Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 3

سورة بنی اسراءیل

ذُرِّیَّۃَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَبۡدًا شَکُوۡرًا ﴿۳﴾

O descendants of those We carried [in the ship] with Noah. Indeed, he was a grateful servant.

اے ان لوگوں کی اولاد! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کر دیا تھا ، وہ ہمارا بڑا ہی شکر گزار بندہ تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ... O offspring of those whom We carried (in the ship) with Nuh, by addressing the descendants of those who were carried in the ship with Nuh there is a reminder of the blessings, as if Allah is saying: `O descendants of those whom We saved and carried in the ship with Nuh, follow in the footsteps of your father, ... إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا Verily, he was a grateful servant. `Remember the blessing I have granted you by sending Muhammad.' Imam Ahmad reported that Anas bin Malik said: "The Messenger of Allah said: إِنَّ اللهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الاَْكْلَةَ أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَ اللهَ عَلَيْهَا Allah will be pleased with His servant if, when he eats something or drinks something, he praises Allah for it." This was also recorded by Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. Malik said about Zayd bin Aslam: "He used to praise Allah in all circumstances." In this context, Al-Bukhari mentioned the Hadith of Abu Zar`ah narrating from Abu Hurayrah, who said that the Prophet said: أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ ادَمَ يَوْمَ الْقِيَامَة I will be the leader of the sons of Adam on the Day of Resurrection... He quoted the Hadith at length, and in the Hadith, the Prophet said: فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ إِنَّكَ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الاَْرْضِ وَقَدْ سَمَّاكَ اللهُ عَبْدًا شَكُورًا فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّك They will come to Nuh and will say, `O Nuh, you were the first of the Messengers sent to the people of earth, and Allah called you grateful servant, so intercede for us with your Lord.' And he quoted the Hadith in full.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد نسل انسانی نوح (علیہ السلام) کے ان بیٹوں کی نسل سے ہے جو کشتیئ نوح (علیہ السلام) میں سوار ہوئے تھے اور طوفان سے بچ گئے تھے۔ اس لئے بنو اسرائیل کو خطاب کر کے کہا گیا کہ تمہارا باپ، نوح (علیہ السلام) ، اللہ کا بہت شکر گزار بندہ تھا۔ تم بھی اپنے باپ کی طرح شکر گزاری کا راستہ اختیار کرو اور ہم نے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول بنا کر بھیجا ہے، ان کا انکار کر کے کفران نعمت مت کرو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥] کیا نوح آدم ثانی ہیں ؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ انسانی نسل صرف سیدنا نوح کے تین بیٹوں حام، سام اور یافث ہی کی اولاد نہیں ہیں جیسا کہ مؤرخین کا بیان ہے بلکہ ان تمام لوگوں کی اولاد ہے جو سیدنا نوح کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ۔۔ :” ذُرِّيَّــةَ “ سے پہلے ” یَا “ حرف ندا محذوف ہے، ” اے ان لوگوں کی اولاد۔۔ ! “ یعنی تم ان صالح لوگوں کی اولاد ہو جنھیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کرکے نجات بخشی۔ مقصد بنی اسرائیل کو ایمان اور عمل صالح پر ابھارنا ہے کہ دیکھو تم کن لوگوں کی اولاد ہو، تمہارے لیے اپنے صالح آبا و اجداد کے نقش قدم پر چل کر ایک اللہ کی عبادت کا پابند رہنا، اپنے باپ نوح (علیہ السلام) کی طرح ہر وقت اسی کا شکر گزار رہنا اور اس کے سوا کسی کو اپنا وکیل، کارساز اور بھروسے کے قابل نہ سمجھنا لازم ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ۭ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا ۝ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ مصاد رکے فرق کیا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ بوجھ جو حسی طور پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ کوئی چیز پیٹھ لادی جائے اس پر حمل ( بکسرالحا) کا لفظ بولا جاتا ہے اور جو بوجھ باطن یعنی کوئی چیز اپنے اندر اٹھا ہے ہوئے ہوتی ہے اس پر حمل کا لفظ بولا جاتا ہے جیسے پیٹ میں بچہ ۔ بادل میں پانی اور عورت کے حمل کے ساتھ تشبیہ دے کر درخت کے پھل کو بھی حمل کہہ دیاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا پنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا ۔ نوح نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس . ( ن و ح ) نوح ۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ کرنا نوح کے اصل معنی عورتوں کے ماتم کدہ میں جمع ہونے کے ہیں اور یہ تناوح سے مشتق ہے جس کے معنی ثقابل کے ہیں جیسے بجلان متنا وحان دو متقابل پہاڑ ۔ ریحان یتنا وحان وہ متقابل ہوائیں ۔ النوائع نوحہ گر عورتیں ۔ المنوح ۔ مجلس گریہ ۔ شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها، ودابّة شکور : مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، وقیل : أصله من عين شكرى، أي : ممتلئة، فَالشُّكْرُ علی هذا هو الامتلاء من ذکر المنعم عليه . والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں اور دابۃ شکور اس چوپائے کو کہتے ہیں جو اپنی فربہی سے یہ ظاہر کر رہا ہو کہ اس کے مالک نے اس کی خوب پرورش اور حفاظت کی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ عین شکریٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنی آنسووں سے بھرپور آنکھ کے ہیں اس لحاظ سے شکر کے معنی ہوں گے منعم کے ذکر سے بھرجانا ۔ شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجورح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکانات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣) اے ان لوگوں کی نسل جن کو ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ان مردوں اور عورتوں کی پشتوں میں کشتی میں سوار کیا تھا وہ بڑے شکر گزار بندے تھے چناچہ کھانے پینے اور لباس اور پہننے کے وقت بھی الحمد للہ کہتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ (ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ۭ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا) حضرت نوح کے تین بیٹے سام حام اور یافث تھے جن سے بعد میں نسل انسانی چلی۔ ان میں سے حضرت سام کی نسل میں حضرت ابراہیم پیدا ہوئے جن کی اولاد کو یہاں بنی اسرائیل کے طور پر مخاطب کیا جارہا ہے۔ انہیں یاد دلایاجا رہا ہے کہ حضرت نوح کے ساتھ جن لوگوں کو ہم نے بچایا تھا انہی میں سے ایک کی اولاد تم ہو اور نوح ہمارا بہت ہی شکر گزار بندہ تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4. That is, you are the descendants of Noah (peace be upon him) and his companions; therefore, you should behave in a manner as behooves such people. You should make Allah alone as your Guardian, for your ancestors escaped death from the flood only because they had made Allah their Guardian.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :4 یعنی نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی اولاد ہونے حیثیت سے تمہارے شایاںِ شان یہی ہے کہ تم صرف ایک اللہ ہی کو اپنا وکیل بناؤ ، کیونکہ جن کی تم اولاد ہو وہ اللہ ہی کو وکیل بنانے کی بدولت طوفان کی تباہی سے بچے تھے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: حضرت نوع (علیہ السلام) کی کشتی کا حوالہ خاص طور پر اس لیے دیا گیا ہے کہ جو لوگ اس کشتی میں سوار ہوئے تھے، انہیں اللہ تعالیٰ نے طوفان میں ڈوبنے سے بچالیا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم تھا، اسے یاد دلا کر فرمایا جا رہا ہے کہ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ ان لوگوں کی اولاد اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:3 ) ذریۃ۔ اولاد۔ اصل میں تو چھوٹے چھوٹے بچوں کا نام ذریت ہے مگر عرف میں چھوٹی اور بڑی سب اولاد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اصل میں یہ جمع ہے مگر واحد اور جمع دونوں کے لئے مستعمل ہے ذریۃ بوجہ ندا کے ہے اس سے پہلے حرف ندا یا محذوف ہے۔ ذریۃ مضاف سے اور من حملنا مع نوح مضاف الیہ ہے۔ یا ذریۃ من حملنا مع نوح اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا۔ اس کے بعد انہ کان عبدا شکورا کا جملہ، جملہ معترضہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعریف میں ہے تو گویا الا تتخذوا ۔۔ الخ کی تقدیر ہے۔ وقلنا لہم لا تتخذوا من دونی وکیلا یا ذریۃ من حملنا مع نوح۔ اور ہم نے ان سے (بنی اسرائیل سے) کہا کہ اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا مجھے چھوڑ کر (کسی کو) اپنا کارساز مت ٹھہرائو۔ شکورا۔ نصب بوجہ عمل کان کے ہے شکور۔ شکر گذار۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی میرے سوا کسی اور پر اعتماد اور بھروسا نہ کرو اور نہ میرے سوا کسی سے ہدیات اور مد طلب کرو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ان واقعات کی تفصیل بتانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا ایک انعام یاد دلایا کہ تم لوگ نوح (علیہ السلام) کی ذریت ہو اور ان کی نسل سے ہو جب قوم کی سرکشی کی وجہ سے قوم پر عذاب آیا تھا تو ان کو اور ان کے خاندان کو (بیوی اور ایک بیٹے کے علاوہ) اور دیگر اہل ایمان کو (جو تھوڑے سے تھے) ان کے ساتھ کشتی میں سوار کردیا تھا اس کشتی میں جو لوگ سوار تھے آگے انہیں لوگوں کی نسل چلی اور دنیا میں پھلی اور پھیلی، بنی اسرائیل کو یاد دلایا کہ دیکھو توحید والوں کو کشتی میں سوار کرکے غرق ہونے سے نجات دی تھی تم انہی کی نسل سے ہو اس وقت سے لے کر آج تک نسل در نسل تم زمین پر آ رہے ہو یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر انعام ہے اور یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جیسے انہوں نے اللہ کے سوا کسی کو کارساز نہ بنایا تم بھی اسی کو کارساز بناؤ اور اسی کی طرف متوجہ رہو۔ (اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوْرًا) (بلاشبہ نوح شکر گزار بندہ تھے) جس شکر گزار بندے کے ساتھ تمہارے آباؤ اجداد نے نجات پائی اس بندہ کی طرح تم بھی منعم حقیقی کا شکر ادا کرتے رہو۔ اس کے بعد یہ بتایا کہ ہم نے پہلے ہی کتاب میں (یعنی توریت شریف میں یا انبیاء بنی اسرائیل کے صحیفوں میں بطور پیش گوئی) یہ بات بتادی تھی کہ تم (ملک شام کی) سرزمین میں دو بار فساد کرو گے اور بندوں پر خوب زیادہ زور چلانے لگو گے، اس کے بعد (فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰھُمَا) سے ان کا فساد اول اور ان پر دشمنوں کی چڑھائی اور (فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ لِیَسُوْٓوٗا وُجُوْھَکُمْ ) میں دوسری مرتبہ ان کے فساد کے بعد دشمنوں کی طرف سے یلغار اور تباہی ہونے کا تذکرہ فرمایا، آگے بڑھنے سے پہلے بنی اسرائیل کے شر و فساد اور دشمنوں کی طرف سے ان کی تباہ کاری کی تفصیل معلوم کرلینی چاہیے جو تفسیر اور تاریخ کی کتابوں میں درج ہے، آیات بالا میں فرمایا ہے کہ ایک بار بنی اسرائیل نے زمین میں فساد کیا اللہ تعالیٰ کے حکموں کی مخالفت کی، حقوق اللہ ضائع کیے اور مخلوق پر بھی مظالم کیے اس وقت ان پر دشمن مسلط کردئیے گئے تھے جو سخت جنگجو تھے اس کے بعد بنی اسرائیل سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں پھر نعمت اور دولت سے سرفراز فرما دیا مال بھی دیا بیٹے بھی دئیے اور ان کی جماعت خوب زیادہ بڑھا دی لیکن پھر انہوں نے شرارت کی تو دوبارہ دشمن مسلط ہوگیا جس نے بری طرح ان کی بربادی کی اور دوبارہ بیت المقدس میں داخل ہو کر ان کا ناس کھو دیا۔ قرآن مجید میں بنی اسرائیل کے دو مرتبہ برباد ہونے اور بیچ میں آباد ہونے کا جو تذکرہ فرمایا ہے اس میں کون سے واقعات مراد ہیں اور کون سے دشمنوں نے حملہ کیا تھا اس کے بارے میں یقین کے ساتھ کوئی تعیین نہیں کی جاسکتی احادیث مرفوعہ میں ان کا کوئی ذکر نہیں اور جو کچھ تفسیر اور تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے وہ اسرائیلی روایات ہیں اور ان قصوں کی تفصیل جاننے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر ص ٢٥/ ج ٣ میں لکھتے ہیں : قد وردت فی ھذا آثار کثیرۃ اسرائیلیۃ لم ارتطویل الکتاب بذکرھا لان منھا ما ھو موضوع من وضع بعض زنادقتھم ومنھا ما قد یحتمل ان یکون صحیحھا ونحن فی غنیۃ عنھا وللّٰہ الحمد وفیما قص اللّٰہ علینا فی کتابہ غنیۃ عما سواہ من بقیۃ الکتب قبلہ ولم یحوجنا اللّٰہ ولا رسولہ الیھم۔ بنی اسرائیل کو برباد کرنے والے کون تھے تفسیر کی کتابوں میں بنی اسرائیل کو برباد کرنے والوں کے کئی نام لکھے ہیں (١) بخت نصر (٢) جالوت (٣) خردوش (٤) سنجاریب، پھر ان میں پہلی بربادی کس کے ہاتھوں ہوئی اور دوسری بار کس نے ہلاک کیا اس میں بھی اختلاف ہے، صاحب معالم التنزیل بہت کچھ لکھنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ پہلی بربادی بخت نصر اور اس کے لشکروں کے ذریعہ اور دوسری بربادی خردوش اور ان کے لشکروں کے ذریعہ ہوئی یہ دوسری بربادی پہلی بربادی سے بڑی تھی اس کے بعد بنی اسرائیل کی حکومت قائم نہ رہ سکی اور ان کے تمام علاقوں میں یونانیوں کی حکومت قائم ہوگئی، وہاں بنی اسرائیل تعداد میں زیادہ ہوگئے ان کی حکومت تو نہ تھی البتہ بیت المقدس پر ان کی ریاست قائم تھی۔ اللہ نے نعمت انہیں بہت دی تھی انہوں نے نعمتوں کو بدل دیا اور نئے نئے طریقے ایجاد کیے اللہ تعالیٰ نے ان پر طیطوس بن اسطیانوس رومی کو مسلط کردیا جس نے ان کے شہروں کو ویران کیا اور انہیں ادھر ادھر بھگا دیا اور اللہ نے ان سے حکومت اور ریاست سب چھین لی اور ان پر ذلت چمٹا دی اب ان میں کوئی باقی نہ رہا جو جزیہ نہ دیتا ہو اور ذلیل نہ ہو اس کے بعد حضرت عمر (رض) کی خلافت تک بیت المقدس ویران رہا پھر اسے مسلمانوں نے آباد کیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ یہ منادی ہے اور اس سے قبل حرف نداء محذوف ہے۔ ای یا ذریۃ الخ اس کا مقصود بالنداء محذوف ای اشکروا یعنی اے اولاد نوح شکر گزار بنو اور اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بڑے ہی شکر گذار بندے تھے وہ شرک نہیں کرتے تھے جنہوں نے ساڑھے نو سو سال لوگوں کو اللہ کی توحید سنائی اور توحید کی خاطر تکلیفیں اٹھائیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو طوفان سے اس لیے بچایا کہ وہ اللہ کے شکر گذار اور توحید کو ماننے والے تھے جب کہ ناشکر گذاروں اور مشرکوں کو غرق کردیا گیا۔ پس تم بھی اے مشرکین عرب مانند نوح شکور اور موحد بنو اللہ کے عذاب سے بچ جاؤ گے اور اگر ناشکری کرو گے تو قوم نوح کی طرح ہلاک کردئیے جاؤ گے۔ فکانہ قیل کونوا موحدین شاکرین لنعم اللہ مقتدین بنوح الذی انتم ذریۃ من حمل معہ (بحر ج 6 ص 7) ۔ یہاں تک تینوں آیتیں بظاہر غیر مربوط معلوم ہوتی ہیں چناچہ ان کے ظاہر کو دیکھ کر کئی مفسرین کو تطبیق میں سخت اشکال پیش آیا، کیونکہ پہلے واقعہ معراج کا ذکر ہے اس کے بعد ” و اتینا موسیٰ الکتب “ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دینے کا ذکر ہے پھر اس کے بعد ” ذریۃ من حملنا مع نوح “ نوح میں ایک نئی بات مذکور ہے لیکن ہماری مذکورہ بالا تقریر سے یہ آیتیں بالکل باہم مربوط ہوجاتی ہیں اور بےربطی کا کوئی اشکال نہیں رہنتا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ” سبحن الذی الخ “ میں فرمایا اس اللہ کو شرک سے پاک سمجھو جس نے مسئلہ توحید منوانے کے لیے معجزہ اسراء دکھایا اس کے علاوہ عقل سلیم کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اللہ ہر شرک سے پاک ہے کیونکہ وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے اور ساتھ ہی کتب سابقہ مثلاً تورات کی بھی یہی تعلیم ہے لہذا اے اہل مکہ ہم تمہیں بھی حکم دیتے ہیں کہ اس مسئلہ کو مان لو جو دلیل وحی اور دلائل عقل و نقل سے ثابت ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

3 اے اولاد ان لوگوں کی جن کو ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ کشتی پر سوار کیا تھا بلاشبہ وہ نوح (علیہ السلام) بڑا شکر گزار بندہ تھا۔ طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد چونکہ نسل انسانی ان لوگوں سے چلی جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ حام سام، یافث سے نوع انسانی کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اس لئے فرمایا کہ تم سب کشتی والوں کی اولاد ہو۔ اگر کشتی و الے نجات نہ پاتے تو تم کو بھی یہاں آنا نصیب نہ ہوتا۔ نوح (علیہ السلام) چونکہ بڑا شکر گزار بندہ تھا لہٰذا تم بھی حضرت حق کے احسان کا شکر بجا لائو اور کفران نعمت کر کے کافر مت بنو۔ بعض مفسرین نے یہ خطاب سام کی اولاد کے ساتھ فرمایا ہے جس میں اہل عرب ہیں یا یہ مطلب ہے کہ تم سب جن لوگوں کی اولاد میں سے ہو تمہارے بڑوں پر جو احسان ہم نے کیا تھا اس کا شکر بجا لائو اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے نقش قدم پر چلو۔