Surat un Naas

Surah: 114

Verse: 4

سورة الناس

مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ ۙ الۡخَنَّاسِ ۪ۙ﴿۴﴾

From the evil of the retreating whisperer -

وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاس The whisperer (Al-Waswas) who withdraws. "The devil who is squatting (perched) upon the heart of the Son of Adam. So when he becomes absentminded and heedless he whispers. Then, when he remembers Allah he withdraws." Mujahid and Qatadah also said this. Al-Mu`tamir bin Sulayman reported that his father said, "It has been mentioned to me that Shaytan is Al-Waswas. He blows into the heart of the Son of Adam when he is sad and when he is happy. But when he (man) remembers Allah, Shaytan withdraws." Al-`Awfi reported from Ibn Abbas; الْوَسْوَاسِ The whisperer. "He is Shaytan. He whispers and then when he is obeyed, he withdraws." As for Allah's saying; الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاس

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 الوسواس، بعض کے نزدیک اسم فاعل الموسوس کے معنی میں ہے اور بعض کے نزدیک یہ ذی الوسو اس ہے۔ وسوسہ، مخفی آواز کو کہتے ہیں، شیطان بھی نہایت غیر محسوس طریقوں سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے اسی کو وسوسہ کہتے ہیں۔ الخناس (کھسک جانے والا یہ شیطان کی صفت ہے۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو یہ کھسک جاتا ہے اور اللہ کی یاد سے غفلت برتی جائے تو دل پر چھا جاتا ہے)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] خناس کا لغوی مفہوم :۔ وَسْوَاس طبی ّ نقطہ نگاہ سے یہ ایک مرض ہے جسے وہم بھی کہتے ہیں۔ یہ مرض غلبہ سودا کی وجہ سے ذہن کو ماؤف کردیتا ہے اور انسان ایسی فضول باتیں کرنے لگتا ہے جو پہلے اس کے ذہن میں نہیں ہوتیں۔ دل میں آنے والی برائی اور بےنفع بات اور شرعی نقطہ نگاہ سے اس کا معنی شیطان کا کسی برے کام کی طرف راغب کرنا اور برے خیال دل میں ڈالتے رہنا اور اس کی نسبت صرف شیطان کی طرف ہوتی ہے۔ جس کی ایک صفت خَنَّاس ہے اور خَنَّاس شیطان ہی کا صفاتی نام ہے۔ خَنَّاس بمعنی ظاہر ہو کر چھپ جانے والا یا سامنے آکر پھر پیچھے ہٹ جانے والا۔ شیطان کا یہ عمل صرف ایک بار ہی نہیں ہوتا بلکہ بار بار ہوتا ہے۔ وَسوَس کے لفظ میں تکرار لفظی ہے جو تکرار معنوی پر بھی دلالت کرتا ہے۔ شیطان ایک بار وسوسہ ڈال کر چھپ جاتا ہے۔ پھر دوبارہ حملہ آور ہوتا ہے پھر چھپ جاتا ہے تاآنکہ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) من شر الوسواس، الخناس :” الوسواس “ واؤ کے کسرہ کے ساتھ ہو تو یہ ” وسوس یوسوس “ کا مصدر ہے، وسوسہ ڈالنا، جیسے ” زلزال “ (زاء کے کسرہ کے ساتھ) ہے ، سخت ہلانا۔ (زمخشری) یہاں ” الوسواس “ واؤ کے فتحہ کیساتھ ہے، یہ مصدر نہیں بلکہ صفت ہے، جو اسم فاعل کے معنی میں ہے، بہت وسولہ ڈالنے والا، جس طرح ” ترثار “ (بہت باتیں کرنے والا ) اور ”’ حداح “ (بہت چھوٹے قد والا) وغیرہ ہیں۔ (تفسیر ابن قیم) (٢)” الوسواس “ مضاعف رباعی ہے، اس کے مفوہم میں تکرار (بار بار وسوسہ ڈلنا) شامل ہے، جس طرح ” زلزل “ کے مفہوم میں بار بار ہلانا اور ” ثرثر “ میں بولتے چلے جانا شامل ہے۔” الوسواس “ کا معنی بہت وسوسہ ڈالنے والا جو بار بار وسوسہ ڈالتا ہے۔ (٣)” وسوسۃ “ کا اصل معنی وہ ہلکی یا دبی ہوئی حرکت یا آواز ہے جو عام طور پر محسوس نہ ہوتی ہو۔ اس سے مراد وہ بات بھی ہوتی ہے جو بالکل آہستہ آواز سے کسی کے کان میں کیہ جائے اور صرف اسی کو سنائی دے اور وہ بھی جو آواز کے بغیر کسی کے دل میں ڈال دی جائے، جیسے شیطان انسان کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ (٤) ” الخناس “ ” خنس یخنس “ (ض ، ن) پیچھے ہٹنا، ہٹانا۔ سورة تکویر میں ستاروں کو ” الخنس “ فرمایا ہے، کیونکہ وہ روزانہ مغرب میں غروب ہوتے ہیں، پھر پیچھے ہٹتے ہوئے دوبارہ مشرق سے نمودار ہوجاتے ہیں۔” الخناس “ مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی بہت پیچھے ہٹنے والا۔ اس سے یہ بات خود بخود سمجھ میں آرہی ہے کہ وہ ایک دفعہ ہی وسوسہ ڈال کر پیچھے نہیں ہٹ جاتا، بلکہ بار بار وسوسہ ڈالتا ، بار بار پیھچے ہٹتا اور پھر ہٹ ہٹ کر وسوسہ ڈالتا ہے۔ شیطان کو ” الوسواس ، الخناس “ اس لئے کہا یا ہے کہ وہ آدمی کے دل میں برے خیالات ڈالتا ہے، جب وہ اللہ کا ذکر کرے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے، جب ذکر سے غافل ہو تو دوبارہ لوٹ کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیات ہے۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(اذا نودی للصلاۃ ادبر الشیطان ولہ ضراط حتی لایسمع التاذین فاذا قضی النداء اقبل حتیٰ اذا توب بالصلاۃ ادبر، حتی اذا قضی التتویب اقبل حتی یخطر بین المرء و نفسہ، یقول اذکر کذا، ادکر، کذاء لمالم یکن یذکر، حتی یظل الرجل لایدری کم صلی) (بخاری، الاذان ، باب فضل التاذین : ٦٠٨)” جب نماز کے لئے اذان ہوتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیٹھ دے کر بھگا جاتا ہے، تاکہ اذان نہ سنے ۔ جب اذا نپوری ہوتی ہے تو آجاتا ہے، پھر جب نماز کی اقامت ہوتی ہے چلا جاتا ہے، جب اقامت مکمل ہوتی ہے تو واپس آکر آدمی اور اس کے دل کے درمیان خیالات ڈالنا شروع کر دیات ہے ۔ کہتا ہے فلاں چیز یاد کر، فلاں چیز یاد کر، وہ چیزیں جو اسے یاد نہیں تھیں، یہاں تک کہ آدمی کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے کتنی نمازپڑھی۔ “ معلوم ہوا کہ آدمی نماز میں دل سے حاضر نہ ہو تو شیطان اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ وہ صرف اس ذکر سے پیچھے ہٹتا ہے جس میں زبان کے ساتھ دل بھی شریک ہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse [ 114:4] مِن شَرِّ‌ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (from the evil of the whisperer who withdraws [ when Allah&s name is pronounced ].) After invoking three attributes of Allah, the present verse describes the one from whom protection is sought. He is &the whisperer who withdraws&. The word waswas is originally an infinitive in the sense of waswasah &to whisper [ that is, to use breath instead of voice, when saying something in barely audible way ] &. But here it is used as an hyperbolic expression to refer to &Shaitan& in the sense that &he is an embodiment of whisper&. Whispering of the Shaitan means that he invites people to his obedience by a superstitious discourse in a way that its subject is cast into man&s heart, but no voice is heard. [ Qurtubi ]. The word خَنَّاسِ khannas is derived from khanasa which means &to sneak, recede or withdraw furtively&. The Shaitan is so named because he puts himself in a squatting [ perched ] position on the heart of man. So, when the latter becomes heedless, the former whispers, but when he remembers Allah, he withdraws furtively. When man becomes unmindful of Allah again, the Shaitan returns. Whenever man remembers Allah, he withdraws. This practice continues persistently. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: |"Allah has built two houses in the heart of man, in one of which an angel resides and in the other the Shaitan. The angel urges him to do good works and the Shaitan induces him to do evil works. When man remembers Allah, the Shaitan withdraws. And when he stops remembering Allah, the Shaitan perches on the heart of man and pecks with his beak to whisper into it to do evil things.|" [ Transmitted by Abu Ya` la on the authority of Anas (رض) ، as quoted by Mazhari ].

من شرالوسو اس الخناس، اللہ تعالیٰ کی تین صفات ذکر کر کے اب اس کا بیان ہے جس سے پناہ مانگنا مقصود ہے وہ ہے وسو اس خناس، وسو اس مصدر دراصل بمعنی وسوسہ ہے یہاں شیطان کو وسو اس مبالغتہ فرمایا گویا کہ وہ سراپا وسوسہ ہے اور وسوسہ کے معنی شیطان کا اپنی اطاعت کی طرف ایک مخفی کلام کے ذریعہ بلانا ہے جس کا مفہوم انسان کے دل میں آجائے اور کوئی آواز سنائی نہ دے (قرطبی) خناس، خنس کے مشتق ہے جس کے معنی پیچھے لوٹنے کے ہیں۔ شیطان کو خناس اس لئے کہا گیا کہ اس کی عادت یہ ہے کہ انسان جب اللہ کا نام لیتا ہے تو پیچھے بھاگتا ہے پھر جب ذرا غفلت ہوئی پھر آجاتا ہے پھر وہ اللہ کا نام نام لیتا ہے تو پھر پیچھے لوٹ جاتا ہے یہی عمل مسلسل جاری رکھتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہر انسان کے قلب میں دو گھر ہیں ایک میں فرشتہ رہتا ہے دوسرے میں شیطان (فرشتہ اس کو نیک کاموں کی رغبت دلاتا رہتا ہے اور شیطان برے کاموں کی) پھر جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب تک وہ ذکر اللہ میں مشغول نہی ہوتا تو اپنی چونچ انسان کے دل پر رکھ کر اس میں برائیوں کے وسوسے ڈالتا ہے (رواہ ابویعلی عن انس مرفوعاً مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ۝ ٠ۥۙ الْخَنَّاسِ۝ ٤ وسوس الوَسْوَسَةُ : الخطرةُ الرّديئة، وأصله من الوَسْوَاسِ ، وهو صوت الحلي، والهمس الخفيّ. قال اللہ تعالی: فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطانُ [ طه/ 120] ، وقال : مِنْ شَرِّ الْوَسْواسِ [ الناس/ 4] ويقال لهمس الصّائد وَسْوَاسٌ. ( وس وس ) الوسوسۃ اس برے خیال کو کہتے ہیں جو دل میں پیدا ہوتا ہے اور اصل میں سے ماخوز ہے جس کے معنی زیور کی چھنکار یا ہلکی سی آہٹ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطانُ [ طه/ 120] تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا ۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْواسِ [ الناس/ 4] شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے جو ( خدا کا نام سنکر ) پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ اور وسواس کے معنی شکار ی کے پاؤں کی آہٹ کے بھی آتے ہیں ۔ خنس قوله تعالی: مِنْ شَرِّ الْوَسْواسِ الْخَنَّاسِ [ الناس/ 4] ، أي : الشیطان الذي يَخْنُسُ ، أي : ينقبض إذا ذکر اللہ تعالی، وقوله تعالی: فَلا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ [ التکوير/ 15] ، أي : بالکواکب التي تخنس بالنهار، وقیل : الخنّس هي زحل والمشتري والمرّيخ لأنها تخنس في مجراها أي : ترجع، وأَخْنَسْتُ عنه حَقَّه : أخّرته . ( خ ن س ) الخنس ( ن ) کے معنی پیچھے ہٹنے اور سکڑجانے کے ہیں اسی سے شیطان کو خناس کہاجاتا ہے کیونکہ وہ ذکر الہی سے پیچھے ہٹ جانا ہے ۔ اور وسوسہ انداز نہیں ہوپاتا ۔ قرآن میں ہے :۔ مِنْ شَرِّ الْوَسْواسِ الْخَنَّاسِ [ الناس/ 4] شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے جو ( خدا کا نام سن کر ) پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ فَلا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ [ التکوير/ 15] ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ میں خنس سے وہ ستارے مراد ہیں جو دن کو الٹی رفتار چلتے ہیں یہ خانس کی جمع ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے زحل ۔ مشتری اور مریخ مراد ہیں ۔ کیونکہ یہ الٹی چال سکتے رہتے ہیں ۔ اخنست عنہ حقہ میں نے اس کے حق کو موخر کردیا ۔ روک لیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤{ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِلا الْخَنَّاسِ ۔ } ” اس بار بار وسوسہ ڈالنے والے ‘ پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ “ شیطان کی وسوسہ اندازی کا طریق کار یہ ہے کہ وہ لگاتار اپنی کوشش جاری رکھتا ہے اور انسان کو گمراہ کرنے کی کوششوں سے تھکتا نہیں۔ کبھی حملہ کرتا ہے ‘ کبھی دفاعی پسپائی اختیار کرتا ہے اور پھر پلٹ کر حملہ آور ہوتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

2 The word waswas in waswas-il-khannas means the one who whispers over and over again, and waswasa means to whisper into someone's heart an evil suggestion over and over again in such a way or ways that the one who is being inspired may not feel that the whisperer is whispering an evil suggestion into his heart. Waswasah by itself suggests repetition just as zalzalah contains the meaning of repetitive movement. Since man is not tempted by just one attempt but effort has to be made over and over again to seduce and tempt him, such aII attempt is called waswasah and the tempter waswas. As for the word khannas, it is derived from khunus, which means to hide after appearing and to retreat after coming into view. Since khannas is the intensive form, it would imply the one who behaves thus very frequently. Now, obviously the whisperer has to approach man for whispering again and again, and besides, when he is also described as khannas, the combination of the two words by 'itself gives the meaning that after whispering once he retreats and then again returns over and over again to repeat the act of whispering. In other words, when once he fails in his attempt to whisper evil, he withdraws, then he again returns to make the second and the third and the next attempt over and over again. After understanding the meaning of waswas-il-khannas, let us consider what is meant by seeking refuge from its evil. Its one meaning is that the seeker after refuge himself seeks God's refuge from its evil, i.e. from the evil lest it should whisper some evil suggestion into his own heart. The second meaning is that the caller to Truth seeks God's refuge from the evil of the one who whispers evil suggestions into the hearts of the people against himself. It is not in his own power to approach aII the people in whose hearts evil suggestions are being whispered against himself individually and remove the misunderstandings of every person. It is also not right and proper for him that he should give up his mission of inviting others to AIlah and should devote aII his tune and energy to removing the misunderstanding created by the whisperer and to answering their accusations. It is also below his dignity that he should stoop to the level of his opponents. Therefore, Allah has instructed the caller to Truth to seek only His refuge from the evil of the wicked people, and then to attend single-mindedly to his work of invitation and mission. For it is not for him to deal with them but for Allah, who is Sustainer of men, King of,men, God of men. Here, one should also understand that an evil suggestion is the starting , point of evil act. When it affects a careless or heedless person, it creates in him a desire for evil. Then, further whisperings change the evil desire into an evil intention and evil purpose. When the evil suggestion grows in intensity, the intention becomes a resolution, which then culminates in the evil act. Therefore, the meaning of seeking God's refuge from the evil of the whisperer is that Allah should nip the evil in the bud. If seen from another aspect, the order of the evil of the whisperers seems to be this: first. they incite one to open unbelief, polytheism, or rebellion against AIIah and His Messenger, and enmity of the righteous (godly) people. If they fail in this and a person dces enter Allah's religion, they misguide him to some innovation. If they fail in this too, they tempt him to sin. If they do not succeed even in this, they inspire the tnan with the suggestion that there is no haran in indulging in minor sins, so that if he starts committing these freely, he is over burdened with sin. If one escapes from this too, in the last resort they try that one should keep the true religion confined to oneself, and should do nothing to make it prevail, but if a person defeats all these plans, the whole party of the devils froth among men and jinn makes a common front against him incites and stirs up the people and makes them shower him with invective and accusation and slander, and defames him as widely as it can. Then, Satan comes to the believer and excites hisn to anger, saying: "It is cowardly of you to have borne aII this insult: arise and clash with your opponents." This is the last and final device with Satan by which he tries to thwart the struggle of the caller to Truth and entangle him in difficulties and obstructions. If he succeeds in escaping from this too, Satan becomes powerless before him. About this same thing it has been said in the Qur'an: "If Satan ever excites you to anger, seek refuge with Allah." (Al-A`raf: 200, Ha Mim As-Sajdah: 36) ; "Say: Lord, I seek refuge with You from the promptings of satans." (Al-Mu'minun: 97) ; "The fact is that if ever an evil suggestion from Satan so much as touches those, who are God-fearing people, they immediately get alerted and clearly see the right course they should adopt." (AI-A`raf: 201) . And on this very basis about the people who escape from this last attack of Satan Allah says: "None can attain to this rank except those who are men of great good fortune." (Ha Mim As-Sajdah: 35) . In this connection, another thing also should be kept in mind, and it is this: EviL suggestion is not whispered into the heart of man only from outside by the satans from among men and jinn, but also by the self of man from within. His own wrong theories misguide his intellect, his own unlawful motives and desires lead his power of discrimination, will and power of judgement astray, and it is not only the satans from outside but within tnan his satan of the self also beguiles him. This same thing has been expressed in the Qur'an, thus: "and We know the evil suggestions arising from his self." (Qaf : 16) . On this very basis, the Holy Prophet (upon whom be peace) in his well-known Sermon said: "We seek Allah's refuge from the evils of our self."

سورة الناس حاشیہ نمبر : 2 اصل میں وَسْوَاسِ ڏ الْخَنَّاسِ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ وسو اس کے معنی ہیں بار بار وسوسہ ڈالنے والا ۔ اور وسوسے کے معنی ہیں پے در پے ایسے طریقے یا طریقوں سے کسی کے دل میں کوئی بری بات ڈالنا کہ جس کے دل میں وہ ڈالی جارہی ہو اسے یہ محسوس نہ ہوسکے کہ وسوسہ انداز اس کے دل میں ایک بری بات ڈال رہا ہے ۔ وسوسے کے لفظ میں کود تکرار کا مفہوم شامل ہے ، جیسے زلزلہ میں حرکت کی تکرار کا مفہوم شامل ہے ۔ چونکہ انسان صرف ایک دفعہ بہکانے سے نہیں بہکتا بلکہ اسے بہکانے کی پے در پے کوشش کرنی ہوتی ہے ، اس لیے ایسی کوشش کو وسوسہ اور کوشش کرنے والے کو وسو اس کہا جاتا ہے ۔ رہا لفظ خناس تو یہ خنوس سے ہے جس کے معنی ظاہر ہونے کے بعد چھپنے یا آنے کے بعد پیچھے ہٹ جانے کے ہیں ، اور خناس چونکہ مبالغہ کا صیغہ ہے اس لیے اس کے معنی یہ فعل بکثرت کرنے والے کے ہوئے ۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ وسوسہ ڈالنے والے کو بار بار وسوسہ اندازی کے لیے آدمی کے پاس آنا پڑتا ہے ، اور ساتھ ساتھ جب اسے خناس بھی کہا گیا تو دونوں الفاظ کے ملنے سے خودبخود یہ مفہوم پیدا ہوگیا کہ وسوسہ ڈال ڈال کر وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور پھر پے در پے وسوسہ اندازی کے لیے پلٹ کر آتا ہے ۔ بالفاظ دیگر ایک مرتبہ وسوسہ اندازی کی کوشش جب ناکام ہوتی ہے تو وہ چلا جاتا ہے ، پھر وہی کوشش کرنے کے لیے دوبارہ ، سہ بارہ اور بار بار آتا رہتا ہے ۔ وسو اس الخناس کا مطلب سمجھ لینے کے بعد اب اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس کے شر سے پناہ مانگنے کا مطلب کیا ہے؟ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پناہ مانگنے والا خود اس کے شر سے خدا کی پناہ مانگتا ہے ، یعنی اس شر سے کہ وہ کہیں اس کے اپنے دل میں کوئی وسوسہ نہ ڈال دے ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے راستے کی طرف دعوت دینے والے کے خلاف جو شخص بھی لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا پھرے اس کے شر سے داعی حق خدا کی پناہ مانگتا ہے ۔ داعی الی الحق کے بس کا یہ کام نہیں ہے کہ اس کی ذات کے خلاف جن جن لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالے جارہے ہوں ان سب تک خود پہنچے اور ایک ایک شخص کی غلط فہمیوں کو صاف کرے ۔ اس کے لیے یہ بھی مناسب نہیں ۃے کہ اپنی دعوت الی اللہ کا کام چھوڑ چھاڑ کر وسوسہ اندازوں کی پیدا کردہ غلط فہمیوں کو صاف کرنے اور ان کے الزامات کی جواب دہی کرنے میں لگ جائے ۔ اس کے مقام سے یہ بات بھی فروتر ہے کہ جس سطح پر اس کے مخالفین اترے ہوئے ہیں اسی پر خود بھی اتر آئے ۔ اس لیے اللہ تعالی نے دعوت حق دینے والے کو ہدایت فرمائی کہ ایسے اشرار کے شر سے بس خدا کی پناہ مانگ لے اور پھر بے فکری کے ساتھ اپنی دعوت کے کام میں لگا رہ ۔ اس کے بعد ان سے نمٹنا تیرا کام نہیں بلکہ رب الناس ، ملک الناس اور الہ الناس کا کام ہے ۔ اس مقام پر یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ وسوسہ عمل شر کا نقطہ آغاز ہے ۔ وہ جب ایک غافل یا خالی الذہن آدمی کے اندر اثر انداز ہوجاتا ہے تو پہلے اس میں برائی کی خواہش پیدا ہوتی ہے ۔ پھر مزید وسوسہ اندازی اس بری خواہش کو بری نیت اور برے ارادے میں تبدیل کردیتی ہے ۔ پھر اس سے آگے جب وسوسے کی تاثیر بڑھتی ہے تو ارادہ عزم بن جاتا ہے اور آخری قدم پر پھر عمل شر ہے ۔ اس لیے وسوسہ انداز کے شر سے خدا کی پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ شر کا آغاز جس مقام سے ہوتا ہے اللہ تعالی اسی مقام پر اس کا قلع قمع فرمادے ۔ دوسرے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو وسوسہ اندازوں کے شر کی ترتیب یہ نظر آتی ہے کہ پہلے وہ کھلے کھلے کفر ، شرک ، دہریت ، یا اللہ اور رسول سے بغاوت اور اللہ والوں کی عداوت پر اکساتے ہیں ۔ اس میں ناکامی ہو اور آدمی دین اللہ میں داخل ہی ہوجائے تو وہ اسے کسی نہ کسی بدعت کی راہ سمجھاتے ہیںَ یہ بھی نہ ہوسکے تو معصیت کی رغبت دلاتے ہیں ۔ اس میں بھی کامیابی نہ ہوسکے تو آدمی کے دل میں یہ خیال ڈالتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے گناہ کرلینے میں تو کوئی مضائقہ نہیں تاکہ یہی اگر کثرت سے صادر ہوجائیں تو گناہوں کا بار عظیم انسان پر لد جائے ۔ اس سے بھی اگر آدمی بچ نکلے تو بدرجہ آخر وہ کوشش کرتے ہیں کہ آدمی دین حق کو بس اپنے آپ تک ہی محدود رکھے ، اسے غالب کرنے کی فکر نہ کرے ، لیکن اگر کوئی شخس ان تمام چالوں کو ناکام کردے تو پھر شیاطین جن و انس کی پوری پارٹی ایسے آدمی پر پل پڑتی ہے ، اس کے خلاف لوگوں کو اکساتی اور بھڑکاتی ہے ، اس پر گالیوں اور الزامات کی بوجھاڑ کراتی ہے ، اسے ہر طرف بدنام اور رسوا کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ پھر شیطان اس مرد مومن کو آکر غصہ دلاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سب کچھ برداشت کرلینا تو بڑی بزدلی کی بات ہے ، اٹھ اور ان حملہ آوروں سے بھڑ جا ۔ یہ شیطان کا آخری حربہ ہے جس سے وہ دعوت حق کی رہ کھوٹی کرانے اور داعی حق کو راہ کے کانٹوں سے الجھا دینے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس سے بھی اگر داعی حق بچ نکلے تو شیطان اس کے آگے بے بس ہوجاتا ہے ۔ یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق قرآن مجید میں ارشا ہوتا ہے وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ اور اگر شیطان کی طرف سے تمہیں کوئی اکساہٹ محسوس ہو تو اللہ کی پناہ مانگو ( الاعراف 200 ۔ حم السجدہ 36 ) وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ کہو میرے پروردگار میں شیطانین کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ( المومنون 97 ) اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انہیں چھو بھی جائے تو وہ فورا چونک جاتے ہیں اور پھر انہیں ( صحیح راستہ ) صاف نظر آنے لگتا ہے ( الاعراف 201 ) اور اسی بنا پر جو لوگ شیطان کے اس آخری حربے سے بچ نکلیں ان کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ یہ چیز بڑے نصیبے والے کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہوتی ( حم السجدہ 35 ) اس سلسلے میں ایک بات اور بھی نگاہ میں رہنی چاہیے ۔ وہ یہ کہ انسان کے دل میں وسوسہ اندازی صرف باہر سے شیاطین جن و انس ہی نہیں کرتے بلکہ اندر سے کود انسان کا اپنا نفس بھی کرتا ہے ۔ اس کے اپنے غلط نظریات اس کی عقل کو گمراہ کرتے ہیں ۔ اس کی اپنی ناجائز اغراض و خواہشات اس کی قوت تمیز اور قوت ارادی اور قوت فیصلہ کو بد راہ کرتی ہیں ۔ اور باہر کے شیاطین ہی نہیں ، انسان کے اندر اس کے اپنے نفس کا شیطان بھی اس کو بہکاتا ہے ۔ یہی بات ہے جو قرآن میں ایک جگہ فرمائی گئی ہے کہ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ ( ق ، 16 ) اور ہم اس کے اپنے نفس سے ابھرنے والے وسوسوں کو جانتے ہیں ۔ اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشہور خطبہ مسنونہ میں فرمایا ہے نعوذ باللہ من شرور انفسنا ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اپنے نفس کی شرارتوں سے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: ایک مستند حدیث میں حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ :’’ جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے، اُس کے دِل پر وسوسہ ڈالنے والا (شیطان) مسلط ہوجاتا ہے۔ جب وہ ہوش میں آ کر اﷲ تعالیٰ کا ذِکر کرتا ہے تو یہ وسوسہ ڈالنے والا پیچھے کو دبک جاتا ہے، اور جب وہ غافل ہوتا ہے تو دوبارہ آکر وسوسے ڈالتا ہے۔‘‘ (روح المعانی بحوالہ حاکم وابن المنذر و ضیاء)

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(114:4) من شر الوسواس الخناس ۔ متعلق باعوذ ہے اور المستعاذ منہ ہے یعنی وہ جس سے پناہ لینے کی دعا کی جارہی ہے شر۔ برائی (خیر کی ضد) مضاف الوسوا : مضاف الیہ۔ یہ موصوف بھی ہے اور الخناس اس کی صفت ہے۔ الوسواس : بروزن زلزال اسم ہے وسوسہ کا ہم معنی ہے۔ وسوسہ اس خفیف آواز کو کہتے ہیں جس کا مفہوم تو دل تک پہنچ جائے اور تلفظ سنائی نہ دے۔ یعنی ذہنی آواز۔ یہاں وسواس سے مراد شیطان ہے یعنی وسوسہ پیدا کرنے وال۔ یا تو اس وجہ سے کہ مبالغہ مصدر کو بجائے اسم فاعل استعمال کرلیا جاتا ہے یا مضاف محذوف ہے۔ یعنی وسوسہ ڈالنے والا۔ الخناس : یہ الوسواس کی صفت ہے۔ خنس وخنوس کا معنی ہے چپکے سے پیچھے ہٹنا۔ شیطان کا طریقہ اور معمول یہ ہے کہ اللہ کی یاد کے وقت پیچھے ہٹ جاتا ہے اس لئے اس کو خناس فرمایا۔ الوسواس الخناس کی وضاحت فرماتے ہوئے صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں :۔ جب کوئی شخص کسی کو اس کی افتاد طبع کے خلاف کسی کام پر اکساتا ہے تو اس کا پہلا رد عمل شدید ہوتا ہے اور وہ بڑی حقارت سے اس خیال کو جھٹک دیتا ہے۔ ہر وسوسہ انداز اصرار نہیں کرتا بلکہ پیچھے کھسک جاتا ہے بظاہر پسپائی اختیار کرتا ہے۔ پھر موقعہ ملنے پر وہی بات کانوں میں ڈالتا ہے اگر پھر بھی وہ تیوری چڑھائے تو وہ دبک جاتا ہے یہ تسلسل جاری رہتا ہے آہستہ آہستہ اس کا رد عمل کمزور ہونے لگتا ہے یہاں تک کہ وہ دن آجاتا ہے کہ یہ شخص جس بات پر پہلی بار برا فروختہ ہوگیا تھا وہ خود لپک کر اس کی طرف بڑھتا ہے۔ شیطان کا یہی طریقہ ہے کہ وہ انسان کو گمراہ کرتے تھکتا نہیں بلکہ لگاتار اپنی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ کبھی حملہ کرتا ہے کبھی پسپائی اختیار کرتا ہے یہاں تک کہ وہ بڑے سے بڑے زیرک انسان کو بھی اگر اسے اپنے رب کی پناہ حاصل نہ ہو تو چاروں شانے چت گرا دیتا ہے اس کی ان دونوں چالوں کو وسواس اور خناس کے الفاظ استعمال کرکے بیان کردیا۔ من شر الوسواس الخناس کا ترجمہ ہوگا :۔ بار بار وسوسہ ڈالنے والے بار بار پسپا ہونے والے کے شر سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 شیطان کا نام ” خناس “ ہے یعنی اللہ کے ذکر سے پیچھے ہٹ جانے والا۔ حضرت ابن عباس سے ایک روایت میں ہے کہ شیطان بنی آدم کے دل میں بیٹھ جاتا ہے اور وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے جب انسان اللہ کو یاد کرتا ہے تو پیچھے مٹ جاتا ہے اور جب غافل ہوتا ہے تو پھر وسوسہ ڈالنا شروع کردیتا ہے۔ (رواہ الحاکم) شاہ صاحب لکھتے ہیں : شیطان گناہ پر سنکارے اور آپ نظر نہ آئے۔ (موضح) واضح رہے کہ شیطان کا انسان کے اندر داخل ہو کر وسوسہ انداز ہونا عقلاً بعید نہیں ہے۔ خصوصاً جبکہ حدیث سے ثابت ہے اور حدیث مجری الدم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ بعض عقلا نے وس اس انداز ہونا عقلاً بعید نہیں ہے۔ خصوصاً جبکہ حدیث سے ثابت ہے اور حدیث مجرم الدم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ بعض عقلا نے وسواس سے قوت متخیلہ یا قوت واہمہ مراد لی ہے کہ جب وہ عقل کے تابع نہیں رہتی تو الٹی چال چلنا شروع کردیتی ہے جسے قرآن نے حناس سے تعبیر کیا ہے۔ مگر یہ تفسیر آثار و روایات کے خلاف ہے علامہ آلوسی لکھتے ہیں : ولایخفی ان تفسیر کلام اللہ تعالیٰ بامثال ذلک من شر الوسواس الخناس ۔ (روح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ پیچھے ہٹنے کا مطلب یہ کہ حدیث میں ہے کہ اللہ کا نام لینے سے ہو ہٹ جاتا ہے اور یہ امر شیطان جن میں تو ظاہر ہے، اور شیطان الالس میں حسب تفسیر کبیر اس طرح سے ہے کہ موسوس اپنے کو ناصح مشفق کی صورت میں ظاہر کرتا ہے لیکن اگر اس کو زجر کردیا جائے تو پھر وسوسہ سے باز آجاتا ہے اور ہٹ جاتا ہے۔ اور اگر قبول کرلیا جائے اور یہ صفت اشارہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس سے استعاذہ کرنا سبب اعاذہ کا ہوگا کیونکہ اس کی خاصیت ہے، تاخر عن ذکر اللہ۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ٠٠٤﴾ میں وسوسہ ڈالنے والے شیطان کی ایک صفت الخناس بیان فرمائی کہ وہ وسوسے ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ شیطان اپنی سونڈ کو انسان کے دل پر جمائے ہوئے ہے اگر وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اگر وہ اللہ کے ذکر سے غافل ہوجاتا ہے تو اس کے دل کا لقمہ بنا لیتا ہے اس کو الوسواس الخناس بتایا ہے۔ (حصن حصین)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” من شر الوسواس “ الوسواس اسم مصدر ہے، مراد شیطان ہے بطور مبالغہ۔ شیطان، انسان کا اس قدر دشمن ہے اور اس کے دل میں وسوسے ڈالنے میں اس قدر منہمک رہتا ہے گویا وہ سراپا وسوسہ ہے۔ الخناس، چھپ جانے والا اور پیچھے ہٹ جانے والا۔ چھپ کر انسان کو گمراہ کرتا اور اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ کوئی بندہ اللہ کو یاد کرے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب غافل ہوجائے تو قریب آجاتا ہے۔ اذا غفل الانسان وسوس لہ واذا ذکر العبد ربہ خنس (قرطبی ج 20 ص 262) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) اس وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ وسواس یعنی وسوسہ جس کے معنی ہمز اور صوت خفی کے ہیں یہاں مراد ذا الوسوستہ یعنی موسوس یعنی اس کی بدی سے پناہ مانگتا ہوں جو وسوسہ ڈالے اور پیچھے ہٹ جائے یعنی وہ دشمن جو چھپ کر حملہ کرتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ وہ حملہ آور زیادہ خطرناک ہوتا ہے جو چھپ کر حملہ کرے برخلاف اس دشمن کے جو بالمقابل ہوکر اور صف آراء ہوکر حملہ کرے اس کا قلع قمع آسان ہے شیطان کی حالت یہ ہے کہ انسان کے قلب پر اپنی سونڈ رکھ کر بیٹھ جاتا ہے اگر انسان نے اللہ کا ذکر کیا توہٹ جاتا ہے نہیں تو قلب میں وسوسہ ڈالتا ہی اور گناہ کے خیال کو پختہ کردیتا ہے۔