Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 25

سورة بنی اسراءیل

رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا فِیۡ نُفُوۡسِکُمۡ ؕ اِنۡ تَکُوۡنُوۡا صٰلِحِیۡنَ فَاِنَّہٗ کَانَ لِلۡاَوَّابِیۡنَ غَفُوۡرًا ﴿۲۵﴾

Your Lord is most knowing of what is within yourselves. If you should be righteous [in intention] - then indeed He is ever, to the often returning [to Him], Forgiving.

جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تمہارا رب بخوبی جانتا ہے اگر تم نیک ہو تو وہ تو رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Omissions committed against Parents are pardoned with Good Relations and Repentance Sa`id bin Jubayr said: "This refers to a man who said something that he did not think would be offensive to his parents." According to another report: "He did not mean anything bad by that." So Allah said: رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِن تَكُونُواْ صَالِحِينَ ... Your Lord knows best what is in your souls. If you are righteous, ... فَإِنَّهُ كَانَ لِلَوَّابِينَ غَفُورًا He is Ever Most Forgiving to those who turn to Him in repentance. Qatadah said: "To the obedient who pray." Shu`bah narrated from Yahya bin Sa`id from Sa`id bin Al-Musayyib; "This refers to those who commit sin then repent, and commit sin then repent." Ata' bin Yasar, Sa`id bin Jubayr and Mujahid said: "They are the ones who return to goodness." Mujahid narrated from Ubayd bin Umayr, concerning this Ayah: "This is the one who, when he remembers his sin when he is alone, he seeks the forgiveness of Allah." Mujahid agreed with him on that. Ibn Jarir said: "The best view on this matter is of those who said that it refers to the one who repents after committing sin, who comes back from disobedience to obedience and who leaves that which Allah hates for that which He loves and is pleased with." What he said is correct, for Allah says, إِنَّ إِلَيْنَأ إِيَابَهُمْ Verily, to Us will be their return. (88:25) And according to a Sahih Hadith, the Messenger of Allah would say when he returned from a journey, ايِبُونَ تَايِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُون We have returned repenting, worshipping and praising our Lord.

گناہ اور استغفار اس سے مراد وہ لوگ ہیں ، جن سے جلدی میں اپنے ماں باپ کے ساتھ کوئی ایسی بات ہو جاتی ہے جسے وہ اپنے نزدیک عیب کی اور گناہ کی بات نہیں سمجھتے ہیں چونکہ ان کی نیت بخیر ہوتی ہے ، اس لیے اللہ ان پر رحمت کرتا ہے جو ماں باپ کا فرمانبردار نمازی ہو اس کی خطائیں اللہ کے ہاں معاف ہیں ۔ کہتے ہیں کہ اوابین وہ لوگ ہیں جو مغرب عشا کی درمیان نوافل پڑھیں ۔ بعض کہتے ہیں جو صبح کی نماز ادا کرتے رہیں جو ہر گناہ کے بعد توبہ کر لیا کریں ۔ جو جلدی سے بھلائی کی طرف لوٹ آیا کریں ۔ تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے خلوص دل سے استغفار کر لیا کریں ۔ عبید کہتے ہیں جو برابر ہر مجلس سے اٹھتے ہوئے یہ دعا پڑھ لیا کریں ۔ دعا ( اللہم اغفرلی ما اصبت فی مجلسی ھذا ) ابن دریر فرماتے ہیں اولیٰ قول یہ ہے کہ جو گناہ سے توبہ کر لیا کریں ۔ معصیت سے طاعت کی طرف آ جایا کریں ۔ اللہ کی ناپسندیدگی کے کاموں کو ترک کر کے اس کے اس کی رضا مندی اور پسندیدگی کے کام کرنے لگیں ۔ یہی قول بہت ٹھیک ہے کیونکہ لفظ اواب مشتق ہے اوب سے اور اس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں جیسے عرب کہتے ہیں اب فلان اور جیسے قران میں ہے آیت ( اِنَّ اِلَيْنَآ اِيَابَهُمْ 25؀ۙ ) 88- الغاشية:25 ) ان کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے ۔ صحیح حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے لوٹتے تو فرماتے دعا ( ائبون تائبون عابدون لربنا حامدون ) لوٹنے والے توبہ کرنے والے عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی ہی تعریفیں کرنے والے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٨] یعنی جو لوگ نیک نیتی سے اپنے والدین کی خدمت یا ان سے بہتر سلوک کرتے ہیں اللہ انھیں بھی خوب جانتا ہے اور جو لوگ محض لوگوں کی باتوں سے بچنے کی خاطر والدین کی خدمت کرتے ہیں انھیں بھی خوب جانتا ہے اور اللہ کی بخشش اور رحمت تو ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کے فرمانبردار بن کر والدین سے حسن سلوک کرتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ ۔۔ : ان الفاظ میں والدین کے لیے دل میں شفقت و رحمت نہ رکھنے پر وعید بھی ہے اور ایسی صالح اولاد کے لیے تسلی بھی جن کے والدین کسی جائز وجہ کے بغیر ہی ناراض رہتے ہوں اور اولاد کی ہر قسم کی کوشش کے باوجود کسی طرح خوش نہ ہوتے ہوں، تو فرمایا کہ اگر تم نیک ہو اور تمہارے دل میں والدین کے لیے شفقت و رحمت موجود ہے تو ایسے رجوع کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ بیحد بخشنے والا ہے۔ بعض اہل علم نے یہ معنی بیان فرمایا کہ اگر تم سے خدمت میں کوتاہی ہوگئی یا کوئی زیادتی ہوگئی، پھر تم نے رجوع کیا اور توبہ کرلی تو اللہ معاف فرما دے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the last verse quoted above: رَّ‌بُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ (Your Lord knows best what is in your hearts - 25), any possible scruple that remains in the hearts of children as to how they were going to comply satisfactorily with divine injunctions relating to consistent observance of etiquette and re¬spect due to parents. They have to live with parents all the time. Then, living conditions of the parties vary. They do not stay the same all the time. May be, on some such occasion, they happen to utter something, so¬mething that turns out to be against the norms of due etiquette, then, they stand facing the warning of Hell. Given this probability, it would be-come extremely difficult for them to wriggle out from this situation. In this verse, it is to remove this doubt and heart-burning that it was said: Should any such word come to be uttered out of sheer anxiety or lack of discretion - but, without intentional disrespectfulness - then, one must repent and resolve not to do that ever again. If so, since Allah Ta` ala knows the secrets of hearts and knows what was uttered was not to show disrespect or hurt, things will turn out for the better, for He is Most-Merciful. The word: الاوَّابِينَ (al-awwabin: those who turn to Him) used here carries the sense of اَلتَوَّابِین (at-tawwabin: those who repent before Him). The Hadith calls the six raka&at after Maghrib and the nawafil of al-Ishraq as the Salah al-Awwabin. Embedded here is the hint that the taufiq (ability) of these prayers is granted only to those who are the Awwabin and Tawwabin.

مذکورہ آیات میں سے آخری آیت رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ میں اس دل تنگی کو رفع فرما دیا گیا ہے جو والدین کے ادب و تعظیم کے متعلقہ احکام مذکورہ سے اولاد کے دل میں پیدا ہو سکتی ہے کہ والدین کے ساتھ ہر وقت رہنا ہے ان کے اور اپنے حالات بھی ہر وقت یکساں نہیں ہوتے کسی وقت زبان سے کوئی ایسا کلمہ نکل گیا جو مذکور الصدر آداب کے خلاف ہو تو اس پر جہنم کی وعید ہے اس طرح گناہ سے بچنا سخت مشکل ہوگا اس آیت میں اس شبہ اور اس سے دل تنگی کو دور کرنے کے لئے فرمایا کہ بغیر ارادہ بےادبی کے کبھی کسی پریشانی یا غفلت سے کوئی کلمہ صادر ہوجائے اور پھر اس سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ دلوں کے حال سے واقف ہیں کہ وہ کلمہ بےادبی یا ایذاء کے لئے نہیں کہا تھا وہ معاف فرمانے والے ہیں لفظ اوابین بمعنے توابین ہے حدیث میں بعد مغرب کی چھ رکعات اور اشراق کی نوافل کو صلوۃ الاوابین کہا گیا ہے جس میں اشارہ ہے کہ ان نمازوں کی توفیق انہیں لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اوابین اور توابین ہیں

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًا 25؀ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ أوَّاب کالتوّاب، وهو الراجع إلى اللہ تعالیٰ بترک المعاصي وفعل الطاعات، قال تعالی: أَوَّابٍ حَفِيظٍ [ ق/ 32] ، وقال : إِنَّهُ أَوَّابٌ [ ص/ 30] ومنه قيل للتوبة : أَوْبَة، والتأويب يقال في سير النهار وقیل : آبت يد الرّامي إلى السهم وذلک فعل الرامي في الحقیقة وإن کان منسوبا إلى الید، ولا ينقض ما قدّمناه من أنّ ذلک رجوع بإرادة واختیار، وکذا ناقة أَؤُوب : سریعة رجع الیدین . الاواب ۔ یہ تواب کی ( صیغہ مبالغہ ) ہے یعنی وہ شخص جو معاصی کے ترک اور فعل طاعت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ { لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ } ( سورة ق 32) ۔ یعنی ہر رجوع لانے اور حفاظت کرنے والے کے لئے (50 ۔ 320) ( سورة ص 17 - 44) بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے ۔ اسی سے اوبۃ بمعنی توبہ بولا جاتا ہے غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

اوابین کی تشریح قول باری ہے (فانہ کان للاوابین غفوراً وہ ایسے سب لوگوں کو درگزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں) سعید بن المسیب کا قول ہے کہ اواب اس شخص کو کہتے ہیں جو بار بار توبہ کرتا ہے اور اگر اس سے کوئی نافرمانی ہوجاتی ہے تو فوراً توبہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ سعید بن جبیر اور مجاہد کا قول ہے کہ اواب وہ شخص ہے جو اپنے گناہ سے توبہ کے ذریعے رجوع کرے منصور نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ اداب اس شخص کو کہتے ہیں جو تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے اللہ سے بخشش کا طلبگار ہوجائے۔ قتادہ نے قاسم بن عوف الشیبانی سے اور انہوں نے حضرت زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبا میں رہنے والوں کے پاس تشریف لائے اس وقت وہ لوگ چاشت کے نوافل میں مشغول تھے۔ آپ نے فرمایا (ان صلوۃ الاوابین اذا رمضت الفصال من الضحی اوا بین یعنی اللہ کی طرف توبہ کے ذریعے رجوع کرنے والوں کی نماز چاشت کے وقت ہوتی ہے جب گرمی کی شدت کی بنا پر اونٹنیوں اور گایوں کے بچوں کے تلوے گرم ریت پر جلنے لگتے ہیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٥) تمہارا رب دل کی باتوں کو خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کا ادب واحترام کرنے کا کیا جذبہ ہے اگر تم حقیقت میں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے ہو تو وہ گناہوں سے توبہ کرنے والوں کی خطا معاف کردیتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٥ (رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًا) بوڑھے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم پر کماحقہ عمل کرنا آسان کام نہیں۔ بڑھاپے میں انسان پر ” ارذل عمر “ کا مرحلہ بھی آتا ہے جس کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں : ( لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا) (النحل : ٧٠) ۔ ایسی کیفیت میں کبھی بچوں کی سی عادتیں لوٹ آتی ہیں اور ان کی بہت سی باتیں ناقابل عمل اور اکثر احکام ناقابل تعمیل ہوتے ہیں۔ کہیں انہیں سمجھانا بھی پڑتا ہے اور کبھی روکنے ٹوکنے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ ان سب مراحل میں کوشش کے باوجود کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہو ہی جاتی ہے اور کبھی نہ کبھی کوئی کوتاہی رہ ہی جاتی ہے۔ یہاں اس سیاق وسباق میں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف تمہارے ظاہری عمل اور رویے ہی کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں کی نیتوں کو بھی جانتا ہے۔ چناچہ اگر بندے کے دل کا رجوع اللہ کی طرف ہو اور نیت اس کی نافرمانی کی نہ ہو تو چھوٹی موٹی لغزشوں کو وہ معاف فرمانے والا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

27. This verse enjoins that after Allah’s right, the greatest of all the human rights is the right of parents. Therefore, the children should obey and serve and respect their parents. The collective morality of society should make it incumbent on children to be grateful and respectful to their parents, they should serve them as they nursed and brought them up in their childhood. Above all, this verse is not merely a moral recommendation but is the basis of the rights and powers of parents the details of which we find in the Books of Hadith and Fiqh. Moreover, respectful behavior and obedience to and observance of the rights of parents comprise the most important element of the material education and moral training in the Islamic society and civilization. Incidentally, all these things have determined forever the principle that the Islamic state shall make the family life sound and secure by laws, administrative regulations and educational policy and prevent its disintegration.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :27 اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے بعد انسانوں میں سب سے مقدم حق والدین کا ہے ۔ اولاد کو والدین کا مطیع ، خدمت گزار اور ادب شناس ہونا چاہیے ۔ معاشرے کا اجتماعی اخلاق ایسا ہونا چاہیے جو اولاد کو والدین سے بے نیاز بنانے والا نہ ہو بلکہ ان کا احسان مند اور ان کے احترام کا پابند بنائے ، اور بڑھاپے میں اسی طرح ان کی خدمت کرنا سکھائے جس طرح بچپن میں وہ اس کی پرورش اور ناز برداری کر چکے ہیں ۔ یہ آیت بھی صرف ایک اخلاقی سفارش نہیں ہے بلکہ اسی کی بنیاد پر بعد میں والدین کے وہ شرعی حقوق و اختیارات مقرر کیے گئے جن کی تفصیلات ہم کو حدیث اور فقہ میں ملتی ہیں ۔ نیز اسلامی معاشرے کی ذہنی و اخلاقی تربیت میں اور مسلمانوں کے آداب تہذیب میں والدین کے ادب اور اطاعت اور ان کے حقوق کی نگہداشت کو ایک اہم عنصر کی حیثیت سے شامل کیا گیا ۔ ان چیزوں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ اصول طے کر دیا کہ اسلامی ریاست اپنے قوانین اور انتظامی احکام اور تعلیمی پالیسی کے ذریعہ سے خاندان کے ادارے کو مضبوط اور محفوظ کرنے کی کوشش کرے گی نہ کہ اسے کمزور بنانے کی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

13: مطلب یہ ہے کہ اگر تم ایمان رکھتے ہو، اور مجموعی حیثیت سے نیکی کے کام کرنے کی کوشش کرتے ہو، پھر بشری تقاضوں سے کوئی غلطی ہوجاتی ہے، اور تم اس پر توبہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:25) اوابین۔ اواب۔ بہت رجوع ہونے والا۔ اوب سے جس کے معنی رجوع ہونے کے ہیں۔ مبالغہ کا صیغہ بروزن فعال یہاں اپنے تمام اقوال و افعال ۔ حرکات و سکنات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا اور اس کا مطیع ہونا مراد ہے۔ اوابین۔ اواب کی جمع ہے بہت رجوع کرنے والے۔ یعنی وہ جو گناہ سے توبہ کی طرف اور برائیوں سے اچھائیوں کی طرف رجوع کریں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 مگر تم سے ان کی اطاعت اور خدمت میں کوئی قصور ہوگیا جس سے تم نے توبہ کرلی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس سے قبل کہ مزید احکام و ہدایات دی جائیں اور اخلاق و قوانین بنائے جائیں یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کے ہر قول اور ہر فعل سے اللہ خبردار ہے۔ اور اس کا دروازہ کھلا ہے۔ ہر گناہ گار کسی بھی وقت توبہ کرکے واپس آسکتا ہے۔ جب تک کسی انسان میں اسلاح کا مادہ موجود ہے ، وہ توبہ کرکے واپس آسکتا ہے۔ ” اواب “ اس شخص کو کہتے ہیں کہ جب اس سے کوئی قصور سرزد ہوجائے تو وہ جلدی اللہ کی طرف لوٹ آئے اور توبہ و استغفار کرے۔ والدین کے بعد اب قریبی رشتہ داروں کے بارے میں ہدایات دی جاتی ہیں اور رشتہ داروں کے ساتھ مساکین اور مسافر بھی شامل کردئیے جاتے ہیں۔ قریبی رشتہ داروں کے علاوہ انسانی روابط کے زمرے میں مساکین اور مسافر سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ یوں حسن سلوک اور کفالت اجتماعی کے دائرے کو پوری انسانیت تک وسیع کردیا گیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہ جو فرمایا کہ (رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ ) (الایۃ) درمنثور میں اس کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت سعید بن جبیر (رض) سے نقل کیا ہے کہ اگر اولاد کی جانب سے ماں باپ کے حقوق میں غفلت سے کوتاہی ہوجائے اور دل سے فرمانبردار ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور توبہ کرے اللہ تعالیٰ رجوع کرنے والوں کو معاف فرمانے والا ہے۔ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) نے بیان فرمایا کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ سب کاموں میں اللہ جل شانہ کو کون سا کام زیادہ پیارا ہے ؟ آپ نے فرمایا بروقت نماز پڑھنا (جو اس کا وقت مستحب ہے) میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب اعمال سے زیادہ محبوب ہے ؟ آپ نے فرمایا ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرنا، میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب اعمال سے زیادہ پیارا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٥٨ از بخاری و مسلم) معلوم ہوا کہ اللہ جل شانہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل بروقت نماز پڑھنا اور اس کے بعد سب سے زیادہ محبوب عمل یہ ہے کہ انسان اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ پھر تیسرے نمبر پر جہاد فی سبیل اللہ کو فرمایا معلوم ہوا کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا جہاد فی سبیل اللہ سے بھی بڑھ کر ہے۔ ماں باپ ذریعہ جنت اور ذریعہ دوزخ ہیں حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والدین کا ان کی اولاد پر کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ دونوں تیری جنت یا تیری جہنم ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٢١ از ابن ماجہ) مطلب یہ ہے کہ ماں باپ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرتے رہو، زندگی بھر ان کے آرام و راحت کا دھیان رکھو، جان و مال سے ان کی فرمانبرداری میں لگے رہو، تمہارا یہ عمل جنت میں جانے کا سبب بنے گا اور اگر تم نے ان کی نافرمانی کی ان کو ستایا دکھ دیا تو وہ تمہارے دوزخ کے داخلہ کا سبب بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ماں باپ کی رضا مندی میں ہے حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی رضا مندی ماں باپ کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤١٩) یعنی ماں باپ کو راضی رکھا تو اللہ پاک بھی راضی ہے اور ماں باپ کو ناراض کیا تو اللہ بھی ناراض ہوگا، کیونکہ اللہ جل شانہ نے ماں باپ کو راضی رکھنے کا حکم فرمایا ہے جب ماں باپ کو ناراض رکھا تو اللہ کے حکم کی نافرمانی ہوئی جو اللہ جل شانہ کی ناراضگی کا باعث ہوئی۔ واضح رہے کہ یہ اسی صورت میں ہے جبکہ ماں باپ کسی ایسے کام کے نہ کرنے سے ناراض ہوں جو خلاف شرع نہ ہو، اگر خلاف شرع کسی کام کا حکم دیں تو ان کی فرمانبرداری جائز نہیں ہے۔ اس ناراضگی میں اللہ جل شانہ کی ناراضگی نہ ہوگی اس صورت میں اگر وہ ناراض بھی ہوجائیں تو ناراضگی کی پرواہ نہ کرے، کیونکہ اللہ جل شانہ کی رضا مندی اس کے احکام پر عمل کرنے میں ہے اس کے حکم کے خلاف کسی کی فرمانبرداری جائز نہیں ہے۔ والد جنت کے دروازوں میں سے بہتر دروازہ ہے حضرت ابو الدرداء (رض) نے بیان فرمایا کہ میں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ والد جنت کے دروازوں میں سے سب سے اچھا دروازہ ہے اب تو (اس کی فرمانبرداری کرکے) اس دروازہ کی حفاظت کرلے یا (نافرمانی کرکے) اس کو ضائع کردے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٢٠) باپ کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تین دعائیں مقبول ہیں ان (کی مقبولیت) میں کوئی شک نہیں (١) والد کی دعا اولاد کے لیے (٢) مسافر کی دعا (٣) مظلوم کی دعا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ١٩٥، از ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ) اس حدیث سے والد کی دعاء کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے ملا علی قاری مرقات شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں، کہ گو اس میں والدہ کا ذکر نہیں، لیکن ظاہر ہے کہ جب والد کی دعا ضرور قبول ہوگی تو والدہ کی دعا بھی بطریق اولیٰ ضرور قبول ہوگی، اولاد کو چاہیے ماں باپ کی خدمت کرتی رہے اور دعا لیتی رہے، اور کوئی ایسی حرکت نہ کرے جس سے ان کا دل دکھے اور ان میں سے کوئی دل سے یا زبان سے بددعا کر بیٹھے۔ کیونکہ جس طرح ان کی دعا قبول ہوتی ہے اسی طرح ان کے دکھے دل کی بددعا بھی لگ جاتی ہے، اگرچہ عموماً شفقت کی وجہ سے وہ بددعا سے بچتے ہیں، ان کی دعا سے دنیا و آخرت سدھر سکتی ہے اور بددعا سے دونوں جہانوں کی بربادی ہوسکتی ہے۔ ماں باپ کے اکرام و احترام کی چند مثالیں حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے ساتھ ایک بڑے میاں تھے آپ نے دریافت فرمایا کہ تیرے ساتھ یہ کون ہیں ؟ عرض کیا کہ یہ میرے والد ہیں، آپ نے فرمایا کہ باپ کے اکرام و احترام کا خیال رکھ ہرگز اس کے آگے مت چلنا اور اس سے پہلے مت بیٹھنا اور اس کا نام لے کر مت بلانا اور اس کی وجہ سے (کسی کو) گالی مت دینا۔ (تفسیر درمنثور ص ١٧١، ج ٤) ماں باپ کا احترام و اکرام دل سے بھی کرے اور زبان سے بھی، عمل سے بھی اور برتاؤ سے بھی، اس حدیث پاک میں اکرام و احترام کی چند جزئیات ارشاد فرمائی ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ باپ کے آگے مت چلنا دوسرے یہ فرمایا کہ جب کسی جگہ بیٹھنا ہو تو باپ سے پہلے مت بیٹھنا تیسرے یہ فرمایا کہ باپ کا نام لے کر مت پکارنا، چوتھے یہ کہ باپ کی وجہ سے کسی کو گالی مت دینا مطلب یہ کہ اگر کوئی شخص تمہارے باپ کو ناگوار بات کہہ دے تو اس کو اور اس کے باپ کو گالی مت دینا۔ کیونکہ اس کے جواب میں وہ پھر تمہارے باپ کو گالی دے گا اور اس طرح سے تم اپنے باپ کو گالی دلانے کا سبب بن جاؤ گے واضح رہے کہ یہ نصیحتیں باپ ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں والدہ کے حق میں بھی ان کا خیال رکھنا لازم ہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ باپ کے آگے مت چلنا اس سے وہ صورت مستثنیٰ ہے جس میں باپ کی خدمت کی وجہ سے آگے چلنا پڑے مثلاً راستہ دکھانا ہو یا اور کوئی ضرورت درپیش ہو۔ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے رزق اور عمر دونوں بڑھتے ہیں حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دراز کرے اور اس کا رزق بڑھائے اس کو چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ (درمنثور ص ١٧٣ ج ١٤ از بیہقی) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے اور ان کی خدمت میں لگے رہنے سے عمر دراز ہوتی ہے اور رزق بڑھتا ہے بلکہ ماں باپ کے علاوہ دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے سے بھی عمر دراز ہوتی ہے اور وسیع رزق نصیب ہوتا ہے نئی نسل کے بہت سے نوخیز نوجوان دوست احباب بیوی بچوں پر تو بڑھ چڑھ کر خرچ کرتے ہیں اور ماں باپ کے لیے پھوٹی کوڑی خرچ کرنے سے بھی ان کا دل دکھتا ہے یہ لوگ آخرت کے ثواب سے تو محروم ہوتے ہی ہیں دنیا میں بھی نقصان اٹھاتے ہیں ماں باپ کی فرمانبرداری اور خدمت گزاری اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے سے جو عمر میں درازی اور رزق میں وسعت ہوتی ہے اس سے محروم ہوتے ہیں۔ ماں باپ کے اخراجات کے لیے محنت کرنے کا ثواب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک ایسے شخص کا (مسجد نبوی کے قریب) گذر ہوا جس کا جسم دبلا پتلا تھا اس کو دیکھ کر حاضرین نے کہا کہ کاش یہ جسم اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد میں) دبلا ہوا ہوتا یہ سن کر حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ شاید وہ اپنے بوڑھے ماں باپ پر محنت کرتا ہو (اور ان کی خدمت میں لگنے اور ان کے لیے روزی کمانے کی وجہ سے دبلا ہوگیا ہو) اگر ایسا ہے تو وہ فی سبیل اللہ ہے (پھر فرمایا کہ) شاید وہ چھوٹے بچوں پر محنت کرتا ہو ( یعنی ان کی خدمت اور پرورش اور ان کے لیے رزق مہیا کرنے میں دبلا ہوگیا ہو) اگر ایسا ہے تو فی سبیل اللہ ہے (پھر فرمایا کہ) شاید وہ اپنے نفس پر محنت کرتا ہو (اور اپنی جان کے لیے محنت کرکے روزی کماتا ہو) تاکہ اپنے نفس کو لوگوں سے بےنیاز کردے اور مخلوق سے سوال نہ کرنا پڑے) اگر ایسا ہے تو فی سبیل اللہ ہے۔ (درمنثور ص ١٧٠ ج ١٤ از بیہقی) معلوم ہوا کہ ماں باپ اور آل اولاد بلکہ اپنے نفس کے لیے حلال روزی کمانا بھی فی سبیل اللہ میں شمار ہے۔ ماں باپ کی خدمت نفلی جہاد سے افضل ہے حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، اور جہاد میں شریک ہونے کی اجازت مانگی، آپ نے فرمایا کہ کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں زندہ ہیں ! آپ نے فرمایا انہیں میں جہاد کر (یعنی ان کی خدمت میں جو تو محنت اور کوشش اور مال خرچ کرے گا یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہوگا) اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ واپس جا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا رہ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٣١ از بخاری و مسلم) حضرت معاویہ بن جاہمہ (رض) نے بیان فرمایا کہ میرے والد حضرت جاہمہ (رض) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے جہاد کرنے کا ارادہ کیا اور آپ سے مشورہ کرنے کے لیے حاضر ہوا آپ نے فرمایا کیا تیری ماں زندہ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں زندہ ہے آپ نے فرمایا بس تو اسی کی خدمت میں لگا رہ کیونکہ جنت اس کے پاؤں کے پاس ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٣١ از احمد، نسائی، بیہقی) ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ عام حالات میں (جبکہ جہاد فرض عین نہ ہو) جہاد کی شرکت کے لیے جانے سے ماں باپ کی خدمت کرنا زیادہ افضل ہے اگر دوسرا بھائی بہن ان کی خدمت کے لیے موجود نہ ہو تو ان کی خدمت میں رہنے کی اہمیت اور زیادہ ہوجائے گی۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص یمن سے ہجرت کرکے آیا آپ نے اس سے فرمایا کہ تم نے سرزمین شرک سے تو ہجرت کرلی لیکن جہاد (باقی) ہے تو کیا یمن میں تمہارا کوئی (قریبی) عزیز ہے ؟ عرض کیا کہ والدین موجود ہیں، آپ نے سوال فرمایا کہ انہوں نے تم کو اجازت دی ہے ؟ عرض کیا نہیں فرمایا بس تم واپس جاؤ اور ان سے اجازت لو اگر اجازت دیں تو جہاد میں شرکت کرلینا ورنہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہنا۔ (درمنثور ص ١٧٥، ج ٤ عن احمد والحاکم، وقال صححہ الحاکم) ہجرت کی بیعت کے لیے والدین کو روتا چھوڑنے والے کو نصیحت حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا اور عرض کیا کہ میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں اور میں نے اپنے والدین کو اس حال میں چھوڑا کہ وہ دونوں (میری جدائی کی وجہ سے) رو رہے تھے آپ نے فرمایا کہ ان کے پاس واپس جا اور ان کو ہنسا جیسا کہ تو نے ان کو رلایا۔ (مستدرک حاکم ص ١٥٣‘ ج ٤ ابوداود وغیرہ) یہ شخص حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں نیک نیتی سے حاضر ہوا یعنی ہجرت پر بیعت ہونے کے لیے سفر کرکے آیا تھا اول ہجرت کی نیت پھر حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس عمل پر بیعت ہونا یہ سب مبارک اور نیک عمل ہے جس میں کوئی شک نہیں لیکن ماں باپ اس کے سفر کرنے پر راضی نہ تھے وہ اس شخص کے سفر میں جانے سے بہت بےچین ہوئے اور جدائی کے صدمہ سے رونے لگے۔ جب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ واپس جا اور والدین کو ہنسا جیسا کہ تو نے ان کو رلایا ہے۔ اس سے ماں باپ کی دلداری کی اہمیت اور فضیلت معلوم ہوئی یہ اس زمانہ کی بات ہے جب ہجرت کرنا فرض نہ تھا اسلام خطہ عرب میں پھیل چکا تھا مسلمان ہر جگہ امن وامان کے ساتھ اسلام کے مطابق زندگی گزار سکتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسا کام کرنا جس سے ماں باپ رنجیدہ ہوں اور صدمہ کی وجہ سے روئیں گناہ ہے، اور ایسا کام کرنا جس سے ماں باپ خوش ہوں اور جس سے ان کو ہنسی آئے ثواب کا کام ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ بکاء الوالدین من العقوق والکبائر (یعنی ماں باپ کا رونا عقوق اور کبائر میں سے ہے) جبکہ اولاد ایسا کام کرے جس سے ایذا پہنچنے کی وجہ سے رونے لگیں۔ (الادب المفرد للبخاری) حضرت اویس قرنی (رض) یمن کے رہنے والے تھے ان کے بارے میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیر التابعین فرمایا اور حضرت عمر (رض) سے یہ بھی فرمایا کہ ان سے اپنے لیے دعائے مغفرت کرانا انہوں نے عہد نبوت میں اسلام قبول کرلیا تھا لیکن والدہ کی خدمت کی وجہ سے بارگاہ رسالت میں حاضر نہ ہوسکے اور شرف صحابیت سے محروم ہوگئے۔ آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے اس عمل پر نکیر نہیں فرمائی بلکہ قدردانی فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ ان سے دعا کرانا، والدین کی خدمت کا جو مرتبہ ہے وہ اس سے ظاہر ہے، صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اویس قرنی کی والدہ ہے اس کے ساتھ انہوں نے حسن سلوک کیا اگر اویس (کسی بات میں) اللہ پر قسم کھالے تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی قسم پوری فرمائے۔ ماں باپ کی خدمت نفلی حج اور عمرہ سے کم نہیں حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں جہاد کرنے کی خواہش رکھتا ہوں اور اس پر قادر نہیں (ممکن ہے کہ یہ صاحب بہت کمزور ہوں یا بعض اعضاء صحیح سالم نہ ہوں جس کی وجہ سے یہ کہا کہ جہاد پر قادر نہیں ہوں) ان کی بات سن کر آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوال فرمایا کیا تیرے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے ؟ عرض کیا والدہ زندہ ہے، آپ نے فرمایا کہ بس تو اپنی والدہ (کی خدمت اور فرمانبرداری) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جب تو اس پر عمل کرے گا تو تو حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اور جہاد کرنے والا ہوگا جب تیری ماں تجھے بلائے تو (اس کی فرمانبرداری کے بارے میں) اللہ سے ڈرنا (یعنی نافرمانی مت کرنا) اور والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرنا۔ (درمنثور ص ١٧٣ ج ٤ از بیہقی وغیرہ) اس حدیث پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ والدہ تم کو بلائے تو اس کی اطاعت کرو، عام حالات میں جب بھی ماں باپ بلائیں ان کے پکارنے پر حاضر ہوجائے اور جو خدمت بتائیں انجام دیدے اگر نماز میں مشغول ہو اور اس وقت والدین میں سے کوئی آواز دے تو اس کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ ماں باپ اگر کسی مصیبت کی وجہ سے پکاریں مثلاً پاخانہ وغیرہ کی ضرورت سے آتے جاتے پاؤں پھسل جائے اور دونوں میں سے کوئی گرجائے یا گرجانے کا قوی اندیشہ ہے اور کوئی دوسرا اٹھانے والا اور سنبھالنے والا نہیں ہے تو ان کو اٹھانے اور سنبھالنے کے لیے فرض نماز کا توڑ دینا واجب ہے اور اگر انہوں نے کسی ایسی ضرورت کے لیے نہیں پکارا جس کا اوپر ذکر ہوا بلکہ یوں ہی پکار لیا تو فرض نماز توڑنا درست نہیں ہے اور اگر کسی نے سنت یا نفل نماز شروع کر رکھی ہے اور ماں باپ نے آواز دی لیکن ان کو معلوم نہیں ہے کہ فلاں لڑکا یا لڑکی نماز میں ہے تو اس صورت میں نماز توڑ کر جواب دینا واجب ہے خواہ کسی ضرورت سے پکاریں خواہ بلاضرورت یوں ہی پکار لیں اس صورت میں اگر نماز نہ توڑی اور ان کا جواب نہ دیا تو گناہ ہوگا البتہ اگر ان کو معلوم ہے کہ نماز میں ہے اور یوں ہی بلاضرورت پکارا ہے تو نماز نہ توڑے۔ (ذکرہ الشامی فی باب ادراک الفریضہ) والدین کے ستانے کی سزا دنیا میں مل جاتی ہے حضرت ابوبکر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تمام گناہ ایسے ہیں کہ اللہ چاہتا ہے تو انہیں معاف فرما دیتا ہے مگر والدین کے ستانے کا گناہ ایسا ہے جس کی سزا دنیا ہی میں موت سے پہلے دے دیتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤١٢ از شعب الایمان للبیہقی) والدین کی نافرمانی بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہے حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بڑے بڑے گناہ یہ ہیں۔ (١) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا۔ (٢) والدین کی نافرمانی کرنا۔ (٣) کسی جان کو قتل کردینا (جس کا قتل کرنا قاتل کے لیے شرعاً حلال نہ ہو) ۔ (٤) جھوٹی قسم کھانا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ١٧ از بخاری) کبیرہ گناہوں کی فہرست طویل ہے اس حدیث میں ان گناہوں کا ذکر ہے جو بہت بڑے ہیں ان میں شرک کے بعد ہی عقوق الوالدین کو ذکر فرمایا ہے، لفظ عقوق میں بہت عموم ہے ماں باپ کو کسی بھی طرح ستانا، قول یا فعل سے ان کو ایذا دینا دل دکھانا نافرمانی کرنا حاجت ہوتے ہوئے ان پر خرچ نہ کرنا یہ سب عقوق میں شامل ہے پہلے حدیث ذکر کی جاچکی ہے جس میں محبوب ترین اعمال کا بیان ہے اس میں بروقت نماز پڑھنے کے بعد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا درجہ بتایا ہے بالکل اسی طرح بڑے بڑے کبیرہ گناہوں کی فہرست میں شرک کے بعد ماں باپ کے ستانے اور ان کی نافرمانی کرنے کو شمار فرمایا ہے ماں باپ کی نافرمانی اور ایذا رسانی کس درجہ کا گناہ ہے اس سے صاف ظاہر ہے۔ وہ شخص ذلیل ہو جس ماں باپ نے جنت میں داخل نہ کرایا حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ایک مرتبہ) ارشاد فرمایا کہ وہ ذلیل ہو، وہ ذلیل ہو، وہ ذلیل ہو، عرض کیا گیا کون یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟ فرمایا جس نے اپنے ماں باپ کو یا دونوں میں کسی ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤١٨ از مسلم) پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ ماں باپ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا جنت میں داخل ہونے کا بہترین ذریعہ ہے اور عقوق الوالدین یعنی ماں باپ کی نافرمانی اور ایذا رسانی دوزخ میں جانے کا ذریعہ ہے، زندگی میں خصوصاً نوجوانی میں انسان سے بہت سے صغیرہ، کبیرہ گناہ سرزد ہوجاتے ہیں اور ماں باپ کی نافرمانی بھی ہوجاتی ہے اگر کسی گنہگار بندہ کو بوڑھے ماں باپ میسر آجائیں یعنی اس کی موجودگی میں بوڑھے ہوجائیں تو گذشتہ گناہوں کے کفارہ کے لیے اور دوزخ سے آزاد ہو کر جنتی بننے کے لیے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کو ہاتھ سے نہ جانے دے جس شخص نے ماں باپ کو بوڑھا پایا لیکن ان کی خدمت نہ کی ان کی دعائیں نہ لیں ان کا دل دکھاتا رہا اور جوش جوانی میں ان کی طرف سے غفلت برتتا رہا جس کی وجہ سے دوزخ کا مستحق ہوگیا ایسے شخص کے بارے میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ بددعا دی اور فرمایا کہ یہ شخص (دنیا آخرت میں ذلیل و خوار ہو) لا جعلنا اللّٰہ منھم جس کے ماں باپ زندہ ہیں ان کو زندگی کی قدر کرے اور ان کو راضی رکھ کر جنت کمالے۔ ماں باپ کی طرف گھور کر دیکھنا بھی عقوق میں شامل ہے حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اس شخص نے اپنے والد کے ساتھ حسن سلوک نہیں کیا جس نے والد کو تیز نظر سے دیکھا۔ (درمنثور ص ١٧١ ج ١٤ از بیہقی فی شعب الایمان) اس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کو تیز نظروں سے دیکھنا بھی ان کے ستانے میں داخل ہے، حضرت حسن (رض) سے کسی نے دریافت کیا کہ عقوق یعنی ماں باپ کے ستانے کی کیا حد ہے ؟ انہوں نے جواب میں فرمایا کہ ان کو (خدمت اور مال سے) محروم کرنا اور ان سے ملنا جلنا چھوڑ دینا اور ان کے چہرے کی طرف تیز نظر سے دیکھنا یہ سب عقوق ہے۔ (درمنثور از ابن ابی شیبہ) حضرت عروہ (رض) نے بیان فرمایا کہ اگر ماں باپ تجھے ناراض کردیں یعنی ایسی بات کہہ دیں جس سے تجھے ناگواری ہو تو ان کی طرف ترچھی نظر سے مت دیکھنا کیونکہ انسان جب کسی پر غصہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے تیز نظر سے ہی اس کا پتہ چلتا ہے۔ (درمنثور عن ابن ابی حاتم) معلوم ہوا کہ ماں باپ کی تعظیم و تکریم کرتے ہوئے اعضاء وجوارح سے بھی فرمانبرداری انکساری ظاہر کرنا چاہیے۔ رفتار و گفتار اور نظر سے کوئی ایسا عمل نہ کرے جس سے ان کو تکلیف پہنچے۔ ماں باپ کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے، حاضرین نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کوئی شخص اپنے باپ کو گالی دے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں (اس کی صورت یہ ہے کہ) کسی دوسرے کے باپ کو گالی دے تو وہ پلٹ کر گالی دینے والے کے باپ کو گالی دیدے۔ اور کسی دوسرے شخص کی ماں کو گالی دے تو پلٹ کر گالی دینے والے کی ماں کو گالی دے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤١٩ از بخاری و مسلم) حدیث کا مطلب یہ ہے کہ گالی دینے والے نے اپنی ماں یا اپنے باپ کو تو گالی نہ دی لیکن چونکہ دوسرے سے گالی دلوانے کا ذریعہ بن گیا اس لیے خود گالی دینے والوں میں شمار ہوگیا۔ اس کو حضور انور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا۔ اسی سے سمجھ لیا جائے کہ جو شخص اپنے ماں باپ کو خود اپنی زبان سے گالی دے گا ظاہر ہے کہ اس کا گناہ عام کبیرہ گناہوں سے بڑھ کر ہوگا۔ حضرات صحابہ کرام (رض) کو اپنے ماحول کے اعتبار سے یہ بات بڑے تعجب کی معلوم ہوئی کہ کوئی شخص اپنے والدین کو گالی دے۔ ان کے تعجب پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گالی کا ذریعہ اور سبب بننے والی صورت بتائی جو اس زمانہ میں پیش آسکتی تھی، لیکن ہمارے اس دور میں تو ایسے لوگ موجود ہیں جو خود اپنی زبان سے ماں باپ کو گالی دیتے ہیں اور برے الفاظ اور برے القاب سے یاد کرتے ہیں۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ ماں باپ کے لیے دعا اور استغفار کرنے کی وجہ سے نافرمان اولاد کو فرمانبردار لکھ دیا جاتا ہے حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ (ایسا بھی ہوتا ہے) کہ بندہ کے ماں باپ وفات پاجاتے ہیں یا دونوں میں سے ایک اس حال میں فوت ہوجاتا ہے کہ یہ شخص ان کی زندگی میں ان کی نافرمانی کرتا رہا اور ستاتا رہا۔ اب موت کے بعد ان کے لیے دعا کرتا رہتا ہے اور ان کے لیے استغفار کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ جل شانہ اس کو ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والوں میں لکھ دیتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٢١) ماں باپ کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے ان کے درجات بلند ہوتے ہیں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ بلاشبہ اللہ جل شانہ جنت میں نیک بندہ کا درجہ بلند فرما دیتا ہے وہ عرض کرتا ہے کہ اے رب یہ درجہ مجھے کہاں سے ملا ہے ؟ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے کہ تیری اولاد نے جو تیرے لیے مغفرت کی دعا کی یہ اس کی وجہ سے ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٢٠٥ از احمد) معلوم ہوا کہ ماں باپ کے لیے دعا کرنا بہت بڑا حسن سلوک ہے، اور یہ حسن سلوک ایسا ہے کہ جو موت کے بعد بھی جاری رکھا جاسکتا ہے، کم سے کم ہر فرض نماز کے بعد ماں باپ کے لیے دعا کردیا کرے اس میں کچھ خرچ بھی نہیں ہوتا۔ اور ان کو بڑا فائدہ پہنچ جاتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

25:۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے بھید جانتا ہے۔ جو شخص اخلاص اور صدق نیت سے والدین کے حقوق ادا کرتا ہے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو شخص محض ریاکاری کے لیے یا بعض دنیوی منافع کی خاطر ایسا کر رہا ہے اس کی نیت بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔ اگر تم صدق نیت سے اور دلی محبت و احترام سے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو گے تو اللہ تعالیٰ ایسے نیک دل اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں اور ہر کام میں اس کی رضامندی ڈھونڈنے والوں کی تقصیروں اور غیر ارادہ لغزشوں کو معاف کرنے والا ہے ایک شخص نیک نیتی سے والدین کے حقوق ادا کرتا ہے اگر غلطی سے نادانستہ اس سے اداء حقوق میں کوئی کوتاہی ہوگئی تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ غفورا لما وقع منھم نوع تقصیر او اذیۃ فعلیۃ او قولیۃ (ابو السعود ج 5 ص 574) ۔ والدین خواہ مسلمان ہوں خواہ کافر دعاء کے علاوہ باقی تمام مذکورہ حقوق سب کے یکساں ہیں۔ کافر والدین سے حسن سلوک فرض ہے البتہ اگر وہ شرک کرنے کو کہیں تو اس میں ان کی پیروی جائز نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

25 لوگو ! تمہارا پروردگار ان باتوں کو خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں۔ اگر تم نیک ہو گے اور تم اپنی نیت اور اپنے مقصد کو درست رکھو گے تو وہ توبہ کے ساتھ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والاے۔ یعنی ظاہری توقیر و تعظیم نہیں بلکہ دلوں میں بھی ان کی خدمت ان کا ادب اور ان کی اطاعت کا ارادہ رکھنا اور باوجود اس نیک ارادے اور صالح قصد کے پھر بھی کوئی کوتاہی اور قصور ہوجائے گا اور تم توبہ کرو گے اور ہماری طرف رجوع کرو گے تو بلاشبہ وہ ایسے سعادت مندوں کے لئے غفور ہے اور ان کی کوتاہیوں کو بخشنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کبھی دل میں آئے کہ بوڑھے ماں باپ سے یہ معاملہ نبھانا مشکل ہے تو فرما دیا کہ جس کی نیت نیکی پر ہے اگر خفا کرے پھر رجوع لادے تو اللہ بخشنے والا ہے۔ 2 ؎