Surat Ibrahim

Surah: 14

Verse: 17

سورة إبراهيم

یَّتَجَرَّعُہٗ وَ لَا یَکَادُ یُسِیۡغُہٗ وَ یَاۡتِیۡہِ الۡمَوۡتُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّ مَا ہُوَ بِمَیِّتٍ ؕ وَ مِنۡ وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیۡظٌ ﴿۱۷﴾

He will gulp it but will hardly [be able to] swallow it. And death will come to him from everywhere, but he is not to die. And before him is a massive punishment.

جسے بمشکل گھونٹ گھونٹ پئے گا ۔ پھر بھی وہ اسے گلے سے اتار نہ سکے گا اور اسے ہر جگہ سےموت آتی دکھائی دے گی لیکن وہ مرنے والا نہیں پھر اس کے پیچھے بھی سخت عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَتَجَرَّعُهُ ... He will sip it unwillingly, indicates that he will hate to drink this water, but he will be forced to sip it; he will refuse until the angel strikes him with an iron bar, وَلَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ And for them are hooked rods of iron. (22:21) Allah said next, ... وَلاَ يَكَادُ يُسِيغُهُ ... and he will find great difficulty in swallowing it down his throat, meaning, he will hate to swallow it because of its awful taste, color and unbearable heat or coldness, ... وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٍ ... and death will come to him from every side, his organs, limbs and entire body will suffer pain because of this drink. Amr bin Maymun bin Mahran commented, "Every bone, nerve and blood vessel." Ad-Dahhak reported that Ibn Abbas commented on Allah's statement, "All types of torment that Allah will punish him with on the Day of Resurrection in the fire of Jahannam will come to him carrying death, if he were to die. However, he will not die because Allah the Exalted said, لااَ يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُواْ وَلااَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا Neither will it affect them that they die nor shall its torment be lightened for them." (35:36) Therefore, according to Ibn Abbas, may Allah be pleased with him and his father, every type of punishment will come to him (the obstinate, rebellious tyrant) carrying death with it, if he will ever die there. Yet, he will not die, he will instead receive eternal punishment and torment. Hence Allah's statement here, ... وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ... and death will come to him from every side, yet he will not die, Allah said, ... وَمِن وَرَايِهِ عَذَابٌ غَلِيظٌ and in front of him, will be a great torment. even in this condition, he will still suffer another severe type of torment, more severe and painful from the one before it, harsher more bitter. Allah described the tree of Zaqqum, إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِى أَصْلِ الْجَحِيمِ طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَـطِينِ فَإِنَّهُمْ لاّكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِيُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْباً مِنْ حَمِيمٍ ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لاِلَى الْجَحِيمِ Verily, it is a tree that springs out of the bottom of Hellfire, the shoots of its fruits stalks are like the heads of Shayatin; Truly, they will eat thereof and fill their bellies therewith. Then on top of that they will be given boiling water to drink so that it becomes a mixture. Then thereafter, verily, their return is to the flaming fire of Hell. (37:64-68) Allah states that they will either be eating from the Zaqqum, drinking the Hamim, or being tormented in the Fire, again and again; we seek refuge with Allah from all of this. Allah also said, هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ This is the Hell which the criminals denied. They will go between it (Hell) and the fierce boiling water! (55:43-44) إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الاٌّثِيمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ كَغَلْىِ الْحَمِيمِ خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners. Like boiling oil, it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water. (It will be said) "Seize him and drag him into the midst of blazing Fire, then pour over his head the torment of boiling water. Taste you (this)! Verily, you were the mighty, the generous! Verily, this is that whereof you used to doubt!" (44:43-50) وَأَصْحَـبُ الشِّمَالِ مَأ أَصْحَـبُ الشِّمَالِ فِى سَمُومٍ وَحَمِيمٍ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ لااَّ بَارِدٍ وَلااَ كَرِيمٍ And those on the Left Hand - how (unfortunate) will be those on the Left Hand In fierce hot wind and boiling water, and shadow of black smoke, neither cool nor pleasant. (56:41-44) and, هَـذَا وَإِنَّ لِلطَّـغِينَ لَشَرَّ مَـَابٍ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِيْسَ الْمِهَادُ هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ This is so! And for the Taghun will be an evil final return. Hell! Where they will burn, and worst is that place to rest! This is so! Then let them taste it Hamim and Ghassaq. And other (torments) of similar kind all together! (38:55-58) There are many other similar Ayat that indicate that the punishment they will receive is of different kinds, and that it is repeated in various types and forms that only Allah the Exalted knows, as just recompense, وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّـمٍ لِّلْعَبِيدِ And your Lord is not at all unjust to (His) slaves. (41:46)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

17۔ 1 یعنی انواع و اقسام کے عذاب چکھ چکھ کر وہ موت کی آرزو کرے گا۔ لیکن، موت وہاں کہاں ؟ وہاں تو اسی طرح دائمی عذاب ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠] یہ سزا تو دنیا میں ملے گی اور آخرت میں انھیں جہنم میں آتش دوزخ کے علاوہ کئی طرح کی اضافی سزاؤں سے بھی دوچار ہونا پڑے گا۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ گرمی کی شدت کی وجہ سے سخت قسم کی پیاس محسوس کریں گے تو پانی کے لیے فریاد کریں گے مگر پانی کے بجائے انھیں رستے ہوئے زخموں کا دھو ون پینے کو دیا جائے گا اور اس کے پینے پر مجبور کیا جائے گا وہ بھی پیاس کی شدت کی وجہ سے اسے پینے پر مجبور ہوں گے۔ لیکن اس کی بدبو، اس کی رنگت اور قوام سے کراہت کی وجہ سے حلق سے بمشکل ہی نیچے اترے گا لہذا وہ گھونٹ گھونٹ کرکے پئیں گے۔ وہ موت کی آرزو کریں گے کہ ایسی تکلیف دہ زندگی سے تو موت ہی اچھی ہے لیکن اخروی زندگی میں موت نام کی کوئی چیز نہ ہوگی۔ اس زندگی میں موت سے کسی کو چھٹکارا نہیں حالانکہ ہر ایک کو زندہ رہنے کی ہوس ہوتی ہے۔ اس زندگی میں اہل دوزخ مرنا چاہیں گے تو مر بھی نہ سکیں گے اور ان پر عذاب سخت سے سخت تر کیا جاتا رہے گا۔ اس دنیا میں موت ایک اضطراری امر ہے۔ آخرت میں زندگی اضطراری امر ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَّتَجَرَّعُهٗ : یہ باب تفعل سے ہے، جس میں تکلف کا معنی ہوتا ہے، یعنی مشکل سے ایک ایک گھونٹ کرکے اسے پیے گا اور وہ اتنا کڑوا، بدذائقہ، بدبو دار اور گرم ہوگا کہ قریب نہیں کہ گلے سے اتار سکے، مگر پیاس کا عذاب اسے پینے پر مجبور کرے گا اور اندر جا کر وہ ان کی انتڑیاں کاٹ دے گا۔ دیکھیے سورة محمد (١٥) ۔ وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ ۔۔ : اور ہر جگہ سے اسے موت آتی دکھائی دے گی، کیونکہ جہنم کی ایک ایک چیز موت کے لیے کافی ہے، مگر وہ کسی صورت مرنے والا نہیں، کیونکہ وہاں موت ہوگی ہی نہیں۔ ” بِمَيِّتٍ “ کی باء سے نفی کی تاکید ہوئی، اس لیے ترجمہ میں ” کسی صورت “ کا اضافہ ہوگیا۔ دیکھیے سورة فاطر (٣٦) اور سورة اعلیٰ (١٣) ۔ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ : یعنی اس کے بعد اور سخت عذاب ہے۔ اب اس کی مختلف صورتیں تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، جن میں سے بہت سی چیزیں قرآن و حدیث میں مذکور ہیں، البتہ عذاب کے طور پر مسلط ہونے والی بھوک اور زقوم کے کھانے کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے، فرمایا : (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43؀ۙ طَعَامُ الْاَثِيْمِ 44؀ٻ كَالْمُهْلِ ڔ يَغْلِيْ فِي الْبُطُوْنِ 45؀ۙكَغَلْيِ الْحَمِيْمِ 46؀ خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَاۗءِ الْجَحِيْمِ 47؀ ڰ ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيْمِ 48؀ۭذُقْ ڌ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ ) [ الدخان : ٤٣ تا ٤٩ ] ” بیشک زقوم کا درخت۔ گناہ گار کا کھانا ہے۔ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح، پیٹوں میں کھولتا ہے۔ گرم پانی کے کھولنے کی طرح۔ اسے پکڑو، پھر اسے بھڑکتی آگ کے درمیان تک دھکیل کرلے جاؤ۔ پھر کھولتے پانی کا کچھ عذاب اس کے سر پر انڈیلو۔ چکھ، بیشک تو ہی وہ شخص ہے جو بڑا زبردست، بہت باعزت ہے۔ “ جہنم کے سخت عذاب کا اندازہ دنیا میں کسی طرح نہیں ہوسکتا جس کی آگ ہی یہاں کی آگ سے ستر (٧٠) گنا گرم ہے، البتہ جہنم کے سب سے کم عذاب کا بیان جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے، اس سے سخت عذاب کا کچھ نہ کچھ اندازہ کرلیں، حقیقی علم تو ممکن ہی نہیں، نہ وہ بیان میں آسکتا ہے۔ نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ أَہْوَنَ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَہُ نَعْلاَن وَ شِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ ، یَغْلِيْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ ، کَمَا یَغْلِي الْمِرْجَلُ مَا یَرَی أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْہُ عَذَابًا، وَ إِنَّہُ لَأَہْوَنُہُمْ عَذَابًا ) [ مسلم، الإیمان، باب أھون أھل النار عذابا : ٣٦٤؍٢١٣ ]” اہل نار میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ ہوگا جس کے لیے آگ کے دو جوتے اور دو تسمے ہوں گے، ان دونوں سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا ہوگا جیسے ہانڈی ابلتی ہے، وہ نہیں خیال کرے گا کہ اس سے زیادہ بھی کسی کو عذاب ہو رہا ہے، حالانکہ وہ ان سب سے کم عذاب والا ہوگا۔ “ [ نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ جَمِیْعِ عَذَاب الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَّتَجَرَّعُهٗ وَلَا يَكَادُ يُسِيْغُهٗ وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ۭ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ 17؀ جرع جَرِعَ الماء يَجْرَعُ ، وقیل : جَرَعَ «7» ، وتَجَرَّعَهُ : إذا تكلّف جرعه . قال عزّ وجلّ : يَتَجَرَّعُهُ وَلا يَكادُ يُسِيغُهُ [إبراهيم/ 17] ، والجُرْعَة : قدر ما يتجرّع، وأفلت بجُرَيْعَة الذّقن «1» ، بقدر جرعة من النفس . ونوق مَجَارِيع : لم يبق في ضروعها من اللبن إلا جرع، والجَرَعُ والجَرْعَاء : رمل لا ينبت شيئا كأنّه يتجرع البذر . ( ج ر ع) جرع ( ف) جرعا الماء گھونٹ گھونٹ کرکے پانی پینا اور بقول بعض جرع ( س) آتا ہے ۔ تجرعہ ( تفعل ) تکلف سے گھونٹ گھونٹ کرکے پی گیا ۔ گویا اس کا پینا طبعیت پر ناگوار گزررہا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ يَتَجَرَّعُهُ وَلا يَكادُ يُسِيغُهُ [إبراهيم/ 17] وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پئے گا اور گلے سے نہیں اتار سکیگا ۔ جرعۃ ایک مرتبہ گھونٹ سے نگلنا مثل مشہور ہے افلت بجریعۃ الذقن وہ ہلاکت کے قریب پہنچ کر بچ نکلا ۔ نوق مجاریع وہ اونٹنیاں جن کا دودھ تقریبا خشک ہوگیا ہو ۔ الجرع والجرعاء ریگستان جس میں کچھ نہ اگے گویا وہ بیج کو نگل لیتا ہے ۔ ساغ سَاغَ الشّراب في الحلق : سهل انحداره، وأَسَاغَهُ كذا . قال : سائِغاً لِلشَّارِبِينَ [ النحل/ 66] ، وَلا يَكادُ يُسِيغُهُ [إبراهيم/ 17] ، وسَوَّغْتُهُ مالا مستعار منه، وفلان سوغ أخيه : إذا ولد إثره عاجلا تشبيها بذلک . ( س و غ ) ساغ الشراب فی لخلق کے معنی شراب کے آسانی کے ساتھ حلق سے نیچے اتر جانا کے ہیں واساغہ کزا ( افعال ) کے معنی حلق سے نیچے اتار نے کے چناچہ قرآن میں ہے ۔ سائِغاً لِلشَّارِبِينَ [ النحل/ 66] پینے والوں کے لئے خوش گوار ہے ۔ وَلا يَكادُ يُسِيغُهُ [إبراهيم/ 17] اور گلے سے نہیں اتار سکے گا ۔ اور اسی سے استعارہ کے طور پر کہا جاتا ہے سو غتہ مال میں نے اس کے لئے مال خوشگوار بنادیا یعنی مباح کردیا اور پھر اس کے کے ساتھ تشبیہ دے کر فلان سوغ اخیہ کا محاورہ اس بچے کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو اپنے بھائی کے بعد جلدی دی پیدا ہو یہ مذکر ومونث دونوں کے حق مٰن بولا جاتا ہے موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی مینو مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے غلظ الغِلْظَةُ ضدّ الرّقّة، ويقال : غِلْظَةٌ وغُلْظَةٌ ، وأصله أن يستعمل في الأجسام لکن قد يستعار للمعاني كالكبير والکثير «1» . قال تعالی: وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً [ التوبة/ 123] ، أي : خشونة . وقال : ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلى عَذابٍ غَلِيظٍ [ لقمان/ 24] ، مِنْ عَذابٍ غَلِيظٍ [هود/ 58] ( ع ل ظ ) الغلظۃ ( غین کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ ) کے معنی موٹاپا یا گاڑھازپن کے ہیں یہ رقتہ کی ضد ہے اصل میں یہ اجسام کی صفت ہے ۔ لیکن کبیر کثیر کی طرح بطور استعارہ معانی کے لئے بھی استعمال ہوتاز ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً [ التوبة/ 123] چاہئے کہ وہ تم میں سختی محسوس کریں میں غلظتہ کے معنی سخت مزاجی کے ہیں ۔ نیز فرمایا۔ ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلى عَذابٍ غَلِيظٍ [ لقمان/ 24] پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لیجائیں گے ۔ مِنْ عَذابٍ غَلِيظٍ [هود/ 58] عذاب شدید سے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ) شدید تکلیف میں موت انسان کو راحت پہنچا دیتی ہے۔ بعض بیمار ایسے ہوتے ہیں کہ تکلیف کی شدت میں ایڑیاں رگڑ رہے ہوتے ہیں اور موت ان کے لیے راحت کا سامان بن جاتی ہے۔ لیکن جہنم ایسی جگہ ہے کہ جہاں انسان کو موت نہیں آئے گی۔ سورة طٰہٰ میں اس کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : (لَا یَمُوْتُ فِیْہَا وَلَا یَحْیٰی) ” نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جی پائے گا “۔ اہل جہنم شدید خواہش کریں گے کہ موت آجائے اور ان کا قصہ تمام ہوجائے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی۔ (وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ) یعنی اس سختی میں مسلسل اضافہ ہوتا جائے گا عذاب کی شدت درجہ بدرجہ بڑھتی ہی چلی جائے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

11: یہ ترجمہ اِمام رازی رحمۃ اﷲ علیہ کی بیان فرمائی ہوئی ایک تفسیر پر مبنی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں محسوس یہ ہوگا کہ وہ اس پانی کو حلق سے اُتار نہیں سکیں گے، لیکن گھونٹ گھونٹ کر کے بڑی مشکل سے اور بڑی دیر میں وہ حلق سے اُترے گا۔ 12: ہر طرف سے موت آنے کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کی جو مختلف صورتیں سامنے آئیں گی، وہ ایسی ہوں گی جو دُنیا میں جان لیوا اور موت کا سبب ہوتی ہیں، مگر وہاں ان کی وجہ سے انہیں موت نہیں آئے گی۔ 13: یعنی ہر عذاب کے بعد ایک دوسرا سخت عذاب آنے والا ہوگا، تاکہ ایک ہی قسم کا عذاب سہہ سہہ کر اِنسان اُس کا عادی نہ ہوجائے۔ والعیاذ باﷲ تعالیٰ۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(14:17) یتجرعہ۔ مضارع واحد مذکر غائب ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع ماء صدید ہے۔ تجرع مصدر ( باب تفعل) وہ اس پانی کو گھونٹ گھونٹ کر پئے گا۔ باب تفعّل کی خصوصیات میں تکلف ہے۔ یعنی پیاس کی شدت کے باعث وہ پینے پر مجبور بھی ہوگا لیکن اس بدبودار کھولتی ہوئی پیپ کو پئے تو کیونکر۔ حلق سے اترے تو کیسے۔ ایک آدھ گھونٹ اور وہ بھی بڑی مشکل سے۔ جرع مصدر ۔ (باب نصروسمع) جرعۃ گھونٹ۔ لا یکاد یسیغہ۔ یکاد۔ مضارع واحد مذکر غائب کود مصدر ۔ قریب ہے۔ لا یکاد قریب نہ تھا۔ کاد یکاد اگرچہ افعال تامہ ہیں۔ لیکن استعمال میں ان کے بعد کوئی دوسرا فعل ضرور ہوتا ہے جس کے واقع ہونے کے قرب کو کاد سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یسیغہ۔ مضارع واحد مذکر غائب اساغۃ مصدر باب افعال ہُ ضمیر مفعول اس کا مرجع ماء صدید ہے۔ ساغ یسیغ (ضرب) سیغ سوغ مادہ۔ کے معنی ہیں شراب کا آسانی کے ساتھ حلق میں اتر جانا۔ باب افعال سے اساغ یسیغ کے معنی حلق سے نیچے اتارنے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے سائغا للشربین (16:66) پینے والوں کے لئے خوشگوار ہے۔ لا یکاد یسغہ۔ وہ اس کو (آسانی کے ساتھ حلق سے نیچے نہیں اتار سکے گا۔ من کل مکان۔ ای من جمیع الجھات۔ تمام اطراف سے، ہر سمت سے۔ میت۔ اسم صفت مجرور۔ مرنے والا۔ مردہ۔ وماھو بمیت اور (بایں ہمہ) وہ مرے گا نہیں۔ غلیظ غلظۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ سخت۔ شدید۔ اس کی جمع غلاظ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ۔ یعنی اسے آرام و سکون سے نہیں پئے گا جیسے پانی یا شربت پیا جاتا ہے بلکہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا کیونکہ وہ انتہائی کڑوا اور بدمزہ ہوگا۔ حضرت ابوامامہ (رض) سے روایت ہے کہ اس آیت کے بارے میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ (پیپ کا پانی) اس کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس سے ناک بھوں چڑھائے گا جب وہ اس کے قریب دے گا اور جب وہ اسے پئے گا تو اس کی آنتیں کٹ کر پیچھے سے نکل پڑیں گی۔ (ترمذی۔ نسائی) ۔ 7 ۔ یا ہر عضو سے موت کا سماں محسوس ہوگا۔ (ابن کثیر) ۔ 8 ۔ کیونکہ وہاں موت ہوگی ہی نہیں، جو اگر آجائے تو راحت مل جائے۔ (وحیدی) ۔ 9 ۔ یعنی ایک عذاب ختم نہ ہوگا کہ اس سے بھی سخت دوسرا عذاب پہلے سے تیار ہوگا۔ (کذافی القرطبی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ بلکہ یوں ہی سسکتا رہے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مزید فرمایا (وَ مِنْ وَّرَآءِہٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ) اور اس کے آگے سخت عذاب ہے جتنا بھی عذاب ہوگا آگے بڑھتا ہی رہے گا ختم نہ ہوگا اور ہلکا نہ ہوگا عذاب کی شدت میں اضافہ کردیا جائے گا جیسا کہ سورة نحل میں فرمایا (اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ زِدْنٰھُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ ) (جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم ان کے لیے بمقابلہ ان کے فساد کرنے کے عذاب بڑھا دیں گے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

17 ۔ وہ سرکش اس کو بہ تکلیف گھونٹ گھونٹ کر کے پئے گا اور اس کو سہولت اور آسانی کے ساتھ حلق سے نیچے نہ اتار سکے گا اور ہر طرف سے اس پر موت آرہی ہوگی اور اس کی حالت یہ ہوگی کہ وہ مرے گا نہیں اور اس عذاب کے آگے اور بھی سخت عذاب ہے۔ یعنی یہ پانی گرم بھی ہوگا اور کراہت بھی آئے گی لیکن پیاس کے مارے گھونٹ گھونٹ ک کے اسی کو پئے گا شش جہات اس کو موت آتی معلوم ہوگی اور ہر چہار طرف سے موت کے اسباب نمایاں ہوں گے لیکن موت کسی طرح بھی نہ آئے گی بلکہ اسی طرح مبتلا رہے گا اور اس کے پیچھے اور بھی مختلف انواع و اقسام کے عذاب ہوں گے جو غلظت اور سختی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہوگا ۔