The tafseer of Surat un Nahal, verse 19, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.
Allah tells: وَاللّهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ And Allah knows what you conceal and what you reveal. Allah tells us that He knows what is hidden in people's hearts as well as what is apparent. He will reward or punish everyone for their deeds on the Day of Resurrection. If their deeds are good then they will be rewarded, and if their deeds are evil, then they will be punished. The gods of the Idolators are Created, they do not create Then Allah tells: وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ لاَ يَخْلُقُونَ شَيْيًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
اللہ خالق کل چھپا کھلا سب کچھ اللہ جانتا ہے ، دونوں اس پر یکساں ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ قیامت کے دن دے گا نیکوں کو جزا بدوں کو سزا ۔ جن معبودان باطل سے لوگ اپنی حاجتیں طلب کر تے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں ۔ جیسے کہ خلیل الرحمن حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ آیت ( قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ 95ۙ ) 37- الصافات:95 ) تم انہیں پوجتے ہو جنہیں خود بناتے ہو ۔ درحقیقت تمہارا اور تمہارے کاموں کا خالق صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے ۔ بلکہ تمہارے معبود جو اللہ کے سوا جمادات ، بےروح چیزیں ، سنتے سیکھتے اور شعور نہیں رکھتے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیامت کب ہو گی؟ تو ان سے نفع کی امید اور ثواب کی توقع کیسے رکھتے ہو ؟ یہ امید تو اس اللہ سے ہونی چاہئے جو ہر چیز کا عالم اور تمام کائنات کا خالق ہے ۔
19۔ 1 اور اس کے مطابق وہ قیامت والے دن جزا اور سزا دے گا۔ نیک کو نیکی کی جزا اور بد کو بدی کی سزا۔
[٢٠] الٰہ ہونے کی خصوصیات :۔ ناشکرے، نافرمان اور مشرک لوگ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کو ان کی تقصیرات اور کرتوتوں کا علم نہیں بلکہ وہ ان کی تمام ظاہر اور پوشیدہ حرکات و سکنات جانتے ہوئے بھی از راہ کرم و فضل انھیں مسلسل ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیئے جارہا ہے۔
وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ : اللہ کے سوا کوئی بھی سب لوگوں کے اعمال نہیں جان سکتا، چھپے ہوئے عمل تو بہت دور کی بات ہے، علانیہ بھی نہیں جان سکتا۔ چند لوگوں کے چند اعمال اس کے دیکھنے سننے میں آ بھی جائیں تو بیشمار انسانوں کے اعمال کیسے جان سکتا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ تمام جنوں اور انسانوں کے علانیہ کاموں کے علاوہ ان کے چھپ کر کیے ہوئے کام بھی جانتا ہے، بلکہ سینے کے راز تک جانتا ہے۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (٧) اور سورة اعلیٰ (٧) کی تفسیر۔ لہٰذا یہ نہ سمجھو کہ تمہارے شرک و کفر کے باوجود تم پر جو رحم فرما رہا ہے اور نعمتوں پر نعمتیں دے رہا ہے یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ وہ تمہارے اعمال سے ناواقف ہے، بلکہ اس تمام ناشکری اور نافرمانی کے باوجود اس کی مہربانی اس لیے ہے کہ شاید تمہاری آنکھیں کھلیں اور تم اپنے کرتوتوں سے باز آجاؤ۔ اس میں کافروں کے لیے یہ تنبیہ ہے کہ معبود تو وہی ہونا چاہیے اور ہوسکتا ہے جو ظاہر اور پوشیدہ ہر چیز کا جاننے والا ہو۔
وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ 19 الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ سرر (كتم) والسِّرُّ هو الحدیث المکتم في النّفس . قال تعالی: يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] ، وقال تعالی: أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْواهُمْ [ التوبة/ 78] ( س ر ر ) الاسرار السر ۔ اس بات کو کہتے ہیں جو دل میں پوشیدہ ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] وہ چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے ۔ علن العَلَانِيَةُ : ضدّ السّرّ ، وأكثر ما يقال ذلک في المعاني دون الأعيان، يقال : عَلَنَ كذا، وأَعْلَنْتُهُ أنا . قال تعالی: أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْراراً [ نوح/ 9] ، أي : سرّا وعلانية . وقال : ما تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَما يُعْلِنُونَ [ القصص/ 69] . وعِلْوَانُ الکتابِ يصحّ أن يكون من : عَلَنَ اعتبارا بظهور المعنی الذي فيه لا بظهور ذاته . ( ع ل ن ) العلانیہ ظاہر اور آشکار ایہ سر کی ضد ہے اور عام طور پر اس کا استعمال معانی یعنی کیس بات ظاہر ہونے پر ہوتا ہے اور اجسام کے متعلق بہت کم آتا ہے علن کذا کے معنی میں فلاں بات ظاہر اور آشکار ہوگئی اور اعلنتہ انا میں نے اسے آشکار کردیا قرآن میں ہے : ۔ أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْراراً [ نوح/ 9] میں انہیں بر ملا اور پوشیدہ ہر طرح سمجھا تا رہا ۔ ما تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَما يُعْلِنُونَ [ القصص/ 69] جو کچھ ان کے سینوں میں مخفی ہے اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں علوان الکتاب جس کے معنی کتاب کے عنوان اور سر نامہ کے ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ علن سے مشتق ہو اور عنوان سے چونکہ کتاب کے مشمو لات ظاہر ہوتے ہیں اس لئے اسے علوان کہہ دیا گیا ہو ۔
(١٩) واقعی اللہ تعالیٰ تمہارے پوشیدہ اور ظاہری احوال خواہ خیر ہوں یا شر سب کو جانتے ہیں۔
18. A grave misunderstanding might arise as to why Allah’s blessings should continue to be showered even on those who deny Him and set up partners with Him and are disobedient to Him. The foolish people are liable to conclude from this that He does not withhold His favors from such people because He has no knowledge of their wicked deeds, The Quran declares: Even though He has full knowledge of all the deeds of the people, whether these are done secretly or openly, He does not discontinue His blessings on the sinners, for He is Forgiving, Compassionate and Merciful. Therefore: O people, get rid of this misunderstanding and reform yourselves.
سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :18 یعنی کوئی احمق یہ نہ سمجھے کہ انکار خدا اور شرک اور معصیت کے باوجود نعمتوں کا سلسلہ کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ کو لوگوں کے کرتوتوں کی خبر نہیں ہے ۔ یہ کوئی اندھی بانٹ اور غلط بخشی نہیں ہے کہ جو بے خبری کی وجہ سے ہو رہی ہو ۔ یہ تو وہ علم اور درگزر ہے جو مجرموں کے پوشیدہ اسرار بلکہ دل کی چھپی ہی نیتوں سے واقف ہونے کے باوجود کیا جا رہا ہے ، اور یہ وہ فیاضی و عالی ظرفی ہے جو صرف رب العالمین ہی کو زیب دیتی ہے ۔
١٩۔ ٢١۔ مشرکوں کے جھوٹے معبودوں کی یہ دوسری مذمت ہے کیونکہ پہلے اس سے یہ فرمایا تھا کہ زمین و آسمان اور دریا اور ان کے اندر جو جو چیزیں ہیں سب خدائے وحدہ لا شریک نے پیدا کیں ان مشرکوں کا اگر یہ اعتقاد ہے کہ جن بتوں کی یہ پوجا کرتے ہیں ان میں ان چیزوں کے پیدا کرنے کی قدرت ہے یا کوئی شئے انہوں نے پیدا کی ہے تو اس شئے کی نشان دہی کی جاوے ورنہ پھر ان کو اس خالق کے برابر کیوں سمجھتے ہیں اب دوسری بات یہ فرمائی کہ اللہ پاک ہر شخص کے ظاہر اور باطن کو یکساں جانتا ہے جو کام چھپ کر کیا جاتا ہے اس سے بھی وہ واقف ہے اور جو کھلم کھلا کیا جاتا ہے اسے بھی وہ دیکھتا ہے تو کیا ان بتوں کو بھی ایسا علم ہے کہ ہر ظاہر اور باطن کو جان لیں اگر یہ بات نہیں تو ان بتوں سے مراد کا مانگنا بےفائدہ ہے کیوں کہ جب یہ بت مراد مند کی مراد سے ہی بیخبر ہیں تو پھر کسی کی مراد کو یہ کیا پورا کرسکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ مشرک جو خدا کے سوا ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ان میں خاک کسی شئے کے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے یہ تو خود مخلوق ہیں اور بالکل بےجان ہیں ان میں حس و حرکت تک نہیں زندہ ہونا تو درکنار نرے پتھر ہی پتھر ہیں ان سے تو لاکھ درجہ یہ مشرکین خود بہتر ہیں کیوں کہ زندہ تو ہیں چلتے پھرتے ہیں آنکھوں سے دیکھتے کانوں سے سنتے ہیں ان کے بتوں کو کیا خبر ہے کہ ان کے پجاری اور یہ خود مرنے کے بعد کب زندہ ہوں گے اور زندہ ہونے کے بعد ایک دوسرے سے کیوں کر بیزاری ظاہر کریں گے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قوم نوح میں کچھ لوگ مرگئے تھے جن کے مرجانے کا رنج اور صدمہ ان کے رشتہ داروں اور معتقدوں کو بھی تھا شیطان نے موقع پا کر ان لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ اگر ان مرے ہوئے نیک لوگوں کی مورتیں بنا کر آنکھوں کے سامنے رکھ لی جاویں تو ان کے آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جانے کا رنج و صدمہ کم ہوجاوے گا ان لوگوں نے شیطان کے وسوسہ کے موافق وہ مورتیں بنالیں اور پھر رفتہ رفتہ ان کی پوجا ہونے لگی ١ ؎۔ سورت یونس میں گزر چکا ہے کہ قیامت کے دن جب ان مورت پرستوں کا اور ان نیک لوگوں کا اور پتھر کی مورتوں میں جان ڈالی جا کر ان کا غرض ان سب کا آمنا سامنا ہوگا تو وہ نیک لوگ اللہ تعالیٰ کو گواہ قرار دے کر اس پوجا سے اپنی بیخبر ی جتلا دیں گے اسی کو فرمایا کہ ابھی تو اصل نیک لوگوں اور ان کی مورتوں کے پتھروں کو قیامت کا حال کچھ معلوم نہیں لیکن قیامت کے دن جب ان سب کو جمع کیا جا کر بت پرستی کی دریافت کی جاوے گی تو ان بت پرستوں کو اپنی حال پر پچھتانا پڑے گا چناچہ اس پچھتاوے کا ذکر سورت بقرہ میں گزر چکا ہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٣٢ ج ٢ تفسیر سورت نوح۔
(16:19) ما تسرون۔ جو تم چھپاتے ہو وما تعلنون۔ اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ آشکار کرتے ہو۔ اعلان سے۔
ف 5 لہذا یہ نہ سمجھو کہ تمہارے شرک و کفر کے باوجود جو تم پر رحم فرما رہا ہے اور تمہیں نعمتوں پر نعمتیں دے رہا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ وہ تمہارے اعمال سے ناواقف ہے بلک ہبایں ہمہ اس کی مہربانی اس لئے ہے کہ شاید تمہاری آنکھیں کھلیں اور اپنے کرتوتوں سے باز آجائو۔ اس میں کافروں کے لئے یہ تنبیہ ہے کہ معبود تو وہی ہونا چاہیے اور ہوسکتا ہے جو ظاہر اور پوشیدہ کا جاننے والا ہو۔
پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ ) (اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو) اس میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں اللہ کی نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری عقیدہ اور عمل سے کرتے ہیں یوں نہ سمجھیں جیسے دنیا گزر رہی ہے اس میں عام طور سے سزا نہیں دی جاتی، اسی طرح موت کے بعد بھی عذاب سے بچ جائیں گے اللہ تعالیٰ کو سب کے باطنی احوال بھی معلوم ہیں اور ظاہری اعمال بھی، وہ اپنے علم کے مطابق شکر گزاروں کو ان کے شکر کا ثواب عطا فرمائے گا اور ناشکروں کا مواخذہ فرمائے گا،
17:۔ یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے اور اس سے نفی شرک فی العلم مقصود ہے۔ یعنی پوشیدہ اور ظاہر سب کچھ جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔
19 ۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید اس جگہ یہ بات اس پر فمائی کہ بعض شخص بات میں لا جواب ہوتے ہیں یہ دل میں بات نہیں بیٹھتی سو خدا دل پر پکڑتا ہے۔