Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 70

سورة بنی اسراءیل

وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا ﴿٪۷۰﴾  7

And We have certainly honored the children of Adam and carried them on the land and sea and provided for them of the good things and preferred them over much of what We have created, with [definite] preference.

یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Honor and noble Nature of Man Allah tells; وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي ادَمَ ... And indeed We have honored the Children of Adam, Allah tells us how He has honored the sons of Adam and made them noble by creating them in the best and most perfect of forms, as He says: لَقَدْ خَلَقْنَا الاِنسَـنَ فِى أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ Verily, We created man in the best stature (mould). (95:4) He walks upright on his two feet and eats with his hand, while other living creatures walk on four feet and eat with their mouths, and He has given him hearing, sight and a heart with which to understand all of that, to benefit from it, and distinguish between things to know which are good for him and which are harmful, in both worldly and religious terms. ... وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ... and We have carried them on land and sea, means, on animals such as cattle, horses and mules, and also on the sea in ships and boats, great and small. ... وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ... and have provided them with At-Tayyibat, meaning agricultural produce, fruits, meat, and milk with all kinds of delicious and desirable flavors and colors and beautiful appearance, and fine clothes of all kinds of shapes colors and sizes, which they make for themselves or are brought to them by others from other regions and areas. ... وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلً and have preferred them above many of those whom We have created with a marked preferment. means, over all living beings and other kinds of creation. This Ayah indicates that human are also preferred over the angels.

انسان پر اللہ کے انعامات سب سے اچھی پیدائش انسان کی ہے جیسے فرمان ہے آیت ( لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ Ć۝ۡ ) 95- التين:4 ) ہم نے انسان کو بہترین مسافت پر پیدا کیا ہے ۔ وہ اپنے پیروں پر سیدھا کھڑا ہو کر صحیح چال چلتا ہے ، اپنے ہاتھوں سے تمیز کے ساتھ اپنی غذا کھاتا ہے اور حیوانات ہاتھ پاؤں سے چلتے ہیں منہ سے چارہ چگتے ہیں ۔ پھر اسے سمجھ بوجھ دی ہے جس سے نفع نقصان بھلائی برائی سوچتا ہے ۔ دینی دنیوی فائدہ معلوم کر لیتا ہے ۔ اس کی سواری کے لئے خشکی میں جانور چوپائے گھوڑے خچر اونٹ وغیرہ ۔ اور تری کے سفر کے لئے اسے کشتیاں بنانی سکھا دیں ۔ اسے بہترین ، خوشگوار اور خوش ذائقہ کھانے پینے کی چیزیں دیں ۔ کھیتیاں ہیں ، پھل ہیں ، گوشت ہیں ، دودھ ہیں اور بہترین بہت سی ذائقے دار لذیذ مزیدار چیزیں ۔ پھر عمدہ مکانات رہنے کو ، اچھے خوشنما لباس پہننے کو ، قسم قسم کے ، رنگ برنگ کے ، یہاں کی چیزیں یہاں لے جانے لے آنے کے اسباب اس کے لئے مہیا کر دئے اور مخلوق میں سے عموما ہر ایک پر اسے برتری بخشی ۔ اس آیت کریمہ سے امر پر استدلال کیا گیا ہے کہ انسان فرشتوں سے افضل ہے ۔ حضرت زید بن اسلم کہتے ہیں کہ فرشتوں نے کہا اے اللہ تو نے اولاد آدم کو دنیا دے رکھی ہے کہ وہ کھاتے پیتے ہیں اور موج مزے کر رہے ہیں تو تو اس کے بدلے ہمیں آخرت میں ہی عطا فرما کیونکہ ہم اس دنیا سے محروم ہیں ۔ اس کے جواب میں اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم اس کی نیک اولاد کو جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اس کے برابر میں ہرگز نہ کروں گا جسے میں نے کلمہ کن سے پیدا کیا ہے ۔ یہ روایت مرسل ہے ۔ لیکن اور سند سے متصل بھی مروی ہے ابن عساکر میں ہے کہ فرشتوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہمیں بھی تونے پیدا کیا اور بنو آدم کا خالق بھی تو ہی ہے انہیں تو کھانا پینا دے رہا ، کپڑے لتے وہ پہنتے ہیں ، نکاح شادیاں وہ کرتے ہیں ، سورایاں ان کے لے ہیں ، راحت و آرام انہیں حاصل ہے ، ان میں سے کسی چیز کے حصے دار ہم نہیں ۔ خیر یہ اگر دنیا میں ان کے لئے ہے تو یہ چیزیں آخرت میں تو ہمارے لئے کر دے ۔ اس کے جواب میں جناب باری تعالیٰ نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اور اپنی روح جس میں میں نے پھونکی ہے اس میں اس جیسا نہ کروں گا جسے میں نے کہہ دیا کہ ہو جاؤ وہ ہو گیا ۔ طبرانی میں ہے قیامت کے دن ابن آدم سے زیادہ بزرگ اللہ کے ہاں کوئی نہ ہو گا ۔ پوچھا گیا کہ فرشتے بھی نہیں ؟ فرمایا فرشتے بھی نہیں وہ تو مجبور ہیں جیسے سورج چاند ۔ یہ روایت بہت ہی غریب ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

70۔ ا یہ شرف اور فعل، بحیثیت انسان کے، ہر انسان کو حاصل ہے چاہے مومن ہو یا کافر۔ کیونکہ یہ شرف دوسری مخلوقات، حیوانات، جمادات و نباتات وغیرہ کے مقابلے میں ہے۔ اور یہ شرف متعدد اعتبار سے ہے جس طرح کی شکل و صورت، قدو قامت اور ہیئت اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہے، وہ کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں، جو عقل انسان کو دی گئی ہے، جس کے ذریعے سے اس نے اپنے آرام و راحت کے لئے بیشمار چیزیں ایجاد کیں۔ حیوانات وغیرہ اس سے محروم ہیں۔ علاوہ ازیں اسی عقل سے صحیح، مفید و مضر اور حسین قبیح کے درمیان تمیز کرنے پر قادر ہے۔ علاوہ ازیں کائنات کی تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت پر لگا رکھا ہے۔ چاند سورج، ہوا، پانی اور دیگر بیشمار چیزیں ہیں جن سے انسان فیض یاب ہو رہا ہے۔ 70۔ 2 خشکی میں گھوڑوں خچروں، گدھوں اونٹوں اور اپنی تیار کردہ سواریوں (ریلیں، گاڑیاں، بسیں، ہوائی جہاز، سائیکل اور موٹر سائیکل وغیرہ) پر سوار ہوتا ہے اور اسی طرح سمندر میں کشتیاں اور جہاز ہیں جن پر وہ سوار ہوتا ہے اور سامان لاتا لے جاتا ہے۔ 70۔ 3 انسان کی خوراک کے لئے جو غلہ جات، میوے اور پھل ہیں سب اسی نے پیدا کئے اور ان میں جو جو لذتیں، ذائقے اور قوتیں رکھیں ہیں۔ انواع اقسام کے کھانے، یہ لذیذ و مرغوب پھل اور یہ قوت بخش اور مفرح مرکبات و مشروبات اور خمیرے اور معجونات، انسان کے علاوہ اور کس مخلوق کو حاصل ہیں ؟ 70۔ 4 مذکورہ تفصیل سے انسان کی، بہت سی مخلوقات پر، فضیلت اور برتری واضح ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٨] انسان اشرف المخلوقات کیسے ہے ؟ انسان کی دوسری تمام مخلوق پر فضیلت اور تکریم یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا جو سیدھا کھڑا ہو کر چلتا ہے پھر جس قدر توازن و اعتدال انسانی جسم میں ہے اور جس قدر اس کے اعضاء جسم کثیر المقاصد ہیں اتنے کسی دوسری کے نہیں۔ مخلوق میں سب سے برتر اللہ کے فرشتے تھے۔ اللہ نے ان سے بھی آدم کو سجدہ کروایا اور اس طرح سب مخلوق پر واضح کردیا کہ انسان ہی اشرف المخلوقات ہے۔ پھر انسان کا بچہ جو باقی تمام جانوروں کے بچوں سے کمزور پیدا ہوتا ہے اسے اتنی عقل عطا کی کہ وہ دنیا جہاں کی چیزوں کو اپنے کام میں لائے۔ بڑے بڑے جسیم اور طاقتور جانوروں کو رام کرکے ان پر سواری کرے۔ دریاؤں اور سمندروں میں کشتیاں اور جہاز چلا کر سمندر کی پیٹھ پر سوار ہو۔ تمام مخلوق کے مقابلہ میں کھانے کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ ، لذیذ سے لذیذ اور صاف ستھرے کھانے اپنی خوراک کے لیے تیار کرے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ لباس اور رہائش کے لیے مکان تعمیر کرے۔ یعنی جتنا اقتدار و اختیار اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کیا ہے اتنا دوسری کسی مخلوق کو عطا نہیں کیا گیا اور یہ سب کچھ یقیناً اللہ ہی کی بخشش اور اس کا کرم ہے پھر اس سے بڑھ کر حماقت اور ضلالت اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان دوسری مخلوقات کے مقابلہ میں ایسے بلند مرتبہ پر فائز ہو کر اللہ کے سوائے اس کی دوسری مخلوق کے سامنے سرجھکانے لگے ؟ یا اپنے ہی جیسے کسی محتاج بندے کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے لگے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو بیشمار نعمتوں کے ساتھ عزت بخشی کہ ان کے جد امجد کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا فرمایا، جب کہ دوسری ساری مخلوق کو کلمۂ ” کُنْ “ سے پیدا فرمایا، پھر انھیں سیدھا قد عطا فرمایا، ہاتھوں سے کھانے کا طریقہ سکھایا، احسن تقویم (بہترین شکل و صورت) میں پیدا کیا، عقل و اختیار سے نوازا، لکھ کر اپنا علم اور تجربہ اگلی نسل کو منتقل کرنا سکھایا، ہر لمحہ نئی سے نئی ایجاد کی لیاقت بخشی۔ زمین کی ہر چیز اور ہر جانور کو اپنے کام میں لانے کا سلیقہ بخشا۔ سمندر میں جہازوں پر، زمین میں سواریوں پر اور فضا میں طیاروں پر (جن کا ذکر سورة نحل : ٥ تا ٨ میں ہے) سوار کیا۔ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ : ” اَلرِّزْقُ مَا یُنْتَفَعُ بِہِ “ (قاموس) رزق کا معنی ہے وہ چیزیں جن سے فائدہ اٹھایا جائے، مثلاً کھانا پینا، میاں بیوی کا تعلق، لباس اور مکان وغیرہ۔ ” الطَّيِّبٰتِ “ ” اَلْحَلَالُ وَالْأَفْضَلُ مِنْ کُلِّ شَيْءٍ “ (قاموس) طیب کا معنی ہے ہر چیز میں سے جو حلال اور سب سے بہتر ہو۔ یعنی ان کے فائدے کی ہر حلال، لذیذ اور بہترین چیز عطا فرمائی۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی فطرت مسخ ہوجائے اور وہ طیب کے بجائے خبیث سے فائدہ اٹھانے لگیں، مثلاً مردار، خنزیر وغیرہ کھانے لگ جائیں، نکاح کے بجائے زنا یا قوم لوط کے عمل کا ارتکاب کرنے لگیں اور اپنے حق کے بجائے دوسروں کا حق استعمال کرنے لگیں، بہرحال اللہ تعالیٰ نے طیبات عطا کرنے میں کمی نہیں فرمائی۔ وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا : اوپر تکریم میں ذکر کردہ اشیاء اور بنی آدم کی اپنے اختیار سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی بہت سی مخلوق پر بہت بڑی برتری عطا فرمائی۔ اپنی بہت سی مخلوق پر برتری عطا فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی ایسی مخلوق بھی ہے جس پر انسان کو برتری عطا نہیں ہوئی۔ بعض نے فرشتوں کو وہ مخلوق قرار دیا، بعض اہل علم نے بعض انسانوں کو بعض فرشتوں سے اور بعض فرشتوں کو بعض انسانوں سے افضل قرار دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ ) [ ترمذی، المناقب، باب سلوا اللہ لي الوسیلۃ : ٣٦١٥ ] ” میں روز قیامت تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔ “ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا علم بہت ہی تھوڑا ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : ٨٥) اس لیے ایسے معاملات میں خاموشی ہی باعث عافیت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی ساری مخلوق کا علم عطا نہیں فرمایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو کیا خبر تھی کہ کوئی خضر بھی ہے اور ہمیں کیا معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کون کون سی ہے، فرمایا : (وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ ) [ المدثر : ٣١ ] ” اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ “ اس لیے بات اپنی حیثیت کے مطابق سوچ سمجھ کر کرنا لازم ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Why are the children of &Adam (علیہ السلام) superior? The last of the verses cited above mentions the superiority of the chil¬dren of &Adam over most of the Divine creation. Here, we have to consider two things: (1) What are the attributes and reasons of this superiority? (2) What is the sense of the statement in the verse: &made them much superior to many of those We created&? (1) The first question can be answered in detail by saying that Allah Ta` ala has blessed the children of &Adam with such multi-dimensional attributes as are not found in many of those He has created. The beauty of form and features, the balance of body, the balance of temperament and the balance of height and built are good examples. These attributes bestowed on human beings are not found in other living forms in that balanced measure. In addition to that, they have been endowed with dis¬tinct reason and intelligence through which they get things done up and down in the universe of their experience. Allah Ta’ ala has given them the built-in capability to compound and manufacture, from out of what has been Divinely created, materials and things which serve them in liv¬ing, moving, eating and wearing in all sorts of ways. No less is their gift of communication, speech, comprehension, under-standing and explanation. This remains unmatched by other living forms. Using signs and symbols to communicate what lies in one&s heart and telling others what one thinks and feels through letters and writings are all manifestations of the signal human distinction. Some scholars have said that eating with the fingers of the hand is also a particular human attribute. Other than man, all animals eat with their mouth. The practice of compounding edibles with different things in order to make these delicious and beneficial is the way of human beings alone. Animals eat things that are single and simple. Some would eat raw meat, others would go by grass or some fruit. However, they all eat sim¬ples. It is man alone who prepares food through compounding all sorts of solids, liquids, spices and herbs (which has, in our day, assumed the stat¬us of the highly publicized art of cuisine). Then, there is the most pro¬nounced superiority of reason and intelligence through which human be¬ings are supposed to recognize their Creator and Master, find out what He likes and dislikes and do what He likes and avoid what He dislikes. Thus, in terms of reason and intelligence, the created have three kinds. Common animals have desires but no reason and intelligence (as we understand it). The angels have reason and intelligence, but do not have desires. Human beings have both. They have reason and intelligence as well as desires. This is the reason why, when he suppresses his desires through reason and intelligence and succeeds in saving himself from indulging in things disliked by Allah Ta’ ala, he reaches a station which is even higher than that of many angels. (2) We can now turn to the sense of the statement that the children of &Adam were made much superior than many of those Allah created. As for the superiority of the children of &Adam over all created forms in the world, higher and lower, and all animals, it cannot be disputed by any-one. Similarly, the Jinn are like human beings in terms of reason and in¬telligence. That human beings are superior to them as well is accepted by all. What remains now is the case of angels. Who is superior, man or angel? What can be authentically said about it is that common righteous believers among human beings, such as the men of Allah, are superior to angels in general. But, special angels, such as Jibra&il and Mika&il and others, are superior to the common righteous believers while special believers, such as the blessed prophets (علیہم السلام) ، are superior even to special angels. As far as disbelievers and sinners among human beings are concerned, they just cannot be compared with angels. In fact, they are not even superior to animals in terms of the real purpose of life, that of seeking success through righteousness. About them, the Holy Qur&an has already given its verdict: أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ (They are like cattle. Rather, they are much more misled - 7:179) (Tafsir Mazhari). Allah knows best.

معارف و مسائل : بنی آدم کی فضیلت اکثر مخلوقات پر کس وجہ سے ہے : آخری آیت میں اولاد آدم کی اکثر مخلوقات پر فوقیت اور افضیلت کا ذکر ہے اس میں دو باتیں قابل غور ہیں اول یہ کہ یہ افضلیت کن صفات اور کن وجوہ کی بناء پر ہے دوسرے یہ کہ اس میں یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے بنی آدم کو مختلف حیثیات سے ایسی خصوصیات عطا فرمائی ہیں جو دوسری مخلوقات میں نہیں مثلا حسن صورت اعتدال جسم اعتدال مزاج اعتدال قد و قامت جو انسان کو عطا ہوا ہے کسی دوسرے حیوان میں نہیں اس کے علاوہ عقل و شعور میں اس کو خاص امتیاز بخشا گیا ہے جس کے ذریعہ وہ تمام کائنات علویہ اور سفلیہ سے اپنے کام نکالتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی قدرت بخشی ہے کہ مخلوقات الہیہ سے ایسے مرکبات اور مصنوعات تیار کرے جو اس کے رہنے سہنے اور نقل و حرکت اور طعام و لباس میں اس کے مختلف کام آئیں۔ نطق و گویائی اور افہام و تفہیم کا جو ملکہ اس کو عطا ہوا ہے وہ کسی دوسرے حیوان میں نہیں اشارات کے ذریعہ اپنے دل کی بات دوسروں کو بتلا دینا تحریر اور خط کے ذریعہ دل کی بات دوسروں تک پہنچانا یہ سب انسان ہی کی امتیازات ہیں بعض علماء نے فرمایا کہ ہاتھ کی انگلیوں سے کھانا بھی انسان ہی کی صفت مخصوصہ ہے اس کے سوا تمام جانور اپنے منہ سے کھاتے ہیں اپنے کھانے کی چیزوں کو مختلف اشیاء سے مرکب کر کے لذیذ اور مفید بنانے کا کام بھی انسان ہی کرتا ہے باقی سب مفردات کھاتے ہیں انسان ہی اپنی غذا کے لئے ان سب چیزوں کے مرکبات تیار کرتا ہے اور سب سے بڑی فضیلت عقل و شعور کی ہے جس سے وہ اپنے خالق اور مالک کو پہچانے اور اس کی مرضی اور نامرضی کو معلوم کر کے مرضیات کا اتباع کرے نامرضیات سے پرہیز کرے اور عقل و شعور کے اعتبار سے مخلوقات کی تقسیم اس طرح ہے کہ عام جانوروں میں شہوات اور خواہشات ہیں عقل و شعور نہیں فرشتوں میں عقل و شعور ہے شہوات و خواہشات نہیں انسان میں یہ دونوں چیزیں جمع ہیں عقل و شعور بھی شہوات و خواہشات بھی ہیں اسی وجہ سے جب وہ شہوات و خواہشات کو عقل و شعور کے ذریعہ مغلوب کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدہ چیزوں سے اپنے آپ کو لیتا ہے تو اس کا مقام بہت سے فرشتوں سے بھی اونچا ہوجاتا ہے۔ دوسری بات کہ اولاد آدم کو اکثر مخلوقات پر فضیلت دینے کا کیا مطلب ہے اس میں تو کسی کو اختلاف کی گنجائش نہیں کہ دنیا کی تمام مخلوقات علویہ اور سفلیہ اور تمام جانوروں پر اولاد آدم کو فضیلت حاصل ہے اسی طرح جنات جو عقل و شعور میں انسان ہی کی طرح ہیں ان پر بھی انسان کا افضل ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے اب صرف معاملہ فرشتوں کا رہ جاتا ہے کہ انسان اور فرشتہ میں کون افضل ہے اس میں تحقیقی بات یہ ہے کہ انسان میں عام مومنین صالحین جیسے اولیاء اللہ وہ عام فرشتوں سے افضل ہیں مگر خواص ملائکہ جیسے جبرئیل میکائیل وغیرہ ان عام صالحین سے افضل ہیں اور خواص مومنین جیسے انبیاء (علیہم السلام) وہ خواص ملائکہ سے بھی افضل ہیں باقی رہے کفار و فجار انسان وہ ظاہر ہے کہ فرشتوں سے تو کیا افضل ہوتے وہ تو جانوروں سے بھی اصل مقصد فلاح و نجاح میں افضل نہیں ان کے متعلق تو قرآن کا فیصلہ یہ ہے (آیت) اُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ یعنی یہ تو چوپایہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں (تفسیر مظہری) واللہ اعلم۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا 70؀ۧ كرم الكَرَمُ إذا وصف اللہ تعالیٰ به فهو اسم لإحسانه وإنعامه المتظاهر، نحو قوله : فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وإذا وصف به الإنسان فهو اسم للأخلاق والأفعال المحمودة التي تظهر منه، ولا يقال : هو كريم حتی يظهر ذلک منه . قال بعض العلماء : الكَرَمُ کالحرّيّة إلّا أنّ الحرّيّة قد تقال في المحاسن الصّغيرة والکبيرة، والکرم لا يقال إلا في المحاسن الکبيرة، كمن ينفق مالا في تجهيز جيش في سبیل الله، وتحمّل حمالة ترقئ دماء قوم، وقوله تعالی: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ [ الحجرات/ 13] فإنما کان کذلک لأنّ الْكَرَمَ الأفعال المحمودة، وأكرمها وأشرفها ما يقصد به وجه اللہ تعالی، فمن قصد ذلک بمحاسن فعله فهو التّقيّ ، فإذا أكرم الناس أتقاهم، وكلّ شيء شرف في بابه فإنه يوصف بالکرم . قال تعالی: فَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ، وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ كَرِيمٍ [ الدخان/ 26] ، إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ، وَقُلْ لَهُما قَوْلًا كَرِيماً [ الإسراء/ 23] . والإِكْرَامُ والتَّكْرِيمُ : أن يوصل إلى الإنسان إکرام، أي : نفع لا يلحقه فيه غضاضة، أو أن يجعل ما يوصل إليه شيئا كَرِيماً ، أي : شریفا، قال : هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْراهِيمَ الْمُكْرَمِينَ [ الذاریات/ 24] . وقوله : بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ [ الأنبیاء/ 26] أي : جعلهم کراما، قال : كِراماً كاتِبِينَ [ الانفطار/ 11] ، وقال : بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرامٍ بَرَرَةٍ [ عبس/ 15 16] ، وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ [يس/ 27] ، وقوله : ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] منطو علی المعنيين . ( ک ر م ) الکرم ۔ جب اللہ کی صفت ہو تو اس سے احسان وانعام مراد ہوتا ہے جو ذات باری تعالیٰ سے صادر ہوتا رہتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تو میر اپروردگار بےپرواہ اور کرم کرنے والا ہے ۔ اور جب انسان کی صفت ہو تو پسندیدہ اخلاق اور افعال مراد ہوتے ہیں جو کسی انسان سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ اور کسی شخص کو اس وقت تک کریمہ نہیں کہاجاسکتا جب تک کہ اس سے کرم کا ظہور نہ ہوچکا ہو ۔ بعض نے علماء کہا ہے کہ حریت اور کرم ہم معنی ہیں لیکن حریت کا لفظ جھوٹی بڑی ہر قسم کی خوبیوں پر بولا جا تا ہے اور کرم صرف بڑے بڑے محاسن کو کہتے ہیں مثلا جہاد میں فوج کے لئے سازو سامان مہیا کرنا یا کیس ایسے بھاری تا وان کو اٹھا لینا جس سے قوم کے خون اور جان کی حفاظت ہوتی ہو ۔ اور آیت : ۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ [ الحجرات/ 13] اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا ہے جو زیادہ پرہیز گار ہیں ۔ میں القی یعنی سب سے زیادہ پرہیز گا ۔ کو اکرم یعنی سب سے زیادہ عزت و تکریم کا مستحق ٹہھر انے کی وجہ یہ ہے کہ کرم بہترین صفات کو کہتے ہیں اور سب سے بہتر اور پسند یدہ کام وہی ہوسکتے ہیں جن سے رضا الہیٰ کے حصول کا قصد کیا جائے لہذا جو جس قدر زیادہ پرہیز گار ہوگا اسی قدر زیادہ واجب التکریم ہوگا ۔ نیز الکریم ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنی چیز کو کہتے ہیں جو اپنی ہم نوع چیزوں میں سب سے زیادہ باشرف ہو چناچہ فرمایا : ۔ فَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] پھر ( اس سے ) اس میں ہر قسم کی نفیس چیزیں اگائیں ۔ وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ كَرِيمٍ [ الدخان/ 26] اور کھیتیاں اور نفیس مکان ۔ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ وَقُلْ لَهُما قَوْلًا كَرِيماً [ الإسراء/ 23] اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا ۔ الا کرام والتکریم کے معنی ہیں کسی کو اس طرح نفع پہچانا کہ اس میں اس کی کسی طرح کی سبکی اور خفت نہ ہو یا جو نفع پہچا یا جائے وہ نہایت باشرف اور اعلٰی ہو اور المکرم کے معنی معزز اور با شرف کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْراهِيمَ الْمُكْرَمِينَ [ الذاریات/ 24] بھلا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے ؛ اور آیت کریمہ : ۔ بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ [ الأنبیاء/ 26] کے معیک یہ ہیں کہ وہ اللہ کے معزز بندے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ [يس/ 27] اور مجھے عزت والوں میں کیا ۔ كِراماً كاتِبِينَ [ الانفطار/ 11] عالی قدر تمہاری باتوں کے لکھنے والے ۔ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرامٍ بَرَرَةٍ [ عبس/ 15 16] ( ایسے ) لکھنے والوں کے ہاتھوں میں جو سر دار اور نیوک کار ہیں ۔ اور آیت : ۔ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] اور جو صاحب جلال اور عظمت ہے ۔ میں اکرام کا لفظ ہر دو معنی پر مشتمل ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ عزت و تکریم بھی عطا کرتا ہے اور باشرف چیزیں بھی بخشتا ہے آدم آدم أبو البشر، قيل : سمّي بذلک لکون جسده من أديم الأرض، وقیل : لسمرةٍ في لونه . يقال : رجل آدم نحو أسمر، وقیل : سمّي بذلک لکونه من عناصر مختلفة وقوی متفرقة، كما قال تعالی: مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشاجٍ نَبْتَلِيهِ [ الإنسان/ 2] . ويقال : جعلت فلاناً أَدَمَة أهلي، أي : خلطته بهم وقیل : سمّي بذلک لما طيّب به من الروح المنفوخ فيه المذکور في قوله تعالی: وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ، وجعل له العقل والفهم والرّوية التي فضّل بها علی غيره، كما قال تعالی: وَفَضَّلْناهُمْ عَلى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنا تَفْضِيلًا [ الإسراء/ 70] ، وذلک من قولهم : الإدام، وهو ما يطيّب به الطعام وفي الحدیث : «لو نظرت إليها فإنّه أحری أن يؤدم بينكما» أي : يؤلّف ويطيب . ( ادم ) ادم ۔ ابوالبشیر آدم (علیہ السلام) بعض نے کہا ہے ۔ کہ یہ ادیم لارض سے مشتق ہے اور ان کا نام آدم اس لئے رکھا گیا ہے کہ ان کے جسم کو بھی ادیم ارض یعنی روئے زمین کی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ادمۃ سے مشتق ہے جس کے معنی گندمی رنگ کے ہیں ۔ چونکہ آدم (علیہ السلام) بھی گندمی رنگ کے تھے اس لئے انہیں اس نام سے مسوسوم کیا گیا ہے چناچہ رجل آدم کے معنی گندمی رنگ مرد کے ہیں ۔ اور بعض آدم کی وجہ تسمیہ بیان ہے کہ وہ مختلف عناصر اور متفرق قویٰ کے امتزاج سے پیدا کئے گئے تھے ۔ جیسا کہ آیت { أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ } ( سورة الإِنْسان 2) مخلوط عناصر سے ۔۔۔۔ کہ اسے آزماتے ہیں ۔ سے معلوم ہوتا ہے۔ چناچہ محاورہ ہے جعلت فلانا ادمہ اھلی میں فلاں کو اپنے اہل و عیال میں ملالیا مخلوط کرلیا ۔ بعض نے کہا ہے کہ آدم ادام سے مشتق ہے اور ادام ( سالن وغیرہ ہر چیز کو کہتے ہیں جس سے طعام لو لذیز اور خوشگوار محسوس ہو اور آدم میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی روح ڈال کر اسے پاکیزہ بنا دیا تھا جیسے کہ آیت و نفخت فیہ من روحی (38 ۔ 72) اور اس میں اپنی روح پھونک دوں ۔ میں مذکور ہے اور پھر اسے عقل و فہم اور فکر عطا کرکے دوسری مخلوق پر فضیلت بھی دی ہے جیسے فرمایا : { وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا } ( سورة الإسراء 70) اور ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ اس بناء پر ان کا نام آدم رکھا گیا ہے اور حدیث میں ہے (8) لو نظرت الیھا فانہ احری ان یودم بینکما اگر تو اسے اپنی منگیرکو ایک نظر دیکھ لے تو اس سے تمہارے درمیان الفت اور خوشگواری پیدا ہوجانے کا زیادہ امکان ہے ۔ حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ مصاد رکے فرق کیا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ بوجھ جو حسی طور پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ کوئی چیز پیٹھ لادی جائے اس پر حمل ( بکسرالحا) کا لفظ بولا جاتا ہے اور جو بوجھ باطن یعنی کوئی چیز اپنے اندر اٹھا ہے ہوئے ہوتی ہے اس پر حمل کا لفظ بولا جاتا ہے جیسے پیٹ میں بچہ ۔ بادل میں پانی اور عورت کے حمل کے ساتھ تشبیہ دے کر درخت کے پھل کو بھی حمل کہہ دیاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا پنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو طيب يقال : طَابَ الشیءُ يَطِيبُ طَيْباً ، فهو طَيِّبٌ. قال تعالی: فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ، وأصل الطَّيِّبِ : ما تستلذّه الحواسّ ، وما تستلذّه النّفس، والطّعامُ الطَّيِّبُ في الشّرع : ما کان متناولا من حيث ما يجوز، ومن المکان الّذي يجوز فإنّه متی کان کذلک کان طَيِّباً عاجلا وآجلا لا يستوخم، وإلّا فإنّه۔ وإن کان طَيِّباً عاجلا۔ لم يَطِبْ آجلا، وعلی ذلک قوله : كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] ( ط ی ب ) طاب ( ض ) الشئی یطیب طیبا فھم طیب ( کے معنی کسی چیز کے پاکیزہ اور حلال ہونے کے ہیں ) قرآن میں ہے : : فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] تو ان کے سوا عورتیں تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو ۔ ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے تم کو چھوڑدیں ۔ اصل میں طیب اسے کہا جاتا ہے جس سے انسان کے حواس بھی لذت یاب ہوں اور نفس بھی اور شریعت کی رو سے الطعام الطیب اس کھانے کو کہا جائے گا جو جائز طریق سے حاصل کیا جائے اور جائز جگہ سے جائز انداز کے مطابق لیا جائے کیونکہ جو غذا اس طرح حاصل کی جائے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خوشگوار ثابت ہوگی ورنہ دنیا کی خوشگوار چیزیں آخرت میں نقصان وہ ثابت ہونگی اسی بنا پر قرآن طیب چیزوں کے کھانے کا حکم دیتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں اور ان کو کھاؤ ۔ فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

اولاد آدم کی تکریم قول باری ہے (ولقد کرمنا بنی ادم اور ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی) جنس بنی آدم پر اس کا اطلاق کیا گیا حالانکہ اس جنس میں ذلیل کافر بھی داخل ہے۔ اس کی دو توجیہیں ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعلایٰ نے بنی آدم پر انعام کر کے انہیں بزرگی عطا کی اور ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جو انعام و اکرا م سے نوازے جانے والے انسان کے ساتھ کیا جاتا ہے اس کے ذریعے اکرام کی صفت میں مبالغہ کا اظہار کیا گیا ہے۔ دوسری توجیہہ یہ ہے کہ بنی آدم میں بزرگی کی اس صفت سے متصف لوگوں کی موجودگی کی بنا پر پوری جماعت پر اس کا اطلاق کردیا گیا۔ جس طرح یہ قول باری ہے (کنتم خیر امۃ اخرجت للناس اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے) جب مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود تھے جو اس صفت سے متصف قرار دیئے گئے تھے تو ان کی پوری جماعت پر اس کا اطلاق کردیا گیا ۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٠) اور ہم نے آدم کی اولاد کو ہاتھ اور پیر عطا کر کے عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی میں جانوروں پر اور دریا میں کشتیوں پر سوار کیا اور ان کو جانوروں کی روزی کی بہ نسبت بہتر اور پاکیزہ روزی عطا کی، اور ہم نے ان کو جانوروں پر شکل و صورت اور ہاتھ پیروں کے اعتبار سے فوقیت دی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٠ (وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ ) یہ آیت بہت واضح انداز میں اس حقیقت کا اظہار کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج (climax) انسان ہے۔ اس فلسفے کی وضاحت سورة النحل کی آیت ٤٠ کی تشریح کے ضمن میں ہوچکی ہے۔ وہاں میں نے بہت تفصیل سے کائنات اور انسان کی تخلیق کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا نقطہ آغاز اللہ تعالیٰ کا امر کن ہے۔ حرف کن سے خنک نور کا ظہور ہوا اس نور سے ملائکہ اور انسانی ارواح کی تخلیق ہوئی پھر Big Bang کے نتیجے میں حرارت کا گولا وجود میں آیا جس کے متحرک ذرات سے کہکشائیں ستارے اور سیارے بنے۔ اسی دور میں اس حرارت سے جنات کی تخلیق ہوئی۔ دوسرے بیشمار ستاروں اور سیاروں کی طرح ہماری زمین بھی ابتدا میں بہت گرم تھی۔ یہ آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوئی۔ پھر اس پر ہزاروں برس مسلسل بارش برستی رہی جس سے زمین پر ہر طرف پانی پھیل گیا۔ اس کے بعد زمین پر نباتاتی اور حیوانی حیات کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد پھر تمام مخلوق کے بادشاہ ” انسان “ کی تخلیق عمل میں آئی۔ اس پورے فلسفے کو مرزا بیدل نے اپنے اس شعر میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے : ہر دو عالم خاک شد تا بست نقش آدمی اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش ! اس خوبصورت شعر کا مفہوم و مطلب بھی سورة النحل کی مذکورہ آیت کی تشریح کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ (وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ) یہاں ” ہم “ سے اللہ تعالیٰ کا نظام قدرت مراد ہے جس کے تحت بحر و بر میں انسانوں کی مختلف نوعیت کی سرگرمیاں ممکن بنا دی گئیں ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے یہ معاون اور دوستانہ ماحول انسان کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

85. That is, it is an obvious fact that the superiority man enjoys over all other beings on the earth and all that is in it, has not been bestowed upon him by a jinn or an angel or a prophet. Most surely that is Allah’s blessing and favor. Is it not then the height of folly and ignorance that after having achieved such a high rank, man should bow down before any creature of Allah instead of Him?

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :85 یعنی یہ ایک بالکل کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ نوع انسانی کو زمین اور اس کی اشیاء پر یہ اقتدار کسی جن یا فرشتے یا سیارے نے نہیں عطا کیا ہے ، نہ کسی ولی یا نبی نے اپنی نوع کو یہ اقتدار دلوایا ہے ۔ یقینا یہ اللہ ہی کی بخشش اور اس کا کرم ہے ۔ پھر اس سے بڑھ کر حماقت اور جہالت کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اس مرتبے پر فائز ہو کر اللہ کے بجائے اس کی مخلوق کے آگے جھکے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧٠۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اس احسان کا ذکر فرمایا جو انسان کو اپنی اور دوسری مخلوق پر فضیلت دی ہے کہ خشکی میں طرح طرح کی سواریاں اسی انسان کے واسطے بنائی ہیں دوسری مخلوق اس سے بالکل بےبہرہ ہے اور جس طرح انسان خشکی میں سواریوں پر سوار ہو کر سیر کرتا ہے ادھر ادھر جاتا ہے اسی طرح دریا میں بھی اس کے واسطے سواری کا انتظام کیا گیا ہے کہ کشتی پر بیٹھ کر انسان دریا کا سفر کرتا ہے۔ دوسری کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو دریا کا سفر اس طرح کرتی ہو یہ انسان کی سواری کا حال تھا اب اس کی روزی کو دیکھئے دوسری مخلوق جانور وغیرہ کو اس کی ذرا بھی تمیز نہیں کہ اپنی روزی صاف ستھری بنا کر کھاویں انسان کو وہ عقل اور وہ صفائی اور نفاست دی کہ غذا کو بھوسی وغیرہ سے پاک صاف کر کے پیس کوٹ کر پکا کر کھاتا ہے میوہ کھاتا ہے تو گٹھلی پھینک دیتا ہے غرض کہ ان سب امور پر نظر کرکے دیکھئے تو خدا نے انسان کو اپنی بہت سی مخلوق پر ایک فضیلت دی ہے۔ فرمایا جنت میں جو نعمتیں فرمانبردار لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں دنیا میں وہ نعمتیں نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے ١ ؎۔ سورة والصافات میں آوے گا کہ دوزخیوں کو سینڈہ کا پھل کھلایا جاویگا ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اس سینڈہ کے عرق کا ایک قطرہ زمین میں آن پڑے تو تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی میں خلل پڑجاوے ٢ ؎۔ سورة والصافات کی آیتوں اور ان حدیثوں کو اس آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انسان کی جس فضیلت کا ذکر آیت میں ہے اس فضیلت کی شکریہ میں جن لوگوں نے اپنی عمر اللہ تعالیٰ کی فرما نبر داری میں گزاری عقبیٰ میں ان کو وہ فضیلت دیجائے گی کہ اس کا حال دنیا میں نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھا نہ کانوں سے سنا نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزر سکتا ہے اور جن لوگوں نے اس دنیا کی فضیلت کی ناشکری کی اور اپنی تمام عمر نافرمانی میں گزاری وہ دنیا میں چند روزہ اس فضیلت کو برت لیویں مگر عقبیٰ میں طرح طرح کے اور عذابوں کے علاوہ کھانے کے لیے ان کو وہ چیز ملے گی جس کے عرق کا ایک قطرہ تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی میں خلل ڈال سکتا ہے۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ٤٩٥ باب صنقہ الجنہ واہلہا۔ ٢ ؎ ترمذی ص ٨٢ ج ٢ باب صنقہ شراب ابل النار۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 ان کی شکل و صورت دوسرے تمام جانوروں سے اچھی بنائی۔ ان کے کھانے پینے کا بہتر انتظام کیا اور انہیں عقل و نطق اور تمیز عطا فرمائی جبکہ جانور اس نعمت سے محروم ہیں اور پھر تمام مخلوق کو اس کے فائدے کے لئے مسخر کردیا۔ (از قرطبی) 1 خشکی اور تری میں سفر کے لئے قسم قسم کی سواریاں دے دیں۔ 2 اللہ تعالیٰ نے بہتیری مخلوقات “ کے لفظ کو مجمل رکھا یہع اور اس کی تفصیل بیان نہیں فرمائی۔ بہرحال اس سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی جتنی مخلوقات ہے اس میں سے اکثر پر انسانوں کو بزرگی حاصل ہے۔ بعض اہل علم نے بہتری کے لفظ کو تمام کے معنی میں لیا ہے اور بعض نے یہاں یہ بحث بھی چھیڑی ہے کہ انبیاء اور فرشتوں میں سے کون افضل ہے مگر اس آیت سے اس بحث کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 70 کرمنا ہم نے عزت بخشی۔ حملنا ہم نے سوار کیا۔ البر خشکی، زمین البحر تری، سمندر۔ الطیبت پاکیزہ چیزیں۔ فضلنا ہم نے فضیلت دی۔ تفضیل بڑائی دینا۔ بڑائی۔ فضیلت ۔ تشریح آیت نمبر 70 اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی چار عظمتوں کا ذکر کیا ہے۔ (1) حضرت ادم کی اولاد کو عزت عطا کی۔ (2) خشکی اور تری میں سوار کیا۔ (3) اس کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔ (4) اور دنیا کی بہت سی مخلوقات پر اس کو فوقیت عطا فرمائی۔ اسی طرح قرآن کریم میں انسان کی تین اہم کمزوریوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ (1) انسان بہت کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ (2) وہ جلد باز ہے اور ہر چیز کا نتیجہ فوری طور پر حاصل کرنے کے لئے بےچین رہتا ہے۔ (3) نعمت مل جاتی ہے تو فخر و غرور کرنے لگتا ہے اور ذرا سے حالات ناموافق ہوتے ہیں تو مایوس ہوجاتا ہے۔ انسان کی ان خصوصیات سے معلوم ہوا کہ اللہ نے جہاں اس کو بہت سی عظمتیں نصیب فرمائی ہیں اور وہ خشکی اور تری کو روندنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہیں اس میں بہت کچھ بنیادی کمزوریاں بھی ہیں جن کے سامنے وہ ڈھیر ہو کر رہ جاتا ہے اور وہ مایوس ہو کر کفر و شرک تک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان دونوں طرح کی صلاحیتوں کا ذکر کرنے کے بعد اس کا علاج بھی بتا دیا ہے کہ انسان اگر اس کائنات میں اور آخرت میں عزت و عظمت کا اعلیٰ مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو اپنی بنیادی کمزوریوں پر قابو پانا ہوگا ۔ اگر اس نے اپنی جلد بازی میں اپنے آپ کو بےجا خواہشات کے نیچے دبا لیا تو وہ دنیا اور آخرت میں ناکام ہوجائے گا اور اگر اس نے ” تزکیہ “ کرلیا یعنی زندگی کی بری خواہشات سے اپنے دامن کو بچا کر اپنے نفس کی اصلاح کرلی تو پھ ردنیا کی اور آخرت کی کامیابیاں اس کے قدم چو میں گی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی آدمی کو عقل و شعور، فہم و فراست، رشد و ہدایت کی روشنی دی اس کے سرپر خلافت کا تاج رکھ کر اس پر بروبحر اور اپنی بہت سی مخلوقات پر شرف و عظمت عطا فرمائی جو کسی اور مخلوق کو حاصلن ہیں ہے۔ انسان اپنی صلاحیتوں سے کام لے کر خشکی اور تری میں دوڑتا پھرتا ہے۔ زمین کی گہرائیوں، سمندر کی پنہائیوں، پہاڑوں کی بلندیوں ، فضاؤں اور ہواؤں کی طاقت کو اپنے تابع کر کے ان پر حکمرانی کرتا ہے اور علم و تحقیق، سائنس اور نئی نئی ٹیکنالوجی کے ذریعہ حیرت ناک چیزیں ایجاد کر رہا ہے۔ وہ ہزاروں تصورات اور خیالات جو آج سے سو دو سو سال پہلے قصے کہانیوں سے زیادہ حیثیت نہ رکھتے تھے ان کو حقیقت کا روپ دے کر دنیا کو حیرت و تعجب میں ڈال رہا ہے اور ناممکن چیزوں کو ممکن بنا رہا ہے۔ ٹیلیفون ، ٹیلیویژن، ریڈیو، ہوائی جہاز، کاریں، ریلیں اور ہزاروں مشینیں ایجاد کر رہا ہے اور اب موجودہ دور میں کمپیوٹر کی ایجاد نے تو ساری دنیا کے انداز فکر، علم و تحقیق اور معلومات کے ذریعہ دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ دنیا کو اس قدر مختصر کردیا ہے کہ ہزاروں میل پر بیٹھ کر نہ صرف ایک دوسرے کی آواز، صورت شکل اور حرکات و سکنات کو دیکھ سکتا ہے بلکہ اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔ انسان علم و تحقیق کے ذریعہ ہر روز ایک نئی چیز ایجاد کر رہا ہے۔ نجانے بیس پچیس سال میں دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچ جائے گی۔ اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ راحت و سکون کے ایسے ایسے اسباب اور وسائل ایجاد کر لئے گئے ہیں جن کا تصور آج سے پہلے ناممکن تھا دنیا میں روشنی اور چکا چوند اتنی بڑھ چکی ہے کہ اندھیروں کا تصور ماند پڑ رہا ہے۔ لیکن اتنی ترقیاتی اور روشنی کے باوجود انسان کا قلب بےنور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس کے دل میں بد اخلاقی کے اندھیروں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ ترقیات نے انسان کو بہت سی سہولتیں دیدی ہیں مگر اس کے دل کا سکو ن لٹ گیا ہے۔ اس کا گھریلو ماحول اس سے چھین گیا ہے۔ اس دور کا انسان جتنا دکھی ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھا۔ بموں، میزائلوں کی ایجاد نے انسان کو بارود کے ڈھیر پر لا بٹھایا ہے۔ نجانے کب کون طاقت کے نشے میں چور ایک بٹن دبا کر اس بارود کے ڈھیر میں آگ لگا دے گا اور دنیا کی ساری ترقیات اور انسان راکھ کا ڈھیر بن کر رہ جائیں گے۔ اس موقع پر قرآن حکیم نے ہماری پوری طرح رہنمائی فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ انسان کی کامیابی اور سکون قلب ان اسباب، ذرائع، وسائل اور ایجادات میں نہیں ہے بلکہ اللہ کی یاد اور ہر آن اسی ذات کا احترام انسان کو سکون کی دولت سے مالا مال کرسکتا ہے محض یہ اسباب سکون نہیں دے سکتے۔ اگر موجودہ دور کا انسان ان ترقیات کے ساتھ اللہ کے بھیجے ہوئے دین اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا رہبر و رہنما بنا لے تو یہ ترقیات انسانوں کے کام آئیں گی لیکن اگر اللہ کے دین کو نظر انداز کیا گیا تو پھر دنیا کبھی سکون نہ پا سکے گی ۔ سائے تو بڑھ جائیں گے لیکن انسان گھٹتے چلے جائیں گے۔ تاریخ کے حوالے سے میں یہ بات عرض کروں گا کہ جب تک دنیا کی باگ ڈور اور علمی ترقیات مسلمانوں کے ہاتھوں میں رہیں اس وقت تک انسان اس قدر ہوس اور دولت پرستی کی بیماری میں مبتلا نہ ہوا تھا لیکن اٹھارہویں صدی عیسوی میں جب دنیا میں ترقی کا آغاز انقلاب فرانس سے ہوا اور اقتدار اور قوت کی باگ ڈور عیسائیوں اور یہودیوں ہندؤں کے ہاتھوں میں آئی ہے اس وقت سے دنیا ظلم سے بھر گئی ہے۔ اگر مسلمان غفلت میں مبتلا نہ ہو تو دنیا میں ظلم و جبر کا یہ نظام قائم نہ ہوتا، یہ ہماری غلطیوں اور غفلتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ آج بھی اگر دنیا کو ترقیات کے ساتھ امن و سکون نصیب ہوگا۔ تو وہ صرف دامن مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وابستہ اہل ایمان کے ذریعہ ہوگا۔ کیونکہ اب قیامت تک دنیا پر حکمرانی کا حق امت محمدی ؐ کا ہے۔ اگر اہل ایمان بیدار نہ ہوئے تو دنیا کی موجودہ ترقیات انسانوں کو نگل جائیں گی اور یہ دنیا تباہ و برباد ہو کر عبرت کا نشان بن جائے گی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ انسان میں بعض صفات کا صہ ایسے ہیں جو اور حیوانات میں نہیں۔ جیسے حسن صورت جس میں موزونی قامت بھی آگیا، اور عقل اور ایجاد ضائع وغیرہا، اور یہ نعم تمام نوع کو عام ہیں، پس بنی آدم سے مراد سب بنی آدم ہیں۔ 5۔ چونکہ اوپر کرمنا سے شبہ ہوسکتا تھا کہ ان صفات میں بنی آدم سب سے افضل ہے حالانکہ یہ امر خلاف واقع تھا کیونکہ یہ امور مدار فضیلت علی الملائکہ نہیں ہوسکتے، اور جو صفات مدار فضیلت علی الملائکہ ہیں وہ کل بنی آدم میں متحقق نہیں، اس لئے فضلنا میں یہ ابہام رفع کردیا کہ مراد تکریم سے تفضیل علی بعض الخلائق ہے، یعنی حیوانات اور حیوانات سے جو کم رتبہ ہیں، پس آیت ملائکہ اور بشر کے تفاضل متکلم فیہ بین المتکلمین سے ساکت ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : برے لوگوں کا انجام بتانے کے بعد انسان کو اس کا مرتبہ ومقام یاد دلایا گیا ہے۔ کیونکہ انسان کو بحر وبر پر فضیلت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے دست مبارک کے ساتھ بنایا اور اس میں اپنی روح القاء فرمائی۔ پھر اس کی خلافت کا اعلان فرمایا اور تمام ملائکہ کو اسے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ ابلیس کے سواحضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام ملائکہ نے سجدہ کیا۔ سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے شیطان کو ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ سے راندہ درگاہ کرنے کے ساتھ لعنتی قرار دیا۔ ” جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔ جب اس کو بنالوں اور اس میں اپنی روح پھونک لوں تو اس کے آگے سجدے میں گرپڑنا۔ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اس کے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا۔ کیا تو غرور میں آگیا یا اونچے درجے والوں میں سے تھا ؟ بولا کہ میں اس سے بہتر ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے بنایا۔ فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت پڑتی رہے گی۔ “ (ص : ٧١ تا ٧٨) پھر آدم (علیہ السلام) کو زمین پر بھیجا اور ہر چیز کو اس کی خدمت کرنے کا حکم دیا۔ جس کے نتیجے میں شمس وقمر، صحراودریا غرضیکہ ہر چیز اس کی نوکری اور چاکری میں لگی ہوئی ہے۔ اسی غلامی کا نتیجہ ہے کہ انسان نے ہوا پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔ سینکڑوں من بوجھ اٹھائے ہوائی جہاز فضا میں پرواز کرتے ہوئے مہینوں کا سفر گھنٹوں میں طے کر رہے ہیں۔ سمندروں کے رخ تبدیل کیے جارہے ہیں۔ چاند، ستاروں پر کمندیں ڈالی جا رہی ہیں۔ نہ معلوم آنے والے وقت میں انسان خداداد عقل و دانش سے اس کائنات کو کس کس انداز میں اپنے مطیع کرنے کی کوششیں کرے اور خلیفہ ہونے کی حیثیت سے کیا کیا کرتب دکھائے گا۔ لیکن افسوس جتنا انسان بااختیار ہوتا جاتا ہے۔ اتنا ہی اپنے رب کا نافرمان بنتا جا رہے۔ جس کے نتیجہ میں بیماریوں میں مبتلا اور کئی قسم کی مشکلات میں پھنسا جا رہا ہے۔ اگر انسان نے یہی طور طریقے اپنائے رکھے تو آخرت میں ہی نہیں دنیا میں بھی ذلیل ہو کر رہ جائے گا۔ اگر انسان اپنا کھویا ہوا مقام اور اعزاز واپس لینا چاہتا ہے تو اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ بلاشرکت غیرے اپنے رب کی غلامی میں آجائے۔ انسان نہ صرف اپنی قدوقامت اور شکل و صورت کے لحاظ سے باقی مخلوق سے اعلیٰ اور بہتر ہے بلکہ یہ خوردو نوش، رہائش اور زیبائش کے اعتبار سے سب سے بہتر اور خوبصورت ہے۔ اب انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے عقیدہ، اخلاق اور کردار کے حوالے سے ثابت کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مرتبہ اور مقام کا اہل ہے۔ مگر انسان کی بد قسمتی ہے کہ اس کی اکثریت نے ہر دور میں اپنے آپ کو نااہل ثابت کیا۔ جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔ (وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُونِ ۔ وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ ۔ وَہٰذَا الْبَلَدِ الْأَمِیْنِ ۔ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۔ ثُمَّ رَدَدْنَاہُ أَسْفَلَ سَافِلِیْنَ ۔إِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ فَلَہُمْ أَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ۔ فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بالدِّیْنِ ۔ أَلَیْسَ اللَّہُ بِأَحْکَمِ الْحَاکِمِیْنَ )[ التین : ١ تا ٨] ” قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور طور سینا اور اس پر امن شہر (مکہ) کی۔ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا پھر اسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کردیا۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے کہ ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ پس (اے نبی ! ) اس کے بعد کون جزا اور سز ا کے معاملہ میں تم کو جھٹلا سکتا ہے۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ساری مخلوق پر فضیلت عظمت عطا فرمائی ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بحر وبر پر برتری عنایت فرمائی ہے۔ تفسیر بالقرآن انسان کی پوری مخلوق پر فضیلت و برتری : ١۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا ہے۔ (ص : ٧٥) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلیفہ بنایا۔ (البقرۃ : ٣٠) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ملائکہ سے سجدہ کروایا۔ (البقرۃ : ٣٤) ٤۔ سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے ابلیس کو ہمیشہ کے لیے اپنی بارگاہ سے راندہ درگاہ اور لعنتی قرار دیا۔ (الحجر : ٣٤۔ ٣٥) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو انسان کے لیے مسخر فرمایا۔ (الجا ثیۃ : ١٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وحملنھم فی البر والبحر (٧١ : ٠٧) ” او انہیں خشکی اور تری میں سواریاں عطا کیں “۔ خشکی اور تری میں انسانی ٹرانسپورٹ کا مہیا ہونا صرف اسی وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کو ایک ایسی فطرت دی ہے اور ایسا نظام فطرت دیا ہے کہ وہ انسانی زندگی اور اس کی سہولیات کے لئے زر و معاون ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کے نظام اور خصوصاً زمین و آسمان کی گردش اور ساخت کو انسانی حیات کے موافق نہ بناتا تو اس کے لئے یہاں زندگی گزار تا یا زندہ رہنا ہی مشکل ہوتا۔ نظام فطرت کی تو اے طیبہ کو دیکھا جائے تو بہ نسبت انسان کے وہ بہت ، سرکش اور پر قوت ہیں اور انسان کے لئے بحر و بر میں یہ حکمرانی ممکن نہ ہوتی۔ لیکن انسان کو اللہ نے وہقوت دی جس کی وجہ سے اس نے اس کائنات کو مسخر کرلیا اور پھر اسے مسخر کرنے کے بعد اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا اور یہ سب کچھ محض اللہ کے فضل و کرم سے ہوا۔ ورزقنھم من الطیبت (٧١ : ٠٧) ” اور ان کا پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا “۔ انسان چونکہ اپنی پوری زندگی ، آغاز انسانیت سے یہاں گزار رہا ہے۔ اور دنیا کا ایک طویل عرصہ اور تاریخ گزر چکی ہے۔ اس لئے وہ روٹین میں اللہ کی عطا کردہ بیشمار پاکیزہ نعمتوں کو سرے سے شمار ہی نہیں کرتا۔ ان میں سے کسی نعمت کا احساس اسے تب ہوتا ہے جب وہ اس نعمت سے محروم ہوتا ہے۔ جب وہ محروم ہوجاتا ہے تب اسے احساس ہوتا ہے کہ اللہ کی کس قدر نعمت تھی جس سے وہ محروم ہوگیا اور وہ کس قدر مزے لیتا رہا ہے۔ لیکن جب یہ محرومیت دور ہوجاتی ہے تو پھر وہ بھول جاتا ہے۔ یہ سورج ، ہوا ، پانی ، یہ صحت ، یہ چلنے پھرنے کی قوت ، بہ حواس ، یہ عقل ، یہ کھانے پینے کی چیزیں ، بہ طویل و عریض کائنات جس میں وہ خلیفۃ اللہ ہے اور اس میں۔ لاتغذ ولا تحصی طیبات جن سے وہ لطف اندوز ہورہا ہے۔ وفضلنھم علی ……(٧١ : ٠٧) ” اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فضیلت دی “۔ پہلی فضیلت تو یہ دی کہ اس عظیم کائنات کا خلیفہ اسے بنایا۔ پھر انسان کو ایسی خصوصیات بخشیں کہ وہ پوری مخلوق میں ایک ممتاز مخلوق بن گیا۔ اللہ کی تمام مخلوق میں۔ انسان کی سب سے بڑی تکریم یہ ہے کہ انسان خود اپنا ناظم اور کنٹرولر ہو۔ وہ ذمہ دار ہو اور اپنے افعال و اعمال کے نتائج بھگتے۔ کیونکہ یہی وہ بڑی خصویت ہے جس کی وجہ سے انسان انسان کہلایا ہے۔ یعنی یہ کہ وہ آزاد ہے جو چاہے کرے اور جو بھی کرے اس کے نتائج و عواقب کا ذمہ دار ہو اور جو بوئے اسے کاٹے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دار العمل میں وہ اللہ کا خلیفہ قرار پایا ہے۔ لہٰذا عدل و انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دار الحساب اور یوم الحساب میں وہ اپنے کئے کا ذمہ دار ہو اور اس نے جو بویا ہو ، اسے کاٹے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد تکریم بنی آدم کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہے (وَ لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ ) (اور ہم نے انسان کو عزت دی) (وَحَمَلْنٰھُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ) (اور ہم نے انہیں خشکی میں اور سمندر میں سوار کیا) (وَ رَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ) (اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں) (وَ فَضَّلْنٰھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا) (اور ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔ ) اس آیت میں اول تو اجمالی طور پر بنی آدم کی تکریم بیان فرمائی کہ وہ ان صفات سے متصف ہے جو اس کے ساتھ خاص ہیں۔ قوت گویائی کا عطا کیا جانا فصیح وبلیغ ہونا مختلف اسالیب سے بیان کرنا کتابت کے ذریعہ مفہوم ادا کرنا احسن تقویم سے زینت پانا خوبصورت ہونا قد کا مستقیم ہونا قوت مدرکہ سے متصف ہونا اس کے ذریعہ چیزوں کو پہچاننا خبیث اور طیب میں امتیاز کرنا، بہت سی مخلوقات کا اس کے لیے مسخر ہونا عقل و فہم کے ذریعہ ممتاز ہونا زمین اور زمین کے اوپر جو کچھ ہے اسے آباد کرنا زمین کو باغ و بہار بنانا طرح طرح کی عمارات بنانا اور نئی نئی مصنوعات ایجاد کرنا اور ان سے متنفع ہونا سیارات میں سفر کرنا طیارات میں اڑنا بلندیوں میں جانے کے لیے راکٹ بنانا یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو انسان ہی کے ساتھ خاص ہیں اور ان سے انسان کا مکرم اور مشرف ہونا ظاہر ہے۔ اجمال کے بعد کچھ تفصیل بتائی اور ارشاد فرمایا (وَ حَمَلْنٰھُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ) اور ہم نے انہیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا خشکی میں سواری کے جانور ہیں انسان ہاتھی جیسی مخلوق پر بھی سواری کرتا ہے اور اب تو طرح طرح کی سواریاں وجود میں آگئی ہیں اور سمندر میں بڑے بڑے جہاز چلتے ہیں۔ جن میں انسان سفر بھی کرتے ہیں اور بار برداری میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایک براعظم کی چیزیں دوسرے براعظم میں پہنچنے کا ذریعہ ہیں ان سب چیزوں میں بھی انسان کی تکریم اور تشریف ہے اور یہ منافع اور فوائد انسان ہی کے ساتھ خاص ہیں۔ (وَ رَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ) اور ہم نے بنی آدم کو عمدہ چیزیں عطا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرح بھی مشرف و مکرم فرمایا کہ اسے پاکیزہ عمدہ اور نفیس چیزیں عطا فرمائیں۔ ان میں اچھے اچھے کھانے اور نفیس لباس اور عمدہ مفروشات (بچھانے کی چیزیں) اور طرح طرح کی استعمالی چیزیں ہیں۔ لفظ الطیبات جمع ہے طیب کی اس کے معنی میں حلال ہونا، عمدہ ہونا، اچھا ہونا، نفیس ہونا، سب کچھ آجاتا ہے۔ اور یہاں چونکہ خاص کر ما کو لات کا ذکر نہیں ہے اس لیے دیگر نعمتوں کو بھی یہ لفظ الطیبات شامل ہے۔ (وَ فَضَّلْنٰھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا) (اور ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی) تکریم کے بعد تفضیل کا مستقل تذکرہ فرمایا۔ اس میں فضیلت جسمانی اور روحانی اخروی و دنیاوی اشتغال بعبادۃ اللّٰہ والتقرب الیہ اور ہر خیر داخل ہے اور ایک بہت بڑی بات یہ ہے کہ انسانوں ہی میں سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جن میں افضل الانبیاء بھی ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) ساری مخلوق سے افضل ہیں۔ اور یہ انسان کی بہت بڑی فضیلت ہے کہ اس کی جنس میں افضل الخلائق وجود میں آئے۔ چونکہ آیت شریفہ میں یہ نہیں ہے کہ بنی آدم کے ہر ہر فرد کو دوسری مخلوق پر فضیلت دی گئی اس لیے یہ اشکال پیدا نہیں ہوتا کہ انسانوں میں کافر بھی ہیں وہ تو دوزخ میں جائیں گے انہیں کون سی فضیلت حاصل ہوئی، پھر چونکہ تفضیل عام ہے دنیاوی نعمتوں کو بھی شامل ہے اس لیے ان نعمتوں کے اعتبار سے تو سبھی انسان دوسری مخلوق کے مقابلہ میں فضیلت پائے ہوئے ہیں۔ یہ نہیں فرمایا کہ بنی آدم ساری مخلوق سے افضل ہیں بلکہ یہ فرمایا کہ بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت دی ہے لہٰذا فرشتے جو عامتہ المسلمین سے افضل ہیں اس پر بھی اشکال وارد نہیں ہوتا۔ بنی آدم میں جو ایمان والے ہیں ان میں اور فرشتوں میں باہمی کیا تفاضل ہے اس تفضیل کی تفصیل عقائد کی کتابوں میں مذکور ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

64:۔ یہ دعوت توحید کو قبول کرنے کی ترغیب ہے۔ اولاد آدم کو انعامات بےپایاں یاد دلا کر مسئلہ توحید ماننے کی ترغیب دی گئی۔ اے بنی آدم میں نے تمہیں ساری مخلوق پر فضیلت اور بزرگی عطا کی، خشکی اور تری پر تمہیں اقتدار عطا کیا اور پاکیزہ روزی کے بیشمار وسائل تمہیں دئیے اب تمہارا فرض ہے کہ میرا احسان مانو اور میرے انعامات کا شکر کرو، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور میرے سوا کسی کو عبادت اور پکار کے لائق نہ سمجھو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

70 اور بلاشبہ ہم نے آدم (علیہ السلام) کو عزت اور بزرگی عطا فرمائی اور ہم نے خشکی اور تری میں چلنے والی سواریوں پر ان کو سوار کیا یعنی ان کے لئے خشکی میں اور دریا میں چلنے والی سواریاں پیدا کیں اور ہم نے ان کو ستھری اور نفیس و عمدہ چیزوں سے روزی عطا کی اور ہم نے اولاد آدم کو اپنی پیدا کردہ مخلوقات میں سے بہت سوں پر فوقیت اور برتری عطا فرمائی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جانوروں کو سواری زمین پر نہ دریا پر آدمی کو دی ہے اور ستھری روزی یہ کہ میوے کا چھلکا دور کرنا اور اناج کی بھوسی اور پیسنا اور پکا کر کھانا اسی کو سکھایا۔ 12 خلاصہ ۔ یہ کہ آدمی میں بہت سی خوبیاں اور بعض صفات خاصہ ایسی ہیں جو دوسرے حیوانات میں نہیں اسی وجہ سے یہ دوسرے حیوانات کو قابو میں لا کر ان سے کام لیتا ہے تدبیر عقل اور حواس وغیرہ جو چیزیں انسان کو حاصل ہیں وہ حیوانات کو میسر نہیں ہیں۔ اس آیت میں بشر کی فضیلت ملائکہ پر زیر بحث نہیں ہے بلکہ آیت اس سے ساکت ہے وہ مسئلہ اپنے مقام پر آئے گا یہاں جن انعامات کا ذکر ہے وہ تمام بنی نوع انسان کو شامل ہیں۔ فافھم