Surat ur Raad

Surah: 13

Verse: 39

سورة الرعد

یَمۡحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثۡبِتُ ۚ ۖ وَ عِنۡدَہٗۤ اُمُّ الۡکِتٰبِ ﴿۳۹﴾

Allah eliminates what He wills or confirms, and with Him is the Mother of the Book.

اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے ، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاء ... Allah blots out what He wills, of the divinely revealed Books, ... وَيُثْبِتُ ... and confirms, until the Qur'an, revealed from Allah to His Messenger peace be upon him, abrogated them all. Mujahid commented; يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاء وَيُثْبِتُ (Allah blots out what He wills and confirms (what He wills). "Except life and death, misery and happiness (i.e., faith and disbelief), for they do not change." Mansur said that he asked Mujahid, "Some of us say in their supplication, `O Allah! If my name is with those who are happy (believers), affirm my name among them, and if my name is among the miserable ones (disbelievers), remove it from among them and place it among the happy ones." Mujahid said. "This supplication is good." I met him a year or more later and repeated the same question to him and he recited these Ayat, إِنَّأ أَنزَلْنَـهُ فِى لَيْلَةٍ مُّبَـرَكَةٍ We sent it (this Qur'an) down on a blessed night. (44:3) Mujahid commented next, "During Laylatul-Qadr (Night of the Decrees), Allah decides what provisions and disasters will occur in the next year of. He then brings forward or back (or blots out) whatever He wills. As for the Book containing the records of the happy (believers) and the miserable (disbelievers), it does not change." Al-A`mash narrated that Abu Wa'il, Shaqiq bin Salamah said that he used to recite this supplication often, "O Allah, if You wrote us among the wretched ones, remove this status from us and write us among the blessed ones. If You wrote us among the blessed ones, please let us stay that way, for surely, You blot out and confirm what You will, and with You is the Mother of the Book." Ibn Jarir At-Tabari collected this. Similar statements were collected from Umar bin Al-Khattab and Abdullah bin Mas`ud, indicating that Allah blots out (or abrogates) and affirms what He wills in the Book of Records. What further supports this meaning is that Imam Ahmad recorded that Thawban said that the Messenger of Allah said, إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ وَلاَ يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلاَّ الدُّعَاءُ وَلاَ يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلاَّ الْبِر A man might be deprived of a provision (that was written for him) because of a sin that he commits; only supplication changes Al-Qadar (Predestination); and only Birr (righteousness) can increase the life span." An-Nasa'i and Ibn Majah collected this Hadith. There is also a Hadith recorded in the Sahih that affirms that; maintaining the ties of the womb increases the life span. يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاء وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ Allah blots out what He wills and confirms (what He wills). And with Him is the Mother of the Book. Al-Awfi reported that Ibn Abbas said about Allah's statement, "A man might work in Allah's obedience for a while but he reverts to the disobedience of Him and then dies while misguided. This is what Allah blots out, while what He confirms is a man who works in His disobedience, but since goodness was destined for him, he dies after reverting to the obedience of Allah. This is what Allah confirms." It was also reported that Sa`id bin Jubayr said that this Ayah is in the meaning of another Ayah, فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَأءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَأءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ Then He forgives whom He wills and punishes whom He wills. And Allah is able to do all things. (2:284)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

39۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ ہیں وہ جس حکم کو چاہے منسوخ کردے اور جسے چاہے باقی رکھے۔ دوسرے معنی یہ ہیں اس نے جو تقدیر لکھ رکھی ہے، اس میں محو و اثبات کرتا رہتا ہے، اس کے پاس لوح محفوط ہے۔ اس کی تائید بعض احادیث و آثار سے ہوتی ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں آتا ہے کہ ' آدمی گناہوں کی وجہ سے رزق سے محروم کردیا جاتا ہے، دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے اور صلہ رحمی سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے (مسند احمد جلد۔ 5 ص۔ 277) بعض صحابہ سے یہ دعا منقول ہے (اللَّھُمَّ اِنْ کُنْتَ کَتَبْتَّنَا اٰشْقِیَاءَ فَامْحُنَا وَاَکْتُبْنَا سُعَدَاءَ وَاِنَّ کُنْتَ کَتَبْتَنَا سُعَدَاءَ فَائُبِسْتُنَا فَاِنَّکَ تَمْحُوْ مَا تَشَآءُ وَ تُثْبْتُ وَ عِنْدَکَ اُ مُّ الْکِتَابِ ) حضرت عمر (رض) سے منقول ہے کہ وہ دوران طواف روتے ہوئے یہ دعا پڑھتے ـ' اللھم ان کنت کتبت علی شقوۃ او ذنبا فامحہ فانک تمحو ما تشاء وتثبت وعندک ام الکتاب فاجعلہ سعادۃ ومغفرۃ۔ ابن کثیر۔ اے اللہ اگر تو نے مجھ پر بدبختی اور گناہ لکھا ہے تو اسے مٹا دے، اس لئے کہ تو جو چاہے مٹائے اور جو چاہے باقی رکھے، تیرے پاس ہی لوح محفوظ ہے، پس تو بدبختی کو سعادت اور مغفرت سے بدل دے (ابن کثیر) اس مفہم پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ حدیث میں تو آتا ہے جف القلم بما ہو کائن۔ صحیح بخاری۔ جو کچھ ہونے والا ہے قلم اسے لکھ کر خشک ہوچکا ہے اس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ محو واثبات بھی منجملہ قضاء و تقدیر ہی کے ہے۔ فتح القدیر۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥١] ہر دور کے لئے الگ شریعت :۔ یعنی ہر نبی ایک ہی جیسے دین کے اصول پیش کرتا رہا ہے۔ مگر ان کی شریعتوں میں ان کے دور کے تقاضوں کے مطابق فرق رہا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ موسوی شریعت میں قصاص کا حکم تھا۔ عفو و درگزر کا نہ تھا۔ پھر عیسوی شریعت میں قصاص کے حکم کو پس پشت ڈال دیا گیا اور سارا زور عفو و درگزر پر دیا گیا اور شریعت محمدی میں پھر سے قصاص کا حکم بحال کردیا گیا مگر افضلیت عفو و و درگز کو ہی دی گئی احکام میں اس قسم کا رد و بدل اس دور کے لوگوں کی طبیعتوں کی اصلاح کے لیے کیا گیا۔ اللہ نے جس حکم کو چاہا سابقہ شریعتوں سے بحال رکھا اور جسے چاہا منسوخ کرکے نئی قسم کے احکام دے دیئے اور یہ سب کچھ اللہ کے علم ازلی محیط کے مطابق ہوتا ہے جسے ام الکتاب یا لوح محفوظ کہا گیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ۔۔ : بظاہر یہ آیت اس حدیث کے خلاف ہے : ( جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ ) [ بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من التبتل والخصاء : ٥٠٧٦ ] ” جس چیز یا حال کو تم ملنے والے ہو قلم اس کے ساتھ خشک ہوچکا ہے۔ “ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو فیصلہ ہوچکا وہ اب مٹنے والا نہیں، اس سوال کے حل کے لیے اس آیت کی تفسیر اہل علم نے دو طرح سے کی ہے، ایک تو یہ کہ جس طرح معجزہ اور کرامت اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے، کسی دوسرے کا اس میں کچھ دخل نہیں، اسی طرح کسی حکم کو باقی رکھنا یا اسے منسوخ کردینا بھی اسی کے اختیار میں ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ کون سا حکم کب تک باقی رکھنا ہے اور کون سا حکم منسوخ کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ گویا یہ یہود پر رد ہے جو نسخ کے قائل نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ میں بھی ان پر رد فرمایا : (ما نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا ) [ البقرۃ : ١٠٦ ] یعنی جو بھی آیت ہم منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لے آتے ہیں اور یہ سب باقی رکھنا یا منسوخ کرنا (محو و اثبات) ام الکتاب میں درج ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ سورة بقرہ کی آیت (١٠٦) کی تفسیر بھی ملاحظہ فرما لیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے ایک رسول کے احکام پر عمل قائم رکھتا ہے، پھر جس وقت چاہتا ہے بعد میں آنے والے رسول کے احکام پر عمل فرض کردیتا ہے اور پہلے پر عمل ختم کردیتا ہے۔ ” يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ “ میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی بندے کے نامۂ اعمال میں کوئی بھی نیک یا بدعمل اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو باقی رکھتا ہے، چاہتا ہے تو مٹا دیتا ہے اور یہ نہیں کہ پہلے اسے علم نہیں تھا کہ میں نے کیا ثابت رکھنا ہے اور کیا مٹانا ہے، بلکہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ تقدیر کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، اسے قضائے مبرم کہتے ہیں اور یہ وہی ہے جس کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوہریرہ (رض) سے فرمایا : ( جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ ) [ بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من التبتل والخصاء : ٥٠٧٦ ] ” تم جس چیز یا حال کو ملنے والے ہو اس کے ساتھ قلم خشک ہوچکا ہے۔ “ اور ایک تقدیر وہ ہے جس میں تبدیلی ہوتی ہے، اسے تقدیر معلق کہتے ہیں اور وہ بھی اللہ کے علم میں ہے۔ چناچہ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے، بعض اسباب ظاہر ہیں اور بعض چھپے ہیں۔ اسباب کی تاثیر کا ایک اندازہ مقرر ہے، جب اللہ چاہے ان کی تاثیر اندازے سے کم یا زیادہ کر دے اور جب چاہے ویسی ہی رکھے۔ آدمی کبھی کنکر سے مرتا ہے اور گولی سے بچتا ہے اور ایک اندازہ ہر چیز کا اللہ کے علم میں ہے، وہ ہرگز نہیں بدلتا۔ اندازے کو تقدیر کہتے ہیں، یہ دو تقدیریں ہوئیں، ایک بدلتی ہے (تقدیر تاثیر اسباب) اور ایک نہیں بدلتی (یعنی علم الٰہی) ۔ “ (موضح) شیخ ناصر الدین البانی نے سلسلہ الاحادیث الضعیفہ (٥٤٤٨) میں فرمایا : ” قرطبی نے بھی اپنی تفسیر ” الجامع (٥؍٣٣٢) “ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے، وہ لکھتے ہیں : ” اور عقیدہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے (قضا) میں تبدیلی نہیں ہوتی اور یہ محو و اثبات بھی ان چیزوں میں شامل ہے جن کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہے اور یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ قضا میں سے کچھ چیزیں وہ ہیں جو لازماً ہو کر رہنی ہیں، یہ وہ ہیں جو ثابت (مبرم) ہیں اور کچھ وہ ہیں جن میں بعض اسباب سے تبدیلی ہوجاتی ہے، یہ محو (مٹائی ہوئی) ہیں۔ (واللہ اعلم) غزنوی (رض) نے فرمایا : ” میرے نزدیک یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جو کچھ ہے وہ غیب سے نکل چکا ہے، کیونکہ بعض فرشتے بھی اس سے واقف ہیں، اس لیے وہ تبدیل ہوسکتا ہے، کیونکہ مخلوق کا اللہ تعالیٰ کے پورے علم سے واقف ہونا محال ہے اور اس کے علم میں اشیاء کی جو تقدیر اور طے شدہ بات ہے وہ کبھی نہیں بدلتی۔ “ (سلسلہ ضعیفہ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ غزنوی سے مراد عالی بن ابراہیم بن اسماعیل ہیں جن کا لقب ” تاج الشریعہ “ ہے، یہ ایک حنفی فقیہ مفسر ہیں، ان کی کتاب تفسیر التفسیر ہے جو بہت عمدہ ہے، جیسا کہ کئی علماء نے فرمایا ہے، ٥٨٢ ھ میں فوت ہوئے۔ الاعلام) خلاصہ یہ کہ اس ” محو و اثبات “ کا اس ” بدا “ کے غلط عقیدے سے کوئی تعلق نہیں جو بعض گمراہ لوگوں نے اختیار کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تم کوئی کام کرو، پھر اس کا غلط ہونا تمہیں معلوم ہو تو اسے بدل دو ۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا حرام ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی جانتا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط ہے۔ اس تفصیل سے اللہ کے فیصلے کے بدل نہ سکنے کے عقیدے اور ان تمام احادیث و اقوال صحابہ کے متعلق اشکال ختم ہوجاتا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات تقدیر بدل سکتی ہے، خصوصاً دعا سے، مثلاً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : ( لاَ یَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلاَّ الدَّعَاءُ وَلَا یَزِیْدُ فِی الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ ) [ ترمذی، القدر، باب ما جاء لا یرد القدر إلا الدعاء : ٢١٣٩۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : ١؍ ١٥٣، ح : ١٥٤ ] ” تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں ٹالتی اور عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز زیادہ نہیں کرتی۔ “ اسی طرح بعض صحابہ کی دعائیں کہ یا اللہ ! اگر تو نے مجھے شقی لکھا ہے تو اسے بدل کر سعید لکھ دے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Said in the next verse (39) was: يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ : &Allah wipes off what He wills and affirms (what He wills). And with Him is the Mother Book.& [ The translation of: أُمُّ الْكِتَابِ (umm-ul-kitab) as &Mother Book& reflects a word for word replacement possible at this place which also exhudes its applied sense in some measure, though not as clearly as given in the Tafsir immediately after ] The literal meaning of &Umm al-Kit& is &The Original Book.& The reference here is to the &Preserved Tablet& (al-Lawh al-Mahfuz al-) in which there can be no change or alteration. The sense of the verse is that Allah Ta’ ala, in His most perfect power and wisdom, obliterates what He wills, and affirms what He wills. And after this obliteration and affirmation, whatever there is stays preserved with Allah Ta’ ala. No one has access to it, nor can there be any deletion and addition into it. Leading authorities in Tafsir, Sayyidna Said ibn Jubayr (رض) and Qatadah and others have declared that this verse too is related with the obliteration and affirmation of injunctions and religious codes, that is, with the problem of Naskh or abrogation. As for the sense of the verse, they say that in the Books which Allah Ta’ ala sends to different people through different messengers, and outlined in which are religious laws, obligations and duties, it is not necessary that all injunctions con¬tained therein be eternal and last forever. In fact, it is in fitness with conditions prevailing among peoples and the change in times that Allah, in His wisdom, abrogates or repeals whichever injunction He wills, and affirms and retains whichever He wills. Then, the original Book is pre-served with Him after all. It is already written there that such and such injunction sent down for such and such people is for a particular period of time, or is based on particular conditions. When that term expires, or those conditions change, this injunction will also change. In this original Book, that term and that appointed time stands recorded with full and authentic determination. Also entered there is the description of the in-junction which will replace the one changed. This eliminates the doubt that Divine injunctions should never be ab¬rogated, because enforcing an injunction and then abrogating it indicates that the enforcer of the injunction did not have the correct percep¬tion of conditions, therefore, it was after having seen conditions that it had to be abrogated. And it is obvious that the majesty of Allah Ta’ ala is beyond the possibility that something be outside the realm of His knowl¬edge. Since this stipulation tells us that the injunction which is abrogat¬ed exists in the knowledge of Allah Ta’ ala beforehand, that is, the injunc¬tion has been promulgated only for a specified period of time and will be changed later. This is similar to what a physician does in our world of ex-perience. He examines a patient, looks at the symptoms of what he is ail¬ing from, then prescribes a medicine relevant to the current condition he is in. And he knows the effect the medicine is going to bring forth, and after which, the particular medicine would have to be changed and the patient would have to be given another medicine of another description. To sum up, it can now be said that, according to this Tafsir, the phenom¬ena of obliteration and affirmation (mahw and ithbat) means the abroga¬tion (naskh) of injunctions, and its affirmation and continuity. As based on the view of Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) a group of leading commentators, Sufyan al-Thawri, Waki` and others, have reported another Tafsir of this verse where the subject of the verse has been determined as concerning the decree of destiny. And the meaning of the verse has been explained by saying that, according to the explicit statements of the Qur an and Hadith, the destinies of the creations of Al¬lah, including the sustenance received by every person during his entire years of life and the comfort and distress faced along the line, and their respective magnitudes are written since &azal even before the creation of His creatures. Then, at the time of the birth of a child, the angels too are asked to keep it committed to writing. And every year, in the Layla¬tul-Qadr (The Night of Power), a full roster of what is supposed to happen during the course of that year is handed over to the angels. In short, the age of every created individual, his or her sustenance, times of movement and periods of rest are all determined, and written. But, from this decree of destiny, Allah Ta` ala wipes off or obliterates what He wills and affirms or retains what He wills. However, the state¬ment: وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ (And with Him is the Mother Book) means that the original Book, according to which, after the process of obliteration and af¬firmation, ultimate action shall be taken, is with Allah. In this, there can be no change or alteration. This has been elaborated in many authentic Ahadith which tell us that there are some a&mal (deeds) which cause a person&s age and suste¬nance to increase. Some make them decrease. It appears in the Sahih of Al-Bukhari that maintaining relations which must be maintained (silah ar-rahim) becomes the cause of increase in one&s age. A narration in the Musnad of Ahmad reports that there are occasions when one commits some such sin as leads to his being deprived of sustenance, and by serv¬ing and obeying one&s parents, years of life increase, and nothing except dua& (prayer) can avert what is Divinely destined. What we find out from all these narrations is that the age, the suste¬nance and things like that which Allah Ta` ala has written into someone&s destiny can become more or less because of some deeds - and also because of du& (prayer), taqdir (destiny) can be changed. This is the subject dealt with in this verse. It says that the change or alteration in age or sustenance or hardship or ease in life as written in the Book of Destiny which takes place because of some deed (` aural) or prayer (du’ a) means that Book of Destiny which is in the hands of the angels, or in their knowledge. There are times when, some decisions of this type of destiny are contingent on some particular condition. When that condition is not found, that decision does not take effect. Then, this condition is sometimes in writing and in the knowledge of angels, but there are times when this is not written - but exists in the knowledge of Allah Ta` ala alone. When that decision changes, everyone is left wonder¬ing. A destiny of this nature is called &conditional& or &contingent& (mu` al¬laq) in which, as explicitly stated in this verse, the process of obliteration and assertion keeps operating. But, the last sentence of the verse: وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ that is, &with Him is the original Book,& means that above this &conditional destiny,& (tagdir mu&allaq) there is the &final and definite destiny& (taqdir mubram) which is with Allah Ta’ ala written in the original Book. And that is the exclusive domain of Divine knowledge. Written there are the decisions, injunctions and commands which issue forth as the final outcome after the conditions of deeds have been fulfilled or du& has been answered. Therefore, that is totally free of obliteration and asser¬tion and addition and deletion. (Ibn Kathir)

(آیت) يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ښ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ ۔ ام الکتب کے لفظی معنی اصل کتاب کے ہیں مراد اس سے وہ لوح محفوظ ہے جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا معنی آیت کے یہ ہیں کہ حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے ثابت اور باقی رکھتا ہے اور اس محو و اثبات کے بعد جو کچھ واقع ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے جس پر نہ کسی کی دسترس ہے نہ اس میں کوئی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ ائمہ تفسیر میں سے حضرت سعید بن جبیر (رض) اور قتادہ (رض) وغیرہ نے اس آیت کو بھی احکام و شرائع کے محو و اثبات یعنی مسئلہ نسخ کے متعلق قرار دیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو ہر زمانے اور ہر قوم کے لئے مختلف رسولوں کے ذریعہ اپنی کتابیں بھیجتے ہیں جن میں احکام شریعت اور فرائض کا بیان ہوتا ہے یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ سب احکام دائمی ہوں اور ہمیشہ باقی رہیں بلکہ قوموں کے حالات اور زمانے کے تغیرات کے مناسب اپنی حکمت کے ذریعہ جس حکم کو چاہتے ہیں مٹا دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں ثابت اور باقی رکھتے ہیں اور اصل کتاب بہرحال ان کے پاس محفوظ ہے جس میں پہلے ہی سے یہ لکھا ہوا ہے کہ فلاں حکم جو فلاں قوم کے لئے نازل کیا گیا ہے یہ ایک میعاد کے لئے یا خاص حالات کی بنا پر ہے جب وہ میعاد گذر جائیگی یا وہ حالات بدل جائیں گے تو یہ حکم بھی بدل جائے گا اس ام الکتب میں اس کی میعاد اور وقت مقرر بھی پوری تعیین کے ساتھ درج ہے اور یہ بھی کہ اس حکم کو بدل کو کونسا حکم لایا جائے گا اس سے یہ شبہ بھی جاتا رہا کہ احکام خداوندی کبھی منسوخ نہ ہونے چاہئیں کیونکہ کوئی حکم جاری کرنے کے بعد منسوخ کرنا علامت اس کی ہے کہ حکم جاری کرنے والے کو حالات کا اندازہ نہ تھا اس لئے حالات دیکھنے کے بعد اس کو منسوخ کرنا پڑا اور ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ کی شان اس سے بلند وبالا ہے کہ کوئی چیز اس کے علم سے باہر ہو کیونکہ تقریر مذکور سے معلوم ہوگیا کہ جس حکم کو منسوخ کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے ہوتا ہے کہ یہ حکم صرف اتنی مدت کے لئے جاری کیا گیا ہے اس کے بعد بدلا جائے گا اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے کسی مریض کا حال دیکھ کر کوئی حکیم یا ڈاکٹر ایک دوا اس وقت کے مناسب حال تجویز کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس دوا کا یہ اثر ہوگا اس کے بعد اس دوا کو بدل کر فلاں دوسری دوا دی جائے گی خلاصہ یہ ہے کہ اس تفسیر کے مطابق آیت میں محو و اثبات سے مراد احکام کا منسوخ ہونا اور باقی رہنا ہے۔ اور ائمہ تفسیر کی ایک جماعت سفیان ثوری وکیع وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اس آیت کی دوسری تفسیر نقل کی جس میں مضمون آیت کو نوشتہ تقدیر کے متعلق قرار دیا ہے اور معنی آیت کے یہ بیان کئے گئے ہیں کہ قرآن و حدیث کی تصریحات کے مطابق مخلوقات کی تقدیریں اور ہر شخص کی عمر اور زندگی بھر میں ملنے والا رزق اور پیش آنے والی راحت یا مصیبت اور ان سب چیزوں کی مقداریں اللہ تعالیٰ نے ازل میں مخلوقات کی پیدائش سے بھی پہلے لکھی ہوئی ہیں پھر بچہ کی پیدائش کے وقت فرشتوں کو بھی لکھوا دیا جاتا ہے اور ہر سال شب قدر میں اس سال کے اندر پیش آنے والے معاملات کا چٹھا فرشتوں کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہر فرد مخلوق کی عمر رزق حرکات و سکنات سب متعین ہیں اور لکھے ہوئے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اس نوشتہ تقدیر میں سے جس کو چاہتے ہیں مٹا دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں باقی رکھتے ہیں وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ یعنی اصل کتاب جس کے مطابق محو و اثبات کے بعد انجام کار عمل ہونا ہے وہ اللہ کے پاس ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ بہت سی احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اعمال سے انسان کی عمر اور رزق بڑھ جاتے ہیں بعض سے گھٹ جاتے ہیں صحیح بخاری میں ہے کہ صلہ رحمی عمر میں زیادتی کا سبب بنتی ہے اور مسند احمد کی روایت میں ہے کہ بعض اوقات آدمی کوئی ایسا گناہ کرتا ہے کہ اس کے سبب رزق سے محروم کردیا جاتا ہے اور ماں باپ کی خدمت و اطاعت سے عمر بڑھ جاتی ہے اور تقدیر الہی کو کوئی چیز بجز دعاء کے ٹال نہیں سکتی ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عمر یا رزق وغیر کسی کی تقدیر میں لکھ دیئے ہیں وہ بعض اعمال کی وجہ سے کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں اور دعا کی وجہ سے بھی تقدیر بدلی جاسکتی ہے اس آیت میں اسی مضمون کا بیان اس طرح کیا گیا کہ کتاب تقدیر میں لکھی ہوئی عمر یا رزق یا مصیبت یا راحت وغیرہ میں جو تغیر و تبدل کسی عمل یا دعا کی وجہ سے ہوتا ہے اس سے مراد وہ کتاب ہے تقدیر ہے جو فرشتوں کے ہاتھ یا ان کے علم میں ہے اس میں بعض اوقات کوئی حکم کسی خاص شرط پر معلق ہوتا ہے جب وہ شرط نہ پائی جائے تو یہ حکم بھی نہیں رہتا اور پھر یہ شرط بعض اوقات تو تحریر میں لکھی ہوئی فرشتوں کے علم میں ہوتی ہے بعض اوقات لکھی نہیں ہوتی صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی ہے جب وہ حکم بدلا جاتا ہے تو سب حیرت میں رہ جاتے ہیں اس طرح کی تقدیر معلق کہلاتی ہے جس میں اس آیت کی تصریح کے مطابق محو و اثبات ہوتا رہتا ہے لیکن آیت کے آخری جملہ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ نے بتلادیا کہ اس تقدیر معلق کے اوپر ایک تقدیر مبرم ہے جو ام اللکتاب میں لکھی ہوئی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ صرف علم الہی کے لئے مخصوص ہے اس میں وہ احکام لکھے جاتے ہیں جو شرائط اعمال یا دعاء کے بعد آخری نتیجہ کے طور پر ہوتے ہیں اسی لئے وہ محو و اثبات اور کمی بیشی سے بالکل بری ہے (ابن کثیر)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ښ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ 39؁ محو المَحْو : إزالة الأثر، ومنه قيل للشّمال : مَحْوَةٌ ، لأنها تَمْحُو السّحاب والأثر . قال تعالی: يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَيُثْبِتُ [ الرعد/ 39] . ( م ح و ) المحو ( ن ) کے معنی کسی چیز کے اثر اور نشان کو زائل کرنا اور مٹا دینا کے ہیں ۔ اسی سے بادشاہ کو محوۃ کہاجاتا ہے ۔ کیونکہ وہ بادل کے آثار اور نشانات کے مٹادیتی ہے ۔ قرآن میں ہے : يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَيُثْبِتُ [ الرعد/ 39] خدا جس کو چاہتا ہے مٹادیتا ہے ۔ اور ( جس کو چاہتا ہے ) قائم رکھتا ہے ۔ ثبت الثَّبَات ضدّ الزوال، يقال : ثَبَتَ يَثْبُتُ ثَبَاتاً ، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] ( ث ب ت ) الثبات یہ زوال کی ضد ہے اور ثبت ( ن ) ثباتا کے معنی ایک حالت پر جمے رہنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] مومنو جب ( کفار کی ) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو ۔ كتب) حكم) قوله : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] ، وقوله : إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنا عَشَرَ شَهْراً فِي كِتابِ اللَّهِ [ التوبة/ 36] أي : في حكمه . ويعبّر عن الإيجاد بالکتابة، وعن الإزالة والإفناء بالمحو . قال : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] ، يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَيُثْبِتُ [ الرعد/ 39] نبّه أنّ لكلّ وقت إيجادا، وهو يوجد ما تقتضي الحکمة إيجاده، ويزيل ما تقتضي الحکمة إزالته، ودلّ قوله : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] علی نحو ما دلّ عليه قوله : كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] وقوله : وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتابِ [ الرعد/ 39] ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ اور نحو سے کسی چیز کا زائل اور فناکر نامراد ہوتا ہے چناچہ آیت : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] میں تنبیہ ہے کہ کائنات میں ہر لمحہ ایجاد ہوتی رہتی ہے اور ذات باری تعالیٰ مقتضائے حکمت کے مطابق اشیاء کو وجود میں لاتی اور فنا کرتی رہتی ہے ۔ لہذا اس آیت کا وہی مفہوم ہے ۔ جو کہ آیت كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے اور آیت : وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتابِ [ الرعد/ 39] میں اور اس کے پاس اصل کتاب ہے کا ہے اور آیت : وَما کانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتاباً مُؤَجَّلًا[ آل عمران/ 145] اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مرجائے ( اس نے موت کا ) وقت مقرر کرکے لکھ رکھا ہے ۔ میں کتابا موجلا سے حکم الہی مراد ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٩) اور ہر کتاب پر عمل کرنے کا اس کے ہاں ایک خاص وقت مقرر ہے اور فرشتوں کی عدالت میں سے جن باتوں پر ثواب و عذاب کچھ نہیں ہوتا، ان کو مٹا دیتے ہیں اور جن پر ثواب و عذاب ہوتا ہے ان کو باقی رہنے دیتے ہیں اور اصل کتاب یعنی لوح محفوظ ان ہی کے پاس ہے کہ جس میں زیادتی اور کمی کچھ نہیں ہوتی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٩ (يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ښ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ ) اُمّ الکتاب یعنی اصل کتاب اللہ کے پاس ہے۔ سورة الزخرف میں اس کے متعلق یوں فرمایا گیا ہے : (وَاِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْکِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ) ” اور یہ اصل کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس ہے جو بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے۔ “ آپ اسے لوح محفوظ کہیں ام الکتاب کہیں یا کتاب مکنون کہیں اصل قرآن اس کے اندر ہے۔ یہ قرآن جو ہمارے پاس ہے یہ اس کی مصدقہ نقل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص عنایت اور مہربانی سے حضور کی وساطت سے ہمیں دنیا میں عطا کردیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

58. This is the answer to another objection raised against the revelation of the Quran. The disbelievers said: What was the need of this new Book, when there already had existed the former revealed Books? You say that this need has arisen because the former Books have been tampered with; therefore Allah has abrogated them and commanded that this new Book should be followed. This position you have taken is wrong for how can anyone tamper with the Book of Allah and how is it possible that any Book of Allah might be tampered with? Why did not Allah protect these Books from such things as these? You say that this Book has been revealed by the same Allah Who revealed the Torah and the Gospel. How is it then that your way is different from that of the Torah? You consider certain things lawful while they are unlawful according to the Torah, etc. etc. Detailed answers to these objections have been given in other Surahs but here only a brief and comprehensive answer has been given to them. The Arabic word Umm-ul-Kitab literally means the Mother Book, that is, the Original Book which is the source and origin of all the revealed Books.

سورة الرَّعْد حاشیہ نمبر :58 یہ بھی مخالفین کے ایک اعتراض کا جواب ہے ۔ وہ کہتے تھے کہ پہلے آئی ہوئی کتابیں جب موجود تھیں تو اس نئی کتاب کی کیا ضرورت تھی؟ تم کہتے ہو کہ ان میں تحریف ہو گئی ہے ، اب وہ منسوخ ہیں اور اس نئی کتاب کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے ۔ مگر خدا کی کتاب میں تحریف کیسے ہو سکتی ہے ؟ خدا نے اس کی حفاظت کیوں نہ کی ؟ اور کوئی خدائی کتاب منسوخ کیسے ہو سکتی ہے؟ تم کہتے ہو کہ یہ اسی خدا کی کتاب ہے جس نے توراۃ و انجیل نازل کی تھیں ۔ مگر یہ کیا بات ہے کہ تمہارا طریقہ توراۃ کے بعض احکام کے خلاف ہے؟ مثلا بعض چیزیں جنہیں توراۃ والے حرام کہتے ہیں تم انہیں حلال سمجھ کر کھاتے ہو ۔ ان اعتراضات کے جوابات بعد کی سورتوں میں زیادہ تفصیل کے ساتھ دیے گئے ہیں ۔ یہاں ان کا صرف ایک مختصر جامع جواب دے کر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ ”اُمّ الکتاب“ کے معنی ہیں”اصل کتاب“ یعنی وہ منبع و سر چشمہ جس سے تمام کتب آسمانی نکلی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

38: تمام کتابوں کی اصل سے مراد لوح محفوظ ہے جس میں ازل سے یہ بات درج ہے کہ کس امت کو کون سی کتاب اور کیسے احکام دئے جائیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٩۔ جب قریش نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ معجزات چاہے جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا اوپر کا ٹکڑا نازل فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی معجزہ کا ظاہر کردینا رسولوں کا کام نہیں ہے مصلحت وقت کے موافق اللہ کی درگاہ میں ہر کام کے لئے وقت مقرر ہو کر لکھا جا چکا ہے جب تک وہ وقت مقرر پہنچ نہ جاوے اور اللہ کا حکم نہ ہو کوئی کام نہیں ہوسکتا یہ سن کر قریش نے آپس میں چرچا کیا کہ محمد ہر وقت عذاب الٰہی سے جو ڈراتے تھے اب معلوم ہوگیا کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہر کام کا لکھا ہوا وقت جب تک نہ آوے کچھ نہیں ہوسکتا اسی طرح جب ایک آیت اتر کر پھر وہ منسوخ ہوجاتی اور اسی کی جگہ دوسرا حکم آجاتا تو قریش یہ بھی چرچا کرتے تھے کہ قرآن اللہ کی طرف سے ہوتا تو یہ گھڑی گھڑی کا ردو بدل اس میں نہ ہوتا معلوم ہوتا ہے کہ محمد اپنی طرف سے ایک بات کہہ دیتے ہیں پھر جب جی چاہتا ہے تو اس کی جگہ دوسری بات کہہ دیتے ہیں ان کے ان چرچوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ ٹکڑا آیت کا نازل فرمایا حاصل معنے اس کے یہ ہیں کہ رمضان میں ہر شب قدر کو سال بھر تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کا حساب و کتاب لوح محفوظ سے نقل کرا کے اللہ تعالیٰ ملائکہ کو دیتا ہے اسی کے موافق سال بھر تک ملائکہ عمل کرتے ہیں یہ ایک سال کا دنیا بھر کا حساب ہے اور جس مدت تک دنیا چلے گی وہ دنیا کی عمر تک کا حساب ہے وہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور چار مہینے کا حمل ہوجانے کے بعد ماں کے پیٹ کے بچے کا حساب جو رزق عمر نیک و بد ہونے کا لکھا جاتا ہے اور پھر بچہ میں روح پھونکی جاتی ہے جس کی روایت صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے ہے۔ یہ ہر ایک انسان کا عمر بھر کا حساب ہے سال بھر کے حساب کا پر چہ ملنے سے پہلے ملائکہ کو ہر ایک انسان کا عمر بھر کا حساب تفصیل سے نہیں معلوم ہوتا مثلاً خلفاً اربعہ کی والدہ کی حمل کی مدت چار مہینے کے ہوجانے کے بعد پتلے میں روح پھونکنے سے پہلے ملائکہ کو یہ تو معلوم ہوگیا تھا کہ یہ چاروں شخص اپنی عمر کا کچھ حصہ شرک میں بسر کر کے پھر مسلمان ہوں گے اور ایسی حالت میں وفات پائیں گے کہ نبی کے بعد ان کا ہی درجہ ہے لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ عمر بھر کے کون سے سال میں یہ ایمان لاویں گے سالانہ حساب کا پر چہ ملنے کے بعد ہر ایک بات کی سالانہ تفصیل دنیا میں ظاہر ہونے سے پہلے ملائکہ کو معلوم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح سالانہ پر چہ ملنے سے پہلے جو کچھ لوح محفوظ میں لکھا وہ سوا خدا کے کوئی نہیں جانتا اب رہی یہ بات کہ ردو بدل لوح محفوظ کے حساب اور عمر بھر کے حساب اور سالانہ حساب سب میں ہوسکتا ہے یا نہیں حضرت عمر (رض) اور عبد اللہ بن مسعود (رض) اور متقدمین کا یہ مذہب ہے کہ ہاں اللہ کی قدرت میں سب کچھ ہے وہ ان تینوں حسابوں میں سے جس حساب کی جس بات کو چاہے بدل بدل سکتا ہے۔ ترمذی صحیح ابن حبان مستدرک حاکم وغیرہ میں چند صحابہ سے معتبر روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ سوا دعا کے تقدیر کسی چیز سے نہیں بد ل سکتی اور سوا نیکی کے عمر کسی چیز سے نہیں بڑھ سکتی اور گناہ کے سبب سے گنہگار شخص وہ رزق گھٹ جاتا ہے جو اس کے مقسوم میں ہے، ان حدیثوں سے حضرت عمر اور عبد اللہ بن مسعود (رض) کے مذہب کی پوری تائید ہوتی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے قریش کو دھمکایا اگرچہ اللہ کی بارگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے مگر جس نے وہ وقت ٹھہرایا ہے وہی اس وقت کے بدل ڈالنے اور وقت سے پہلے تم کو ہلاک کردینے پر قادر ہے اس لئے مصلحت وقت کے موافق جس طرح وہ احکام شریعت کو بدلت رہتا ہے اگر اسی طرح کسی مصلحت سے وقت مقررہ عذاب کو منسوخ فرما کر دوسرا وقت وہ باری تعالیٰ ٹھہراوے تو تمہارا کیا بس چل سکتا ہے اس واسطے سرکشی چھوڑو اور اس کے عذاب سے ہر وقت ڈرتے رہو۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(13:39) یثبت۔ ای یثبت ما یشائ۔ ام الکتب۔ لوح محفوظ ۔ جو تمام کتب کی اصل جڑ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 ۔ پس اپنی حکمت یہ مطابق جن احکام کو چاہتا ہے منسوخ قرار دیدتا ہے اور جن کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ (روح) ۔ 4 ۔ یا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے جس میں کسی قسم کا ردو بدل نہیں ہوتا۔ نیز جملہ احادیث و آثار کو سامنے رکھ کر علما نے لکھا ہے کہ قضائے مبرم میں تغیر و تبدیل نہیں ہوتا جو ” جف القالم بما ھو کائن “ سے عبارت ہے۔ ہاں تبدیلی جو کچھ ہوتی ہے اور محواثبات (جن میں نسخ احکام بھی داخل ہے) جو کچھ ہوتا ہے وہ تقدیر معلوم میں ہوتا ہے۔ چناچہ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے بعض اسباب ظاہر ہیں اور بعض چھپے ہیں۔ اسباب کی تاثیر کا ایک اندازہ مقرر ہے۔ جب اللہ چاہیے، ان کی تاثیر انداز سے کم زیادہ کردے اور جب چاہے ویسی ہی رکھے۔ آدمی کبھی کنکر سے مرتا ہے اور گولی سے بچتا ہے۔ اور ایک اندازہ ہر چیز کا اللہ کے علم میں ہے وہ ہرگز نہیں بدلتا۔ اندازے کو تقدیر کہتے ہیں۔ یہ دو تقدیریں ہوئیں، ایک بدلتی ہے (یعنی علم الٰہی) کذافی الموضح وللمتفصیل مقام آخر۔ (دیکھئے رازی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ یعنی لوح محفوظ یہ سب احکام ناسخ و منسوخ ومستمر اس میں درج ہیں وہ سب کی جامع اور گویا میزان الکل ہے یعنی جہاں سے یہ احکام آتے ہیں وہ اللہ ہی کے قبضہ میں ہے پس احکام سابقہ کے موافق یا مغایر احکام لانے کی کسی کو گنجائش اور دسترس ہی نہیں ہوسکتی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ جو چاہتا ہے محو فرماتا ہے اور جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے : پھر فرمایا (یَمْحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ وَ عِنْدَہٗٓ اُمُّ الْکِتٰبِ ) (اللہ مٹاتا ہے جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے جو چاہتا ہے اور اس کے پاس اصل کتاب ہے) صاحب روح المعانی نے اس آیت کے ذیل میں بہت کچھ لکھا ہے اور مفسرین کے مختلف اقوال جمع کئے ہیں پہلی بات تو یہ لکھی ہے ای ینسخ ما یشاء نسخہ من الاحکام لما تقتضیہ الحکمۃ بحسب الوقت ویثبت بدلہ ما فیہ الحکمۃ او یبقیہ علی حالہ غیر منسوخ او یثبت ما یشاء اثباتہ مطلقا اعم منھما ومن الانشاء ابتداء۔ یعنی اللہ تعالیٰ جن احکام کو چاہتا ہے منسوخ فرما دیتا ہے اور جن احکام کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے منسوخ نہیں فرماتا ‘ یہ مضمون (لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ) کی ایک تفسیر کے موافق ہے صاحب معالم التنزیل ص ٢٢ ج ٣ حضرت سعید بن جبیر اور حضرت قتادہ سے بھی یہ تفسیر نقل کی ہے۔ وقالو یمحوا اللہ ما یشاء من الشرائع والفرائض فینسخہ ویبدلہ ویثبت ما یشاء منھا فلا ینسخہ پھر صاحب روح المعانی نے حضرت عکرمہ سے نقل کیا ہے یمحوا بالتوبۃ جمیع الذنوب ویثبت بدل ذلک حسنات یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے کی وجہ سے بندوں کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اور ان کے بدلہ نیکیاں لکھ دیتا ہے اور حضرت ابن عباس (رض) اور ضحاک سے نقل کیا ہے یمحوا من دیوان الحفظۃ ما لیس بحسنۃ ولا بسیءۃ لانھم مامورون بکتب کل قول وفعل ویثبت ما ھو حسنۃ او سیءۃ مطلب یہ ہے کہ جو فرشتے بنی آدم کے اعمال لکھنے پر مامور ہیں وہ تو حسب حکم ہر قول اور ہر فعل کو لکھتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ شانہ نیکیوں اور برائیوں کو باقی رکھتا ہے اور جو اعمال نیکی یا بدی کے دائرہ میں نہیں آتے انہیں مٹا دیتا ہے پھر حضرت حسن بصری سے نقل کیا ہے کہ اس سے بنی آدم کی اجل یعنی زندگی کے اوقات مقررہ مراد ہیں شب قدر میں ان لوگوں کی اجل دیوان اموات میں لکھی جاتی ہے جنہیں آئندہ سال کے اندر موت آنی ہے اور زندوں کے دیوان سے ان کا نام مٹا دیا جاتا ہے صاحب روح المعانی نے دیگر اقوال بھی نقل کیے ہیں جن کا آیت کے سیاق سے جوڑ نہیں بنتا ان میں سے بعض ضعیف روایات پر بھی مبنی ہیں اس لیے ہم نے انہیں ذکر نہیں کیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

42:۔ دلائل و تمثیلات سے مسئلہ واضح کرنے کے بعد مشرکین کے چار سوالوں کا جواب دیا گیا ہے۔ یہ سوال مقدر اول کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے یہ عجب پیغمبر ہے کہ اس کے بیوی بھی ہے اور بچے بھی فرمایا آپ سے پہلے بھی جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے بھی بیوی بچے تھے اس لیے یہ کوئی وجہ انکار نہیں۔ ” مَاکَانَ لِرَسُوْلٍ الخ “ یہ سوال مقدر دوم کا جواب ہے۔ کوئی معجزہ لاؤ پھر پم مانیں گے فرمایا معجزہ لانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں جب اللہ چاہتا ہے اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر فرما دیتا ہے۔ ” لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ“ یہ سوال مقدر سوم کا جواب ہے۔ جب ہم نہیں مانتے تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا ؟ فرمایا ہمارے یہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے اس لیے اگر تم انکار پر اڑے رہے تو عذاب ضرور آئے گا مگر اپنے وقت پر۔ ” یَمْحُوْ اللہُ مَایَشَاءُ وَ یُثْبِتُ “ یہ سوال مقدر چہارم کا جواب ہے۔ جب عذاب لا محالہ آئے گا تو ماننے سے کیا فائدہ ؟ فرمایا محو و اثبات ہمارے اختیار میں ہے اگر مان لوگے تو عذاب ٹل جائے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

39 ۔ اللہ تعالیٰ ہی جس حکم کو چاہتا ہے موقوف کردیتا ہے اور مٹا دیتا ہے اور جس حکم کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اصل کتاب یعنی لوح محفوظ اسی کے پاس ہے۔ یعنی ہر زمانہ کے مناسب خاص احکام ہوتے ہیں پھر پہلے احکا م موقوف کردیئے جاتے ہیں اور ان کی بجائے دوسرے احکام جاری کئے جاتے ہیں اور بعض بحالہ قائم رکھے جاتے ہیں ۔ یہ تمام باتیں ان کی مرضی اور زمانہ شناسی اور امم کی حالت سے واقفیت پر مبنی ہیں اس میں کسی کو اختیار نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے بعض اسباب ظاہر ہیں اور بعض چھپے ہیں اسباب کی تاثیر کا ایک اندازہ ہے جس اللہ چاہے اس کی تاثیر اندازے سے کم زیادہ کر دے جب چاہے ویسے ہی رکھے ۔ آدمی کبھی کنکر سے مرتا ہے اور کبھی گولی سے بچتا ہے اور ایک اندازہ ہر چیز کا اللہ کے علم میں ہے وہ ہرگز نہیں بدلتا اندازہ کو تقدیر کہتے ہیں یہ دو تقدیریں ہیں ایک بدلتی ہے اور ایک نہیں بدلتی جو تقدیر بدلتی ہے اس کو معلق کہتے ہیں اور جو نہیں بدلتی اس کو مبرم ۔ 12