Surat Hood

Surah: 11

Verse: 88

سورة هود

قَالَ یٰقَوۡمِ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کُنۡتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ وَ رَزَقَنِیۡ مِنۡہُ رِزۡقًا حَسَنًا ؕ وَ مَاۤ اُرِیۡدُ اَنۡ اُخَالِفَکُمۡ اِلٰی مَاۤ اَنۡہٰکُمۡ عَنۡہُ ؕ اِنۡ اُرِیۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ ؕ وَ مَا تَوۡفِیۡقِیۡۤ اِلَّا بِاللّٰہِ ؕعَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ اِلَیۡہِ اُنِیۡبُ ﴿۸۸﴾

He said, "O my people, have you considered: if I am upon clear evidence from my Lord and He has provided me with a good provision from Him... ? And I do not intend to differ from you in that which I have forbidden you; I only intend reform as much as I am able. And my success is not but through Allah . Upon him I have relied, and to Him I return.

کہا اے میری قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل لئے ہوئے ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بہترین روزی دے رکھی ہے میرا یہ ارادہ بالکل نہیں کہ تمہارے خلاف کرکے خود اس چیز کی طرف جھک جاؤں جس سے تمہیں روک رہا ہوں میرا ارادہ تو اپنی طاقت بھر اصلاح کرنے کا ہی ہے میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Shu`ayb's Refutation of His People Allah tells; قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىَ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي ... He said: "O my people! Tell me if I, have a clear evidence from my Lord, meaning, upon clear guidance in that which I am calling to. ... وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا ... and He has given me a good sustenance from Himself. It has been said that he meant the Prophethood. It has also been said that he meant the lawful provisions. It seems that the verse carries both meanings. ... وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ ... I wish not, in contradiction to you, to do that which I forbid you. Ath-Thawri said, meaning, `do not forbid you from something and at the same time I contradict my prohibitions in secret behind your backs, doing what I have forbidden.' This is similar to what Qatadah said concerning Allah's statement, "He is saying, `I do not forbid you all from something while I do it myself."' ... إِنْ أُرِيدُ إِلاَّ الاِصْلَحَ مَا اسْتَطَعْتُ ... I only desire reform to the best of my power. This means, "In that which I command and forbid you, I only want to correct your affair as much as I am able." ... وَمَا تَوْفِيقِي ... And my guidance cannot come, This means, "In whatever I intend that agrees with the truth." ... إِلاَّ بِاللّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ... except from Allah, in Him I put my trust, This means in all of my affairs. ... وَإِلَيْهِ أُنِيبُ and unto Him I repent. meaning; "I return." This has been said by Mujahid and others.

قوم کو تبلیغ آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ دیکھو میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل و حجت اور بصیرت پر قائم ہوں اور اسی کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں ۔ اس نے اپنی مہربانی سے مجھے بہترین روزی دے رکھی ہے ۔ یعنی نبوت یا رزق حلال یا دونوں ، میری روش تم یہ نہ پاؤ گے کہ تمہیں تو بھلی بات کا حکم کروں اور خود تم سے چھپ کر اس کے برعکس کروں ۔ میری مراد تو اپنی طاقت کے مطابق اصلاح کرنی ہے ۔ ہاں میرے ارادہ کی کامیابی اللہ کے ہاتھ ہے ۔ اسی پر میرا بھروسہ اور توکل ہے اور اسی کی جانب رجوع توجہ اور جھکنا ہے ۔ مسند امام احمد میں ہے حکیم بن معاویہ اپنے باپ سے راویت کرتے ہیں کہ اس کے بھائی مالک نے کہا کہ اے معاویہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پڑوسیوں کو گرفتار کر رکھا ہے ، تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری بات چیت بھی ہو چکی ہے اور تمہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہچانتے بھی ہیں ۔ پس میں اس کے ساتھ چلا ۔ اس نے کہا کہ میرے پڑوسیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رہا کر دیجئے وہ مسلمان ہو چکے تھے ۔ آپ نے اس سے منہ پھر لیا ۔ وہ غضب ناک ہو کر اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا واللہ اگر آپ نے ایسا جواب دیا تو لوگ کہیں گے کہ آپ ہمیں تو پڑوسیوں کے بارہ میں اور حکم دیتے ہیں اور آپ خود اس کے خلاف کرتے ہیں ۔ اس پر آپ نے فرمایا کیا لوگوں نے ایسی بات زبان سے نکالی ہے؟ اگر میں ایسا کروں تو اس کا وبال مجھ پر ہی ہے ان پر تو نہیں ۔ جاؤ اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو ۔ اور روایت میں ہے کہ اس کی قوم کے چند لوگ کسی شبہ میں گرفتار تھے ۔ اس پر قوم کا ایک آدمی خاص حاضر ہوا ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے ۔ اس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کسی چیز سے اوروں کو روکتے ہیں اور خود اسے کرتے ہیں ۔ آپ نے سمجھا نہیں ۔ اس لیے پوچھا کہ لوگ کیا کہتے ہیں حضرت بہزبن حکیم کے دادا کہتے ہیں میں نے بیچ میں بولنا شروع کر دیا کہ اچھا ہے آپ کے کان میں یہ الفاظ نہ پڑیں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے منہ سے میری قوم کے لیے کوئی بد دعا نکل جائے کہ پھر انہیں فلاح نہ ملے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر اسی کوشش میں رہے یہاں تک کہ آپ نے اس کی بات سمجھ لی اور فرمانے لگے کیا انہوں نے ایسی بات زبان سے نکالی؟ یا ان میں سے کوئی اس کا قائل ہے؟ واللہ اگر میں ایسا کروں تو اس کا بوجھ بار میرے ذمے ہے ان پر کچھ نہیں ۔ اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو ۔ اسی قبیل سے وہ حدیث بھی ہے جسے مسند احمد لائے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میری جانب سے کوئی ایسی حدیث سنو کہ تمہارے دل اس کا انکار کریں اور تمہارے بدن اور بال اس سے علیحدگی کریں یعنی متاثر نہ ہوں اور تم سمجھ لو کہ وہ تم سے بہت دور ہے تو میں اس سے اس سے بھی زیادہ دور ہوں ۔ اس کی اسناد صحیح ہے ۔ حضرت مسروق کہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی اور کہنے لگی کیا آپ بالوں میں جوڑ لگانے کو منع کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔ اس نے کہا آپ کے گھر کی بعض عورتیں تو ایسا کرتی ہیں آپ نے فرمایا اگر ایسا ہو تو میں نے اللہ کے نیک بندے کی وصیت کی حفاظت نہیں کی ۔ میرا ارادہ نہیں کہ جس چیز سے تمہیں روکوں اس کے برعکس خود کروں ۔ حضرت ابو سلیمان ضبی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز کے رسالے آتے تھے جن میں اوامر ونواہی لکھے ہوئے ہوتے تھے اور آخر میں یہ لکھا ہوتا تھا کہ میں بھی اس میں ہی ہوں جو اللہ کے نیک بندے نے فرمایا کہ میری توفیق اللہ ہی کے فضل سے ہے ۔ اسی پر میرا توکل ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

88۔ 1 رزق حسن کا دوسرا مفہوم نبوت بھی بیان کیا گیا ہے۔ (ابن کثیر) 88۔ 2 یعنی جس کام سے میں تجھے روکوں، تم سے خلاف ہو کر وہ میں خود کروں، ایسا نہیں ہوسکتا۔ 88۔ 3 میں تمہیں جس کام کے کرنے یا جس سے روکنے کا حکم دیتا ہوں، اس سے مقصد اپنی مقدور بھر، تمہاری اصلاح ہی ہے۔ 88۔ 4 یعنی حق تک پہنچنے کا جو میرا ارادہ ہے، وہ اللہ کی توفیق سے ہی ممکن ہے، اس لئے تمام معاملات میں میرا بھروسہ اسی پر ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٩] یہ واضح دلیل وہی داعیہ فطرت ہے جو ہر انسان کے تحت الشعور میں موجود ہے پھر جو لوگ اللہ کی ہر سو پھیلی ہوئی نشانیوں میں غور و فکر کرتے ہیں ان میں یہ داعیہ تحت الشعور سے شعور میں آجاتا ہے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔ [ ١٠٠] رزق حسن سے مراد :۔ یہاں رزق حسن سے مراد نبوت اور علم وحی ہے اور اگر رزق سے مراد ظاہری حلال اور پاکیزہ رزق یا مال و دولت ہی لیا جائے تو بھی اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں تمہاری بددیانتیوں کے معاملہ میں تمہارا حامی کیسے بن سکتا ہوں بھلا کیا میں ایسے کام کرسکتا ہوں جن سے تمہیں روکتا ہوں۔ میں تو تمہاری بھی اصلاح چاہتا ہوں پھر میں ایسے کام کیوں کروں گا اور میں اپنے اس عزم پر قائم رہنے کی اللہ سے توفیق چاہتا ہوں اور ہر پریشانی کے وقت اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ ۔۔ :” بَيِّنَةٍ “ وہ دلیل جس کے ساتھ حق اور باطل واضح اور الگ الگ ہوجائے۔ ” رِزْقًا حَسَـنًا “ یہ لفظ تین چیزوں کے لیے آیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نبوت، حلال روزی اور صاف ستھری پاکیزہ زندگی۔ یہاں ” اَرَءَيْتُمْ “ کا جواب محذوف ہے، یعنی اے میری قوم ! یہ بتاؤ اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے رزق حسن دیا ہو تو کیا میں اسے چھوڑ کر تمہاری طرح حرام کھانے لگوں اور تمہیں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چھوڑ دوں ؟ ” رِزْقًا حَسَـنًا “ سے معلوم ہو رہا ہے کہ شعیب (علیہ السلام) عطائے نبوت کے ساتھ ساتھ حلال روزی کے ذریعے سے اچھے خاصے مال دار آدمی تھے۔ وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ ۔۔ : یعنی میں جو تمہیں اللہ کے ساتھ شرک سے اور ماپ تول میں کمی سے منع کر رہا ہوں، اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ تمہیں تو اس سے باز رہنے کی تلقین کروں اور خود اس کا ارتکاب کرتا رہوں، بلکہ میں تم سے جو بات بھی کہتا ہوں، پہلے خود اس پر عمل کرتا ہوں۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) کا اور سلف صالحین کا بھی یہی شیوہ رہا ہے۔ اس کے برعکس کرنے والوں کا انجام حدیث میں یوں ہے، اسامہ بن زید (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( یُجَاء بالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْقَی فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُہٗ فِي النَّارِ ، فَیَدُوْرُ کَمَا یَدُوْرُ الْحِمَارُ بِرَحَاہٗ فَیَجْتَمِعُ أَھْلُ النَّارِ عَلَیْہِ فَیَقُوْلُوْنَ یَا فُلَانُ ! مَا شَأْنُکَ ؟ أَلَیْسَ کُنْتَ تَأْمُرُ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ ؟ قَالَ کُنْتُ آمُرُکُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَلاَ آتِیْہِ ، وَأَنْھَاکُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیْہِ ) [ بخاری، بدء الخلق، باب صفۃ النار و أنھا مخلوقۃ : ٣٢٦٧ ] ” ایک آدمی کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ اس کی انتڑیاں تیزی سے باہر نکل پڑیں گی تو وہ اس طرح گھومے گا جیسے گدھا اپنی چکی کے گرد گھومتا ہے، تو جہنمی اس پر اکٹھے ہوجائیں گے اور کہیں گے، اے فلاں ! تیرا کیا معاملہ ہے ؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور ہمیں برائی سے منع نہیں کرتا تھا ؟ وہ کہے گا، میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود وہ نیکی نہیں کرتا تھا اور تمہیں برائی سے منع کرتا تھا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔ “ اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ : تاکہ تمہارا دنیا و آخرت میں بھلا ہو۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” یہ خصلت ہے اللہ کے نیک لوگوں کی کہ چڑانے سے برا نہ مانا اور اپنے مقدور بھر سمجھاتے رہے۔ “ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا باللّٰهِ : یعنی آج میں تمہیں جو نصیحت کر رہا ہوں یا کرنا چاہتا ہوں، اس کو جاری رکھنے اور اس کی کامیابی کا دارو مدار اللہ ہی پر ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

What Sayyidna Shu&aib (علیہ السلام) had said to his people was good counsel based on earnest fellow feeling. But, his people responded to him with a sarcasm that was biting. However, they had done that to a blessed prophet of Sayyidna Shu&aib&s class. He heard their caustic comments, yet turned to them with the same empathy and once again tried to make them see the truth. He said: يَا قَوْمِ أَرَ‌أَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّ‌بِّي وَرَ‌زَقَنِي مِنْهُ رِ‌زْقًا حَسَنًا (0 my people, tell me, if I am on a clear path from my Lord and He has provided me from Himself with a good provision, [ should I still leave you unguided?] ) Sayyidna Shu&aib (علیہ السلام) was telling his people that he had been blessed by his Lord in that He gave him good provision for his material life and in that He also gave him the light of revelation and spiritual insight. Now, with these wonderful assets in his hands, how could he ever think of becoming like them, willingly embracing error and injustice, and thus failing to bring the truth home to them? After that, he said: وَمَا أُرِ‌يدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ (and I do not want to do in your absence what I prohibit for you). This tells us that the way a preacher of religion conducts his life has a major role in what he preaches. What a preacher does not himself practice produces no effect on others. Then, he said: إِنْ أُرِ‌يدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ (I want to do nothing but to set things right as far as I can). And since, this effort too was not by his personal choice and volition, he further said: وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّـهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (And my ability to do things comes from none but Allah. In Him alone I have placed my trust, and to Him alone I turn in humbleness).

(آیت) يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَرَزَقَنِيْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَـنًا، یعنی اے میری قوم مجھے بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے اپنی بات کے حق ہونے پر دلیل اور کافی شہادت رکھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے بہترین رزق بھی عطا فرمایا ہو، کہ ظاہری رزق جس پر معاش کا مدار ہے وہ بھی عطا فرمایا اور باطنی رزق فہم و عقل اور اس پر وحی و نبوت کا انعام گرانمایہ بھی عطا فرمایا تو پھر کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے میں بھی تمہاری طرح گمراہی اور ظلم کو اختیار کرلوں اور حق بات تمہیں نہ پہنچاؤ ں، اس کے بعد فرمایا : (آیت) وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰي مَآ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ ، یعنی یہ بھی تو سمجھو کہ میں جس چیز سے تمہیں روکتا ہوں خود بھی تو اس کے پاس نہیں جاتا، اگر میں تمہیں منع کرتا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تمہارے لئے کہنے کی گنجائش تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ داعی اور واعظ و مبلغ کے عمل کو اس کی وعظ و نصیحت میں بڑا دخل ہوتا ہے جس چیز پر واعظ خود عامل نہ ہو اس کی بات کا دوسروں پر کوئی اثر نہیں ہوتا، پھر فرمایا : (آیت) اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ، یعنی میرا مقصد اس ساری جدوجہد اور تمہیں بار بار کی فہمائش سے بجز اس کے کچھ نہیں کہ مقدور بھر اصلاح کی کوشش کروں، اور پھر فرمایا کہ یہ کوشش بھی درحقیقت میرے اپنے اختیار سے نہیں بلکہ (آیت) وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا باللّٰهِ ۭ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ اُنِيْبُ ، یعنی میں جو کچھ کرتا ہوں وہ سب اللہ کی دی ہوئی توفیق سے کرتا ہوں، ورنہ میرے بس میں کچھ نہ تھا، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف ہر کام میں میں رجوع کرتا ہوں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَرَزَقَنِيْ مِنْہُ رِزْقًا حَسَـنًا۝ ٠ۭ وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰي مَآ اَنْہٰىكُمْ عَنْہُ۝ ٠ۭ اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ۝ ٠ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا بِاللہِ۝ ٠ۭ عَلَيْہِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْہِ اُنِيْبُ۝ ٨٨ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجر ات/ 11] بَيِّنَة والبَيِّنَة : الدلالة الواضحة عقلية کانت أو محسوسة، وسمي الشاهدان بيّنة لقوله عليه السلام : «البيّنة علی المدّعي والیمین علی من أنكر» «وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] . ( ب ی ن ) البَيِّنَة کے معنی واضح دلیل کے ہیں ۔ خواہ وہ دلالت عقلیہ ہو یا محسوسۃ اور شاھدان ( دو گواہ ) کو بھی بینۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے : کہ مدعی پر گواہ لانا ہے اور مدعا علیہ پر حلف ۔ قرآن میں ہے أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل ( روشن رکھتے ہیں ۔ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] تاکہ جو مرے بصیرت پر ( یعنی یقین جان کر ) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر ) یعنی حق پہچان کر ) جیتا رہے ۔ جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں کے کر آئے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب : مستحسن من جهة العقل . ومستحسن من جهة الهوى. ومستحسن من جهة الحسّ. والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ( ح س ن ) الحسن ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ( 1) وہ چیز جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو ۔ ( 2) وہ جو خواہش نفسانی کی رو سے پسندیدہ ہو ۔ ( 3) صرف نگاہ میں بھی معلوم ہو ۔ الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ اخالفکم ۔ مخالفۃ ( باب مفاعلۃ) سے مضارع واحد متکلم کا صیغہ ہے اور کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں تمہاری مخالفت کروں ۔ کہا جاتا ہے خالفی فلان عن کذا۔ جب کہ وہ اعراض کر دہا ہو اور تم اس چیز کا قصد کر رہے ہو۔ اور خالفنی الی کذا۔ جبکہ تم اعراض کرنے والے ہو اور وہ قصد کرنے والا ہو۔ نهى النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] ( ن ھ ی ) النهي کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔ الاستطاعۃ . وَالاسْتِطَاعَةُ : استفالة من الطَّوْعِ ، وذلک وجود ما يصير به الفعل متأتّيا، الاسْتِطَاعَةُ أخصّ من القدرة . قال تعالی: لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] ( ط و ع ) الطوع الاستطاعۃ ( استفعال ) یہ طوع سے استفعال کے وزن پر ہے اور اس کے معنی ہیں کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا موجہ ہونا ۔ اور استطاعت قدرت سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] وہ نہ تو آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔ وفق الوِفْقُ : المطابقة بين الشّيئين . قال تعالی: جَزاءً وِفاقاً [ النبأ/ 26] والتَّوْفِيقُ نحوه لكنه يختصّ في التّعارف بالخیر دون الشّرّ. قال تعالی: وَما تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ [هود/ 88] ( و ف ق ) الوفق ۔ دو چیزوں کے درمیان مطابقت اور ہم آہنگی ہونے کو کہتے ہیں قرآن نے اعمال کے نتائج کو ۔۔۔ جَزاءً وِفاقاً [ النبأ/ 26] ( یہ ) بدلہ ہے پور اپورا ۔ توفق۔ یہ متعدی ہے اور عرف میں یہ خبر کے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے ( یعنی اسباب کا مقصد کے مطابق مہیا کردینا ) اور شر میں استعمال نہیں ہوتا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَما تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ [هود/ 88] اور مجھے توفیق کا ملنا خدا ہی کے فضل سے ہے ۔ وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے ۔ نوب النَّوْب : رجوع الشیء مرّة بعد أخری. وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] ، مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( ن و ب ) النوب ۔ کسی چیز کا بار بارلوٹ کر آنا ۔ یہ ناب ( ن ) نوبۃ ونوبا کا مصدر ہے، وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] اپنے پروردگار کی طر ف رجوع کرو ۔ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( مومنو) اس خدا کی طرف رجوع کئے رہو ۔ فلان ینتاب فلانا وہ اس کے پاس آتا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٨) شعیب (علیہ السلام) کہنے لگے یہ تو بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی نازل کردہ دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے نبوت اور اسلام کے ساتھ نوازا ہے اور پاکیزہ مال عطا کیا ہے تو پھر کیسے تبلیغ نہ کروں اور میں وہ نہیں کہ تمہارے برخلاف ان کاموں کو کروں، جن سے تمہیں منع کرتا ہوں یعنی ناپ تول میں کمی کرنا۔ میں تو جہاں تک میرے امکان میں ہے، ناپ تول میں عدل و انصاف اور اصلاح چاہتا ہوں اور مجھ کو جو کچھ توفیق ہوتی ہے صرف اللہ ہی کی مدد سے ہوتی ہے، میں نے تمام امور اسی کے سپرد کردیے ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٨ (قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ ) حضرت شعیب نے وہی بات فرمائی جو دوسرے انبیاء و رسل اپنی اپنی قوم سے فرماتے آئے تھے کہ تمہارے درمیان رہتے ہوئے میرا کردار اور اخلاق پہلے بھی مثالی تھا ‘ میں اس معاشرے میں ایک شریف النفس اور سلیم الفطرت انسان کے طور پر معروف تھا۔ (وَرَزَقَنِيْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَـنًا) یعنی پھر مجھے اللہ نے نبوت اور رسالت سے بھی سرفراز فرما دیا ہے۔ (اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا باللّٰهِ ) میرا مقصد تم لوگوں کی اصلاح ہے اور اس سلسلے میں جو کچھ بھی میں کر رہا ہوں وہ اللہ کی توفیق ہی سے کر رہا ہوں۔ اسی نے مجھے ہمت اور استقامت سے نوازا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

98. 'Provision' in this context has two connotations. It might signify, in the first place, the provision of knowledge of the truth communicated by God to someone. Secondly, it might also signify, as it commonly does, the provision of the means bestowed by God on His creatures in order that they may be able to live. Were we to understand this word in the first sense, the verse substantially repeats the same point that has been expressed earlier in this surah through the Prophets Muhammad, Noah and Salih (peace be on them). Common to their statements is their affirmation that they found the signs of the truth in their own beings and in the universe around them. Those signs were corroborated by direct knowledge of the truth intimated to them by God. (See verses 17,28 and 63 above - Ed.) Hence it was not possible for them to join their people in their errors of belief and in their acts of wickedness. However, if the word is taken in the latter sense, it amounts to a response to the sarcastic remark hurled at Shu'ayb: 'Do you fancy that you, and only you, are forbearing and right-directed?' (See verse 87 above.) It is noteworthy that the answer to this most bitter and caustic query is couched in exceedingly moderate and dispassionate words. The answer amounts to telling his opponents that if his Lord had granted Shu'ayb knowledge of reality and also a livelihood that is pure and lawful, how could their sarcastic remarks change the fact that Shu'ayb had received God's favours? Also, in view of the favours which God had lavished upon Shu'ayb, how could it be appropriate for him to act ungratefully towards God by legitimizing their erroneous beliefs and acts of corruption? 99. Shu'ayb pointed out to his detractors that they could measure his integrity by only one thing: whether he practised what he preached. Had he forbidden others from visiting false deities, and then had become the custodian of some such shrine, people would have been justified in reproaching him for inconsistency and self-contradiction. They could have rightly criticized him for preaching something and practising its opposite. Had he asked them to abstain from unlawful earnings and had himself resorted to dishonest practices they would have been perfectly justified in accusing him of talking of honesty merely to build up a good image of himself and then exploiting it for his personal ends. It was clear, however, that Shu'ayb could be accused of nothing like that. It was crystal clear that he had stayed well away from all those vices which he asked others to abstain from. He had no stains on him of which he wanted others to remain free. Shu'ayb also practised all those acts of goodness to which he invited others. All this was sufficient to establish that Shu'ayb was fully sincere about his mission.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :98 یونس علیہ السلام ( جن کا نام بائیبل میں یوناہ ہے اور جن کا زمانہ سن ۸٦۰ – ۷۸٤ قبل مسیح کے درمیان بتایا جاتا ہے ) اگر چہ اسرائیلی نبی تھے ، مگر ان کو اشور ( اسیریا ) والوں کی ہدایت کے لیے عراق بھیجا گیا تھا اور اسی بنا پر اشوریوں کی یہاں قوم یونس کہا گیا ہے ۔ اس قوم کا مرکز اس زمانہ میں نینویٰ کا مشہور شہر تھا جس کے وسیع کھنڈرات آج تک دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر موجودہ شہر موصل کے عین مقابل پائے جاتے ہیں اور اسی علاقے میں ”یونس نبی“ کے نام سے ایک مقام بھی موجود ہے ۔ اس قوم کے عروج کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس کا دارالسلطنت نینوی تقریبًا ٦۰ میل کے دَور میں پھیلا ہوا تھا ۔ سورة هُوْد حاشیہ نمبر :99 قرآن میں اس قصّہ کی طر ف تین جگہ صرف اشارات کیے گئے ہیں ، کوئی تفصیل نہیں دی گئی ( ملاحظہ ہو سورہ ٔ انبیاء ، آیات ۸۷ – ۸۸ ۔ الصافّات ، ۱۳۹ – ۱٤۹ ۔ القلم ، ٤۸ – ۵۰ ) اس لیے یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ قوم کن خاص وجوہ کی بنا پر خدا کے اس قانون سے مستثنیٰ کی گئی کہ”عذاب کا فیصلہ ہو جانے کے بعد کسی کا ایمان اس کے لیے نافع نہیں ہوتا“ ۔ بائیبل میں ”یوناۃ“ کے نام سے جو مختصر سا صحیفہ ہے اس میں کچھ تفصیل تو ملتی ہے مگر وہ چنداں قابل اعتماد نہیں ہے ۔ کیونکہ اوّل تو نہ وہ آسمانی صحیفہ ہے ، نہ خود یونس علیہ السلام کا اپنا لکھا ہوا ہے ، بلکہ ان کے چار پانچ سو برس بعد کسی نامعلوم شخص نے اسے تاریخ یونس کے طور پر لکھ کر مجموعہ کتب مقدسہ میں شامل کر دیا ہے ۔ دوسرے اس میں بعض صریح مہملات بھی پائے جاتے ہیں جس ماننے قابل نہیں ہیں ۔ تاہم قرآن کے اشارات اور صحیفہ ٔ یونس کی تفصیلات پر غور کرنے سے وہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے جو مفسرین ِ قرآن نے بیان کی ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام چونکہ عذاب کی اطلاع دینے کے بعد اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اپنا مستقر چھوڑ کر چلے گئے تھے ، اس لیے جب آثارِ عذاب دیکھ کر آشوریوں نے توبہ و استغفار کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ۔ قرآن مجید میں خدائی دستور کے جو اصول و کلیات بیان کیے گئے ہیں ان میں ایک مستقل دفعہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قومکو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک اس پر اپنی حجت پوری نہیں کر لیتا ۔ پس جب نبی نے اس قوم کی مہلت کے آخری لمحے تک نصیحت کا سلسلہ جا ری نہ رکھا ، اور اللہ کے مقرر کردہ وقت سے پہلے بطورر خود ہی وہ ہجرت کر گیا ، تو اللہ تعالیٰ کے انصاف نے اس کی قوم کو عذاب دینا گوارا نہ کیا کیونکہ اس پر اتمام حجت کی قانونی شرائط پوری نہیں ہوئی تھیں ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورۂ الصافات ، حاشیہ نمبر ۸۵ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

56: اس رزق سے مراد کھانے پینے وغیرہ کا سامان بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب اﷲ تعالیٰ نے سیدھے سیدھے طریقے سے مجھے رِزق عطا فرمایا ہے تو میں اس کے حصول کے لئے وہ غلط طریقے کیوں اختیار کروں جو تم کرتے ہو؟ اور رزق سے یہاں مراد نبوّت بھی ہوسکتی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨٨۔ یہ جواب ہے شعیب (علیہ السلام) کا جو انہوں نے اپنی قوم کو دیا تھا کہ اے قوم خدا نے مجھے یہ ظاہر ظاہر معجزے دئیے اور نبوت دی اور مجھے دنیا میں پاک اور حلال روزی دے رکھی ہے میں جن باتوں سے تمہیں روکتا ہوں چھپ چھپا کر میں بھی ان کو نہیں کروں گا یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ تمہیں تو کسی کام سے میں منع کروں اور میں آپ اس کام کو کروں میرا ارادہ تو اصلاح کا ہے میں تو یہ چاہتا ہوں کہ جہاں تک ہو تمہاری آخرت اور دنیا دونوں درست ہوجاویں اور میں تابمقدور تمہارے معاملات درست کرنا چاہتا ہوں اور میرا ہدایت کرنا اور راہ حق بتانا خدا کی مدد سے ہے اور اسی پر میرا بھروسہ بھی ہے اور میں اسی کی طرف پھر کر جانے والا بھی ہوں۔ صحیح بخاری و مسلم میں اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دوزخ میں بعضے دوزخ میں بعضے لوگوں پر سخت عذاب دیکھ کر اور دوزخی ان سے پوچھیں گے کہ تم تو ہم کو ناجائز باتوں سے روکا کرتے تھے پھر تم اس طرح کے سخت عذاب میں کیوں کر گرفتار ہوگئے وہ لوگ جواب دیویں گے کہ جن باتوں سے ہم اوروں کو روکا کرتے تھے ہم خود ان باتوں میں در پردہ گرفتار تھے۔ اس لئے یہ عذاب آج ہم کو بھگتنا پڑا ١ ؎ یہ حدیث ومآ ارید ان اخالفکم الی مآ انھا کم عنہ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی دوسرے کو بری بات سے روکنا اور خود اس میں گرفتار رہنا بڑے وبال کی بات تھی۔ اس لئے شعیب (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں قوم کے لوگوں کو یہ بھی جتلادیا کہ جن باتوں سے میں تمہیں روکتا ہوں میں بھی ان باتوں کو کبھی ہرگز نہیں کرنے کا۔ ١ ؎ الترغیب ص ١٠١ ج ٢ الترھیب من ان بأمر بمعروف الخ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:88) ارء یتم۔ جب ہمزہ استفہام رایت پر داخل ہوتا ہے تو اس حالت میں رؤیت کا آنکھوں یا دل سے دیکھنے کے معنی میں آنا ممنوع ہوتا ہے اور ارایت کے معنی ہوتے ہیں اخبرنی لہٰذا ارایتم بمعنی اخبرونی ہے بھلا مجھے یہ تو بتائو۔ منہ۔ من لدنہ۔ اپنی (خدا) کی طرف سے۔ رزقا حسانا۔ عمدہ زروی۔ رزق حلال، نجس اور تطفیف سے مبرا یا اس سے مراد نبوت و رسالت ہے جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھی۔ ارأیتم ان کنت علی بینۃ من ربی ورزقنی منہ رزقا حسنا۔ میں جواب شرط محذوف ہے۔ یعنی اخبرونی ان کنت علی ضھۃ واضحۃ و یقین من ربی وکنت نبیا علی الحقیقۃ ایصح لی ان لاامرکم بترک عبادۃ والاوثان ولکف عن المعاصی۔ بھلا بتاؤ تو سہی اگر میرے پاس میرے رب کی طرف سے واضح دلیل ہو اور میں سچا نبی منجانب اللہ ہوں تو کیا یہ درست ہوگا کہ میں تمہیں بت پرستی کو ترک کرنے اور گناہوں سے بچنے کے لئے نہ کہوں۔ اخالفکم۔ مخالفۃ (باب مفاعلۃ) سے مضارع واحد متکلم کا صیغہ ہے اور کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں تمہاری مخالفت کروں ۔ کہا جاتا ہے خالفی فلان عن کذا۔ جب کہ وہ اعراض کر دہا ہو اور تم اس چیز کا قصد کر رہے ہو۔ اور خالفنی الی کذا۔ جبکہ تم اعراض کرنے والے ہو اور وہ قصد کرنے والا ہو۔ ما انھکم عنہ۔ جس سے میں تم کو منع کرتا ہوں۔ ما ارید ان اخالفکم الی ما انھکم عنہ۔ میرا یہ مقصد نہیں کہ جس بات سے میں تم کو منع کرتا ہوں اس کا خود ارتکاب کروں۔ یعنی جس بات سے میں تم کو منع کرتا ہوں تمہیں راہ راست کی ترغیب دے کر الٹا اس بات کی طرف خود جھک جاؤں۔ توفیقی۔ مضاف مضاف الیہ۔ میری توفیق۔ میری مقدرت۔ مجھ سے بن آنا۔ توفیق کا معنی ہے اچھے مقصد کے حصول کے لئے اسباب کا مہیا کردینا۔ یعنی میری کامیابی انحصار محض اللہ کی اعانت و تائید پر ہے۔ انیب۔ اناب ینیب (افعال) انایۃ (بوب مادہ) سے مضارع واحد متکلم ۔ میں رجوع کرتا ہوں۔ النوب کسی چیز کا بار بار لوٹ کر آنا۔ ثلاثی مجرد میں باب نصر سے آتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

“7 ۔ تو میرے لئے یہ کیسے جائز ہے کہ میں تمہیں نیکی کا حکم نہ دوں اور برائی سے منع نہ کروں ؟ اس آیت میں ” رزق حسن “ کا لفط دوہرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایک نبوت اور علم حق کے معنی میں اور دوسرے حلال روزی (ذریعہ زندگی) کے معنی میں، کہتے ہیں کہ حضرت شعیب (رض) خود ایک مالدار آدمی تھے۔ (فتح القدیر) ۔ 8 ۔ یعنی یہ جو میں تمہی ناپ تول میں بےایمانی کرنے سے روک رہا ہوں، اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ تمہیں تو اس سے باز رہنے کی تلقین کروں اور خود اس کا ارتکاب کرکے خوب نفع اٹھادوں بلکہ میں تم سے جو بات بھی کہتا ہوں، پہلے خود اس پر عمل کرتا ہوں۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) اور اس امت کے سلف صالح کا بھی یہی شیوہ رہا ہے۔ (از بن اکثیر) ۔ 9 ۔ تاکہ تمہارا دنیا و آخرت میں بھلا ہو۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یہ خصلت ہے خد ا کے نیک لوگوں کی کہ چڑانے سے برا نہ مانا اور اپنے مقدور بھر سمجھاتے رہے۔ 10 ۔ کہ آج تم کو یہ نصیحت کر رہا ہوں جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کی کامیابی کا دار و مدار اللہ ہی کی توفیق پر ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت اپنی تقریر میں نہایت ہی ہمدردی ، محبت اور برادرانہ جذبات کا خیال رکھتے ہوئے خطاب کرتے ہیں۔ قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي (٨٨ : ١١) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا۔ ” میرے نفس کے اندر ایک حقیقت موجود ہے اور میں اسے سچ سمجھتا ہوں ، پھر میری طرف وحی آتی ہے اور مجھے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تبلیغ کرو اور ان واضح شہادتوں کے بعد میں تمہارے سامنے بڑے اعتماد کے ساتھ یہ دعوت پیش کرتا ہوں۔ وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا (٨٨ : ١١) “ پھر اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھا رزق بھی عطا کیا ہے۔ ” میں خود بھی مالدار ہوں اور اپنی دولت میں تمہاری طرف تصرفات کرتا ہوں۔ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ (٨٨ : ١١) “ اور میں یہ ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں۔ ” یعنی میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ میں اس بری حرکت سے تمہیں تو روک دوں اور دکان میں جا کر خود یہ کام کروں اور دولت کماؤں ، ہر گز نہیں بلکہ إِنْ أُرِيدُ إِلا الإصْلاحَ مَا اسْتَطَعْتُ “ میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تم بھی میرا بس چلے۔ ” اصلاح سے مراد عام اصلاح ہے جس میں پورے معاشرے کی بھلائی ہو ، معاشرے کے تمام افراد اور تمام جماعتوں کی بھلائی ہو۔ اگرچہ بعض لوگ اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ اسلامی نظریہ حیات اپنانے سے مادی لحاظ سے نقصان پہنچتا ہے اور انسان سے نفع اندوزی کے مواقع جاتے رہتے ہیں ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان نہ صرف حرام اور خبیث اور ناپاک دولت کے سمیٹنے سے بچ نکلتا ہے۔ بلکہ حرام اور ناپاک کمائی کی جگہ رزق حلال اسے ملتا ہے اور اسلامی نظریہ حیات کے نتیجے میں ایک ایسا پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں تمام لوگوں کی ضروریات کی ضمانت ہوتی ہے اور جس کے اندر کوئی تعصب نہیں ہوتا اور نہ کوئی جنگ وجدال ہوتا ہے۔ وَمَا تَوْفِيقِي إِلا بِاللَّهِ (٨٨ : ١١) “ اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ ” وہی ہے جو میرے اصلاحی کام کو کامیابی تک پہنچا سکتا ہے ، کیونکہ اسے خوب علم ہے کہ میری نیت اور میرا ارادہ کیا ہے اور وہی ہے جو اس جدوجہد پر مجھے جزاء دے سکتا ہے۔ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ (٨٨ : ١١) “ اسی پر میں نے بھروسہ کیا۔ ” یعنی میرا اعتماد صرف پر ہے اور اس کے سوا کسی اور پر میں کوئی بھروسہ نہیں کرتا۔ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (٨٨ : ١١) “ اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ ” میرا رخ اسی کی طرف ہے اور تمام امور میں میرا رجوع اسی کی صرف ہے۔ میری نیت ، میرا ارادہ اور میرا عمل اسی کی طرف متوجہ ہے۔ اور تمام جدوجہد اس کے لیے ہے۔ اب حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو ایک دوسرے میدان میں فہمائش کرتے ہیں۔ ان کو بتاتے ہیں کہ ذرا قوم نوح۔ قوم ہود ، قوم صالح اور قوم لوط کے انجام پر غور کرو۔ تاریخی واقعات کند ذہن افراد پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ جامد اور سنگدل لوگوں پر عقلی دلائل کے مقابلے میں واقعات کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت شعیب کا قوم سے فرمانا کہ جہاں تک ہو سکے میں اصلاح چاہتا ہوں اور میری مخالفت تم پر عذاب آنے کا سبب نہ بن جائے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جب مدین والوں کو حق کی طرف بلایاتوحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ زمین میں فساد مت مچاؤ تو ان لوگوں نے ان کا مذاق بنایا اور بےت کے جواب دئیے اور توحید قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے اس پر حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ہی بتاؤ اگر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل پر ہوں حق بات کہتا ہوں اور حق کی طرف بلاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت بڑی رحمت یعنی نبوت سے نوازا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں تبلیغ کرنا اور حق کی دعوت دینا چھوڑ دوں اور پھر یہ بھی سمجھ لو کہ میں جو کچھ بتاتا ہوں خود اس کے خلاف نہیں کرتا ‘ اگر میرا قول وفعل ایک دوسرے کے مخالف ہوتا تو تم کہہ سکتے تھے کہ دیکھو دوسرے کو نصیحت اپنے کو فضیحت ‘ لیکن میں تمہیں وہی بات بتاتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں میرا مقصد تمہاری ہمدردی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ جہاں تک میرے امکان میں ہے اصلاح کرتا رہوں اور جو کچھ میں نیک کام کرتا ہوں (جس میں نماز پڑھنا بھی داخل ہے) اور جو کچھ تبلیغ ہوتا ہوں یہ سب اللہ کی توفیق سے ہے میں نے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے مزید فرمایا دیکھو تم ضد نہ کرو عناد پر کمر بستہ نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ میری یہ مخالفت تمہارے لئے عذاب آنے کا ذریعہ بن جائے جیسے قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح نے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا اور ان پر عذاب آیا ‘ ان ہلاک شدہ قوموں میں سے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم بھی تھی جسے زیادہ زمانہ نہیں گزرا ان کے عذاب کے واقعات تمہیں معلوم ہیں ان سے عبرت حاصل کرو بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ (وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْکُمْ بِبَعِیْدٍ ) سے دونوں مطلب لئے جاسکتے ہیں یعنی زمانے کے لحاظ سے بھی حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم دور نہیں اور خطۂ ارضی کے اعتبار سے بھی۔ کیونکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا علاقہ اصحاب مدین کے علاقے سے دور نہیں تھا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ اپنے رب سے استغفار کرو۔ کفر کو چھوڑو ایمان پر آؤ۔ پھر باقی زندگی بھی اسی طرح سے گذارو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے رہو اور اس کے حضور میں توبہ کیا کرو۔ (اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ) (بےشک میرا رب بہت زیادہ رحمت اور بہت زیادہ محبت کرنے والا ہے) جو شخص اس کے حضور میں توبہ کرے اس پر رحم فرماتا ہے اور اسے دوست رکھتا ہے۔ فائدہ : (وَرَزَقَنِیْ مِنْہُ رِزْقًا حَسَنًا) کی ایک تفسیر تو وہی ہے کہ میرے رب نے مجھے بڑی دولت یعنی نبوت عطا فرمائی اور بعض مفسرین نے اس کا معنی متبادلہ لیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حلال مال عطا فرمایا ہے اور اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر بھی ہوں اور اللہ نے مجھے حلال مال بھی عطا فرمایا اور یہ حلال مال کسی طرح کی خیانت کئے بغیر مجھے مل گیا ہے نہ میں ناپ تول میں کمی کرتا ہوں نہ کسی طرح سے کسی کا حق مارتا ہوں تو اس صورت میں میرے لئے یہ کیسے درست ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کروں اور تمہارے کاموں کی موافقت کروں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

77:۔ رِزْقًا حَسَنًا نبوت و حکمت مراد ہے (مدارک و روح) میں تمہیں شرک اور بد دیانتی سے اپنی مرضی سے نہیں روکتا ہوں بلکہ میں اللہ کا نبی ہوں اور اس کے حکم سے ایسا کرتا ہوں۔ اور میرے پاس توحید کے حق میں اور شرک و بد دیانتی کے رد میں واضح دلائل بھی موجود ہیں۔ میں کوئی بات بےدلیل نہیں کہتا۔ اور جن کاموں سے تمہیں منع کر رہا ہوں اس سے میرا مقصد یہ نہیں کہ تمہیں تو ان سے منع کروں لیکن خود ان کاموں کا ارتکاب کرلوں۔ مفسرین کرام نے عام طور پر یہی مفہوم بیان کیا ہے۔ لیکن اس صورت میں اس کا تعلق مسئلہ توحید سے نہیں رہے گا کیونکہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا دوسروں کو شرک سے منع کرنا اور عیاذًا باللہ خود اس کا ارتکاب کرنا امر محال ہے جس کا ان کے بارے میں وہم بھی نہیں ہوسکتا البتہ ناپ تول سے دوسروں کی حق تلفی سے اس کا تعلق ہوگا یعنی میرا ارادہ یہ نہیں کہ میں تم کو تو دوسروں کی حق تلفی اور بددیانتی سے دولت کمانے سے منع کروں لیکن خود اس کام میں لگ جاؤں۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں اِلٰی مَا اَنْھَاکُمْ حال ہے ای حال کونی داعیا الی مَا اَنْھَاکُمْ یعنی مسئلہ توحید بیان کرنے، شرک اور بد دیانتی سے تمہیں روکنے سے میرا مقصد تمہاری مخالفت نہیں بلکہ میں تو حتی الوسع تمہاری اصلاح اور خیر خواہی چاہتا ہوں۔ مگر میری اس خواہش کے پورا ہونے کی توفیق اللہ کے اختیار میں ہے اور یہ مقصد محض اللہ کی تائید اور اس کے ارادے ہی سے پورا ہوسکتا ہے۔ تمام معاملات میں میرا بھروسہ اسی پر ہے اور تمام مہمات میں میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ اس طرح حضرت شیخ (رح) کی تفسیر پر یہ آیت دونوں مذکورہ مسئلوں سے متعلق ہوجائے گی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

88 حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کے اے میری قوم تم چاہتے ہو کہ میں تم کو توحید اور عدل کی تبلیغ نہ کروں تو بھلایہ تو بتائو اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھ کو اپنی جانب سے ایک بہترین دولت اور اچھی روزی عطا فرمائی تو کیا اس کی تبلیغ نہ کروں اور میرا یہ مقصد نہیں ہے کہ جن باتوں سے تم کو منع کرتا ہوں اور جو باتیں تم سے چھڑاتا ہوں تمہارے برخلاف میں انہیں خود کرنے لگوں میں تو صرف اپنی حسب استطاعت تمہاری اصلاح کرنا اور تم کو سنوارنا چاہتا ہوں اور ان اصلاحی کاموں میں مجھے توفیقکا ملنا محض اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی مدد سے ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہو اور اسی کی طرف ہر ایک معاملہ میں رجوع کرتا ہوں یعنی تم روکنا چاہتے ہو تبلیغ سے حالانکہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں تبلیغ پر رزق حسن سے مراد یا تو حلال کی روزی ہے یا نبوت ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی روحانی دولت نہیں جو تم کو نصیحت کرتا ہوں اس پر خود بھی عمل کرتا ہوں یہ نہیں کہ تم سے جو کچھ کہوں اس کے برخلاف عمل کروں اور میں یہ جو کچھ کر رہا ہوں اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے کر رہا ہوں اسی پر میرا تو عمل ہے اور اسی کی ذات میرا مرجع ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ خصلت ہے خدا کے لوگوں کی کہ چڑانے سے برانہ مانا اور اپنے مدقور بھر سمجھاتے رہے 12