Surat Yousuf

Surah: 12

Verse: 91

سورة يوسف

قَالُوۡا تَاللّٰہِ لَقَدۡ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیۡنَا وَ اِنۡ کُنَّا لَخٰطِئِیۡنَ ﴿۹۱﴾

They said, "By Allah , certainly has Allah preferred you over us, and indeed, we have been sinners."

انہوں نے کہا اللہ کی قسم! اللہ تعالٰی نے تجھے ہم پر برتری دی ہے اور یہ بھی بالکل سچ ہے کہ ہم خطا کار تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالُواْ تَاللّهِ لَقَدْ اثَرَكَ اللّهُ عَلَيْنَا ... "Verily, he who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the good doers to be lost." They said: "By Allah! Indeed Allah has preferred you above us." They affirmed Yusuf's virtue above them, being blessed with beauty, conduct, richness, kingship, authority and, above all, Prophethood. ... وَإِن كُنَّا لَخَاطِيِينَ and we certainly have been sinners." They admitted their error and acknowledged that they made a mistake against him,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

91۔ 1 بھائیوں نے جب یوسف (علیہ السلام) کی شان دیکھی تو اپنی غلطی اور کوتاہی کا اعتراف کرلیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٨] سیدنا یوسف کے اس جواب پر ان کے سارے کارنامے ان کی آنکھوں کے سامنے پھرگئے اور برملا اعتراف کرنے لگے بیشک غلط کار ہم ہی تھے اور آپ اسی عزت کے مستحق تھے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے پھر اس خیال سے کہ اگرچہ شاہ مصر ان کا بھائی ہے وہ اس وقت بادشاہ ہے۔ ممکن ہے ہمیں سابقہ خطاؤں پر مؤاخذہ کرے۔ لہذا دل ہی دل میں کچھ ڈر بھی رہے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ ۔۔ : بھائیوں کے سامنے اپنے ظلم و ستم کا وہ سارا منظر آگیا جو ان کے ہاتھوں ہوا تھا تو انھوں نے قسم کھا کر اعتراف کیا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر، تقویٰ اور دوسری صفات حسنہ کی وجہ سے ہم پر برتری اور فوقیت عطا فرمائی ہے۔ ” وَاِنْ كُنَّا “ اصل میں ” اِنَّا کُنَّا “ تھا، جس کی دلیل ” خَاطِءِیْنَ “ پر آنے والا لام ہے۔ ” اِنَّ “ اور لام کے ساتھ تاکید بھی قسم ہی کی ایک صورت ہے کہ یقیناً ہم آپ پر ظلم کرکے جانتے بوجھتے ہوئے غلط اور گناہ کا کام کرنے والے تھے۔ ” خَاطِءِیْنَ “ اور ” مُخْطِءِیْنَ “ کے فرق کے لیے دیکھیے آیت (٢٩) کی تفسیر۔ بھائیوں کے اعتراف گناہ کے بعد یوسف (علیہ السلام) کی سینے کی وسعت اور حوصلہ مندی دیکھیے، ابھی انھوں نے صرف گناہ کا اعتراف اور عذر ہی کیا ہے، معافی مانگنے کی نوبت آنے سے پہلے ہی بول اٹھے : (لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ) کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Now the brothers of Yusuf (علیہ السلام) had no choice left with them but to con¬fess the wrongs they had done and admit the grace and excellence of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) . So, in one voice, they all said: تَاللَّـهِ لَقَدْ آثَرَ‌كَ اللَّـهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَاطِئِينَ : ` By God, Allah has given to you preference over us [ which you deserved ], and we were surely in error [ in whatever we did - and so, forgive us in the name of Allah ].& To this in reply, Sayyidna Yusuf& (علیہ السلام) said what a prophet of his stature would say:

اب تو برادران یوسف کے پاس بجز جرم وخطا کے اعتراف اور یوسف (علیہ السلام) کے فضل و کمال کے اقراء کے چارہ نہ تھا سب نے یک زبان ہو کر کہا (آیت) تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِــــِٕيْنَ بخدا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم سب پر فضیلت اور برتری عطا فرمائی اور آپ اسی کے مستحق تھے اور ہم نے جو کچھ کیا بیشک ہم اس میں خطا وار تھے للہ معاف کر دیجئے یوسف (علیہ السلام) نے جواب میں اپنی پیغمبرانہ شان کے مطابق فرمایا،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِــــِٕيْنَ 91؀ أثر والإيثار للتفضل ومنه :[ آثرته، وقوله تعالی: وَيُؤْثِرُونَ عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الحشر/ 9] وقال : تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 91] وبَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ الأعلی/ 16] . وفي الحدیث : «سيكون بعدي أثرة» «5» أي : يستأثر بعضکم علی بعض . ( ا ث ر ) اور الایثار ( افعال ) کے معنی ہیں ایک چیز کو اس کے افضل ہونے کی وجہ سے دوسری پر ترجیح دینا اور پسندکرنا اس سے آثرتہ ہے یعنی میں نے اسے پسند کیا ۔ قرآن میں ہے :۔ { وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ } [ الحشر : 9] دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں { تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا } [يوسف : 91] بخدا اللہ نے تمہیں ہم پر فضیلت بخشی ہے ۔ { بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا } [ الأعلی : 16] مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو ۔ (5) حدیث میں ہے : سیکون بعدی اثرۃ ۔ ( میرے بعد تم میں خود پسندی آجائے گی ) یعنی تم میں سے ہر ایک اپنے کو دوسروں سے بہتر خیال کرے گا ۔ خطأ الخَطَأ : العدول عن الجهة، وذلک أضرب : أحدها : أن ترید غير ما تحسن إرادته فتفعله، وهذا هو الخطأ التامّ المأخوذ به الإنسان، يقال : خَطِئَ يَخْطَأُ ، خِطْأً ، وخِطْأَةً ، قال تعالی: إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] ، وقال : وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] . والثاني : أن يريد ما يحسن فعله، ولکن يقع منه خلاف ما يريد فيقال : أَخْطَأَ إِخْطَاءً فهو مُخْطِئٌ ، وهذا قد أصاب في الإرادة وأخطأ في الفعل، وهذا المعنيّ بقوله عليه السلام : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» «3» وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» «4» ، وقوله عزّ وجلّ : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ [ النساء/ 92] . والثّالث : أن يريد ما لا يحسن فعله ويتّفق منه خلافه، فهذا مخطئ في الإرادة ومصیب في الفعل، فهو مذموم بقصده وغیر محمود علی فعله، والخَطِيئَةُ والسّيّئة يتقاربان، لکن الخطيئة أكثر ما تقال فيما لا يكون مقصودا إليه في نفسه، بل يكون القصد سببا لتولّد ذلک الفعل منه ( خ ط ء ) الخطاء والخطاء ۃ کے معنی صحیح جہت سے عدول کرنے کے ہیں اس کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ( 1 ) کوئی ایسا کام بالا رادہ کرے جس کا ارادہ بھی مناسب نہ ہو ۔ یہ خطا تام ہے جس پر مواخزہ ہوگا ا س معنی میں فعل خطئی یخطاء خطاء وخطاء بولا جا تا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت جرم ہے ۔ وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] اور بلا شبہ ہم خطا کار تھے ۔ ( 2 ) ارادہ تو اچھا کام کرنے کا ہو لیکن غلطی سے برا کام سرزد ہوجائے ۔ کہا جاتا ہے : ۔ اس میں اس کا ارادہ وہ تو درست ہوتا ہے مگر اس کا فعل غلط ہوتا ہے اسی قسم کی خطا کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» میری امت سے خطا سے خطا اور نسیان اٹھائے گئے ہیں ۔ نیز فرمایا : وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» جس نے اجتہاد کیا ۔ لیکن اس سے غلطی ہوگئی اسے پھر بھی اجر ملے گا قرآن میں ہے : ۔ اور جو غلطی سے مومن کو مار ڈالے تو ایک تو غلام کو ازاد کردے ۔ ( 3 ) غیر مستحن فعل کا ارادہ کرے لیکن اتفاق سے مستحن فعل سرزد ہوجائے ۔ اس صورت میں اس کا فعل تو درست ہے مگر ارادہ غلط ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل بھی قابل ستائس نہیں ہوگا ۔ الخطیتۃ یہ قریب قریب سیئۃ کے ہم معنی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَحاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ [ البقرة/ 81] اور اسکے گناہ ہر طرف سے اس کو گھیر لیں گے ۔ لیکن زیادہ تر خطئۃ کا استعمال اس فعل کے متعلق ہوتا ہے جو بزات خود مقصود نہ ہو بلکہ کسی دوسری چیز کا ارادہ اس کے صدر کا سبب بن جائے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩١) چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بطور معذرت کہنے لگے بخدا تمہیں اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضیلت فرمائی ہے اور جو کچھ تم نے کیا بیشک اس میں ہم آپ کے ساتھ برائی کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِــــِٕيْنَ ) یقیناً ہم خطاکار ہیں بلاشبہ ظلم و زیادتی کے مرتکب ہم ہی ہوئے تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(12: 91) اثرک۔ اثر یؤثر ایثار (افعال) ایک چیز کو اس کے افضل ہونے کی وجہ سے دوسری پر ترجیح دینا اور پسند کرنا۔ ماضی واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ اس نے تجھ کو فضلیت بخشی۔ قرآن میں اور جگہ آیا ہے ویؤثرون علی انفسھم (59:9) دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں۔ خطئین۔ خاطیٔکی جمع ۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ بحالت نصب وجر خطأ سے۔ خطار کار ۔ گنہگار خطا کرنے والے۔ چوکنے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ۔ یعنی تقویٰ ور صبر کی وجہ سے تمہیں اللہ نے فضیلت دی اور ہم نے تمہارے ساتھ جو کچھ کیا اس میں ہم قصوروار ہیں۔ (روح) ۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں : تیرا خواب سچا تھا اور ہمارا حسد غلط (موضح) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جونہی اپنا تعارف کروایا تو بھائی ان کے سامنے معذرت پیش کرنے لگے۔ برادران یوسف نے دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اللہ کی قسم اٹھاتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برتری کا اعتراف کیا کہ اللہ نے آپ کو ہم پر بڑی عزت و عظمت عطا فرمائی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم خطا کار ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا بےفکر ہوجاؤ آج تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ تمہیں اللہ معاف فرمائے وہ سب سے بڑھ کر مہربان ہے۔ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے، حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پوتے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کے پڑ پوتے تھے۔ اس لیے اس موقع پر دونوں طرف سے بےمثال اور عظیم سے عظیم تر کردار کا مظاہرہ ہوا۔ برادران یوسف کو جب معلوم ہوا کہ یہی یوسف ہیں جن کے ساتھ ہم نے زیادتی کی تھی۔ ذرہ برابر تامل کرنے کی بجائے اللہ کی قسم اٹھا کر یوسف کی برتری کانہ صرف اعتراف کیا بلکہ نہایت عاجزی کے ساتھ اپنی زیادتی کی معافی مانگنے لگے۔ جس کے جواب میں بےمثال اور عظیم الشان اخلاق کے مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ماضی کو بھول جائیں۔ آپ پر رائی برابر بھی زیادتی نہیں ہوگی۔ نہ صرف میں آپ کو معاف کرتا ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی التجا ہے کہ وہ بھی آپ کو معاف فرمائے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کو معاف کرتے ہوئے ” لاتثریب “ کا لفظ استعمال کیا جس کا معنی یہ ہے کہ کسی کو اس طرح معاف کیا جائے کہ جس میں اشارے کنایے میں بھی طعن کا مفہوم موجود نہ ہو۔ اسی اسوہ کا مظاہرہ سرور دوعالمِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے موقع پر کیا تھا۔ سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں داخل ہو کر دو نفل ادا کیے۔ اس کے بعد بیت اللہ کے صحن میں تشریف لائے یہاں مکہ کے بڑے بڑے سردار آپ کے انتظار میں بیٹھے سوچ رہے تھے کہ نہ معلوم کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے بیت اللہ میں نماز کے دوران آپ کی گردن پر گندی اوجڑی رکھی تھی۔ آپ کے ساتھیوں پر مظالم ڈھائے تھے۔ وہ شخص بھی موجود تھا جس نے مکی دور میں آپ کو کعبہ کی چابی دینے سے انکار کیا تھا۔ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حمد وثنا کے بعد مکہ کے سرداروں کو مخاطب کر کے فرمایا ” ھل تظنون “ کیا خیال ہے کہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ مکہ کے سردار آنکھیں نیچے کر کے بڑے عاجزی سے کہتے ہیں ” انت کریم “ آپ انتہائی معزز ہیں اور عزت والے خاندان کے فرد ہیں۔ ہم آپ سے بہتر امید رکھتے ہیں۔ (عَنْ أبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) اَنَ النَبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَمَّا دَخَلَ مَکَّۃَ فَقَالَ مَنَ دَخَلَ دَارًا فَہُوَ اٰمِنٌ وَمَنْ اَلَقَی السَّلَاحَ فَہُوَ اٰمِنٌ وَعَمَدَ صَنَادِیْدَ قُرَیْشٍ فَدَخُلُوْا الْکَعْبَۃَ فَغَصَّ بِہِمْ وَطَاف النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَصَلّٰی خَلْفَ الْمَقَامِ ۔۔ أَتَی الْکَعْبَۃَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتِی الْبَابِ فَقَالَ مَا تَقُوْلُوْنَ وَمَا تَظُنُّوْنَ قَالُوْا نَقُوْلُ اِبْنَ اَخٍ وَابْنَ عَمٍّ حَلِیْمٌ رَحِیْمٌ قَالَ وَقَا لُوْا ذٰ لِکَ ثَلَا ثا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَقُوْلُ کَمَا قَالَ یُوْسُفُ (لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَہُوَ اَرْحَمُ الرّٰاحِمِیْنَ )[ السنن الکبرٰی : جزء ٩] ” حضرت ابی ہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے دن جب مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا جو اپنے گھر میں داخل ہوجائے وہ امن میں رہے گا۔ جو اسلحہ پھینک دے اسے بھی پناہ دی جائے گی۔ قریش کے سردار کعبۃ اللہ میں داخل ہوگئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طواف کعبہ کیا۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر کعبۃ اللہ کے پاس آئے اور اس کی دہلیز پکڑ کر فرمایا تم میرے متعلق کیا کہتے اور کیا خیال کرتے ہو ؟ کہنے لگے ہم کہتے ہیں آپ ہمارے بھائی کے بیٹے، چچا کے بیٹے ہیں۔ حلیم الطبع اور رحم کرنے والے ہیں۔ انہوں نے یہ الفاظ تین بار کہے۔ آپ نے فرمایا میں وہی بات کہتا ہوں جو یوسف (علیہ السلام) نے کہی تھی۔ آج کے دن کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہاری خطاؤں کو معاف فرمائے یقیناً وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ مسائل ١۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ ٢۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو معاف کردیا۔ ٣۔ بھائیوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کی۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، مہربان ہے : ١۔ اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے زیادہ مہربان ہے۔ ( یوسف : ٢٢) ٢۔ تیرا پروردگار بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ (الکہف : ٥٨) ٣۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہیں اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ : ٢١٨) ٤۔ اے رب ہمیں معاف کردے اور ہم پر رحم فرما تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ (المومنون : ١٠٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٩١ انہوں نے اپنی غلطی کا صاف صاف اقرار کرلیا۔ گناہ کا اعتراف کرلیا۔ انہوں نے جان لیا کہ اللہ نے ان پر اسے ترجیح دے دی ہے کیونکہ وہ حلیم الطبع ، متقی اور محسن تھے۔ اور ان کے اس صاف صاف اعتراف کے جواب میں حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کو تہ دل سے معاف فرماتے ہیں۔ اس طرح ان کی شرمندگی میں کمی آتی ہے اور اہل کرم کا شیوہ ہی عفو و درگزر ہوتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) جس طرح مشکلات میں کامیاب ہوئے تھے ، اسی طرح اقتدار کی آزمائش میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ یقیناً وہ محسنین میں سے ایک تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو پتہ چل گیا کہ عزیز مصر جو ہمیں غلہ دیتا رہا ہے یہ تو ہمارا بھائی یوسف ہے جسے ہم نے کنویں میں ڈالا تھا ‘ پہلے دو بار جو غلہ لینے کے لئے آئے تھے یوسف (علیہ السلام) کو نہ انہوں نے پہچانا تھا اور نہ انہیں یہ گمان تھا کہ یہ شخص ہمارا بھائی یوسف ہوسکتا ہے لیکن تیسری مرتبہ کے چکر میں جب بات کھل کر سامنے آگئی کہ یہ یوسف ہے تو آنکھیں نیچی ہوگئیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) پر جو اللہ نے احسان فرمایا اس کے اقرار کے ساتھ اپنے جرم کے اعتراف کے بغیر چارہ نہ رہا لہٰذا ان کی زبان سے یہ نکلا (تَاللّٰہِ لَقَدْ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَاِنْ کُنَّا لَخٰطِءِیْنَ ) (اللہ کی قسم اللہ نے آپ کو ہم پر ترجیح دے دی اور فضیلت اور برتری سے نواز دیا اور بلاشبہ ہم خطا کار ہیں) یہاں صرف اقرار جرم کا ذکر ہے معافی مانگنے کا ذکر نہیں ہے لیکن بلند اخلاق کریم النفس لوگوں کا بڑا حوصلہ ہوتا ہے ان کے نزدیک جرم کا اقرار کرلینا ہی معافی مانگنے کے درجے میں ہوتا ہے ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی طرف سے تو معاف کیا ہی تھا اللہ تعالیٰ سے بھی ان کے لئے مغفرت کی یوں دعا کردی (یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ ) (اللہ تمہاری مغفرت فرمائے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

77:۔ اب بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برتری اور فوقیت و فضیلت کا اقرار کیا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیا۔ ” قَالَ لَا تَثْرِیْبَ الخ “ مگر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کوئی سرزنش نہ فرمائی اور معافی کا صاف اعلان کردیا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں میں اپنا حق معاف کرتا ہوں اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

91 ۔ بھائیوں نے کہا خدا کی قسم اس میں شک نہیں کہ تجھ کو اللہ تعالیٰ نے ہم پر ترجیح دی اور ہر اعتبار سے تجھ کو ہم پر فضلیت عطا فرمائی اور ہم نے جو کچھ کیا بیشک ہم اس میں خطا وار تھے ۔ انہوں نے معذرت کے طور پر کہا کہ تم جس لائق تھے تمہارے ساتھ و ہ ہوا اور ہم نے جو کچھ کیا برا کیا تو ہم کو معاف کر دے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تیرا خواب سچ تھا اور ہمارا حسد غلط ۔ 12