Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 7

سورة بنی اسراءیل

اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ اِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَہَا ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ لِیَسُوۡٓءٗا وُجُوۡہَکُمۡ وَ لِیَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ کَمَا دَخَلُوۡہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ لِیُتَبِّرُوۡا مَا عَلَوۡا تَتۡبِیۡرًا ﴿۷﴾

[And said], "If you do good, you do good for yourselves; and if you do evil, [you do it] to yourselves." Then when the final promise came, [We sent your enemies] to sadden your faces and to enter the temple in Jerusalem, as they entered it the first time, and to destroy what they had taken over with [total] destruction.

اگر تم نے اچھے کام کئے تو خود اپنے ہی فائدے کے لئے ، اور اگر تم نے برائیاں کیں تو بھی اپنے ہی لئے ، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا ( تو ہم نے دوسرے بندوں کو بھیج دیا تاکہ ) وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور پہلی دفعہ کی طرح پھر اسی مسجد میں گھس جائیں اور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لاَِنفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا ... (And We said): "If you do good, you do good for your own selves, and if you do evil (you do it) against yourselves." As Allah says elsewhere: مَّنْ عَمِلَ صَـلِحاً فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَأءَ فَعَلَيْهَا Whosoever does a righteous good deed, it is for (the benefit of) himself; and whosoever does evil, it is against himself. (45:15) The Second Episode of Mischief Then Allah says: ... فَإِذَا جَاء وَعْدُ الاخِرَةِ ... Then, when the second promise came to pass, meaning, the second episode of mischief, when your enemies came again, ... لِيَسُووُواْ وُجُوهَكُمْ ... (We permitted your enemies) to disgrace your faces, meaning, to humiliate you and subdue you, ... وَلِيَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ ... and to enter the Masjid, meaning, Bayt Al-Maqdis (Jerusalem). ... كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ ... as they had entered it before, when they entered the very innermost parts of your homes. ... وَلِيُتَبِّرُواْ ... and to destroy, wrecking and inflicting ruin upon it. ... مَا عَلَوْاْ ... all that fell in their hands. everything they could get their hands on. ... تَتْبِيرًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

7۔ 1 یہ دوسری مرتبہ انہوں نے فساد برپا کیا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو قتل کردیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی قتل کرنے کے درپے رہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا کر ان سے بچا لیا۔ اس کے نتیجے میں پھر رومی بادشاہ ٹیٹس کو اللہ نے ان پر مسلط کردیا، اس نے یروشلم پر حملہ کر کے ان کے کشتے کے پشتے لگا دیئے اور بہت سوں کو قیدی بنا لیا، ان کے اموال لوٹ لئے، مذہبی صحیفوں کو پاؤں تلے روندا اور بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کو غارت کیا اور انھیں ہمیشہ کے لئے بیت المقدس سے جلا وطن کردیا۔ اور یوں ان کی ذلت و رسوائی کا خوب خوب سامان کیا۔ یہ تباہی 70 ء میں ان پر آئی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] سیدنا عزیر عليه السلام کی خدمات :۔ اس تباہی کے بعد سیدنا عزیر (علیہ السلام) نے دین موسوی کی تجدید کا بہت بڑا کام سرانجام دیا اور آپ نے قوانین شریعت کو نافذ کرکے ان اعتقادی اور اخلاقی برائیوں کو دور کرنا شروع کیا جو بنی اسرائیل کے اندر غیر قوموں کے اثر سے گھس آئی تھیں۔ اور بنی اسرائیل سے از سر نو اللہ کی بندگی اور اس کے احکام کی پابندی کا پختہ عہد لیا۔ تورات کو ازسر نو اپنی ذہنی یادداشت کے مطابق مرتب کرکے شائع کیا اور یہودیوں کی دینی تعلیم کا بھی انتظام کردیا۔ اس طرح ڈیڑھ سو سال بعد بیت المقدس پھر سے آباد اور یہودی مذہب و تہذیب کا پھر سے مرکز بن گیا۔ یہود کی دوسری بار فتنہ انگیزی اور اس کی سزا :۔ لیکن بعد میں پھر وہی پہلی قسم کی خرابیاں بنی اسرائیل میں از سر نو پیدا ہوگئیں۔ شرک، بےحیائی، بدکاری عام ہوگئی اور جب سلطنت پھر سے کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی تو ان کے علاقہ پر رومیوں کا قبضہ ہوگیا مگر یہود نے اصلاح احوال کے بجائے پھر بغاوت کا راستہ اختیار کیا تو ٧٠ ء میں رومی بادشاہ ٹیٹس (قیطوس) نے یروشلم کو بزور شمشیر فتح کرکے پورے علاقہ کو تہس نہس کردیا۔ قتل عام میں ایک لاکھ ٣٣ ہزار آدمی مارے گئے اور ٦٧ ہزار کے قریب غلام بنا لیے گئے۔ خوبصورت لڑکیاں فاتحین کے لیے چن لی گئیں۔۔ یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو پیوند خاک کردیا گیا، اور فلسطین سے یہودی اثر و اقتدار کا ایسا خاتمہ ہوا کہ انھیں پھر کبھی سر اٹھانے کی جرأت نہ ہوئی۔ اور یہ دوسری بڑی سزا تھی جو یہود کو ان کی فتنہ انگیزیوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ ۔۔ :” لِيَسُوْۗءٗا “ ” سَاءَ ہُ یَسُوْءُ ہُ “ کا فعل مضارع ہے، جو اصل میں ” یَسُوْءُ وْنَ “ تھا۔ ” لام کَیْ “ کے بعد ” اَنْ “ مقدر کی وجہ سے نون گرگیا۔ یہ فعل متعدی ہے، غمگین کرنا، برا کردینا، بگاڑ دینا۔ خوشی ہو یا غم، جسمانی یا قلبی راحت ہو یا اذیت اس کا اثر چہرے پر نمایاں ہوتا ہے، خوشی میں چہرہ چمک اٹھتا ہے اور غم سے کالا ہوجاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ) [ الملک : ٢٧ ] ” پس جب وہ اس (عذاب) کو قریب دیکھیں گے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے (بگاڑ دیے جائیں گے) جنھوں نے کفر کیا۔ “ لوط (علیہ السلام) کے غمگین ہونے کے متعلق فرمایا : (سِی ءَ بِھِم) [ ھود : ٧٧ ] ” وہ ان (مہمانوں) کی وجہ سے مغموم ہوگیا۔ “ اور فرمایا : (ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّهُوَ كَظِيْمٌ) [ النحل : ٥٨] ”(لڑکی پیدا ہونے کی بشارت ملنے پر) اس کا منہ سارا دن کالا رہتا ہے اور وہ غم سے بھرا ہوتا ہے۔ “ عَلَوْا “ ” عَلَا یَعْلُوْ “ سے ماضی معلوم جمع مذکرغائب ہے، اس کا مفعول محذوف ہے، یعنی ” مَا عَلَوْہُ ۔ “ ” تَتْبِیْراً “ ویران کرنا، برباد کرنا، ٹکڑے ٹکڑے کر کے بکھیر دینا۔ ” وَّلِــيُتَبِّرُوْا “ کی تاکید ” تَتْبِيْرًا “ سے کی ہے، اس لیے ترجمہ میں اس کا معنی بری طرح برباد کرنا کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلی دفعہ کا عذاب مکمل ” تَتْبِيْرًا “ یعنی دوسری مرتبہ جیسا بری طرح برباد کرنا نہیں تھا، جب کہ دوسری مرتبہ کا عذاب دشمن کے گھروں میں گھسنے اور مسجد کی بےحرمتی سے کہیں بڑھ کر تھا، اس سے بنی اسرائیل بری طرح خوف و غم میں مبتلا ہوئے، حتیٰ کہ ان کے چہرے بگڑ گئے اور دشمن نے بنی اسرائیل کو اس بری طرح برباد کیا کہ وہ مدتوں اٹھ نہیں سکے۔ 3 اس دوسری دفعہ والے بندوں سے مراد کون لوگ ہیں، اگرچہ قرآن نے ان کی تعیین نہیں فرمائی، تاہم اگر دیکھا جائے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کے وقت یہودی بیت المقدس سے مکمل بےدخل تھے، وہاں نصرانیوں کا قبضہ تھا اور یہودیوں کو داخلے تک کی اجازت نہیں تھی، وہ مدینہ، خیبر اور دنیا کے مختلف خطوں میں بکھرے ہوئے تھے تو اللہ کی طرف سے ان زبردست بندوں کے ان پر مسلط ہو کر انھیں مکمل طور پر تباہ و برباد کرکے قدس سے نکال دینے کا اندازہ ہوتا ہے۔ مؤرخین دوسری مرتبہ کا حملہ آور طیوطوس (ٹیوٹس) رومی کو قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کی تعیین کا کوئی معتبر ذریعہ نہیں۔ یہاں آکر اسرائیلیوں کی تاریخ ختم ہوجاتی ہے، کیونکہ اس کے بعد وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں بکھر گئے، چناچہ اس کے بعد ان ممالک کی تاریخ کے ضمن ہی میں یہود کی تاریخ کا ذکر آتا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بیت المقدس پر حملہ کیا تو اس وقت یہاں نصرانیوں کی حکومت تھی جنھوں نے مقابلے کی تاب نہ لا کر ١٦ ھ میں صلح کے ذریعے سے شہر کی چابیاں امیر المومنین عمر بن خطاب (رض) کے حوالے کردیں۔ قدس سے نکلنے کے بعد تقریباً دو ہزار سال تک یہودی بیت المقدس سے بےدخل رہے۔ مگر جب مسلمانوں نے اللہ کے احکام سے بغاوت اختیار کی، شرک و بدعت، فرقہ پرستی، عیش و عشرت، زنا، شراب، موسیقی، کفار سے دوستی اور ان کی تقلید اختیار کرلی، اپنے ہی دستور و قانون بنا کر کتاب و سنت پر عمل ترک کردیا۔ دنیا کی محبت میں جہاد چھوڑ بیٹھے تو ان کی بدعملیوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمن یہودیوں کو دوسرے کفار کی مدد (بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰه) کے ساتھ پھر ١٩٦٧ ء میں بیت المقدس پر قبضے کا موقع دے دیا، مگر یہ سمجھ لینا کہ اب یہ یہودیوں کے قبضے ہی میں رہے گا درست نہیں، مسلمان اپنے دین کی طرف پلٹیں گے، بلکہ پلٹنا شروع ہوچکے ہیں اور مسلمانوں اور یہودیوں کی جنگ ہوگی، اس میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی نصرت عطا ہوگی جس کا ذکر اس حدیث میں ہے جو ابوہریرہ (رض) نے روایت کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُقَاتِلَ الْمُسْلِمُوْنَ الْیَھُوْدَ ، فَیَقْتُلُھُمُ الْمُسْلِمُوْنَ ، حَتّٰی یَخْتَبِئَ الْیَھُوْدِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ أَوِ الشَّجَرِ ، فَیَقُوْلُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ یَا مُسْلِمُ ! یَا عَبْدَ اللّٰہِ ! ھٰذَا یَھُوْدِیٌّ خَلْفِيْ ، فَتَعَالَ فَاقْتُلْہُ ، إِلَّا الْغَرْقَدَ ، فَإِنَّہُ مِنْ شَجَرِ الْیَھُوْدِ ) [ مسلم، الفتن، باب لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل۔۔ : ٢٩٢٢ ] ” قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہود سے جنگ کریں گے اور مسلمان انھیں قتل کریں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپے گا تو پتھر یا درخت کہے گا : ” اے مسلم ! اے اللہ کے بندے ! یہ یہودی میرے پیچھے ہے تو اسے قتل کر دے۔ “ سوائے ” غرقد “ نامی درخت کے، کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا ۭ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا ۝ حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب : مستحسن من جهة العقل . ومستحسن من جهة الهوى. ومستحسن من جهة الحسّ. والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ( ح س ن ) الحسن ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ( 1) وہ چیز جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو ۔ ( 2) وہ جو خواہش نفسانی کی رو سے پسندیدہ ہو ۔ ( 3) صرف نگاہ میں بھی معلوم ہو ۔ الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ سَّيِّئَةُ : الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] سَّيِّئَةُ : اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :، ، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] جو برے کام کرے وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معیج چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ تبر التَّبْر : الکسر والإهلاك، يقال : تَبَرَهُ وتَبَّرَهُ. قال تعالی: إِنَّ هؤُلاءِ مُتَبَّرٌ ما هُمْ فِيهِ [ الأعراف/ 139] ، وقال : وَكُلًّا تَبَّرْنا تَتْبِيراً [ الفرقان/ 39] ، وَلِيُتَبِّرُوا ما عَلَوْا تَتْبِيراً [ الإسراء/ 7] ، وقوله تعالی: وَلا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَباراً [ نوح/ 28] ، أي : هلاكا . ( ت ب ر ) التبر ( ض ) کے معنی توڑ دینے اور ہلاک کردینے کے ہیں کہا جاتا ہے ۔ تبرہ وتبرہ اس نے اسے ہلاک کرڈالا ۔ قرآن میں ہے ؛ إِنَّ هؤُلاءِ مُتَبَّرٌ ما هُمْ فِيهِ [ الأعراف/ 139] یہ لوگ جس ( شغل ) میں ( پھنسے ہوئے ) ہیں وہ بربادہونیوالا ہے ۔ وقال : وَكُلًّا تَبَّرْنا تَتْبِيراً [ الفرقان/ 39] اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے تباہ کردیں ۔ وَلا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَباراً [ نوح/ 28] اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی بڑھا ۔ علا العُلْوُ : ضدّ السُّفْل، والعُلْوِيُّ والسُّفْليُّ المنسوب إليهما، والعُلُوُّ : الارتفاعُ ، وقد عَلَا يَعْلُو عُلُوّاً وهو عَالٍ وعَلِيَ يَعْلَى عَلَاءً فهو عَلِيٌّ فَعَلَا بالفتح في الأمكنة والأجسام أكثر . قال تعالی: عالِيَهُمْ ثِيابُ سُندُسٍ [ الإنسان/ 21] . وقیل : إنّ ( عَلَا) يقال في المحمود والمذموم، و ( عَلِيَ ) لا يقال إلّا في المحمود، قال : إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلا فِي الْأَرْضِ [ القصص/ 4] ( ع ل و ) العلو کسی چیز کا بلند ترین حصہ یہ سفل کی ضد ہے ان کی طرف نسبت کے وقت علوی اسفلی کہا جاتا ہے اور العوا بلند ہونا عال صفت فاعلی بلند علی علی مگر علا ( فعل ) کا استعمال زیادہ تر کسی جگہ کے یا جسم کے بلند ہونے پر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ عالِيَهُمْ ثِيابُ سُندُسٍ [ الإنسان/ 21] ان کے بدنوں پر دیبا کے کپڑے ہوں گے ۔ بعض نے علا اور علی میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ علان ( ن ) محمود اور مذموم دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے لیکن علی ( س ) صرف مستحن معنوں میں بولا جاتا ہے : ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلا فِي الْأَرْضِ [ القصص/ 4] فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (وان اساتم فلھا) اور اگر تم نے برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لئے برائی ثابت ہوئی) ایک قول کے مطابق فلھا بمعنی فالیھا ہے جس طرح کہا جاتا ہے ” احسن الی نفسہ اس نے اپنے ساتھ بھلائی کی) یا اساء الی انفسہ (اس نے اپنے ساتھ برائی کی) حرف اضافت جب معنی کے لحاظ سے متقارب ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوجاتے ہیں۔ قول باری ہے (بان ربک اوحی لھا اس لئے کہ تمہارے پروردگار کا حکم اسے یہی ہوگا) معنی کے لحاظ سے (اوحی لھا) اوحی الیھا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧) اگر تم توحید خداوندی پر قائم رہو گے تو اس کا ثواب یعنی جنت اپنے اپنے ہی نفع کے لیے حاصل کرو گے اور اگر تم شرک کرو گے تو اس کی سزا تم ہی کو بھگتنی پڑے گی۔ چناچہ تطوس کے غلبہ سے پہلے بنی اسرائیل دو سو بیس سال تک خوب خوشیوں اور نعمتوں اور مردوں کی زیادتی اور دشمنوں پر غلبہ میں مست رہے پھر جب ان دو بار میں سے دوسری سزا یا دوسرے فساد کی میعاد آئے گی تو ہم تم پر تطوس بن اسیانوس رومی کو مسلط کریں گے تاکہ وہ تمہیں مار مار کر اور قید کرکے تمہاری صورتیں بگاڑدے جس طرح بخت نصر لوٹ مار کے ساتھ بیت المقدس میں گھسا تو اسی یہ لوگ بھی گھس پڑیں گے اور جس چیز پر ان کا زور چلے گا سب کو ہلاک وبرباد کر ڈالیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧ (اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا ) تمہارے نیک اعمال کا فائدہ بھی تمہیں ہوا اور تمہاری برائیوں اور نافرمانیوں کا وبال دنیا میں بھی تم پر آیا اور اس کا وبال آخرت میں بھی تم پر پڑے گا۔ (فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ ) جب دوبارہ تم نے اللہ کے دین سے سرکشی اختیار کی تمہارے اعتقادات نظریات اور اخلاق پھر سے مسخ ہوگئے تو وعدے کے عین مطابق تم پر عذاب کے دوسرے مرحلے کا وقت آپہنچا۔ (لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ ) اس سلسلے میں آیت ٥ میں یہ الفاظ آئے تھے : (بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ ) کہ ہم نے تم پر اپنے بندے مسلط کردیے جو سخت جنگجو تھے۔ اس فقرے کا مفہوم یہاں بھی پایا جاتا ہے لیکن یہاں دوبارہ اسے دہرایا نہیں گیا۔ چناچہ اس فقرے کو یہاں مخدوف سمجھا جائے گا اور آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ ہم نے پھر تم پر اپنے سخت جنگجو بندے مسلط کیے تاکہ وہ تمہارے حلیے بگاڑ دیں۔ (وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ ) یہاں اشارہ ہے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کی بار دگر بےحرمتی کی طرف۔ جیسے 587 قبل مسیح میں بخت نصر نے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کو مسمار کیا تھا ویسے ہی رومی جرنیل ٹائیٹس نے 70 ء میں ایک دفعہ پھر ان کے تقدس کو پامال کیا ۔ (وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا) ان آیات میں بنی اسرائیل کی دو ہزار سالہ تاریخ کے نشیب و فراز کی تفصیلات کو سمو دیا گیا ہے۔ اس عرصے میں انہوں نے دو مرتبہ عروج دیکھا اور دو دفعہ ہی زوال سے دو چار ہوئے۔ نبی آخر الزماں کی بعثت کے زمانے میں ان آیات کے نزول کے وقت ان کے دوسرے دور زوال کو شروع ہوئے پانچ سو برس ہونے کو آئے تھے۔ اس سیاق وسباق میں انہیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9. The historical background of the second degeneration and its chastisement is as follows: The moral and religious fervor with which the Maccabees had started their movement gradually cooled down and was replaced by love of the world and empty external form. A split appeared among them and they themselves invited the Roman General, Pompey, to come to Palestine. Pompey turned his attention to this land in 63 B.C. By taking Jerusalem he put an end to the political freedom of the Jews. But the Roman conquerors preferred to rule their dominions through the agency of the local chiefs rather than by direct control. Therefore, a local government was set up in Palestine which eventually passed into the hand of Herod, a clever Jew, in 40 B.C. This ruler is well known as Herod the Great. He ruled over the entire Palestine and Jordan from 40 to 4 B.C. On the one hand, Herod patronized the religious leaders to please the Jews, and on the other, he propagated the Roman culture and won the goodwill of Caesar by showing his loyalty and faithfulness to the Roman Empire. During, his reign, the Jews degenerated and fell to the lowest ebb of moral and religious life. On the death of Herod his kingdom was subdivided into three parts. His son, Archelaus, became the ruler of Samaria, Judea and northern Edom. In A.D. 6, however, Caesar Augustus deprived him of his authority and put the state under his Roman governor, and this arrangement continued up till A.D. 41. This was precisely the time when Prophet Jesus (peace be upon him) appeared to reform the Israelites whose religious leaders opposed him tooth and nail and even tried to get him the death sentence by the Roman governor, Pontius Pilate. The second son of Herod, Herod Antipas, became the ruler of Galilee and Jordan in northern Palestine, and he was the person who got Prophet Yahya (John) (Peace be upon him) beheaded at the request and desire of a dancing girl. Herod’s third son, Philip, succeeded to the territories bounded on one side by river Yermuk and on the other by Mount Hermon. Philip had been much more deeply influenced by the Roman and Greek cultures than his father and brothers. Therefore the preaching of the truth could not have even so much effect in his land as it had in the other parts of Palestine. In A.D. 41, the Romans appointed Herod Agrippa, the grandson of Herod the Great, ruler of the territories that had once been under Herod himself. Coming into power this man did whatever he could to persecute the followers of Prophet Jesus (peace be upon him) and used all the forces at his disposal to crush the movement that was functioning under the guidance of the disciples to inculcate fear of God in the people and reform their morals. In order to have a correct estimate of the condition of the common Jews and their religious leaders, one should study the criticisms leveled by Prophet Jesus (peace be upon him) on them in his sermons contained in the four Gospels. Even a religious man like Prophet John (peace be upon him) was beheaded before their eyes and not a voice was raised in protest against this barbarity. Then all the religious leaders of the community unanimously demanded death sentence for Prophet Jesus (peace be upon him), and none but a few righteous men were there to mourn this depravity. Above all, when Pontius Pilate asked these depraved people, which condemned prisoner he should release, according to the custom, at Passover, Jesus or Barabbas the robber, they all cried with one voice Barabbas. This was indeed the last chance Allah gave to the Jews, and then their fate was sealed. Not long after this, a serious conflict started between the Jews and the Romans, which developed into an open revolt by the former between A.D. 64 and 66. Both Herod Agrippa II and the Roman procurator Floris failed to put down the rebellion. At last, the Romans crushed it by a strong military action and in A.D. 70 Titus took Jerusalem by force. About 133000 people were put to the sword. Sixty seven thousand made slaves, and thousands sent to work in the Egyptian mines and to other cities so that they could be used in amphitheaters for being torn by wild beasts or become the practice target for the sword fighters. All the tall and beautiful girls were picked out for the army of conquest and the Holy City of Jerusalem and the Temple were pulled down to the ground. After this the Jewish influence so disappeared from Palestine that the Jews could not regain power for two thousand years and the Holy Temple could never be rebuilt. Afterwards the Roman Emperor, Hadrian, restored Jerusalem but renamed it Aelia. The Jews, however, were not allowed to enter it for centuries. This was the calamity that the Jews suffered on account of their degeneration for the second time.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :9 اس دوسرے فساد اور اس کی سزا کا تاریخی پس منظر یہ ہے: مکابیوں کی تحریک جس اخلاقی و دینی روح کے ساتھ اٹھی تھی وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بے روح ظاہر داری نے لے لی ۔ آخرکار ان کے درمیان پھوٹ پڑ گئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپی کو فلسطین آنے کی دعوت دی ۔ چنانچہ پومپی سن ٦۳ ق م میں اس ملک کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کر دیا ۔ لیکن رومی فاتحین کی یہ مستقل پالیسی تھی کہ وہ مفتوح علاقوں پر براہ راست اپنا نظم و نسق قائم کرنے کی بہ نسبت مقامی حکمرانوں کے ذریعے سے بالواسطہ اپنا کام نکلوانا زیادہ پسند کرتے تھے ۔ اس لیے انہوں نے فلسطین میں اپنے زیر سایہ ایک دیسی ریاست قائم کر دی جو بالآخر سن ٤۰ ق م میں ایک ہوشیار یہودی ہیرود نامی کے قبضے میں آئی ۔ یہ ہیرود اعظم کے نام سے مشہور ہے ۔ اس کی فرماں روائی پورے فلسطین اور شرق اردن پر سن ٤۰ سے ٤ قبل مسیح تک رہی ۔ اس نے ایک طرف مذہبی پیشواؤں کی سر پرستی کر کے یہودیوں کو خوش رکھا ، اور دوسری طرف رومی تہذیب کو فروغ دے کر اور رومی سلطنت کی وفاداری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کر کے قیصر کی بھی خوشنودی حاصل کی ۔ اس زمانے میں یہودیوں کی دینی و اخلاقی حالت گرتے گرتے زوال کی آخری حد کو پہنچ چکی تھی ۔ ہیرود کے بعد اس کی ریاست تین حصوں میں تقسیم ہو گئی ۔ اس کا ایک بیٹا ارخلاؤس سامریہ یہودیہ اور شمالی ادومیہ کا فرماں روا ہوا ، مگر سن ٦ عیسوی میں قیصر آگسٹس نے اس کو معزول کر کے اس کی پوری ریاست اپنے گورنر کے ماتحت کرید اور ٤١ عیسوی تک یہی انتظام قائم رہا ۔ یہی زمانہ تھا جب حضرت مسیح علیہ السلام بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے اٹھے اور یہودیوں کے تمام مذہبی پیشواؤں نے ملکر ان کی مخالفت کی اور رومی گورنر پونتس پیلاطس سے ان کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کی ۔ ہیرود کا دوسرا بیٹا ہیرود اینٹی پاس شمالی فلسطین کے علاقہ گلیل اور شرق اردن کا مالک ہوا اور یہ وہ شخص ہے جس نے ایک رقاصہ کی فرمائش پر حضرت یحیی علیہ السلام کا سر قلم کر کے اس کی نذر کیا ۔ اس کا تیسرا بیٹا فلپ ، کوہ حرمون سے دریائے یرموک تک کے علاقے کا مالک ہوا اور یہ اپنے باپ اور بھائیوں سے بھی بڑھ کر رومی و یونانی تہذیب میں غرق تھا ۔ اس کے علاقے میں کسی کلمہ خیر کے پننپے کی اتنی گنجائش بھی نہ تھی جتنی فلسطین کے دوسرے علاقوں میں تھی ۔ سن ٤١ میں ہیرود اعظم کے پوتے ہیرود اَگرپا کو رومیوں نے ان تمام علاقوں کا فرمانروا بنا دیا جن پر ہیرود اعظم اپنے زمانے میں حکمران تھا ۔ اس شخص نے برسراقتدار آنے کے بعد مسیح علیہ السلام کے پیروؤں پر مظالم کی انتہاء کر دی اور اپنا پورا زور خدا ترسی و اصلاح و اخلاق کی اس تحریک کو کچلنے میں صرف کر ڈالا جو حواریوں کی رہنمائی میں چل رہی تھی ۔ اس دور میں عام یہودیوں اور ان کے مذہبی پیشواؤں کی جو حالت تھی اس کا صحیح اندازہ کرنے کے لیے ان تنقیدوں کا مطالعہ کرنا چاہیے جو مسیح علیہ السلام نے اپنے خطبوں میں ان پر کی ہیں ۔ یہ سب خطبے اناجیل اربعہ میں موجود ہیں ۔ پھر اس کا اندازہ کر نے کے لیے یہ امر کافی ہے کہ اس قوم کی آنکھوں کے سامنے یحییٰ علیہ السلام جیسے پاکیزہ انسان کا سر قلم کیا گیا مگر ایک آواز بھی اس ظلم عظیم کے خلاف نہ اٹھی ۔ اور پوری قوم کے مذہبی پیشواؤں نے مسیح علیہ السلام کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا مگر تھوڑے سے راستباز انسانوں کے سوا کوئی نہ تھا جو اس بد بختی پر ماتم کرتا ۔ حد یہ ہے کہ جب پونتس پیلاطس نے ان شامت زدہ لوگوں سے پوچھا کہ آج تمہاری عید کا دن ہے اور قاعدے کے مطابق میں سزائے موت کے مستحق مجرموں میں سے ایک کو چھوڑ دینے کا مجاز ہوں ، بتاؤ یسوع کو چھوڑوں یا برابّاڈاکو کو؟ تو ان کے پورے مجمع نے بیک آواز ہو کر کہا کہ برابّا کو چھوڑ دے ۔ یہ گویا اللہ تعالی کی طرف سے آخری حجت تھی جو اس قوم پر قائم کی گئی ۔ اس پر تھوڑا زمانہ ہی گزرا تھا کہ یہودیوں اور رومیوں کے درمیان سخت کشمکش شروع ہو گئی اور ٦٤ اور ٦٦ء کے درمیان یہودیوں نے کھلی بغاوت کر دی ۔ ہیرود اگر پاثانی اور رومی پر وکیوریٹر فلورس ، دونوں اس بغاوت کو فرد کرنے میں ناکام ہوئے ۔ آخرکار رومی سلطنت نے ایک سخت فوجی کارروائی سے اس بغاوت کو کچل ڈالا اور۷۰ میں ٹیٹس نے بزور شمشیر یروشلم کو فتح کر لیا ۔ اس موقع پر قتل عام میں ایک لاکھ ۳۳ ہزار آدمی مارے گئے ، ٦۷ ہزار آدمی گرفتار کر کے غلام بنائے گئے ہزارہا آدمی پکڑ پکڑ کر مصری کانوں میں کام کرنے کے لیے بھیج دیے گئے ، ہزاروں آدمیوں کو پکڑ کر مختلف شہروں میں بھیجا گیا تا کہ ایمفی تھیڑوں اور کلوسمیوں میں ان کو جنگلی جانوروں سے پھڑوانے یا شمشیرزنوں کے کھیل کا تختہ مشق بننے کے لیے استعمال کیا جائے ۔ تمام دراز قامت اور حسین لڑکیاں فاتحین کے لیے چن لی گئیں ، اور یروشلم کے شہر اور ہیکل کو مسمار کر کے پیوند خاک کر دیا گیا ۔ اس کے بعد فلسطین سے یہودی اثرواقتدار ایسا مٹا کہ دو ہزار برس تک اس کو پھر سر اٹھانے کا موقع نہ ملا ، اور یروشلم کا ہیکل مقدس پھر کبھی تعمیر نہ ہو سکا ۔ بعد میں قیصر ہیڈریان نے اس شہر کو دوبارہ آباد کیا ، مگر اب اس کا نام ایلیا تھا اور اس میں مدتہائے دراز تک یہودیوں کو داخل ہونے کی اجازت نہ تھی ۔ یہ تھی وہ سزا جو بنی اسرائیل کو دوسرے فساد عظیم کی پاداش میں ملی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

5: بعض حضرات نے تو کہا ہے کہ اس دوسرے دُشمن سے مراد انتیو کس ایپی فانیوس ہے جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے کچھ پہلے دوبارہ بیت المقدس پر حملہ کرکے یہودیوں کا قتلِ عام کیا تھا۔ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی کے بعد روم کے شاہ طیطوس کا حملہ ہے۔ اگرچہ بنی اسرائیل پر مختلف زمانوں میں بہت سے دُشمن مسلط ہوتے رہے ہیں، لیکن ان دو دُشمنوں کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے خاص طور پر اس لئے فرمایا ہے کہ ان کے حملوں میں اُنہیں سب سے زیادہ نقصان اُٹھانا پڑا، اور ان میں سے پہلا دُشمن یعنی بختِ نصر اُن پر اُس وقت مسلط کیا گیا جب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی خلاف ورزی کی، اور دوسرا دُشمن اس وقت مسلط کیا گیا جب انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت کی۔ اور آگے یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر تم حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی مخالفت کروگے تو تمہارے ساتھ ویسا ہی سلوک دوبارہ کیا جائے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:7 ) اساتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم برائی کرو گے۔ یا تم نے برائی کی۔ تم نے برا کیا۔ اساء ۃ سے مادہ سوئ۔ فلھا۔ میں لام بمعنی علی ہے جیسا کہ وعلیھا ما اکتسبت۔ (2:286) اور جو (بد عمل) اس نے اپنے ارادہ واختیار سے کئے (اس کا برا نیتجہ عذاب وسزا کی صورت میں بھی) اسی پر ہوگا۔ یا یہ لام استحقاق کے لئے جیسا کہ ارشاد حق تعالیٰ ہے لہم عذاب عظیم (9:61) (اور جو دکھ پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول کو) ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ یا یہ لام اختصاص کے لئے ہے کہ اچھے اور برے کام کی جزا وسزا اس کے کرنے والے کے لئے مختص ہے یعنی وہی بھگتے گا۔ وعد الاخرۃ۔ دوسرا وعدہ۔ یعنی تمہاری دوسری دفعہ کی ظلم وتعدی و سرکشی و نافرمانی کے نتیجہ میں سرزنش و عذاب دینے کا وقت یا عذاب دینے کی نوبت۔ لیسوء ۔۔ الخ۔ تقدیر کلام ہے فاذا جاء وعد الاخرۃ بعثنا علیکم عبادا لنا اولی باس شدید لیسوئ۔۔ الخ۔ یعنی اور جب دوسرا وعدہ آگیا تو ہم نے اپنے طاقت ور۔ جنگ جو سخت بندے تمہارے خلاف بھیجے۔ تاکہ غمناک بنادیں یا بگاڑ دیں تمہارے چہروں کو۔۔ الخ مفسرین کے نادیک اس کا اشارہ 70 عیسوی میں رومی شہنشاہ طیطائوس (Titus) کے ہاتھوں ارض شام وبیت المقدس کے تاخت و تاراج کی طرف ہے۔ لیسوئ۔ میں لام تعلیل کی ہے۔ یسوئٗ مضارع جمع مذکر غائب سوء مصدر (باب نصر) تاکہ وہ بگاڑ دیں۔ اور جگہ ارشاد ربانی ہے فلما راوہ زلفۃ سیئت وجوہ الذین کفروا (67:27) پھر جب وہ اس (قیامت ) کو پاس آتا دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے۔ اور یہاں چہروں کو بگاڑنے سے مراد ہے کہ ان کی مالی۔ ملکی۔ اخلاقی۔ دنیوی۔ دینی حالت کو تہس نہس کر کے بالکل مسخ کردینا۔ ساء یسوء سوء (باب نصر) افعال ذم سے ہے۔ لیتبروا۔ لام برائے تعلیل، یتبروامضارع جمع مذکر غائب باب تفعیل۔ تبر یتبر تتبیرا۔ تاکہ تباہ و برباد کردیں۔ تبر ہلاک کرنا۔ لیسوئ۔ لیدخلوا۔ لیتبروا ان تینوں افعال میں لام برائے تعلیل ہے۔ ما علوا۔ اس میں ما موصولہ ہے علوا ماضی جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ علو سے۔ وہ غالب آئے۔ ما علوا جس پر وہ قابو پائیں۔ یہ مفعول ہے لیتبروا کا۔ لیتبروا ما علوا تتبیرا۔ تا کہ وہ جس پر قابو پائیں اس کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 جب بخت نصر قتل ہوا یا حضرت دائود نے جالوت کو قتل کی۔ (شوکانی) فوائد صفحہ ہذا 1 ان سے مراد رومی ہیں جنہوں نے بیت المقدس کو ویران کیا اور ہزاروں یہودیوں کو قتل اور قید کیا اور جو رہ گئے قیصر روم کی رعت بن کر رہے۔ (وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان احسسنتم احسنتھم لانفسکم وان اساتھم فلھا (٧١ : ٧) ” دیکھو تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے یہ لئے بھلائی تھی اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لئے ہی برائی ثابت ہوئی “۔ مکافات عمل کا یہ تو وہ اساسی قاعدہ ہے جو دنیا و آخرت میں یکساں لاگو ہے۔ یہ کہ انسان اپنے اعمال کا خود حقدار و ذمہ دار ہے۔ اس کے تمام پھل اور نتائج اس کے لئے ہیں۔ عمل اور جزائے عمل لازم و ملزوم ہیں۔ نتیجہ عمل سے پیدا ہوتا ہے ، اس لئے انسان ایک مسئول اور ذمہ دار ہستی ہے ، اگر چاہے تو اپنے ساتھ اچھا کرے یا برا کرے ، اگر اسے اچھے عمل یا برے عمل کا ثمرہ ملے تو اسے گلہ نہیں کرنا چاہیے۔ مکافات عمل کا یہ قاعدہ بیان کرنے کے بعد اب دوبارہ روئے سخن اس پیشن گوئی کہ طرف مڑ جاتا ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا۔ فاذا جاء وعد الاخرۃ لیسوئوا وجوھکم ولیدخلوا المسجد کما دخلوہ اول مرۃ ولیتبر واماعلوا تتبیرا (٧١ : ٧) ” پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کرکے رکھ دیں “۔ یہاں سیاق کلام میں بنی اسرائیل کے دوسرے فساد کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ کیونکہ پہلے یہ کہ دیا گیا تھا کہ لتفسدن فی الارض مرتین ” تم دو بار زمین میں فساد برپا کرو گے “۔ اور دوسری بار ان پر جیسے لوگوں کو مسلط کیا گیا اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے دوسری بار بھی بگاڑ کی راہ اختیار کی تھی۔ فاذا جاء وعد الاخرۃ لیسوئوا (٧١ : ٧) ” پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں “۔ یعنی انہوں نے ان سے اس قدر انتقام لیا کہ ان کی شخصیت اس کے اثرات سے بدل گئی۔ یہاں تک کہ یہ ذلت و نکبت ان کے چہروں پر ظاہر ہوگئی۔ انہوں نے تمام مقدسات کی بےحرمتی کی اور ہر چیز کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ ولید خلوا السجد کما دخلوہ اول مرۃ (٧١ : ٧) ” وہ بھی اسی طرح مسجد میں داخل ہوئے جس طرح پہلے دشمن داخل ہوئے تھے “۔ جس جس چیز پر ان کا غلبہ ہوتا تھا ، اسے تاخت و تاراج کرتے اور ہر چیز کو تباہ کرتے جاتے۔ ولیتبروا ما علوا تتبرا (٧١ : ٧) ” تاکہ جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے تباہ کردیں “۔ یعنی انہوں نے بیت المقدس کو پوری طرح تباہ کردیا اور ان لوگوں کو ملک بدر کرکے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ چناچہ یہ پیشن گوئی سچی ثابت ہوئی۔ اللہ کا وعدہ پورا ہوا اور بنی اسرائیل پر ایسے ہی لوگ مسلط ہوگئے۔ پھر دوبارہ ان پر دشمن مسلط کیے گئے اور انہوں نے ان کو ملک بدر کرکے ملک کو تباہ کیا۔ قرآن کریم نے اس بات کی تصریح نہیں کی کہ یہ لوگ کون تھے کیونکہ بنی اسرائیل کی دوبارہ کی تباہی کے بیان سے جو مقصد تھا وہ اسی قدر بیان سے پورا ہوگیا۔ اگر بتا دیا جاتا کہ فلاں فلاں اقوام کو ان پر مسلط کیا گیا تو اس سے کسی مفہوم میں اضافہ نہیں ہوجاتا۔ یہاں مقصد اس سنت الٰہی کا بیان تھا جس کا تعلق اقوام کے عروج وزوال سے ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ ایسی تباہیاں کیوں لاتا ہے ؟ تو بتایا جاتا ہے کہ بعض اوقات کسی قوم کی تباہی ہی اس کے لئے باعث رحمت ہوتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) میں بتایا کہ جو لوگ دو مرتبہ یہودیوں کو قتل کردیں گے دونوں مرتبہ مسجد بیت المقدس میں داخل ہوں گے (چنانچہ ایسا ہی ہوا) (وَلِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا) اس میں یہ بتایا ہے کہ وہ دوسری بار بھی بنی اسرائیل کی قوت و طاقت اور حکومت کو برباد کرکے چھوڑیں گے۔ (اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَھَا) اور (وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا) میں یہ بتادیا کہ اچھے کام کرو گے تو اس کا اچھا پھل ملے گا اور سزا ملنے کے بعد پھر برے کاموں میں لگو گے تو پھر عذاب کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ صاحب بیان القرآن نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل پر جو پہلی بار تباہی آئی وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کی مخالفت کی وجہ سے تھی اور دوسری بار حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی وجہ سے تھی پھر جب خاتم النّبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت ہوئی تو یہودیوں نے آپ کی مخالفت کی آپ کی نبوت و رسالت کا انکار کیا لہٰذا جلاوطن ہوئے اور ذلیل و خوار ہوئے، مسلمانوں کے لیے بنی اسرائیل اور دیگر اقوام ماضیہ کے احوال سراپا عبرت ہیں گزشتہ قوموں نے مدعی اسلام ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کیں ان پر عذاب آئے اور دشمنوں نے بھی حملے کیے اور تباہ و برباد کیا، امت محمدیہ بھی تکوینی قوانین سے مستثنیٰ نہیں ہے ان کے ملک بھی چھینے جاتے رہے ہیں اور دشمنوں کے ہاتھوں تباہی آتی رہی ہے اسپین کا واقعہ تو سب کو معلوم ہی ہے بغداد کی تباہی بھی تاریخ میں مذکور ہے کئی سو سال کی حکومت جو ہندوستان میں قائم تھی اس کا بھی علم ہے، دوسرے براعظم کی کافر قوم یعنی فرنگیوں نے آکر ہندوستان پر قبضہ کرلیا، لال قلعہ اور دہلی میں کیا ہوا بادشاہ کا کیا حال بنا جاننے والے اس کو جانتے ہیں، بادشاہ کو گرفتار کیا گیا اور رنگون میں لے جا کر بند کردیا گیا پھر وہیں اس کی موت ہوئی سب باتیں جانتے ہوئے مسلمان اب بھی ہوش میں نہیں، گناہوں میں اور رنگ رلیوں میں اوقات گزارتے ہیں، اصحاب اقتدار دشمنوں کے سایوں میں جیتے ہیں نہ دین قائم کرتے ہیں نہ دین قائم ہونے دیتے ہیں۔ ھدی اللّٰہ تعالیٰ جمیع المسلمین

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ دوسری بار جب بنی اسرائیل نے شر و فساد بپا کیا، حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کو قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فردوس شاہ بابل کو ان پر مسلط کردیا جس نے لشکر بھیج کر بخت نصر کی طرح بنی اسرائیل میں خون خرابہ کیا (قرطبی) ۔ ” لیسواء “ مقدر کے متعلق ہے ” ای بعثنا علیکم عبادا لنا لیسواءا لخ “۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

7 اگر تم نے اچھے کام اور نیک کام کئے تو اپنے ہی بھلے کے لئے اور ان اعمال کا فائدہ تم ہی کو پہنچے گا اور اگر تم نے برے کام کئیتو بھی اپنے ہی لئے کرو گے اور دین و دنیا میں ان اعمال کی سزا بھگتو گے پھر جب دوسری بار کا وقت آیا یعنی بنی اسرائیل نے مکرر فساد کیا اور شریعت موسوی کی مخالفت کی تو ہم نے دوسرے بندوں کو تم پر غلبہ دے دیا اور تم پر مسلط کردیا تاکہ وہ تم کو مار مار کر تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی مرتبہ کے حملہ آور لوگ مسجد میں گھس گئے تھے اسی طرح یہ پچھلے بھی مسجد یعنی بیت المقدس میں گھس جائیں نیز اس لئے کہ جس چیز پر یہ حملہ آور قابو پالیں اس کو بالکل برباد کر ڈالیں اور تہیس نہیس کردیں۔ یعنی تم نے دوبارہ شرارت کی تو اب کی دفعہ دوسرے لوگوں نے تم کو اسی طرح لوٹا اور مارا اور تمہاری مسجد کی بےحرمتی کی جس طرح پہلے بندوں نے لوٹا اور مارا تھا اور قتل و غارت گری کی تھی اور بیت المقدس کی توہین کا ارتکاب کیا تھا اور جس طرح پہلوں نے شہروں میں پھیل کر اور گھروں میں گھس کر ہر قابو یافتہ چیز کو تباہ اور برباد کر ڈالا تھا۔ اسی طرح ان دوسرے چڑھائی کرنے والوں نے بھی کیا کہتے ہیں کہ یہ دوسرا حملہ آور طیطس رومی تھا۔ (واللہ اعلم)