Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 73

سورة يوسف

قَالُوۡا تَاللّٰہِ لَقَدۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا جِئۡنَا لِنُفۡسِدَ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا کُنَّا سٰرِقِیۡنَ ﴿۷۳﴾

They said, "By Allah , you have certainly known that we did not come to cause corruption in the land, and we have not been thieves."

انہوں نے کہا اللہ کی قسم! تم کو خوب علم ہے کہ ہم ملک میں فساد پھیلانے کے لئے نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

After Yusuf's servants accused his brothers of theft, قَالُواْ تَاللّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِيْنَا لِنُفْسِدَ فِي الاَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ They said: "By Allah! Indeed you know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves! `Ever since you knew us, you, due to our good conduct, became certain that, مَّا جِيْنَا لِنُفْسِدَ فِي الاَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ (we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!). They said, `Theft is not in our character, as you came to know.' Yusuf's men said,

اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہو چکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں ۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و بیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کر دیا جائے ، جس کا مال اس نے چرایا ہے ، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے ۔ اب حضرت یوسف علیہ السلام کا مطلب پورا ہو گیا ۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے چنانچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی ، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی خورجیاں خالی ہیں لیکن صرف اس لئے کہ انہیں اور دوسرے لوگوں کو کوئی شبہ نہ آپ نے یہ کام کیا ۔ جب بھائیوں کی تلاشی ہو چکی اور جام نہ ملا تو اب بنیامین کے اسباب کی تلاشی شروع ہوئی چونکہ ان کے اسباب میں رکھوایا تھا اس لئے اس میں سے نکلنا ہی تھا ، نکلتے ہی حکم دیا کہ انہیں روک لیا جائے ۔ یہ تھی وہ ترکیب جو جناب باری نے اپنی حکمت اور حضرت یوسف کی اور بنیامین وغیرہ کی مصلحت کے لئے حضرت یوسف صدیق علیہ السلام کو سکھائی تھی ۔ کیونکہ شاہ مصر کے قانون کے مطابق تو باوجود چور ہونے کے بنیامین کو حضرت یوسف علیہ السلام اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے لیکن چونکہ بھائی خود یہی فیصلہ کر چکے تھے ، اس لئے یہی فیصلہ حضرت یوسف علیہ السلام نے جاری کر دیا ۔ آپ کو معلوم تھا کہ شرع ابراہیمی کا فیصلہ چور کی بابت کیا ہے ۔ اس لئے بھائیوں سے پہلے ہی منوا لیا تھا ۔ جس کے درجے اللہ بڑھانا چاہے ، بڑھا دیتا ہے ۔ جیسے فرمان ہے تم میں سے ایمانداروں کے درجے ہم بلند کریں گے ۔ ہر عالم سے بالا کوئی اور عالم بھی ہے یہاں تک کہ اللہ سب سے بڑا عالم ہے ۔ اسی سے علم کی ابتدا ہے اور اسی کی طرف علم کی انتہا ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرأت میں فوق کل عالم علیم ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

73۔ 1 برداران یوسف (علیہ السلام) چونکہ اس منصوبے سے بیخبر تھے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تیار کیا تھا، اس لئے قسم کھا کر انہوں نے اپنے چور ہونے کی اور زمین میں فساد برپا کرنے کی نفی کی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse 73, it was said: قَالُوا تَاللَّـهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْ‌ضِ وَمَا كُنَّا سَارِ‌قِينَ that is, when the royal announcer accused the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) of theft, they said that responsible people of the state know them and know that they had not come to create any disorder in the country, nor have they ever been thieves.

(آیت) قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ ۔ یعنی جب شاہی منادی نے برادران یوسف پر چوری کا الزام لگایا تو انہوں نے کہا کہ ارکان دولت بھی خود ہمارے حالات سے واقف ہیں کہ ہم کوئی فساد کرنے یہاں نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ 73؀ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا فسد الفَسَادُ : خروج الشیء عن الاعتدال، قلیلا کان الخروج عنه أو كثيرا،. قال تعالی: لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] ، ( ف س د ) الفساد یہ فسد ( ن ) الشئی فھو فاسد کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کے حد اعتدال سے تجاوز کر جانا کے ہیں عام اس سے کہ وہ تجاوز کم ہو یا زیادہ قرآن میں ہے : ۔ لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] تو آسمان و زمین ۔۔۔۔۔ سب درہم برہم ہوجائیں ۔ سرق السَّرِقَةُ : أخذ ما ليس له أخذه في خفاء، وصار ذلک في الشّرع لتناول الشیء من موضع مخصوص، وقدر مخصوص، قال تعالی: وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ [ المائدة/ 38] ، وقال تعالی: قالُوا إِنْ يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ [يوسف/ 77] ، وقال : أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسارِقُونَ [يوسف/ 70] ، إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] ، ( س ر ق ) السرقتہ ( مصدر ض ) اس کے اصل معنی خفیہ طور پر اس چیز کے لے لینے کے ہیں جس کو لینے کا حق نہ ہوا اور اصطلاح شریعت میں کسی چیز کو محفوظ جگہ سے مخصوص مقدار میں لے لینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ [ المائدة/ 38] اور جو چوری کرے مرد ہو یا عورت ۔ قالُوا إِنْ يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ [يوسف/ 77] ( برداران یوسف نے ) کہا اگر اس نے چوری کی ہو تو ( کچھ عجب نہیں کہ ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی ۔ أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسارِقُونَ [يوسف/ 70] کہ قافلہ والو تم تو چورہو،

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٣) یہ لوگ بولے مصر والو اللہ کی قسم تمہیں اچھی طرح پتا ہے کہ ہم مصر میں چوری کرنے اور لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں آئے ہیں اور جس چیز کی تم تلاش کررہے ہو ہم نے اسے نہیں چرایا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٣ (قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ ) آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم قحط کے مارے لوگ یہاں اتنی دور سے غلہ لینے آئے ہیں ہم کوئی چور ڈاکو نہیں ہیں۔ ان کے اس فقرے اور انداز گفتگو میں بڑی لجاجت پائی جاتی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧٣۔ ٧٥۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے ان کے بھائیوں کو پکار کر کہا کہ اے قافلہ والو ٹھہر جاؤ تم چور معلوم ہوتے ہو تو ان لوگوں نے تعجب کی راہ سے اپنے پروردگار کی قسم کھائی اور کہا کہ تم جانتے ہو کہ ہم یہاں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں کیونکہ تم اس سے پہلے ہمارے یہاں آنے کی وجہ سے ہماری حالت سے کسی قدر واقف ہوچکے ہو اور ہم جو دوبارہ آئے ہیں اس کی وجہ بھی تمہیں معلوم ہے کہ غلہ کی قیمت ہماری گٹھڑیوں میں چلی گئی تھی جس کے واپس کردینے کا ہمیں خیال تھا۔ یہ بات سن کر یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے کہا کہ اگر تم برخلاف اپنے قول کے چور ثابت ہوگئے تو تمہاری کیا سزا ہے انہوں نے کہا کہ ہم میں سے جس کے پاس وہ برتن نکلے وہی اس کی جزا ہے۔ تفسیر سدی تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو سلف کے قول ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت میں چوری کا یہ حکم تھا کہ چور کو ایک برس تک غلام بنا کر رکھ لیا کرتے تھے اس لئے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ بات کہی کہ جس کے پاس چوری کا مال نکلے وہ رکھ لیا جائے کیوں کہ ظالموں کے ظلم کا یہی بدلہ ہے غرض کہ یہ بات تو یوسف (علیہ السلام) کی مرضی کے موافق تھی بہت جلد اس پر راضی ہوگئے اور پہلے سوتیلے بھائیوں کے سامان کی گٹھڑیوں کو ٹٹولنے لگے اور تلاشی لی پھر آخر میں اپنے سگے بھائی بنیامین کی تلاشی لی وہ سقایہ ان کے سامان میں برآمد ہوا اس پر یوسف (علیہ السلام) کے بھائی نہایت شرمندہ ہوئے اور سر جھکا لیا اور بنیامین کو یوسف (علیہ السلام) کے حوالہ کیا۔ صحیح بخاری، مسلم وغیرہ میں چور کے ہاتھ کاٹنے کی روایتیں ١ ؎ جو چند صحابہ (رض) سے ہیں ان روایتوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن شریف میں ملت ابراہیمی کی پیروی کا جو حکم ہے وہ فقط انہیں مسئلوں میں ہے جو مسئلے شریعت محمدی میں ملت ابراہیمی کے موافق ہیں مثلاً جیسے حج اور قربانی کے مسئلے چور کی چوری ملت ابراہیمی کا مسئلہ ہے کہ چور ایک سال تک غلام بنا کر رکھا جاتا تھا اور شریعت محمدی میں چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے اس لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایسے مسئلوں میں ملت ابراہیمی کی پیروی لازم نہیں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12:73) تاللہ ۔ خدا کی قسم۔ ت یہاں وائو یا باء کے بدلے میں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی ہمارا یہ شیوہ نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قافلے والوں کا انتظامیہ کو جواب اور حلف۔ قافلے والے رک کر کہنے لگے کہ جناب آپ کو معلوم ہے کہ ہم چوری کرنے نہیں آئے۔ ہم تو بھوک کے مارے ہوئے اپنے وطن سے آپ کے ملک میں غلہ لینے کے لیے آئے ہیں۔ ہمارا چوری چکاری سے کیا تعلق۔ لیکن انتظامیہ کے لوگ تلاشی لینے کے سوا کسی دلیل کو نہیں مانتے۔ یہ بیچارے قسم پر قسم اٹھائے جا رہے ہیں کہ یقین کرو کہ ہم نے چوری نہیں کی۔ ہمارا خاندان ایسا ویسا نہیں ہے ہم تو انبیاء کی اولاد ہیں۔ نہ معلوم انہوں نے کس کس انداز سے پولیس افسر کو یقین دلانے کی کوشش کی ہوگی۔ بالآخر پولیس والے کہنے لگے کہ چلو یہ بتاؤ کہ اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو تمہاری کیا سزا ہونی چاہیے ؟ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ہم نے پیالہ نہیں اٹھایا۔ لہٰذا ہم کس طرح چور ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس لیے فوراً کہنے لگے۔ ہمارے علاقے کا قانون ہے کہ اگر چور سے چوری کا مال برآمد ہوجائے تو اس کو ایک سال کے لیے مال کے مالک کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اگر ہم میں سے کسی کے پاس بادشاہ کا پیالہ نکل آئے تو ہم اسے آپ کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس شرط پر قافلے والوں کی تلاشی شروع کردی گئی۔ لیکن حسب ہدایت سب پہلے دوسرے لوگوں کی تلاشی لی گئی۔ تاکہ اصل منصوبہ کے بارے میں کسی کو شک نہ پڑے۔ اس کے پیش نظر آخر میں بنیامین کے سامان کی تلاشی لی گئی۔ ان سے پیالہ برآمد ہوا۔ اللہ تعالیٰ اس تدبیر کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لیے یہ تدبیر کی تھی۔ یعنی اسے سکھلائی تھی۔ ورنہ یوسف بادشاہ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق بھائی کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتا تھا۔ اللہ جو چاہے کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے مراتب میں بلند کرتا ہے۔ اور ایک علم والا ایسا ہے جو سب علم رکھنے والوں سے بڑھ کر علم رکھنے والا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لیے تدبیر کی۔ سوچنا یہ ہے کہ یہ تدبیر کونسی تھی۔ کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد یوسف (علیہ السلام) کا بنیامین کے سامان میں پیالہ رکھنا ہے۔ دوسرے مکتبۂ فکر کا کہنا ہے کہ ” کدنا “ سے مراد وہ بات ہے جو تفتیش کے دوران یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے منہ سے نکلی تھی کہ اسرائیلی شریعت کے مطابق ہمارا یہ اصول ہے کہ چور کو ایک سال کے لیے مال کے مالک کے حوالے کردیا جائے۔ اسی بنیاد پر بنیامین کو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے پاس رکھ لیا۔ جس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : (فَوْقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ ) ” ایک ہستی ہر علم والے سے بڑھ کر علم رکھنے والی ہے۔ “ دین کے معانی : دین اسلام اپنے کام اور نظام کے اعتبار سے کامل اور اکمل ہی نہیں بلکہ یہ تو اپنے نام کے دامن میں بھی پوری جامعیت اور دنیا وآخرت کے معاملات کا احاطہ کیے ہوئے ہے چناچہ دین کا معنیٰ ہے (١) تابع دار ہونا (٢) دوسرے کو اپنا تابع فرمان بنانا۔ (٣) مکمل اخلاص اور یکسوئی کا اظہار کرنا۔ (٤) قانون (٥) مکمل ضابطۂ حیات (٦) جزا وسزا اور قیامت کے دن کے لیے بھی لفظ دین بولا جاتا ہے۔ دین کی فرضیت : (اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمُ الْإِسْلَام دینًا )[ المائدۃ : ٣] ” آج کے دن تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کردیا اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کرلیا ہے۔ “ (ثُمَّ أَوْحَیْنَآ إِلَیْکَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفًا وَّمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ )[ النحل : ١٢٣] ” پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ یکسو رہنے والے ابراہیم کی ملت کی اتباع کیجئے اور وہ مشرک نہ تھے۔ “ (وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِی الْآَخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ )[ آل عمران : ٨٥] ” اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے تو اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھائے گا۔ “ مسائل ١۔ صفائی پیش کرنے کے لیے قسم اٹھائی جاسکتی ہے۔ ٢۔ شریعت اسرائیلی میں بھی چور کی سزا اسے غلام بنانا تھا۔ ٣۔ یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو بادشاہ کے دین کے مطابق نہ رکھ سکتے تھے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے۔ ٥۔ ہر علم والے کے اوپر علم والا ہے۔ تفسیر بالقرآن دین کا معنٰی : ١۔ یوسف کے لیے ممکن نہ تھا کہ بادشاہ کے قانون (دین) کے مطابق اپنے بھائی کو روک لیتے۔ (یوسف : ٧٦) ٢۔ وہ مالک ہے قیامت (دین) کے دن کا۔ (الفاتحۃ : ٤) ٣۔ کیا اللہ کے دین کے سوا وہ کوئی اور دین (الاسلام) تلاش کرتے ہیں۔ (آل عمران : ٨٣) ٤۔ یہی مستقل (ضابطہ) دین ہے۔ (التوبۃ : ٣٦) ٥۔ اس نے تمہارے لیے وہی طریقہ (دین) مقرر کیا ہے۔ (الشورٰی : ١٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

62:۔ فرزندان یعقوب (علیہ السلام) نے کہا تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم یہاں فساد کرنے نہیں آئے اور نہ چوری کرنا ہمارا کام ہے۔ فرزندان یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اونٹوں کے منہ باندھ رکھے تھے تاکہ وہ لوگوں کی کھیتی باڑی کا نقصان نہ کریں نیز انہوں نے وہ سرمایہ بھی واپس کردیا تھا جو پہلی بار ان کے سامان میں واپس چلا گیا تھا۔ استشہدوا بعلمھم لما ثبت عندھم من دلائل دینھم وامانتھم حیث دخلوا وافوہ رواحلھم مشدودۃ لئلا تتناول زرعا او طعاما لاحد من اھل السوق و لانھم ردوا بضاعتھم التی وجدوھا فی رحالھم (مدارک ج 2 ص 178) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

73 ۔ یہ لوگ کہنے لگے بخدا تم کو معلوم ہے کہ ہم اس ملک میں فساد پھیلانے نہیں آئے اور نہ کبھی چوری کرنا ہمارا شیوہ تھا اور نہ ہم چوری کرنے والے ہیں ۔ یعنی اس شہر میں ہمارا چال چلن سب کو معلوم ہے نہ ہم یہاں کسی شرارت کی غرض سے آئے ہیں۔