Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 38

سورة بنی اسراءیل

کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ عِنۡدَ رَبِّکَ مَکۡرُوۡہًا ﴿۳۸﴾

All that - its evil is ever, in the sight of your Lord, detested.

ان سب کاموں کی برائی تیرے رب کے نزدیک ( سخت ) ناپسند ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

All the bad aspects of these (the above mentioned things) are hateful to your Lord.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

38۔ 1 یعنی جو باتیں مذکور ہوئیں، ان میں جو بھی بری ہیں، جن سے منع کیا گیا، وہ ناپسندیدہ ہیں

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٨] یعنی مندرجہ بالا چودہ احکام میں اکثر تو ایسے ہیں جن سے منع کیا گیا ہے۔ ان کا ارتکاب کرنا اللہ کو سخت ناپسند ہے اور جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے ان کو بجا نہ لانا بھی اسی طرح ناپسند ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ ۔۔ : ” لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ “ سے لے کر ” وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا “ تک پچیس چیزیں بیان فرمائی ہیں، جن میں سے بعض کا حکم دیا گیا ہے اور بعض سے منع کیا گیا ہے۔ ان میں ” سَیِّئٌ“ (بری) وہ ہیں جن سے منع کیا گیا ہے اور وہ چیزیں جن پر عمل کا حکم ہے انھیں بجا نہ لانا بھی ” سَیِّئٌ“ (برا) ہے۔ ان تمام چیزوں میں سے جو بری ہیں وہ ہمیشہ سے اللہ کے ہاں مکروہ (ناپسندیدہ) ہیں۔ ہمیشگی کا مفہوم ” کَانَ “ اد اکر رہا ہے۔ مَكْرُوْهًا : مکروہ کا لفظ فقہاء کی اصطلاح میں حرام سے کم تر درجے کا ہے، یعنی جس کا نہ کرنا اس کے کرنے سے بہتر ہو مگر قرآن و سنت کی اصطلاح میں مکروہ کا لفظ اکثر حرام کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ ان آیات میں منع کردہ تمام چیزیں حرام ہیں، فقہی اصطلاح والی مکروہ نہیں ہیں۔ اس لیے صحیح بخاری اور ترمذی وغیرہ میں باب قائم کرتے وقت لفظ کراہیت لکھا جاتا ہے مگر مراد اس سے حرمت ہی ہوتی ہے۔ بعض اوقات کتاب و سنت میں مکروہ کا لفظ فقہاء والے مکروہ کے معنی میں آتا ہے، مگر اکثر مقامات پر مکروہ کا لفظ حرام ہی کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ زیر تفسیر تمام آیات میں ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After having described details of the injunctions appearing above, it was said in the last verse: كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِندَ رَ‌بِّكَ مَكْرُ‌وهًا (That which is evil, of all these, is detestable in the sight of your Lord - 38). As for what has been forbidden in the said injunctions, their repug¬nance is obvious. But, within these there are some commandments where rights of parents and relatives have been enjoined or fulfillment of promises has been made mandatory. Here too, the purpose is to avoid doing the opposite of it, like hurting parents, breaking off from relatives and going back on solemn promises. Since all these things are haram or reprehensible, therefore, it has been called &makruh& in a general sense of &detestable& which includes the haram and makruh both. (Bayan al-Qur an) Note The injunctions described in the fifteen verses cited above are, in a way, the explanation of the effort acceptable in the sight of Allah men¬tioned in: وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا (and makes effort for it as due - 19). There it was said that not every effort is acceptable with Allah. Instead, the effort made in accordance with the Sunnah and teaching of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is the only one acceptable with Him. Main divisions of such acceptable effort have been mentioned in these injunctions which take up the rights of Allah first and then the rights of the servants of Allah. A gist of Torah in fifteen verses Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) said that the commandments of the entire Torah have been reduced to fifteen verses of Surah Bani Isra&il. (Mazhari)

احکام مذکورہ کی تفصیل بیان کرنے کے بعد آخری آیت میں فرمایا (آیت) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا یعنی مذکورہ تمام برے کام اللہ کے نزدیک مکروہ و ناپسند ہیں۔ مذکورہ احکام میں جو محرمات ومنہیات ہیں ان کا برا اور ناپسند ہونا تو ظاہر ہے مگر ان میں کچھ احکام اوامر بھی ہیں جیسے والدین اور اقرباء کے حقوق ادا کرنا اور وفائے وغیرہ ان میں بھی چونکہ مقصود ان کی ضد سے بچنا ہے کہ والدین کی ایذاء سے رشتہ داروں کی قطع رحمی سے نقض عہد سے پرہیز کرو یہ چیزیں سب حرام و ناپسند ہیں اس لئے مجموعہ کو مکروہ فرمایا گیا ہے (بیان القرآن) تنبیہ : مذکورہ پندرہ آیتوں میں جو احکام بیان کئے گئے ہیں وہ ایک حیثیت سے اس سعی وعمل کی تشریح ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہوں جس کا ذکر اٹھارہ آیتوں سے پہلے آیا ہے وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا جس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ہر سعی وعمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں بلکہ صرف وہی جو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور تعلیم کے مطابق ہو ان احکام میں اس مقبول سعی و عمل کے اہم ابواب کا ذکر آ گیا ہے جس میں پہلے حقوق اللہ کا پھر حقوق العباد کا بیان ہے۔ یہ پندرہ آیتیں پوری تورات کا خلاصہ ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ پوری توریت کے احکام سورة بنی اسرائیل کی پندرہ آیتوں میں جمع کردیئے گئے ہیں (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا 38؀ سَّيِّئَةُ : الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] سَّيِّئَةُ : اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :، ، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] جو برے کام کرے كره قيل : الْكَرْهُ والْكُرْهُ واحد، نحو : الضّعف والضّعف، وقیل : الكَرْهُ : المشقّة التي تنال الإنسان من خارج فيما يحمل عليه بِإِكْرَاهٍ ، والکُرْهُ : ما يناله من ذاته وهو يعافه، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] ( ک ر ہ ) الکرہ ( سخت ناپسند یدگی ) ہم معنی ہیں جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے کہ کرۃ ( بفتح الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے اور اس پر زبر دستی ڈالی جائے ۔ اور کرہ ( بضم الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو اسے نا خواستہ طور پر خود اپنے آپ سے پہنچتی ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] اور اگر چہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٨) یہ تمام مذکورہ برے کام جن سے تجھ کو روکا گیا ہے تیرے رب کے نزدیک قطعی ناپسند ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨ (كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا) یعنی یہ جتنے بھی احکام ہیں ان میں اوامر (Do&s) بھی ہیں اور نواہی (Don&ts) بھی۔ جہاں کسی کام کے کرنے کا حکم ہے وہاں اسے نہ کرنا برائی ہے اور جہاں کسی کام سے روکا گیا ہے وہاں اس میں ملوث ہونا برائی ہے۔ اور نافرمانی اور برائی اللہ تعالیٰ کو ہر صورت میں ناپسند ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

44. That is, Allah disapproves of the commission of anything that has been prohibited or, in other words, He disapproves of disobedience to any of these commandments.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :44 یعنی ان میں سے جو چیز بھی ممنوع ہے اس کا ارتکاب اللہ کو ناپسند ہے ۔ یا دوسرے الفاظ میں ، جس حکم کی بھی نافرمانی کی جائے وہ ناپسندیدہ ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:38) کل ذلک۔ یہ سب اس کا اشارہ اوامرونواہی کی طرف ہے جن کا ذکر آیۃ 12 لا تجعل مع اللہ سے شروع ہو کر آیۃ 37 تک مذکور ہے۔ سیئہ عن ربک مکروھا۔ یعنی ہر حکم میں جو چیز ممنوع ہے اس کا ارتکاب اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے یا دوسرے الفاظ میں جس حکم کی بھی نافرمائی کی جائے وہ ناپسندیدہ ہے۔ ذلک۔ یہ تمام باتیں جو آیۃ 21 سے لے کر یہاں تک مذکور ہیں۔ ذلک مما اوحی الیک ربک من الحکمۃ یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تیری طرف وحی کی ہیں۔ لا یجعل مع اللہ الھا اخر۔ اسی جملہ سے ان حکمت کی باتوں کا آغاز آیۃ 21 سے ہوا تھا۔ اور اسی پر اس پندو نصائح کو ختم کیا گیا کیونکہ توحید ہی راس الحکمۃ ہے اور شرک بدترین گناہ۔ فتلقی۔ کہ تو ڈالا جائے یا ڈالا جائے گا۔ القاء سے مضارع مجہول واحد مذکر حاضر۔ ملوما۔ ملاحظہ ہو آیت نمبر 29 سورة ہذا۔ مدحورا۔ ملاحظہ ہو آیت نمبر 18 سورة ہذا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں تما احکام اور منبیات کا سبب بتا دیا گیا کہ ان امور کے ممانعت ان کے برے پہلو کی وجہ سے ہے۔ ان میں کوئی اچھا پہلو بھی ہوسکتا ہے لیکن ان کی ممانعت اس لئے کی گئی ہے کہ ان میں برائی کا پہلو غالب ہے۔ یہ تما احکام اور اخلاقی تعلیمات کو اب عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ حیات کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے ہیں۔ لہٰذا شرک سے بچو اور قرآن کی تعلیمات حکمت کی یہ خاص خاص باتیں ہیں ، یہ حکمت قرآن کا ایک حصہ ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

تیسری آیت میں مذکورہ بالا برائیوں کی شناعت اور قباحت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّءُہٗ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْھًا) (یہ سب برے کام تیرے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں) صاحب معالم التنزیل فرماتے ہیں کہ (وَقَضٰی رَبُّکَ اَنْ لاَّ تَعْبُدُوْٓا الاَّ اِیَّاہُ ) سے یہاں تک جو امور خیر مذکور ہوئے ان کو ترک کرنا اور جن امور سے بچنے کا حکم فرمایا ہے ان کا ارتکاب کرنا یہ سب بری باتیں ہیں تمہارے رب جل شانہ کے نزدیک مکروہ ہیں ناپسندیدہ ہیں جس نے وجود بخشا پرورش کے اسباب پیدا فرمائے جو اعمال اس کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں، ان کو اختیار کرنا عقلاً بھی قبیح ہے، جو رب جل شانہ کو رب نہیں مانتے وہی افعال شنیعہ اور اعمال سیۂ کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

38:۔ مذکورہ بالا کاموں میں سے جن کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کو نہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہے اور جن سے منع کیا گیا ہے ان کے کرنے میں اس کی ناراضی ہے۔ مذکورہ برائیوں کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا یہ سب گناہ ہیں ان سے کلی اجتناب کرو اور ان کے نزدیک بھی نہ جاؤ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

38 یہ تما م کام اور یہ تمام بری عادتیں تیرے پروردگار کے نزدیک بالکل ناپسندیدہ اور لائق بیزاری ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جن باتوں کو منع کیا وہ رب کی بیزاری اور جن کو حکم کیا ان کا نہ کرنا بیزاری ہے۔ 12