Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 103

سورة يوسف

وَ مَاۤ اَکۡثَرُ النَّاسِ وَ لَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾

And most of the people, although you strive [for it], are not believers.

گو آپ لاکھ چاہیں ۔ لیکن اکثر لوگ ایماندار نہ ہونگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly. Allah said in similar Ayat, وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى الاٌّرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ And if you obey most of those on the earth, they will mislead you far away from Allah's path. (6:116) and, إِنَّ فِي ذَلِكَ لاَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّوْمِنِينَ Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers. (26:8) Allah said next,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

103۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو پچھلے واقعات سے آگاہ فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان سے عبرت پکڑیں اور اللہ کے پیغمبروں کا راستہ اختیار کر کے نجات ابدی کے مستحق بن جائیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے کیونکہ وہ گذشتہ قوموں کے واقعات سنتے ہیں لیکن عبرت پذیری کے لئے نہیں، صرف دلچسپی اور لذت کے لئے، اس لئے وہ ایمان سے، محروم ہی رہتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٨] کفار مکہ نے سوال یہ کیا تھا کہ بنی اسرائیل تو شام کے ملک میں آباد تھے وہ مصر میں کیسے جا پہنچے، اس سوال کا مفصل جواب اس قصہ میں آگیا ہے۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ ایمان لے آتے مگر انہوں نے سوال اس لیے نہیں کیا تھا کہ اگر درست جواب مل جائے تو فوراً ایمان لے آئیں گے بلکہ وہ سوال اس لیے کرتے ہیں کہ کوئی ایسی بات ہاتھ لگ جائے جو ان کے عدم اعتماد اور بےایمانی پر مزید اضافہ کا سبب بن سکے اور اس سے وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرسکیں۔ لہذا محض آپ کی خواہش کی وجہ سے یہ لوگ کبھی ایمان لانے والے نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ ۔۔ : سورة یوسف کے نزول کے بعد، جو آپ کی نبوت کی واضح دلیل تھی، جب آپ کی یہ خواہش اور توقع پوری نہ ہوئی کہ اسے سننے والے ایمان لے آئیں گے تو اس پر آپ کا غم زدہ ہونا فطری بات تھی، اللہ تعالیٰ نے اس پر تسلی دی کہ آپ کی خواہش کے باوجود اکثر لوگ شیطان کے غلبے اور اپنی نفسانی خواہشات، حرص، حسد وغیرہ کی وجہ سے ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس کی حکمتیں پوری طرح وہی جانتا ہے۔ اس سے جمہوریت، یعنی اکثریت کے نمائندوں کو قانون سازی کا حق دینے کی حیثیت بھی خوب واضح ہوتی ہے، خصوصاً جب وہ صاف اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے خلاف قانون بناتے اور چلاتے ہوں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ ١٠٣؁ حرص الحِرْص : فرط الشّره، وفرط الإرادة . قال عزّ وجلّ : إِنْ تَحْرِصْ عَلى هُداهُمْ [ النحل/ 37] ، أي : إن تفرط إرادتک في هدایتهم، وقال تعالی: وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلى حَياةٍ [ البقرة/ 96] ، ( ح ر ص ) الحرص شدت آزیا شرط ارادہ ۔ قرآن میں ہے ۔ إِنْ تَحْرِصْ عَلى هُداهُمْ [ النحل/ 37] یعنی ان کی ہدایت کے لئے تمہارے دل میں شدید آزر اور خواہش ہو وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلى حَياةٍ [ البقرة/ 96] بلکہ ان کو تم اور لوگوں سے زندگی پر کہیں زیادہ حریص دیکھو گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٣) اور خواہ آپ کیسی ہی کیوں نہ کوشش کریں اہل مکہ میں سے اکثر آسمانی کتابوں اور اللہ کے رسولوں پر ایمان نہیں لاتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٣ (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ ) ان منکرین حق نے اپنی طرف سے ایک سوال کیا تھا ہم نے اس کا مفصل جواب دے دیا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس قدر عمدہ اور خوبصورت جواب پا کر وہ لوگ ایمان بھی لے آئیں گے۔ نہیں ایسا نہیں ہوگا۔ ان میں سے اکثر لوگ آپ کی شدید خواہش کے باوجود بھی ایمان نہیں لائیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

۷۲ ۔ یعنی ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کا عجیب حال ہے ، تمہاری نبوت کی آزمائش کے لیے بہت سوچ سمجھ کر اور مشورے کر کے جو مطالبہ انہوں نے کیا تھا اسے تم نے بھری محفل میں برجستہ پورا کردیا ، اب شاید تم متوقع ہوگے کہ اس کے بعد تو انہیں یہ تسلیم کرلیتے ہیں کوئی تامل نہ رہے گا کہ تم یہ قرآن خود تصنیف نہیں کرتے ہو بلکہ واقعی تم پر وحی آتی ہے ، مگر یقین جانو کہ یہ اب بھی نہ مانیں گے اور اپنے انکار پر جمے رہنے کے لیے کوئی دوسرا بہانہ ڈھونڈ نکالیں گے کیونکہ ان کے نہ ماننے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری صداقت کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے یہ کھلے دل سے کوئی معقول دلیل چاہتے تھے اور وہ ابھی تک انہیں نہیں ملی ، بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمہاری بات یہ ماننا چاہتے ہیں ہیں ، اس لیے ان کو تلاش دراصل ماننے کے لیے کسی دلیل کی نہیں بلکہ نہ ماننے کے لیے کسی بہانے کی ہے ۔ اس کلام سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی غلط فہمی کو رفع کرنا نہیں ہے ، اگرچہ بظاہر خطاب آپ ہی سے ہے ، لیکن اس کا اصل مقصد مخاطب گروہ کو جس کے مجمع میں یہ تقریر کی جارہی تھی ، ایک نہایت لطیف و بلیغ طریقہ سے اس کی ہٹ دھرمی پر متنبہ کرنا ہے ، انہوں نے اپنی محفل میں آپ کو امتحان کے لیے بلایا تھا اور اچانک یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر تم نبہ ہو تو بتاؤ بنی اسرائیل نے مصڑ جانے کا قصہ کیا ہے ، اس کے جواب میں ان کو وہیں اور اسی وقت پورا قصہ سنا دیا گیا اور آخر میں یہ مختصر سا فقرہ کہہ کر آئینہ بھی ان کے سامنے رکھ دیا گیا کہ ہٹ دھرمو اس میں اپنی صورت دیکھ لو ، تم کس منہ سے امتحان لینے بیٹھے تھے ؟ معقول انسان اگر امتحان لیتے ہیں تو اس لیے لیتے ہیں کہ اگر حق ثابت ہوجائے تو اسے مان لیں گے ، مگر تم وہ لوگ ہو جو اپنا منہ مانگا ثبوت مل جانے پر بھی مان کر نہیں دیتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠٣۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رنج دفع کرنے کے لئے آپ کی تسلی فرمائی ہے آپ کے رنج کا سبب یہ تھا کہ یہود کے بہکانے سے قریش نے آپ سے یہ دریافت کیا تھا کہ حضرت یعقوب جن کی اولاد یہود کہلاتے ہیں ملک شام کے رہنے والے تھے اگر تم نبی ہو تو یہ بتلاؤ کہ یہود جن کا لقب بنی اسرائیل ہے مصر میں کیوں کر چلے گئے تھے اور ملک شام ان سے کیوں کر چھوٹ گیا تھا۔ چناچہ اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے غرض اس سوال کے جواب میں جب اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے انتہا تک حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مصر میں آنے کا قصہ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سبب سے پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب (علیہ السلام) کی مصر میں آن کر بسنے کا حال اس سورت میں بیان فرمایا اور یہ یہود کو بخوبی معلوم تھا کہ جس کسی کو توریت کا علم نہیں ہے اس کو یہ تاریخی قصہ ہرگز معلوم نہیں ہے اور یہ بھی معلوم تھا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ تو ریت پڑی ہے نہ کسی اہل توریت سے آپ کی ایسی رسم ہے کہ جس سے آپ کو یہ قصہ سن کر معلوم ہوگیا ہو۔ رہا اہل توریت میں سے عبد اللہ بن سلام (رض) وغیرہ کا اسلام لانا یہ آپ کے مدینہ میں تشریف لانے کے بعد ہے اور قریش نے یہ سوال ہجرت سے پہلے مکہ میں کیا تھا غرض جب آپ نے توریت سے بھی زیادہ تفصیل سے اس قصہ کو قریش کے روبرو سورت یوسف (علیہ السلام) کے نازل ہوتے ہی بیان فرما دیا تو آپ کو توقع ہوئی کہ اس امر کو تائید غیبی سمجھ کر اکثر یہود آپ کے سچے نبی ہونے کی شہادت دیویں گے اور اس شہادت کی وجہ سے اکثر قریش ایمان لاویں گے لیکن یہود اور قریش اتنی بڑی تائید غیبی کے دیکھنے کے بعد بھی اپنی سخت دلی سے قائل نہ ہوئے اور اسلام نہ لائے اس سبب سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کمال رنج ہوا اس رنج کو رفع کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ بغیر اللہ کی مرضی کے اور بغیر وقت مقررہ کے پہنچ جانے کے فقط تمہاری حرص سے یہ لوگ ایمان نہ لاویں گے اس کا تم کچھ رنج نہ کرو۔ چناچہ جب وقت مقرر آگیا تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمادیا تھا وہی ظہور میں آیا کہ فتح ہو کر مکہ میں کوئی قریش اور گردونواح مدینہ کے یہود کی بستیاں فتح ہو کر کوئی یہود منکر مخالف باقی نہ رہا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی ایک حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم الٰہی کے موافق نیک و بد کی چھانٹ کی کر ہر ایک کا دوزخ اور جنت کا ٹھکانا بھی قرار پا چکا ہے۔ ١ ؎ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابتدا اسلام میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حرص تھی کہ سارے اہل مکہ دائرہ اسلام میں داخل ہوجاویں لیکن جب قرآن کی اکثر آیتوں سے یہ معلوم ہوگیا کہ جو لوگ علم الٰہی میں دوزخی قرار پا چکے ہیں وہ کسی طرح راہ راست پر نہ آویں گے تو آپ نے بہت سی حدیثوں کے ذریعے سے یہ مطلب صحابہ کو سمجھایا جو مطلب حضرت علی (رض) کی اس حدیث کا ہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٧٣٨ ج ٢ تفسیر سورت واللیل اذا لغیشی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12:103) حرصت۔ تو نے حرص کی۔ تو نے چاہا۔ حرص سے مذکر حاضر ماضی معروف۔ ولو حرصت۔ جملہ معترضہ ہے۔ مبتدا اور خبر کے درمیان۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 ۔ مگر ان کفار کی ہٹ دھرمی کا یہ حال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت پر اتنے واضح دلائل دیکھنے کے بعد بھی ایمان لانے کو تیار نہیں ہیں۔ (کذافی الروح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ١٠٣ تا ١٠٧ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بڑی شدت کے ساتھ یہ چاہتے تھے کہ آپ کی قوم ایمان لے آئے۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ جو بھلائی لے کر آئے ہیں وہ ان تک پہنچ جائے اور وہ محروم بھی نہ رہیں ، نیز آپ کو اپنی برادری پر ترس آ رہا تھا کہ اگر وہ شرک کی حالت پر ہی رہے تو دنیا میں بھی ان کو روز بد دیکھنا ہوگا اور آخرت میں وہ دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ تو انسانی دلوں کے بہت ہی قریب ہے ، وہ علیم وخبیر ہے۔ وہ انسانوں کے مزاج اور ان کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس لیے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ کی یہ حرص اور یہ شدید خواہش ان کو اسلام کی طرف راغب نہ کرسکے گی ، اور ان میں سے اکثر مشرک ہی رہیں گے اس لیے کہ یہ لوگ آیات الٰہی کو دیکھ کر یونہی گزر جاتے ہیں ، منہ پھیر لیتے ہیں اور ان کا یہ اعراض ہی ان کے راستے کا روڑا ہے۔ ان کو ایمان سے روک رہا ہے۔ اس کائنات میں جگہ جگہ جو دلائل بکھرے ہوئے ہیں ، یہ ان سے استفادہ نہیں کرتے۔ آپ تو فقط تبلیغ پر مامور ہیں ، اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ کا کچھ نقصان نہیں ہے۔ آپ اس کام کے لئے کسی کوئی اجر طلب نہیں کرتے۔ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اعراض کرتے ہیں اور ہدایات سے منہ پھیرتے ہیں حالانکہ یہ ہدایت انہیں مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ وما تسئلھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ للعلمین (١٢ : ١٠٤) “ یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے ”۔ آپ ان کو آیات الٰہیہ کی یاد دہانی کرا رہے ہیں ، ان کی بصارت اور بصیرت دونوں کو راہ ہدایت کی طرف موڑنا چاہتے ہیں اور یہ رہنمائی تمام جہان والوں کے لیے عام ہے ، یہ کسی ایک قوم ، کسی مخصوص نسل اور کسی خاص قبیلے کے لئے محدود نہیں ہے۔ اس کی کوئی بھی قیمت مقرر نہیں ہے کہ کوئی ادا کرنے سے قاصر ہو ، صرف اغنیاء ہی اسے خرید سکتے ہیں۔ فقراء کے بس کی بات نہ ہو۔ نیز اس کے حصول کے لئے کوئی جسمانی توانائی کی شرط بھی نہیں ہے کہ طاقتور لوگ اسے حاصل کرسکتے ہیں اور ناتواں اس کے حصول سے عاجز ہوں۔ یہ تو تمام جہاں والوں کے لیے کھلی نصیحت ہے۔ یہ ایک ایسا کھلا دستر خوان ہے جس پر تمام لوگ مدعو ہیں جو چاہے اسے قبول کرلے۔ وکاین من ۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (١٢ : ١٠٥) “ زمین و آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے ”۔ وہ نشانیاں جو ذات باری پر گواہی دے رہی ہیں ، جو اللہ کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرتی ہیں وہ اس کائنات میں جگہ جگہ بکھری پڑی ہیں اور لوگوں کی بصارت اور بصیرت کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں۔ یہ آسمانوں میں بھی ہیں اور زمین میں بھی ہیں اور یہ لوگ صبح و شام ان کا مشاہدہ بھی کر رہے ہیں۔ رات کے وقت بھی یہ ان کے سامنے ہوتی ہیں اور صبح کے وقت بھی ۔ یہ لوگوں کو پکار پکار کر دعوت دے رہی ہیں اور یہ اس قدر کھلی ہیں کہ لوگوں کی نظروں اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ یہ انسان کے قلب و نظر کو دعوت فکر دے رہی ہیں ، لیکن لوگ نہ ان کو دیکھتے ہیں ، نہ ان کی پکار کی طرف کان دھرتے ہیں اور نہ ان کے جھنجھوڑنے سے ان کا احساس جاگتا ہے۔ ذرا ایک لمحے کے لئے سورج کے طلوع اور غروب پر ہی غور کرلو ، ذرا درختوں کے سائے پر ہی غور کرلو کہ کس طرح غیر محسوس انداز میں گھٹتا بڑھتا ہے۔ ذرا ناپید کنار سمندر کو دیکھو ، ذرا زمین میں سے ابلتے ہوئے چشموں کی دیکھو ، ذرا بہتی ہوئی ندیوں کا نظارہ کرو ، ذرا فضائے آسمانی میں اڑنے والے پرندوں کو دیکھو ، اور پھر ذرا پانی کے اندر تیرتی ہوئی رنگ برنگ مچھلیوں کو دیکھو ، ذرا سطح زمین پر رینگنے والے کیڑوں کو دیکھو ، چیونٹیوں اور دوسرے حشرات و حیوانات کے اس لشکر عظیم کو دیکھو اور وہ حیوانات و جراثیم جو نظر ہی نہیں آتے ، اور گردش لیل ونہار کو دیکھو ، رات کے سکون اور دن کی خوشیوں کو دیکھو۔ ایک لمحے کا غوروفکر انسان پر اس کائنات کے عجائبات کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ یہ مختصر اور متفکرانہ لحظہ ہی انسانی ادراک کی دنیا میں ایک وسیع ارتعاش پیدا کرسکتا ہے اور انسان فطرت کائنات کی پکار پر لبیک کہہ سکتا ہے لیکن یمرون علیھا وھم عنھا معرضون (١٢ : ١٠٥) “ یہ لوگ ان پر گزرتے ہیں لیکن توجہ نہیں کرتے ”۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ پھر وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ان کی فکرو نظر میں بھی کسی نہ کسی راہ سے شرک داخل ہوگیا ہے۔ لہٰذا ایمان خالص کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر لمحہ بیدار اور چوکنا رہے اور دل سے ہر قسم کے شیطانی وسوسوں کو نکال باہر کر دے۔ دل کو ہر قسم کی دنیاوی آلائشوں سے پاک کردے۔ اپنی ہر سوچ ، ہر عمل اور ہر قسم کے تصرفات و اقدامات میں رضائے الٰہی کو پیش نظر رکھے۔ ہر عمل اور ہر اقدام اللہ کرے ، ایمان خالص وہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہو ، وہ انسان کے قول و فعل اور طرز عمل پر پوری طرح حکمران ہو ، اور وہ انسان پر اس طرح اثر انداز ہو کہ انسان کی زندگی پر اللہ کے سوا کسی اور کی حکمرانی باقی نہ رہے۔ انسان اپنے کسی معاملے میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرے۔ اور وہ اس حاکم کا بندہ ہو جس کے حکم کو کوئی بھی رد کرنے والا نہیں ہے۔ وما یومن ۔۔۔۔۔۔ مشرکون (١٢ : ١٠٦) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ یہ لوگ کیسے مشرک ہیں ؟ یہ اس کرۂ ارض پر واقعات ، اشیاء اور اشخاص کی قدرو قیمت کے تعین میں شرک کرتے ہیں۔ انسان کے نفع پہنچنے میں اور انسان کو مضرت سے بچانے کے سلسلے میں محض اللہ کی قدرت اور فیصلے کے سوا اور اسباب بھی تلاش کرتے ہیں۔ یہ اللہ اور اللہ کے قانون کے سوا کچھ اور شخصیات اور اداروں کو منبع ہدایت اور ذریعہ قانون اور شریعت قرار دیتے ہیں۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں باندھتے ہیں ، یہ ایسی قربانیاں اور خیراتیں کرتے ہیں جن کی تہہ میں رضائے الٰہی کے علاوہ کچھ اور شخصیات کی رضا بھی موجود و ملحوظ ہوتی ہے۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے نفع حاصل کرنے یا نقصان کے رکوانے کے عمل بےسود میں جدو جہد کرتے ہیں یا اللہ کی بندگی میں محض اللہ کی رضا کے سوا اوروں کی رضا کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔ یہی شرک خفی ہے اور اسی وجہ سے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے اندر شرک اس قدر غیر محسوس طور پر داخل ہوجاتا ہے جس طرح چیونٹی کے چلنے کی آواز خفیہ ہوتی ہے۔ حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سلسلے میں چند نمونے بیان فرمائے ہیں جن سے شرک خفی کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ امام ترمذی نے ابن عمر سے روایت کی ہے “ جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔ امام ابو داؤد اور امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن مسعود (رض) سے نقل کیا ہے “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دم اور تعویذ شرک ہے ” ۔ مسند امام احمد میں عقبہ ابن عامر کی حدیث نقل ہوئی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا “ جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے انہی کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں شریکوں کی شرکت کا محتاج نہیں ہوں جس نے بھی کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی غیر کو شریک کیا تو میں اسے اس غیر کے حوالے کردیتا ہوں ”۔ امام احمد نے ابو سعید ابن فضالہ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہتے سنا “ جب اللہ اولین اور آخرین کو اس دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے تو ایک پکارنے والا پکارے گا “ جس شخص نے ایسے کام میں اللہ کا کوئی شریک ٹھہرایا جو اللہ کا مخصوص تھا ، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا اجر اس شریک سے طلب کرے ، کیونکہ اللہ شریکوں کی شراکت کا محتاج نہیں ہے ”۔ امام احمد نے اپنی سند سے محمود ابن بسید سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا “ میں تمہیں اس چھوٹے شرک سے ڈراتا ہوں جس کے بارے مجھے تشویش ہے ”۔ صحابہ نے کہا “ رسول خدا ، وہ چھوٹی شرک کیا ہے ؟ ” تو آپ نے فرمایا “ وہ خواہیں ہیں ”۔ جب قیامت میں لوگ اپنے اپنے اعمال لے کر آئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، جاؤ ان لوگوں کے پاس جن کو تم دنیا میں کچھ سمجھتے تھے اور دیکھو ان کے پاس ہے کچھ تمہیں جزاء کے طور پر دینے کے لئے ۔ ” غرض ایمان کے باوجود یہ شرک خفی کی اقسام ہیں۔ ایک مومن کو چاہئے کہ وہ ان کے بارے میں چوکنا رہے اور ان سے بچنے کی سعی کرے تا کہ اس کا ایمان خالص ہوجائے۔ شرک خفی کے علاوہ بعض واضح اعمال شرکیہ ہیں اور ان میں سے ایک یہ طرز عمل ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی اور کے دین اور نظام کی پیروی کرے ، زندگی کے معاملات میں سے کسی بھی معاملے میں۔ مثلاً وہ ایسے قانون کے مطابق فیصلے کرائے یا کرے جو شریعت کے خلاف ہو ، یہ فعل ایک صریح اور منصوص اور واضح شرک ہے جس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے مثلاً ایسے عرس اور میلے مقرر کرنا جو اللہ نے مقرر کیے ہوئے نہ ہوں یا دوسرے ایسے رسم و رواج جن کا کوئی ثبوت شریعت سے نہ ہو۔ یا ایسے لباس جن میں ستر عورت اور دوسرے احکامات کے سلسلے میں شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ یہ سب کے سب صریح شرکیہ افعال ہیں۔ ایسے معاملات جن کا تعلق ایسے رسوم اور ایسی تقریبات سے ہو جو خلاف اسلام ہوں اور جن کو اللہ کے سوا کسی اور نے رواج دیا ہو اور جن پر عمل پیرا ہونا لوگ ضروری سمجھتے ہوں ، اس طرح جس طرح فرمودۂ خدا و رسول ہو تو ایسے افعال و رسوم محض گناہ ہی نہیں رہتے بلکہ یہ شرک کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ ان کی پیروی سے انسان غیر اللہ کے دین اور نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام اسلامی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر نہایت ہی اہم ، خطرناک اور شرک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : وما یومن ۔۔۔۔۔ مشرکون (١٢ : ١٠٦) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ لہٰذا اس آیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو جزیرۃ العرب میں ایمان لانے کے بعد بھی شرک کرتے تھے اور آپ کے بعد آنے والے لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو ایمان تو لاتے ہیں مگر پھر بھی کسی نہ کسی طرح شرک کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے کہ ہدایت سے اعراض کرنے والے یہ لوگ اس سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں اور آیات قرآنیہ کے بعد آیات کونیہ سے بھی وہ منہ موڑ رہے ہیں۔ آخر وہ کیا سہارا ہے ؟ کیا یہ خدا کا خوف نہیں کرتے۔ افا منوا ان۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (١٢ : ١٠٧) “ کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بیخبر ی میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی ”۔ یہ ان کے شعور کے تاروں پر ایک قوی ضرب ہے ، تا کہ وہ خواب غفلت سے جاگیں اور اس غفلت کے انجام بد سے ڈریں ، کیونکہ عذاب الٰہی کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے ، وہ تو کسی بھی وقت نازل ہو سکتا ہے ۔ وہ کسی بھی وقت ان کو دبوچ سکتا ہے اور یہ عذاب عمومی بھی ہو سکتا ہے اور یہ عذاب اس خوفناک دن کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے جو اچانک نمودار ہوجائے گا اور کسی کو اس کا شعور تک نہ ہوگا۔ عالم غیب کے دروازے تو بند ہیں ، پردۂ غیب کے پیچھے کیا ہے ، کسی کان کو خبر نہیں ، کوئی آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے ، لہٰذا ایک ذی ہوش شخص کس طرح غافل رہ سکتا ہے ؟ جب رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے دلائل سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ جب اس کائنات کا ذرہ ذرہ شاہد ہے کہ اس کا ایک واحد خالق ومالک ہے اور یہ لوگ اس کائنات کو بھی دیکھ رہے ہیں اور قرآن کو بھی سمجھتے ہیں کہ وہ عرب ہیں ، اور پھر بھی یہ اللہ کے ساتھ پوشیدہ یا ظاہری شرک کرتے ہیں اور لوگوں کی اکثریت اس مرض اور غفلت کا شکار ہے تو پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے اس کے سوا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی راہ پر گامزن رہیں اور آپ کے پیروکار بھی اپنے نصب العین کی طرف بڑھتے رہیں ، وہ کسی کے عمل اور کسی کی بات سے متاثر نہ ہوں اور انحراف کرنے والوں کی طرف نہ دیکھیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

88:۔ آپ کے سچا ہونے اور اللہ تعالیٰ کا رسول برحق ہونے میں تو کوئی شک نہیں لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ محض ضد وعناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ آپ لاکھ چاہیں مگر وہ نہیں مانیں گے۔ یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے آپ کا خیال تھا کہ جب مشرکین کے سوال پر میں یہ قصہ تفصیل سے بیان کردوں گا تو وہ ایمان لے آئیں گے مگر ایسا نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے بطور تسلیہ یہ آیت نازل فرمائی۔ ” ظن ان العرب لما سالتہ عن ھذہ القصۃ واخبرھم یومنون فلم یومنوا فنزلت الایۃ تسلیۃ للنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) “ (قرطبی ج 9 ص 271) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو ہدایت دینا آپ کے اختیار و تصرف میں نہ تھا ” ای لیس تقدر علی ھدیۃ من اردت ھدایتہ “ (قرطبی) ۔ ” وَمَاتَسْئَلُھُمْ الخ “ : یہ قرآن تمام بنی آدم کیلئے ایک تذکرہ ہے جس میں دلائل توحید، رسالت، نبوت معاد، احکام شرائع وغیرہ سب کچھ مذکور ہے اور پھر اس کی تبلیغ پر آپ ان سے کوئی اجرت اور تنخواہ بھی طلب نہیں کرتے مگر اس کے باوجود وہ نہیں مانتے یہ ان کی ضد اور کور باطنی کی تنہا ہے اگر میں ذرہ بھر عقل و انصاف ہوتا تو وہ ضرور اسے مان لیتے۔ ” ان ھذا القراٰن یشتمل علی ھذہ المنافع العظیمۃ ثم لاتطلب منہ مالا ولا جعلا فلوا کانوا عقلاء لقبلوا و لم یتمردوا “ (کبیر ج 18 ص 223) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

103 ۔ اور باوجود نبوت پر مختلف دلائل قائم ہوجانے کے پھر بھی اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں خواہ ان کے ایمان لانے کی آپ کتنی ہی خواہش کریں اور آپ کا کتنا ہی جی چاہے۔ یعنی ان کے ایمان پر آپ کتنے ہی حریص کیوں نہ ہوں مگر اکثر لوگ دلائل کے باوجود ایمان لانے والے نہیں ۔