Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 124

سورة النحل

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبۡتُ عَلَی الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَیَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾

The sabbath was only appointed for those who differed over it. And indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ.

ہفتے کے دن کی عظمت تو صرف ان لوگوں کے ذمے ہی ضروری کی گئی تھی جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا بات یہ ہے کہ آپ کا پروردگار خود ہی ان میں ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then Allah rebukes the Jews, إِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ The Sabbath was only prescribed for those who differed concerning it, and verily, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection about what they differed over. The Prescription of the Sabbath for the Jews There is no doubt that for every nation, Allah prescribed one day of the week for people to gather to worship Him. For this Ummah He prescribed Friday, because it is the sixth day, on which Allah completed and perfected His creation. On this day He gathered and completed His blessings for His servants. It was said that Allah prescribed this day for the Children of Israel through His Prophet Musa, but they changed it and chose Saturday because it was the day on which the Creator did not create anything, as He had completed His creation on Friday. Allah made observance of the Sabbath obligatory for them in the laws of the Tawrah (Torah), telling them to keep the Sabbath. At the same time, He told them to follow Muhammad when he was sent, and took their promises and covenant to that effect. Hence Allah says: إِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِ ... The Sabbath was only prescribed for those who differed concerning it, Mujahid said: "They observed the Sabbath (Saturday) and ignored Friday." Then they continued to observe Saturday until Allah sent `Isa bin Maryam. It was said that he told them to change it to Sunday, and it was also said that he did not forsake the laws of the Tawrah except for a few rulings which were abrogated, and he continued to observe the Sabbath until he was taken up (into heaven). Afterwards, the Christians at the time of Constantine were the ones who changed it to Sunday in order to be different from the Jews, and they started to pray towards the east instead of facing the Dome (i.e., Jerusalem). And Allah knows best. It was reported in the Two Sahihs that Abu Hurayrah heard the Messenger of Allah say: نَحْنُ الاْخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ثُمَّ هَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فَرَضَ اللهُ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللهُ لَهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَد We are the last, but we will be the first on the Day of Resurrection, even though they were given the Book before us. This is the day that Allah obligated upon them, but they differed concerning it. Allah guided us to this day, and the people observe their days after us, the Jews on the following day and the Christians on the day after that. This version was recorded by Al-Bukhari. It was reported that Abu Hurayrah and Hudhayfah said that the Messenger of Allah said: أَضَلَّ اللهُ عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الاَْحَدِ فَجَاءَ اللهُ بِنَا فَهَدَانَا اللهُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالاَْحَدَ وَكَذَلِكَ هُمْ تَبَعٌ لَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَحْنُ الاْخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالاَْوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالْمَقْضِيُّ بَيْنَهُمْ قَبْلَ الْخَلَيِق Allah let the people who came before us stray from Friday, so the Jews had Saturday and the Christians had Sunday. Then Allah brought us and guided us to Friday. So now there are Friday, Saturday and Sunday, thus they will follow us on the Day of Resurrection. We are the last of the people of this world, but will be the first on the Day of Resurrection, and will be the first to be judged, before all of creation. It was reported by Muslim.

جمعہ کا دن ہر امت کے لئے ہفتے میں ایک دن اللہ تعالیٰ نے ایسا مقرر کیا ہے جس میں وہ جمع ہو کر اللہ کی عبادت کی خوشی منائیں ۔ اس امت کے لئے وہ دن جمعہ کا دن ہے ، اس لئے کہ وہ چھٹا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کا کمال کیا ۔ اور ساری مخلوق پیدا ہو چکی اور اپنے بندوں کو ان کی ضرورت کی اپنی پوری نعمت عطا فرما دی ۔ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبانی یہی دن بنی اسرائیل کے لئے مقرر فرمایا گیا تھا لیکن وہ اس سے ہٹ کر ہفتے کے دن کو لے بیٹھے ، یہ سمجھے کہ جمعہ کو مخلوق پوری ہو گئی ، ہفتہ کے دن اللہ نے کوئی چیز پیدا نہیں کی ۔ پس تورات جب اتری ان پر وہی ہفتے کا دن مقرر ہوا اور انہیں حکم ملا کہ اسے مضبوطی سے تھامے رہیں ، ہاں یہ ضرور فرما دیا گیا تھا کہ آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آئیں تو وہ سب کے سب کو چھوڑ کر صرف آپ ہی کی اتباع کریں ۔ اس بات پر ان سے وعدہ بھی لے لیا تھا ۔ پس ہفتے کا دن انہوں نے خود ہی اپنے لئے چھانٹا تھا ۔ اور آپ ہی جمعہ کو چھوڑا تھا ۔ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے زمانہ تک یہ اسی پر رہے ۔ کہا جاتا ہے کہ پھر آپ نے انہیں اتوار کے دن کی طرف دعوت دی ۔ ایک قول ہے کہ آپ نے توراۃ کی شریعت چھوڑی نہ تھی سوائے بعض منسوخ احکام کے اور ہفتے کے دن کی محافظت آپ نے بھی برابر داری رکھی ۔ جب آپ آسمان پر چڑھا لئے گئے تو آپ کے بعد قسطنطین بادشاہ کے زمانے میں صرف یہودیوں کی ضد میں آ کر صخرہ سے مشرق جانب کو اپنا قبلہ انہوں نے مقرر کر لیا اور ہفتے کی بجائے اتوار کا دن مقرر کر لیا ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سب سے آخر والے ہیں اور قیامت کے دن سب سے آگے والے ہیں ۔ ہاں انہیں کتاب اللہ ہم سے پہلے دی گئی ۔ یہ دن بھی اللہ نے ان پر فرض کیا لیکن ان کے اختلاف نے انہیں کھو دیا اور اللہ رب العزت نے ہمیں اس کی ہدایت دی پس یہ سب لوگ ہمارے پیچھے پیچھے ہیں ۔ یہودی ایک دن پیچھے نصارنی دو دن ۔ آپ فرماتے ہیں ہم سے پہلے کی امتوں کو اللہ نے اس دن سے محروم کر دیا یہود نے ہفتے کا دن رکھا نصاری نے اتوار کا اور جمعہ ہمارا ہوا ۔ پس جس طرح دنوں کے اس اعتبار سے وہ ہمارے پیچھے ہیں ۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہمارے پیچھے ہی رہیں گے ۔ ہم دنیا کے اعتبار سے پچھلے ہیں اور قیامت کے اعتبار سے پہلے ہیں یعنی تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلے ہمارے ہوں گے ۔ ( مسلم )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

124۔ 1 اس اختلاف کی نیت کیا ہے ؟ اس کی تفصیل میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے لئے جمعہ کا دن مقرر فرمایا تھا، لیکن بنو اسرائیل نے اختلاف کیا اور ہفتے کا دن تعظیم و عبادت کے لئے پسند کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، موسیٰ ! انہوں نے جو دن پسند کیا ہے، وہی دن رہنے دو ، بعض کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا تھا تعظیم کے لئے ہفتے میں کوئی ایک دن متعین کرلو۔ جس کے تعین میں ان کے درمیان اختلاف ہوا۔ پس یہود نے اپنے مذہبی قیاس کی بنیاد پر ہفتے کا دن اور نصاریٰ نے اتوار کا دن یہودیوں کی مخالفت کے جذبے سے اپنے لئے مقرر کیا تھا، اسی طرح عبادت کے لئے انہوں نے اپنے کو یہودیوں سے الگ رکھنے کے لئے بیت المقدس کی شرقی جانب کو بطور قبلہ اختیار کیا۔ جمعہ کا دن اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے مقرر کئے جانے کا ذکر حدیث میں موجود ہے (صحیح بخاری)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٦] ہفتہ کی چھٹی یہود کے اصرار پر مقرر کی گئی :۔ ہفتہ کے دن کی تعظیم کا بھی ملت ابراہیمی میں کوئی حکم نہ تھا بلکہ جمعہ کا دن ہی مقرر کیا گیا تھا اور مسلمان بھی جمعہ ہی کی تعظیم کرتے ہیں۔ اور ہفتہ کا دن یہودیوں پر یوں مسلط کیا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں جمعہ کی تعظیم کے لیے کہا تو کہنے لگے کہ اللہ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا۔ وہ جمعہ کے دن فارغ ہوا اور ساتویں (ہفتہ) کے دن آرام کیا تو ہم بھی ہفتہ کے دن چھٹی کیا کریں گے && اللہ کے آرام کے متعلق یہود کا یہ تصور انتہائی غلط تھا۔ تاہم ان کی اپنے نبی سے ضد کے نتیجہ میں ان پر ہفتہ کا دن مقرر کیا گیا اور سختی یہ کی گئی کہ وہ ہفتہ کے دن کاروبار سے مکمل طور پر چھٹی کریں۔ اور اللہ کی عبادت میں سارا دن گزاریں۔ پھر جس طرح انہوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس کا تفصیلی بیان سورة بقرہ آیت نمبر ٦٥ اور سورة اعراف آیت نمبر ١٦٦ کے تحت گذر چکا ہے۔ سبت کے بارے یہود نے پہلا اختلاف تو یہ کیا کہ جمعہ کے دن کے بجائے ہفتہ کے دن پر اصرار کیا۔ پھر یہود کا ایک قبیلہ جو بستی ایلہ میں مقیم تھا، سبت کی تعظیم پر قائم نہ رہا اور حیلوں بہانوں سے اس دن مچھلیوں کے شکار کی راہ ہموار کرلی۔ اور جب انھیں دوسرا فریق منع کرتا تو زبانی وہ یہی کہتے تھے کہ ہم نے کب سبت کی حرمت کو توڑا ہے۔ ہم سبت کے دن کب شکار کرتے ہیں۔ شکار تو ہم اتوار کو کرتے ہیں پھر عیسیٰ آئے تو وہ بھی موسوی شریعت کی پیروی کی تعلیم دیتے رہے۔ اور ہفتہ کے دن کی تعظیم کی تاکید کرتے رہے مگر بعد میں نصاریٰ نے اختلاف کیا اور ہفتہ کی بجائے اتوار کا دن چھٹی کا دن قرار دے دیا۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ && ہم پیچھے آئے ہیں مگر قیامت کے دن پہلے ہوں گے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اہل کتاب کو کتاب پہلے ملی اور ہمیں بعد میں ملی۔ پس وہ دن جو اللہ نے ان پر فرض کیا تھا اس میں انہوں نے اختلاف کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ دن بتادیا کہ وہ ہمارے پیچھے رہ گئے یہود تو ایک دن پیچھے رہے اور نصاریٰ اس کے بعد مزید ایک دن && [١٢٧] ایک قسم کے اختلاف تو وہ ہیں جو اوپر مذکور ہوئے اور دوسرا یہ کہ یہود یہ کہتے تھے کہ سیدنا ابراہیم ہمارے دین پر تھے یعنی یہودی تھے۔ اور نصاریٰ یہ کہتے تھے کہ سیدنا ابراہیم ہمارے دین پر تھے یعنی نصاریٰ تھے۔ پھر مشرکین مکہ ہوں یا یہود، نصاریٰ ہوں یا مسلمان سب اپنا رشتہ سیدنا ابراہیم سے جوڑتے ہیں اور انھیں اپنا پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ ان سب باتوں کا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے گا کہ سچا کون تھا۔ اور جھوٹا کون اور ان میں اختلافات کی حقیقت کیا تھی۔ ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ ۔۔ : یعنی ہفتے کے دن کی تعظیم جیسے ملت اسلام میں نہیں ہے، ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں بھی نہ تھی۔ یہ دن تو بعد میں صرف ان لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا تھا جنھوں نے اس میں اختلاف کیا تھا، اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر جمعہ کے دن کی تعظیم واجب کی تھی، مگر انھوں نے اس میں اختلاف کرکے ہفتے کا دن مقرر کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی دن کی تعظیم فرض کردی کہ اس میں شکار مت کرو۔ اس کی تائید ابوہریرہ (رض) کی روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، بَیْدَ أَنَّھُمْ أُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، ثُمَّ ھٰذَا یَوْمُھُمُ الَّذِیْ فُرِضَ عَلَیْھِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِیْہِ فَھَدَانَا اللّٰہُ فَالنَّاسُ لَنَا فِیْہِ تَبَعٌ، الْیَھُوْدُ غَدًا وَالنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ ) [ بخاری، الجمعۃ، باب فرض الجمعۃ : ٨٧٦ ] ” ہم سب سے بعد میں آنے والے ہیں، جو قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، باوجود اس کے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی، پھر یہ ان کا دن جو ان پر فرض کیا گیا تو انھوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس (جمعہ کے دن) کی ہدایت دی، سو لوگ اس میں ہمارے پیچھے ہیں، یہودی ہم سے بعد والے دن اور عیسائی اس سے بھی اگلے دن۔ “ صحیح مسلم کی حدیث میں اس فرض کردہ دن کی تعیین موجود ہے کہ وہ جمعہ کا دن تھا جس سے اختلاف کرکے یہود نے ہفتہ اور نصاریٰ نے اتوار مقرر کرلیا۔ [ دیکھیے مسلم، الجمعۃ، باب ہدایۃ ھذہ الأمۃ لیوم الجمعۃ : ٨٥٥ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَي الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۭ وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِـيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ ١٢٤؁ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ سبت أصل السَّبْتُ : القطع، ومنه سبت السّير : قطعه، وسَبَتَ شعره : حلقه، وأنفه : اصطلمه، وقیل : سمّي يوم السَّبْت، لأنّ اللہ تعالیٰ ابتدأ بخلق السموات والأرض يوم الأحد، فخلقها في ستّة أيّام کما ذكره، فقطع عمله يوم السّبت فسمّي بذلک، وسَبَتَ فلان : صار في السّبت وقوله : يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعاً [ الأعراف/ 163] ، قيل : يوم قطعهم للعمل، وَيَوْمَ لا يَسْبِتُونَ [ الأعراف/ 163] ، قيل : معناه لا يقطعون العمل، وقیل : يوم لا يکونون في السّبت، وکلاهما إشارة إلى حالة واحدة، وقوله : إِنَّما جُعِلَ السَّبْتُ [ النحل/ 124] ، أي : ترک العمل فيه، وَجَعَلْنا نَوْمَكُمْ سُباتاً [ النبأ/ 9] ، أي : قطعا للعمل، وذلک إشارة إلى ما قال في صفة اللّيل : لِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] . ( س ب ت ) السبت کے اصل معنی قطع کرنے کے ہیں اور اسی سے کہا جاتا ہے سبت السیر اس نے تسمہ گو قطع کیا سینت شعرۃ اس نے اپنے بال مونڈے سبت انفہ اس کی کاٹ ڈالی ۔ بعض نے کہا ہے کہ ہفتہ کے دن کو یوم السبت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق اتوار کے دن شروع کی تھی اور چھ دن میں تخلیق عالم فرماکر سینچر کے دن اسے ختم کردیا تھا اسی سے سبت فلان ہے جس کے معنی ہیں وہ ہفتہ کے دن میں داخل ہوا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعاً [ الأعراف/ 163] سنیچر کے دن ( مچھلیاں ) سینہ سیر ہوکر ان کے سامنے آجاتیں ۔ میں بعض نے یوم سبتھم سے ان کے کاروں بار کو چھوڑنے کا دن مراد لیا ہے اس اعتبار سے یوم لا یسبتون کے معنی یہ ہوں گے کہ جس روز وہ کاروبار چھوڑ تے اور بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ روز سینچر نہ ہوتا ان ہر دو معنی کا مآل ایک ہی ہے اور آیت : ۔ إِنَّما جُعِلَ السَّبْتُ [ النحل/ 124] میں سبت سے مراد سینچر کے دن عمل کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ سنیچر کے روز کام چھوڑنے کا حکم صرف لِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] اس لئے دیا گیا تھا اور آیت : ۔ وَجَعَلْنا نَوْمَكُمْ سُباتاً [ النبأ/ 9] اور نیند کو ( موجب ) راحت بنایا ۔ میں سبات کے معنی ہیں حرکت وعمل کو چھوڑ کر آرام کرنا اور یہ رات کی اس صفت کی طرف اشاریہ ہے جو کہ آیت : ۔ تاکہ تم رات میں راحت کرو لِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] . میں مذکور ہے یعنی رات کو راحت و سکون لے لئے بنایا ہے الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔ حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٤) اور ہفتہ تعظیم تو ان ہی لوگوں پر لازم کی گئی تھی، جنہوں نے جمعہ کی تعظیم میں اختلاف کیا تھا اور آپ کا پروردگار قیامت کے دن یہودی ونصاری کے درمیان فیصلہ کردے گا جس دین میں یہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٤ (اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَي الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ) دراصل بنی اسرائیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے عبادت کے لیے جمعہ کا دن ہی مقرر فرمایا تھا مگر انہوں نے اپنی شرارت کی وجہ سے اس کی ناقدری کی اور اسے چھوڑ کر ہفتہ کا دن اختیار کرلیا۔ چناچہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس حیثیت میں ہفتہ کا دن ہی مقرر کردیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

121. This is the answer to their second objection. Obviously, there was no need to state that the restrictions about the Sabbath applied only to the Jews and had nothing to do with the law of Prophet Abraham (peace be upon him), because they themselves knew it. The restrictions were imposed upon the Jews because of their mischief and violations of the law. In order to understand fully the significance of this reference one is requested to read those passages of the Bible in which commandments about the Sabbath have been stated, e.g., Exodus 20: 8-11, 23: 12-13,31: 1-17, 35: 23, and Numbers 15: 32-36. Besides this, one should also be acquainted with the impudent violations of the Sabbath. See Jeremiah: 17: 21-27 and Ezekiel. 10: 18-24.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :121 یہ کفار مکہ کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے ۔ اس میں یہ بیان کرنے کی حاجت نہ تھی کہ سبت بھی یہودیوں کے لیے مخصوص تھا اور ملت ابراہیمی میں حرمتِ سبت کا کوئی وجود نہ تھا ، کیونکہ اس بات کو خود کفار مکہ بھی جانتے تھے ۔ اس لیے صرف اتنا ہی اشارہ کر نے پر اکتفا کیا گیا کہ یہودیوں کے ہاں سبت کے قانون میں جو سختیاں تم پاتے ہو یہ ابتدائی حکم میں نہ تھیں بلکہ یہ بعد میں یہودیوں کی شرارتوں اور احکام کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ان پر عائد کی گئی تھیں ۔ قرآن مجید کے اس اشارے کو آدمی اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا جب تک کہ وہ ایک طرف بائیبل کے ان مقامات کو نہ دیکھے جہاں سبت کے احکام بیان ہوئے ہیں ( مثلاً ملاحظہ ہو خروج باب ۲۰ ، آیت ۸ تا ۱۱ ۔ باب ۲۳ ، آیت ۱۲ و ۱۳ ۔ باب ۳۱ ، آیت ۱۲ تا ۱۷ ۔ باب ۳۵ ، آیت ۲ و ۳ ۔ گنتی باب ۱۵ ، آیت ۳۲ تا ۳٦ ) ، اور دوسری طرف ان جسارتوں سے واقف نہ ہو جو یہودی سبت کی حرمت کو توڑنے میں ظاہر کرتے رہے ( مثلًا ملاحظہ ہو یر میاہ باب ۱۷ ، آیت ۲۱ تا ۲۷ ۔ حِزقِی ایل ، باب ۲۰ ، آیت ۱۲ تا ۲٤ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

52: یہ ایک دوسرا استثنا ہے جس میں یہودیوں کے لیے بعض وہ چیزیں ممنوع کردی گئی تھیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں جائز تھیں۔ اور وہ یہ کہ یہودیوں کے لیے سنیچر کے دن معاشی سرگرمیاں ممنوع کردی گئی تھیں۔ پھر ان میں بھی اختلاف رہا کہ کچھ لوگوں نے اس پابندی پر عمل کیا اور کچھ نے نہیں کیا۔ بہر حال ! یہ بھی ایک استثنائی حکم تھا جو صرف یہودیوں کو دیا گیا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت اس سے خالی تھی۔ لہذا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام قرار دیدے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٢٤۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملت ابراہیمی (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم دیا تھا کہ ابراہیم کے طریقہ کی آپ پیروی کریں کیوں کہ ان کا طریقہ خالص توحید کا ہے اس میں شرک کا ذرا بھی لگاؤ نہیں۔ اب یہود کو ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے ہوئے دیکھ کر مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہود بھی اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پابند بتلاتے ہیں اور شرع محمدی کو بھی ملت ابراہیمی کے موافق کہا جاتا ہے پھر شرع محمدی میں ہفتہ کی تعظیم کی جگہ جمعہ کی تعظیم کیوں ہے اسی کو فرمایا کہ ہفتہ کا دن یہود نے آپ اپنی رائے سے اور اپنے باہمی اختلاف سے مقرر کرلیا ہے دین ابراہیمی میں ہفتہ کے دن کی تعظیم کا ذکر نہیں ہے بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں اللہ پاک کا ہفتہ میں ایک دن کو عبادت کے لئے خاص کرلینے کا حکم ہوا تھا اس پر یہود نے اپنی عقل سے ہفتہ کا دن مقرر کیا کہ اس دن خدا کی عبادت کیا کریں گے کیونکہ اس روز خدا بھی دنیا کی چیزوں کے پیدا کرنے سے فارغ تھا کسی مخلوق کو اس روز پیدا نہیں کیا اس واسطے اللہ پاک نے انہیں کے انتخاب کے موافق اسی دن کو ان کے واسطے مقرر کردیا اور مچھلی کا شکار اس روز بالکل ممنوع کردیا گیا۔ اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک یہود اسی دن پر قائم تھے۔ پھر جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نبی ہوئے تو نصاریٰ نے اتوار کا دن اختیار کیا اور یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی روز سے مخلوق کی پیدائش کی بنیاد ڈالی ہے اور اس روز عبادت کرنے لگے جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی ہوئے تو اللہ پاک نے آپ کی امت کے لئے جمعہ کا دن منتخب کردیا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت قیامت تک اسی پر قائم رہے گی۔ صحیحین میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہم ساری امتوں کے بعد دنیا میں آئے ہیں اور قیامت میں سب سے پہلے ہوں گے مگر یہ بات ضرور ہے کہ پہلی امتوں کو خدا کی کتاب ہم سے پہلے ملی ہے اور یہ دن جمعہ کا وہ ہے کہ اللہ پاک نے ان امتوں کے اختیار پر چھوڑا تھا مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا اس لئے اللہ پاک نے ہمیں اس کی ہدایت دی ہے اور ہم نے اس جمعہ کے دن کو اختیار کیا اب جتنی امتیں ہیں وہ سب ہماری تابع ہیں یہود ہم سے ایک روز بعد اور نصاریٰ اس سے بھی ایک دن بعد ١ ؎۔ پھر اللہ پاک نے یہ بات بیان فرمائی کہ قیامت کے دن اس سارے اختلاف کا فیصلہ بخوبی ہوجائے گا اور ہر ایک کو وہ سزا ملے گی جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہود نے ہفتہ کا دن خالص عبادت کا ٹھہرا کر پھر ان میں ایک فرقہ نے قوم کے لوگوں سے جو اختلاف کیا اور ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار کھیلا ایسے لوگوں کی سزا کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم اور اسماء وصفات بیہقی میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ میں یہود نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دنیا کی پیدائش کا حال پوچھا تھا اس پر آپ نے فرمایا اتوار کے دن سے دنیا کی چیزوں کی پیدائش شروع ہو کر جمعہ کے روز ختم ہوگئی۔ یہود نے آپ کے اس کلام کی پوری تصدیق کی اوپر یہ جو گزرا کہ یہود نے ہفتہ کا دن عبادت کے لئے اس واسطے اختیار کیا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز پیدا نہیں کی اور نصاریٰ نے اتوار کا دن اس کہ اس دن سے دنیا کی پیدائش شروع ہوئی تھی اس کا مطلب ان روایتوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ ١ ؎ جامع ترمذی ص ١٥٥ ج ٢ تفسیر سوت ص۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:124) جعل۔ جعل سے ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ مقرر کیا گیا۔ ٹھہرایا گیا۔ لازم کیا گیا۔ السبت۔ اس کے اصل معنی ہیں قطع کرنا۔ سبت کام کاج سے قطع تعلق کرلینا۔ ہفتہ کا دن۔ سینچر کی تعظیم کرنا۔ پہلے معنی کے اعتبار سے مصدر ہے یعنی کام کاج چھوڑ دینا۔ سینچر کی تعظیم کرنا۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے (کہ سبت بمعنی سینچر کا دن ہے) اسم ہے جس کی جمع اسبت اور سبوت ہے۔ اختلفوا فیہ۔ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا۔ یعنی حرمت سبت کے احکام کے بارہ میں اختلاف کیا تھا۔ لیحکم۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ یحکم مضارع واحد مذکر غائب ھکم سے۔ وہ ضرور فیصلہ کر دے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی ہفتہ کے دن کی تعظیم جیسے ملت اسلام میں نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم کی شریعت میں بھی نہ تھی یہ دن تو بعد میں صرف ان لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا۔ اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے ان پر جمعہ کے دن کی تعظیم واجب کی تھی مگر انہوں نے اس میں اختلاف کر کے ہفتہ کا دن مقرر کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی دن کی تعظیم ہی فرض کردی کہ اس میں شکار نہ کرو۔ اس کی تائید حضرت ابوہریرہ کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں ہے کہ ہم سب امتوں سے زمانہ میں آخر ہیں مگر قیامت کے روز سب سے پہلے ہونگے۔ بات اتنی ہے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں کتاب بعد میں ملی پھر ان پر صرف جمعہ کا دن مقرر کیا گیا تھا مگر انہوں نے اختلاف کیا اور اللہ نے ہمیں ہدایت دی۔ لہٰذا اس میں لوگ ہمارے بعد میں یہود کی تعظیم کا دن کل اور نصاریٰ کی تعظیم کا دن پرسوں ہے۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ مراد اس سے یہود ہیں یعنی تحریم طیبات کی یہ صورت مثل دوسری صورتوں کے صرف یہود کے مخصوص تھی ملت ابراہیمی میں نہ تھی۔ 5۔ اوپر ثم اوحینا۔ الخ۔ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے اثبات سے یہ مقصود تھا کہ مرسل علیھم اس رسالت کے حقوق ادا کریں یعنی تصدیق اواتباع کریں آگے خود رسول اللہ کو ادائے رسالت کے حقوق وآداب کی تعلیم ہے جن میں سے مراعاة عدل فی النتقام میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تابعین کو بھی خطاب ہے کیونکہ انتقام میں عادة تابعین کا اشتراک ضروری ہے بخلاف تبلیغ وبقیہ احکام مذکورہ آیت کے کہ نبی سے بالانفراد بھی اس کا صدور ہوسکتا ہے اس لیے اس میں خطاب خاص ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : یہودی بڑی شد و مد کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مذہب اور نسب کے اعتبار سے ابراہیم (علیہ السلام) کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ قرآن مجید دو ٹوک انداز میں اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔ چناچہ ارشاد ہوا : ” اے اہل کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کس بنیاد پر جھگڑا کرتے ہو۔ حالانکہ تورات اور انجیل ابراہیم کے بعد نازل کی گئی ہیں کیا تم پھر بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں ؟ تم وہ لوگ ہو جو ایسی باتوں کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو جن کا تمہیں کچھ علم ہے مگر ایسی باتوں میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں۔ حضرت ابراہیم یہودی تھے اور نہ ہی عیسائی وہ تو موحّد مسلمان تھے۔ ان کا مشرکوں کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ حضرت ابراہیم کے قریب تر وہ لوگ تھے جنہوں نے ان کی اتباع کی ان کے بعد سرور دو عالم اور آپ کے متبعین ابراہیم کے زیادہ قریب ہیں اور اللہ مومنوں کا حامی وناصر ہے۔ “ (آل عمران : ٦٥ تا ٦٨) اسی بات کی یہاں دوسرے انداز میں وضاحت کی گئی ہے۔ ہفتہ کا دن ان لوگوں پر لازم کیا گیا جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تھا۔ یقیناً آپ کا رب قیامت کے دن ضرور فیصلہ فرمائے گا، جس میں یہ لوگ اختلاف کرتے ہیں۔ یہود یوں کا دعویٰ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین میں جمعہ کے بجائے ہفتہ کا دن عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس دعویٰ کی بنیاد پر یہودی نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر الزام لگاتے تھے کہ انہوں نے ہماری مخالفت کی بنیاد پر ہفتہ کا دن چھوڑ کر جمعہ کا دن مقرر کرلیا ہے۔ جس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہفتہ کا دن یہودیوں نے اپنی مرضی سے اپنے آپ پر فرض کرلیا ہے اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ملت ابراہیم میں جمعہ کا دن ہی عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ اس کی وضاحت سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح فرمائی ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَےْرُ ےَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَےْہِ الشَّمْسُ ےَوْمُ الْجُمُعَۃِ فِےْہِ خُلِقَ اٰدَمُ وَفِےْہِ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ وَفِےْہِ اُخْرِجَ مِنْھَا وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّا فِیْ ےَوْمِ الْجُمُعَۃِ ) [ رواہ مسلم : باب فضل یوم الجمعۃ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نقل کرتے ہیں دنوں میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے اس دن آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا اسی دن ان کو جنت میں داخلہ ملا اور جمعہ کو ہی ان کا اخراج ہوا اور اسی دن قیامت برپا ہوگی۔ “ (عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لاَ یَغْتَسِلُ رَجُلٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، وَیَتَطَہَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُہْرٍ ، وَیَدَّہِنُ مِنْ دُہْنِہِ ، أَوْ یَمَسُّ مِنْ طیبِ بَیْتِہِ ثُمَّ یَخْرُجُ ، فَلاَ یُفَرِّقُ بَیْنَ اثْنَیْنِ ، ثُمَّ یُصَلِّی مَا کُتِبَ لَہُ ، ثُمَّ یُنْصِتُ إِذَا تَکَلَّمَ الإِمَامُ ، إِلاَّ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الأُخْرَی )[ رواہ البخاری : باب الدُّہْنِ لِلْجُمُعَۃِ ] ” حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو آدمی جمعہ کے دن غسل کرتا ہے اور استطاعت کے مطابق پاکیزگی حاصل کرتا ہے، بالوں کو تیل لگاتا ہے اور خوشبو لگاتا ہے، پھر وہ مسجد کی طرف نکلتا ہے اور لوگوں کے درمیان گھس کر نہیں بیٹھتا پھر جس قدر ممکن ہو وہ نماز پڑھتا ہے پھر خاموشی سے امام کا خطبہ سنتا تو اس کے آٹھ دنوں کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ “ مسائل ١۔ یہودیوں پر ہفتہ کے دن کا احترام لازم کیا گیا تھا۔ ٢۔ یہودیوں نے اس کے احترام کا خیال نہ کیا۔ ٣۔ اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن ہفتہ کے دن کا احترام نہ کرنے کی وجہ سے یہودیوں پر پھٹکار : ١۔ یہودیوں پر ہفتہ کے دن کا احترام لازم کیا گیا۔ (النحل : ١٢٤) ٢۔ ہم نے انہیں کہا کہ ہفتہ کے دن زیادتی نہ کرو۔ (النساء : ١٥٤) ٣۔ یہودی ہفتہ کے دن کا احترام نہیں کیا کرتے تھے۔ ( الاعراف : ١٦٣) ٤۔ یہودیوں نے ہفتہ کے دن زیادتی کی تو انہیں بندر بنا دیا گیا۔ (البقرۃ : ٦٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انما جعل الشبت علی الذین اختلفوا فیہ (٦١ : ٤٢١) ” رہا سبت تو وہ ہم نے ان لوگوں پر مسلط کیا تھا جنوہوں نے اس کے احکام میں اختلاف کیا “۔ اور اس کا فیصلہ بھی اللہ کے حوالے ہے۔ وان ربک لیحکم بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون (٦١ : ٤٢١) ” اور یقینا تیرا رب قیامت کے روز ان سب باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں “۔ یہاں تک دین جدید اور خالص عقیدہ توحید اور دین ابراہیم اور ان کے عقیدہ توحید کے باہم تعلق اور ان دونوں اور مشرکین و یہود کے منحرف عقائد کے درمیان فرق و امتیاز کی بات تھی۔ قرآن مجید کے مقاصد میں سے یہ ایک اہم مقصد بھی تھا۔ اب آخر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ اپے رب کی راہ میں آگے بڑھتے رہیں اور بہترین نصیحت اور حکمت اور اعتدال کے ساتھ اپنی دعوت کو پھیلاتے رہیں۔ اگر مخالفین کے ساتھ مکالمہ کرنا پڑے تو یہ نہایت ہی احسن طریقے سے ہونا چاہیے۔ ہاں اگر مخالفین تحریک اسلامی پر دست درازی کریں تو انتقام میں حد سے نہ گزریں اور قصاص کی حد تک اپنی جوابی کاروائی محدود رکھیں۔ ہاں اگر آپ مخالفین کی بعض قابل معافی حرکات سے درگزر کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ آپ اطمینان رکھیں کہ اچھا انجام یقینا خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے۔ آپ ان لوگوں کے لئے پریشان نہ ہوں۔ اگر وہ مان کر نہیں دیتے اور اگر وہ آپ کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف مکاریاں کرتے ہیں تو بھی آپ پرواہ نہ کریں۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

سنیچر کے دن کی تعظیم یہودیوں پر لازم تھی دنیا میں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا اور آخرت میں جو ان کا مرتبہ ہوگا اس کا ذکر کرنے کے بعد (اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَی الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ ) فرمایا سبت سنیچر کے دن کو کہتے ہیں بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ سنیچر کے دن کی تعظیم کریں اس دن انہیں مچھلیاں پکڑنے کی ممانعت تھی، انہوں نے خلاف ورزی کی اور مچھلیوں کا شکار کیا اور کچھ حیلے تراش لیے جس پر وہ بندر بنا دئیے گئے جس کا ذکر سورة بقرہ (رکوع آٹھ میں) اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ یہودیوں پر یہ جہالت سوار تھی کہ وہ جس دین پر چلتے تھے اس کو ابراہیم (علیہ السلام) کا دین بتا دیتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے اور جو چیزیں ان پر حرام کی گئی تھیں ان کے بارے میں کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں بھی یہ چیزیں حرام تھیں، اللہ جل شانہ نے ان کی تردید فرمائی کہ سنیچر کے دن کی تعظیم کا جو یہودیوں کو حکم دیا گیا تھا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں نہ تھا ان کے بعد یہودیوں پر جیسے بعض چیزیں حرام کردی گئی تھیں اسی طرح سنیچر کی تعظیم کا حکم بھی دیا گیا تھا اسے ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کی طرف منسوب نہ کرو۔ (قال صاحب الروح ص ٢٥٢ ج ١٤ فان الیھود کانوا یزعمون ان السبت من شعائر السلام وان ابراھیم (علیہ السلام) کان محافظا علیہ ای لیس السبت من شرائع ابراھیم شعائر ملتہ (علیہ السلام) التی امرت باتباعھا حتیٰ یکون بینہ وبین بعض المشرکین علاقۃ فی الجملۃ) (الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا) کے بارے میں صاحب معالم التنزیل حضرت قتادہ سے نقل کرتے ہیں۔ ھم الیھود استحلوا بعضھم وحرمہ بعضھم (یعنی یہ اختلاف کرنے والے یہودی تھے جب ان کو سنیچر کے دن کی تعظیم کا حکم دیا گیا تو ان میں سے بعض لوگوں نے اس کی تحریم کی خلاف ورزی کی اور بعض لوگوں نے حکم کے مطابق عمل کرکے اس کو باقی رکھا۔ ) یہ تفسیر زیادہ اقرب ہے جو سورة اعراف کی تصریح کے مطابق ہے وہاں بیان فرمایا ہے کہ کچھ لوگوں نے سنیچر کے دن کی بےحرمتی کی اور مچھلیاں پکڑیں اور کچھ لوگ ایسے تھے جو انہیں منع کرتے تھے۔ جمعہ کا دن آخر الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے لیے رکھا گیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ یہ دن اللہ کے نزدیک عید الاضحی اور یوم الفطر کے دن سے بھی بڑا ہے (مشکوٰۃ المصابیح ص ١٢٠) اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ بندہ جو بھی سوال کرے اللہ تعالیٰ عطا فرما دیتا ہے (مشکوٰۃ المصابیح ص ١٩٩) اس دن میں اجتماع بھی رکھا گیا ہے خطبہ بھی ہے نماز جمعہ بھی ہے جمعہ میں حاضر ہونے کی بڑی بڑی فضیلتیں اور جمعہ چھوڑنے کی بڑی بڑی وعیدیں احادیث شریف میں مذکور ہیں، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ہم بعد میں آئے ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے آگے ہوں گے (ہمارے فیصلے بھی جلدی ہوں گے اور جنت میں داخلہ بھی پہلی امتوں سے پہلے ہوگا) ہاں اتنی بات ہے کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر یہ دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا تھا انہوں نے اس میں اختلاف کیا پھر اللہ نے ہمیں راہ بتادی۔ (یعنی ہمارے لیے یوم جمعہ مقرر فرما دیا) سو لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں یہود نے کل کا دن لے لیا اور نصاریٰ نے پرسوں کا دن لے لیا (صحیح بخاری ص ١٢٠ ج ١) یہ جو فرمایا کہ اہل کتاب پر یہ دن فرض کیا گیا تھا حدیث کی شرح لکھنے والوں نے اس کا یہ مطلب لکھا ہے کہ ان کے نبیوں کے ذریعہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ایک دن اپنی سمجھ سے متعین کرلیں لہٰذا یہودیوں نے سنیچر کا دن لے لیا اور نصاریٰ نے اتوار کا دن لے لیا ان کے دونوں دن بعد میں آتے ہیں پہلے ہمارا دن آتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ وہ ہمارے تابع ہیں اپنے اپنے وقت میں جو یہود و نصاریٰ مسلمان تھے اس میں ان لوگوں کا ذکر ہے اب تو سب کافر ہی ہیں۔ پھر فرمایا (وَ اِنَّ رَبَّکَ لَیَحْکُمُ بَیْنَھُمْ ) (الآیۃ) (بلاشبہ آپ کا رب قیامت کے دن اس کے بارے میں فیصلہ فرما دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے) یہودیوں پر سنیچر کی تعظیم لازمی کی گئی تھی اور ان پر اس دن شکار کرنا حرام کردیا گیا تھا، وہ اس میں مختلف رہے بعض شکار کرتے تھے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اس طرح فیصلہ فرما دے گا کہ حکم پر عمل کرنے والوں کو ثواب عطا فرمائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو عذاب میں مبتلا فرما دے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

101:۔ یہ مشرکین کے ایک سوال کا جواب ہے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ملت ابراہیمی کے تابع ہوتے تو جمعہ کے بجائے سبت (ہفتہ) کی تعظیم کرتے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) سبت کی تعظیم کیا کرتے تھے۔ تو جواب دیا گیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) سبت کی نہیں بلکہ جمعہ کی تعظیم کیا کرتے تھے اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی جمعہ کی تعظیم کرنے کا حکم دیا گیا مگر قوم نے ان کے بعد اپنے کسی پیغمبر سے جھگڑا شروع کردیا کہ ہم جمعہ کی نہیں بلکہ ہفت کی تعظیم کریں گے چناچہ ہم نے ان پر ہفت کی تعظیم فرض کردی اور آخر الزمان پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی دن کی تعظیم کا حکم دیا جس کی تعظیم ابراہیم (علیہ السلام) بجا لاتے تھے یعنی جمعہ کا دن۔ اختلفوا فیہ علی نبیھم حیث امرھم بالجمعۃ فاختاروا السبت وھم الیھود (روح ج 14 ص 252) حضرت شیخ فرماتے ہیں فیہ میں فی بمعنی لام اجلیہ ہے۔ ای اخلفوا لاجل تعظیم السبت۔ یعنی قوم موسیٰ (علیہ السلام) میں اختلاف یوم سبت کی تعطیم کی وجہ سے پیدا ہوا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

124 ۔ سوائے اسکے نہیں کہ ہفتہ کے دن کی تعظیم تو صرف ان ہی لوگوں پر مقرر کی گئی تھی جنہوں نے آخر کار اس دن میں اختلاف کیا اور بلا شبہ آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان لوگوں کے مابین ان باتوں کا قطعی فیصلہ کر دے گا جن باتوں میں یہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ یعنی ملت ابراہیمی میں ہفتہ کے دن تعظیم کا حکم نہ تھا ۔ اسی طرح نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملت میں بھی نہیں ہے۔ البتہ جن لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رائے سے اختلاف کر کے ہفتہ کے دن کو پسند کیا تھا انہی پر اس کی تعظیم فرض کی گئی اور ان کو اس دن مچھلی کے شکار کی ممانعت کی گئی اور جو لوگ اس آزمائش پر پورے نہ اترے ان کو دنیا میں سزائیں دی گئیں اور آخرت میں تو ہر اختلاف کا عملاً فیصلہ ہونا ہی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اصل ملت ابراہیمی میں ہفتہ کا کچھ حکم نہ تھا اس امت پر بھی نہیں ۔ 12