا وطیرہ : (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) أنَّہٗ قَالَ مَرَّ الْمَلأ مِنْ قُرَیْشٍ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ وَعِنْدَہٗ صُُہَیْبٌ وَخَبَابٌ وَبِلَالٌ وَعَمَّارٌ وَغَیْرُہُمْ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَقَالُوْا یَا مُحَمَّدُ اأرَضِیْتَ بِہَؤلَاءِ عَنْ قَوْمِکَ ؟ أفَنَحْنُ نَکُوْنُ تَبَعاً لِہَؤُلَاءِ ؟ أطْرُدْہُمْ عَنْ نَفْسِکَ ، فَلَعَلَّکَ إنَ طَرَدْتَہُمْ اتَّبَعْنَاکَ ، فَقَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ مَا أنَا بِطَارِدِ الْمُؤمِنِیْنَ فَقَالُوْا فَأقُمْہُمْ عَنَّا إذَا جِءْنَا، فَإذَا أقَمْنَا فَأقْعُدْہُمْ مَعَکَ إنْ شِءْتَ ، فَقَالَ نَعَمْ طَمْعاً فِیْ إیْمَانِہِمْ ) [ تفسیر الرازی ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ قریش کے سردار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرے اور آپ کے پاس صہیب، خباب، بلال، عمار اور ان جیسے کمزور مسلمان بیٹھے ہوئے تھے قریش نے کہا کیا آپ اپنی قوم میں سے ان کے ساتھ راضی ہیں اور ہم ان کی وجہ سے آپ کی تابعداری کرنے والے نہیں ہیں ان کو اپنے آپ سے دور کردیجیے۔ ہوسکتا ہے کہ اگر آپ انہیں اپنے سے دور کردیں تو ہم آپ کی اطاعت کرلیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں مومنوں کو دور نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا جب ہم آئیں تب آپ انہیں اٹھا دیا کریں جب ہم اٹھ جائیں۔ پھر انہیں اپنے پاس بٹھانا چاہیں تو بٹھا لیں آپ نے ان کے ایمان لانے کے لالچ سے فرمایا ٹھیک ہے۔ “ مسائل ١۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو قوم نے اپنے جیسا انسان سمجھ کر جھٹلایا۔ ٢۔ انبیاء ( علیہ السلام) کے تابع فرماں اکثر غرباء ہوتے ہیں۔ ٣۔ کفار ایمانداروں کو حقیر جانتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) پر کفار کے الزامات : ١۔ حضرت نوح کو ان کی قوم نے کہا کہ ہم تمہیں جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (ہود : ٢٧) ٢۔ کفار نے تمام انبیاء کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیا۔ (الذاریات : ٥٢) ٣۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اہل مکہ نے جادوگر کہا۔ (الصف : ٦) ٤۔ کفار آپ کو شاعر قرار دیتے تھے۔ (الطور : ٣٠) ٥۔ قوم فرعون نے موسیٰ کو جادوگر ہونے کا الزام لگایا۔ (القصص : ٣٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ہے اونچے طبقات کے مستکبرین کا جواب ، جو کسی بھی سوسائٹی کے صدر نشین ہوتے ہیں۔ اور یہی جواب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی آپ کی قوم قریش کے مستکبرین نے دیا تھا۔ وہ بھی کہتے تھے ، ہم تو تمہیں اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں اور ہماری قوم کے کم درجے کے لوگوں نے بغیر سوچے تمہاری دعوت کو قبول کرلیا ہے اس لیے کہ عوام الناس گہری سوچ نہ رکھتے۔ آخر تمہیں ہم پر کیا فوقیت حاصل ہے۔ اس لیے ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہین۔ وہی شبہات ، وہی الزامات ، وہی تکبر و غرور ، اور وہی جہالت اور کم فہمی جو قوم نوح نے اختیار کی اور یہ لوگ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔ انسانوں میں ہمیشہ یہ جہالت پائی جاتی رہی ہے کہ انسان حامل رسالت نہیں ہوسکتا اور اگر کسی انسان کو منصب رسالت عطا ہوسکتا ہے تو پھر یہ منصب کسی بادشاہ یا اس سے بھی کسی برتر مخلوق کو دیا جانا چاہئے۔ یہ ایک نہایت ہی جاہلانہ اور احمقانہ تصور ہے کہ وہ انسان جسے اللہ نے اس کرہ ارض پر خلافت عطا کی ، اور جس کو خلافت ارضی کی بھاری ذمہ داری سپرد کی گئی ہے وہ منصب رسالت کا اہل نہیں ہے کیونکہ مصب خلافت ارضی بھی تو ایک عظیم منصب ہے ، اور ظاہر ہے کہ انسان کے اندر اللہ نے ایسی صلاحیتیں ودیعت کی ہوں گی جن کے ذریعے وہ اسے ادا کرسکے۔ لہذا اللہ تعالیٰ جنس انسانی میں سے بعض افراد کو اس سے بھی بڑی صلاحیت عطا کرسکتا ہے کہ وہ اس کے ذریعے منصب رسالت کی ذمہ داریاں ادا کرسکے اور اپنی مخلوق میں سے اللہ جسے چاہے یہ ذمہ داریاں عطا کردے۔ کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس نے کس ذات کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے تاکہ اس کے اندر یہ منصب بھی رکھ دے۔ دوسری غلط فہمی انسانوں کو ہمیشہ یہ لاحق رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو یہ منصب عطا بھی کرتا ہے تو یہ منصب ان بڑوں اور مالداروں کا حق ہے ، کیونکہ وہ پہلے سے اپنی قوم پر مسلط ہیں اور ایک بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔ یہ درحقیقت ان اقدار سے لا علمی ہے جو اللہ نے اس مخلوق انسانی کے لیے محترم گردانی ہیں اور جن کی وجہ سے انسان خلافت ارضی کا مستحق ہوا ہے اور پھر ان میں سے مزید اونچے مرتبے والے لوگ منصب رسالت کے اہل گردانے گئے ہیں۔ ان اقدار کا تعلق مال اور مرتبے اور زمین پر قوت سے نہٰں ہے۔ ان کا تعلق نفس انسانی سے ہے اور یہ کہ کوئی نفس آیا اپنے اندر وہ مخصوص قوت رکھتا ہے جو عالم بالا سے رابطہ رکھ سکے۔ اس رابطے کے لیے مال و دولت اور عزت مرتبے کی نہیں بلکہ خاص روحانی قوتوں اور صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اس امانت کبری اور منصب دعوت اور اقدار کو قبول کرنے کی استعداد رکھتی ہوں۔ اور اس راہ میں مشکلات پر صبر کرنے کی صلاحیت بھی اس میں ہو۔ یعنی وہ صفات جو منصب نبوت کے لیے ضروری ہوں۔ ان صفات کا تعلق مال اور جاہ سے نہیں ہے اور نہ سوشل مقام و مرتبے سے ہے۔ لیکن اس کے برعکس حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے اونچے طبقات کا خیال یہ تھا جیسا کہ ہر سوسائٹی کے اونچے طبقات یہ خیال رکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اونچے مرتبے کی وجہ سے اندھے ہوجاتے ہیں اور مقام نبوت کے ادراک سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بشر نبی نہیں ہوسکتا اور اگر ہوسکتا ہے ، تو پھر اس مقام کے وہ حقدار ہیں۔ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا " ہماری نظر میں تو تم ہم جیسے انسان ہو " ایک تو یہ بات ہے اور دوسری یہ ہے کہ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ " اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس ان لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذل تھے ، بےسوچے سمجھے تمہاری پیروری اختیار کی ہے " یہ لوگ غریبوں کو " اراذل " کے لفظ سے یاد کرتے ہیں اور ہمیشہ مستکبرین ان لوگوں کو رذیل سمجھتے ہیں جن کو دولت و اقتدار نصیب نہیں ہوتا۔ حالانکہ رسولوں اور اسلامی تحریکات میں ہمیشہ غریب اور سلیم الفطرت لوگ ہی سب سے پہلے دلچسپی لیتے ہیں اور اونچے لوگوں کے مقابلے میں وہ سچائی کو جلدی قبول کرتے ہیں۔ ان کے دل رب واحد کے ساتھ زیادہ جڑے ہوتے ہیں۔ جو بلند اور قاہر ہے۔ اس لیے کہ مالداری ، عیاشی اور سرکشی نے ان کی فطرت کو بگاڑا نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے ہاں قبولیت حق کی راہ میں رکاوٹیں کم ہوتی ہیں۔ غریب لوگوں کو یہ ڈر نہیں ہوتا کہ اسلام قبول کرکے وہ اس چرائے ہوئے مقام کو گنوا دیں گے جو جمہور لوگوں کی غفلت اور نادانی کی وجہ سے انہوں نے حاصل کرلیا ہوتا ہے اور جمہور عوام کو بت پرستی اور شاہ پرستی میں مبتلا کردیا ہوتا ہے اور سب سے بڑی بت پرستی تو یہ ہوتی ہے کہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر اپنے جیسے لوگوں کو بڑا بنا کر اور انہیں زمین کا اقتدار دے کر ان کا اتباع اور پرستش کریں۔ تمام رسولوں کی دعوت تو در اصل عوام الناس کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے آزادی کی دعوت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے اس دعوت کا مقابلہ سوسائٹی کے اکابر کرتے ہیں ، اور جمہور عوام کو بھی یہ دعوت دی جاتی ہے کہ اسے قبول نہ کیا جائے اور وہ پیغمبر کی دعوت کو للکارتے ہیں ، ان پر الزامات عائد کرتے ہیں اور لوگوں کو اس سے متنفر کرتے ہیں۔ ذرا ان لوگوں کے الفاظ پر تو غور کرو " ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس ان لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذ تھے ، بےسوچے سمجھے تمہاری پیروی اختیار کرلی ہے " ہم انہوں نے تمہاری دعوت پر غور و فکر نہیں کیا ہے۔ یہ ہے وہ الزام جو ہر دور میں سوسائٹی کے بلند اور با اثر طبقات اہل ایمان کی خلاف عائد کرتے ہیں ، یہ کہ یہ لوگ بھولے بھالے ہوتے ہیں اور ان میں غور و فکر نہیں ہوتا۔ اور بڑے لوگوں کے لیے یہ موزوں نہیں ہے کہ وہ عوام الناس کے پیچھے چلیں۔ اب چونکہ یہ مومن ہوگئے ہیں اس لیے ہم کیسے مومن ہو سکتے ہیں کیونکہ بڑے لوگ چھوٹے لوگوں کے ایمان اور دعوت کا اتباع کیسے کرسکتے ہیں۔ وَمَا نَرٰي لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ " اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے کچھ بڑھے ہوئے ہو " اب یہ لوگ داعی اور متبعین دونوں کے خلاف ایک ہی تبصرہ کرتے ہیں ، کہ اہل ایمان کو ہمارے اوپر کوئی برتر حاصل نہیں ہے کہ تم لوگ زیادہ ہدایت یافتہ سمجھے جاؤ، یا تم لوگ ہمارے مقابلے میں زیادہ سچائی کے قریب ہو۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو ہم تم سے پہلے ہوتے۔ غرض وہ ہدایت کو بھی دنیا پرستی پر قیاس کرتے ہیں کہ دنیا پرستی کے معاملے میں ہم سے کوئی آگے نہیں ہے تو دین کے معاملے میں کیسے آگے ہوگیا۔ کیونکہ ہم معاملات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ہمارے پاس اقتدار ہے۔ لہذا اہل ثروت اور اہل اقتدار ہی افضل ہوسکتے ہیں۔ اور زیادہ سمجھدار ہوسکتے ہیں۔ جب کسی معاشرے سے عقیدہ توحید غائب ہوجاتا ہے تو اس معاشرے کی ذہنیت وہ بن جاتی ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ جب بھی عقیدہ توحید ختم ہوا ، لوگ جاہلیت کی طرف لوٹ گئے اور انہوں نے مختلف پہلوؤں سے بت پرستی اختیار کرلی۔ اگرچہ بظاہر ایسا معاشرہ نہایت سلجھا ہوا اور ترقی یافتہ نظر آتا ہے لیکن در حقیقت یہ پوری انسانیت کی پسماندگی ہوتی ہے۔ کیونکہ ایسی سوسائٹی ان اقدار کی تحقیر کرتی ہے جن اقدار کی وجہ سے انسان ، انسان بنتا ہے۔ اور انہی کی وجہ سے انسان خلافت ارضی کا مستحق ٹھہرا ہے اور انہی کی وجہ سے انسان کو عالم بالا سے منصب نبوت عطا ہوا۔ یہی وہ تصورات ہیں جن کی بنا پر انسان عالم بالا سے دور ہو کر خالص حیوانیت اور مادیت اور جسمانیت کے قریب چلا جاتا ہے۔ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ " بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں " یہ وہ آخری الزام ہے جو وہ رسول اور آپ کے متبعین کے سر تھوپتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی وہ اپنی مستکبرانہ شان سے بات کرتے ہیں کہ " ہم یہ سمجھتے ہیں ہمیں یہ گمان ہے " یہ محتاط انداز گفتگو ہے جسے یہ مالدار طقبہ اپنایا کرتا ہے۔ کیونکہ ان کے خیال میں ہر بات پر یقین کرلینا اور دو ٹوک بات کرنا ایک عامی بات ہے اور سطحی رائے والے نادان لوگ فوراً یقین کرلیتے ہیں۔ یہ تو بڑے لوگ ہیں جو مفکرانہ انداز میں تحفظ کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ یہ ہے مزاج ان لوگوں کا جو مالدار ہوتے ہیں ، جو فارغ البارلی کی زندگی بسر کرتے ہیں ، جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور جن کی گردنیں موٹی اور پیٹ پھولے ہوئے ہوتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ فرمانا اور قوم کا ہٹ دھرمی کے ساتھ معارضہ کرنا سیدنا حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) سے دس قرنوں کے بعد تشریف لائے۔ ایک قرن سو سال کی ہوتی تھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں بت پرست آچکی تھی انہوں نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور بت پرستی چھوڑنے کو فرمایا ان لوگوں نے ضد وعناد پر کمر باندھ لی اور بت پرستی سے باز نہ آئے اور طرح طرح کی بےتکی باتیں کرتے رہے ان کا واقعہ سورة اعراف (ع ٨) میں گزر چکا ہے وہاں ہم نے ان کی قوم کی بہت سی باتیں متعدد آیات قرآنیہ کی روشنی میں نقل کردی ہیں۔ یہاں بعض مضامین زائد ہیں جو وہاں بیان نہیں ہوئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم میں تمہیں واضح ڈرانے والا ہوں تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تمہارے بارے میں ایک بڑے تکلیف دینے والے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں ‘ تم نے اگر توحید اختیار نہ کی اور خالص اللہ کی عبادت نہ کی تو عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے ‘ ان لوگوں نے حق قبول کرنے کی بجائے الٹے جواب دینے شروع کر دئیے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے مخاطبین میں بہت کم لوگ مسلمان ہوئے جو لوگ سردار ان قوم تھے انہوں نے جاہلانہ جواب دئیے (کسی قوم کے سردار ہی عموماً شر میں آگے بڑھا کرتے ہیں اور قوم ان کے پیچھے چلتی ہے اگر سردار راہ حق پر آجائیں تو باقی قوم کا حق قبول کرنا آسان ہوجاتا ہے) ان سرداروں نے پہلی بات یہ کہی کہ اے نوح (علیہ السلام) تم ہمارے ہی جیسے آدمی ہو ہم تمہارے اندر کوئی ایسی خصوصیت نہیں دیکھتے جن کی وجہ سے تم نبوت سے سر فراز ہوئے ہو تمہارا نبی ہونا ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور دوسری بات یہ کہی کہ جن لوگوں نے تمہارا اتباع کیا ہے وہ ہم میں سب سے زیادہ بڑھ کر رذیل اور گھٹیا ہیں پھر وہ لوگ جو تمہارے ساتھ لگ گئے ہیں وہ بھی کوئی سوچ سمجھ کر ساتھ نہیں لگے یوں ہی بےسوچے سمجھے ساتھ ہو لئے ہیں ان کا آپ کے ساتھ لگ لینا ہمارے لئے حجت نہیں اور تیسری بات انہوں نے یہ کہی کہ اے نوح تم اور تمہارے متبعین کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل ہو ایسی کوئی بات ہمیں تو نظر نہیں آتی نہ پہلے تمہیں کوئی برتری حاصل تھی اور نہ اب حاصل ہے یہ باتیں کہتے ہوئے انہوں نے علی الاعلان تکذیب کردی اور یوں کہہ دیا (بَلْ نَظُنُّکُمْ کٰذِبِیْنَ ) (کہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں) ان کی باتیں سن کر حضرت نوح ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم تم ہی بتاؤ اگر میں اپنے رب کی طرف سے حجت پر ہوں اور اس نے اپنی طرف سے رحمت (نبوت) عطا فرما دی اور وہ تم سے پوشیدہ کردی گئی۔ (جسے تم اپنی جاہلانہ سمجھ کی وجہ سے جھٹلا رہے ہو) تو میں کیا کرسکتا ہوں ‘ میرا کام تو پہنچا دینا ‘ بتادینا اور واضح کردینا ہے ‘ میں تمہیں پہنچاتا ہوں اور تم دور بھاگتے ہو ‘ کیا ہم تم پر اس کو چپکا دیں اور تمہارے سر منڈھ دیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے مزید فرمایا کہ اے میری قوم میں جو تمہیں تبلیغ کرتا ہوں اور توحید کی جو دعوت دیتا ہوں اس سے میری کوئی دنیاوی منفعت مقصود نہیں ہے اپنے کسی دنیاوی لالچ کیلئے تمہیں تبلیغ کرنے کے لئے کھڑا نہیں ہوا یہ کام میں اللہ کے حکم سے کرتا ہوں مجھے اسی سے ثواب لینا ہے اور میرا اجر اسی کے ذمہ ہے ‘ اگر میں تم سے کچھ مال طلب کرتا تو تم یہ کہہ سکتے تھے کہ اپنی دنیا بنانے اور مال جمع کرنے کے لئے ہمارے پیچھے پڑا ہے ‘ اب جبکہ میں بےلوث ہوں تو تمہیں غور کرنا چاہئے کہ اس کو اتنی محنت کرنے اور مشقت کے کام میں لگنے کی کیا ضرورت ہے ؟

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

27 اس پر اس کی قوم کے ان سرداروں نے جو کفر کے خوگر تھے اور کافرانہ روش رکھتے تھے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہنے لگے ہم تو تجھ کو اپنا ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جو لوگ تیرے پیرو ہوگئے ہیں وہ صرف ہمارے ہاں کے چند رذیل اور کمین لوگ ہیں جو بلا غور و فکر کئے محض سطحی رائے سے تیرے پیرو ہوگئے ہیں اور ہم تم لوگوں میں اپنے سے کوئی برتری اور اپنے سے کوئی بات زیادہ بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں یعنی قوم کے چودھریوں نے تین اعتراض کئے۔ ایک یہ کہ تم ہی جیسے بشر ہو اور بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ دوسرے یہ کہ اگر پیرو اور متبعین کی کثرت کو دلیل ٹھہرائو تو کوئی شریف اور سمجھدار تمہارا پیرو نہیں صرف غیر شریف اور کمین لوگ تمہارے پیرو ہیں رذیل لوگ اول تو پہلے ہی موٹی عقل کے ہوتے ہیں غور و فکر کا مادہ کم ہوتا ہے پھر وہ بھی بغیر سوچے سمجھے ظاہری رائے سے تم پر ایمان لے آئے ہیں محض چند بیوقوفوں کا پیرو بن جانا کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ تم مسلمانوں میں کوئی بات ہم اپنے سے زیادہ نہیں دیکھتے تم میں کوئی خاص امتیاز نہیں اس لئے تمہاری رائے کو صحیح نہیں مانتے بلکہ ہم تو تم کو جھوٹا اور کاذب سمجھتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اوپر کی عقل سے یعنی پہلی ہی نظر میں 12