Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 16

سورة الحجر

وَ لَقَدۡ جَعَلۡنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوۡجًا وَّ زَیَّنّٰہَا لِلنّٰظِرِیۡنَ ﴿ۙ۱۶﴾

And We have placed within the heaven great stars and have beautified it for the observers.

یقیناً ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور دیکھنے والوں کے لئے اسے سجا دیا گیا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Power of Allah and His Signs in the Heavens and on Earth Allah says, وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاء بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ And indeed, We have put the big stars in the heaven and We beautified it for the beholders. To those who ponder, and look repeatedly at the dazzling signs and wonders that are to be seen in the creation, Allah mentions His creation of the heavens, with their immense height, and both the fixed and moving heavenly bodies with which He has adorned it. Here, Mujahid and Qatadah said that; Buruj (big stars) refers to the heavenly bodies. I say: This is like the Ayah: تَبَارَكَ الَّذِى جَعَلَ فِى السَّمَأءِ بُرُوجاً Blessed be He Who has placed the big stars in the heavens. (25:61) Atiyah Al-Awfi said: "Buruj here refers to sentinel fortresses." وَحَفِظْنَاهَا مِن كُلِّ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

16۔ 1 بروج برج کی جمع ہے جس کے معنی ظہور کے ہیں۔ اسی سے تبرج ہے جو عورت کے اظہار زینت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں آسمان کے ستاروں کو بُرُوْج، ُ کہا گیا ہے کیونکہ وہ بلند اور ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں بُرُوْج سے مراد شمس و قمر اور دیگر سیاروں کی منزلیں ہیں، جو ان کے لئے مقرر ہیں اور یہ 12 ہیں۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ عرب ان سیاروں کی منزلوں اور ان کے ذریعے سے موسم کا حال معلوم کرتے تھے۔ اس میں کوئی قباحت نہیں البتہ ان سے تغیر پذیر ہونے والے واقعات و حوادث جاننے کا دعوی کرنا، جیسے آج کل بھی جاہلوں میں اس کا خاصا چرچہ۔ اور لوگوں کی قسمتوں کو ان کے ذریعے سے دیکھا اور سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کوئی تعلق دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حوادث سے نہیں ہوتا، جو کچھ بھی ہوتا ہے، صرف مشیت الہی ہی سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان برجوں یا ستاروں کا ذکر اپنی قدرت اور بےمثال صنعت کے طور پر کیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ واضح کیا ہے کہ یہ آسمان کی زینت بھی ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] آسمانوں کے برج :۔ اس آیت میں اگر کوئی شخص بروج کے لفظ سے وہ ہی بارہ برج مراد لیتا ہے جو قدیم اہل ہیئت نے فلک ہشتم پر بنا رکھے ہیں تو اس کی مرضی ہے ورنہ آیت کا سیاق اس کی تائید نہیں کرتا کیونکہ ان برجوں میں سے اکثر برجوں کی اشکال کا زینت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ بھلا سرطان (کیکڑا) عقرب (بچھو) ترازو اور ڈول وغیرہ کیا خوبصورتی پیدا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر علماء نے یہاں بروج سے ستارے اور سیارے مراد لیے ہیں جو رات کے وقت آسمان کو زینت بخشتے ہیں۔ لغوی لحاظ سے ہم نمایاں طور پر ظاہر ہونے والی ہر چیز کو برج کہہ سکتے ہیں خواہ وہ کوئی عمارت ہو یا گنبد ہو یا قلعہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا آسمان کو ایسا مزیں بنادینا بذات خود اس کی قدرت کی بہت بڑی نشانی ہے۔ پھر اس کے بعد انھیں اس کی اور کیا نشانی درکار ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّزَيَّنّٰهَا للنّٰظِرِيْنَ : ” بُرُوْجًا “ ” بُرْجٌ“ کی جمع ہے، جو اصل میں بڑے بلند و بالا اور مزین قلعہ یا محل کو کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ ) [ النساء : ٧٨ ] ” تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پالے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔ “ اس کا اصل معنی نمایاں اور ظاہر ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات (رض) سے فرمایا : (وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى) [ الأحزاب : ٣٣ ] ” اور پہلی جاہلیت کے زینت لگا کر نمایاں ہونے کی طرح زینت لگا کر ظاہر نہ ہو۔ “ مزید دیکھیے سورة بروج کی پہلی آیت۔ پچھلی آیات رسالت کے بعد اب توحید کا بیان شروع ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل کے لیے پہلے عالم بالا کا ذکر فرمایا ہے، پھر زمین کا، پھر ان کے درمیان کی چیزوں کا اور اس کے بعد آدم و ابلیس کا تذکرہ ہے۔ چناچہ فرمایا ہم نے آسمان میں عظیم الشان اور نمایاں برج بنائے ہیں، یعنی ستاروں کے نمایاں جھرمٹ، سورج اور چاند کی منازل جس سے رات کو ٹھنڈک والی روشنی اور دن کو تیز روشنی اور حرارت کے حصول کے علاوہ وقت، دنوں، مہینوں اور سالوں کا تعین ہوتا ہے۔ انسانوں، حیوانوں اور پودوں کی نشوونما، ان کی بقا اور بےانتہا ضرورتوں کا بندوبست ہوتا ہے، سمندر کا مدوجزر اور بیشمار فوائد جو تمہارے وہم و گمان میں بھی نہیں، انھی سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان سب کو بنانے والا، چلانے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے ؟ کسی کا دعویٰ ہے تو اسے سامنے لاؤ۔ بعض اہل علم نے ” بُرُوْجاً “ ان مقامات کو بھی بتایا ہے جہاں آسمان کے محافظ فرشتے رہتے ہیں۔ وَّزَيَّنّٰهَا للنّٰظِرِيْنَ : اللہ تعالیٰ کی قدرت و توحید کے دلائل میں سے ایک بہت بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ اس نے آسمان کو چاند، ستاروں اور سورج سے مزین کردیا ہے۔ رات کو ستاروں اور چاند کے ساتھ آسمان کی زینت کا نظارہ صحیح طرح وہاں ہوتا ہے جہاں مصنوعی روشنیاں نہ ہوں۔ یہ صرف ایک آسمان ہی پر موقوف نہیں، اس لامحدود قدرت والے نے جو چیز بھی پیدا کی خوب صورت پیدا کی اور اس میں زینت کا خاص اہتمام فرمایا، چھوٹے سے چھوٹے کیڑے سے لے کر بڑی سے بڑی مخلوق سب کچھ ہی کمال خوبصورت بنایا، فرمایا : (الَّذِيْٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ ) [ السجدۃ : ٧ ] ” جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی۔ “ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صاف ستھرا اور بن سنور کر رہنے کو پسند کرتے تھے، فرمایا : ( إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ ) [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : ٩١ ] ” بیشک اللہ خوبصورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ “ وہ سادھوؤں، جوگیوں یا راہبوں اور بیوقوف صوفیوں کی طرح گندے اور بدزیب ہو کر رہنے کو پسند نہیں کرتا۔ وہ دس چیزیں جنھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فطرت کا حصہ قرار دیا، مثلاً کلی، مسواک، زیر ناف کی صفائی وغیرہ، یہ اسی نظافت اور جمال کو کامل رکھتی ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequence Mentioned in the previous verses was the doggedness and hostility of deniers and disbelievers. In the present verse, and in those which follow immediately after, clear proofs of the Oneness, Knowledge and Power of Allah Ta’ ala have been given. Described alongside is what transpires before His creation between the heavens and the earth, a little deliberation in which on the part of a sensible person would make any denial impos¬sible. Commentary The word: بُرُ‌وجًا ; is the plural of: بُرُج (burj) which is applied to big palaces and castles and to similar other structural entities. Tafsir author¬ities Mujahid, Qatadah, Abu Salih and others have explained &buruj& at this place in the sense of big stars. As for the statement in this verse which points to the creation of these big stars in the sky, the word: السَّمَاءِ (as-sama’) sky means atmosphere which, in common modern day ter¬minology, is called the &space.& The application of &as-sama|" in both these senses is common, and recognized. Thus, the physical presence of deep space is identified as &as-sama|" and the atmosphere much lower than it has also been repeatedly termed as &as-sama|" in the Holy Qur&an. As for the planets and stars being in the space, and not in the skies, the rele¬vant investigative details, as coordinated with the verses of the Qur’ an and classical and modern astronomy, will Insh’ Allah appear under our comments on the verse: تَبَارَ‌كَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُ‌وجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَ‌اجًا وَقَمَرً‌ا مُّنِيرً‌ا (Blessed is He Who made in the sky stellar formations and made in it the Sun and the Moon providing light) of Surah Al-Furqan (25 :61).

پچھلی آیات میں منکرین کی ہٹ دھرمی اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں جو آگے آ رہی ہیں اللہ جل شانہ کے وجود، توحید، علم، قدرت کے واضح دلائل، آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی مخلوقات کے حالات ومشاہدات سے بیان کئے گئے ہیں جن میں ذرا بھی غور کیا جائے تو کسی عاقل کو انکار کی مجال نہیں رہتی ارشاد فرمایا۔ اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے پیدا کئے اور دیکھنے والوں کیلئے آسمان کو (ستاروں سے) آراستہ کیا۔ معارف و مسائل : بُرُوْجًا برج کی جمع ہے جو بڑے محل اور قلعہ وغیرہ کے لئے بولا جاتا ہے ائمہ تفسیر مجاہد، قتادہ، ابو صالح وغیرہ نے اس جگہ بروج کی تفسیر بڑے ستاروں سے کی ہے اور اس آیت میں جو ان بڑے ستاروں کا آسمان میں پیدا کرنا ارشاد ہے یہاں آسمان سے مراد فضاء آسمانی ہے جس کو آجکل کی اصطلاح میں خلا کہا جاتا ہے اور لفظ سماء کا دونوں معنی میں اطلاق عام و معروف ہے جرم آسمان کو بھی سما کہا جاتا ہے اور سیارات اور ستاروں کا آسمانوں کے اندر نہیں بلکہ فضاء آسمانی میں ہونا اس کی مکمل تحقیق قرآن کریم کی آیات سے نیز قدیم وجدید علم فلکیات کی تحقیق سے انشاء اللہ سورة فرقان کی آیت نمر 61 تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا کی تفسیر میں آئے گی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّزَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيْنَ 16۝ۙ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ برج البُرُوج : القصور، الواحد : بُرْج، وبه سمّي بروج السماء لمنازلها المختصة بها، قال تعالی: وَالسَّماءِ ذاتِ الْبُرُوجِ [ البروج/ 1] ، وقال تعالی: تَبارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّماءِ بُرُوجاً [ الفرقان/ 61] ، وقوله تعالی: وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ [ النساء/ 78] يصح أن يراد بها بروج في الأرض، وأن يراد بها بروج النجم، ويكون استعمال لفظ المشیدة فيها علی سبیل الاستعارة، ( ب ر ج ) البروج یہ برج کی جمع ہے جس کے معنی قصر کے بین اسی مناسبت سے ستاروں کے مخصوص منازل کو بروج کہا گیا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے وَالسَّماءِ ذاتِ الْبُرُوجِ [ البروج/ 1] آسمان کی قسم جس میں برج ہیں ۔ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّماءِ بُرُوجاً [ الفرقان/ 61] جس نے آسمان میں برج بنائے ۔ اور یہ آیت کریمہ ؛۔ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ [ النساء/ 78] خواہ بڑے بڑے محلوں میں ہو ۔ میں بروج سے مضبوط قلعے اور محلات بھی مراد ہوسکتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ستاروں کی برجیں مراد ہوں اور صورت میں بروج کے ساتھ فقط مشیدۃ کا استعمال بطور استعارہ ہوگا زين الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين، ( زی ن ) الزینہ زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک پہلو کے اعتبار سے زینت کہہ سکتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٦۔ ١٧۔ ١٨) اور ہم نے آسمان میں حفاظت کے لیے ایسے ستارے پیدا کیے جن سے خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راستہ حاصل کیا جاتا ہے اور ان ستاروں سے آسمان کو آراستہ اور مزین کیا کہ دیکھنے والوں کو اچھا معلوم ہوتا ہے اور آسمان کو ان ستاروں کے ذریعے ہر شیطان مردو وملعون سے محفوظ فرمایا کہ جب یہ شیاطین اوپرفرشتوں کی باتیں سننے کے لیے پہنچتے ہیں تو ان ستاروں سے اس کی حفاظت فرمائی، ہاں کوئی چوری چھپے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک گرم جلا دینے والا روشن شعلہ لپکتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦ (وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّزَيَّنّٰهَا للنّٰظِرِيْنَ ) ان برجوں کی اصل حقیقت کا ہمیں علم نہیں ہے اس لحاظ سے یہ آیت بھی آیات متشابہات میں سے ہے۔ البتہ رات کے وقت آسمان پر ستاروں کی بہار وہ دلکش منظر پیش کرتی ہے جس سے ہر دیکھنے والے کی آنکھ محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

8. In the preceding( Ayats 14-15) it was stated that the disbelievers had become so hardened against the Quran that they would not have believed in it even if they had ascended the Heaven and seen with their own eyes the signs mentioned in it. Now in (Ayats 16-22), some of the signs are being cited in order to convince there of its truth. Buruj (mansions of stars) are signs of Allah. For it is not possible to pass through one sphere of the Heaven into another, as each sphere of the space has been fortified by invisible boundaries. In this connection, it may be noted that literally the Arabic word burj means a fortified place, but as a technical term of ancient astronomy this stood for each of the twelve signs of the Zodiac, which marked the sun’s path through the heavens. This has led some of the commentators to form the opinion that in this verse the word buruj refers to the same. But there are some others who think that it means stars or planets. However, if we consider this word in the context of (Ayat 19), we are led to the conclusion that probably it stands for spheres. 9. “We have beautified it”: We have placed a shining star or planet in each of these spheres and made them look beautiful. In other words, it means; We have not made the boundless universe dismal, desolate and frightful, but so beautiful that one finds marvelous order and harmony in it everywhere, and sights therein are so attractive that each one of these charms hearts and minds. This wonderful structure of the universe is a clear proof of the fact that its Creator is not only Great and All-Wise but is also a perfect Artist. The Quran has also stated this aspect of the Creator in (Surah As-Sajadah, Ayat 7): (Allah is) that God Who has created in perfect beauty everything He has created.

سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :8 بُرج عربی زبان میں قلعے ، قصر اور مستحکم عمارت کو کہتے ہیں ۔ قدیم علم ہیئت میں ”برج“ کا لفظ اصطلاحا ان بارہ منزلوں کے لیے استعمال ہوتا تھا جن پر سورج کے مدار کو تقسیم کیا گیا تھا ۔ اس وجہ سے بعض مفسرین نے یہ سمجھا کہ قرآن کا اشارہ انہی بروج کی طرف ہے ۔ بعض دوسرے مفسرین نے اس سے مراد سیارے لیے ہیں ۔ لیکن بعد کے مضمون پر غور کرنے سے خیال ہوتا ہے کہ شاید اس سے مراد عالم بالا کے وہ خطے ہیں جن میں سے ہر خطے کو نہایت مستحکم سرحدوں نے دوسرے خطے سے جدا کر رکھا ہے ۔ اگرچہ یہ سرحدیں فضائے بسیط میں غیر مرئی طور پر کھچی ہوئی ہیں ، لیکن ان کو پار کر کے کسی چیز کا ایک خطے سے دوسرے خطے میں چلا جانا سخت مشکل ہے ۔ اس مفہوم کے لحاظ سے ہم بروج کو محفوظ خطوں ( Fortified Spheres ) کی معنی میں لینا زیادہ صحیح سمجھتے ہیں ۔ سورة الْحِجْر حاشیہ نمبر :9 یعنی ہر خطے میں کوئی نہ کوئی روشن سیارہ یا تارا رکھ دیا اور اس طرح سارا عالم جگمگا اٹھا ۔ بالفاظ دیگر ہم نے اس ناپائیدار کائنات کو ایک بھیانک ڈھنڈار بنا کر نہیں رکھ دیا بکہ ایسی حسین و جمیل دنیا بنائی جس میں ہر طرف نگاہوں کو جذب کر لینے والے جلوے پھیلے ہوئے ہیں ۔ اس کاریگری میں صرف ایک صانع اکبر کی صنعت اور ایک حکیم اجل کی حکمت ہی نظر نہیں آتی ہے ، بلکہ ایک کمال درجے کا پاکیزہ ذوق رکھنے والے آرٹسٹ کا آرٹ بھی نمایاں ہے ۔ یہی مضمون ایکل دوسرے مقام پر یوں بیان کیا گیا ہے ، اَلَّذِیْٓ اَحْسَنَ کُلَّ شیْ ءٍ خَلَقَہ ”وہ خدا کہ جس نے ہر چیز جو بنائی خوب ہی بنائی“ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: برج اصل میں قلعے کو کہتے ہیں، لیکن اکثر مفسرین نے کہا ہے یہاں بروج سے مراد ستارے ہیں 7: یعنی آسمان ستاروں سے سجا ہوا نظر آتا ہے یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ قرآن کریم نے آسمان کا لفظ مختلف مقامات پر مختلف معنی میں استعمال فرمایا ہے کہیں اس سے مراد ان سات آسمانوں میں سے کوئی آسمان ہوتا ہے جن کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اوپر تلے پیدا فرمایا ہے اور کہیں اس سے اوپر کی سمت مراد ہوتی ہے چنانچہ آگے آیت نمبر 21 میں جہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ آسمان سے پانی ہم نے اتارا ہے وہاں آسمان سے ہی معنی مراد ہیں۔ بظاہر اس آیت میں بھی یہی معنی مراد ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٦۔ ١٨۔ ان آیتوں میں اللہ پاک اپنی قدرت کا حال بیان فرماتا ہے کہ اس آسمان کو ہم نے کیسی حکمت اور ترکیب سے بنایا اس میں بڑے بڑے تاروں کے محل برجوں کی طرح بنائے ہیں اور چاند سورج ستاروں سے آسمان کو زینت دی ہے۔ آسمان میں بارہ برج ہیں ہر برج میں تیس تیس درجے جس میں آفتاب ہر روز سیر کرتا ہے ہر درجہ کو ایک ایک روز میں تمام کرتا ہے اور اس حساب سے تین سو ساٹھ دن میں یعنی ایک سال میں آسمان کا پورا دور ختم کرلیتا ہے جس کی وجہ سے جاڑا گرمی برسات کی فصلیں ہوتی ہیں اور ان فصلوں سے دنیا میں عجیب عجیب تغیر ہوتے رہتے ہیں اور طرح طرح کے نفع حاصل ہوتے ہیں جس دور کو سورج بیس دن میں پورا کرتا ہے چاند اس کو اٹھائیس دن میں پورا کرتا ہے اور جس طرح سورج کا دورہ فصلوں کے لئے ہے اسی طرح چاند کا دورہ مہینوں اور برس کے حساب کے لئے ہے چناچہ اس کا ذکر سورت یونس میں گزر چکا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ چاند سورج ستارے بروج ایسی کھلی کھلی دلیلیں ہیں جن سے ہر ذی ہوش خدا کی وحدانیت اور اس کے قادر ہونے پر دلیل پکڑ سکتا ہے۔ اس کے بعد یہ فرمایا کہ آسمان کو اس بات سے محفوظ رکھا کہ شیاطین یہاں آکر فرشتوں کی باتیں سن جاویں اور دنیا میں جا کر نئے نئے شعبدے اٹھاویں کیونکہ جب وہ یہاں کا قصد کرتے ہیں فرشتے آگ کے انگارے لئے کھڑے رہتے ہیں اور پھینک مارتے ہیں یہ جل بھن کر راکھ ہوجا تے ہیں ابوہریرہ (رض) کی صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کوئی حکم فرماتا ہے تو فرشتے تعظیم کے طور پر اپنے پر مارتے ہیں جس سے ایسی آواز نکلتی ہے جیسے لوہے کی زنجیر پتھر پر رگڑی اور گھسیٹی جائے جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے تو آپس میں پوچھتے ہیں کہ ہمارے رب نے کیا ارشاد کیا پاس والے فرشتے جواب دیتے ہیں کہ جو کچھ اس پاک اور برتر نے فرمایا بالکل ٹھیک اور برحق فرمایا وہ بڑا بزرگ ہے اور شیاطین بھی وہاں لگے رہتے ہیں ایک کے کاندھے پر ایک ایک پر ایک چڑھ کر آسمان تک پہنچتے ہیں اور وہاں کان لگائے فرشتوں کی یہ باتیں سنا کرتے ہیں اور سب سے اوپر کا شیطان اگر کوئی بات فرشتوں کی باتوں میں سے سن لیتا ہے تو اپنے نیچے کے شیطان سے کہہ دیتا ہے پھر وہ اس سے نیچے والے کو یہاں تک کہ وہ اس بات کو کاہنوں سے آن کر بیان کرتے ہیں اور کاہن ایک سچ میں سو جھوٹ ملا کر ظاہر کرتا ہے اسی واسطے کاہنوں کی بعض بعض باتیں سچ ہوجایا کرتی ہیں بہرحال جس وقت یہ شیطان کان لگاتا ہے فرشتے اوپر سے انگارے پھینک مارتے ہیں جس سے یہ شیطان جھلس جاتا ہے اور جلدی سے اس بات کو اپنے ساتھی سے کہنا چاہتا ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جلنے سے پہلے ہی کہہ چکتا ہے اور کبھی کہنے سے پہلے مرچکتا ہے۔ اس مضمون کی حدیث صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت سے بھی ہے۔ شیاطین آسمان پر کی سنی ہوئی باتیں جن لوگوں سے آن کر کہتے تھے یہ لوگ کاہن کہلاتے تھے۔ یہ کاہن لوگ شیاطینوں کی نذر نیاز کرتے رہتے تھے اس لئے شیاطین اپنا مرتبہ ان کاہنوں کی نظر میں بڑھانے کے لئے آسمان کی خبریں سن کر ان کاہنوں سے آن کر کہا کرتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی حدیث میں اسی واسطے کاہنوں کو شیاطینوں کے دوست فرمایا ہے ١ ؎۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے صحابہ نے کاہنوں کا ذکر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا آپ نے فرمایا یہ لوگ جو باتیں کہتے ہیں وہ اعتبار کے قابل نہیں ہوتیں اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ حضرت کوئی کوئی بات تو ان کاہنوں کی سچی ہوتی ہے آپ نے فرمایا انگارے برسنے سے پہلے کبھی جو بات حقیقت میں شیاطین آسمان پر سے سن آتے ہیں فقط وہ سچی نکل آتی ہے ورنہ کاہنوں اور انکے شیاطینوں کی سب باتیں جھوٹی اور گھڑی ہوئی ہوتی ہیں ٢ ؎۔ صحیح مسلم میں معاویہ بن الحکم سے روایت ہے ٣ ؎۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کاہنوں کے پاس جا کر آیندہ کی باتیں ان سے پوچھنے کو منع فرمایا ہے۔ ١ ؎ صحیح مسلم ص ٢٣٣ ج ٢ باب تحریم الکہانتہ دانیان الکہانتہ۔ ٢ ؎ صحیح مسلم ص ٢٣٣ ج ٢ باب تحریم الکہانتہ الخ۔ ٣ ؎ ص ٢٣٢ ج ١ باب تحریم الکہانتہ الخ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:16) بروجا۔ برج کی جمع ہے برج کا لغوی معنی ہے ظاہر ہونا۔ اس سے عورت کے بنائو سنگار کر کے نمائش دکھا وے کو تبرج کہتے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولی۔ (33:33) اور جاہلیت قدیم کے مطابق اپنے کو دکھاتی مت پھرو۔ اسی لغوی کے معنی کی مناسبت سے اس کا اطلاق ان چیزوں پر ہونے لگا جو دور سے نمایاں ہوتی ہیں مثلاً قلعہ۔ محل۔ شاہراہ وغیرہ۔ اسی وجہ سے وہ بڑے بڑے ستارے جو دور سے نمایاں ہوتے ہیں۔ اہل عرب بُرج کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ روح المعانی میں ہے ۔ المراد بالبروج الکواکب العظام بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں بعض نے ان سے مراد وہ بارہ برج لئے ہیں جو مدار آفتاب کو بارہ حصوں میں تقسیم کرنے سے بنتے ہیں ان میں سے ہر ایک حصہ کو برج کہتے ہیں اور علمائے ہیئت نے ہر ایک کا علیحدہ نام رکھا ہے مثلاً حمل۔ ثور۔ جوزا۔ سرطان۔ اسد۔ سنبلہ ۔ میزان۔ عقرب ۔ قوس۔ جدی ۔ دلو۔ حوت۔ قرآن حکیم میں مضبوط قلعے۔ محلات کے معنی میں آتا ہے۔ ولو کنتم فی بروج مشیدۃ (4:78) خواہ تم بڑے بڑے محلوں میں رہو۔ زینھا۔ زینا۔ ماضی جمع متکلم۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ مفعول ہم نے اس کو مزین کیا ہم نے ان کو زینت دی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 ۔ رسالت کے بعد اب توحید کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ (رازی) ۔ ” برج “ عربی زبان میں قلعہ یا منزل کو کہتے ہیں۔ کہاں برجوں سے مراد وہ منزلیں ہیں جن سے سورج اپنی گردش کے دوران میں گزرتا ہے اور وہ تعداد میں بارہ ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ برج وہ آسمانی قلعے ہیں جن میں فرشتے پہرا دیتے ہیں۔ (شوکانی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٢) اسرارومعارف حالانکہ قدرت باری اس قدر ہویدا ہے کہ آسمانوں میں چڑھے بغیر اس کی عظمت پہ دلالت کرتی نظر آتی ہے آخر ہم نے ہی تو آسمانوں میں بہت بڑے بڑے ستارے اور سیارے سجا دیئے اور خلا کو دیکھنے والوں کے لیے بہت خوبصورت بنا دیا جہاں ان میں اور بیشمار حکمتیں ہیں وہاں آسمانوں کی حفاظت کا کام بھی ان سے لیا اور پھر شیطان مردود کو ان کے باعث آسمانوں سے دور کردیا کہ ان میں کی ٹوٹ پھوٹ اور ان کی روشنی و گرمی اور مختلف اثرات فضا اور خلا کی ایک خاص حد سے آگے کسی کو بڑھنے نہیں دیتے حتی کہ شیاطین تک سوائے اس کے کسی شیطان نے خلا میں سے چوری چھپے کوئی بات فرشتوں سے سن لی تو اس کے پیچھے روشن شعلہ لپکتا ہے جو اسے ہلاک کردیتا ہے یا وہ بدحواس ہو کر کچھ سننے کی بجائے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے ، (شہاب ثاقب) ابلیس کے آسمان سے نکالے جانے کے بعد اس کی رسائی آسمان پر تو نہ ہو سکتی تھی مگر وہ اور اس کی اولاد خلا میں آسمانوں کے قریب چلے جاتے اور کوئی نہ کوئی بات فرشتوں سے سن کرلے اڑتے جس کی خبر کاہنوں کو کرتے اور اپنے اندازے سے اس میں خوب جھوٹ بھی ملاتے اس طرح کفر کا کاروبار چلتا تھا حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت پر شیاطین کو اس سے بھی روک دیا گیا جس کے باعث عرب کے مشہور کاہنوں کا کاروبار بھی بہت متاثر ہوا اور کفر کے پھیلنے کا ایک سبب ختم ہوا یہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظیم برکات میں سے ایک ہے ، چناچہ اس کے بعد چوری چھپے سننے والے شیطانوں کو شہاب ثاقب سے روک دیا گیا جہاں تک سائنسدانوں کا اور فلاسفہ کا خیال کہ خلا میں بعض بخارات آگ پکڑتے ہیں یا کسی ستارے یا سیارے کا کوئی حصہ ٹوٹ کر گرتا ہے اور یہ خلا میں ایک معمول کا عمل ہے تو یہ اپنی جگہ درست ہے کہ علما کے مطابق یہ شہاب ثاقب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے بھی ہوتے تھے مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد انہی سے شیطانوں کو بھگانے کام بھی لیا جانے لگا ۔ اور زمین کو بھی تو ہم نے پھیلایا ، اور اس پر بڑے بڑے پہاڑ ٹکا دیئے اور اس میں بیشمار روئیدگی کتنے خوب صورت انداز اور ایک خاص مقدار میں پیدا فرمائی حتی کہ چیزوں کے وجود ، رنگ اور ذائقے تک میں اس قدر اندازہ متعین فرمایا کہ ہر اعتبار سے انسانی ضروریات کی تکمیل میں کام آسکیں عمارتی لکڑی کا قد کاٹھ ملاحظہ ہو اور سوختنی کا ایسے ہی پھلوں کو دیکھیں تو بڑے بڑے پھل زمین پر پڑے بیلوں سے اور چھوٹے درختوں سے لگا دیئے گندم کا خوشہ اپنے انداز سے پیدا ہوا اور مکی کا سٹہ اپنی صورت لے کر نیز مقدار میں بھی کتنا خوبصورت اندازہ کار فرما ہے کہ نہ تو اس قدر بہتات کہ گلتے سڑتے رہیں اور ساری فضا ہی متعفن کردیتے غرض ہر شئے ہر اعتبار سے کتنی موزوں اور مناسب ہے اور پھر ان نعمتوں کے حصول کے ذرائع اور معیشت کے اسباب پیدا فرما دیئے یونہی ہر چھت پر یا ہر صحن میں بارش نہیں ہو رہی بلکہ انسانوں کو کسب معاش کرنا پڑتا ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ کتنے بیشمار جاندار ہیں جن کی غذا کا سامان انسان کی ذمہ داری نہیں تو انہیں یہی سامان حیات ہر جگہ مفت مل جاتا ہے ۔ غرض اللہ جل جلالہ کے پاس تو ہر شے کے نہ ختم ہونے والے خزانے ہیں مگر ہر چیز ایک متعین اور مقرر مقدار میں دنیا میں نازل کی جاتی ہے ، پھر اپنے آبی نظام کو دیکھو کہ کتنا عجیب اور اس کی قدرت کا نمونہ ہے کہ پانی کے سمندروں کو تلخ اور کھاری بنا دیا کہ وہ خود گلتے سڑتے نہیں مگر ان میں ملنے والی ہر آلائش گل سڑ جاتی ہے اگر میٹھے ہوتے تو تعفن پیدا کر کے زمین پر زندگی ناممکن بنا دیتے پھر انہی کو زمین کی حیات کی سیرابی کا سبب بنایا کہ سورج نے بھاپ بنائی اور ہوائیں بادلوں کو لے اڑیں اور جہاں جہاں جس قدر اللہ جل جلالہ کو منظور ہوا بارش کی صورت میں برسا دیا پھر انسان کے بس میں نہ تھا کہ اپنی سب ضرورتوں کا پانی ذخیرہ کرلیتا یا پھر روزانہ بارش برستی تو زندگی دشوار ہوجاتی ، لہذا ایسا اہتمام فرما دیا کہ پہاڑوں پر برف کی صورت میں محفوظ فرما دیا جو گرد و غبار سے پاک اور آلودگی سے دور محفوظ رہتا ہے پھر پانی بن بن کر دریا بہاتا ہے تو کبھی زمین میں رس رس کر چشمے کی صورت پھوٹتا اور اندیوں کی شکل بہتا ہے اور انسان حیوان اور نباتات تک کو سیراب کرتا چلا جاتا ہے کیا یہ سب نشانیاں اس کی عظمت ہی کا اظہار نہیں ہیں ۔ یقینا یہ سارا نظام ہی قدرت کاملہ پر گواہ ہے اور ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور موت دیتے ہیں بلکہ اللہ جل جلالہ ہی باقی رہنے والا اور ہر شے کا وارث ہے نیز جس کے علم عالی میں ایک قطرہ ایک ایک ذرہ ہے وہ یقینا تم میں بھلائی میں سبقت حاصل کرنے والوں سے بھی واقف ہے اور پیچھے رہ جانے والوں کو بھی جانتا ہے اور آپ کا رب ہی سب کو دوبارہ اکٹھا کرے گا کہ وہی سب حکمتوں کا مالک اور ہر شے کا علم رکھنے والا ہے ، لہذا ہر ایک کے اعمال کے مطابق درجہ بندی فرمائے گا ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 بروج (برج) اونچی اور بلند عمارت، قلعے۔ زینا ہم نے زینت دی، خوبصورت بنایا۔ نظرین دیکھنے والے۔ حفظنا ہم نے حفاظت کی رجیم مردود، نکالا گیا ۔ استرق (استراق) جس نے چوری سے کوئی چیز اڑا لی ہو ۔ السمع سننا اتبع پیچھے لگ گیا شھاب انگارا۔ آگ مدد پھیلا دیا۔ القینا ہم نے ڈال دیا۔ رواسی بوجھ۔ پہاڑ ۔ انبتنا ہم نے اگایا موزون اندازہ، مقدار۔ معایش زندگی گذارنے کا سامان۔ لستم تم نہیں ہو۔ خزائن خزانے ، ذخیرہ۔ قدر معلوم اندازے مقرر، متعین الریح (ریح) ہوائیں لواقع (لاقحۃ ) بوجھل بھرپور اسقینا ہم نے سیراب کردیا۔ پلایا ۔ خازنین خزانے والے نحی ہم زندگی دیتے ہیں نمیت ہم موت دیتے ہیں ۔ الوارثون مالک، وارث علمنا ہم نے جان لیا۔ المستقدمین (استقدام) آگے رہنے والے المستاخرین پیچھے رہنے والے یحشر وہ جمع کرے گا۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 25 اس سے پہلی آیات میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو نازل فرمایا جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے خود ہی اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ اسی طرح وہ اللہ انبیاء کرام اور ان کی نبوت کا بھی محفاظ و نگران ہے کفار و مشرکین استھزاء اور مذاق کے ذریعہ اس نور کو بجھانے کی کوشش میں کسر اٹھا نہیں رکھتے ہر طرح کے ظلم و ستم، زیادتیوں اور مذاق کے ہتھیار استعمال کر کے انبیاء کرام کو مغلوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو ہر طرح کا غلبہ و قوت عطا فرما کر کفار و مشرکین کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔ انکار نبوت کی نحوستوں کے بعد انکار توحید کرنے والوں کے متعلق فرمایا جا رہا ہے کہ کیا یہ لوگ اس کائنات کو دیکھ کر اتنا بھی غور نہیں کرتے کہ : 1) اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایک خاص انداز سے ترتیب دیا ہے جس میں روشنیوں کو اس نے پھیلا دیا ہے بڑے بڑے ستارے، سیارے بنائے جن کو انسان رات دن کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے آسمان کی بلندیوں کو اتنا حسین اور خوبصورت بنایا ہے کہ جب رات کو چاند اور ستارے چمکتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے اللہ نے کہکشاں بکھیر دی ہے۔ انہوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ اتنا بڑا نظام کس نے پیدا کیا یقینا وہ ایک اللہ کی ذات ہے اسی نے اس کائنات اور اس کی خوبصورتیوں کو پیدا کیا وہی اس کا محافظ ، نگراں اورس نبھالنے والا ہے۔ جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے ہزاروں نشانیاں ان ہی میں موجود ہیں۔ 2) پھر آسمانوں پر شیطان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ شیطان اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ وہ آسمانوں کی طرف بلند ہو کر فرشتوں کی گفتگو سے آئندہ ہونے والے حالات کی کچھ سن گن لیں۔ پہلے اس کی کسی حد تک اجازت بھی تھی لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں اس کی بھی ممانعت کردی گئی ہے۔ اب اگر وہ جنات و شیاطین آسمانوں کی طرف بلند ہونا چاہتے ہیں تاکہ وہاں کی کچھ خبریں حاصل کرسکیں تو ان پر (شہاب ثاقب) شعلوں کی بارش کردی جاتی ہے تاکہ وہ کسی بات کو چوری چھپے بھی نہ سن سکیں۔ 3) اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے زمین کو بڑی وسعت دی ہے اس کو خوب پھیلایا ہے۔ اس میں طرح طرح کے پھل پیدا کئے انسانی ضروریات کی تمام چیزوں کو پیدا کیا اور اس میں ایک ایسا تو ازن پیدا کردیا تاکہ ہر چیز ایک تعداد اور اندازے کے مطابق ہو۔ فرمایا کہ یہ اللہ ہی کا کرم ہے کہ اس نے پہاڑوں کو میخوں کی طرح زمین میں گاڑ دیا تاکہ زمین اپنا تو ازن برقرار رکھ سکے اور ادھر ادھر ڈھلک نہ جائے۔ اسی زمین میں جہاں انسانوں کے لئے ہر چیز پیدا کی وہیں جانوروں کے لئے بھی غذا پیدا کی گئی۔ حالانکہ اصولاً تو ان جانوروں کا رزق انسانوں کے ذمے ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہ ان کو استعمال کرتے ہیں لیکن فرمایا کہ انسان ہوں یا جانور زمین پر رینگنے والے، سمندروں میں پلنے والے جانور اور فضاؤں میں اڑنے والے پرندوں کا رزق ہمارے ذمے ہے انسان کی یہ ذمہ داری نہیں رکھی گئی۔ فرمایا کہ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا اتنا بڑا نظام خود بخود چل رہا ہے ؟ حالانکہ زمین و آسمان کا یہ پورا نظام اپنے خالق ومالک کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ کوئی ذات ہے جو اس پورے نظام کو چلا رہی ہے۔ فرمایا کہ ہم نے ہر چیز کو ایک خاص تعداد، اندازے اور تو ازن سے پیدا کیا ہے۔ زمین میں اتنے خزانے چھپا دیئے ہیں کہ وہ ہر دور کے انسانوں کی ضرورت کے لئے کافی ہیں۔ 4) پھر فرمایا کہ ہم نے صرف زمین ہی نہیں بنائی بلکہ اس زمین کو سیراب کرنے کا بھی ایک نظام بنایا ہے خوب ہوائیں چلائیں جو بادلوں کو لے کر چلتی ہیں۔ پھر اللہ جہاں چاہتا ہے ان بادلوں سے پانی برسا دیتا ہے جس سے زمین کی پیاس بجھ جاتی ہے اور مردہ زمین کو ایک نئی زندگی مل جاتی ہے۔ اس پانی سے نہریں چشمے دریا اور ندیاں بہتی ہیں جو پورے سال مستقل اس زمین پر رہنے والے انسانوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ حالانکہ یہ دنیا ہمیشہ رہنے کے لئے نہیں بنائی بلکہ وقتی گذارے کے لئے بنائی گئی ہے۔ آخر کار یہ زمین بھی فنا کردی جائے گی صرف ایک اللہ کی ذات باقی رہے گی۔ وہ اللہ تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا فرمائے گا اور ایک میدان میں جمع کر کے ان سے پوری زندگی کا حساب لے گا۔ جو لوگ نیکیوں اور پرہیزگاری کے ساتھ زندگی گذار کر آئیں گے ان کے لئے جنت کی ابدی راحتیں ہوں گی لیکن جو لوگ اللہ کی نافرمانی میں زندگی گذار کر آئے ہوں گے ان کے لئے ابدی جہنم اور اس کی آگ ہوگی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ بروج کی تفسیر کواکب کے ساتھ مجاہد اور قتادہ سے اور کو اب عظام کے ساتھ ابو صالح سے در منثور میں منقول ہے، مجازا و تشبیہا ان کو بروج کہہ دیا گیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید آسمان سے نازل کیا گیا ہے۔ اس لیے مناسب سمجھا کہ آسمان کے نظام کا مختصر ذکر کیا جائے۔ خالق کائنات کا ارشاد ہے کہ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے خوبصورت بنایا اور شیطان مردود سے انہیں محفوظ کردیا۔ اگر کوئی شیطان چوری چھپے سننا چاہے تو ایک روشن اور بھڑکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ پرانے زمانے کے اہل ہئیت یعنی فلکیات کا علم رکھنے والے لوگوں نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد وہ برج نہیں ہیں۔ بروج سے مراد کچھ اہل علم نے پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں۔ جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان میں داخل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بروج سے مراد آسمان کے دروازوں میں ڈیوٹی دینے والے چوکیدار ملائکہ ہوں جن کو اللہ تعالیٰ نے شہاب ثاقب کی صورت میں اسلحہ دے رکھا ہو جن سے وہ شیاطین کو بھگاتے ہیں۔ اکثر علماء نے بروج سے مراد ستارے اور سیارے لیے ہیں۔ جن سے آسمان کو خوبصورت اور محفوظ بنایا گیا ہے۔ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے برج کے بارے میں ہمیں کوئی وضاحت نہیں ملتی۔ البتہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آسمان کی حفاظت اور شیاطین کے تعاقب کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے۔ (رواہ البخاری : کتاب التفسیر سورة سبا) ” شہاب مبین “ کے لغوی معنی ” روشن شعلہ “ کے ہیں۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں اس کے لیے ” شہاب ثاقب “ کا لفظ استعمال ہوا ہے، یعنی ” تاریکی کو چھیدنے والا شعلہ۔ “ اس سے مراد ضروری نہیں کہ وہ ٹوٹنے والا تارہ ہی ہو جسے ہماری زبان میں شہاب ثاقب کہا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ شعاعیں ہوں، مثلاً کائناتی شعائیں (Cosmic Rays) یا ان سے بھی زیادہ شدید قسم کی کوئی چیز جو ابھی ہمارے علم میں نہ آئی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہی شہاب ثاقب مراد ہوں جنہیں کبھی کبھی ہماری آنکھیں زمین کی طرف گرتے ہوئے دیکھتی ہیں۔ زمانۂ حال کے مشاہدات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ دوربین سے دکھائی دینے والے شہاب ثاقب جو فضائے بسیط سے زمین کی طرف آتے نظر آتے ہیں، ان کی تعداد کا اوسط ١٠ کھرب روزانہ ہے، جن میں سے دو کروڑ کے قریب ہر روز زمین کے بالائی خطے میں داخل ہوتے ہیں اور بمشکل ایک زمین کی سطح تک پہنچتا ہے۔ ان کی رفتار بالائی فضا میں کم و بیش ٢٦ میل فی سیکنڈ ہوتی ہے جو بسا اوقات ٥٠ میل فی سیکنڈ تک دیکھی گئی ہے۔ بارہا ایسا بھی ہوا ہے کہ برہنہ آنکھوں نے بھی ٹوٹنے والے تاروں کی غیر معمولی بارش دیکھی ہے۔ چناچہ یہ چیز ریکارڈ پر موجود ہے کہ ١٣ نومبر ١٨٣٣ ء کو شمالی امریکہ کے مشرقی علاقے میں صرف ایک مقام پر نصف شب سے لے کر صبح تک ٢ لاکھ شہاب ثاقب گرتے ہوئے دیکھے گئے۔ (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا) ہوسکتا ہے کہ یہی بارش عالم بالا کی طرف شیاطین کی پرواز میں مانع ہوتی ہو، کیونکہ زمین کے بالائی حدود سے گزر کر فضائے بسیط میں ١٠ کھرب روزانہ کے اوسط سے ٹوٹنے والے تاروں کی برسات ان کے لیے اس فضا کو بالکل ناقابل عبور بنا دیتی ہے۔ (بحوالہ تفہیم القرآن) (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِذَا قَضَی اللّٰہُ الأَمْرَ فِی السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلاَءِکَۃُ بِأَجْنِحَتِہَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ کَالسِّلْسِلَۃِ عَلَی صَفْوَانٍ قَالَ عَلِیٌّ وَقَالَ غَیْرُہُ صَفْوَانٍ یَنْفُذُہُمْ ذَلِکَ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ ، قَالُوا لِلَّذِیْ قَالَ الْحَقَّ وَہْوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ ، فَیَسْمَعُہَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ ہَکَذَا وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَوَصَفَ سُفْیَانُ بِیَدِہِ ، وَفَرَّجَ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدِہٖ الْیُمْنَی، نَصَبَہَا بَعْضَہَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَکَ الشِّہَابُ الْمُسْتَمِعَ ، قَبْلَ أَنْ یَرْمِیَ بِہَا إِلَی صَاحِبِہِ ، فَیُحْرِقَہُ وَرُبَّمَا لَمْ یُدْرِکْہُ حَتّٰی یَرْمِیَ بِہَا إِلَی الَّذِیْ یَلِیہِ إِلَی الَّذِی ہُوَ أَسْفَلُ مِنْہُ حَتَّی یُلْقُوہَا إِلَی الأَرْضِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْیَانُ حَتّٰی تَنْتَہِیَ إِلَی الأَرْضِ فَتُلْقَی عَلَی فَمِ السَّاحِرِ ، فَیَکْذِبُ مَعَہَا ماءَۃَ کَذْبَۃٍ فَیَصْدُقُ ، فَیَقُوْلُوْنَ أَلَمْ یُخْبِرْنَا یَوْمَ کَذَا وَکَذَا یَکُوْنُ کَذَا وَکَذَا، فَوَجَدْنَاہُ حَقًّا لِلْکَلِمَۃِ الَّتِی سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُبِینٌ)] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ حدیث پہنچی جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر ہلاتے ہیں جس طرح کہ چٹان پر پھوار پڑتی ہے حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ ملائکہ اس حکم کا نفاذ کرتے ہیں جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا وہ کہتے ہیں حق فرمایا۔ وہی سب سے بلند وبالا ہے پس شیاطین اسے چوری چھپے سنتے ہیں اور ان کے سننے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے کندھوں پر سوار ہوتے ہوئے آسمان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سفیان نے اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھتے ہوئے سے اس کو بیان کرتے کیا بسا اوقات سننے والے شیطان پر شہاب ثاقب لپکتا ہے پہلے اس کے کہ وہ اس بات کو اپنے ساتھی تک پہنچائے وہ اس کو جلا دیتا ہے اور بسا اوقات شہاب ثاقب اسے نہیں پہنچتا یہاں تک کہ وہ شیطان اسے نیچے والوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ بات چلتے چلتے زمین والوں تک پہنچ جاتی ہے ابو سفیان کہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس بات کو زمین والوں تک پہنچا دیتا اور اسے جادو گر کے منہ میں القاء کرتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملاتا ہے اس کی ایک بات کی وجہ سے اس کی تصدیق ہوجاتی ہے وہ کہتا ہے میں نے فلاں فلاں موقع پر تمہیں فلاں فلاں بات نہیں بتلائی تھی اور وہ حق ثابت ہوئی تھی اس وجہ سے کہ وہ بات انھوں نے آسمان سے سنی تھی۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں برج بنائے ہیں۔ ٢۔ آسمان کو ستاروں سے آراستہ فرمادیا گیا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو شیاطین سے محفوظ کردیا ہے۔ ٤۔ چوری کرنے والے شیطان کے پیچھے ایک روشن شعلہ لگ جاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن برجوں اور ستاروں کا بیان : ١۔ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے انھیں آراستہ کیا۔ (الحجر : ١٦) ٢۔ بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے۔ (الفرقان : ٦١) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو ستاروں سے سجایا۔ (البروج : ١) ٤۔ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے آراستہ کردیا ہے۔ (الصافات : ٦) ٥۔ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور شیطانوں سے محفوظ رکھا۔ (حٰم السجدۃ : ١٢) ٦۔ کیا انہوں نے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیسے بنایا اور سجایا۔ (ق : ٦) ٧۔ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہو اپایاجناب کا بیان۔ (الجن : ٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ١٦ تا ١٨ اس پھیلی ہوئی کائنات کی یہ پہلی لائن ہے۔ اس عجیب و غریب کائنات کے نقش و نگار کی یہ پہلی تصویر ہے۔ اس کائنات میں نزول ملائکہ سے بھی زیادہ عجائبات ہمارے سامنے ہیں۔ خود ان کائنات کی تشکیل اور طبیعی لحاظ سے اس کی کارکردگی اللہ کی قدرت و صنعت کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسری دلیل کی سرے سے احتیاج ہی نہیں ہے۔ بروج کیا ہیں ، یہی ستارے اور سیارے عظیم سے عظیم تر۔ ان سیاروں اور ستاروں کے مدار اور مقامات بھی برج ہو سکتے ہیں۔ جو بھی مراد ہو لیکن دونوں حالات میں ان کی کار کردگی ایک معجز دلیل ہے اور اللہ کی قدرت اور حکمت پر شاہد عادل ہے ، کس قدر پیچیدہ ، موثر ہے اور دیکھنے میں بھی خوبصورت منظر ہے۔ وزینھا للنظرین (١٥ : ١٦) “ ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لئے مزین کیا ”۔ اس پوری کائنات اور خصوصاً سماء دنیا کے حسن و جمال کو تو دیکھئے۔ اس آیت سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اس کائنات میں حکمت و تقدیر کے علاوہ حسن و جمال کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے محض ضمامت اس کائنات میں مدنظر نہیں ، محض وسعت مد نظر نہیں ، محض اس کی پیچیدہ ساخت پر ہی توجہ نہیں دی گئی بلکہ اس کی ساخت میں ایک خاص خوبصورتی کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔ ایک خوبصورت رات میں کبھی آپ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا ہے ؟ جس میں کواکب بکھرے پڑے ہوتے ہیں ، ہر ایک ستارہ روشنی چھوڑ رہا ہوتا ہے گویا کہ ایک انگارہ ہے جو اپنی جگہ دہک رہا ہے ، پھر اس حالت میں ہماری نظر ایک نہایت ہی بعید ستارے پر ہوتی ہے ۔ پھر ایک دوسرا منظر آپ سامنے لائیں۔ ایک خوبصورت رات ہے اس میں چودھویں کا چاند بلند یوں پر ہے اور اس کے سامنے کائنات خاموش کھڑی ہے۔ اس کائنات کی خوبصورتی کو محسوس کرنے کے لئے بغیر چاند کے شفاف رات اور چودھویں کے چاند کی ایک خوبصورت رات میں ، ایک شاعرانہ نگاہ ہی کافی ہوتی ہے ، کس قدر وسیع حسن و جمال ہے ؟ اور کس قدر گہرا اثر ہے اس کا پردۂ احساس پر ؟ کیا اسی کے سوا کسی اور برہان کی ضرورت ہے ؟ وزینھا للنظرین (١٥ : ١٦) “ اے دیکھنے والوں کے لئے ہم نے مزین کیا ہے ”۔ جو دیکھنے والے نہیں ہیں۔ لیکن اس کائنات کو حسن و جمال سے پھر دینے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی محفوظ اور پاکیزہ بھی بنایا گیا ہے۔ وحفظنھا من کل شیطن رجیم (١٥ : ١٧) “ اور ہر شیطان مردود سے اسے محفوظ کردیا ”۔ کوئی شیطان قوت اسے خراب نہیں کرسکتی اور کوئی شیطانی قوت اس کی فضا کو آلودہ نہیں کرسکتی۔ اس کائنات کے نظام میں کوئی شیطانی قوت اپنا وائرس داخل کر کے اس کے نظم کو خراب نہیں کرسکتی۔ اسے گندہ نہیں کرسکتی ، اور اس کی رفتار کا منہ موڑ کر اسے گمراہ نہیں کرسکتی ، جس طرح شیطان انسان کے ساتھ اس کرۂ ارض پر یہ سب کام کرتا ہے اور اس کرۂ ارض پر اس کا یہ مشن ہے۔ اس کرۂ ارض پر تو شیطان اپنا مشن پورا کرسکتا ہے لیکن آسمانوں کے نظام میں اس کا کوئی عمل و دخل نہیں ہے۔ آسمانوں پر اور بلندیوں پر اس کی دسترس نہیں ہے۔ اس کی ناپاکیاں ، گمراہیاں وہاں کچھ بھی نہیں کرسکتیں۔ آسمانوں پر اس کے حملے رہ کر دئیے جاتے ہیں۔ وہاں ان کے دفاع کا انتظام ہے۔ الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین (١٥ : ١٨) “ الا یہ کہ کچھ سن گن لے لے اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اس کا پیچھا کرتا ہے ”۔ شیطان کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟ وہ آسمانوں سے کس طرح سن گن لیتا ہے ، وہ کیا چیز چراتا ہے۔ ان سب امور کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ ہم ان کا مفہوم صرف اسی قدر سمجھ سکتے ہیں جس قدر ان نصوص قرآنیہ میں پایا جاتا ہے۔ اس کے لئے مزید جستجو کرنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس شعبے میں کچھ مزید دریافت بھی کرلیں کہ شیطان کس طرح سن گن لیتا ہے تو اس کا ہمارے ایمان کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان معاملات میں تحقیق و تدقیق سے فائدے کو بجائے نقصان ہوتا ہے کہ انسان اس زندگی کے عملی معاملات سے دور ہو کر محض عقلی گھوڑے دوڑانے لگتا ہے اور وہ کئی نئی حقیقت اور کوئی نیا علم بھی نہیں پا سکتا۔ ہم نے جس قدر جاننا ہے وہ یہی ہے کہ شیطان کا عمل و دخل آسمانوں میں نہیں ہے۔ اس وسیع کائنات کا یہ حسن و جمال اور ھرکت و فعالیت شیطان کی دسترس سے محفوظ ہے۔ اس کائنات کے امور میں شیطانی قوتوں کی طرف سے جو دخل اندازی ہوتی ہے ، یا دخل اندازی کی جو کوشش ہوتی ہے ، اس موقع پر شیطانی قوتوں کو مار بھگایا جاتا ہے اور شہاب ثاقب کی وجہ سے ان کے عزائم رک جاتے ہیں۔ یہاں جس انداز میں بلند قلعوں اور برجوں کا ذکر ہوا ہے ، جس طرح شیطانوں کے اوپر چڑھنے کی مساعی کا ذکر ہوا اور پھر جس انداز میں ان پر بمباری ہوتی ہے تصور اور تخیل اور مشاہدے کے اعتبار سے یہ منظر ایک نہایت ہی خوبصورت منظر ہے اور قرآن کریم کی فنی تصویر کشی کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔ کائنات کی اس وسیع پینگ کی دوسری لائن ، وہ وسیع زمین ہے جس پر ہم بستے ہیں۔ ہماری نظروں سے یہ وسیع تر اور طویل و عریض ہے۔ ہماری سیروسیاحت کے لئے یہ بہت کھلی ہے۔ اس کے اندر اونچے اونچے پہاڑ ، قسم قسم کی روئیدگی اور پھل اور پھول ہیں۔ نیز انسانوں اور تمام دوسری زندہ مخلوق کے لئے رزق کا وافر سروسامان ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ستارے آسمان کے لیے زینت ہیں اور ان کے ذریعہ شیاطین کو مارا جاتا ہے اللہ جل شانہ نے ان آیات میں آیات تکوینیہ بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے آسمان میں برج یعنی ستارے بنائے ہیں اور آسمان کو زینت والا پررونق بنا دیا، رات کو جب دیکھنے والے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ستاروں کی جگمگاہٹ سے نہایت عمدہ پررونق منظر نظر آتا ہے، سورة ملک میں فرمایا (وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنَاھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیَاطِیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَاب السَّعِیْرِ ) (اور ہم نے قریب والے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور ہم نے ان کو شیطانوں کو مارنے کا ذریعہ بنایا اور ہم نے شیاطین کے لیے دوزخ کا عذاب تیار کیا ہے۔ ) ستاروں کو مصابیح یعنی چراغ سے تعبیر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بنایا ہے مزید توضیح کے لیے سورة صافات کی آیات ذیل اور ان کا ترجمہ پڑھئے (اِِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِزِیْنَۃِ نِ الْکَوَاکِبِ وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ لاَ یَسَّمَّعُوْنَ اِِلَی الْمَلَاِ الْاَعْلٰی وَیُقْذَفُوْنَ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ دُحُوْرًا وَّلَہُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ اِِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَۃَ فَاَتْبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ) (بلاشبہ ہم نے آسمانوں کو آراستہ کردیا ایک زینت کے ساتھ جو ستاروں کی زینت ہے اور ہم نے محفوظ کردیا ہر سرکش شیطان سے، شیطان عالم بالا کی طرف کان نہیں لگا سکتے اور ہر جانب سے ان کو مار کر دھکے دئیے جاتے ہیں اور ان کے لیے ہمیشگی والا عذاب ہے، سوائے اس شیطان کے جو کوئی بات اچک لے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ لگ جاتا ہے۔ ) سورة حجر اور سورة صافات اور سورة ملک کی مذکورہ آیات سے معلوم ہوا کہ آسمان میں جو ستارے ہیں ان سے آسمان کی زینت بھی ہے اور شیاطین سے حفاظت بھی ہے اور سورة نحل میں فرمایا (وَبِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ ) (اور ستارہ کے ذریعہ وہ لوگ راہ پاتے ہیں) صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت قتادہ (تابعی) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو تین باتوں کے لیے پیدا فرمایا اول تو انہیں آسمان کی زینت بنایا دوم شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بنایا سوم ان کو علامات بنایا جن کے ذریعہ راہ یاب ہوتے ہیں (یعنی راتوں کو سفر کرنے والے ان کے ذریعے اپنے سفر کے رخ کا پتہ چلا لیتے ہیں) سو جس شخص نے ان تینوں باتوں کے علاوہ کوئی اور بات کہی اس نے خطا کی اور اپنا نصیب ضائع کیا اور جس بات کو نہیں جانتا تھا خواہ مخواہ اس کے پیچھے پڑا حضرت قتادہ (رح) نے منجمین کی تردید کی وہ اپنی عمر بھی ضائع کرتے ہیں اور وہ بات کرتے ہیں جن کا انہیں علم نہیں اور ان لوگوں کو بھی تنبیہ فرما دی جو ان کی بات مانتے ہیں اور ان کے پیچھے پھرتے ہیں۔ بروج سے کیا مراد ہے ؟ ہم نے بروج کا ترجمہ ستارے کیا ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ سورة ملک میں ستاروں ہی کو زینت بتایا ہے اور ستاروں ہی کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بتایا ہے معلوم ہوا جو چیز آسمان کی زینت ہے وہی شیاطین کے مارنے کا سبب ہے بعض مفسرین نے جو بروج کا ترجمہ بروج ہی کیا ہے اور اس سے آسمان کے وہ بارہ برج مراد لیے ہیں جنہیں ہیئت والے بیان کرتے ہیں ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے یہ بارہ برج فرضی ہیں ان کے نام فلاسفہ نے خود رکھ لیے ہیں اور خود ہی تجویز کرلیے ہیں یہ برج شیاطین کو نہیں مارتے پھر آیت کریمہ میں ان سے بروج فلاسفہ کیسے مراد لیے جاسکتے ہیں۔ صاحب تفسیر جلالین نے یہاں سورة حجر میں اور سورة فرقان میں بروج سے وہی فلاسفہ والے بارہ برج مراد لیے ہیں اور ان کے نام بھی لکھے ہیں اور صاحب معالم التنزیل نے اولاً تو یوں لکھا ہے کہ والبروجھی النجوم الکبار پھر وہی فلاسفہ والے بارہ برج اور ان کے نام ذکر کردئیے ہیں صاحب کمالین نے مفسر جلال الدین سیوطی کی تردید کرتے ہوئے کہا ولا یلیق بمثل المصنف ان یذکر تلک الامور المبتنی علی الامور الْوھمیۃ فی التفسیر مع انہ انکر فی کثیر من المواضع فی حاشیۃ الانوار علم الھیءۃ فضلا عن النجوم لکنہ اقتفی الشیخ المحلی حیث ذکرھا فی سورة الفرقان کذلک مصنف جیسے آدمی کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ تفسیر میں ان امور کا ذکر کرے جن کی بنا اوہام پر ہے باوجود اس کے کہ مصنف نے انوار کے حاشیہ میں بہت سارے مواقع میں علم الھیءۃ پر نکیر کی ہے چہ جائیکہ علم نجوم لیکن یہاں مصنف نے شیخ جلالین الدین محلی کی پیروی کی ہے کہ اس نے انہیں سورة الفرقان میں اسی طرح ذکر کیا ہے۔ سورة حجر کی آیت بالا میں فرمایا کہ ہم نے آسمان کو ہر شیطان مردود سے محفوظ کردیا جو کوئی شیطان چوری سے کوئی بات سننے لگے تو اس کے پیچھے روشن شعلہ لگ جاتا ہے، سورة صافات میں اس کو اور زیادہ واضح کرکے بیان فرمایا کہ شیاطین عالم بالا کی طرف کان نہیں لگا سکتے وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہر جانب سے ان کو مارا جاتا ہے اور دور بھگا دیا جاتا ہے، یہ ان کا دنیا میں حال ہے اور آخرت میں ان کے لیے دائمی عذاب ہے ہاں اگر کوئی شیطان اوپر پہنچ کر چوری کے طور پر جلدی سے کوئی کلمہ لے بھاگے تو اس کے پیچھے روشن شعلہ لگ جاتا ہے، بات کے چرانے والے شیطان کو مارنے کے لیے جو چیز پیچھے لگتی ہے اسے سورة حجر میں شہاب مبین سے اور سورة صافات میں شہاب ثاقب سے تعبیر فرمایا شہاب انگارہ کو اور شعلہ کو کہتے ہیں اس شعلے اور انگارے کی کیا حقیقت ہے اس کے سمجھنے کے لیے سورة ملک کی آیت کو بھی سامنے رکھ لیں، سورة ملک میں ستاروں کو چراغ بتایا اور آسمان کی زینت فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ ستارے شیاطین کے مارنے کے لیے ہیں دونوں باتوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔ صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں یہ دعویٰ نہیں ہے کہ بدون اس سبب کے شہاب پیدا نہیں ہوتا بلکہ دعویٰ یہ ہے کہ استراق کے وقت شہاب سے شیاطین کو رجم کیا جاتا ہے پس ممکن ہے کہ شہاب کبھی محض طبی طور پر ہوتا ہو اور کبھی اس غرض کے لیے ہوتا ہو اور اس میں کوکب (ستارہ) کو یہ دخل ہو کہ سخونییت کوکب (ستاروں کی گرمی) سے خود مادہ شیاطین میں یا مادہ بخارات میں بواسطہ فعل ملائکہ کے نار پیدا ہوجاتی ہے جس سے شیاطین کو ہلاکت یا فساد عقل کا صدمہ پہنچتا ہو ١ ھ۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ یہ کاہن جو بطور پیشین گوئی کچھ بتا دیتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ کچھ بھی نہیں ہیں عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کاہن جو بات بیان کرتا ہے ٹھیک نکل آتی ہے، آپ نے فرمایا وہ ایک صحیح بات ہوتی ہے جسے جن اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ڈال دیتا ہے جیسے مرغی کڑ کڑ کرتی ہے پھر وہ اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٩٣ از بخاری و مسلم) اس سلسلہ میں مزید توضیح اور تشریح کے لیے سورة جن کے پہلے رکوع کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ ” وَلَقَدْ جَعَلْنَا “ تا ” مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ “ توحید پر مفصل عقلی دلیل ہے ” اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ “ مستچنیٰ منقطع ہے اس دلیل سے دو دعوے ثابت کیے گئے۔ اول یہ کہ سب کچھ کرنے والا اور ساری کائنات میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ یہ ابتداء دلیل سے ” وَ نَحْنُ الْوَارِثُوْنَ “ تک میں مذکور ہے۔ فرمایا اوپر ہم نے آسمان پیدا کیا اور ملا اعلی کے رازوں کو شیاطین سے محفوط کردیا نیچے زمین پیدا کی، اس میں پہاڑ بنائے اور اس میں ہر چیز اندازے سے پیدا کی اور اس میں تمام انسانوں کے لیے بیشمار وسائل رزق مہیا کیے۔ ” وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ “ وہ معذور لوگ، غلام، اہل و عیال اور جانور مراد ہیں۔ ان سب کے رازق تم نہیں ہو بلکہ سب کو اللہ تعالیٰ ہی روزی دیتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

16 ۔ اور بلا شبہ ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے بنائے اور ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کے لئے آراستہ کیا اور خوش نما بنایا ۔ ہم نے مجاہد کے قول کے مطابق ترجمہ کیا ہے انہی ستاروں کی ہیبت سے پیدا شدہ شکل کو برج کہتے ہیں ۔ بعض نے برج کا ترجمہ محل کے ساتھ کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حق تعالیٰ بندوں سے وہ خطاب کرتا ہے جو یہ سمجھیں ان کے عرف میں آسمان مشر ق سے مغرب تک اور مغرب سے مشرق تک بارا پھانک ہے جیسے خربوزہ دہی بارہ برج ہیں اور سورج برس دن سب طے کرتا ہے موسم گرمی سردی کا اس سے بدلتا ہے اور گرمی سے مینہ آتا ہے اور مینہ سے دنیا بستی ہے اور رونق آسمان کی ستارے میں ۔ 12 برجوں کی تعداد بارہ ہے اور ان برجوں کے نام یہ ہیں۔ حمل ، ثور ، جوزا ، سرطان ، اسد ، سنبلہ ، میزان ، عقرب ، قوس ، جدی ، دلو ، حوت ۔