Surat Hood

Surah: 11

Verse: 38

سورة هود

وَ یَصۡنَعُ الۡفُلۡکَ ۟ وَ کُلَّمَا مَرَّ عَلَیۡہِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِہٖ سَخِرُوۡا مِنۡہُ ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡکُمۡ کَمَا تَسۡخَرُوۡنَ ﴿ؕ۳۸﴾

And he constructed the ship, and whenever an assembly of the eminent of his people passed by him, they ridiculed him. He said, "If you ridicule us, then we will ridicule you just as you ridicule.

وہ ( نوح ) کشتی بنانے لگے ان کی قوم کے جو سردار ان کے پاس سے گزرے وہ ان کا مذاق اڑاتے وہ کہتے اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی تم پر ایک دن ہنسیں گے جیسے تم ہم پر ہنستے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلٌ مِّن قَوْمِهِ سَخِرُواْ مِنْهُ ... And as he was constructing the ship, whenever the chiefs of his people passed by him, they mocked at him. This means that they teased him and rejected his threat that they would drown (in the forthcoming flood). ... قَالَ إِن تَسْخَرُواْ مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ ... He said: "If you mock at us, so do we mock at you likewise... This is a severe threat and a serious warning. ... كَمَا تَسْخَرُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

38۔ 1 مثلا کہتے، نوح ! نبی بنتے بنتے اب بڑھئی بن گئے ہو ؟ یا اے نوح ! خشکی میں کشتی کس لئے تیار کر رہے ہو ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٥] کشتی بنانے پر قوم کا مذاق اڑانا :۔ وہ مذاق یہ کرتے تھے کہ جہاز جتنی بڑی کشتی جو تم بنا رہے ہو اسے کیا خشکی پر چلاؤ گے ؟ یہاں نہ تو نزدیک کوئی دریا ہے جس میں اسے چلا سکو۔ بارشوں کو ہم ترس رہے ہیں خشک سالی بھی ہے اور کسی دریا وغیرہ میں سیلاب کا خطرہ بھی نہیں تو پھر اسے بنا کر کیا کرو گے ؟ وہ تو نوح (علیہ السلام) کو دیوانہ سمجھ رہے تھے اور نوح (علیہ السلام) انھیں دیوانہ سمجھ رہے تھے کیونکہ انہوں نے قوم کو خبردار کردیا تھا کہ تم پر سیلاب کا عذاب آنے والا ہے وہ اپنی قوم پر اس بات سے حیران تھے کہ عنقریب ان لوگوں کی تباہی ہونے والی ہے اور انھیں اپنی ذرا بھی فکر نہیں الٹا مجھے دیوانہ سمجھ کر مذاق اڑا رہے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) نے انھیں جواب دیا، کوئی بات نہیں آج تم ہمارا مذاق اڑا لو، جلد ہی ایسا وقت آنے والا ہے جب ہم تمہارا مذاق اڑائیں گے اس وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والا عذاب کس پر نازل ہوتا ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ : ماضی کے ایک واقعہ کو مضارع کے صیغے سے بیان فرمایا۔ اس سے ان کا مسلسل کئی دنوں تک اس بڑی کشتی کو بناتے رہنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ ” کَانَ “ کا صیغہ جو ماضی ہے، مضارع پر آجائے تو اس سے مراد ماضی میں استمرار ہوتا ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ” اور وہ کشتی بناتا رہا۔ “ بعض اہل علم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مضارع کا لفظ حکایت حال، یعنی وہ نقشہ سامنے لانے کے لیے استعمال فرمایا، گویا ہم دیکھ رہے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے ہیں اور قوم کے لوگ انھیں مذاق کر رہے ہیں، یہ معنی بھی جید ہے۔ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ ۔۔ : وہ اس پر مذاق کرتے کہ بڑے میاں ترکھان کب سے بن گئے اور اب اس حد تک دماغ میں خلل آگیا کہ خشک زمین پر پانی میں غرق ہونے سے بچاؤ کا بندوبست کر رہے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) اس پر ہنستے کہ یہ لوگ بجائے اس کے کہ ایمان اور اطاعت کے ذریعے سے عذاب الٰہی سے بچاؤ حاصل کریں، الٹا کفر اور نافرمانی پر اصرار کرکے اور اللہ کے نشانات کا مذاق اڑا کر عذاب کو دعوت دے رہے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا ہو کہ جیسے تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو، وہ وقت بالکل قریب ہے جب تم غوطے کھا رہے ہو گے اور ہم تمہارا مذاق اڑائیں گے، جیسا کہ تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” یہ ( نوح (علیہ السلام ) ہنستے اس پر کہ موت سر پر کھڑی ہے اور یہ ہنستے ہیں۔ “ (موضح)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the third verse (38), mentioned there is the total lack of concern for their sad end shown by the people of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) during the period he was making the ark. When the chieftains of his people saw him busy with his project under a Divine command, they would ask him, ` what are you doing?& He said, ` a flood is to come, therefore, I am making an ark.& They would mock at him and say, ` we have no wa¬ter to drink here and this wise man is planning to sail in a boat on this dry land.& In response, Sayyidna Nuh told them, ` if you mock at us today, then remember the day is sure to come when we shall be laughing at you.& The sense is that conditions would change and events would unfold in a manner that they themselves would become the cause of their being mocked at. For, in reality, ridicule is contrary to the spiritual station of prophets. It is simply not permissible for any-one in fact, it is Haram (unlawful). Says the Holy Qur&an: لَا يَسْخَرْ‌ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرً‌ا مِّنْهُمْ ( O those who have believed, no people should mock at [ other ] people - may be, they are better than them - 49:11) Therefore, the mocking referred to here is a pragmatic response to their mockery. This is like saying, ` when you are seized by the punishment, we shall be telling you that this was the outcome of your mockery.& This is as it was said after that in the fourth verse (39): ` So, you shall soon know to whom will come the punishment that will humble him, and upon whom will befall the lasting punishment.& The first punishment refers to the punishment in the mortal world, and the ` lasting punishment& means the never-ending punishment of the Hereafter.

تیسری آیت میں سفینہ سازی کے زمانہ میں قوم نوح (علیہ السلام) کی غفلت اور انجام بد سے بےفکری کا حال ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) بحکم خداوندی کشتی بنانے میں مشغول تھے ان کی قوم کے سردار جب ان کو دیکھتے اور پوچھتے کہ کیا کر رہے ہو ؟ تو یہ فرماتے کہ طوفان آنے والا ہے اس لئے کشتی تیار کر رہا ہوں ان کی قوم ان کا مذاق اڑاتی اور استہزاء کرتی تھی کہ یہاں پینے کے لئے تو پانی کا قحط ہے، یہ بزرگ اس خشکی میں کشتی چلانے کی فکر میں ہیں، حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے جواب میں فرمایا کہ اگر آج تم ہم سے استہزاء کرتے ہو تو یاد رکھو کہ ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جس میں ہم تم سے استہزاء کریں گے، مراد یہ ہے کہ حالات ایسے پیش آئیں گے جو خود تمہارے استہزاء نہیں بلکہ حرام ہے، قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ ، یعنی کوئی کسی کے ساتھ استہزاء نہ کرے، ہوسکتا ہے کہ وہ اس استہزاء کرنے والے سے بہتر ہو، اس لیے یہاں استہزاء سے مراد ان کے استہزاء کا عملی جواب ہے کہ جب تم عذاب میں گرفتار ہوگے تو ہم تمہیں بتلائیں گے کہ یہ ہے تمہارے استہزاء کا انجام، جیسا کہ اس کے بعد چوتھی آیت میں فرمایا ہے کہ ” عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ایسا عذاب آیا چاہتا ہے جو اس کو رسوا کردے گا، اور کس پر دائمی عذاب ہوتا ہے۔ “ پہلے عذاب سے دنیا کا اور عذاب مقیم سے آخرت کا دائمی عذاب مراد ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ۝ ٠ ۣ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْہِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِہٖ سَخِرُوْا مِنْہُ۝ ٠ ۭ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَـمَا تَسْخَرُوْنَ۝ ٣٨ ۭ فلك الْفُلْكُ : السّفينة، ويستعمل ذلک للواحد والجمع، وتقدیراهما مختلفان، فإنّ الفُلْكَ إن کان واحدا کان کبناء قفل، وإن کان جمعا فکبناء حمر . قال تعالی: حَتَّى إِذا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ [يونس/ 22] ، وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ [ البقرة/ 164] ، وَتَرَى الْفُلْكَ فِيهِ مَواخِرَ [ فاطر/ 12] ، وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] . والفَلَكُ : مجری الکواكب، وتسمیته بذلک لکونه کالفلک، قال : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [يس/ 40] . وفَلْكَةُ المِغْزَلِ ، ومنه اشتقّ : فَلَّكَ ثديُ المرأة «1» ، وفَلَكْتُ الجديَ : إذا جعلت في لسانه مثل فَلْكَةٍ يمنعه عن الرّضاع . ( ف ل ک ) الفلک کے معنی سفینہ یعنی کشتی کے ہیں اور یہ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن دونوں میں اصل کے لحاظ سے اختلاف ہ فلک اگر مفرد کے لئے ہو تو یہ بروزن تفل ہوگا ۔ اور اگر بمعنی جمع ہو تو حمر کی طرح ہوگا ۔ قرآن میں ہے : حَتَّى إِذا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ [يونس/ 22] یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو۔ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ [ البقرة/ 164] اور کشتیوں ( اور جہازوں ) میں جو دریا میں ۔۔ رواں ہیں ۔ وَتَرَى الْفُلْكَ فِيهِ مَواخِرَ [ فاطر/ 12] اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] اور تمہارے لئے کشتیاں اور چار پائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ اور فلک کے معنی ستاروں کا مدار ( مجرٰی) کے ہیں اور اس فلک یعنی کشتی نما ہونے کی وجہ سے فلک کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [يس/ 40] سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں ۔ اور نلکتہ المغزل کے معنی چرخے کا دم کرہ کے ہیں اور اسی سے فلک ثدی المرءۃ کا محاورہ ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں عورت کی چھاتی کے دم کزہ طرح ابھر آنے کے ہیں اور فلقت الجدی کے معنی بکری کے بچے کی زبان پھاڑ کر اس میں پھر کی سی ڈال دینے کے ہیں ۔ تاکہ وہ اپنی ماں کے پستانوں سے دودھ نہ چوس سکے ۔ مرر المُرُورُ : المضيّ والاجتیاز بالشیء . قال تعالی: وَإِذا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغامَزُونَ [ المطففین/ 30] ، وَإِذا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِراماً [ الفرقان/ 72] تنبيها أنّهم إذا دفعوا إلى التّفوّه باللغو کنّوا عنه، وإذا سمعوه تصامموا عنه، وإذا شاهدوه أعرضوا عنه، وقوله : فَلَمَّا كَشَفْنا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنا [يونس/ 12] فقوله : مَرَّ هاهنا کقوله : وَإِذا أَنْعَمْنا عَلَى الْإِنْسانِ أَعْرَضَ وَنَأى بِجانِبِهِ [ الإسراء/ 83] وأمْرَرْتُ الحبلَ : إذا فتلته، والمَرِيرُ والمُمَرُّ : المفتولُ ، ومنه : فلان ذو مِرَّةٍ ، كأنه محکم الفتل . قال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] . ويقال : مَرَّ الشیءُ ، وأَمَرَّ : إذا صار مُرّاً ، ومنه ( م ر ر ) المرور ( م ر ر ) المرور کے معنی کسی چیز کے پاس سے گزر جانے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : وَإِذا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغامَزُونَ [ المطففین/ 30] اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو باہم آنکھوں سے اشارہ کرتے ۔ وَإِذا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِراماً [ الفرقان/ 72] اور جب ان کو بیہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو شریفانہ انداز سے گزرجاتے ہیں ۔ نیز آیت کریمہ میں اس بات پر بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر انہیں بیہودہ بات کہنے پر مجبوری بھی کیا جائے تو کنایہ سے بات کرتے ہیں اور لغوبات سن کر اس سے بہرے بن جاتے ہیں اور مشاہدہ کرتے ہیں تو اعراض کرلیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : فَلَمَّا كَشَفْنا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنا[يونس/ 12] پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں ( تو بےلحاظ ہوجاتا اور ) اس طرح گزرجاتا ہے کہ گویا تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہیں تھا ۔ میں مربمعنی اعرض ہے ۔ جیسے فرمایا : وَإِذا أَنْعَمْنا عَلَى الْإِنْسانِ أَعْرَضَ وَنَأى بِجانِبِهِ [ الإسراء/ 83] اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو روگردان ہوجاتا اور پہلو پھیر لیتا ہے ۔ امررت الحبل کے معنی رسی بٹنے کے ہیں ۔ اور بٹی ہوئی رسی کو مریر یاممر کہاجاتا ہے اسی سے فلان ذومرکہاجاتا ہے اسی سے فلان ذومرۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی طاقت ور اور توانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] طاقتور نے ۔ مرالشئی وامر کسی چیز کا تلخ ہونا ۔ اسی سے محاورہ ہے۔ فلان مایمر سو مایحلی کہ فلاں نہ تو کڑوا ہے اور نہ میٹھا ۔ یعنی نہ تو اس سے کسی کو فائدہ پہنچتا ہے اور نہ ہی نقصان ۔ اور آیت کریمہ حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفاً فَمَرَّتْ بِهِ [ الأعراف/ 189]( تو ) اسے ہلکا ساحمل رہ جاتا ہے ۔ اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے ۔ میں مرت بمعنی استمرت ہے ۔ یعنی وہ اسے اٹھائے چلتی پھرتی رہتی ہے ۔ مرۃ ( فعلۃ ) ایک بار مرتان ض ( تثنیہ ) دو بار قرآن میں ہے : يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ [ الأنفال/ 56] پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں ۔ وَهُمْ بَدَؤُكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 13] اور انہوں نے تم سے پہلی بار ( عہد شکنی کی ) ابتداء کی ۔إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً [ التوبة/ 80] اگر آپ ان کے لئے ستربار بخشیں طلب فرمائیں ۔ إِنَّكُمْ رَضِيتُمْ بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ [ التوبة/ 83] تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر رضامند ہوگئے ۔ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ [ التوبة/ 101] ہم ان کو دو بار عذاب دیں گے ۔ ثَلاثَ مَرَّاتٍ [ النور/ 58] تین دفعہ ( یعنی تین اوقات ہیں ۔ ملأ المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ( م ل ء ) الملاء ( م ل ء ) الملاء ۔ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہوتونظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] نھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا ۔ سخر التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] ( س خ ر ) التسخیر ( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] اور جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے ( اپنے کرم سے ) ان سب کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے فانا نسخر منکم کما تسخرون ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں جس طرح تم ہم پر ہنس رہے ہو ۔ یہاں یہ بات مجاز کے طور پر کہی گئی ہے ، اس کا اطلاق اس لیے کیا گیا ہے کہ مذاق اڑانے اور ہنسنے کی مذمت کر کے اس کا بدلہ اتنی مقدار میں چکایا گیا ہے جتنی مقدار کے یہ لوگ مستحق تھے ، جس طرح یہ قول باری ہے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا۔ برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے ، نیز ارشاد باری ہے قالو انما نحن مستھزون اللہ یستھزی بھم ہم تو صرف مذاق اڑا رہے تھے ، اللہ تعالیٰ ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ بعض کے نزدیک آیت زیر بحث کا مفہوم ہے کہ ہم بھی اس طرح تمہیں جاہل سمجھتے ہیں جس طرح تم ہمیں جاہل سمجھتے ہو۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٨) چناچہ نوح (علیہ السلام) کشتی تیار کرنے لگے اس دوران جب کسی سردار گروہ کا ان پر سے گزر ہوتا تو حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی بناتا ہوا دیکھ کر ان پر ہنستے تو آپ فرماتے کہ اگر آج تم ہم پر ہنس رہے ہو تو آج کے بعد ہم تم پر ہنسیں گے جیسے آج کے دن تم ہم پر ہنستے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨ (وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۣ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ ) حضرت نوح اور آپ کے اہل ایمان ساتھی جس جگہ اور جس علاقے میں یہ کشتی بنار ہے تھے ظاہر ہے کہ وہاں ہر طرف خشکی ہی خشکی تھی ‘ سمندر یا دریا کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ ان حالات میں تصور کریں کہ کیا کیا باتیں اور کیسے کیسے تمسخر آمیز فقرے کہے جاتے ہوں گے کہ اب تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بالکل ہی مت ماری گئی ہے کہ خشکی پر کشتی چلانے کا ارادہ ہے !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19: وہ مذاق اس بات کا اُڑاتے تھے کہ انہوں نے دوسرے کام چھوڑ کر کشتی بنانی شروع کردی ہے، حالانکہ پانی کا کہیں دُور دُور پتہ نہیں ہے۔ 20:: یعنی ہمیں اس بات پر ہنسی آتی ہے کہ عذاب تمہارے سرپر آچکا ہے، اور تمہیں دِل لگی سوجھی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٨۔ ٣٩۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے تھے تو لوگ آتے جاتے کشتی بناتے دیکھ کر مسخرا پن کرتے تھے کبھی کہتے تھے نبی بن کر اب کیا بڑھئی بن گئے کبھی کہتے تھے کہ کہیں پانی کا تو پتہ بھی نہیں ہے یہ خشکی میں کس طرح کشتی چلاؤ گے اور اس بات کو بھی ہنسی سمجھتے تھے جو حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے کہتے تھے کہ عنقریب تم لوگ ڈوبنے والے ہو وہ کہتے تھے کہ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ کوئی خشکی میں ڈوبے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) بھی ان پر ہنستے تھے کہ یہ لوگ مجھ پر ہنس رہے ہیں مگر عنقریب ڈوب کر ہلاک ہونے والے ہیں۔ مفسروں نے یہاں یہ بیان کیا ہے کہ وہ کشتی سال کی لکڑی کی تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں دو سو برس میں بنی تھی۔ تو ریت میں مذکور ہے کہ صنوبر کی لکڑی کی تھی مگر اس بات میں کوئی صحیح روایت نہیں ہے پھر نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اب قریب میں تم لوگ جان لوگے کہ کون عذاب آنے سے رسوا ہوتا ہے اور کس پر ہمیشہ ہمشیہ کا عذاب ہوگا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ دنیا میں تو ڈوب کر ہلاک ہوگئے اور آخرت میں ہمیشہ کے لئے دوزخ کا عذاب بھگتو گے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں ہزار برس تک رہے اور ساڑھے نو سو برس وہ اپنی قوم کو خدا کی طرف بلاتے رہے ان کے آخر زمانہ میں ایک بہت بڑا درخت ہوا اور ہر طرف اس کی شاخیں پھیل گئیں تو نوح (علیہ السلام) نے اس کو کاٹ کر کشتی کا سامان شروع کیا ان کی قوم دیکھ کر ہنستی تھی کہ خشکی میں کیوں کر کشتی چلے گی وہ کہتے تھے اب معلوم ہوجائے گا جب کشتی تیار ہوچکی تو اک بار گی زمین ابل پڑی اور ہر کوچہ و بازار میں پانی ہی پانی نظر آنے لگا سب ڈوب نے لگے تو ایک عورت کو بہت خوف ہوا اس کا ایک ننھا سا بچہ تھا وہ اسے بہت چاہتی تھی وہ اسے لے کر پہاڑ پر چڑھ گئی جب وہاں بھی پانی آگیا تو بالکل اوپر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئی جب پانی اس کے گلے تک پہنچا تو اس نے اپنے دونوں ہاتھوں پر بچے کو اوپر اٹھا لیا مگر کچھ بس نہ چل سکا پانی اس کو بہا کرلے گیا اگر اللہ پاک کسی پر رحم کھاتا تو اس وقت اسی عورت پر رحم کھاتا یہ روایت مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے اور ذہبی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ١ ؎ لیکن یہ روایت تفسیر ابن ابی حاتم میں بھی ہے ٢ ؎ اور ابن ابی حاتم نے صحت روایت کی پابندی ابن جریر اور حاکم سے زیادہ کی ہے اس لئے اس روایت کو بالکل ضعیف نہیں کہا جاسکتا۔ صحیح سند سے ترمذی طبرانی اور مستدرک حاکم میں ابی بکرہ (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اچھا وہ آدمی ہے جس کی عمر بڑی ہو اور اس کے عمل نیک ہوں اور برا وہ آدمی ہے جس کی عمر بڑی ہو اور اس کے عمل بد ہوں۔ ٣ ؎ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جزا وسزا نیک و بدعملوں کے موافق ہوگی اس لئے جس نیک عمل والے آدمی نے بڑی عمر پاکر نیک عمل بڑھائے اس کی جزا بڑھ گئی اور وہ اچھا رہا اور جس بد عمل والے آدمی نے بڑی عمر پاکر بد اعمال بڑھائے ویسے اس کی سزا ہوگی اس لئے وہ برا رہا اس حدیث سے آیتوں کی یہ تفسیر ٹھہری کہ کشتی کی تیاری کے سبب سے طوفان کے آنے میں جس قدر دیر ہوئی یہ زمانہ بھی قوم نوح کے حق میں ایک عذاب کا زمانہ تھا کیونکہ اس قدر عمر کے حصہ میں انہوں نے اللہ کے نبی نوح (علیہ السلام) سے مسخراپن کر کے اپنی بد اعمالی اور اس کی سزا کو اور بڑھا لیا۔ { فسوف تعلمون } سے آخر آیت تک اس مطلب کو بیان فرمایا گیا ہے کہ تم لوگ ہنستے کیا خاک ہو تمہارے رونے کے دن تو آگے آرہے ہیں ابن ماجہ مستدرک حاکم اور مسند ابی یعلی کے حوالہ سے انس بن مالک (رض) اور عبد اللہ بن قیس (رض) کی روایتیں گزر چکی ہیں کہ دوزخی لوگ دوزخ میں یہاں تک روئیں گے۔ ١ ؎ مستدرک مع تلخیص حافظ ذہبی ص ٣٤٢ ج ٢۔ ٢ ؎ تفسیر الدرالمنثور ص ٤٢٧ ج ٣ و تفسیر فتح البیان ص ٤٢٥ ج ٢۔ ٣ ؎ جامع ترمذی ص ٥٦ ج ٢ باب ماجاء فی طول العمر للمومن و تفسیر ہذا جلد دوم ص ٢٦١۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 ۔ وہ اس پر ہنستے کہ خشک زمین پر غرقابی کا بچائو کر رہے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) اس پر ہنستے کہ یہ لوگ بجائے اس کے کہ ایمان و اطاعت کے ذریعہ عذاب الٰہیے بچائو حاصل کریں الٹے کفر و معاصی پر اصرار کرکے اور خدائی نشانات کا مذاق اڑا کر عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے جواب کو برسبیل مشاکلت ” سخریہ “ کہ دیا ہو۔ جیسا کہ جزاء سیہ سیتہ مثلھا میں مذکور ہے۔ (روح المعانی) شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ (یعنی نوح علیہ السلام) ہنستے اس پر کہ موت سر پر کھڑی ہے اور یہ ہنستے ہیں۔ (از موضح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب ایک تیسرا منظر سامنے آتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے ہیں۔ وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ، حالیہ فعل کو فعل مضارع کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سے کلام میں نہایت ہی سنجیدگی اور سرگرمی پیدا ہوجاتی ہے۔ اب ہم اپنی تصوراتی دنیا میں گم ہو کر دیکھ رہے ہیں کہ حضرت نوح کشتی بنا رہے ہیں۔ اور ان کی قوم کے لوگ گروہ در گروہ ان کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ اور مذاق کر رہے ہیں۔ یہ مذاق کس کے ساتھ کر رہے ہیں اس شخص کے ساتھ جو ان سے کہتا تھا کہ وہ رسول رب العالمین ہے۔ ان کو دعوت دیتا تھا۔ ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کر رہا تھا اور یہ مکالمہ ایک طویل عرصے تک جار رہا تھا۔ لیکن یہ پیغمبر اب بڑھئی کا کام کر رہے ہیں۔ اور یہ لوگ مذاق اس لیے کرتے تھے کہ یہ صرف ظاہری امور کو دیکھ سکتے تھے۔ اس فعل کے پیچھے جو اللہ کے احکامات و ہدایات تھیں ، وہ ان کی نظروں سے اوجھل تھیں۔ وہ تو مویشیوں کی طرح صرف ظاہری امور کو دیکھ رہے تھے۔ ظاہری حالات کے پس پشت جو حکمت ربانی اور جو تقدیر الہی کام کر رہی تھی وہ پردے میں تھی۔ رہے نوح (علیہ السلام) تو وہ پوری طرح مطمئن تھے۔ اللہ کا جو فرمان ہے وہ ہو کر رہے گا۔ وہ ان کے مذاق کے مقابلے میں نہایت ہی اطمینان ، سربلندی اور بڑی شان سے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے۔ وہ کہتے جاتے : اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ " اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں "۔ ہم تمہارے ساتھ اس لیے مذاق کر رہے ہیں کہ تم معاملات و واقعات کے پس منظر سے نابلد ہو۔ اللہ کی تقدیر تمہارے انتظار میں ہے۔ اور تمہارا انجام سامنے آنے والا ہے۔ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۔ عنقریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کردے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی۔ سوچ لو کہ اس عذاب کے مستحق ہم ہوں گے یا تم۔ ذرا پردہ گرنے کا انتظار کرو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

37: یَصْنَعُ ، کَانَ محذوف کی خبر ہے۔ حذف کان مع بقاء خبر کلام عرب میں جائز ہے لَوْ اور اِنْ کے بعد کَانَ کا حذف مشہور و معروف ہے یحذفونہا و یبقون الخبر بعد لو وان کثیرًا اشتھر (الفیہ ابن مالک) مشرکین حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی بناتے دیکھ کر ان سے استہزاء کرتے کہ یہ کشتی خشک زمین پر کیسے چلاؤ گے یہاں تو کوئی سمندر یا دریا نہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا استہزاء کرلو ہمارا وقت بھی آجائے گا جب ہم دیکھیں گے کہ تم ذلیل ورسوا کرنے والے عذاب میں مبتلا ہو اور ہم محض اللہ کی مہربانی سے اس کشتی میں اس سے محفوظ ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

38 اور نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنانے کا کا م شروع کردیا اور کشتی بنانے لگے اور جب بھی ان کی قوم کے سرداروں کا کوئی گروہان پر گزرتا تو وہ سردار نوح (علیہ السلام) پر ہنستے حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنستے ہیں جس طرح تم ہم پر ہنستے ہو یعنی جب کبھی کوئی جماعت قوم کے روساء کی گزرتی تو کشتی بناتا ہوا دیکھ کر مذاق اڑاتی تو یہ فرماتے ہم کو بھی تمہارے حال پر اسی طرح ہنستی آتی ہے جس طرح تم ہنستے ہو ترجمہ میں ہے ہم بھی ایک د ن تم پر ہنسیں گے وہ ترجمہ ابن کثیر کی رعایت سے کیا گیا مطلب یہ ہوگا کہ تم آج ہم پر ہنستے ہو ہم کل تمہارے غرق ہوتے وقت تمہاری بےوقوفی پر ہنسیں گے۔