Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 100

سورة النحل

اِنَّمَا سُلۡطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَوَلَّوۡنَہٗ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِہٖ مُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾٪  19

His authority is only over those who take him as an ally and those who through him associate others with Allah .

ہاں اس کا غلبہ ان پر تو یقیناً ہے جو اسی سے رفاقت کریں اور اسے اللہ کا شریک ٹھہرائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّمَا سُلْطَانُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ ... His power is only over those who obey and follow him (Shaytan), Mujahid said: "Those who obey him." Others said, "Those who take him as their protector instead of Allah." ... وَالَّذِينَ هُم بِهِ مُشْرِكُونَ and those who join partners with Him. means, those who associate others in worship with Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٣] شیطان کا داؤ کیسے لوگوں پر چلتا ہے ؟ شیطان کے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں کہ وہ اپنی بات بزور کسی سے منوا سکے۔ نہ ہی اس کے پاس کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہے جس کی بنا پر وہ کسی کو اپنی بات کا قائل کرسکے۔ وہ صرف وسوسے ڈال سکتا ہے۔ دل میں گمراہ کن خیالات پیدا کرسکتا ہے۔ اب جو لوگ پہلے ہی ضعیف الاعتقاد ہوتے ہیں وہ فوراً اس کے دام میں پھنس جاتے ہیں اور شیطان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کو شرک کی راہوں پر ڈال دے اور اس طرح ابن آدم سے انتقام لے سکے۔ رہے وہ لوگ جو صرف اللہ پر توکل کرنے والے اور اپنے عقیدہ میں مضبوط ہوتے ہیں تو ایسے لوگوں پر شیطان کا کوئی داؤ کارگر نہیں ہوتا اور ایسے لوگ قرآن سے یقینا ہدایت ہی حاصل کرتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالَّذِيْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ :” بِهٖ “ میں ” ہُ “ کی ضمیر شیطان کی طرف جائے تو باء سببیہ ہوگی اور معنی ہوگا کہ وہ لوگ جو اس (شیطان) کی وجہ سے شریک بنانے والے ہیں۔ متن میں ترجمہ اس کے مطابق کیا گیا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف جائے، پھر معنی یہ ہوگا کہ وہ لوگ جو اس (اللہ) کے ساتھ شریک بنانے والے ہیں، یہ معنی بھی درست ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَي الَّذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهٗ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ ١٠٠؀ۧ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٠) اس کا بس تو صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو کہ اس کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٠ (اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَي الَّذِيْنَ يَتَوَلَّوْنَهٗ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ ) شیطان کا زور انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو اپنا رفیق اور سرپرست بنا لیتے ہیں اور اللہ کی اطاعت کے بجائے اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ گویا اس کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا لیتے ہیں یا اس کے بہکانے سے دوسری ہستیوں کو اللہ کا شریک بنا لیتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:101) اعلم۔ علم سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ خوب جاننے والا۔ بہتر جاننے والا۔ ینزل۔ نزل ینزل تنزیل (تفعیل) سے مضارع واحد مذکر غائب وہ اتارتا ہے۔ وہ نازل کرتا ہے۔ مفتر۔ افتراء (افتعال) سے اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ اپنی طرف سے گھڑ کر بات بنانے والا۔ اصل میں مفتری تھا۔ ی پر ضمہ دشوار تھا۔ اس کو ساکن کیا۔ اب یساکن اور تنوین دو ساکن اکٹھے ہوگئے۔ یاجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگئی مفتر بن گیا۔ اس کا مادہ فری ہے الفری کے معنی چمڑے کو سینے اور مرمت کرنے کے لئے کاٹنے کے ہیں اور افرائ (افعال) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ہیں۔ افتراء (افتعال) اصلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے لیکن اس کا زیادہ تر استعمال کیا گیا ہے ۔ فری یفری (ضرب) فریا علی کسی کے خلاف بہتان باندھنا۔ جھوٹ گھڑنا۔ باب افتعال سے بھی اسی معنی میں آتا ہے۔ باب سمع سے بمعنی حیران ہونا۔ باب افتعال سے قرآن حکیم میں ہے۔ انظر کیف یفترون علی اللہ الکذب (40:5) دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ باندھتے ہیں۔ آیۃ لقد جئت شیئا فریا ط (19:27) یہ تو نے عجیب حرکت کی ہے (یہاں جئت بمعنی فعلت ہے) اس میں بعض نے کہا ہے کہ فریا کے معنی عظیم بات کے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ عجیب بات کے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی من گھڑت اور بنائی ہوئی بات کے ہیں لیکن مآل کے اعتبار سے یہ تمام اقوال ایک ہی ہیں۔ واللہ اعلم بما ینزل۔ اس آیت میں جملہ معترضہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انما سلطنۃ علی الذین یتولونہ (٦١ : ٠٠١) ” اس کا زور تو انہی لوگو پر چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے ہیں “۔ وہ اس کو اپنا دوست بناتے ہیں ، وہ اس کے سامنے جھکتے ہیں اور اس کی خواہشات و میلانات کو پورا کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لوگ شرک کرتے ہیں۔ آج بھی بعض اقوام میں شیطان کی بندگی اور ” اللہ شر “ کی بندگی کا رواج موجود ہے۔ محض شیطان کی اتباع کرنا اور اس سے دوستی کرنا بھی ایک نوع کا شرک ہے۔ اب قرآن کے بارے میں مشرکین کے اقاویل اور جواب۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

شیطان کا تسلط ان لوگوں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں پھر فرمایا (اِنَّمَا سُلْطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہٗ وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِہٖ مُشْرِکُوْنَ ) (اس کا زور انہیں پر ہے جو اس سے دوستی رکھتے ہیں اور جو اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہیں۔ ) اس میں یہ بتایا ہے کہ شیطان کا زور انہیں لوگوں پر چلتا ہے جو شیطان سے دوستی کرتے ہیں۔ دوستی رکھنے میں کفر و شرک بدرجہ اولیٰ داخل ہے اور جو لوگ کافر و مشرک نہیں لیکن شیطان کی بات مانتے ہیں اس کی اطاعت کرتے ہیں وہ بھی اس کے دوست ہیں جب شیطان کوئی وسوسہ ڈالے تو اس وسوسے کو آگے نہ بڑھنے دے اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھ کر اللہ کے ذکر میں لگ جائے یا کوئی دوسرا کام شروع کردے، اگر شیطان کے وسوسہ کے ساتھ چلتا رہا تو وسوسوں میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا اور کبھی بھی جان نہ چھوٹے گی، وضو میں وسوسے ڈالے گا، ایمان میں شک ڈالے گا، نماز خراب کردے گا۔ شیطان جب انسان کو مانوس کرلے گا تو ایمانیات اور اعتقادیات میں وسوسے ڈالے گا اور وسوسوں کی مصیبت سے کبھی چھٹکارا نہ ہوگا شیطان وسوسہ ڈالے تو اسے وہیں چھوڑ کر آگے بڑھ جائے کسی اور بات میں لگ جائے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے پاس شیطان آئے گا وہ کہے گا کہ اس چیز کو کس نے پیدا کیا اور اس چیز کو کس نے پیدا کیا۔ بات بڑھاتے بڑھاتے یوں کہے گا کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا سو جب یہاں پہنچ جائے تو اللہ کی پناہ مانگے اور وہیں رک جائے۔ (صحیح بخاری ص ٤٣٦٣ ج ١) حضرت قاسم بن محمد سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ مجھے اپنی نماز میں وہم ہوجاتا ہے اور اکثر ہوتا ہے فرمایا تو نماز کو پڑھتا رہ اور تو جس مشکل میں مبتلا ہے یہ اس وقت تک دور نہ ہوگی جب تک کہ تو ایسا نہ کرے کہ نماز سے فارغ ہو کر (شیطان سے) یوں کہہ دے کہ میری نماز نہیں ہوئی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ١٩ از موطا مالک) مطلب یہ ہے کہ شرعی اصول کے مطابق سجدہ سہو کرلو باقی شیطان کا ساتھ نہ دو نماز پڑھتے رہو وہ تو یہی کہتا رہے گا کہ یہ بات رہ گئی، نماز سے فارغ ہو کر شیطان سے یہ کہہ دو کہ چل بھاگ تجھے میری نماز سے کیا مطلب بڑا آیا ہمدرد بن کر جا میری نماز نہیں ہوئی، جب ایسا کرو گے تو شیطان دفع ہوجائے گا ورنہ وہ جان کے پیچھے لگا ہی رہے گا، ایک بزرگ تھے وہ وضو کرکے فارغ ہوجاتے تو شیطان کہتا تھا کہ تم نے سر کا مسح نہیں کیا سر کا مسح نہ کرو گے تو وضو نہ ہوگا وضونہ ہوگا تو نماز نہ ہوگی بلکہ بےوضو نماز پڑھنا کفر ہے، وہ بزرگ فرماتے تھے کہ کچھ دن تک تو وسوسہ دور کرنے کے لیے دوبارہ مسح کیا پھر ایک دن شیطان کو دھتکار دیا اور اس سے کہا کہ چل دفع ہو تو کہاں کا مسلمان ہے جو تجھے میرے ایمان کی فکر ہے ایسا کرنے پر پیچھا چھوٹا۔ جس نے شیطان سے دوستی کی یعنی اس کی بات مانی اور وسوسوں کے آگے بڑھانے میں اس کا ساتھ دیا تو شیطان اسے برباد کردے گا اسے خود اپنے ایمان کی تو فکر ہے نہیں البتہ اہل ایمان کو طرح طرح سے بہکانے ورغلانے کی فکر میں لگا رہتا ہے وہ چاہتا ہے کہ میں ڈوبوں اور بنی آدم کو بھی لے ڈوبوں۔ نعوذ باللّٰہ من شرور الشیطان ونزغاتہ۔ قولہ تعالیٰ : (وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِہٖ مُشْرِکُوْنَ ای باللّٰہ مشرکون وقیل الکنایۃ راجعۃ الی الشیطان و معناہ الذین ھم من اجلہ مشرکون) (معالم التنزیل)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

100 ۔ بس شیطان کا قابو اور اس کا زور تو ان لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے اور اس سے تعلق رکھتے ہیں اور ان لوگوں پر چلتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔ جو لوگ شیطان سے دوستی کریں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کریں ایسوں کو خدا کی مدد اور توفیق نصیب نہیں ہوا کرتی اور یہ لوگ شیطان ہی کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دنیا میں کسی آدمی کو کوئی شیطان یعنی جن ستانے لگے تو اس کے آگے رجوع نہ ہو اور سر پر چڑھتا ہے بلکہ اللہ کی پناہ سے دوڑے اسی کا کلام ہے اور اسی کا نام ہے۔ 12