Surat un Nahal

Surah: 16

Verse: 99

سورة النحل

اِنَّہٗ لَیۡسَ لَہٗ سُلۡطٰنٌ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿۹۹﴾

Indeed, there is for him no authority over those who have believed and rely upon their Lord.

ایمان والوں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھنے والوں پر زور مطلقًا نہیں چلتا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, he has no power over those who believe and put their trust only in their Lord. Ath-Thawri said: "He has no power to make them commit a sin they will not repent from." Others said: it means that he has no argument for them. Others said it is like the Ayah: إِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ Except Your chosen servants amongst them. (15:40)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّهٗ لَيْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ ۔۔ : شیطان کا صحیح ایمان اور توکل والوں پر تسلط اور غلبہ نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی میں فرما دیا تھا : (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ ) [ الحجر : ٤٢ ] ” بیشک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں، مگر جو گمراہوں میں سے تیرے پیچھے چلے۔ “ البتہ وہ انھیں گمراہ کرنے کی کوشش سے باز نہیں آتا اور بعض اوقات وہ کچھ متاثر بھی ہوسکتے ہیں، مگر وہ اللہ سے ڈر کی برکت سے فوراً آگاہ ہو کر اس کے پنجے سے نکل جاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ ) [ الأعراف : ٢٠١ ] ” یقیناً جو لوگ ڈر گئے، جب انھیں شیطان کی طرف سے کوئی (برا) خیال چھوتا ہے وہ ہشیار ہوجاتے ہیں، پھر اچانک وہ بصیرت والے ہوتے ہیں۔ “ اور دیکھیے سورة حج (٥٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The way of Faith and Trust in Allah is the way of freedom from the power and control of the Shaitan Verses 99 and 100 make it clear that Allah Ta’ ala has not given the Shaitan the kind of power which would disarm any human being and compel him to become helpless and take to evil. So, should one opt for not using his capability of choice and control because of sheer careless¬ness or some selfish motive, then, this would be his own fault. Therefore, it was said that people who have faith in Allah and who, rather than trust their will power in their states and actions, place their ultimate trust in Allah Ta’ ala for He is the One who gives us the ability to do everything good and also the One who shields us from everything evil. The Shaitan cannot possess and dictate such people. Of course, those who elect to befriend none but the Shaitan because of their selfish mo¬tives, particularly like things about him and go about associating others in the pristine divinity of Allah Ta` ala, then, the Shaitan is all over them, in possession, in control, and would not let them go towards anyth¬ing good while, in every evil, they are right in front. The same subject has been taken up in verse 42 of Surah al-Hijr where Allah Ta’ ala has Himself refuted the claim of the Shaitan by say¬ing: إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ (Surely, My servants [ are such that ] you have no power over them - except [ over ] the one who follows you from among the astray - 15:42).

اللہ تعالیٰ پر ایمان و توکل شیطانی تسلط سے نجات کا راستہ ہے : اس آیت میں یہ واضح کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ایسی قوت نہیں دی کہ وہ کسی بھی انسان کو برائی پر مجبور وبے اختیار کر دے انسان خود اپنے اختیار وقدرت کو غفلت یا کسی غرض نفسانی سے استعمال نہ کرے تو یہ اس کا قصور ہے اسی لئے فرمایا کہ جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے احوال و اعمال میں اپنی قوت ارادی کے بجائے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہی ہر خیر کی توفیق دینے والا اور ہر شر سے بچانے والا ہے ایسے لوگوں پر شیطان کا تسلط نہیں ہوتا ہاں جو اپنے اغراض نفسانی کے سبب شیطان ہی سے دوستی کرتے ہیں اسی کی باتوں کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیروں کو شریک ٹھراتے ہیں ان پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے کہ کسی خیر کی طرف نہیں جانے دیتا اور ہر برائی میں وہ آگے اگے ہوتے ہیں ، یہی مضمون سورة حجر کی آیت کا ہے جس میں شیطان کے دعوے کے مقابلہ میں خود حق تعالیٰ نے یہ جواب دے دیا ہے (آیت) اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ یعنی میرے خاص بندوں پر تیرا تسلط نہیں ہوسکتا ہاں اس پر ہوگا جو خود ہی گمراہ ہو اور تیرا اتباع کرنے لگے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّهٗ لَيْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ 99؀ سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے معنی ہیں میں نے اسے مقہود کیا تو وہ مقہود ہوگیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردتیاوَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے ۔ اور اسی سے بادشاہ کو سلطان ، ، کہا جاتا ہے ۔ اور سلطان کا لفظ تسلط اور غلبہ کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا بخشنے والا پروردگار ،۔ وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٩) اس کا قابو ان لوگوں پر نہیں چلتا جو کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے اور اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں، اس کے علاوہ اور کسی پر بھروسہ نہیں رکھتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(16:99) سلطن۔ تسلط۔ استیلائ۔ زور۔ اختیار۔ برہان۔ سند۔ مثلاً فاتونا بسلطن مبین۔ (14:10) کوئی کھلی دلیل لائو۔ یعنی واضح دلیل اور حجت قائم کرو۔ لا تنفذون الا بسلطن (55:33) اور سوائے کسی سند یا اجازت نامہ کے تم نہیں نکل سکتے۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ تمام قرآن میں سلطان بمعنی حجت کے آیا ہے۔ (16:100) یتولونہ۔ وہ اس کو دوست رکھتے ہیں۔ مضارع جمع مذکر غائب ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الشیطن ہے۔ بہ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔ (1) ب تعدیہ کے لئے ہے اور ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ ای راجع الی ربہم۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا : اور وہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ (دوسروں کو) شریک بنانے والے ہیں۔ (2) ضمیر ہٖ کا مرجع شیطان ہے اور بہ۔ من اجلہ کا مرادف ہے یعنی اس کے سبب سے۔ ترجمہ ہوگا اور جو شیطان کے ورغلانے کی وجہ سے اللہ کے ساتھ (دوسروں کو) شریک ٹھہرانے والے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی اس کا وسوسہ ان پر موثر نہیں ہوتا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انہ لیس لہ سلطن علی الذین امنوا وعلیٰ ربھن یتوکلون (٦١ : ٩٩) ” اسے ان لوگوں پر تسلط حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ لہٰذا جو لوگ اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ان کے دل اللہ کے لئے خالص ہوجاتے ہیں۔ شیطان ان پر غالب نہیں آسکتا اگرچہ وہ ان پر ڈورے ڈالے کیونکہ ان کا تعلق خدا کے ساتھ ہوتا ہے اور اللہ ان کو اس مطعون کے دام سے بچاتا ہے۔ وہ اللہ کے ساتھ ساتھ ہوتے اور اللہ کے پیچھے چلنے والے ہوتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان سے کبھی غلطی سرزد ہوتی ہے لیکن وہ شیطان کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتے۔ لہٰذا وہ تعوذ کے ذریعے شیطان کو بھگاتے رہتے ہیں اور اللہ کی طرف لوٹتے رہتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل ایمان پر شیطان کا تسلط نہیں جو اللہ پر توکل کرتے ہیں اس کے بعد یہ بتایا کہ شیطان کا کس پر تسلط ہے یعنی شیطان کن لوگوں پر قابو پا لیتا ہے ارشاد فرمایا (اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ) (بلاشبہ بات یہ ہے کہ شیطان کا زور ان لوگوں پر نہیں ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ) یعنی جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر شیطان کا زور نہیں چلتا شیطان تو سبھی کو بہکانے اور ورغلانے کی کوشش کرتا ہے لیکن جو حضرات مضبوط ایمان والے ہیں اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں ان پر شیطان کا بس نہیں چلتا اور وہ ان کو راہ حق سے ہٹانے کے لیے جو کوشش کرتا ہے اس میں کامیاب نہیں ہوتا، عام طور پر ایسا ہی ہے کبھی کبھار کوئی بندہ اپنے نفس کے تقاضوں کی وجہ سے کوئی گناہ کر بیٹھے تو یہ دوسری بات ہے قال القرطبی قد بینا ان ھذا عام یدخلہ التخصیص و قعد اغوی اٰدم وحوا علیھما السلام بسلطنہ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

99 ۔ یقینا اس شیطان کو ان لوگوں پر زور نہیں چلتا اور اس کا وسوسہ ان پر اثر انداز نہیں ہوتا جو ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر پوری طرح بھروسہ رکھتے ہیں اور توکل کرتے ہیں ۔ یعنی ایسے لوگوں پر شیطان کا تسلط نہیں ہوسکتا اور قابو نہیں چل سکتا جو کامل مومن ہیں اور خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں خدا ان کی مد د کرتا ہے اور شیطان کے فریب سے ان کی حفاظت کرتا ہے۔