Surat ur Raad

Surah: 13

Verse: 20

سورة الرعد

الَّذِیۡنَ یُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَ لَا یَنۡقُضُوۡنَ الۡمِیۡثَاقَ ﴿ۙ۲۰﴾

Those who fulfill the covenant of Allah and do not break the contract,

جو اللہ کے عہد ( و پیمان ) کو پورا کرتے ہیں اور قول و قرار کو توڑتے نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Qualities of the Blessed Ones, which will lead to Paradise Allah states that those who have these good qualities, will earn the good, final home: victory and triumph in this life and the Hereafter, الَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللّهِ وَلاَ يِنقُضُونَ الْمِيثَاقَ Those who fulfill the covenant of Allah and break not the trust. They are nothing like the hypocrites who; when one of them makes a covenant, he breaks it; if he disputes, he is most quarrelsome; if he speaks, he lies; and if he is entrusted, he betrays his trust. Allah said next,

منافق کا نفسیاتی تجزیہ ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں ۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی ، غداری اور بےوفائی کریں ۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں ۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں ، باتوں میں جھوٹ بولیں ، امانت میں خیانت کریں ۔ صلہ رحمی کا ، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا ، فقیر محتاج کو دینے کا ، بھلی باتوں کے نباہ نے کا ، جو حکم الہٰی ہے یہ اس کے عامل ہیں ۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الہٰی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں ، بدیاں چھوڑتے ہیں ۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں ، اسی لئے برائیوں سے بچتے ہیں ، نیکیوں کی رغبت کرتے ہیں ۔ اعتدال کا راستہ نہیں چھوڑتے ۔ ہر حال میں فرمان الہٰی کا لحاظ رکھتے ہیں ۔ گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں ۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں ۔ رکوع ، سجدہ ، قعدہ ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں ۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں ۔ فقرا ، محتاج ، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں ۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے ۔ چھپے کھلے ، دن رات ، وقت بےوقت ، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں ۔ قباحت کو احسان سے ، برائی کو بھلائی سے ، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں ۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں ۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے ۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں ۔ تعلیم قرآن ہے آیت ( اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۭ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ 96؀ ) 23- المؤمنون:96 ) بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا ۔ صبر کرنے والے ، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لئے اچھا انجام ہے ۔ بروج و بالا خانے وہ اچھا انجام اور بہترین گھر جنت ہے جو ہمیشگی والی اور پائیدار ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جنت کے ایک محل کا نام عدن ہے جس میں بروج اور بالا خانے ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں ، ہر دروازے پر پانچ ہزار فرشتے ہیں ۔ وہ محل مخصوص ہے نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے لئے ۔ ضحاک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ جنت کا شہر ہے جس میں انبیا ہوں گے شہداء ہوں گے اور ہدایت کے ائمہ ہوں گے ۔ ان کے آس پاس اور لوگ ہوں گے اور ان کے ارد گرد اور جنتیں ہیں وہاں یہ اپنے اور چہیتوں کو بھی اپنے ساتھ دیکھیں گے ۔ ان کے بڑے باپ دادے ، ان کے چھوٹے بیٹے پوتے ، ان کے جوڑے جو بھی ایماندار اور نیکو کار تھے ان کے پاس ہوں گے اور راحتوں سے مسرور ہوں گے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی ۔ یہاں تک کہ اگر کسی کے عمل اس درجہ بلند تک پہنچنے کے قابل نہ بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درجے بڑھا دے گا جیسے آیت ( وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21؀ ) 52- الطور:21 ) جن ایمانداروں کی اولاد ان کی پیروی ایمان میں کرتی ہے ہم انہیں بھی ان کے ساتھ ملا دیتے ہیں ان کے پاس مبارک باد اور سلام کے لئے ہر ہر دروازے سے ہر وقت فرشتے آتے رہتے ہیں یہ بھی اللہ کا انعام ہے تاکہ یہ ہر وقت خوش رہیں اور بشارتیں سنتے رہیں ۔ نبیوں ، صدیقوں ، شہیدوں کا پڑوس ، فرشتوں کا سلام اور جنت الفردوس مقام ۔ مسند کی حدیث میں ہے جانتے بھی ہو کہ سب سے پہلے جنت میں کون جائیں گے ؟ لوگوں نے کہا اللہ کو علم ہے اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا سب سے پہلے جنتی مساکین مہاجرین ہیں جو دنیا کی لذتوں سے دور تھے جو تکلیفوں میں مبتلا تھے جن کی امنگیں دلوں میں ہی رہ گئیں اور قضا آ گئی ۔ رحمت کے فرشتوں کو حکم الہٰی ہو گا کہ جاؤ انہیں مبارک باد دو فرشتے کہیں گے اللہ ہم تیرے آسمانوں کے رہنے والے تیری بہترین مخلوق ہیں کیا تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم جا کر انہیں سلام کریں اور انہیں مبارک باد پیش کریں جناب باری جواب دے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے صرف میری عبادت کی میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا دنیوی راحتوں سے محروم رہے مصیبتوں میں مبتلا رہے کوئی مراد پوری ہونے نہ پائی اور یہ صابر و شاکر رہے اب تو فرشتے جلدی جلدی بصد شوق ان کی طرف دوڑیں گے ادھر ادھر کے ہر ایک دروازے سے گھسیں گے اور سلام کر کے مبارک پیش کریں گے طبرانی میں ہے کہ سب سے پہلے جنت میں جانے والے تین قسم کے لوگ ہیں فقراء مہاجرین جو مصیبتوں میں مبتلا رہے ، جب انہیں حکم ملا بجا لاتے رہے ، انہیں ضرورتیں بادشاہوں سے ہوتی تھیں لیکن مرتے دم تک پوری نہ ہوئیں ۔ جنت کو بروز قیامت اللہ تعالیٰ اپنے سامنے بلائے گا وہ بنی سنوری اپنی تمام نعمتوں اور تازگیوں کے ساتھ حاضر ہو گی اس وقت ندا ہوگی کہ میرے وہ بندے جو میری راہ میں جہاد کرتے تھے ، میری راہ میں ستائے جاتے تھے ، میری راہ میں لڑتے بھڑتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ آؤ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں چلے جاؤ ۔ اس وقت فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے اور عرض کریں گے کہ پروردگار ہم تو صبح شام تیری تسبیح وتقدیس میں لگے رہے یہ کون ہیں جنہیں ہم پر بھی تو نے فضیلت عطا فرمائی ؟ اللہ رب العزت فرمائے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا میری راہ میں تکلیفیں برداشت کیں ۔ اب تو فرشتے جلدی کر کے ان کے پاس ہر ایک دروازے سے جا پہنچیں گے سلام کریں گے اور مبارک بادیاں پیش کریں گے کہ تمہیں تمہارے صبر کا بدلہ کتنا اچھا ملا ۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مومن جنت میں اپنے تخت پر با آرام نہایت شان سے تکیہ لگائے بیٹھا ہوا ہو گا خادموں کی قطاریں ادھر ادھر کھڑی ہوں گی جو دروازے والے خادم سے فرشتہ اجازت مانگے گا وہ یکے بعد دیگرے پوچھے گا یہاں تک کہ مومن سے پوچھا جائے گا ۔ مومن اجازت دے گا کہ اسے آنے دو یونہی ایک دوسرے کو پیغام پہنچائے گا اور آخری خادم فرشتے کو اجازت دے گا اور دروازہ کھول دے گا ۔ وہ آئے گا اور سلام کرے گا اور چلا جائے گا ۔ ایک روایت میں ہے کہ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال کے آخر پر شہداء کی قبروں پر آتے اور کہتے آیت ( سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ 24؀ۭ ) 13- الرعد:24 ) اور اسی طرح ابو بکر عمر عثمان بھی رضی اللہ عنہم ( اس کی سند ٹھیک نہیں )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

20۔ 1 یہ اہل دانش کی صفات بیان کی جا رہی ہیں، اللہ کے عہد سے مراد، اس کے احکام (اوامرو نواہی) ہیں جنہیں بجا لاتے ہیں۔ یا وہ عہد ہے، جو عَھْدِ الَسْت کہلاتا ہے، جس کی تفصیل سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔ 20۔ 2 اس سے مراد وہ باہمی معاہدے اور وعدے ہیں جو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں یا وہ جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ ۔۔ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عقلوں والوں کی چند صفات بیان فرمائیں۔ ان میں سب سے پہلی صفت اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد توحید کو پورا کرنا ہے، جیسا کہ سورة اعراف (١٧٢) میں ہے۔ ” وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ “ سے ہر اس عہد کو توڑنے سے اجتناب کرنا مراد ہے جسے پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ پہلے خاص اپنے عہد کے بعد اب عام عہد کا ذکر فرمایا۔ ان منافقین کی طرح نہیں جن میں سے کوئی جب عہد کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے، جب جھگڑتا ہے تو بدکلامی پر اتر آتا ہے، جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب اسے کوئی امانت سونپی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

الَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللَّـهِ (those who fulfill [ their ] pledge with Allah). It covers all promises and pledges taken by Allah Ta` ala from His servants, the very first of which was the Divine Covenant taken in eternity before an assembly of all spirits, that is: اَلَستُ بِرَبِّکُم (Am I not your Lord?) in answer to which, everyone had unanimously said: بَلٰی (Yes, why not? Surely, You are our Lord). Similarly, the different pledges taken by Allah Ta` ala regarding the obedience of Divine injunctions, fulfillment of assigned duties, abstinence from things impermissible as ordered by Allah have been mentioned in different verses of the Qur’ an. The second attribute mentioned here is: وَلَا يَنقُضُونَ الْمِيثَاقَ (and they do not break the covenant). It includes all covenants, including pledges between Allah and His servants which have been pointed out right here in the first sentence as: عَهْدِ اللَّـهِ (their pledges with Allah). Also included here are the pledges given by the people of a religious community to their prophet or messenger, as well as the contracts and pacts which one human being enters into with the other. Based on a narration by Sayyidna ` Awf ibn Malik (رض) ، Abu Dawud has reported that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took a pledge (Ahd and Bay&ah) from the noble Sahabah that they would not associate anyone with Al¬lah, and perform Salah punctually five times every day, and obey their authorities, and would never stretch their hands for anything before any human being. People who were parties to this solemn pledge were so true to their word of honour that, should they happen to drop their whip from their hand while riding, they would never ask anyone to pick up and hand over that whip to them. Instead of that, they would get down from their mount and pick it up themselves. That the noble Sahabah did so was the result of the great feeling of love and the passionate desire to obey their master in their hearts. Oth¬erwise, it was fairly obvious that he had never intended to stop them from making a request of this nature. This is very much like what hap¬pened when Sayyidna ` Abdullah ibn Masud (رض) was entering the Masjid on a certain occasion. He saw that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was addressing a gathering. It was only by chance that, at the time he was entering the Masjid, the words: &Sit down& happened to have been uttered by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as part of his address. Sayyidna ` Abdullah ibn Masud (رض) knew that this never meant that anyone, no matter where, should sit down on the street, passage way, or a spot not suitable for the purpose. But, such was his passion for obedience that it did not allow him to take even one step forward from outside the Masjid gate where he was. Just as these words of his master struck his ears, he sat down right there.

تیسری آیت سے ان دونوں فریق کے خاص اعمال اور علامات کا بیان شروع ہوا ہے پہلے احکام الہیہ کے ماننے والوں کی صفات یہ ذکر فرمائی ہیں (آیت) الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں مراد اس سے وہ تمام عہد و پیمان ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے لئے ہیں جن میں سب سے پہلا ربوبیت ہے جو ازل میں تمام ارواح کو حاضر کرکے لیا گیا تھا اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ یعنی کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں جس کے جواب میں سب نے یک زبان ہو کر کہا تھا بلی یعنی کیوں نہیں آپ ضرور ہمارے رب ہیں اسی طرح تمام احکام الہی کی اطاعت تمام فرائض کی ادائیگی اور ناجائز چیزوں سے اجتناب کی منجانب اللہ وصیت اور بندوں کی طرف سے اس کا اقرار مختلف آیات قرآن میں مذکور ہے دوسری صفت وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ ہے یعنی وہ کسی عہد ومیثاق کی خلاف ورزی نہیں کرتے اس میں وہ عہد و پیمان بھی داخل ہیں جو بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہیں جن کا ذکر ابھی پہلے جملے میں عَهْدِ اللّٰهِ کے الفاظ سے کیا گیا ہے اور وہ عہد بھی جو امت کے لوگ اپنے نبی و رسول سے کرتے ہیں اور وہ معاہدے بھی جو ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ کرتا ہے، ابوداؤد نے بروایت عوف ابن مالک یہ حدیث نقل کی ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) اجمعین سے اس پر عہد اور بیعت لی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے اور پانچ وقت نماز کو پابندی سے ادا کریں گے اور اپنے امراء کی اطاعت کریں گے اور کسی انسان سے کسی چیز کا سوال نہ کریں گے۔ جو لوگ اس بیعت میں شریک تھے ان کا حال پابندی عہد میں یہ تھا کہ اگر گھوڑے پر سواری کے وقت ان کے ہاتھ سے کوڑا گر جاتا تو کسی انسان سے نہ کہتے کہ یہ کوڑا اٹھا دو بلکہ خود سواری سے اتر کر اٹھاتے تھے، یہ صحابہ کرام (رض) اجمعین کے دلوں میں آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت و عظمت اور جذبہ اطاعت کا اثر تھا ورنہ یہ ظاہر تھا کہ اس طرح کے سوال سے منع فرمانا مقصود نہ تھا جیسے حضرت عبداللہ ابن مسعود ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہو رہے تھے دیکھا کہ آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دے رہے ہیں اور اتفاق سے ان کے دخول مسجد کے وقت آپ کی زبان مبارک سے یہ کلمہ نکلا کہ بیٹھ جاؤ عبداللہ بن مسعود جانتے تھے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سڑک پر یا بےموقع کسی جگہ کوئی ہے تو وہیں بیٹھ جائے مگر جذبہ اطاعت نے ان کو آگے قدم بڑھانے نہ دیا دروازہ سے باہر ہی جہاں یہ آواز کان میں پڑی اسی جگہ بیٹھ گئے احکام و ہدایات : مذکورہ آیات میں انسانی زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق خاص خاص احکام و ہدایات آئی ہیں بعض صراحۃ اور بعض اشارۃ مثلا۔ ١ الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ سے ثابت ہوا کہ جو معاہدہ کسی سے کرلیا جائے اس کی پابندی فرض اور اس کی خلاف ورزی حرام ہے خواہ وہ معاہدہ اللہ اور رسول سے ہو جیسے ایمانی یا مخلوقات میں کسی سے ہو خواہ مسلمان سے یا کافر سے عہد شکنی بہرحال حرام ہے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ 20۝ۙ وفی پورا الوَافِي : الذي بلغ التّمام . يقال : درهم وَافٍ ، وكيل وَافٍ ، وأَوْفَيْتُ الكيلَ والوزنَ. قال تعالی: وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] ( و ف ی) الوافی ۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے : درھم واف کیل واف وغیرہ ذالک اوفیت الکیل والوزن میں نے ناپ یا تول کر پورا پورا دیا ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا پھرا کرو ۔ عهد العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً. قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] ( ع ھ د ) العھد ( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی ۔ یعنی اپنی قسموں کے عہد پورے کرو ۔ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] کہ ظالموں کے حق میں میری ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی ۔ نقض النَّقْضُ : انْتِثَارُ العَقْدِ مِنَ البِنَاءِ والحَبْلِ ، والعِقْدِ ، وهو ضِدُّ الإِبْرَامِ ، يقال : نَقَضْتُ البِنَاءَ والحَبْلَ والعِقْدَ ، وقد انْتَقَضَ انْتِقَاضاً ، والنِّقْضُ المَنْقُوضُ ، وذلک في الشِّعْر أكثرُ ، والنَّقْضُ كَذَلِكَ ، وذلک في البِنَاء أكثرُ «2» ، ومنه قيل للبعیر المهزول : نِقْضٌ ، ومُنْتَقِض الأَرْضِ من الكَمْأَةِ نِقْضٌ ، ومن نَقْضِ الحَبْل والعِقْد استُعِيرَ نَقْضُ العَهْدِ. قال تعالی: الَّذِينَ عاهَدْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ [ الأنفال/ 56] ، الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ [ البقرة/ 27] ، ( ن ق ض ) النقض یہ ابرام کی ضد ہے اور اس کے معنی کسی چیز کا شیزازہ بکھیرنے کے ہیں جیسے نقضت البناء عمارت کو ڈھانا الحبل رسی کے بل اتارنا العقد گرہ کھولنا النقج والنقض یہ دونوں بمعنی منقوض آتے ہیں لیکن بکسر النون زیادہ تر عمارت کے لئے آتا ہے اور بفتح النون کا عام استعمال اشعار کے متعلق ہوتا ہے اسی سے دبلے اونٹ اور زمین کی پرت کو جو کھمبی وغیرہ کے نکلنے سے پھٹ جاتی ہے نقض کہا جاتا ہے پھر نقض الحبل والعقد سے استعارہ کے طور پر عہد شکنی کے لئے بھی نقض کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں ۔ الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ [ البقرة/ 27] جو خدا کے اقرار کو ۔۔۔۔ توڑ دیتے ہیں ۔ اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو ان کو نہ توڑو ۔ وَلا تَنْقُضُوا الْأَيْمانَ بَعْدَ تَوْكِيدِها[ النحل/ 91] وثق وَثِقْتُ به أَثِقُ ثِقَةً : سکنت إليه واعتمدت عليه، وأَوْثَقْتُهُ : شددته، والوَثَاقُ والوِثَاقُ : اسمان لما يُوثَقُ به الشیء، والوُثْقَى: تأنيث الأَوْثَق . قال تعالی: وَلا يُوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ [ الفجر/ 26] ، حَتَّى إِذا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ [ محمد/ 4] والمِيثاقُ : عقد مؤكّد بيمين وعهد، قال : وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثاقَ النَّبِيِّينَ [ آل عمران/ 81] ، وَإِذْ أَخَذْنا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثاقَهُمْ [ الأحزاب/ 7] ، وَأَخَذْنا مِنْهُمْ مِيثاقاً غَلِيظاً [ النساء/ 154] والمَوْثِقُ الاسم منه . قال : حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقاً مِنَ اللَّهِ إلى قوله : مَوْثِقَهُمْ [يوسف/ 66] ( و ث ق ) وثقت بہ اثق ثقتہ ۔ کسی پر اعتماد کرنا اور مطمئن ہونا ۔ اوثقتہ ) افعال ) زنجیر میں جکڑنا رسی سے کس کر باندھنا ۔ اولوثاق والوثاق اس زنجیر یارسی کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کو کس کو باندھ دیا جائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلا يُوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ [ الفجر/ 26] اور نہ کوئی ایسا جکڑنا چکڑے گا ۔ حَتَّى إِذا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ [ محمد/ 4] یہ ان تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو ( جو زندہ پکڑے جائیں ان کو قید کرلو ۔ المیثاق کے منیق پختہ عہدو پیمان کے ہیں جو قسموں کے ساتھ موکد کیا گیا ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثاقَ النَّبِيِّينَ [ آل عمران/ 81] اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا ۔ وَأَخَذْنا مِنْهُمْ مِيثاقاً غَلِيظاً [ النساء/ 154] اور عہد بھی ان سے پکالیا ۔ الموثق ( اسم ) پختہ عہد و پیمان کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقاً مِنَ اللَّهِ إلى قوله : مَوْثِقَهُمْ [يوسف/ 66] کہ جب تک تم خدا کا عہد نہ دو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٠۔ ٢١) اور یہ حضرات خداوندی کی پوری طرح بجاآوری کرتے ہیں اور کبھی فرائض خداوندی کی ادائیگی کو ترک نہیں کرتے اور صلہ رحمی کرتے ہیں یا رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لانے پر قائم رہتے ہیں اور اپنے پروردگار کے حکم کی بجا آوری کرتے ہیں اور عذاب کی سختی سے ڈرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠ (الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ ) قبل ازیں سورة البقرۃ کی آیت ١٧٧ میں بھی ہم ان سے ملتے جلتے یہ الفاظ پڑ ھ آئے ہیں : (وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰہَدُوْا) ۔ اللہ کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں سے ایک تو وہ عہد الست ہے (بحوالہ الاعراف : ١٧٢) جو ہم نے عالم ارواح میں اللہ کے ساتھ کیا ہے پھر ہر بندۂ مؤمن کا میثاق شریعت ہے کہ میں اللہ کے تمام احکامات کی تعمیل کروں گا۔ پھر اللہ کا مؤمن کے ساتھ کیا گیا وہ سودا بھی ایک عہد ہے جس کا ذکر سورة التوبہ۔ آیت ١١١ میں ہے اور جس کے مطابق اللہ نے مؤمنین کے جان و مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ آیت زیر نظر میں یہ ان خوش قسمت لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ کے ساتھ کیے گئے تمام عہد درجہ بدرجہ پورے کرتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

37. This covenant is the same that was made by Allah with the entire mankind at the beginning of the creation that they would worship Him alone. (Refer to (E.Ns 134 and 135 of Surah Al-Aaraf). As this covenant has been made with every human being, it has been imbued firmly in human nature. When a human being is born in this world, he, so to say, confirms the same covenant because he owes his creation to the same Allah with Whom he had made that covenant. Then he is brought up by His Provider and fed and nourished with His provisions, and uses the powers and faculties endowed by Him. All these things bind him by themselves into a covenant of bondage with his Lord. It is obvious that wise, loyal and faithful people fulfill their covenant and dare not break it except that they might break it unconsciously and unwillingly.

سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :37 اس سے مراد وہ ازلی عہد ہے جو اللہ تعالی نے ابتدائے آفرینش میں تمام انسانوں سے لیا تھا کہ وہ صرف اسی کی بندگی کریں گے ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ اعراف ، حاشیہ نمبر ۱۳٤ و ۱۳۵ ) ۔ یہ عہد ہر انسان سے لیا گیا ہے ، ہر ایک کی فطرت میں مضمر ہے ، اور اسی وقت پختہ ہو جاتا ہے جب آدمی اللہ تعالی کی تخلیق سے وجود میں آتا ہے اور ربوبیت سے پرورش پاتا ہے ۔ خدا کے رزق سے پلنا ، اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے کام لینا اور اس کی بخشی ہوئی قوتوں کو استعمال کرنا آپ سے آپ انسان کو خدا کے ساتھ ایک میثاق بندگی میں باندھ دیتا ہے جسے توڑنے کی جرأت کوئی ذی شعور اور نمک حلال آدمی نہیں کر سکتا ، الا یہ کہ نادانستہ کبھی احیانا اس سے کوئی لغزش ہو جائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٠۔ ٢١۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے ذکر میں دو مثالیں بیان فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ اگرچہ ہر طرح کی نصیحت قرآن شریف میں ہے لیکن وہ نصیحت ان ہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے عہد کا خیال ہے کہ شریعت میں جس چیز کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اس کو بجا لانے کا عہد اور جس سے باز رہنے کا ارشاد فرمایا ہے اس سے باز رہنے کے عہد کو وہ لوگ پورا کرتے ہیں اور جس طرح یوم المیثاق میں اللہ تعالیٰ نے توحید پر قائم رہنے کا اور رسولوں کی فرمانبرداری کرنے کا اور کتب آسمانی کے پابندی کرنے کا عہد لیا ہے شریعت کو اس عہد کے یاد دلانے والی ایک چیز جان کر نہ منافقوں کی طرح ان لوگوں کی یہ عادت ہے کہ زبان سے تو شریعت کی پابندی کا اقرار ہے اور دل میں اس اقرار کا کچھ بھی اثر نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب و کتاب ہونے سے ڈر کر جو کچھ کرتے ہیں اس کا اثر دل و زبان دونوں پر یکساں ہے اور نہ ان لوگوں کی عادت ریا کاروں کی سی ہے کہ شریعت کا کام دنیا کے دکھاوے کو کریں بلکہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ کی خوشنودی اور ثواب آخرت کی نیت سے کرتے ہیں اور کوئی برا کام شامت نفس سے چھوٹا یا بڑا ہوجاوے تو بڑے گناہ کو توبہ و استغفار سے اور چھوٹے گناہ کو آئندہ کی نیکی سے غرض ہر طرح اس برائی کے دھبہ کو مٹا دیتے ہیں کوئی مصیبت آزمائش کے طور پر خدا کی طرف سے آوے تو اس کے جھیلنے میں اور گناہ کی طرف جی للچاوے تو جی کے روکنے میں اور امر الٰہی کے بجا لانے میں کسی طرح کی تکلیف پیش آوے تو اس تکلیف کی برداشت کرنے میں صابر رہتے ہیں اسی طرح آٹھ نو وصف ایسے لوگوں کے ذکر فرما کر پھر فرمایا کہ اہل جنت یہی لوگ ہیں اور پھر جنت کی نعمتیں ذکر فرمائیں اور ان اہل جنت کی عادتوں کے برخلاف عادت کے جو لوگ دنیا میں ہیں اخیر رکوع تک پھر ان کا ذکر فرمایا غرض ان آیتوں میں اچھی اور بری دونوں عادتوں کا ذکر ہے قرآن شریف کی تلاوت اور قرآن شریف کا ترجمہ پڑھتے وقت ہر شخص کو چاہیے کہ اچھی حالت پر ذرا خیال جمادے کہ اس میں ان عادتوں میں سے کون سی عادتیں ہیں اور کوئی عادت بری ہو تو اس کے چھوڑنے کی کوشش کرے اور اچھی عادت پر قائم رہنے میں مضبوط رہے۔ معتبر سند سے ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس (رض) کی حدیث گزر چکی ہے ١ ؎ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقلمند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے موت کے ما بعد کے لئے کچھ سامان کر لیوے صحیح بخاری مسلم کے حوالہ سے معاذ بن جبل (رض) کی حدیث بھی گزر چکی ہے کہ اللہ کا حق ہر ایک بندہ پر توحید کے عہد کو پورا کرنا اور بندوں کا حق اللہ پر ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کرنا ہے۔ ٢ ؎ صحیح بخاری میں ابو ایوب انصاری (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلہ رحمی کرنے والوں کو جنتی فرمایا ہے ٣ ؎ اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے خوف سے جس شخص نے اپنی لاش کے جلانے اور آدھی خاک کو ہوا میں اڑانے اور آدھی کو دریا میں بہا دینے کی وصیت کی تھی اس کی مغفرت کے باب میں صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری (رض) کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے ٤ ؎ آیتوں میں ترتیب وار جن لوگوں کا ذکر ہے یہ حدیثیں ان لوگوں کے حال کی گویا تفسیر ہیں رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کو صلہ رحمی کہتے ہیں اسی صلہ رحمی کا ترجمہ شاہ صاحب نے ” جوڑنا کیا “ ہے جس سے مطلب رشتہ داروں کے ساتھ میل جول اور حسن سلوک کا ہے۔ ١ ؎ تفسیر ہذا جلد دوم ص ٢٢٢۔ ٢ ؎ صحیح بخاری ص ٨٨٢ ج ٢ آخر کتاب اللباس۔ ٣ ؎ صحیح بخاری ص ٨٨٥ ج ٢ باب فضل صلۃ الرحم ٤ ؎ جلد ہذا ص ٢١٨۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(13:20) یؤفون۔ پورا کرتے ہیں۔ وفا کرتے ہیں۔ (اللہ کے ساتھ کئے گئے وعدہ کو) پورا کرتے ہیں۔ المیثاق۔ پختہ عہد۔ پیمان ۔ وعدہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 ۔ یعنی ہر وہ عہد جس کے پورا کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے یا خاص کر وہ عہد جو ازل میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے لیا تھا کہ وہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ دیکھئے اعترا آیات 271 (روح) ۔ 12 ۔ یعنی وہ ان منافقین کی طرح نہیں ہیں جن میں سے کوئی جب عہد کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے، جب جھگڑتا ہے تو بدکلامی پر اتر آتا ہے اور جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب سے کوئی امانت سونپی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں عقیدہ توحید کے دلائل دیے گئے ہیں۔ توحید کا عقیدہ اللہ تعالیٰ سے انسان ایک عہد ہے۔ صاحب بصیرت اور حقیقی سمجھ رکھنے والے لوگ اس عہد کی پاسداری کرتے ہیں۔ صاحب بصیرت اور عقل سلیم رکھنے والوں کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے مضبوط عہد کا ایفا کرتے ہیں اور اسے کسی صورت بھی ٹوٹنے نہیں دیتے۔ اس عہد سے مراد پہلا عہد وہ ہے جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے اے انسان جب تیرے رب نے بنی نوع انسان کی پشت سے نسل درنسل اس کی اولاد کو پیدا کیا اور ان کو انہی کے اوپر گواہ بناتے ہوئے استفسار فرمایا کہ ” کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ “ آدم (علیہ السلام) کی ساری کی ساری اولاد نے اپنے رب کے حضور یہ اعتراف کیا۔ ” کیوں نہیں آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ ہم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ گواہی لینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس عہد کو یاد رکھنا اور اس پر پکے رہنا کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کہو کہ ہمیں تو اس عہد کی کوئی خبر نہیں۔ “ (سورۃ الاعراف : ١٧٢) اسی عہد کا یہاں اختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو لوگ اس عہد یعنی توحید کی گواہی پر پکے رہے اور اس میں کوئی نقص نہیں آنے دیتے، یہ لوگ صاحب بصیرت اور صحیح عقل کے مالک ہیں۔ یہی وہ عہد ہے جس کا اقرار کرتے ہوئے آدمی حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اور اس کے تقاضے پورے کرنے سے مسلمان کی زندگی کے تمام زاویے صحیح سمت پر قائم رہتے ہیں۔ جس کو موت کے وقت اس کا اقرار نصیب ہوا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اس عہد کے ساتھ لوگوں سے کیے ہوئے عہد کی پابندی بھی فرض ہے۔ جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی یا کسی غیر مسلم کے ساتھ انفرادی یا اجتماعی سطح پر کرتے ہیں۔ (عَنْ أَنَسٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ یَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَال لاآ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، وَفِیْ قَلْبِہٖ وَزْنُ شَعِیْرَۃٍ مِّنْ خَیْرٍ ، وَیَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَال لاآ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَفِی قَلْبِہٖ وَزْنُ بُرَّۃٍ مِّنْ خَیْرٍ ، وَیَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَال لاآ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، وَفِیْ قَلْبِہٖ وَزْنُ ذَرَّۃٍ مِّنْ خَیْرٍ )[ رواہ البخاری، کتاب الایمان، باب زِیَادَۃِ الإِیمَانِ وَنُقْصَانِہِ ] ” حضرت انس (رض) نبی کریم سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ جہنم سے نجات پا گیا جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں جو کی مقدار کے برابر بھی بھلائی ہوگی۔ جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں چاول کے کے برابر بھلائی ہوگی وہ بھی جہنم سے نکل گیا۔ جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا، اس کے دل میں رائی کے ذرے کے برابر بھی بھلائی ہوگی تو وہ بھی جہنم سے چھٹکارا پا گیا۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِلاَّ قَال لاآ إِیْمَانَ لِمَنْ لاّآأَمَانَۃَ لَہٗ وَلا دینَ لِمَنْ لاَّ عَہْدَ لَہٗ )[ رواہ أحمد ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا آپ نے فرمایا اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور جو عہد کی پاسداری نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔ “ (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَآءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ۔ وَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَآءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِّنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ )[ رواہ مسلم ] ” حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی دبر کے قریب جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا ‘ جو اس کی عہد شکنی کے مطابق بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت سے بڑھ کر کسی کی عہد شکنی نہیں ہوتی۔ “ مسائل ١۔ عقیدۂ توحید اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کی پاسداری کرنی چاہیے۔ ٣۔ عہد کو توڑنا نہیں چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے عہد سے پہلی مراد عقیدہ توحید ہے : ١۔ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اسے توڑتے نہیں۔ (الرعد : ٢٠) ٢۔ اللہ نے نسل انسانی سے اپنی ربوبیت کا عہد لے رکھا ہے۔ (الاعراف : ١٧٢) ٣۔ اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ (الانعام : ١٥٢) ٤۔ اللہ کا وعدہ پورا کرو۔ (البقرۃ : ٤٠) ٥۔ اللہ کے عہد کا پورا کرنا فرض ہے۔ (النحل : ٩١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٢٠ اللہ کا عہد مطلق ہے ، اس سے وہ تمام عہد مراد ہیں جو اللہ کے ہیں اور میثاق بھی مطلق ہے اور اس سے مراد بھی وہ تمام میثاق ہیں جو اللہ کے ساتھ کئے گئے۔ سب سے بڑا عہد ، عہد ایمانی ہے کیونکہ دوسرے تمام عہد اس کا نتیجہ اور اس کے تقاضے ہیں۔ سب سے بڑا میثاق یہ کہ ہم ایمان کے تقاضے پورے کریں گے۔ عہد ایمان قدیم بھی ہے اور جدید بھی ہے۔ قدیم عہد وہ ہے جو فطرت انسانی کے ساتھ مربوط ہے اور اس کا تعلق ناموس کائنات سے ہے ، جس کے مطابق یہ پوری کائنات چلتی ہے اور فطرت انسانی براہ راست اس واحد ارادے کا ادراک کرلیتی ہے جس سے یہ کائنات پیدا ہوئی اور اس بات کا یقین کرتی ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے اور وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی بندگی کی جائے۔ یہ فطری میثاق وہ ہے جو تمام انسانوں سے لیا گیا ہے جبکہ وہ آدم کی پشت میں تھے ، اپنے محل پر ہم نے عہد الست کی یہی تفسیر پسند کی ہے۔ پھر اس عہد کی تجدید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ہوتی ہے جن کو اللہ نے امتوں کے لئے بھیجا اس لیے نہیں کہ وہ کوئی جدید عہد لیں بلکہ اس لیے کہ وہ یاددہانی کرائیں اسی عہد الست کی اور اس کی تفسیر اور تشریح لوگوں کے سامنے کریں ۔ وہ لوگوں کو بتائیں کہ اس عہد کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ صرف اللہ کی بندگی کریں اور اللہ کے سوا تمام دوسروں کی بندگی کا جوا اپنی گردن سے اتار پھینکیں اور علم صالح اور راہ راست پر چلنے کا مضبوط رویہ اختیار کریں۔ ہر معاملے میں اللہ وحدہ کی طرف رجوع کریں جس کے ساتھ انسانوں نے اصل عہد کیا ہوا ہے۔ اس عطیم عہد الٰہی کے حکم ہی میں بعد میں آنے والے عہد ہیں ، خواہ وہ عہد و میثاق انسانوں کے ساتھ ہو۔ رسولوں کے ساتھ ہو ، عوام الناس کے ساتھ ہو ، قریب کے رشتہ داروں کے ساتھ ہو ، امراء کے ساتھ ہو یا جماعتوں کے ساتھ ہو۔ چناچہ جو شخص عہد اول اور میثاق اول کی فکر کرے گا وہ تمام دوسرے مواثیق کی رعایت کرے گا کیونکہ تمام عہودو مواثیق پر عمل کرنا ایک فریضہ ہے۔ جو شخص عہد اول کا پاس رکھتا ہے وہ دوسرے عہود کا بھی پاس رکھے گا کیونکہ یہ تمام عہد اسی کے ذیل میں آتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

25:۔ یہ اولوا الالباب کی صفت ہے اور اس میں جماعت مبشرہ کے اوصاف مذکور ہیں۔ عَھْدَ اللہ سے اللہ تعالیی کی توحید اور اس کے احکام مراد ہیں ای بجمیع عھود اللہ وھی اوامرہ ونواھیہ التی وصی بھا عبیدہ (قرطبی ج 9 ص 307) ۔ یا اس سے توحید اور دین حق کے وہ دلائل مراد ہیں جو ان کی فطرتِ سلیمہ میں ودیعت ہیں۔ و عن القفال حملہ علی ما فی جبلتھم و عقولھم من دلائل التوحید والنبوات الی غیر ذلک (روح ج 13 ص 139) ۔ ابتغاء مفعول لہٗ ہے وہ مصائب و بلیات میں جزع فزع کا اظہار نہیں کرتے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صبر و استقامت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ ” وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسنَۃِ السَّیِّئَۃَ “ وہ اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیتے بلکہ برائی کا بدلہ احسان سے دیتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

20 ۔ یہ اہل خرد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور عہد شکنی نہیں کرتے۔ یعنی جو عہد اللہ تعالیٰ سے انہوں نے کیا ہے اس کا یفا کرتے ہیں اور اسکو توڑتے نہیں ۔