Surat ul Hijir

Surah: 15

Verse: 56

سورة الحجر

قَالَ وَ مَنۡ یَّقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَۃِ رَبِّہٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴿۵۶﴾

He said, "And who despairs of the mercy of his Lord except for those astray?"

کہا اپنے رب تعالٰی کی رحمت سے نا امید تو صرف گمراہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

He said: "And who despairs of the mercy of his Lord except those who are astray!"

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

56۔ 1 یعنی اولاد کے ہونے پر میں تعجب اور حیرت کا اظہار کر رہا ہوں تو صرف اپنے بڑھاپے کی وجہ سے کر رہا ہوں یہ بات نہیں ہے کہ میں اپنے رب کی رحمت سے ناامید ہوں۔ رب کی رحمت سے ناامید تو گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ وَمَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖٓ ۔۔ : یعنی میں نے دنیا کا عام دستور اور اپنا بڑھاپا دیکھ کر محض تعجب کا اظہار کیا ہے، ورنہ یہ مقصد نہیں ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کا اظہار کر رہا ہوں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ وَمَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖٓ اِلَّا الضَّاۗلُّوْنَ 56؀ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٦) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتا ہے، سوائے ان لوگوں کے جو اللہ تعالیٰ یا اس کی نعمتوں کے منکر ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٦ (قَالَ وَمَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖٓ اِلَّا الضَّاۗلُّوْنَ ) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور رحمت سے حضرت ابراہیم کو ستاسی (87) برس کی عمر میں بیٹا عطا کیا۔ اسی طرح کا معاملہ حضرت زکریا کے ساتھ بھی پیش آیا۔ حضرت زکریا کی زوجہ محترمہ ساری عمر بانجھ رہیں مگر جب وہ دونوں میاں بیوی بہت بوڑھے ہوچکے تھے تو اللہ نے انہیں بیٹا (حضرت یحییٰ ) عطا کیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(15:56) من یقنط۔ استفہام انکاری۔ کون ناامید ہوتا ہے۔ یعنی کوئی ناامید نہیں ہوتا۔ قنط یقنط۔ (باب سمع) ۔ الضالون۔ ضال کی جمع ہے ضلل سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ گمراہ بہکے ہوئے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی میں نے دنیا کا عام دستور اور اپنا بڑھاپا دیکھ کر محض تعجب کا اظہار کیا ہے ورنہ یہ مقصد نہیں ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کا اظہار کر رہا ہوں۔ (قرطبی شو کانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی نبی ہو کر گمراہ ہونے کی صت سے کب موصوف ہوسکتا ہوں، محض مقصود اس امر کا عجیب ہونا ہے باقی اللہ کا وعدہ سچا اور مجھ کو امید سے بڑھ کر اس کا کامل یقین ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

56 ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اپنے پروردگار کی رحمت سے بجز گمراہوں اور بےراہوں کے اور کون گمراہ ہوسکتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں عذاب سے نڈر ہونا اور فضل سے ناامید ہونا دونوں کفر کی باتیں ہیں یعنی آگے کی خبر اللہ کو ہے ایک بات پر دعویٰ کرنا یقین کر کہ یہی کفر کی بات ہے لیکن دل کے خیال پر پکڑ نہیں جب منہ سے دعویٰ کرے تب گناہ ہوتا ہے۔ 12