Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 55

سورة النحل

لِیَکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ ؕ فَتَمَتَّعُوۡا ۟ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۵﴾

So they will deny what We have given them. Then enjoy yourselves, for you are going to know.

کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں ۔ اچھا کچھ فائدہ اٹھالو آخرکار تمہیں معلوم ہو ہی جائیگا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لِيَكْفُرُواْ بِمَا اتَيْنَاهُمْ ... Then, when He has removed the harm from you, behold! some of you associate others in worship with their Lord (Allah). So they are ungrateful for that which We have given them! It was said that the Lam here (translated as "So") is an indicator of sequence, or that it serves an explanatory function, meaning, `We decreed that they would conceal the truth and deny the blessings that Allah has bestowed upon them. He is the One Who bestows blessings and the One Who removes distress.' Then Allah threatens them, saying: ... فَتَمَتَّعُواْ ... Then enjoy yourselves, meaning, do what you like and enjoy what you have for a little while. ... فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ but you will soon come to know. meaning the consequences of that.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

55۔ 1 لیکن انسان بھی کتنا ناشکرا ہے کہ تکلیف (بیماری، تنگ دستی اور نقصان وغیرہ) کے دور ہوتے ہی وہ پھر رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ 55۔ 2 یہ اس طرح ہی ہے جیسے اس سے قبل فرمایا تھا، (قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِيْرَكُمْ اِلَى النَّارِ ) 14 ۔ ابراہیم :30) چند روزہ زندگی میں فائدہ اٹھالو ! بالآخر تمہارا ٹھکانا جہنم ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٢] یعنی مصیبت کے وقت مدد تو اللہ نے کی، تکلیف اسی نے دور کی۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے۔ اسی کی عبادت کرتے۔ اسی کے سامنے اپنی فریادیں پیش کرتے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ مصیبت کا وقت دور ہوجانے کے بعد پھر انھیں اپنے دوسرے معبود یاد آنے لگتے ہیں اور اللہ کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر نمک حرامی کیا ہوسکتی ہے۔ تاہم انھیں دنیا میں فوری سزا نہیں دی جاتی مگر مرتے ہی انھیں سب آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ ۭ فَتَمَتَّعُوْا ۣ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ 55؀ كفر ( ناشکري) الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وكُفْرُ النّعمة وكُفْرَانُهَا : سترها بترک أداء شكرها، قال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ، فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] ويقال منهما : كَفَرَ فهو كَافِرٌ. قال في الکفران : لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وقال : وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ کفر یا کفر ان نعمت کی ناشکری کر کے اسے چھپانے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] ؂ تو اس کی کوشش رائگاں نہ جائے گی ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا ۔ اور فعل کفر فھوا کافر ہر دو معانی کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ می۔ 5 کفران کے متعلق فرمایا : ۔ لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تاکہ مجھے آز مائے کر میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوم ۔ اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے ۔ اور جو ناشکری کرتا ہے ۔ تو میرا پروردگار بےپروا اور کرم کر نیوالا ہے ۔ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا ۔ متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٥) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے جو ان کو نعمتیں عطا کی ہیں، اس کی ناشکری کرتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ ہمارے بتوں کی سفارش سے ایسا ہوا، خیر کفر و حرام کاموں میں چند روزہ عیش کرلو تمہیں پتہ چل جائے گا کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٥ (لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ ۭ فَتَمَتَّعُوْا ۣ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) کچھ دنوں کی بات ہے دنیا میں تم لوگ مزے اڑا لو۔ بہت جلد اصل حقیقت کھل کر تمہارے سامنے آجائے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:55) لیکفروا۔ میں لام عاقبت کا ہے یعنی شرک سے ان کی غرض اللہ کی نعمت سے انکار تھا۔ کانہم جعلوا غرضہم فی الشرک کفران النعمۃ۔ بما اتینہم۔ جو ہم نے ان کو عطا کیا تھا۔ یعنی نعمت کشف عن الضر تکلیف سے نجات دینے کی نعمت۔ فتمتعوا۔ پس تم فائدہ اٹھا لو۔ تم مزے اڑالو۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تمتح مصدر ۔ آیات 53 ۔ 54 ۔ 55 ۔ میں التفاتِ ضمائر ہے۔ وما بکم سے لے کر اذا کشف الضر تک مخاطبین کے لئے ضمیر جمع مذکر حاضر لائی گئی ہے اس میں اپنی عنایت پروری اور کرم فرمائی کا ذکر مخاطبین سے کیا جارہا ہے لیکن پھر ان کی ناشکری اور کفران نعمت کے سبب اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لئے مخاطبین کو اپنی حاضری سے دور کر کے ضمیر جمع مذکر غائب لائی گئی ہے اور یشرکون۔ لیکفروا۔ اتینہم۔ استعمال ہوئے ہیں۔ پھر تہدید اور زجر میں شدت پیدا کرنے کے لئے اور اپنی ناراضگی کو ان کے ذہن نشین کرانے کے لئے ان کو پھر اپنے سامنے لایا گیا ہے اور جمع مذکر حاضر کے صیغے استعمال کئے گئے ہیں جیسے فتمتعوا۔ فسوف تعلمون اس طرح محض التفات ضمائر سے مختلف احوال کا اظہار فرمایا گیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 کہ تمہارا دنیا و آخرت میں انجام کیا ہوتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اسی لیے فرمایا (فَتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) یعنی نفع اٹھا لو مزے اڑالو عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ان حرکتوں کا انجام کیا ہے، مرتے وقت اور دم نکلتے ہی جب عذاب میں مبتلا ہوں گے پھر قیامت کے دن دوزخ میں داخل ہوں گے اس وقت شرکیہ کرتوتوں کا نتیجہ سامنے آجائے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

39:۔ لام عاقبت کا ہے یعنی ان کے اس روئیے کا انجام اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔” فتمتعوا الخ “ یہ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے یعنی ہماری نعمتوں سے فائدہ اٹھا لو اور ناشکری کرلو۔ کب تک ایسا کرو گے آخر اپنی تمام بد اعمالیوں کا انجام بد اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے اور اپنی غلطی معلوم کرلوگے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

55 ۔ جس کا انجام یہ ہے کہ جو نعمت ہم نے ان کو عطا کی ہے اس کی نا شکری اور نا سپاسی کریں اچھا تم چند روز مزے اور عیش اڑا لو اور فائدہ اٹھا لو اب عنقریب تم کو معلوم ہوا جاتا ہے۔ عام طریقے سے کافروں کی حالت بیان کی ہے دکھ کے وقت خدا کو پکارتے ہیں اور سکھ کے وقت بتوں کی پوجا کرتے ہیں ۔