Surat Hood

Surah: 11

Verse: 96

سورة هود

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَا وَ سُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۹۶﴾

And We did certainly send Moses with Our signs and a clear authority

اور یقیناً ہم نے ہی موسیٰ کو اپنی آیات اور روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا تھا

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Story of Musa and Fir`awn Allah tells; وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِأيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ

قبطی قوم کا سردار فرعون اور موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کی جماعت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی آیتوں اور ظاہر باہر دلیلوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے فرعون کی اطاعت نہ چھوڑی ۔ اسی کی گمراہ روش پر اس کے پیچھے لگے رہے ۔ جس طرح یہاں انہوں نے اس کی فرمان برداری ترک نہ کی اور اسے اپنا سردار مانتے رہے ۔ اسی طرح قیامت کے دن اسی کے پیچھے یہ ہوں گے اور وہ اپنی پیشوائی میں انہیں سب کو اپنے ساتھ ہی جہنم میں لے جائے گا اور خود دگنا عذاب برداشت کرے گا ۔ یہی حال بروں کی تابعداری کرنے والوں کا ہوتا ہے وہ کہیں گے بھی کہ اللہ انہیں لوگوں نے ہمیں بہکایا تو انہوں دوگنا عذاب دے ۔ مسند میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جاہلیت کے شاعروں کا جنڈا امرؤ القیس کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ انہیں لے کر جہنم کی طرف جائے گا ۔ اس آگ کے عذاب پر یہ اور زیادتی ہے کہ یہاں اور وہاں دونوں جگہ یہ لوگ ابدی لعنت میں پڑے ۔ قیامت کے دن کی لعنت مل کر ان پر دو دو لعنتیں پڑ گئیں ۔ یہ اور لوگوں کو جہنم کی دعوت دینے والے امام تھے ۔ اس لیے ان پر دوہری لعنت پڑی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

96۔ 1 آیات سے بعض کے نزدیک تورات اور سلطان مبین سے معجزات مراد ہیں، اور بعض کہتے ہیں کہ آیات سے، آیات تسعہ اور سلطان مبین (روشن دلیل) سے عصا مراد ہے۔ عصا، اگرچہ آیات تسعہ میں شامل ہے لیکن معجزہ چونکہ نہایت ہی عظیم الشان تھا، اس لئے اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٨] فرعون کو سیدنا موسیٰ کی دعوت :۔ سورة بقرہ اور پھر سورة اعراف میں موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے بیان فرمائے۔ لیکن یہاں نہایت اختصار کے ساتھ ان کی دعوت اور اس کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اجمال ہو یا تفصیل کسی واقعہ سے اصل مقصود تو انسان کا اس واقعہ سے یا بدکرداروں کے انجام سے عبرت حاصل کرنا ہے اور وہ ان تین آیات میں بھی ذکر کردیا گیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) خود بڑے مضبوط جسم کے، طاقتور، جرأت مند اور جلالی طبیعت کے مالک تھے اور انھیں جس جابر و قاہر بادشاہ کی طرف بھیجا گیا اس کی نخوت اور قہر مانی کا یہ عالم تھا کہ خود خدا بنا بیٹھا تھا اور اس کی رعایا اسے فی الواقع اپنا خدا تسلیم کرتی تھی۔ اسی لیے آپ کو نبوت کے ساتھ ہی دو ایسے واضح معجزے بھی بن مانگے عطا کیے گئے تھے جن کی بنا پر آپ فرعون جیسے دبدبہ اور شان و شوکت والے بادشاہ کے سامنے کھل کر اپنی دعوت پیش کرنے کے قابل ہوگئے چناچہ آپ بلاروک ٹوک فرعون کے کھلے دربار میں چلے گئے اور سب درباریوں کے سامنے اسے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا کہ وہ ایک اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرلے اور اپنی خدائی کے دعویٰ سے دستبردار ہوجائے اور بنی اسرائیل پر ظلم کرنا چھوڑ دے اور انھیں اپنی غلامی سے آزاد کرکے انھیں کے (سیدنا موسیٰ کے) ہمراہ کردے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی جو آیات اور ” سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ “ (واضح دلیل) دے کر بھیجا تھا، ان سے کیا مراد ہے ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نو آیات بینات دی تھیں (دیکھیے بنی اسرائیل : ١٠١) جو وقتاً فوقتاً ظاہر ہوئیں : 1 عصائے موسیٰ 2 ید بیضا 3 سنین (قحط سالیاں) 4 نقص من الثمرات 5 طوفان 6 جراد 7 قمل 8 ضفادع 9 دم انھی کو ” سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ “ کہا گیا ہے۔ واؤ ہمیشہ مغایرت کے لیے نہیں ہوتی، جیسا کہ سورة عصر میں فرمایا : (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بالْحَقِّ ڏ وَتَوَاصَوْا بالصَّبْر) اس میں ہر بعد والی چیز اپنے سے پہلے والی تمام چیزوں میں داخل اور اس کا حصہ ہے۔ ایک جواب یہ ہے کہ ” سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ “ سے مراد عصائے موسیٰ اور ید بیضا ہیں، جو سب سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے اپنی نبوت کی دلیل کے طور پر پیش کیے۔ ان کی خصوصیت کے پیش نظر انھیں علیحدہ بھی ذکر فرمایا، حالانکہ یہ آیات میں داخل تھے اور ایک جواب یہ کہ ” سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ “ سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ پیغام ہے جو موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) فرعون کے پاس لے کر گئے اور وہ عقلی اور فطری دلائل ہیں جو لاٹھی پھینکنے سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے بحث کے دوران پیش فرمائے اور وہ ان دلائل سے لاجواب ہو کر قید کی دھمکی دینے لگا اور معجزے کا مطالبہ کرنے لگا۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (٤٧ تا ٥٥) اور شعراء (١٥ تا ٢٩) یہ تینوں تفسیریں صحیح ہیں۔ بعض حضرات نے ” بِاٰیٰتِنَا “ سے مراد نو معجزے اور ” سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ “ سے مراد تورات بیان کی ہے، مگر تورات تو فرعون کے غرق ہونے کے بعد نازل ہوئی، اس لیے یہ تفسیر صحیح نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو ( بھی) اپنے معجزات اور دلیل روشن دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا سو ( نہ فرعون نے مانا اور نہ ان کے سرداروں نے مانا بلکہ فرعون بھی اپنے کفر پر رہا اور) وہ لوگ ( بھی) فرعون ( ہی) کی رائے پر چلتے رہے اور فرعون کی رائے کچھ صحیح نہ تھی وہ ( فرعون) قیامت کے دن اپنی قوم سے آگے آگے ہوگا پھر ان ( سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا، اور وہ ( دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جاویں گے اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ ساتھ رہی اور قیامت کے دن بھی ( ان کے ساتھ رہے گی، چناچہ یہاں قہر سے غرق ہوئے اور وہاں دوزخ نصیب ہوگا) برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا، یہ ( جو کچھ اوپر قصص میں مذکور ہوا) ان ( غارت شدہ) بستیوں کے بعض حالات تھے جن کو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں ( سو) بعضی بستیاں تو ان میں ( اب بھی) قائم ہیں ( مثلاً مصر کہ آل فرعون کے ہلاک ہونے کے بعد بھی آباد رہا) اور بعض کا بالکل خاتمہ ہوگیا اور ( ہم نے جو ان مذکورہ بستی والوں کو سزائیں دیں سو) ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ( کہ بلا قصور سزا دی ہو جو کہ صورةً ظلم ہے) لیکن انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا ( کہ ایسی حرکتیں کیں جن سے مستوجب سزا ہوئے) سو ان کے وہ معبود جن کو وہ خدا کو چھوڑ کر پوجتے تھے ان کو کچھ فائدہ نہ پہنچا سکے جب آپ کے رب کا حکم (عذاب کے لئے) آپہنچا ( کہ ان کو عذاب سے بچا لیتے) اور ( فائدہ تو کیا پہنچا اور) الٹا ان کو نقصان پہنچایا ( یعنی سبب نقصان کے ہوئے کہ ان کی پرستش کی بدولت سزا یاب ہوئے ) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۝ ٩٦ۙ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . بایتنا ۔ وہی الایات السنع ( یہ نو نشانیاں تھیں) (1) العصا۔ (2) الید البیضأ ۔ (3) الطوفان۔ (4) الجراد ( مڈی) (5) القمل غلہ کو کھا جانے والا کیڑا چچڑی۔ (6) الضفادع ( مینڈک) ۔ (7) الدم ( خون) ۔ (8) النقص من الثمرات ( پھلوں میں کمی) ۔ (9) النقص من الانفس ( جانوروں کی تلفی) سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے معنی ہیں میں نے اسے مقہود کیا تو وہ مقہود ہوگیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردتیاوَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے ۔ اور اسی سے بادشاہ کو سلطان ، ، کہا جاتا ہے ۔ اور سلطان کا لفظ تسلط اور غلبہ کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٦۔ ٩٧) اور ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نومعجزے اور دلیل روشن دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تھا اور معجزات خود دلیل روشن ہیں، چناچہ فرعون کی قوم نے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کو چھوڑ کر فرعون ہی کی راہ اختیار کی اور فرعون کی رائے کچھ درست نہ تھی ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٩٦۔ ٩٩۔ اوپر کے قصوں کے بعد ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طرح طرح کے معجزے اور نشانیاں دے کر فرعون بادشاہ مصر اور اس کے وزیروں اور سرداروں کے پاس بھیجا بعضے مفسروں نے آیات سے مراد توریت اور سلطان مبین سے مراد معجزے لئے ہیں مگر یہ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ فرعون کی ہلاکت کے بعد توریت نازل ہوئی ہے اس لئے بعض مفسروں نے دونوں کے معنے معجزے کے جو بیان کئے ہیں وہ قول صحیح ہے بہرحال کوئی بھی ان میں سے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لایا فرعون کے ساتھ فرعون ہی کے دین و آئین پر قائم رہے اللہ پاک نے فرمایا فرعون کا طریقہ کوئی نیک انجام نہ تھا بالکل گمراہی کا طریقہ تھا اس لئے جس طرح وہ لوگ دنیا میں فرعون کے تابعدار رہے اسی طرح قیامت کے دن بھی یہ لوگ فرعون کے پیرو رہیں گے اور فرعون کے پیچھے پیچھے دوزخ میں چلے جائیں گے۔ قتادہ نے الورد المورود کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ یہ لوگ جس گھاٹ پر جائیں گے وہ بہت ہی برا گھاٹ ہوگا کیوں کہ انسان گھاٹ پر اس لئے جاتا ہے کہ پیاس بجھے دوزخ کا گھاٹ ایسا ہوگا کہ وہاں اور بھی تشنگی غالب ہوگی، پھر فرمایا کہ ان پر دنیا میں بہت لعنت ملامت ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ جتنے لوگ ان کے بعد ہوں گے اور ان کا قصہ سنیں گے ان پر لعنت کریں گے۔ اور آخرت میں بھی اہل محشر ان پر لعنت بھیجیں گے۔ الرفد المرفود کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) نے یہ کہا ہے کہ مراد اس سے دنیا اور آخرت کی لعنت ہے۔ صحیح مسلم میں سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن دوزخیوں پر ان کی بد اعمالی کے موافق عذاب ہوگا۔ مثلاً کسی دوزخی کو تو دوزخ کی آگ ٹخنوں تک جلاوے گی اور کسی کو گھٹنوں تک اور کسی کو کمر تک اور کسی کو اس سے ١ ؎ بڑھ کر فرعون اور اس کے ساتھیوں کی بداعمالی اور مشرکوں سے بڑھی ہوئی ہے کیوں کہ اور مشرک خدا کو خدا جان کر اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور فرعون خود اپنے آپ کو خدا کہتا تھا اور اس کے ساتھی اس کا کہنا مانتے تھے اس لئے سورت غافر میں آوے گا کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا عذاب قیامت کے دن بہت سخت ہوگا۔ صحیح بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت سے پہلے ہر روز صبح و شام دوزخ کا ٹھکانا قابل دوزخ اور جنت کا ٹھکانا قابل جنت روحوں کو دکھا کر یہ کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن تمہیں اس ٹھکانے میں جانا اور رہنا ہوگا ٢ ؎ حاصل کلام یہ ہے کہ قیامت کے دن تو فرعون اور اس کے ساتھیوں پر جو سخت عذاب ہوگا اب قیامت سے پہلے ہر روز صبح شام ان کو وہ عذاب کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے جس سے ہر روز ان کے حق میں گویا دو دفعہ قیامت کا سامنا ہے اسی واسطے فرمایا کہ فرعون کا کہنا ماننے سے ان لوگوں کو جو انعام ملا وہ برا انعام ہے مدد کے طور پر ایک شخص دوسرے شخص کو کوئی چیز دیوے تو اس کو وفد کہتے ہیں اسی واسطے شاہ صاحب نے وفد کا مرادی ترجمہ انعام کیا ہے یقدم قومہ کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح دریا میں ڈوبنے کے وقت فرعون اپنے ساتھیوں کے آگے تھا اور سب لشکر اس کے پیچھے تھا دوزخ میں جاتے وقت بھی ان لوگوں کا یہی حال ہوگا۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ٥٠٢ باب صفۃ النارو اھلہا۔ ٢ ؎ صحیح مسلم ص ٣٨٥ ج ٢ باب عرض مقعد المیت من الجنتہ الخ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:96) بایتنا۔ وہی الایات السنع (یہ نو نشانیاں تھیں) (1) العصا۔ (2) الید البیضأ۔ (3) الطوفان۔ (4) الجراد (مڈی) (5) القمل غلہ کو کھا جانے والا کیڑا چچڑی۔ (6) الضفادع (مینڈک) ۔ (7) الدم (خون) ۔ (8) النقص من الثمرات (پھلوں میں کمی) ۔ (9) النقص من الانفس (جانوروں کی تلفی) سلطن مبین۔ برھان مبین۔ برہان قاطع ۔ حجۃ باہرہ۔ صریح دلیل۔ کھلی سند (یعنی معجزہ) مادہ سلط (ثلاثی مجرد) یا سلطن (رباعی مجرد) ۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ قرآن مجید میں ہر ایک جگہ سلطن سے حجت مراد ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٩٦ تا ١٠٩ اسرار و معارف جہاں تک رحمت باری کا تعلق ہے تو دیکھو اللہ کتنا کریم ہے کہ فرعون جیسے ظالم جابر اور سخت ترین کافر کو بھی محروم نہ رکھا اور اس کے پاس بھی موسٰے (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اگر وہ بھی باز آجائے مغفرت و بخشش کا طالب ہو میری عظمت کا اقرار کرے تو میں اسے بھی معاف کردوں اور موسٰے (علیہ السلام) کو یونہی نہیں بھیج دیا اپنی نشانیاں اپنی کتاب اور اپنی بات دے کر بھیجا اور ساتھ عظیم الشان معجزات عطافرمائے جنہوں نے فرعون کے سب جادوگروں کو عاجز کردیا اور فرعون اور اس کے درباری امرا جو اس کی پوجا میں لگے تھے سب کو اپنی طرف دعوت دی مگر نہ فرعون ہی بازآیا اور نہ اس کے امرا ان بندبختوں نے بھی فرعون کا اتباع اختیار کیا حالا ن کہ فرعون کا فیصلہ بہت ہی برا تھا ۔ اب اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یوم حشر فرعون آگے ہوگا اور اس کے ماننے والے پیچھے ۔ وہ سب کو لے جہنم میں جاگھ سے گا جو بہت ہی اذیت ناک جگہ ہے اس دنیا میں بھی ان کے حصہ میں لعنت ہی آئی اور آخرت میں بھی پھٹکار ہی پڑی کس قدربرامعاوضہ ہے جو انھوں نے پسند کیا اور کتنا ہیبت ناک انجام ہے جس کو وہ پہنچے۔ پیشوا اور پیروکار کی ذمہ داری یہاں یہ واضح ہوتا ہے کہ پیشروکو خواہ وہ پیرہویا عالم یاسربراہ وحکمران پوری دیانتداری سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع کرنا چاہیئے اور لوگوں کو اس راہ پہ چلانا چاہیئے ورنہ نہ صرف خود تباہ ہوگا اپنے پیروکاروں کو بھی تباہ کردے گا اسی طرح پیروی کرنے والوں پہ بھی لازم ہے کہ پیرہویا حاکم اس کی ذات یا ذاتی رائے کی پیروی نہ کریں بلکہ ان امور میں اس کا اتباع کریں جو شریعت کے اعتبار سے درست ہوں اور اگر پیشوابھٹک جائے تو اسے چھوڑ دیں مگر شریعت کونہ چھوڑیں ورنہ تباہی کا اندیشہ ہے اور یہ تباہی دنیا وآخرت دونوں کو برباد کردیتی ہے ۔ العیاذاباللہ۔ اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ گزشتہ اقوام کے ایسے واقعات ہیں جن میں سے ہر ایک کے دامن میں ہزاروں عبرتیں ہیں ۔ یہ ان شہروں اور آبادیوں کی اصل تاریخ ہے جن میں سے بعض کے مکین تباہ ہوئے مگر بستی تاحال موجود ہے جیسے مصر اور بعض بستیوں کے نشان تک مٹ گئے لیکن اللہ نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی نہ اس کی شان کو یہ زیب ہی دیتا ہے بلکہ یہ ان لوگوں کا اپنا انتخاب تھا انھوں نے خود تباہی کا راستہ اختیار کرکے اپنے ساتھ ظلم کیا ۔ اللہ نے تو اپنے رسول بھیج بھیج کر اپنی طرف بلایا اپنے دامان رحمت کی طرف دعوت دی مگر انھوں نے تو خود مختلف بت تراش رکھے تھے ۔ کہیں پتھروں اور درختوں کے اور کہیں خواہشات وآرزؤوں کے لیکن جب اللہ کا عذاب آیا جو ان کے کردار کامنطقی نتیجہ تھا تو ان کے بت انھیں بچانہ سکے ۔ بچاتے تو کیا وہ تو ان پر عذاب لانے کا سبب بن گئے اور انہی کے باعث تو وہ لوگ تباہ ہوئے۔ پروردگار کی گرفت جب آتی ہے تو اسی طرح پوری شدت سے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور ظالموں کا ظلم انھیں اسی طرح عذاب الٰہی میں گرفتار کرانے کا سبب بنتا ہے وہ عذاب جو بہت دردناک ہے اور بڑا سخت ہوتا ہے ۔ ان واقعات و حالات میں بہت بڑادرس عبرت موجود ہے لیکن ایمان شرط ہے آخرت کا یقین شرط ہے اس دن کی رسوائی سے بچنے کی تمنا شرط ہے جس دن اگلے پچھلے سب انسان ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے اور جو سب کی پیشی کا دن ہوگا۔ اگر وہ ابھی واقع نہیں ہوا تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ کبھی واقع نہ ہوگا ہاں ! یہ اللہ کی مرضی اور اس کی اپنی حکمت ہے کہ ایک خاص وقت تک اسے موخر کردیا ہے مگر وہ اپنے مقررہ وقت پہ ضرور واقع ہوگا اور یہ بڑھ بڑھ کے باتیں بنانے والے اس کی ہیبت سے لرزاں وترساں ہوں گے بغیر اجازت کسی کو لب ہلانے کی جرأت نہ ہوگی اور سب نیک وبدیا کافر ومومن اسی میدان میں جمع ہوں گے اور کفار کا فیصلہ دوزخ میں جانے کا ہوگا جہاں ہمیشہ وہ چیختے چلاتے رہیں گے اور جب تک ارض وسما ہوں گے یعنی وہ عالم قائم رہے گا وہ بوجہ کفر کے سکتا ہے نکال دے یا دوزخ ہی کو ختم کردے تو اس کی قدرت کاملہ سے تو کچھ بعید نہیں مگر اس نے طے کردیا اور تبادیا کہ وہ خود اپنے اختیار سے ایسا نہیں کرے گا۔ لہٰذا جہنم بھی ہمیشہ رہے گا اور اس میں کافر کی چیخ پکار بھی ۔ یاللہ ! سوء خاتمہ سے اپنی پناہ میں رکھ ! آمین۔ اور جو نیک ہوں گے جو ایمان لائے اور اطاعت اختیار کی اور سعاد تمند ہوئے وہ جنت میں داخل ہوں گے جہاں وہ اللہ کی مرضی اور پسند سے اور اس کے فیصلے کے مطابق ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کہ تیرے رب کی بخششوں کی بھی کوئی انتہا نہیں ۔ وہ جسے موج کراتا ہے پھر اسے موج ہی کرادیتا ہے یہ لطف باتوں میں سمجھ آنے کا نہیں چکھنے سے رکھتا ہے اور اے مخاطب ! کفار کی باتوں پہ نہ جانا نہ ان کی گھڑی ہوئی خرافات کی پرواہ کرنا کہیں تجھے عظمت باری سے متعلق شک میں مبتلا نہ کردیں کہ ان کی باتوں کی کوئی اصل نہیں محض ان کے جاہل باپ دادوں کے گھڑے ہوئے رواجات اور مشرکانہ رسومات ہیں اور عنقریب یہ سب اپنے انجام کو پہخیں گے اور انھیں اس کردار کا عذاب بغیر کسی رعایت کے بھگتنا ہوگا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 96 تا 101 سلطن مبین (کھلی ہوئی دلیل، روشن دلیل) ملاء (سردار) امر فرعون (فرعون کی بات) یقدم (وہ آگے ہوگا) اورد (وہ پہنچائے گا، لاکھڑا کرے گا) الورد (پہنچنے کی جگہ، گھاٹ) المورود (پہنچائے گئے) انباء (خبریں) الرقد (انعام) المرفود (انعام جو دیا گیا) حصید (کٹ جانے اور مٹ جانے والی ) القریٰ (بستیاں) ما اعنت (کام نہ آئی، فائدہ نہ دیا) یدعون (وہ پکارتے ہیں) غیر تثبیب (سوائے تباہی و بربادی کے) تشریح :- آیت نمبر 96 تا 101 قرآن کریم گزشتہ انبیاء کرام کے واقعات کو نہایت مختصر انداز سے پیش کر کے عبرت و نصیحت کے ہزاروں پہلو کھول کر رکھ دیتا ہے۔ سورئہ ھود میں سات انبیاء کرام کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت نوح ، حضرت ھود ، حضرت صالح ، حضرت ابراہیم، حضرت لوط اور حضرت شعیب اب آخر میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کا ذکر خیر فرمایا جا رہا ہے۔ سورة ھود میں سات انبیاء کرام کے مختصر واقعات کا خلاصہ یہ ہے کہ : 1) ہر نبی نے اپنی امت سے بنیادی بات یہی فرمائی ہے کہ جب تک قوم توحید خالص پر نہیں آئے گی، کفر و شرک اور دنیاوی بد معاملگیوں کی اصلاح نہیں کرے گی اس کو راہ نجات نصیب نہیں ہوگی۔ اگر کفر و شرک اور ماپ تول میں کمی سے توبہ کرلی جائے گی تو اللہ جو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ نہ صرف ان کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیگا بلکہ دین و دنیا کی تمام بھلائیوں سے ان کے دامن کو بھر دے گا۔ 2) لیکن اگر قوم نے کفر و شرک اور ماپ تول میں کمی سے توبہ نہ کی اور اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر قائم رہی تو پھر وہ اس عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکتی جو گزشتہ تمام قوموں پر آچکا ہے۔ چونکہ قرآن کریم کے اول مخاطب مکہ کے وہ کفار تھے جو پچھلی قوموں کے طرز عمل پر چل رہے تھے۔ ان واقعات کے ذریعہ ان کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ آج ان کے درمیان اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں جن کے بعد قیامت تک کوئی نبی اور کوئی رسول نہیں ہے۔ اگر انہوں نے ان کے دامن سے وابستگی اختیار کرلی تب تو ان کی نجات ہے ورنہ قیامت تک ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ جو اللہ کے محبوب پیغمبروں میں سے ایک ہیں ان کو توریت جیسی کتاب دی گئی جو امت کے لئے مینارہ نور اور راہ ہدایت تھی ان کو بہت سے معجزات دئے گئے جو ظاہری آنکھوں سے دیکھے جاسکتے تھے لیکن ان سب کے باوجود ان کی قوم نے فرعون اور اس کے اقتدار اور دولت کی چمک دمک کے سامنے حضرت موسیٰ کے بجائے فرعون کی پیروی کی۔ حالانکہ فرعون کی پیروی کا کوئی جواز نہیں تھا۔ نتیجہ یہ تھا کہ پوری قوم ذلت و رسوائی کا پیکر بن کر رہ گئی تھی۔ لنکب جب انہوں نے حضرت موسیٰ پر ایمان قبول کیا تو اللہ نے فرعون اور اس کی سلطنت کے تمام نافرمانوں کو سمندر کے پانی میں غرق کردیا۔ فرمایا یہ جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے جو کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا لوگ خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لیتے ہیں ورنہ وہ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اس کے بندوں کی دنیا اور آخرت سنور جائے اور ان کو نجات مل جائے۔ مکہ کے کفار اور قیامت تک آنے والوں کو یہی بتایا جا رہا ہے کہ اللہ کی سنت اور اس کا طریقہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ آج حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس نور و ہدایت (قرآن کریم) کو لے کر آئے ہیں یہ ان کی نجات اور کامیابی کے لئے آخری کتاب ہدایت ہے۔ جس نے بھی اس کو مان لان اور حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دامن سے وابستگی اختیار کرلی اس کی نجات ہے لیکن جس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقوں کو چھوڑ کر خود اپنے لئے راستے بنا لئے وہ کبھی منلز مراد پر نہیں پہنچ سکتے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ سنبھل جائیں۔ لیکن جب وہ ان کو گرفت میں لے لیتا ہے تو پھر ان کو اس سے چھڑانے والا کوئی نہیں ہوتا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ سلطان مبین سے مراد یا تو عصا اور یدبیضاء ہے جو منجملہ آیات تسعہ کے جو پارہ نہم کے ربع پر مذکور ہیں اعظم ہیں اور یا موسیٰ کی تقریر بلیغ ہے جو فرعون کے سامنے دوبارہ توحید کے انہوں نے فرمائی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم اور دوسری اقوام کا انجام بیان کرنے کے بعد حضرت موسیٰ کی قوم کا کردار اور انجام کا مختصر بیان۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی کئی اعتبار سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی قوم کے ساتھ مماثلت پائی جاتی ہے۔ جس کی ابتدا موقعہ کی مناسبت سے یوں فرمائی کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح دلائل اور کھلے معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کے لیڈروں کی طرف بھیجا۔ کیونکہ فرعون کی قوم اس کے ہر کام کی پیروی کرتی تھی۔ جبکہ فرعون کا کوئی کام بھی اچھا نہ تھا ” الرشید “ کا معنیٰ ہے نیک یا اچھا کام۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دو عظیم معجزوں سے نوازا۔ عصا پھینکتے تو اللہ کے حکم سے بہت بڑا اژدھا بن جاتا۔ اپنا دایاں ہاتھ بغل میں دبا کر باہر نکالتے تو وہ اس قدر چمکتا ہوا دکھائی دیتا کہ سورج کی روشنی بھی اس کے سامنے ماند پڑجاتی اور موسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کی آزادی اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل دیتے تو فرعون اور اس کے لیڈروں کی زبانیں گنگ ہوجاتیں۔ وہ دلائل کا جواب دلائل سے دینے کی بجائے الزامات لگانے کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کے مظالم جب حد سے گزر گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے آل فرعون پر یکے بعد دیگرے پانچ عذاب مسلط کیے۔ زبردست سیلاب، ہر جگہ ٹڈیوں کے دَل کے دَل، جوئیں، مینڈکوں کی بہتات اور ہر چیز کا خون سے بھرجانا۔ فرعون اور اس کے ساتھی ہر عذاب کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) سے ایمان لانے کے وعدہ پر فریاد کرتے لیکن جب موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجہ میں عذاب ٹل جاتا تو پھر پہلے سے زیادہ مظالم ڈھاتے۔ اور فرعون کی تابع داری میں آگے ہی بڑھتے چلے جاتے۔ جس کے بارے میں قرآن مجید واضح انداز میں بتلاتا ہے کہ فرعون اس قدر ظالم اور نافرمان ہوچکا تھا کہ اس کے کسی حکم اور کام میں خیرباقی نہ رہی۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح نشانیاں دے کر بھیجا۔ ٢۔ فرعون کا کوئی کام درست نہ تھا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ١٠٤ ایک نظرر میں یہاں قصص کا خاتمہ ہوتا ہے اور اس خاتمے میں حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے تاکہ یہاں قوم فرعون کی ہلاکت کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے اور یہ بتایا جائے کہ قوم فرعون نے بھی اللہ کے پیغمبر کے مقابلے میں فروعون کی اطاعت کی تھی اس لیے ہلاک ہوئی۔ اس اشارہ میں قصہ فرعون کی ناگفتہ کڑیوں کی طرف بھی اشارہ ہے۔ جبکہ قصے کی بعض اہم جھلکیاں بھی اس منظر میں موجود ہیں۔ ان تمام قصص میں یہی اہم اصول زیر بخث ہے کہ اسلام میں ہر فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے اور اگر کوئی رؤسا اور کبراء کی اطاعت کرتا ہے تو خدا اور رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری کی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوسکتا۔ قصہ فرعون کا آغاز اس منظر سے ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آیات اور دلائل و بینات کے ساتھ فرعون کے باس بھیجا جاتا ہے جن کے اندر خدائی قوت ہے اس لیے کہ فرعون عظیم مادی قوت کا مالک تھا۔ لہذا اس کی قوت کے مقابلے میں قوت کا ہونا ضروری تھا۔ درس نمبر ١٠٤ تشریح آیات

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ‘ فرعون اور آل فرعون کی بغاوت اور دنیا و آخرت میں آل فرعون پر لعنت ان آیات میں فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی بربادی کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف بھیجا وہ ان لوگوں کے پاس معجزات اور روشن دلیل لے کر آئے ان کے یہ معجزات سورة اعراف کے رکوع (١٣‘ ١٤) میں مذکور ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث تو ہوئے تھے فرعون کی پوری ہی قوم کیلئے لیکن خاص طور سے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ قوموں کے سردار ہی اصل ہوتے ہیں عامۃ الناس انہیں کے پیچھے چلتے ہیں۔ اگر یہ لوگ حق قبول کرلیتے ہیں تو عوام بھی حق کو مان لیتے ہیں قوم کے سردار اگر حق کے منکر ہوں تو عوام دو وجہ سے حق قبول نہیں کرتے اول تو اس وجہ سے کہ سردار لوگ انہیں حق قبول نہیں کرنے دیتے اگر وہ حق قبول کریں تو یہ لوگ ان پر سختی کرتے ہیں اور انہیں اس سے باز رکھتے ہیں ‘ اور دوسری وجہ یہ کہ عامۃ الناس یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بڑے جس راہ پر ہیں ہمیں بھی اس راہ پر ہونا چاہئے اگرچہ ہوتا یہی رہا ہے کہ ضعفائے قوم ہی پہلے حق کی طرف بڑھتے ہیں لیکن یہ لوگ دوسروں کے مقابلہ میں تعداد کے اعتبار سے کم ہوتے ہیں۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ سرداروں کو خطاب کریں تاکہ وہ ہدایت قبول کرلیں اور عوام بھی ان کے ساتھ ہدایت پر آجائیں۔ فرعون کی قوم کے سرداروں نے فرعون کی ہی بات مانی اور اسی کی رائے پر چلتے رہے اور ان کے عوام بھی انہیں کے پیچھے رہے فرعون ہی سب کا قائد تھا ‘ دنیا میں کفر وضلال کا قائد بنا قیامت کے دن بھی اپنی قوم کا قائد بنے گا یعنی انہیں آگے لے کر چلے گا خود بھی دوزخ میں جائے گا اور اپنی قوم کو بھی دوزخ میں اتار دے گا۔ یہ لوگ دنیا میں ملعون ہوئے اور آخرت میں بھی مطعون ہوں گے یہ لعنت برا انعام ہے جو انہیں دیا گیا فرعون اور اہل فرعون کی ہلاکت کا واقعہ سورة بقرہ ع ١٤ اور سورة اعراف ١٦ میں اور سورة یونس (ع ٩) میں گزر چکا ہے۔ یہ جو فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے معجزات اور روشن دلیل دے کر بھیجا۔ اس میں روشن دلیل سے بعض حضرات نے ان کی عصا اور بعض نے ید بیضاء مراد لیا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

82:۔ یہ ساتواں قصہ ہے اور تیسرے دعوے سے متعلق ہے۔ مسئلہ توحید پیش کرنے پر مشرکین و کفار کی طرف سے تکلیفیں آئیں گی انہیں صبر و استقلال سے برداشت کرنا جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کی ایذائیں برداشت کیں۔ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اور فرعون کا واقعہ سورة اعراف رکوع 12 تا 20 میں تفصیل سے گذر چکا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

96 اور بلاشبہ ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنے معجزات اور واضح دلیل اور کھلی سند دے کر