Surat Hood

Surah: 11

Verse: 98

سورة هود

یَقۡدُمُ قَوۡمَہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَاَوۡرَدَہُمُ النَّارَ ؕ وَ بِئۡسَ الۡوِرۡدُ الۡمَوۡرُوۡدُ ﴿۹۸﴾

He will precede his people on the Day of Resurrection and lead them into the Fire; and wretched is the place to which they are led.

توقیامت کے دن اپنی قوم کا پیش رو ہو کر ان سب کو دوزخ میں جا کھڑا کرے گا وہ بہت ہی برا گھاٹ ہے جس پر لا کھڑے کیے جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

He will go ahead of his people on the Day of Resurrection, and will lead them into the Fire, and evil indeed is the place to which they are led. This will be the condition of those who were followed. They will have a great share of the punishment on the Day of Resurrection. This is as Allah says, لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ For each one there is double (torment), but you know not. (7:38) Allah also says that the disbelievers will say while they are in the Hellfire, رَبَّنَأ إِنَّأ أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلْ رَبَّنَأ ءَاتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ "Our Lord! Verily, we obeyed our chiefs and our great ones, and they misled us from the (right) way. Our Lord! Give them double torment." (33:67-68) Concerning the statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

98۔ 1 یعنی فرعون، جس طرح دنیا میں ان کا رہبر اور پیش رو تھا، قیامت والے دن بھی یہ آگے آگے ہی ہوگا اور اپنی قوم کو اپنی قیادت میں جہنم میں لے کر جائے گا۔ 98۔ 2 وِرْد پانی کے گھاٹ کو کہتے ہیں، جہاں پیاسے جا کر اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ لیکن یہاں جہنم کو ورد کہا گیا ہے گھاٹ یعنی جہنم جس میں لوگ لے جائے جائیں گے یعنی جگہ بھی بری اور جانے والے بھی برے۔ اعاذنا اللہ منہ

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٠] دنیوی اعمال کے اخروی نتائج میں مماثلت :۔ اس مقام پر قصہ موسیٰ و فرعون کی سب تفصیلات چھوڑ دی گئی ہیں نہ ہی یہ ذکر ہے کہ اس دنیا میں فرعون اور اس کے درباریوں اور پیروکاروں کا کیا انجام ہوا بلکہ ان لوگوں کا قیامت کے دن جو حال ہوگا اس کا نقشہ پیش کیا گیا ہے اور بتلایا گیا ہے کہ جس طرح اس دنیا میں فرعون اپنے پیروکاروں کا لیڈر بنا ہوا ہے اسی طرح قیامت کے دن بھی اپنے پیروکاروں کی قیادت کر رہا ہوگا لیکن آج تو فرعون کے پیروکاروں کو یہ نظر نہیں آرہا کہ فرعون انھیں اس ہلاکت کے گڑھے کی طرف لیے جارہا ہے لیکن قیامت کو ان سب کو یہ نظر آرہا ہوگا کہ وہ انھیں جہنم کی طرف لیے جارہا ہے لیکن اس وقت وہ اس کی پیروی کرنے پر مجبور ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیوی اعمال کی ان کے اخروی نتائج کے ساتھ غایت درجہ کی مماثلت ہوگی اور انسان اس دنیا میں تو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے مگر ان کاموں کے نتائج اس کے اختیار میں نہیں ہوتے بلکہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہوتے ہیں لہذا اس دن وہ اس کے پیچھے پیچھے چلنے پر مجبور ہوں گے۔ پھر قیامت کے دن ایسی قیادت صرف فرعون سے ہی مختص نہ ہوگی بلکہ ہر قائد کا الگ الگ جھنڈا ہوگا اور وہ اپنے پیروکاروں کے آگے آگے چل کر انھیں ان کی منزل تک لے جائے گا اگر کوئی قائد دنیا میں اللہ کا فرمانبردار اور نیک بخت تھا تو وہ اپنے پیروکاروں کو لیے ہوئے جنت کی طرف روانہ ہوگا اور بدکردار لیڈر اپنے پیروکاروں کو جہنم کی طرف لے جارہے ہوں گے۔ [ ١١١] ورد کے لغوی معنی :۔ وَرَدَ کے معنی ہیں پانی پینے کے لیے پانی کے مقام یا گھاٹ پر پہنچنا اور اس کی ضد صَدَرَ ہے یعنی پانی پی کر اور سیراب ہو کر پانی کے مقام سے واپس جانا اور ورد گھاٹ کو بھی کہتے ہیں۔ یعنی فرعون اپنے پیروکاروں سمیت نکلا تو ہوگا پانی کی تلاش میں مگر یہ لوگ جا پہنچیں گے جہنم کے کنارے پر۔ یعنی دنیا میں بھی یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا انکار کرکے اپنی بھلائی چاہ رہے تھے اور ان کی یہ غلط سوچ دنیا میں بھی ان کی ہلاکت کا سبب بن گئی تھی اور آخرت میں بھی ان کی سوچ کچھ اور ہوگی اور نتیجہ ہلاکت ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۔۔ :” قَدِمَ یَقْدَمُ (ع) آنا اور ” قَدَمَ یَقْدُمُ “ (ن) آگے ہونا۔” فَاَوْرَدَهُمُ “ ” وِرْدٌ“ (واؤ کے کسرہ کے ساتھ) وہ پانی جسے پینے کے لیے لوگ اور جانور آتے ہوں، یعنی گھاٹ۔ ” اَوْرَدَ “ باب افعال سے ماضی معلوم ہے، یعنی جس طرح دنیا میں وہ اپنے لوگوں کا پیشوا تھا، اسی طرح آخرت میں بھی ان کا پیشوا ہوگا اور پینے کے لیے انھیں لے کر پانی کے گھاٹ پر جانے کے بجائے خود آگے ہو کر سب کو آگ میں لے جائے گا۔ یہی حال ان تمام لوگوں کا ہوگا جو کسی قوم کی رہنمائی کفر اور معصیت کی طرف کرتے ہیں کہ وہ انھی کی قیادت میں چل کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ ” یَقْدُمُ “ مضارع ہے، آگے ہوگا، اس کے بعد مضارع ” یُوْرِدُھُمْ “ (انھیں آگ پرلے آئے گا) کے بجائے ” فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ “ (وہ انھیں آگ پر لے گیا) ماضی کا لفظ یقین کے لیے استعمال فرمایا۔ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ : پینے کی جگہ تو لوگ پیاس بجھانے کے لیے جاتے ہیں، مگر وہاں پانی کے بجائے آگ سے ان کی مہمان داری کی جائے گی۔ (والعیاذ باللہ)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَـقْدُمُ قَوْمَہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ فَاَوْرَدَہُمُ النَّارَ۝ ٠ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ۝ ٩٨ قِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، القیامت سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے ورد الوُرُودُ أصله : قصد الماء، ثمّ يستعمل في غيره . يقال : وَرَدْتُ الماءَ أَرِدُ وُرُوداً ، فأنا وَارِدٌ ، والماءُ مَوْرُودٌ ، وقد أَوْرَدْتُ الإبلَ الماءَ. قال تعالی: وَلَمَّا وَرَدَ ماءَ مَدْيَنَ [ القصص/ 23] والوِرْدُ : الماءُ المرشّحُ للوُرُودِ ، والوِرْدُ : خلافُ الصّدر، ( ور د ) الورود ۔ یہ اصلی میں وردت الماء ( ض ) کا مصدر ہے جس کے معنی پانی کا قصد کرنے کے ہے ۔ پھر ہر جگہ کا قصد کرنے پر بولا جاتا ہے اور پانی پر پہنچنے والے کو ورود اور پانی کو مردود کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَلَمَّا وَرَدَ ماءَ مَدْيَنَ [ القصص/ 23] قرآن میں ہے : ۔ اور جب مدین کے پانی کے مقام پر پہنچے الوادر اس پانی کو کہتے ہیں جو وادر ہونے کے لئے تیار کیا گیا ہو بِئْسَ و «بِئْسَ» كلمة تستعمل في جمیع المذام، كما أنّ نعم تستعمل في جمیع الممادح، ويرفعان ما فيه الألف واللام، أو مضافا إلى ما فيه الألف واللام، نحو : بئس الرجل زيد، وبئس غلام الرجل زيد . وينصبان النکرة نحو : بئس رجلا، ولَبِئْسَ ما کانوا يَفْعَلُونَ [ المائدة/ 79] ، أي : شيئا يفعلونه، ( ب ء س) البؤس والباس بئس ۔ فعل ذم ہے اور ہر قسم کی مذمت کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ نعم ہر قسم کی مدح کے لئے استعمال ہوتا ہے ان کا اسم اگر معرف بالللام ہو یا معرف باللام کی طرف مضاف ہو تو اسے رفع دیتے ہیں جیسے بئس الرجل زید وبئس غلام الرجل زید ۔ اور اسم نکرہ کو نصب دیتے ہیں جیسے قرآن میں ہے ؛ ۔ { بِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ } ( سورة المائدة 79) یعنی بلا شبہ وہ برا کرتے تھے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٨) وہ قیامت کے دن اپنی قوم کی قیادت کرتا ہوا اپنی قوم سے آگے ہوگا اور پھر ان کو دوزخ میں جا داخل کرے گا بہت ہی بری جگہ ہے یا یہ کہ فرعون اور اس کی قوم بہت ہی برے اترنے والے ہیں اور یہ دوزخ بہت ہی بری جگہ ہے جس میں یہ لوگ اتارے جائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٨ (يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ) دنیا کی طرح قیامت کے دن بھی اسے قیادت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ وہ آگے آگے ہوگا اور اس کی قوم پیچھے پیچھے آرہی ہوگی جیسے وہ لوگ دنیا میں اس کے پیچھے چلتے تھے۔ (فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ ) جس طرح جانوروں کا کوئی گروہ پانی پینے کے لیے گھاٹ پر آتا ہے اور ان کا لیڈر آگے آگے جا رہا ہوتا ہے ‘ ایسے ہی فرعون اپنی قوم کو جہنم کے گھاٹ پر لا اتارے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

104. It clearly emerges from this verse as well as from other verses of the Qur'an that those who lead a nation or a group of people in the present world will also be their leaders on the Day of Resurrection. If the leaders had directed their people to truth, virtue and righteousness their followers will gather under their banner on the Day of Resurrection and will march to Paradise under their leadership. On the other hand, if these leaders called their people to erroneous beliefs, to immorality, or to false ways of conduct, they will continue to follow them even on the Day of Resurrection and until they end up in Hell. This seems evident from the remark made by the Prophet (peace be on him) about Imr al-Qays: 'Imr al-Qays will bear the standard of the poets of Jahiliyah to the Fire.' (Ahmad ibn Hanbal, Musnad, vol. 2, p. 228 - Ed.) Now everyone can visualize what kind of procession both these would be, each pressing on to their destined goal. There would be the procession of those who had been misled by their so-called leaders. On that Day they would be fully conscious of the dangerous end to which they would be in due course dragged. They would, therefore, quite naturally look upon those leaders as the ones responsible for all their suffering and misfortune. In the front line of the procession would be the so-called leaders and behind them would be throngs of their followers hurling abuses and curses at them. In sharp contrast, will be the other procession, the one led by those whose leadership made their followers merit entry into Paradise. With this blissful end in view, the followers will joyously press ahead, lavishing prayers and grateful tributes on their leaders.

سورة هُوْد حاشیہ نمبر :104 یہاں صاف بتا دیا گیا ہے کہ اللہ کا اذن اور اس کی توفیق کوئی اندھی بانٹ نہیں ہے کہ بغیر کسی حکمت اور بغیر کسی معقول ضابطے کے یوں ہی جس کو چاہا نعمت ایمان پانے کا موقع دیا اور جسے چاہا اس موقع سے محروم کر دیا ۔ بلکہ اس کا ایک نہایت حکیمانہ ضابطہ ہے ، اور وہ یہ ہے کہ جو شخص حقیقت کی تلاش میں بے لاگ طریقے سے اپنی عقل کو ٹھیک ٹھیک استعمال کرتا ہے اس کے لیے تو اللہ کی طرف سے حقیقت رسی کے اسباب و ذرائع اس کی سع و طلب کے تناسب سے مہیا کر دیے جاتے ہیں ، اور اسی کو صحیح علم پانے اور ایمان لانے کی تو فیق بخشی جاتی ہے ۔ رہے وہ لوگ جو طالب حق ہی نہیں ہیں اور جو اپنی عقل کو تعصبات کے پھندوں میں پھانسے رکھتے ہیں ، یا سرے سے تلاش حقیقت میں اُسے استعمال ہی نہیں کرتے ، تو ان کے لیے اللہ کے خزانۂ قسمت میں جہالت اور گمراہی اور غلط بینی و غلط کاری کی نجاستوں کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ وہ اپنے آپ کو انہی نجاستوں کا اہل بناے ہیں اور یہی ان کے نصیب میں لکھی جاتی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(11:98) یقدم قومہ۔ مضارع واحد مذکر غائب قدوم مصدر باب نصر۔ وہ پیشوائی کریگا وہ آگے آگے ہوگا۔ اپنی قوم سے۔ اودرہم۔ اور د۔ ایدار (افعال) سے ماضٰ واحد مذکر غائب اس نے پہنچایا۔ وہ لے آیا۔ اس نے لاڈلا۔ ایراد کے اصل معنی گھاٹ پر لانے کے ہیں مگر بعد میں اس کا استعمال مطلق حاضر کرنے اور لے آنے کے لئے ہونے لگا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان کو لاڈالے گا آتش (جہنم) میں۔ الورد۔ اسم ۔ اترنے کی جگہ۔ وارد ہونے کی جگہ۔ پانی کا گھاٹ۔ یا گھاٹ کا پانی۔ پانی کا حصہ اس کا مصدر ورود ہے جس کا معنی ہے پانی کی تلاش میں جانا۔ قصد کرنا۔ پھر ہر جگہ کا قصد کرنے پر بولا جاتا ہے اور پانی پر پہنچنے والے کو وارد کہتے ہیں اور اس کو بھی کہتے ہیں جو قافلے کے آگے جاکر پانی کی تلاش کرتا ہے اور مہیا کرتا ہے۔ جیسے قرآن میں ہے فارسلوا واردھم (12:19) اور انہوں نے (پانی کے لئے) اپنا سقہ بھیجا۔ المورود۔ ورد کی صفت ہے مفعول کے وزن پر ۔ یعنی وارد ہونے کی جگہ ۔ جس جگہ کا (پانی کے لئے) قصد کیا گیا ہو۔ ورد المورود۔ پانی کا وہ حصہ یا جگہ جسے قصداً (تلاش کرکے حاصل کیا گیا ہو۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :۔ ولورد نصیب من الماء والمورود صفتہ والمخصوص بالذم محذوف وھو النار۔ ورد کا معنی ہے پانی کا حصہ ۔ یہ موصوف ہے اور المورود اس کی صفت ہے اور مخصوص بالذم محذوف ہے ۔ اور وہ النار (آتش جہنم ہے) ورد اور مورود دونوں مل کر بئس کا فاعل ہیں تفسیر ماجدی میں اس کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے :۔ اور بری ہے وہ جگہ اترنے کی جہاں یہ اتارے جائیں گے۔ کیا ہی برا ہے وہ گھاٹ پانی کا جہاں وہ لوگ اپنی پیاس بجھانے کیلئے لیجائے جائیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ یعنی جس طرح دنیا میں اپنے لوگوں کو پیشوا تھا سی طرھ آخرت میں بھی ان پیشوا ہوگا اور وہ اسی کی رہنائی میں چل کر دوزخ میں داخل ہوں گے۔ یہی حال ان تمام لوگوں کو ہوگا جو کسی قوم کی رہنمائی کفر و معصیت کی طرف کرتے ہیں کہ وہ انہی کی قیادت میں چل کر جہنم میں داخ (رح) ہوں گے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ” قیامت کے روز جاہلیت کے تمام شعرا کا جھنڈا امرئو القیس نے اٹھا رکھا ہوگا جو اس کی قیادت میں چل کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ (ابن کثیر) ۔ 2 ۔ گھاٹ پر تو لوگ پیاس بجھانے جاتے ہیں مگر وہاں پانی کی بجائے آگ سے ان ی مہمانداری کی جائے گی۔ العیاذ باللہ (وحیدی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح فرعون اپنی قوم کا دنیا میں لیڈر بنا ہوا تھا اسی طرح ہی آخرت میں جہنم جاتے وقت ان کے آگے آگے ہوگا۔ قرآن مجید اس حقیقت کا انکشاف کرتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں کسی جماعت یا قوم کو گمراہ کرنے کا سبب بنتے ہیں اگر یہ سچی توبہ کے بغیر مرجائیں تو قیامت کے دن اپنے گمراہ کردہ ساتھیوں کے ساتھ اللہ کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ اسی صورتحال کا فرعون اور اہل فرعون کو سامنا کرنا پڑے گا۔ چناچہ جب آل فرعون کو جہنم کی طرف جانے کا حکم ہوگا تو وہ فرعون کی قیادت میں جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے۔ قرآن مجید کے مفہوم سے یہ بات اخذ ہوتی ہے جب فرعون اور اس کی قوم کو جہنم جانے کا حکم ہوگا تو ابتدا کسی اچھی امید کے ساتھ وہ خراماں خراماں فرعون کے پیچھے دوڑتے ہوئے جائیں گے لیکن تھوڑی دیر کے بعد جب انہیں جہنم کی دہکتی ہوئی آگ نظر آئے گی۔ تو ایک دوسرے پر لعنت اور پھٹکار کریں گے۔ اس طرح ان کا جہنم میں داخل ہونا بد ترین انداز میں ہوگا۔ جس کے لیے قرآن مجید میں (الرِّفْدُالْمَرْفُوْدُ ) کے الفاظ استعمال کیے ہیں جن کا معنی عربی ڈکشنری کے لحاظ سے ہے سہارا۔ گویا کہ جو دنیا میں ایک دوسرے کا سہارا بنے ہوئے تھے وہ سہارا بدترین ثابت ہوگا جس کی وجہ سے لیڈر اور ان کے پیروکار ایک دوسرے کو جہنم میں داخل کرنے کا سبب ثابت ہوں گے۔ لیڈر کا کردار اور انجام : (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ ) [ رواہ مسلم : باب تحریم الغدر ] ” حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی مقعد کے نزدیک جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا، جو اس کی عہد شکنی کے بقدر بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت سے بڑھ کر کسی کی عہد شکنی نہیں ہوتی۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ )[ رواہ احمد ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا جو بندہ امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو شخص وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔ “ مسائل ١۔ قیامت کے دن فرعون کو اس کے لشکر سمیت جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ٢۔ جہنم بدترین ٹھکانہ ہے۔ ٣۔ فرعونیوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں کا ایک دوسرے پر لعنت بھیجنا : ١۔ دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کو بھی لگی رہے گی (ھود : ٩٩) ٢۔ دنیا میں بھی ان پر لعنت ہے اور قیامت کو بھی۔ (ھود : ٦٠) ٣۔ اے ہمارے پروردگار ان کو دوگنا عذاب دے اور ان کو لعنت سے دوچار فرما۔ (الاحزاب : ٦٨) ٤۔ قیامت والے دن بعض بعض کا انکار کریں گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ (العنکبوت : ٢٥) ٥۔ اللہ کی کافروں پر لعنت ہے اور اللہ نے ان کے لیے جہنم کو بھڑکا یا ہے۔ (الاحزاب : ٦٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ذرا اس منظر کو دیکھئے ! آغاز یوں ہوتا ہے کہ قصہ ماضی کا ہے اور مستقبل میں انجام بد کا ڈراوا ہے۔ اچانک یہ منظر عملاً شروع ہوجاتا ہے۔ مستقبل ماضی میں بدل جاتا ہے اور اسکرین پر مابضی کی حالت چتلی ہے۔ فرعون نے گویا قیامت میں ان کی قیادت کر ہی ڈالی۔ (فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ) “ مویشیوں کی طرح انہیں آگ کے گھاٹ پر لے گیا ”۔ جس طرح ایک چروایا اپنی بکریوں کو پانی پلانے کے لیے گھاٹ پر لے جاتا ہے ۔ بیشک یہ لوگ جانوروں کا ایک ریوڑ ہی تو تھے۔ ریوڑ نے کبھی غور وفکر کیا ہے ، کیا انہوں نے انسانیت کی اعلیٰ صفات یعنی غور وفکر کرنے سے انکار نہیں کردیا ؟ اور حریت و اراداہ سے دست برداری اختیار نہیں کرلی ؟ لہذا وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جہنم کے گھاٹ پر پہنچ جائیں ، جاں ان کی پیاس نہ بجھے گی۔ جہاں ان کا سینہ ٹھنڈا نہ ہوگا بلکہ وہاں کا پانی تو ان کی آنتوں اور ہونٹوں کو بھون ڈالے گا ، دل جلا دے گا۔ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ (١١-٩٨) “ کیسی بدتر جائے ورود ہے یہ ”۔ یہ تو ایک منظر تھا جس میں فرعون ان کی قیادت کر رہا ہے اور ان کو آک تک پہنچاتا ہے۔ لیکن اس منظر پر تبصرہ یوں ہے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

83: تخویف اخروی ہے قیامت کے دن فرعون جہنم کی طرف اپنی قوم کی قیادت کرے گا۔ جس جگہ میں وہ داخل ہوں گے وہ کس قدر بری ہے یعنی نار جہنم۔ وَ اُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا یہ دنیوی اور اخروی تخویف ہے۔ دنیا میں بھی ان پر سب کی پھٹکار ہے اور آخرت میں بھی وہ اللہ کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ یہ تحفہ جو دیا گیا کس قدر برا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

98 فرعون قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا پھر ان سب کو دوزخ میں پہونچا دے گا اور دوزخ میں جا اتارے گا اور وہ بہت بڑا گھاٹ ہے جس گھاٹ وہ اتارے گئے اور وہ بہت بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے گئے۔ یعنی جس طرح یہاں قوم کے گمراہ کرنے کی پیشوائی کیا کرتا تھا اور غرق کے وقت بھی آگے آگے تھا اسی طرح قیامت کو عذاب میں لے جانے کی پیشوائی کرے گا۔