Surat Hood

Surah: 11

Verse: 46

سورة هود

قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنۡ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ ٭ ۫ ۖ فَلَا تَسۡئَلۡنِ مَا لَـیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ اِنِّیۡۤ اَعِظُکَ اَنۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۴۶﴾

He said, "O Noah, indeed he is not of your family; indeed, he is [one whose] work was other than righteous, so ask Me not for that about which you have no knowledge. Indeed, I advise you, lest you be among the ignorant."

اللہ تعالٰی نے فرمایا اے نوح یقیناً وہ تیرے گھرانے سے نہیں ہے اس کے کام بالکل ہی ناشائستہ ہیں تجھے ہرگز وہ چیز نہ مانگنی چاہیے جس کا تجھے مطلقا علم نہ ہو میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے اپنا شمار کرانے سے باز رہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ... He (Allah) said: "O Nuh! Surely, he is not of your family..." This means, "He (your son) is not of those whom I promised to save. I only promised you that I would save those of your family who believe." For this reason Allah said, وَأَهْلَكَ إِلاَّ مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ and your family except him against whom the Word has already gone forth. (11:40) ... إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ... verily, his work is unrighteous, ... فَلَ تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ so ask not of Me that of which you have no knowledge! I admonish you, lest you should be one of the ignorant." Thus, for his son, it had already been decreed that he would be drowned due to his disbelief and his opposition to his father, the Prophet of Allah, Nuh peace be upon him. Concerning Allah's statement, إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ (Surely, he is not of your family), meaning that he (Nuh's son) was not among those whom Allah promised to save. Abdur-Razzaq recorded that Ibn Abbas said, "He was the son of Nuh, but he opposed him in deeds and intention." Ikrimah said in some of the modes of recitation it said here, إِنَّهُ عَمَلَ عَمَلً غَيْرَ صَالِحٍ "Verily, he (Nuh's son) worked deeds that were not righteous." قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَاسِرِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

46۔ 1 حضرت نوح (علیہ السلام) نے قرابت نسبی کا لحاظ کرتے ہوئے اسے اپنا بیٹا قرار دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کی بنیاد پر قرابت دین کے اعتبار سے اس بات کی نفی فرمائی کہ وہ تیرے گھرانے سے ہے۔ اس لئے کہ ایک نبی کا اصل گھرانہ تو وہی ہے جو اس پر ایمان لائے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ اور اگر کوئی ایمان نہ لائے تو چاہے وہ نبی کا باپ ہو، بیٹا ہو یا بیوی، وہ نبی کے گھرانے کا فرد نہیں۔ 46۔ 2 یہ اللہ تعالیٰ نے اس کی علت بیان فرما دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کے پاس ایمان اور عمل صا لح نہیں ہوگا، اسے اللہ کے عذاب سے اللہ کا پیغمبر بھی بچانے پر قادر نہیں۔ آج کل لوگ پیروں، فقیروں اور سجادہ نشینوں سے وابستگی کو ہی نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں اور عمل صالح کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے حالانکہ جب عمل صالح کے بغیر نبی سے نسبی قرابت بھی کام نہیں آتی، تو یہ وابستگیاں کیا کام آسکتی ہیں۔ 46۔ 3 اس سے معلوم ہوا کہ نبی عالم الغیب نہیں ہوتا، اس کو اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا وحی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اسے عطا فرما دیتا ہے۔ اگر حضرت نوح (علیہ السلام) کو پہلے سے علم ہوتا کہ ان کی درخواست قبول نہیں ہوگی تو یقینا وہ اس سے پرہیز فرماتے۔ 46۔ 4 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوح (علیہ السلام) کو نصیحت ہے، جس کا مقصد ان کو اس مقام بلند پر فائز کرنا ہے جو علمائے عالمین کے لئے اللہ کی بارگاہ میں ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥١] بدکردار بیٹا بھی نبی کا اہل نہیں ہوسکتا :۔ جب دیکھتے ہی دیکھتے سیدنا نوح کے سامنے ان کا بیٹا غرق ہوگیا تو ملول ہوگئے اور اللہ سے اس انداز میں التجا کی کہ && یا اللہ تیرا وعدہ تھا کہ میں تیرے اہل کو بچا لوں گا اور وعدہ بھی سچا اور تیرا فیصلہ بھی سب حاکموں سے بہتر اور آخری جس کی کوئی اپیل بھی نہیں اور یہ غرق ہونے والا بیٹا بھی تو میرے اہل میں سے ہی تھا۔ پھر اسے غرق کرنے میں کیا حکمت تھی ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ && ایک بدکردار آدمی نبی کے اہل میں سے کیسے ہوسکتا ہے وہ ہرگز تمہارے اہل میں سے نہیں تھا خواہ وہ تمہارا صلبی بیٹا ہی تھا اور دیکھو آئندہ مجھ سے ایسا جاہلانہ سوال کبھی نہ کرنا && نبوت زادگی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی :۔ اس سوال و جواب سے ایک نہایت اہم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صرف ایمان اور عمل صالح ہی کی قدر و قیمت ہے صرف یہی نہیں کہ کنعان کی نبوت زادگی اس کے کچھ کام نہ آسکی بلکہ ایک اولوالعزم نبی اپنے بیٹے کے لیے نجات کی التجا کر رہا ہے تو الٹا اس پر ہی عتاب نازل ہوتا ہے اس سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے جنہوں نے سستی نجات کے لیے طرح طرح کے عقیدے وضع کر رکھے ہیں کسی شخص کا سید ہونا یا کسی بزرگ کا دامن پکڑنا اللہ کے ہاں کچھ وقعت نہیں رکھتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ : فرمایا اے نوح ! یہ تیرے اہل میں سے نہیں، بلکہ ” اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ “ کے تحت کفر کی وجہ سے تمہارا اہل ہونے کے شرف سے محروم ہے اور ان لوگوں میں شامل ہوگیا ہے جن کے غرق کیے جانے کا پہلے فیصلہ ہوچکا ہے۔ ِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ : عام طور پر اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ” اس کے عمل اچھے نہیں ہیں۔ “ یہ معنی اس صورت میں درست ہوسکتا ہے کہ ” عمل “ مصدر کو مبالغہ کے لیے اسم فاعل ( عَامِلٌ ) کے معنی میں مانا جائے، جیسے : ” زَیْدٌ عَدْلٌ“ کو ” زَیْدٌ عَادِلٌ“ کے معنی میں لیا جاتا ہے، یعنی یہ غیر صالح عمل کرنے والا ہے۔ مگر امام المفسرین طبری (رض) کے مطابق ” عَمَلٌ“ کی ضمیر نوح (علیہ السلام) کی دعا کی طر ف جاتی ہے کہ آپ نے اپنے مشرک بیٹے کے حق میں جو سفارش کی ہے، یہ کام اچھا نہیں ہے۔ فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ : یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ سوال تو اسی چیز کا ہوتا ہے جس کا علم نہ ہو، جس چیز کا علم ہو اس کے سوال کی تو ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ اس کے دو جواب ہیں، دراصل عربی میں سوال کا لفظ مانگنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور پوچھنے کے بارے میں بھی۔ سو پہلا جو اب یہ ہے کہ صرف وہی چیز مانگنی چاہیے جس کے متعلق اچھی طرح معلوم ہو کہ جس سے مانگ رہے ہیں وہ یہ چیز مانگنے پر ناراض نہیں ہوگا۔ جس کے متعلق یہ علم نہ ہو بلکہ اس کے ناراض ہونے کا بھی خطرہ ہو، وہ ہرگز نہیں مانگنی چاہیے۔ اب نوح (علیہ السلام) کے سامنے اللہ تعالیٰ کے وہ فرمان موجود تھے : (وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِیْ الَّذِیْنَ ظَلَمْوْا) اور (وَ اَھْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ ) پھر بھی انھیں اس کا علم نہیں ہوسکا کہ اس درخواست پر اللہ تعالیٰ کس قدر ناراض ہوں گے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی درخواست کا جواب تو ” اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ “ کہہ کر دے دیا تھا، اب اس سے آگے امکان تھا کہ نوح (علیہ السلام) بیٹے کے نجات نہ پانے اور کفر پر مستحکم رہنے کے متعلق سوال کرتے کہ اس میں کیا حکمت ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس سے روک دیا کہ میری حکمتوں تک تمہارے علم کی رسائی نہیں ہوسکتی، اس لیے مجھ سے ایسی بات مت پوچھنا۔ (الوسیط للطنطاوی) یعنی پوچھنی بھی وہی بات چاہیے جس کے متعلق علم ہو کہ جس سے پوچھ رہے ہیں وہ اس سوال پر ناراض نہیں ہوگا۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” آدمی پوچھتا وہی ہے جو معلوم نہ ہو، لیکن مرضی معلوم ہونی چاہیے۔ یہ کام ہے جاہل کا کہ اگلے کی مرضی نہ دیکھے پوچھنے کی، پھر پوچھے۔ “ (موضح) اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ : مطلب یہ ہے کہ اس حقیقت کو جاننے کے بعد اگر ایسا سوال کرو گے تو جاہل بن کر رہ جاؤ گے۔ (روح المعانی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the second verse (46), came a stern response from Allah Ta` ala whereby Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was told that this son was no more a part of his family because he was not good and right in what he did. Therefore, it was not proper for him to approach Him with some request while being unaware of the true state of affairs. Then came the mollifying remark that the good counsel was being given to him so that he too does not become one of the ignorant. Two things come out from what was said by Allah Ta` ala: 1. Sayyidna Nuh (علیہ السلام) did not know about the disbelief of his son clearly and fully. He thought he was a hypocrite, so he still took him to be a believer. Therefore, identifying him as a part of his family, he went ahead and prayed that he be saved from the flood. Otherwise, had he known the true state of affairs about him, he would have not made such a prayer. The reason is that he was already instructed in clear terms that he should not, once the flood comes, speak about those who had crossed the limit as it appears in verse 37 earlier وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا ۚ إِنَّهُم مُّغْرَ‌قُونَ. After this clear and explicit injunction, it was impos¬sible for a prophet of God that he would venture to do something against it. The only possible explanation for this could be that, as suggested by the author of Bayan al-Qur&an, the desired objective of this prayer is that his son becomes a believer and not that he be saved from the flood under his present condition. But, Allah Ta` ala has not taken Sayyidna Nuh&s lack of knowledge about the disbelief of his son and the prayer for his deliverance based on it as sound excus¬es. Therefore, he was questioned as to why he would make such a prayer. This is a slip at the highest level of the station of a prophet which Sayyidna Nuh (علیہ السلام) would himself refer to on the day of Res¬urrection when the whole creation will request him to intercede with the Lord on their behalf. He would excuse himself by saying what had happened to him, therefore, he would not dare any intercession. Prayer for the disbelieving and the unjust is not permissible A religious rule of conduct that we learn about here is that one should first find out whether or not the objective for which he is mak¬ing a prayer is permissible and halal (lawful). It is prohibited to make Du` a (prayer) under doubtful circumstances. Tafsir Ruh al-Ma&ani with reference to al-Baydawi reports that since this verse tells us about the prohibition of Du` a under doubtful circumstances, it is automatically inferred from it that it will be all the more prohibited to pray for anything known to be impermissible and unlawful. This rule also helps us realize the absence of discretion among modern day Shaykhs (spiritual masters) who have become used to raising their hands of prayer for anyone who comes in asking for some prayer to be made for him. Most of the time, they know that this per-son is not on the right, or is unjust, in the case for which he is asking the Shaykh to pray. Or, the person is asking the Shaykh to pray for a purpose that is not lawful for him, may be this person is looking for a particular job or office through which he will become involved in earning unlawfully, or succeed in it by usurping someone&s right. When attending circumstances are known, such prayers are un¬lawful and impermissible after all. Even if the circumstances are doubtful, taking the initiative to make Du` a, without first getting to know the circumstances as they are and the lawfulness of the matter in question, is also not appropriate. Brotherly relations between believers and disbelievers 2. The second religious ruling that emerges from here is that a be¬liever and a disbeliever may be blood relatives to each other, but when it comes to religious and collective matters, this kinship will have no effect. A person may be high born, he may come from the progeny of men of high spiritual status, so much so that one may even have the honor of being among the progeny of our most noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . But, this high lineage and this prophetic connection will also not be taken into consideration as a factor in religious matters, if the person is not a believer. In religion, everything functionally depends on faith, goodness and the fear of Allah. One who is good in deeds and fears Allah, he is ours. If not like that, he is an alien. Had concessions based on kinship been given even in religious matters, brothers would have not crossed swords against each other in the battlefields of Badr and Uhud. It is common knowledge among Muslims that the battles of Badr, Uhud and al-Ahzab were fought among individuals coming from the same families. This clearly demon¬strates that Islamic nationality or brotherhood does not hinge on lineal bond or geographical or linguistic unity. Instead, it revolves round faith and deed. All believers, residents of any country, members of any family and speakers of any language, are a single nation, a single brotherhood. The Qur&anic verse: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ (The believers are but brothers - 49:10) means just this. Then, those who are deprived of faith and good deeds, they are not members of the Islamic brotherhood. The Holy Qur&an has made this reality all the more clear through the words spoken by Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) : إِنَّا بُرَ‌آءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ (Indeed, we have nothing to do with you and with whatever you wor¬ship other than Allah - al-Mumtahinah, 60:4). This humble writer has restricted the above rule to the ` religious matters& only for the reason that, in worldly matters, demonstrating good social behavior, moral grace, favor and generosity is something different. It is quite permissible to deal even with someone not good with these graces, in fact, it is recommended, and is an act worthy of thawab (reward). Countless instances where the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his noble Companions (رض) have treated non-Muslims with com¬passion, favour and good grace are sufficient to prove this. In our time, the edifice of nationalities is raised on the foundations of homeland, language or color whereby Muslims are segregated into one or the other ` nation& under false banners. This is contrary to the Qur&an, and Sunnah, and amounts to rising in rebellion against the principles of political and social management enunciated by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .

دوسری آیت میں حق تعالیٰ کی طرف سے اس کے جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو تنبیہ کی گئی کہ یہ لڑکا آپ کو نہیں چاہئے کہ اس حقیقت حال سے بیخبر رہ کر مجھ سے کوئی سوال کریں ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ۔ حق تعالیٰ کے اس ارشاد سے دو باتیں معلوم ہوئیں، اول یہ کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس بیٹے کے کفر کا پورا حال معلوم نہ تھا اس کے نفاق کی وجہ سے وہ اس کو مسلمان ہی جانتے تھے، اسی لئے اس کو اپنے اہل کا ایک فرد قرار دے کر طوفان سے بچانے کی دعا کر بیٹھے ورنہ اگر ان کو حقیقت حال معلوم ہوتی تو ایسی دعا نہ کرتے، کیونکہ ان کو صریح طور پر پہلے ہی یہ ہدایت دے دی گئی تھی کہ جب طوفان آجائے تو پھر آپ ان سرکشوں میں سے کسی کے متعلق کوئی سفارش کی گفتگو نہ فرمائیں، جیسا کہ پچھلی آیات میں گزر چکا ہے، (آیت) وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ ، اس صاف وصریح حکم کے بعد ناممکن تھا کہ پیغمبر خدا اس کی خلاف ورزی کی جرأت کرتے، بجز اس احتمال کے جس کو اوپر خلاصہ تفسیر میں لیا گیا ہے کہ اس دعا کا حاصل اس بیٹے کے مومن ہوجانے کی دعا ہے یہ نہیں کہ اس کے موجودہ حال میں اس کو طوفان سے بچایا جائے لیکن حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس کے کفر سے لا علمی اور اس کی بناء پر دعا نجات کو بھی حق تعالیٰ نے عذر صحیح قرار نہیں دیا اور اسی لئے تنبیہ کی گئی کہ بغیر علم کے ایسی دعا کیوں کی، اور یہ پیغمبرانہ شان کی ایک ایسی لغزش ہے جس کو حضرت نوح (علیہ السلام) اس وقت بھی اپنے عذر میں پیش کریں گے جب محشر میں پوری مخلوق خدا آپ سے شفاعت کرنے کی درخواست کرے گی تو وہ فرمائیں گے کہ مجھ سے ایسی لغزش ہوچکی ہے اس لئے میں شفاعت کی جرأت نہیں کرسکتا۔ کافر اور ظالم کے لئے دعا جائز نہیں : اس سے ایک مسئلہ یہ بھی معلوم ہوا کہ دعا کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرلے کہ جس کام کی دعا کر رہا ہے وہ جائز و حلال ہے یا نہیں، مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، تفسیر روح المعانی میں بحوالہ قاضی بیضاوی نقل کیا ہے کہ جب اس آیت سے مشتبہ الحال کے لئے دعا کرنے کی ممانعت معلوم ہوئی تو جس معاملہ کا ناجائز و حرام ہونا معلوم ہو اس کے لئے دعا کا ناجائز ہونا بدرجہ اولی ثابت ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آجکل کے مشائخ میں جو یہ عام رواج ہوگیا ہے کہ جو شخص کسی دعا کے لئے آیا اس کے واسطے ہاتھ اٹھا دیئے اور دعا کردی حالانکہ اکثر ان کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس مقدمہ کے لئے یہ دعا کرا رہا ہے اس میں یہ خود ناحق پر ہے یا ظالم ہے، یا کسی ایسے مقصد کے لئے دعا کرا رہا ہے جو اس کے لئے حلال نہیں، کوئی ایسی ملازمت اور منصب ہے جس میں یہ حرام میں مبتلا ہوگا یا کسی کی حق تلفی کر کے اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے گا۔ ایسی دعائیں حالت معلوم ہونے کی صورت میں تو حرام و ناجائز ہیں ہی اگر حالت اشتباہ کی حالت بھی ہو تو حقیقت حال اور معاملہ کے جائز ہونے کا علم حاصل کئے بغیر دعا کیلئے اقدام کرنا بھی مناسب نہیں۔ مؤ من و کافر میں رشتہ اخوت نہیں ہوسکتا وطنی یا نسبی بنیاد پر قومیت کی تعمیر اصول اسلام سے بغاوت ہے : دوسرا مسئلہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ مومن اور کافر کے درمیان اگرچہ رشتہ قرابت کا ہو، مگر دینی اور اجتماعی معاملات میں اس رشتہ داری کا کوئی اثر نہیں ہوگا، کوئی شخص کتنا ہی عالی نسب ہو، کتنے ہی بڑے بزرگ کی اولاد ہو یہاں تک کہ سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اولاد میں داخل ہونے کا شرف رکھتا ہو، اگر وہ مومن نہیں ہے تو دینی معاملات میں اس کے اس نسب عالی اور قرابت نبوی کا بھی کوئی لحاظ نہ کیا جائے گا، تمام دینی معاملات میں تو مدار کار ایمان اور صلاح وتقوی پر ہے، جو صالح و متقی ہے وہ اپنا ہے جو ایسا نہیں وہ بیگانہ ہے، ہزار خویشی کہ بیگانہ از خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کاشنا باشد اگر دینی معاملات میں بھی ان رشتہ داریوں کی رعایت ہوتی تو بدر و احد کے میدانوں میں بھائی کی تلوار بھائی پر نہ چلتی، بدر و احد اور احزاب کے معرکے تو سب کے سب ایک ہی خاندانوں کے افراد کے درمیان پیش آئے ہیں، جس نے واضح کردیا کہ اسلامی قومیت اور برادری نسبی تعلقات یا وطنی اور لسانی وحدتوں پر دائر نہیں ہوتی بلکہ ایمان و عمل پر دائر ہے، ایمان والے خواہ کسی ملک کے باشندے اور کسی خاندان کے افراد اور کوئی زبان بولنے والے ہوں سب ایک قوم اور ایک برادری ہیں (آیت) انما المومنون اخوۃ کا یہی مطلب ہے، اور جو ایمان و عمل صالح سے محروم ہیں وہ اسلامی برادری کے فرد نہیں، قرآن کریم نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی زبانی اس حقیقت کو بہت واضح الفاظ میں بیان کردیا ہے (آیت) اِنَّا بُرَءٰۗؤ ُ ا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ، یعنی ہم تم سے بھی بری ہیں اور تمہارے معبودوں سے بھی۔ اس مسئلہ میں احقر نے دینی معاملات کی قید اس لئے لگائی ہے کہ دنیوی معاملات میں حسن معاشرت، حسن اخلاق اور احسان و کرم کا سلوک کرنا الگ چیز ہے وہ غیر صالح سے بھی جائز بلکہ مستحسن اور ثواب ہے، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کا تعامل اور غیر مسلموں کے ساتھ احسان و سلوک کے بیشمار واقعات اس پر شاہد ہیں۔ آج کل جو وطنی اور لسانی یا لونی بنیادوں پر قومیت کی تعمیر کی جاتی ہے، عرب برادری ایک قوم، ہندی، سندھی دوسری قوم قرار دی جاتی ہے، یہ قرآن و سنت کے خلاف اور رسول کریم اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصول سیاست سے بغاوت کے مرادف ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّہٗ لَيْسَ مِنْ اَہْلِكَ۝ ٠ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ۝ ٠ ۡ ۤۖ فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ۝ ٠ ۭ اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِيْنَ۝ ٤٦ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ وعظ الوَعْظُ : زجر مقترن بتخویف . قال الخلیل . هو التّذكير بالخیر فيما يرقّ له القلب، والعِظَةُ والمَوْعِظَةُ : الاسم . قال تعالی: يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [ النحل/ 90] ( و ع ظ ) الوعظ کے معنی ایسی زجر تو بیخ کے ہیں جس میں خوف کی آمیزش ہو خلیل نے اس کے معنی کئے ہیں خیر کا اس طرح تذکرہ کرنا جس سے دل میں رقت پیدا ہوا عظۃ وموعضۃ دونوں اسم ہیں قرآن میں ہے : ۔ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [ النحل/ 90] نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو ۔ جهل الجهل علی ثلاثة أضرب : - الأول : وهو خلوّ النفس من العلم، هذا هو الأصل، وقد جعل ذلک بعض المتکلمین معنی مقتضیا للأفعال الخارجة عن النظام، كما جعل العلم معنی مقتضیا للأفعال الجارية علی النظام . - والثاني : اعتقاد الشیء بخلاف ما هو عليه . - والثالث : فعل الشیء بخلاف ما حقّه أن يفعل، سواء اعتقد فيه اعتقادا صحیحا أو فاسدا، كمن يترک الصلاة متعمدا، وعلی ذلک قوله تعالی: قالُوا : أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] ( ج ھ ل ) الجھل ۔ ( جہالت ) نادانی جہالت تین قسم پر ہے ۔ ( 1) انسان کے ذہن کا علم سے خالی ہونا اور یہی اس کے اصل معنی ہیں اور بعض متکلمین نے کہا ہے کہ انسان کے وہ افعال جو نظام طبعی کے خلاف جاری ہوتے ہیں ان کا مقتضی بھی یہی معنی جہالت ہے ۔ ( 2) کسی چیز کے خلاف واقع یقین و اعتقاد قائم کرلینا ۔ ( 3) کسی کام کو جس طرح سر انجام دینا چاہئے اس کے خلاف سر انجام دنیا ہم ان سے کہ متعلق اعتقاد صحیح ہو یا غلط مثلا کوئی شخص دیا ۔ دانستہ نماز ترک کردے چناچہ اسی معنی کے اعتبار سے آیت : أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] میں ھزوا کو جہالت قرار دیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٦) اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح (علیہ السلام) یہ تمہارے ان گھر والوں میں سے نہیں ہے جن کے بچانے کا ہم نے وعدہ فرمایا ہے یہ غیر پسندیدہ کام یعنی شرک میں مبتلا ہے اس کی نجات کے بارے میں آپ کی دعا میری مرضی کے خلاف ہے سو مجھے ایسے لوگوں کی نجات کی درخواست مت کرو جن کی آپ کو خبر نہیں کہ یہ اہل نجات سے ہیں یا نہیں۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ایسی چیزوں کی درخواست کرکے جنھیں تم نہیں جانتے کہ کہیں تو نادان نہ بن جاؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٦ (قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ) اس کے نظریات اس کے عقائد ‘ اس کا کردار سب کافرانہ تھے۔ وہ آپ کے اہل میں کیسے شمار ہوسکتا ہے ؟ نبی کا گھرانا صرف نسب سے نہیں بنتا بلکہ ایمان و عمل صالح سے بنتا ہے۔ چناچہ وہ آپ کے نسبی خاندان کا ایک رکن ہونے کے علی الرغم آپ کے ایمانی و اخلاقی خاندان کا فرد نہیں تھا۔ (اِنِّیْٓ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ ) یہ بہت سخت انداز ہے۔ یاد کیجیے کہ سورة الانعام کی آیت ٣٥ میں محمد رسول اللہ سے بھی اس طرح کے الفاظ فرمائے گئے ہیں ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

49. The import of this Qur'anic verse may best be appreciated by analogy to the limbs on a person's body. A limb may become rotten and a physician may decide to remove it by surgical operation. Now, the patient may ask his doctor not to amputate because it is a part of his body. The natural reply of the physician would be that the rotten limb was not truly a part of his body. Such a reply does not amount to denying, in a literal sense, the obvious fact that the limb is a part of that person's body. What such a statement actually means is that a person's body requires sound and healthy limbs rather than those which are rotten. For rotten limbs are not only useless, they are even able to damage other healthy limbs. In view of the above, it makes sense that that limb be surgically removed. In a similar way a righteous father may be told that his corrupt son is not a part of his family. The biological fact of his being the son of his father is not being negated here. Rather, it is being said that on a moral plane the son has nothing to do with his father's righteous household. It is also pertinent to remember the context in which the present pronouncement was made. A judgement was needed in the encounter between faith and unbelief so as to determine who had faith and who was devoid of it. The righteous were to be saved and the evil were to be destroyed. The pronouncement was not intended to suggest that those of a certain stock would be saved while others would be destroyed. By mentioning Noah's son as 'one of unrighteous conduct', the Qur'an draws our attention to another significant fact. A worldly person brings up his children and holds them dear for the simple reason that they happen to be his offspring regardless of their conduct. However, for a believer, the main consideration is how his children actually behave. A believer's view of his children is governed by the conception that his children are God's trust placed in his care such that he may bring them up in a manner that allows them to pursue the end for which God has created man. It is possible, however, that in spite of their best efforts parents may not succeed in the proper upbringing of their children and that the latter, when they grow up, fail to obey their Lord. If this happens, parents should realize that all their efforts have been wasted and that there is no reason for them to hold such children dear to their hearts. The Qur'an is firm in its suggestion of such an attitude. It is obvious, therefore, that the same holds true for other relatives who are not as close as one's own children. For faith, as we know, is essentially an ideational and moral quality, and people are called believers or men of faith by dint of possessing that quality. It is man's faith which creates affinity between him and all other believers. The essential nexus of this relationship is thus ideational and moral. Those who happen to be a person's kin through blood ties are indeed relatives. If they do not share their faith, however, a believer will fulfil and be required to fulfil only the duties he owes to them on account of the accident of this blood relationship. This relationship, however, is bound to be devoid of the true cordiality and spiritual affinity which characterizes his relationship with believers. And should there be any conflict between belief and unbelief whereby a believer's relatives confront him, the believer is required to treat them exactly as any other unbeliever. 50. God's observation should not give even the slightest misunderstanding that Noah (peace be on him) in any way lacked the true spirit of faith or that his faith was, to any degree, tainted by Ignorance (Jahiliyah). What perhaps one ought to remember, in order to fully appreciate what is being said here is that even Prophets are human. As human beings, it is not always possible even for them to maintain the very high standards of excellence laid down for men of faith. At some psychologically-charged moment even Prophets, despite their extraordinary spiritual excellence and sublimity, become vulnerable albeit momentarily to human weaknesses. However, as soon as they realize or are made to realize by God that their conduct is falling short of the high standards required of them, they repent. Without the least hesitation or delay, they strive to mend their ways. In fact there cannot be any better proof of Noah's moral excellence than the present incident mentioned in the Qur'an. Just consider what had happened. Only a few moments previously Noah's son had drowned before his very eyes, something that would have simply shattered his father's whole being. At such an agonizing moment Noah (peace be on him) was reminded by God that his son had identified himself with falsehood rather than with truth. Noah (peace be on him) was told that this feeling that his son belonged to him merely because he was from his loins was a vestige jahiliyah. What is significant is that Noah (peace be on him) immediately re-oriented himself and fully adopted the attitude required of him by Islam, doing so despite the fact that the wound that he had sustained was fresh.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :49 یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کے جسم کا کوئی عضو سڑ گیا ہو اور ڈاکٹر نے اس کو کاٹ پھینکنے کا فیصلہ کیا ہو ۔ اب وہ مریض ڈاکٹر سے کہتا ہے کہ یہ تو میرے جسم کا ایک حصہ ہے اسے کیوں کاٹتے ہو ۔ اور ڈاکٹر اس کے جواب میں کہتا ہے کہ یہ تمہارے جسم کا حصہ نہیں ہے کیوں کہ یہ سڑ چکا ہے ۔ اس جواب کا مطلب یہ نہ ہوگا کہ فی الواقع وہ سڑا ہوا عضو جسم سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے جسم کے لیے جو اعضا مطلوب ہیں وہ تندرست اور کارآمد اعضاء ہیں نہ کہ سڑے ہوئے اعضا جو خود بھی کسی کام کے نہ ہوں اور باقی جسم کو بھی خراب کر دینے والے ہوں ۔ لہٰذا جو عضو بگڑ چکا ہے وہ اب اس مقصد کے لحاظ سے تمہارے جسم کا ایک حصہ نہیں رہا جس کے لیے اعضاء سے جسم کا تعلق مطلوب ہوتا ہے ۔ بالکل اسی طرح ایک صالح باپ سے یہ کہنا کہ یہ بیٹا تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے کیونکہ اخلا ق وعمل کے لحاظ سے بگڑ چکا ہے ، یہ معنی نہیں رکھتا کہ اس کے بیٹا ہونے کی نفی کی جا رہی ہے ، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہ بگڑا ہوا انسان تمہارے صالح خاندان کا فرد نیہں ہے ۔ وہ تمہارے نسبی خاندان کا ایک رکن ہو تو ہوا کرے مگر تمہارے اخلاقی خاندان سے اس کا کوئی رشتہ نہیں ۔ اور آج جو فیصلہ کیا جا رہا ہے وہ نسلی یا قومی نزاع کا نہیں ہے کہ ایک نسل والے بچائے جائیں اور دوسری نسل والے غارت کر دیے جائیں ، بلکہ یہ کفروایمان کی نزاع کا فیصلہ ہے جس میں صرف صالح بچائے جائیں گے اور فاسد مٹا دیے جائیں گے ۔ بیٹے کو بگڑا ہوا کام کہہ کر ایک اور اہم حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے ۔ ظاہر بین آدمی اولاد کو صرف اس لیے پرورش کرتا ہے اور اسے محبوب رکھتا ہے کہ وہ اس کی صلب سے یا اس کے پیٹ سے پیدا ہوئی ہے ، قطع نظر اس سے کہ وہ صالح ہو یا غیر صالح ، لیکن مومن کی نگاہ تو حقیقت پر ہونی چاہیے ۔ اسے تو اولاد کو اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ یہ چند انسان ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے فطری طریقہ سے میرے سپرد کیا ہے تاکہ ان کو پال پوس کر اور تربیت دے کر اس مقصد کے لیے تیار کروں جس کے لیے اللہ نے دنیا میں انسان کو پیدا کیا ہے ۔ اب اگر اس کی تمام کوششوں اور محنتوں کے باوجود کوئی شخص جو اس کے گھر پیدا ہوا تھا ۔ اس مقصد کے لیے تیار نہ ہو سکا اور اپنے اس رب ہی کا وفادار خادم نہ بنا جس نے اس کو مومن باپ کے حوالے کیا تھا ، تو اس باپ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کی ساری محنت و کوشش ضائع ہو گئی ، پھر کوئی وجہ نہیں کہ ایسی اولاد کے ساتھ اسے کوئی دل بستگی ہو ۔ پھر جب یہ معاملہ اولاد جیسی عزیز ترین چیز کے ساتھ ہے تو دوسرے رشتہ دارں کے متعلق مومن کا نقطہ نظر جو کچھ ہو سکتا ہے ہو ظاہر ہے ۔ ایمان ایک فکری و اخلاقی صفت ہے ۔ مومن اسی صفت کے لحاظ سے مومن کہلاتا ہے ۔ دوسرے انسانوں کے ساتھ مومن ہونے کی حیثیت سے اس کا کوئی رشتہ بجز اخلاقی و ایمانی رشتہ کے نہیں ہے ۔ گوشت پوست کے رشتہ دار اگر اس صفت میں اس کے ساتھ شریک ہیں تو یقینا وہ اس کے رشتہ دار ہیں ، لیکن اگر وہ اس صفت سے خالی ہیں تو مومن محض گوشت پوست کی حد تک ان سے تعلق رکھے گا ، اس کا قلبی و روحی تعلق ان سے نہیں ہو سکتا ۔ اور اگر ایمان و کفر کی نزاع میں وہ مومن کے مد مقابل آئیں تو اس کے لیے وہ اور اجنبی کافر یکساں ہوں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:46) انہ عمل غیر صالح۔ ای انہ ذوعمل فاسد۔ وہ صاحب اعمال فاسدہ ہے۔ یعنی اس کے اعمال اچھے نہیں ہیں غیر صالح ہیں۔ ذو۔ کو مبالغہ کی خاطر حذف کیا گیا ہے۔ فلا تسئلن اصل میں فلاتسئلنی تھا۔ لاتسئل فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ نون وقایہ اور ی متکلم مفعول کے لئے ہے تو مجھ سے سوال مت کر۔ مجھ سے درخواست نہ کر۔ اعظل۔ وعظ یعظ وعظ (ضرب) سے مضارع واحد متکلم ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 ۔ یعنی ان لوگوں میں سے نہیں ہے جنہوں نے تجھ پر ایمان لا کر تیری پر وی اختیار کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ نجات کے لئے نسبی تعلق کافی نہیں ہے بلکہ ایمان و عمل ضروری ہے۔ 10 ۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے کسی ایسی چیز کا مانگنا جائز نہیں ہے جس کے متعلق معلوم ہو کہ وہ اس کی شریعت کے مطابق نہیں ہے۔ 1 ۔ یا یہ کہ تمہیں اس سے بلند دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم سے کوئی ایسا کام صادر ہو جو جائلوں کے کرنے کا ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں آدمی پوچھتا وہی ہے جو معلوم نہ ہو لیکن مرضی معلوم ہونی چاہیے۔ یہ کام ہے جائل کا کہ اگلے کی مرضی نہ دیکھئے پوچھنے کی پھر پوچھے۔ (موضح) مطلب یہ ہے کہ اس حقیقت کو جاننے کے بعد اگر آئندہ ایسا سوال کرو گے تو جائل بن کر رہ جائو گے۔ (روح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ : " اے وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے " وہ آپ سے کٹ چکا ہے اور آپ اس سے کٹ چکے ہیں ، اگرچہ وہ تمہارا حقیقی بیٹا ہے کیونکہ اسلام میں اصل تعلق اور رابطہ نظریاتی رابطہ ہے ، اس کے علاوہ کوئی رابطہ اور قوت جامعہ اسلام میں معتبر نہیں ہے۔ حضرت نوح نے جن حالات میں دعا کی تھی وہ ایسے تھے کہ ان کی دعا منظور نہ ہوئی اس لیے اس کا جو جواب انہیں دیا گیا اس میں قدرے تہدید اور تنبیہ بھی ہے۔ فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ : " لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو میں نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے " میں اس بات سے ڈر کر تمہیں تاکیدی نصیحت کرتا ہوں کہیں تم اسلامی روابط کی حقیقت اور اسلامی اخوت کی ماہیت کے سمجھنے میں غلطی نہ کرجاؤ یا اللہ نے جو وعدہ کیا تھا اس کے سمجھنے میں غلطی نہ کر بیٹھو۔ اللہ کا وعدہ تو پورا ہوچکا ہے اور جو تمہارے اہالی و موالی تھے وہ سب نجات پا چکے ہیں اور یہ حقیقت ہے۔ اس تنبیہ آمیز جواب کو سنتے ہی حضرت نوح کانپ اٹھتے ہیں جس طرح ایک حقیقی مومن اس وقت کانپ اٹھتا ہے جب اسے یہ سوچ آتی ہے کہ بارگاہ الہی میں اس سے کہیں غلطی اور گستاخی نہ ہوجائے۔ چناچہ حضرت نوح فوراً توبہ و استغفار فرماتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

44: فرمایا اے نوح ! یہ تیرے ان اہل بیت سے نہیں جن کو نجات دینے کا میں نے وعدہ کیا تھا کیونکہ اس کے اعمال نیک نہیں بلکہ وہ مشرک ہے اس لیے جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کے بارے میں مجھ سے مت سوال کرو۔ دلوں کے بھید تو اللہ جانتا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے بیٹے کے نفاق سے بیخبر تھے اس لیے اس بارے میں سوال کر بیٹھے۔ فاخبر اللہ تعالیٰ نوحا بما ھو منفرد بہ من علم الغیوب ای علمت من حال ابنک ما لم تعلمہ انت الخ (قرطبی) ۔ اس آیت سے شفاعت قہری اور غیر اللہ کے مختار و متصرف ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے بیٹے کو نہ ہدایت پر لاسکے اور نہ عذاب الٰہی سے اسے بچا سکے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

46 اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح (علیہ السلام) یہ بیٹا تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے اس کے عمل ناشائستہ میں مجھ سے کسی ایسی چیز کی درخواست نہ کر جس کی تجھ کو خبر نہ ہو میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ تو نادان نہ بن اور کہیں تو نادانوں میں شامل نہ ہوجائے یعنی تیری اہل نہیں کہ اس کے اعمال صحیح نہ تھے بلکہ کفر یہ تھے یا یہ بات کہ وہ من سبق علیہ القول میں داخل ہے اور اس کی قسمت میں ایمان نہیں ایمان نہیں تو نجات نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آدمی پوچھتا ہے جو معلوم نہ ہو لیکن مرضی معلوم چاہئے یہ کام ہے جاہل کا کہ اگلے کی مرضی نہ ہو دیکھنے پوچھنے کی پھر پوچھے 12