Boat-Making: The Education of a Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) When Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was commanded to make an ark, he knew no ark, nor its making. Therefore, in the next verse (37), he got his first lesson. To orient him to the reality of boat making, it was said: وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا (And make an ark under Our eyes and according to Our revelation). Hadith reports say that Sayyidna Jibra&il al-Amin (علیہ السلام) told Sayyidna Nuh (علیہ السلام) by means of revelation all about the making of boats. He had used wood from the saul tree (shorea robusta) to build this ark. Some historical narratives give its measurement. It was three hun¬dred yards long, fifty yards in width and thirty yard high, almost a three storied ship. Its ventilators, as customary, opened to the right and the left. Thus, this industry, the first prototype of the ship build¬ing industry, began at the hands of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) for the first time through Divine revelation. After that, the progress it made is current history. All Essential Industries Originated through Revelation It has been reported on the authority of some elders of early centuries of Islam in at-Tibb an-Nabawi of Hafiz Shamsud-Din adh-Dhahabi that all industries essential for human beings owe their origin to the process of Divine revelation through some prophet. Later, improve¬ments kept coming as needed during different times. The first revela¬tion that came to Sayyidna Adam (علیہ السلام) mostly related to rehabilita¬tion of the land and establishment of different industries. The invention of wheel carts for loading and hauling things is part of the chain of inventions. Sir Syed Ahmad an, the founder of the well-known Aligarh Col¬lege, (now the Muslim University of Aligarh, India) used to say more than a hundred years ago that the world has seen inventions of all sorts in moving vehicles but its pivot continued to be the axle and the wheel. It is the common factor between a bullock-cart, a donkey-cart, rails and cars. Therefore, the greatest inventor of moving vehicles is the person who invented the wheel that is the life and soul of a lot of machines. As it was said, this invention unfolded itself at the hands of the first prophet, Sayyidna Adam, peace on him, through a Divine revelation. From here we also learn that industries devoted to essential hu¬man needs are so important that the blessed prophets have been taught and trained in these through Divine revelation. Soon after instructing Sayyidna Nuh (علیہ السلام) how he would make an ark, he was told that a flood would come and his people will be drowned and that, at the time, he was not to intercede out of compas¬sion on their behalf.
نوح (علیہ السلام) کو کشتی سازی کی تعلیم : حضرت نوح (علیہ السلام) کو جب کشتی بنانے کا حکم ملا اس وقت وہ نہ کشتی کو جانتے تھے نہ اس کے بنانے کو، اس لئے دوسری آیت میں ان کی سفینہ سازی کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے فرمایا (آیت) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا، یعنی آپ کشتی بنائیں ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق۔ روایات حدیث میں ہے کہ جبرئیل امین نے بذریعہ وحی الہٰی حضرت نوح (علیہ السلام) کو سفینہ سازی کی تمام ضروریات اور اس کا طریقہ بتلایا، انہوں نے سال کی لکڑی سے یہ کشتی تیار کی۔ بعض تاریخی روایات میں اس کی پیمائش یہ بتلائی گئی ہے کہ یہ تین سو گز لابنا، پچاس گز چوڑا، تیس گز اونچا، سہ منزلہ جہاز تھا اور روشن دان مروجہ طریق کے مطابق دائیں بائیں کھلتے تھے اس طرح یہ جہاز سازی کی صنعت وحی خداوندی کے ذریعہ سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہاتھوں شروع ہوئی، پھر اس میں ترقیات ہوتی رہیں۔ تمام ضروری صنعتوں کی ابتداء وحی کے ذریعہ ہوئی : حافظ شمس الدین ذہبی کی الطب النبوی میں بعض سلف سے نقل کیا گیا ہے انسان کے لئے جتنی صنعتوں کی ضرورت ہے ان سب کی ابتدا بذریعہ وحی الہٰی کسی پیغمبر کے ذریعہ عمل میں آئی ہے پھر حسب ضرورت اس میں اضافے اور سہولتیں مختلف زمانوں میں ہوتی رہیں، سب سے پہلے پیغمبر حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف جو وحی آئی ہے اس کا پیشتر حصہ زمین کی آباد کاری اور مختلف صنعتوں سے متعلق ہے، بوجھ اٹھانے کے لئے پہیوں کے ذریعہ چلنے والی گاڑی کی ایجاد بھی اسی سلسلہ کی ایجادات میں سے ہے۔ سرسید صاحب بانی علی گڑھ کالج نے خوب فرمایا ہے کہ زمانے نے طرح طرح کی گاڑیاں ایجاد کرلیں لیکن مدار کار ہر قسم کی گاڑیوں کا دھری اور پہیے پر ہی رہا، وہ بیل گاڑی اور گدھا گاڑی سے لے کر ریلوں اور بہترین قسم کی موٹر گاڑیوں تک سب میں مشترک ہے اس لئے سب سے بڑا موجد گاڑیوں کا وہ شخص ہے جس نے پہیہ ایجاد کیا کہ دنیا بھر کی ساری مشینری کی روح پہیہ ہی ہے اور معلوم ہوچکا کہ یہ ایجاد پیغمبر اول حضرت آدم (علیہ السلام) کے ہاتھوں بذریعہ وحی الہٰی عمل میں آئی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اشیاء ضرروت کی صنعت کاری اتنی اہمیت رکھتی ہے کہ بطور وحی انبیاء (علیہم السلام) کو سکھائی گئی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو سفینہ سازی کی ہدایت دینے کے ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ آپ کی قوم پر طوفان آئے گا، وہ غرق ہوں گے، اس وقت آپ اپنی شفقت کی بناء پر ان کے بارے میں کوئی سفارش نہ کریں۔