Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 15

سورة النحل

وَ اَلۡقٰی فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِکُمۡ وَ اَنۡہٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙ۱۵﴾

And He has cast into the earth firmly set mountains, lest it shift with you, and [made] rivers and roads, that you may be guided,

اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے ہیں تاکہ تمہیں لے کر ہلے نہ اور نہریں اور راہیں بنادیں تاکہ تم منزل مقصود کو پہنچو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأَلْقَى فِي الاَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ ... And He has driven firm standing mountains into the earth, lest it should shake with you; Allah mentions the earth and how He placed in it mountains standing firm, which make it stable and keep it from shaking in such a manner that the creatures dwelling on it would not be able to live. Hence Allah says, وَالْجِبَالَ أَرْسَـهَا And the mountains He has fixed firmly. (79: 32) ... وَأَنْهَارًا وَسُبُلً ... and rivers and roads, meaning He has made rivers which flow from one place to another, bringing provision for His servants. The rivers arise in one place, and bring provision to people living in another place. They flow through lands and fields and wildernesses, through mountains and hills, until they reach the land whose people they are meant to benefit. They meander across the land, left and right, north and south, east and west - rivers great and small - flowing sometimes and ceasing sometimes, flowing from their sources to the places where the water gathers, flowing rapidly or moving slowly, as decreed by Allah. There is no god besides Him and no Lord except Him. He also made roads or routes along which people travel from one land or city to another, and He even made gaps in the mountains so that there would be routes between them, as He says: وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجاً سُبُلً And We placed broad highways for them to pass through. (21:31) ... لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ that you may guide yourselves.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

15۔ 1 یہ پہاڑوں کا فائدہ بیان کیا جا رہا ہے اور اللہ کا ایک احسان عظیم بھی ہے، کیونکہ اگر زمین ہلتی رہتی تو اس میں سکونت ممکن ہی نہ رہتی۔ اس کا اندازہ ان زلزلوں سے کیا جاسکتا ہے جو چند سکینڈوں اور لمحوں کے لئے آتے ہیں، لیکن کس طرح بڑی بڑی مضبوط عمارتوں کو پیوند زمین اور شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیتے ہیں۔ 15۔ 2 نہروں کا سلسلہ بھی عجیب ہے، کہاں سے وہ شروع ہوتی ہیں اور کہاں کہاں، دائیں بائیں، شمال، جنوب، مشرق و مغرب ہر جہت کو سہراب کرتی ہیں۔ اس طرح راستے بنائے، جن کے ذریعے تم منزل مقصود پر پہنچتے ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥] پہاڑوں کے فوائد :۔ رواسی ایسے سلسلہ ہائے کوہ کو کہتا جاتا ہے جو سینکڑوں میلوں تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ زمین ہچکولے نہ کھائے اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کو پیدا کیا گیا تو وہ ڈگمگاتی اور ہچکولے کھاتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر پہاڑ رکھ دیئے۔ ترمذی، ابو اب التفسیر، سورة الناس) جس کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر پہاڑوں کو کسی خاص ترتیب اور حکمت سے پیدا کیا اور رکھا گیا ہے۔ کہیں اونچے اونچے پہاڑ ہیں۔ کہیں پھیلاؤ زیادہ ہے لیکن بلندی کم ہے۔ کہیں دور دور تک پہاڑوں کا نام و نشان ہی نہیں ملتا اور یہ سب کچھ زمین کے توازن (Balance) کو قائم رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اور جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پہاڑوں کا وجود زلزلوں کو روکنے میں بڑا ممد ثابت ہوا ہے۔ گویا پہاڑوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان زمین پر سکون سے رہ سکتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک خالی کشتی پانی میں ادھر ادھر ہلتی اور ڈگمگاتی رہتی ہے۔ پھر جب اس میں بوجھ ڈال دیا جائے تو اس کا ہلنا جلنا بند ہوجاتا ہے۔ ہماری زمین بھی جدید نظریہ ہیئت کے مطابق فضا میں تیزی سے تیر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسپر متناسب اور متوازن پہاڑ ٹھونک کر اس کی ڈگمگاہٹ کو بند کردیا۔ واضح رہے کہ زمین کی سورج کے گرد گردش کا مسئلہ ایک اختلافی مسئلہ ہے جو آج تک چار دفعہ بدل چکا ہے۔ بہرحال موجودہ تحقیق یہی ہے کہ زمین سورج کے گرد گردش کر رہی ہے۔ کل کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے میری تصنیف && الشمس والقمر بحسبان && نیز اس گردش کے مسئلہ کا زمین کے ہچکولے کھانے کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر انھیں پہاڑوں سے اللہ نے دریاؤں کو رواں کیا۔ چناچہ دنیا کے بیشتر دریاؤں کے منابع پہاڑوں ہی میں واقع ہوئے ہیں۔ پھر انہی پہاڑوں سے ندی نالے نکلتے ہیں اور پھر دریاؤں کے ساتھ ساتھ راستے بھی بنتے چلے جاتے ہیں۔ ان قدرتی راستوں کی اہمیت پہاڑی علاقوں میں تو بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اگرچہ میدانی علاقوں میں بھی کچھ کم اہم نہیں ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة حجر ( ١٩) اور سورة رعد (٣) یہاں پہاڑوں اور نہروں کے ساتھ راستوں کا بھی ذکر فرمایا، کیونکہ پہاڑوں میں دریا ہی راستہ بناتے ہیں اور انھی کے کناروں پر وسیع سڑکیں بنتی ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In Verse 16, it was said: وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْ‌ضِ رَ‌وَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ (And He placed mountains on the earth, lest it should shake with you). The word: رَ‌وَاسِيَ (rawasiya) is the plural of رَاسیۃ (rasiyah) which denotes a huge mountain. The word: تَمِیدَ (tamida) is a derivation from the verbal noun: مِيدَ (mayd) which means to shake or swing or sway from side to side (due to loss of balance). The sense of the verse is that Allah Ta’ ala has not made the sphere of the Earth from components which are not solid and balanced, therefore, it is heavier on one side and lighter on some other. Its necessary outcome was that the Earth was to be taken as stationary, as commonly held by early thinkers; or, taken to be orbitally moving, as determined by some early and most modern scientists. Under both these views, this phenomenon would have caused terrestrial turbulence which is iden¬tified as shaking, swinging or swaying from side to side. To stop this tur¬bulence and to provide a balance for the terrestrial composition, Allah Ta` ala placed on the Earth the weight of mountains so that it would not shake. As for its orbital movement like all planets which is the common¬ly held view from Pythagoras to modern scientists made more explicit through contemporary experiments, it is something which the Holy Qur’ an neither affirms nor rejects. In fact, this possible turbulence which has been stopped through the use of mountains should be more condu¬cive to this orbital movement which is credited to the Earth like other planets. Allah knows best.

(آیت) وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُم۔ رواسی راسیہ کی جمع ہے بھاری پہاڑ کو کہا جاتا ہے تمید مید مصدر سے مشتق ہے جس کے معنی ڈگمگانا یا مضطربانہ قسم کی حرکت کرنا ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ زمین کے کرہ کو حق تعالیٰ نے بہت سی حکمتوں کے ماتحت ٹھوس اور متوازن اجزاء سے نہیں بنایا اس لئے وہ کسی جانب سے بھاری کسی جانب سے ہلکی واقع ہوئی ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ زمین کو عام فلاسفروں کی طرح ساکن مانا جائے یا کچھ قدیم و جدید فلاسفروں کی طرح حرکت ہوتی جس کو اردو میں کانپنے یا ڈگمگانے سے تعبیر کیا جاتا ہے اس اضطرابی حرکت کو روکنے اور اجزاء زمین کو متوازن کرنے کے لئے حق تعالیٰ نے زمین پر پہاڑوں کا وزن رکھ دیا تاکہ وہ اضطرابی حرکت نہ کرسکے باقی رہا مسئلہ حرکت مستدیرہ کا جیسے تمام سیارات کرتے ہیں اور قدیم فلاسفہ میں سے فیثا غورث کی یہی تحقیق تھی اور جدید فلاسفر سب اس پر متفق ہیں اور نئے تجربات نے اس کو اور بھی زیادہ واضح کردیا ہے تو قرآن کریم میں نہ کہیں اس کا اثبات ہے نہ اس کی نفی بلکہ یہ اضطرابی حرکت جس کو پہاڑوں کے ذریعہ بند کیا گیا ہے اس حرکت مستدیرہ کے لئے اور زیادہ معین ہوگی جو سیارات کی طرح زمین کے لئے ثابت کی جاتی ہے واللہ اعلم۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَاَنْهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ 15۝ۙ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ رسا يقال : رَسَا الشیء يَرْسُو : ثبت، وأَرْسَاهُ غيره، قال تعالی: وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] ، وقال : رَواسِيَ شامِخاتٍ [ المرسلات/ 27] ، أي : جبالا ثابتات، وَالْجِبالَ أَرْساها[ النازعات/ 32] ، ( ر س و ) رسا الشئی ۔ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں اور ارسٰی کے معنی ٹھہرانے اور استوار کردینے کے ۔ قرآن میں ہے : وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] اور بڑی بھاری بھاری دیگیں جو ایک پر جمی رہیں ۔ رَواسِيَ شامِخاتٍ [ المرسلات/ 27] اور انچے انچے پہاڑ یہاں پہاڑوں کو بوجہ ان کے ثبات اور استواری کے رواسی کہا گیا ہے ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : وَالْجِبالَ أَرْساها[ النازعات/ 32] اور پہاڑوں کو ( اس میں گاڑ کر ) پلادیا ۔ ميد المَيْدُ : اضطرابُ الشیء العظیم کا ضطراب الأرض . قال تعالی: أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ [ النحل/ 15] ، أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ [ الأنبیاء/ 31] . ومَادَتِ الأغصان تمید، وقیل المَيَدانُ في قول الشاعر : 432- نعیما ومَيَدَاناً من العیش أخضرا وقیل : هو الممتدُّ من العیش، وميَدان الدَّابة منه، والمائدَةُ : الطَّبَق الذي عليه الطّعام، ويقال لكلّ واحدة منها [ مائدة ] «2» ، ويقال : مَادَنِي يَمِيدُنِي، أي : أَطْعَمِني، وقیل : يُعَشِّينى، وقوله تعالی: أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] قيل : استدعوا طعاما، وقیل : استدعوا علما، وسمّاه مائدة من حيث إنّ العلم غذاء القلوب کما أنّ الطّعام غذاء الأبدان . ( م ی د ) المید ۔ زمین کی طرح کی کسی بڑی چیز کا مضطرب ہونا ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ [ النحل/ 15] کہ تم کو نے کر کہیں جھک نہ جائے ۔ أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ [ الأنبیاء/ 31] تاکہ لوگوں ( کے بوجھ سے ہلنے اور جھکنے نہ لگے ۔ مادت اکا غصان تمید شاخوں کا مضطرب ہونا بعض نے کہا ہے کہ شاعر کے کلام ( 417 ) فعیما ومیدا انا من العیش اخضرا نعمتیں اور سر سبز لہلہاتی ہوئی زندگی میں بھی میدا نا مادت الا غصبان سے ہے اور اس کے معین کشادہ زندگی کے ہیں اور اسی سے میدان الدابۃ ہے جس کے منعی جانور کے کھلے میدان میں پھرنے کے ہیں ۔ المائدۃ اصل میں اس خوان کو کہتے ہیں جس پر کھانا چنا ہوا ہو ۔ اور ہر ایک پر یعنی کھانے اور خالی خوان پر انفراد بھی مائدۃ کا لفظ بولا جاتا ہے یہ مادنی یمیدنی سے ہے جس کے معنی رات کا کھانا کھلانا بھی کئے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ہم پر آسمان سے خواں نازل فرما ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ انہوں نے کھانا طلب کیا تھا ۔ اور بعض نے کہا ہے علم کے لئے دعا کی تھی اور علم کو مائدۃ سے اس ؛لئے تعبیر فرمایا ہے کہ علم روح کی غذا بنتا ہے جیسا کہ طعام بدن کے لئے غذا ہوتا ہے ۔ نهر النَّهْرُ : مَجْرَى الماءِ الفَائِضِ ، وجمْعُه : أَنْهَارٌ ، قال تعالی: وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، ( ن ھ ر ) النھر ۔ بافراط پانی بہنے کے مجری کو کہتے ہیں ۔ کی جمع انھار آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥) اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکر ادا کرو اور اس زمین میں بڑے بڑے مضبوط پہاڑ رکھ دیے تاکہ وہ زمین کو ہلنے نہ دیں اور اس نے تمہارے فوائد کے لیے نہریں بنائیں اور راستے بنائے تاکہ تم راستوں کو پہچان کر منزل مقصود تک پہنچ جاؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥ (وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَاَنْهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ) یہاں اَنْہٰرًا وَّسُبُلاً کے اکٹھے ذکر کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو عملی طور پر بھی ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ پہاڑی سلسلوں میں عام طور پر ندیوں کی گزر گاہوں کے ساتھ ساتھ ہی راستے بنتے ہیں۔ اسی طرح پہاڑوں کے درمیان قدرتی وادیاں انسانوں کی گزر گاہیں بھی بنتی ہیں اور پانی کے ریلوں کو راستے بھی فراہم کرتی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

12. This shows that the real function of mountains is to regulate the motion and speed of the earth. We have come to this conclusion, for the Quran has made this benefit of mountains very prominent in many places. Therefore, their other benefits should be regarded as incidental. 13. Natural ways are those routes which are formed along the banks of streams, ravines and rivers. Though the importance of these ways is great even in the plains, one feels their sore need, especially in the mountainous regions.

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :12 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سطح زمین پر پہاڑوں کے ابھار کا اصل فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زمین کی گردش اور اس کی رفتار میں انضباط پیدا ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر پہاڑوں کے اس فائدے کو نمایاں کر کے بتایا گیا ہے جس سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے تمام فائدے ضمنی ہیں اور اصل فائدہ یہی حرکت زمین کو اضطراب سے بچا کر منضبط ( Regulate ) کرنا ہے ۔ سُوْرَة النَّحْل حاشیہ نمبر :13 یعنی وہ راستے جو ندی نالوں اور دریاؤں کے ساتھ بنتے چلے جاتے ہیں ۔ ان قدرتی راستوں کی اہمیت خصوصیت کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں محسوس ہوتی ہے ، اگرچہ میدانی علاقوں میں بھی وہ کچھ کم اہم نہیں ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

10: جب زمین کو شروع میں سمندر پر بچھایا گیا تو وہ ڈگمگاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے اس کو جما دیا ہے۔ جدید سائنس کے مطابق اب بھی بڑے بڑے برا اعظم سمندر کے پانی پر تھوڑے تھوڑے سرکتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ سرکنا اتنا معمولی ہوتا ہے کہ انسان کو احساس نہیں ہوتا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٥۔ ١٦۔ تفسیر عبد الرزاق میں حسن بصری سے اور تفسیر ابن جریر میں قیس بن عباس سے روایت ہے کہ پہلے پہل اللہ نے پانی پر زمین بچھائی تو زمین ہلتی تھی فرشتوں نے آپس میں چرچا کیا کہ زمین پانی پر کیوں کر ٹھہرے گی جب اللہ نے زمین پر پہاڑ ٹھونک دئیے تو پھر زمین کا ہلنا بند ہوگا اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ اللہ نے کب اور کس چیز کے یہ پہاڑ بنا دئیے ١ ؎۔ ایک جگہ یہ بات اوپر گزر چکی ہے کہ عبد الرزاق بن ہمام نے نابینا ہونے سے پہلے جو کتابیں تالیف کی ہیں ان کو امام بخاری نے صحیح قرار دیا ہے۔ اس لئے تفسیر عبد الرزاق کی یہ حسن بصری کی روایت معتبر ہے یہ قیس بن عباد بھی جلیل القدر تابعیوں میں ہیں اور تفسیر ابن جریر کی سند بھی معتبر ہے ترمذی میں انس بن مالک (رض) کی اس مضمون کی جو ایک روایت ہے اگرچہ سلیمان بن ابی سلمان حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کا پروردہ اس روایت کی سند میں نامعلوم الحال ہے لیکن اوپر کی روایتوں سے اس انس بن مالک (رض) کی روایت کو بھی کسی قدر تقویت ہوجاتی ہے ان روایتوں کے موافق ان تمید بکم کی اصل ان لا عید بکم ہے جس کے حاصل معنے وہی ہیں جو حسن بصری (رح) اور قیس بن عباد (رح) کے قول کے موافق اوپر بیان کئے گئے ہیں اگرچہ یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہ تھی کہ بغیر پہاڑوں کے میخیں ٹھونکنے کے وہ زمین کو پانی پر مضبوط جما دیتا لیکن پہاڑوں کے پیدا کرنے میں طرح طرح کی حکمتیں تھیں سونا چاندی اور قیمتی چیزیں اکثر قسم کی دوائیں پہاڑوں میں پیدا ہوتی ہیں ندیاں اور چشمے پہاڑوں میں سے نکلتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو پیدا کیا اور فرشتوں کے ایک خاص گروہ کو پہاڑوں کی چیزوں کے انتظام کے لئے مقرر کیا جس گروہ کے سردار کا لقب ملک الجبال ہے چناچہ صحیح بخاری کی حضرت عائشہ (رض) کی روایت ٢ ؎ میں یہ ذکر تفصیل سے ہے سورت الانبیاء میں آوے گا کہ پہاڑوں کے بیچ میں اللہ تعالیٰ نے گھاٹیاں رکھیں ہیں۔ تاکہ پہاڑوں کے سب سے راستہ بند ہو سبلا لعلکم تھتدون کا یہاں بھی یہی مطلب ہے وعلمت وبالنجم ھم یھتدون حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کے قوال کے موافق آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر یہ ہے کہ دن کو پہاڑ اور رات کو تارے ایسی علامتیں ہیں جن کے سبب سے مسافروں کو سیدھا راستہ جنگل اور دریا میں معلوم ہوجاتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود کی حدیث گزر چکی ہے ٣ ؎۔ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شرک سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کی راحت کیلئے یہ سب چیزیں پیدا کیں ہیں تو یہ بڑے وبال کی بات ہے کہ اللہ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کیا جاوے۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٥٦٥ ج ٢ و تفسیر ابن جریر ص ٩٠ ج ١٤۔ ٢ ؎ صیح بخاری ص ٤٨٨ ج ١ باب بعد باب ذکر الملائکۃ۔ ٣ ؎ یعنی اوپر کی آیات کی تفسیر میں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:15) القی۔ القاء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے ڈالا۔ رواسی ۔ رسو۔ مصدر رسا الشیٔ (باب نصر) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے وقدور رسیت (34:13) اور بڑی بھاری دیگیں جو ایک جگہ پر جمی رہیں۔ اونچے اونچے پہاڑوں کو بوجہ ان کے اثبات اور استواری کے رواسی کہا گیا ہے۔ لہٰذا رواسی بمعنی اونچے اونچے پہاڑ۔ بندرگاہ کو مرسی (اسم ظرف مکان) اس واسطے کہتے ہیں کہ یہاں بھی جہاز اور کشتیاں آکر ٹھہر جاتی ہیں۔ رواسی راسیۃ کی جمع ہے۔ پہاڑ۔ تمید۔ ماد یمید مید (باب ضرب) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ ہلتی ہے وہ جھکتی ہے۔ ان تمید بکم ای لئلا تمیدبکم کہ وہ تم کو لے کر نہ ڈگمگائے نہ ڈولے (یہ زمین کی اضطراری واضطرابی حرکت مراد ہے) ۔ انھرا۔ کا عطف رواسی پر ہے اور سبلا کا عطف انھارا پر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 معلوم ہوا کہ اگر سطح زمین پر یہ اونچے اونچے پہاڑ ابھرے ہوئے نہ ہوتے تو زمین کے گھومنے میں وہ سکون و انضباط نہ ہوتا جواب ہمیں محسوس ہوتا ہے بلکہ شاید وہ ادھر ادھر جھومتی رہتی ! اس آیت میں پہاڑوں کا یہی ایک فائدہ و فکر کیا گیا ہے۔ یوں پہاڑوں کے اور بھی بہت سے فائدے ہیں جو انسان کو حاصل ہوتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سمندر کے بعد پھر زمین کا تذکرہ۔ بارہویں پارے کی ابتدا میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا ہے اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ ( ھود : ٧) جب زمین کو پانی پر استوار کیا گیا تو یہ ہچکولے کھاتی تھی جس طرح خالی کشتی پانی پر ہچکولے کھایا کرتی ہے۔ کشتی میں مناسب مقدار میں وزن ہو تو وہ ہچکولے کھانے اور ڈانواں ڈول ہونے کے بجائے پانی کی سطح پر متوازن رفتار میں ٹھہری رہتی ہے۔ یہی کیفیت پہاڑوں سے پہلے زمین کی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے زمین پر بڑے بڑے پہاڑ گاڑ دیے تاکہ ہچکولے کھانے سے رک جائے۔ پھر پہاڑوں کے درمیان دریا، نہریں اور راستے بنا دیے گئے تاکہ لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے سہولت اور راہنمائی حاصل کریں۔ ان راستوں کو پہچاننے کے لیے زمین پر پہاڑ، ٹیلے، درخت اور دیگر نشانیاں قائم کرنے کے ساتھ رات کے سفر کے لیے آسمان پر چمکتے ہوئے ستاروں کا سلسلہ پھیلا دیا گیا ہے کہ آسمان کے نیچے بلب لٹکا دیے گئے ہیں۔ جس سے صحراؤں اور بیابانوں میں راستہ تلاش کرنا آسان ہوگیا۔ پھر ستاروں کی مدد سے زمین پر راستے متعین کیے جاتے ہیں۔ بڑی بڑی نشانیاں بیان کرنے اور ان کے حوالے سے اپنی ذات اور صفات کی وحدت کا ثبوت دینے کے بعداللہ تعالیٰ ہر انسان بالخصوص کافر اور مشرک سے سوال کرتا ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں شریک کرتے ہو وہ ان چیزوں کے مقابلے میں وجود کے اعتبار سے نہایت ہی چھوٹی مخلوق ہیں۔ انہیں اور سب کو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔ لہٰذا بتاؤ کہ خالق اور مخلوق دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ ہرگز برابر نہیں ہوسکتے پھر تم شرک کو سمجھنے اور اس سے بچنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ دوسرے مقام پر اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے کہ اے لوگو تمہارے سامنے ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ سب جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ مکھی پیدا کرنا تو درکنار اگر مکھی ان کے کھانے سے کوئی چیز اٹھا کرلے جائے تو یہ اسے واپس نہیں لے سکتے۔ مدد طلب کرنے والے اور جن سے مدد طلب کی جاتی ہے دونوں ہی کمزور ہیں۔ درحقیقت لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہیں پہچانی۔ (الحج : ٧٣) ترقی یافتہ اقوام اپنے مقابلے میں دوسروں کو اجڈ ‘ جاہل اور غیر مہذب تصور کرتی ہیں۔ بالخصوص مسلمانوں کے بارے میں ان کا خیال یہ ہے کہ مسلمان غیر مہذب ‘ جاھل اور بنیاد پرست لوگ ہیں۔ حالانکہ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے ان فرسودہ خیالات اور تصورات کی نہ صرف حوصلہ شکنی بلکہ مکمل نفی کی ہے۔ ستاروں اور چاند کو مسخر کرنے کا دعوے کرنے والی اقوام ایسے جاہلانہ تصورات رکھتے ہیں کہ انہوں نے ہفتے کے ایام کو انہی بروج اور سیاروں کی طرف منسوب کر رکھا ہے۔ یہاں پہاڑوں کا سب سے بڑا یہ فائدہ ذکر فرمایا ہے کہ ان کے ذریعے زمین کو متوازن بنا دیا گیا۔ اس کا اعتراف آج کے ماہر ارضیات بھی کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری زمین پر پہاڑوں کا سلسلہ اس طرح قائم کیا ہے جس سے زمین میں ٹھہراؤ پیدا ہوگیا ہے۔ اس لحاظ سے پہاڑ زمین کو ہچکولے کھانے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں پہاڑگاڑ دیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں دریا اور راستے بنائے تاکہ تم راہ پا سکو۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے علامتیں بنائی ہیں۔ ٤۔ انسان ستاروں سے بھی راستہ تلاش کرتے ہیں۔ ٥۔ پیدا کرنے والا اور نہ کرنے والا برابر نہیں ہوسکتا۔ ٦۔ واضح دلائل کے باوجود لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ تفسیر بالقرآن خالق اور مخلوق برابر نہیں ہوسکتے : ١۔ کیا پیدا کرنے والا اور پیدا نہ کرنے والے برابر ہیں ؟ (النحل : ١٧) ٢۔ کیا تم ان کو شریک بناتے ہو جنہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (الاعراف : ١٩١) ٣۔ اللہ کے سوا کیا وہ ان لوگوں پکارتے ہیں جنہوں نے کچھ پیدا نہیں کیا بلکہ انہیں پیدا کیا گیا ہے ؟ (النحل : ٢٠) ٤۔ انہوں نے ان کو معبود بنا لیا جنہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی۔ (الفرقان : ٣) ٥۔ بھلا دیکھو جو کچھ تم بوتے ہو تو کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں۔ (الواقعۃ : ٦٣۔ ٦٤) ٦۔ تمہیں آسمان و زمین سے کون رزق دیتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : ٦٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب اس سبق میں آیات و دلائل کائنات کا آخری گروپ۔ آیت نمبر ١٥ تا ١٦ پہاڑوں کو زمین میں میخ بنایا۔ جدید علم جغرافیہ اس کے اسباب سے بحث کرتا ہے ، لیکن علم جدید نے یہ نہیں بتایا کہ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین ایک طرف ڈھلک جاتی ۔ یہ حقیقت صرف قرآن مجید نے بیان کی ہے۔ جدید علم جغرافیہ پہاڑوں کے وجود کے متضاد اسباب بیان کرتا ہے ۔ مثلاً یہ کہ زمین کا اندرون ایک گرم لاوا ہے۔ وہ جب ٹھنڈا ہوتا ہے تو سکڑ جاتا ہے اور اس کے اوپر زمین کی سطح بھی سکڑ کر ایک شکن کی صورت میں پہاڑ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یوں اونچے اونچے پہاڑ اور وادیاں وجود میں آجاتی ہیں۔ لیکن قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ یہ پہاڑ زمین کے اندر توازن رفتار پیدا کرتے ہیں۔ علم جدید نے شاید ابھی تک اس پہلو پر غور نہیں کیا۔ ان پہاڑوں کے بالمقابل بڑی بڑی وادیاں ہیں اور ان میں مختلف راستے اور ندیاں نالے ہیں۔ اس کی طرف بھی متوجہ کیا جاتا ہے۔ پہاڑوں کے ساتھ ندی نالے طبعی تعلق رکھتے ہیں۔ پہاڑوں سے دریا نکلتے ہیں۔ پہاڑوں کے اوپر برف پڑتی ہے اور بارش ہوتی ہے اور پھر اس سے دریاؤں اور ندی نالوں سے راستے نکلتے ہیں۔ پھر ان راستوں پر لوگ چلتے ہیں۔ سامان پہنچاتے اور باربرداری کا کام کرتے ہیں۔ پھر ان راستوں کے لئے نشانات راہ وضع ہوتے ہیں ، جس طرح یہ پہاڑ راستوں کا نشان ہوتے ہیں ، اسی طرح صحراؤں اور سمندروں میں ستارے راہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ غرض اللہ کی یہ پوری کائنات انسان کے لئے مفید ہے۔ آیات تخلیق اور نشانات انعامات باری اور حکمت تدبیر کائنات کے بیان بعد اب وہ بات واضح طور پر بیان کی جاتی ہے جس کے لئے یہ پورے دلائل و شواہد پیش کئے گئے۔ یہ تمام شواہد اس مقصد کے لئے لائے گئے تھے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اور وہ ان باتوں سے منزہ ہے جو یہ لوگ اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ہفتم : زمین پر بھاری بھاری پہاڑ پیدا فرمانے کی نعمت یاد دلائی ہے اور فرمایا (وَ اَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ ) (اور زمین میں بھاری پہاڑ ڈال دئیے تاکہ زمین تم کو لے کر ہلنے نہ لگے) زمین پر انسان کو بسایا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ انسان ضعیف ہے اگر زمین حرکت کرتی اور ڈگمگاتی رہتی تو انسان کا جینا دشوار ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ڈگمگانے سے محفوظ فرمانے کے لیے اس میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دئیے ان پہاڑوں کے بوجھ کی وجہ سے وہ حرکت نہیں کرتی، انسان اس پر چلتے پھرتے ہیں کام کاج کرتے ہیں وہ ہلنے اور ڈگمگانے سے محفوظ ہے، یہ انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے، جب کبھی اللہ کی مشیت ہوتی ہے اور زمین حرکت میں آجاتی ہے تو آبادیاں فنا ہوجاتی ہیں جس کو زلزلہ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں، زمین گردش کرتی ہے یا نہیں اس کے بارے میں قرآن مجید میں نفیاً واثباتاً کوئی بات نہیں ملتی اگر زمین گردش کرتی ہو تو وہ (اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ ) کے خلاف نہیں ہے کیونکہ آیت شریفہ میں زمین کے کانپنے اور ڈگمگانے کی نفی فرمائی ہے اگر وہ معتدل انداز میں چلتی رہے جیسا کہ دور حاضر کے اہل سائنس کہتے ہیں تو یہ ممکن ہے، قرآن میں اس کی نفی نہیں ہے۔ ہشتم : نہروں کا تذکرہ فرمایا نہریں سمندروں سے چھوٹی ہوتی ہیں، میٹھے پانی کی ہوتی ہیں اور ان سے انسان حیوان، کھیتیاں اور باغات سیراب ہوتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتیں ہیں نیل، فرات، دجلہ، جیحون، سیحون، گنگا، جمنا، راوی، چناب، جہلم، دریائے سندھ ان سے خلق کثیر منتفع اور مستفید ہوتی ہے۔ نہم : یہ فرمایا کہ تمہارے لیے راستے بنائے، یہ راستے نرم زمین میں بھی ہیں اور پہاڑوں میں بھی، جنگلوں میں بھی اور آبادیوں میں بھی، سمندروں میں بھی اور فضاؤں میں بھی، ان راستوں کے ذریعہ پیدل چل کر یا سواریوں پر بیٹھ کر منزل مقصود پر پہنچتے ہیں۔ سورة نوح میں فرمایا (وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا لِتَسْلُکُوْا مِنْہَا سُبُلًا فِجَاجًا) (اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا تاکہ تم اس کے کھلے راستوں میں چلو) اگر راستے بنے ہوئے نہ ہوتے اور اٹکل پچو سے سفر کرتے تو کہاں سے کہاں پہنچ جاتے اس بات کو بیان فرمانے کے لیے سُبُلاً کے ساتھ (لَعَلَّکُمْ تَھتَدُوْنَ ) بھی فرمایا راستوں کے ذکر کے ساتھ و علامات بھی فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں راستے بھی ہیں۔ راستوں کی نشانیاں بھی ہیں درخت پہاڑ وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن سے مسافر اندازہ کرکے چلتا رہتا ہے اور علی وجہ البصیرۃ اپنا سفر قطع کرلیتا ہے۔ قال ابن کثیر قولہ و علٰمت ای دلائل من جبال کبار واکام صغار ونحو ذلک یستدل بھا المسافرون برا وبحرا اذا ضلوا الطریق (ص ٥٦٥ ج ٢) علامہ ابن کثیر (رض) فرماتے ہیں ارشاد الٰہی ہے (وَعلمٰت) یعنی بڑے بڑے پہاڑوں اور چھوٹے ٹیلوں وغیرہ کی نشانیاں کہ خشکی کے اور سمندروں کے مسافر جب بھولتے ہیں تو انہیں کے ذریعہ راستہ کا نشان تلاش کرتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ زمین میں پہاڑ رکھ دئیے تاکہ زمین میں حرکت و اضطراب پیدا نہ ہو اور دریا اور راستے بنائے یہ چیزیں اس لیے بنائیں تاکہ تمہیں راہنمائی حاصل ہو۔ ” لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ “ اگر صرف ” سُبُلًا “ کی مناسبت سے کہا گیا ہو تو مطلب واضح ہے۔ اور اگر اسے پہاڑوں اور دریاؤ کے ساتھ بھی متعلق مانا جائے تو بھی درست ہے کیونکہ پہاڑ اور دریا بھی مختلف ملکوں اور علاقوں کو ایک دوسرے جدا کرنے میں ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ یہ اشیاء ابطال شرک میں ہماری راہنمائی کرتی ہیں۔ ویجوز ان یکون تعلیلا بالنظر الی جمیع ما تقدم لان تلک الاثار العظام تدل علی بطلان الشرک (روح ج 14 ص 116) ۔ (” لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ “ ) الی مقاصدکم او الی توحید ربکم (مدارک ج 2 ص 218) ۔ ” وَ عَلٰمٰتٍ “ یہ بھی ” رَوَاسِیَ “ پر معطوف ہے یعنی راستوں کی علامتیں جن سے منزل مقصود کا صحیح راستہ متعین کیا جاسکے۔ ” و بِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ “ اور رات کو جب ہر طرف گھپ اندھیرا ہو اور مسافر راستہ بھول جائے تو ستاروں کو دیکھ کر وہ اپنی منزل کا راستہ متعین کرسکتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

15 ۔ اور اس نے زمین میں بھاری بھاری پہاڑ رکھ دیئے تا کہ کہیں زمین تم کو لے کر ہلنے اور ڈگمگانے نہ لگے اور اس نے ندیاں اور نہریں بنائیں اور راستے بنائے تا کہ تم ان راستوں سے راہ پائو اور منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک ملک سے دوسرے ملک جا سکو ۔ 12 ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سب کچھ تمہاری حفاظت اور سہولت و آسانی کے لئے کیا گیا ۔