Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 57

سورة النحل

وَ یَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰہِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰنَہٗ ۙ وَ لَہُمۡ مَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿۵۷﴾

And they attribute to Allah daughters - exalted is He - and for them is what they desire.

اور وہ اللہ سبحانہ و تعالٰی کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں اور اپنے لئے وہ جو اپنی خواہش کے مطابق ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَيَجْعَلُونَ لِلّهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ ... And they assign daughters unto Allah! Glorified (and Exalted) is He. meaning, above their claims and fabrications. أَلاَ إِنَّهُم مِّنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ وَلَدَ اللَّهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ أَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ But no! It is from their falsehood that they say: "Allah has begotten." They are certainly liars! Has He (then) chosen daughters rather than sons! What is the matter with you! How do you decide! (37:151-154) ... وَلَهُم مَّا يَشْتَهُونَ And for themselves, what they desire; meaning they choose the males for themselves, rejecting the daughters that they assign to Allah. Exalted be Allah far above what they say! The Idolators' Abhorrence for Daughters Allah tells:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

57۔ 1 عرب کے بعض قبیلے (خزاعہ اور کنانہ) فرشتوں کی عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یعنی ایک ظلم تو یہ کیا کہ اللہ کی اولاد قرار دی۔ جب کہ اس کی کوئی اولاد نہیں۔ پھر اولاد بھی مونث، جسے وہ اپنے لئے پسند ہی نہیں کرتے اللہ کے لئے اسے پسند کیا، جسے دوسرے مقام پر فرمایا ' کیا تمہارے لئے بیٹے اور اس کے لئے بیٹیاں ؟ یہ تو بڑی بھونڈی تقسیم ہے ' یہاں فرمایا کہ تم تو یہ خواہش رکھتے ہو کہ بیٹے ہوں، بیٹی کوئی نہ ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٤] اہل عرب کی دیویاں ان کے مقام اور ان کے پرستار :۔ ہندی، یونانی اور مصری تہذیبوں کی طرح مشرکین عرب کے بھی دیوتا کماوردیویاں زیادہ تھیں اور ان دیویوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں، اسی طرح وہ فرشتوں کو بھی اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ان کی تین مشہور دیویاں، لات، عزیٰ اور منات تھیں۔ لات الٰہ کی مونث ہے۔ عزیٰ عزیز کی اور منات، منان کی۔ لات کا استھان یا آستانہ طائف میں تھا اور بنو ثقیف اس کے پرستار تھے۔ عزیٰ قریش مکہ کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان یا آستانہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں مقام حراص پر واقع تھا۔ چناچہ ابو سفیان سپہ سالار قریش نے احد کے میدان میں جنگ میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے اس دیوی کا نعرہ لگایا اور کہا تھا لَنَا عُزّٰی وَلَاعُزّٰی لَکُم اور منات کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان بحراحمر کے کنارے قدید کے مقام پر واقع تھا۔ بنو خزاعہ، اوس اور خزرج اس دیوی کے پرستار تھے۔ نیز اس کا باقاعدہ حج اور طواف کیا جاتا تھا۔ زمانہ حج میں جب حجاج طواف بیت اللہ اور عرفات اور منیٰ سے فارغ ہوجاتے تو وہیں سے منات کی زیارت کے لیے لبیک لبیک کی صدائیں بلند ہونے لگتیں اور جو لوگ اس دوسرے حج کی نیت کرلیتے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرتے تھے۔ گویا مشرکین عرب دوہرا ظلم ڈھاتے تھے۔ ایک تو ان کو اللہ کا شریک بنانے کا دوسرے شریک بھی ایسے جنہیں وہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ [ ٥٥] یعنی ان کے اللہ کے بارے میں یہ مشرکانہ عقائد اس قدر گھٹیا اور گستاخانہ قسم کے تھے کہ خود تو اپنے لیے بیٹیوں کا وجود بھی باعث ننگ و عار سمجھتے تھے۔ محض اس وجہ سے کہ کوئی ان کا داماد بنے گا اور یہ خود اس کے سسر ہوں گے لیکن اللہ کے معاملہ میں دوہرا ظلم ڈھاتے۔ ایک تو اللہ کی اولاد ٹھہراتے تھے اور دوسرے اولاد بھی بیٹیاں۔ گویا اچھی چیز تو اپنے لیے پسند کرتے تھے اور ناقص اللہ کے لیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ ۔۔ : یہ ان کے اللہ تعالیٰ پر دو عیب لگانے کا بیان ہے، ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد قرار دی، حالانکہ وہ اولاد سے پاک ہے۔ دوسرا عیب یہ کہ فرشتوں کو جو اللہ کے بندے ہیں، اللہ کی اولاد قرار دیا اور اولاد بھی مؤنث، جبکہ وہ اپنے لیے لڑکے پسند کرتے ہیں، لڑکیوں کو اپنے لیے باعث ذلت قرار دیتے ہیں، یہ کتنی بڑی بےانصافی ہے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے ” سُبْحٰنَهٗ “ (وہ پاک ہے) کہہ کر اپنی ذات سے ہر قسم کی اولاد کی نفی فرمائی، خواہ لڑکا ہو یا لڑکی، کیونکہ پھر اس کی بیوی بھی ماننا پڑے گی، جب کہ خاوند بیوی کا محتاج ہوتا ہے اور اولاد باپ کی شریک اور جانشین ہوتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ محتاجی، شرکت اور زوال تینوں سے پاک ہے، کیونکہ یہ تینوں اس کے لیے عیب ہیں، وہ ”ۚلَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ “ ہے اور وہ اکیلا ہی غنی ہے، باقی سب اس کے محتاج ہیں، فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ ) [ فاطر : ١٥ ] ” اے لوگو ! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بےپروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔ “ صرف اسی کے لیے بقا ہے، باقی سب کچھ فانی ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (١٠١) ، سورة بنی اسرائیل (٤٠) ، سورة صافات (١٥١ تا ١٥٤) ، سورة زخرف (١١) اور سورة نجم (٢١، ٢٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ ۙ وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُوْنَ 57؀ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ سبحان و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر «1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة . ( س ب ح ) السبح ۔ سبحان یہ اصل میں غفران کی طرح مصدر ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] سو جس وقت تم لوگوں کو شام ہو اللہ کی تسبیح بیان کرو ۔ تو پاک ذات ) ہے ہم کو کچھ معلوم نہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( سریع) (218) سبحان من علقمۃ الفاخر سبحان اللہ علقمہ بھی فخر کرتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں سبحان علقمۃ ہے اس میں معنی اضافت کو ظاہر کرنے کے لئے زائد ہے اور علقمۃ کی طرف سبحان کی اضافت بطور تہکم ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں ، ، سبحان اللہ من اجل علقمۃ ہے اس صورت میں اس کا مضاف الیہ محذوف ہوگا ۔ السبوح القدوس یہ اسماء حسنیٰ سے ہے اور عربی زبان میں فعول کے وزن پر صرف یہ دو کلمے ہی آتے ہیں اور ان کو فاء کلمہ کی فتح کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے جیسے کلوب وسمود السبحۃ بمعنی تسبیح ہے اور ان منکوں کو بھی سبحۃ کہاجاتا ہے جن پر تسبیح پڑھی جاتی ہے ۔ شها أصل الشَّهْوَةِ : نزوع النّفس إلى ما تریده، وذلک في الدّنيا ضربان : صادقة، وکاذبة، فالصّادقة : ما يختلّ البدن من دونه كشهوة الطّعام عند الجوع، والکاذبة : ما لا يختلّ من دونه، وقد يسمّى الْمُشْتَهَى شهوة، وقد يقال للقوّة التي تَشْتَهِي الشیء : شهوة، وقوله تعالی: زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَواتِ [ آل عمران/ 14] ، يحتمل الشّهوتین، وقوله : اتَّبَعُوا الشَّهَواتِ [ مریم/ 59] ، فهذا من الشّهوات الکاذبة، ومن الْمُشْتَهِيَاتِ المستغنی عنها، وقوله في صفة الجنّة : وَلَكُمْ فِيها ما تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ [ فصلت/ 31] ، وقوله : فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ [ الأنبیاء/ 102] ، وقیل : رجل شَهْوَانٌ ، وشَهَوَانِيٌّ ، وشیء شَهِيٌّ. ( ش ھ و ) الشھوہ کے معنی ہیں نفس کا اس چیز کی طرف کھینچ جاتا جسے وہ چاہتا ہے و خواہشات دنیوی دوقسم پر ہیں صادقہ اور کاذبہ سچی خواہش وہ ہے جس کے حصول کے بغیر بدن کا نظام مختل ہوجاتا ہے جیسے بھوک کے وقت کھانے کی اشتہا اور جھوٹی خواہش وہ ہے جس کے عدم حصول سے بدن میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی ۔ پھر شھوۃ کا لفظ کبھی اس چیز پر بولاجاتا ہے ۔ جس کی طرف طبیعت کا میلان ہو اور کبھی خود اس قوت شہویہ پر اور آیت کریمہ ؛زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَواتِ [ آل عمران/ 14] لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں ( بڑی ) زینت دار معلوم وہوتی ہیں۔ میں شہو ات سے دونوں قسم کی خواہشات مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ : اتَّبَعُوا الشَّهَواتِ [ مریم/ 59] اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے ۔ میں جھوٹی خواہشات مراد ہیں یعنی ان چیزوں کی خواہش جن سے استغناء ہوسکتا ہو ۔ اور جنت کے متعلق فرمایا : وَلَكُمْ فِيها ما تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ [ فصلت/ 31] اور وہاں جس ( نعمت کو تمہارا جی چاہے گا تم کو ملے گا ۔ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ [ الأنبیاء/ 102] اور جو کچھ ان جی چاہے گا اس میں ۔۔۔ رجل شھوان وشھوانی خواہش کا بندہ شمئ لذیز چیز ۔ مرغوب شے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٧) اور یہ لوگ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات تو اولاد اور شریک سے پاک ہے اور یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٧ (وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ ۙ وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُوْنَ ) اللہ تعالیٰ کی اولاد کے طور پر وہ لوگ اس سے بیٹیاں منسوب کرتے ہیں جبکہ خود اپنے لیے وہ بیٹے پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کے لیے اولاد تجویز بھی کی تو بیٹیاں تجویز کیں جو خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

50. This refers to a tradition of the ancient Arabs. They regarded their goddesses and angels as daughters of God. 51. That is, “sons.”

سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :50 مشرکین عرب کے معبودوں میں دیوتا کم تھے ، دیویاں زیادہ تھیں ، اور ان دیویوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں ۔ اسی طرح فرشتوں کو بھی وہ خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ۔ سورة النَّحْل حاشیہ نمبر :51 یعنی بیٹے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

25: مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اول تو اللہ تعالیٰ اولاد کی ضروت سے پاک ہے دوسرے یہ خود اپنے لیے بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے، بلکہ بیٹوں کی ولادت کے خواہش مند رہتے ہیں، جو بذات خود بڑی گمراہی کی بات ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسکی بیٹیاں ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥٧۔ ٥٩۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بےوقوفی اور ان کا بےجان چیزوں سے بھی بدتر ہونا فرما کر اس آیت میں ایک اور بیوقوفی ان کی بیان فرمائی ہے اس بیوقوفی کی دو شاخیں ہیں ایک تو یہ ہے کہ مشرک لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے دوسرے یہ کہ اپنی اولاد میں لڑکی پیدا ہونے سے بہت چڑتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے یہ ایک رسم ٹھہرا رکھی تھی کہ لڑکی پیدا ہو کر چھ برس کے اندر اپنی موت سے مرگئی تو خیر ورنہ جنگل میں ایک گڑھا کھود کر اچھے کپڑے پہنا کر اس لڑکی کو جنگل میں لے جاتے تھے اور اسے گڑھے میں جھانکنے کو کہتے جب وہ جھانکتی تو اس کو گڑھے میں دھکا دیتے تھے اور اوپر سے مٹی ڈال کر اس کو زندہ دبا دیتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دونوں باتیں ان کی بیوقوفی کی ہیں اللہ اولاد شریک سب سے پاک ہے اس کو اولاد سے کیا تعلق علاوہ اس کے جس اولاد کو خود یہ لوگ نہیں پسند کرتے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرنا یہ اور بیوقوفی ہے اسلام نے مشرکوں کی اس لڑکی کے پیدا ہونے سے چڑنے کی رسم کو مٹایا اور لڑکی پیدا ہو تو اس کو محبت سے پالنے پر اجر کا وعدہ اسلام میں آیا ہے۔ چناچہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جو شخص لڑکی کے پالنے اور اس کے شادی بیاہ کرنے کا بوجھ اٹھاوے گا تو عاقبت میں وہ لڑکی دوزخ کی آگ کی ڈھال بن جاوے گی ١ ؎۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عمرو بن العاص (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جو مشرک شخص دائرہ اسلام میں داخل ہو اس کے زمانہ شرک کے سب گناہ ہوجاتے ہیں ٢ ؎۔ معتبر سند سے مسند بزار میں قیس بن عاصم (رض) سے روایت ہے جس میں قیس بن عاصم (رض) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ حضرت میں نے اسلام سے پہلے چند زندہ لڑکیوں کو گاڑ دیا ہے اس کے جواب میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہر لڑکی کے معاوضہ میں ایک غلام آزاد کرنا چاہیے یا ایک اونٹ کی قربانی کرنی چاہے ٣ ؎۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ عمر و بن العاص (رض) کی حدیث میں سوا زندہ لڑکیوں کے زمین میں دبا دینے کے اسلام سے پہلے کے اور گناہوں کا ذکر ہے اور زندہ لڑکیوں کے زمین میں دبا دینے کا حکم وہ ہے جس کا ذکر قیس بن عاصم (رض) کی حدیث میں ہے کہ اسلام کے بعد بھی اس جرم کی سزا فدیہ سے بدل جاتی ہے۔ جو فدیہ ایک غلام کے آزاد کرنے یا ایک اونٹ کی قربانی سے پورا ہوسکتا ہے۔ ١ ؎ الترغیب ص ٤٦ ج ٢ باب الترغیب فی التفقتہ علی الزوجۃ والعیال الخ۔ ٢ ؎ مشکوٰۃ ص ١٤ کتاب الایمان۔ ٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٧٨ ج ٤ تفسیر سورت تکویر۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:57) سبحنہ۔ جملہ معترضہ ہے ای یجعلون للہ البنت ولہم ما یشتھون ان لوگوں نے اللہ کے لئے تو بیٹیاں تجویز کر رکھی ہیں اور اپنے لئے اپنی پسند کی چیز (یعنی بیٹے) سبحنہ (حالانکہ وہ ذات ان باتوں سے پاک ومنزہ ہے۔ )

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 نہ اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ بیٹی۔ 3 یعنی خدا کے لئے تجیز بھی کرنے لگے ہیں تو بیٹیاں حالانکہ اپنے لئے ان کو ناپسند کرتے ہیں اور جب مانگتے ہیں تو بیٹے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 60 یجعلون وہ بناتے ہیں۔ البنت (البنت) بیٹیاں یشتھون وہ خواشہ رکھتے ہیں، چاہتے ہیں۔ بشر خوش خبری دی گئی۔ الانثیٰ لڑکی۔ ظل گیا۔ وجھ چہرہ۔ مسودا تاریک، سیاہ۔ کظیم وہ کھولنے والا ہے، دم گھٹنے لگتا ہے۔ یتواری (تواری) وہ چھپتا پھرتا ہے۔ سوء برائی۔ ایمس کہ کیا اس کو روکے رکھے۔ ھون توہین، ذلت۔ یدس وہ دباتا ہے۔ التراب مٹی۔ الا سنو، خبردار رہو۔ یحکمون وہ فیصلہ کرتے ہیں۔ مثل السوء بری مثال، بری حالت۔ الاعلیٰ بلندو برتر تشریح : آیت نمبر 57 تا 60 کفار و مشرکین عرب کے اس معاشرہ میں ہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا تھا لڑکیوں کو نہایت کم تر، حقیر اور باعث رسوائی سمجھتے تھے اور اپنے لئے لڑکوں کی تمنا رکھتے تھے اور ان کو اپنی زندگی کا سہارا سمجھتے تھے۔ بعض قبائل تو لڑکیوں کو اتنا برا سمجھتے تھے کہ ان کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالتے تھے۔ چناچہ مکہ مکرمہ میں آج بھی وہ قبرستان موجود ہے جہاں وہ کفار اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے۔ جب کسی کے گھر میں لڑکی پیدا ہوتی اور اس کی اطلاع اس کے باپ کو کی جاتی تو نفرت اور غم سے اس کی تیوریاں چڑھ جاتیں۔ غم سے نڈھال ہوجاتا اور چہرہ پر اداسی اور بےنقی چھا جاتی۔ اور وہ رنج و غم سے بےحال ہو کر یہ سوچنے لگتا کہ اب میں لوگوں کا سامنا کیسے کروں گا۔ لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا اور یہ سوچتا کہ یہ مصیبت کہاں سے گلے پڑگئی۔ اب میں اس ذلت و رسوائی کو برداشت کروں یا اس کو مٹی گاڑ دوں۔ آخر کار وہ برا فیصلہ کر کے اپنی زندہ لڑکی کو زمین میں گاڑ دیتا تھا۔ اس سنگ دلی کے بہت سے واقعات ہوتے تھے۔ اس دور پر کیا منحصر ہے آج بھی ہندوؤں کے گھر میں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو خوشی کے بجائے رونا دھونا شروع ہوجاتا ہے اور نفرت سے اس لڑکی کو اور اس کی ماں کو دیکھا جاتا ہے۔ ہماری بےعملی کا یہ عالم ہے کہ بعض مسلمانوں میں بھی لڑکی کی پیدائش پر خوشی نہیں کی جاتی بلکہ اگر ان کو مبارکباد پیش کی جائے تو وہ برا محسوس ہیں۔ لیکن سب ہی ایسے نہیں ہیں۔ الحمد اللہ صحیح عقیدہ و فکر رکھنے والے لڑکی اور لڑکی کی پیدائش کو اللہ کی نعمت سمجھتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ عرب کے معاشرہ میں لڑکی سب سے بدترین چیز سمجھی جاتی تھی۔ یہ تو دین اسلام کا فیض ہے کہ دنیا سے یہ رسم ختم ہوئی ورنہ وہ کفار تو اپنی سنگ دلی میں کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ اس جگہ یہ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ کفار و مشرکین اپنے لئے تو لڑکی کو بدترین سمجھتے ہیں اور لڑکوں کی خواہش کرتے ہیں لیکن اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں چناچہ بنو خزاعہ اور دوسرے کچھ قبائل یہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ فرمایا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ تم اپنے لئے تو بیٹوں کی خواہش کرتے ہو اور اللہ کی طرف اس چیز کی نسبت کرتے ہو جس کو تم برا سمجھتے ہو یعنی اس کے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بناتے ہو یہ کتنی خود غرضی اور بےوقوفی کی بات ہے۔ اللہ جس کے لئے ہر عمدہ سے عمدہ صفت اور مثال ہونی چاہئے تھی جس کا وہ حق دار ہے اس کے لئے بری مثالیں گھڑتے ہو اور ہر اچھی چیز کی نسبت اور صفت اپنی طرف کرنا چاہتے ہو۔ فرمایا یہ انداز خود ایک بدترین مثال ہے۔ فرمایا کہ وہ اللہ جو زبردست ہے اور تمام کائنات کا مالک ہے وہ تمہیں فوراً ہی اس گستاخی پر سزا نہیں دیتا لیکن اگر وہ سزا دینے پر آئے تو اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں دوسروں کو شریک کرنے کے ساتھ بعض مشرک اللہ تعالیٰ کی ذات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے کئی قسم کا شرک کرتے ہیں۔ مشرکین کا ایک شرک یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں دوسروں کو شریک بناتے ہیں۔ دوسری قسم یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو وحدہ، لاشریک سمجھنے کے بجائے اس کی بیوی اور اولاد ثابت کرتے ہیں۔ جس طرح یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور حضرت مریم اللہ کی بیوی ہے۔ کچھ عیسائی یہ بھی کہتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی ذات کے جزو ہیں۔ تینوں کے ملنے سے خدا کی ذات مکمل ہوتی ہے۔ افسوس ! مسلمانوں میں کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے نور میں سے نور ہیں۔ اسی طرح چائنہ، جاپان اور دنیا کے کسی ممالک میں کچھ لوگوں کا یہ بھی عقیدہ ہے اور تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں جو اس کے نور سے پیدا ہوئی ہیں۔ جس کی قرآن مجید نے عقلی اور فطری حوالے سے یہ کہہ کر تردید کی ہے کہ یہ لوگ کس قدر ناعاقبت اندیش ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کر رہے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی حاجت نہیں اور وہ شرک سے پاک ہے۔ یہ لوگ کس قدر عقل سے عاری ہیں کہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے ہاں بیٹی پیدا ہو تو اس پر انہیں مبارک اور خوشخبری دی جائے تو ان کے چہرے سیاہ اور غمزدہ ہوجاتے ہیں اس خوشخبری کو اپنے لیے ذلت اور عار سمجھتے ہیں۔ اس ذلت کی وجہ سے سوچتے ہیں کہ بیٹی کود زندہ رہنے دیں یا زمین میں گاڑ دیں۔ غور کریں کہ یہ کس قدر برا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہاں پہلی بات یہ سمجھائی گئی ہے کہ بیٹی کو اس لیے ذلت سمجھنا کہ وہ کمانے کی بجائے صرف کھانے کے لیے پیدا ہوتی ہے یا اس کی وجہ سے دوسرا شخص اس کا داماد بن جائے گا۔ یہ سوچ کر بیٹی کو برا سمجھنا یا اسے زندہ درگور کردینا بدترین فیصلہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ انسان اپنے لیے بیٹے پسند کرے اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تجویز کرے گویا کہ یہ سوچ اخلاقی اور اعتقادی طور پر بدترین سوچ اور نظریہ ہے۔ مسائل ١۔ مشرک کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی افترا بازی سے پاک ہے۔ ٣۔ مشرکین کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اولاد سے مبرّا اور پاک ہے : ١۔ مشرکین اللہ کے لیے بیٹیاں قرار دیتے ہیں حالانکہ اللہ اولاد سے پاک ہے۔ (النحل : ٥٧) ٢۔ ان سے پوچھیں کہ کیا تمہارے لیے بیٹے اور اللہ کے لیے بیٹیاں ہیں ؟ (الصٰفٰت : ١٤٩) ٣۔ کیا اللہ کے لیے بیٹیاں اور تمہارے لیے بیٹے ہیں ؟ (الطور : ٣٩) ٤۔ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے۔ (الزخرف : ١٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٥٧ تا ٥٩ عقائد کے بارے میں انسان کا فکری انتشار اور فساد صرف عقائد کے حدود تک ہی محدود نہیں رہا کرتا بلکہ یہ زندگی کے پورے طور طریقوں اور رسم و رواج میں سرایت کرجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ زندگی کے لئے واحد محرک ہوتا ہے۔ چاہے یہ کسی کی زندگی میں یہ نظریہ بادی النظر میں محرک نظر آئے یا پس منظر میں ہو۔ دور جاہلیت کے عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے گھر میں بیٹی کی ولادت کو بہت ہی برا خیال کرتے تھے۔ ان کے خیال میں بیٹیاں اللہ کے لئے ہیں اور وہ چونکہ بیٹوں کو پسند کرتے ہیں اس لیے بیٹے ان کے ہیں۔ ان کے اس نظریاتی فساد ہی کی وجہ سے ان کے ہاں یہ رسم بد پڑگئی کہ وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے یا اگر زندہ رکھ لیتے تو ان کو نہایت ہی ذلت ، بدسلوکی اور کم تر درجے میں رکھتے اور ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکیوں کی وجہ سے ان کو خفت اٹھانی پڑے گی اور ان کی مالی حالت گر جائے گی کیونکہ عورتیں نہ جنگ کرسکتی ہیں اور نہ بہت زیادہ کمائی کے لائق ہوتی ہیں۔ بعض اوقات لوٹ مار اور ڈاکے میں عورتوں کو باندیاں بنا کرلے جاتے تھے یا وہ خاندان پر بوجھ بن جاتی تھیں۔ یوں خاندان کی مالیات پر بوجھ ہوتیں ، اس لیے وہ انہیں پسند نہ کرتے۔ جبکہ صحیح نظریات ان سب باتوں سے بہت دور ہیں۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ سب کا رازق ہے۔ ہر شخص کو وہی بات پیش آتی ہے جو اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ انسان کو اللہ نے ذی شرف پیدا کیا ہے اور اس میں مرد عورت برابر ہیں ، پھر عوت کے بغیر نہ انسانیت جاری رہ سکتی اور نہ مکمل ہو سکتی جیسا کہ اللہ کا حکم ہے۔ یہاں جاہلیت کے رسم و رواج کی خوب تصویر کشی کی جاتی ہے۔ واذا بشر احدکم بالانثی ظل وجھہ مسودا وھو کظیم (١٦ : ٥٧) “ جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے ”۔ یعنی حزن و ملال سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے غم کو چھپانے کی سعی لا حاصل کرتا ہے ۔ وہ اس ولادت کو ایک مصیبت سمجھتا ہے لیکن در حقیقت وہ اللہ کا عطیہ ہوتی ہے جیسا کہ بینا ایک عطیہ ہوتا ہے کیونکہ انسان بذات خود رحم مادر میں نہ مرد بنا سکتا ہے اور نہ عورت پیدا کرسکتا ہے۔ نہ انسان خود جنین میں حیات پھونک سکتا ہے نہ انسان ایک سادہ نطفے سے انسان تیار کرسکتا ہے۔ اگر انسان صرف انسانی زندگی کی تخلیق پر ہی غور کرے کہ کس طرح نطفے سے لے کر ایک تندرست و توانا انسان تک وہ نشوونما پاتی ہے تو بچہ چاہے مرد ہو یا عورت ہو ، وہ خوشی خوشہ اس کا استقبال کرے۔ سوچنے والے انسان کے لئے تو ہر بچہ اللہ کا معجزہ ہے اور یہ معجزہ بار بار دہرایا جاتا ہے لیکن بار بار دہرائے جانے کے باوجود اس معجزے کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان صحیح الفکر ہو تو وہ لڑکی کی پیدائش کی اطلاع پا کر نہ غمگین ہو اور نہ لوگوں سے چھپتا پھرے۔ اس لیے کہ لڑکی کی تخلیق میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس معاملے میں ایک باپ تو اس عظیم معجزہ کے صدور میں محض ایک پرزہ ہے اور بس۔ اب اللہ کی حکمت کو دیکھیں اور یہ کہ معجزۂ حیات کا صدور کس طرح ہوتا ہے ؟ بادی النظر میں یہ بات نظر آتی ہے کہ انسان کو اللہ ایک مرد اور عورت کے ملاپ کے ساتھ پیدا کرتا ہے ، حیات انسانی کے وجود میں آنے کے لئے جس طرح مرد ضروری ہے ، اسی طرح عورت بھی ضروری ہے بلکہ مرد کے مقابلے میں عورت کی ضرورت زیادہ ہے کیونکہ بچے کی نشوونما کے لئے تو عورت زیادہ ضروری اور اہم ہے جبکہ مرد کے لئے بھی وہ جائے قرار ہے۔ تو پھر عورت کی پیدائش پر کسی کا چہرہ کیوں سیاہ ہوجاتا ہے اور پھر قوم سے کیوں بھاگتا پھرتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ حیات بشر کا تسلسل عورت کے بغیر ممکن نہیں ہے ؟ ظاہر ہے کہ سوچ ، نظریہ اور عقیدے کا انحراف اور فساد معاشرے کے اندر رسم و رواج اور لوگوں کے طرز عمل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ الاساء ما یحکمون (١٦ : ٥٩) “ دیکھو کیسے میرے حکم ہیں جو یہ لگاتے ہیں ”۔ اور ان کے یہ فیصلے اور اندازے کس قدر غلط ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سوسائٹی کے اجتماعی تصورات اور سوسائٹی کی اجتماعی اخلاقیات کو درست کرنے کے لئے اسلامی نظریہ حیات کی اہمیت کیا ہے ؟ نیز اسلام نے عورت کے بارے میں انسانی نقطہ نظر میں کس قدر عظیم انقلاب برپا کیا ہے اور عورت کو کس قدر شرف عطا کیا۔ نہ صرف عورت کو بلکہ پوری انسانیت کو شر عطا کیا گیا ہے۔ کیونکہ دور جاہلیت میں نہ یہ کہ صرف عورت ذلیل تھی بلکہ انسانیت بذات خود ذلیل تھی۔ کیا یہ بات ظاہر نہیں ہے کہ عورت انسانیت کا اہم عنصر ہے اور اس کی توہین بذات خود ذلیل تھی۔ اس کو زندہ درگور کرنا انسانیت کا دفن کرنا ہے۔ کیا یہ فعل زندگی کے ایک اہم حصے کو ضائع کرنا نہ تھا اور اللہ کی حکمت تخلیق کے ساتھ جنگ نہ تھی۔ اللہ کی حکمت تخلیق تو یہ ہے کہ نہ صرف انسان بلکہ ہر زندہ چیز کی تخلیق نر اور مادہ سے ہو۔ جب بھی انسانیت صحیح عقائد اور صحیح نظریہ حیات سے منحرف ہوئی ہے ، اس کے اخلاق ، اس کے رسم و رواج کسی نہ کسی جاہلیت میں ڈوب گئے۔ آج دور جدید میں بھی اعلیٰ ترقیات کے باوجود دنیا بیسویں صدی کی جاہلیت کا شکار ہوگئی ہے آج بھی لڑکی کی پیدائش پر اس خوشی اور مسرت کا اظہار نہیں کیا جاتا ، جس طرح لڑکے کی پیدائش پر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ بھی جاہلیت کے تصورات و رسومات میں سے ایک رسم ہے۔ اور یہ اس لیے پائی جاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ہماری نظروں میں صاف اور ستھرا نہیں ہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ آج کل جاہلیت جدیدہ کے پرستار اشاروں کنایوں میں اسلامی عقائد و نظریات پر انگلی اٹھاتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو یہ مقام دیا گیا ہے اور یہ کہ اسے آزادی نہیں ہے۔ یہ لوگ جاہلیت جدیدہ سے متاثر ہو کر اسلام پر اعتراضات کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کے پیش نظر وہ عظیم انقلاب نہیں ہے جو عورت کے بارے میں اسلامی نظریات نے آج سے صدیوں قبل برپا کیا۔ عورت کے بارے میں لوگوں کی سوچ بدل دی اور اسے بلند رتبہ دیا۔ عورت کے بارے میں اسلام نے یہ انقلابی فکر محض دنیاوی ضرورت یا اجتماعی تقاضے یا اقتصادی ضرورت کے تحت نہیں دی تھی بلکہ یہ فکر و نظر کی تبدیلی ، اس اسلامی نظریہ حیات کو وجہ سے پیدا کی گئی جس نے پوری انسانیت کو شرف فضیلت بخشا۔ پوری انسانیت کی تکریم کی وجہ سے عورت کو بھی شرف ملا۔ یہ قرار دیا گیا کہ عورت حصہ حیات اور حصہ انسانیت ہے ، لہٰذا بشریت کے دو حصوں مردو عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اسلامی نظریہ حیات اور جاہلی نظریہ حیات کے درمیان فرق کیا ہے ؟ یہ فرق یوں ہے کہ اسلامی معاشرہ ایک ذمہ دار اور جوابدہ معاشرہ ہوتا ہے اور وہ آخرت کی جوابدہی پر ایمان رکھتا ہے جبکہ جاہلی معاشرہ وہ ہے جو آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ وہ ہر چیز کی قدرو قیمت اسی دنیا کے حوالے سے طے کرتا ہے۔ لہٰذا اعلیٰ عقیدہ اور نظریہ کے مظاہر بھی اعلیٰ ہوتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مشرکین کی بھونڈی تجویز، اللہ کے لیے بیٹیاں اور اپنے لیے بیٹے تجویز کرتے ہیں خود ان کے یہاں بیٹی پیدا ہونے کی خبر مل جائے تو چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے مشرکین جو شرک کرتے ہیں اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مال کا کچھ حصہ باطل معبودوں کے لیے مقرر کردیتے ہیں جس کی تفسیر سورة انعام کی آیت (وَ جَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ ) (الی اخر الایۃ) میں گزر چکی ہے۔ مال تو دیا اللہ نے اس میں شریک کردیا باطل معبودوں کو اور اوپر سے یوں کہتے ہیں کہ ایسا کرنا درست ہے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے، اس لیے فرمایا (تَاللّٰہِ لَتُسْءَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ ) (کہ اللہ کی قسم تم سے افتراء پردازیوں کے بارے میں ضرور ضرور سوال ہوگا اور سورة انعام میں فرمایا (سَیَجْزِیْھِمْ بِمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) (وہ عنقریب ان کی افتراء پردازیوں کا بدلہ دے گا۔ ) اس کے بعد مشرکین کا ایک اور شرکیہ عقیدہ بیان فرمایا اور وہ یہ کہ یہ لوگ اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور کہتے ہیں فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں (العیاذ باللہ) نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتایا اور یہودیوں نے کہا کہ حضرت عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور مشرکین مکہ نے کہا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اول تو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنا ہی شرک ہے وہ اس سے بالا اور برتر ہے کہ اس کی اولاد ہو، سورة مریم میں فرمایا (وَ مَا یَنْبَغِیْ للرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا) (یہ اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ اولاد اختیار کرے) صحیح بخاری ص ٧٤٤ ج ٢ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان نے مجھے گالی دی اور اس کا گالی دینا یہ ہے کہ وہ یوں کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہے حالانکہ میں بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا اور نہ کوئی میرے برابر ہے، مشرکین کی بھونڈی عقل تو دیکھو کہ اول تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد بتا کر مشرک ہوئے پھر جو اولاد تجویز کی وہ بھی لڑکی، جبکہ اپنے ہاں لڑکی کا پیدا ہونا برا سمجھتے ہیں اور اپنے لیے لڑکوں کو پسند کرتے ہیں، سورة زخرف میں فرمایا (وَجَعَلُوا الْمَلآءِکَۃَ الَّذِیْنَ ھُمْ عِبَاد الرَّحْمٰنِ اِِنَاثًا) (اور انہوں نے فرشتوں کو جو کہ خدا کے بندے ہیں عورت قرار دے رکھا ہے) اپنے لیے لڑکیاں پسند نہیں کرتے اور اللہ کی اولاد تجویز کرنے بیٹھے تو لڑکیاں تجویز کردیں۔ سورة زخرف میں فرمایا (اَوَمَنْ یُّنَشَّاُ فِی الْحِلْیَۃِ وَھُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ ) (کیا اللہ نے اپنی اولاد بنانے کے لیے لڑکی کو پسند فرمایا جو زیور میں نشوونما پائے اور جو جھگڑے میں قوت بیان نہ رکھتی ہو) صنف ضعیف کو اللہ کی بیٹیاں بتا رہے ہیں، بیوقوفی کی انتہا ہے۔ اللہ کے لیے تو بیٹیاں تجویز کردیں اور اپنا حال یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو خبر ملے کہ اس کے گھر میں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو اس خبر سے اس کا چہرہ سیاہ یعنی بےرونق ہوجاتا ہے اور دل میں گھٹا گھٹا پھرتا رہتا ہے، لوگوں کے سامنے آنے میں عار محسوس کرتا ہے اور چھپا چھپا پھرتا ہے کہ لوگ یہ عیب نہ لگائیں کہ تیرے گھر بیٹی پیدا ہوئی ہے اور ساتھ ہی اس فکر میں پڑجاتا ہے کہ ذلت برداشت کرتے ہوئے اسے روکے رکھوں یا عار سے بچنے کے لیے زمین میں گاڑ دوں، پھر ہوتا یہ تھا کہ بچی کو زندہ دفن کردیتے تھے اور رواج کی وجہ سے لوگوں کے سامنے آکر اپنے کو باعزت قرار دیتے تھے گویا انہوں نے بہت بڑا عزت کا کارنامہ انجام دیا کہ اپنی لڑکی کو زندہ دفن کردیا سورة تکویر میں فرمایا (وَاِِذَا الْمَوْءٗدَۃُ سُءِلَتْ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ ) (اور جب زندہ دفن کی ہوئی بچی کے بارے میں سوال کیا جاوے گا کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی) عرب جن جہالتوں میں مبتلا تھے ان میں سے ایک یہ جہالت بھی تھی۔ رواج نے انہیں سخت دل بنا دیا اپنی زندہ بچی کو دفن کرتے ہوئے ذرا رحم نہیں آتا تھا عورت اسلام سے پہلے بالکل بےحیثیت تھی، اس سے بڑی بےآبروئی کیا ہوگی، کہ بچی پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردی جاتی تھی، اور ہندوستان میں تو یہ حال تھا کہ شوہر مرجاتا تھا تو عورت کو اس کے ساتھ زندہ جلنا پڑتا تھا اسلام نے عورت کو مرتبہ عطا فرمایا ہے اس کے حقوق بتائے بچیوں کی پرورش کا ثواب بتایا اسے عزت کے ساتھ گھر میں رہنے کا حکم دیا پھر بھی عورتوں کی ناسمجھی پر افسوس ہے کہ دور حاضر کے ملحدوں اور زندیقوں کی باتوں سے متاثر ہو کر اپنی ذات کو بےآبرو کر رہی ہیں بےپردہ پھرنے میں گندی زندگی گزارنے میں ہنر سمجھتی ہیں شوہروں کے بجائے دوست تلاش کرتی پھرتی ہیں آخر میں فرمایا (اَلَاسَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ ) (خبر دار ان کے فیصلے برے ہیں) اول تو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ثابت کرنا ہی بہت بڑی حماقت اور سفاہت ہے پھر اولاد بھی تجویز کی تو ایسی چیز تجویز کی جسے اپنے لیے سبب ذلت اور موجب عار سمجھتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

42:۔ یہ زجر ہے مشرکین کے بعض قبائل (خزاعہ اور کنانہ) فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے مگر ان کا اپنا حال یہ تھا کہ وہ خود بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ” سبحنہٗ “ یہ مشرکین کے قول باطل کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بےنیاز اور اولاد سے پاک ہے۔ مشرکین فرشتوں کو خدا کی صلبی بیٹیاں مانتے تھے۔ بلکہ ان کا عقیدہ تھا کہ جس طرح بیٹیاں باپ کو بہت عزیز ہوتی ہیں اور باپ ان کی کوئی بات رد نہیں کرتا اسی طرح فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پیارے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی سفارش کو ضرور مان لیتا ہے اور رد نہیں کرتا جیسا کہ ” و یجعلون للہ البنات “ کی تعبیر بتا رہی ہے یعنی وہ اللہ کے لیے بیٹیاں بناتے ہیں۔ علاوہ ازیں سورة زخرف رکوع 2 میں مشرکین کا قول اس طرح بیان کیا گیا ہے ” ام اتخذ مما یخلق بنت و اصفکم بالبنین “ اتخاذ بنات یعنی بیٹیاں بنا لینا کی تعبیر بتا رہی ہے کہ وہ فرشتوں کو صلبی بیٹیاں نہیں بلکہ بیٹیوں کی مانند سمجھتے تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

57 ۔ اور یہ مشرک اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں وہ جملہ عیوب سے منزہ ہے اور اپنے لئے وہ تجویز کرتے ہیں جسکو دل چاہے ۔ یعنی معاذ اللہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتے ہیں اور اسکے لئے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے لئے چاہتی چیز کی خواہش کرتے ہیں یہ کس قدر بھونڈی اور مہمل بات ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنے واسطے مانگتے ہیں بیٹا ۔ 12