Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 71

سورة بنی اسراءیل

یَوۡمَ نَدۡعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِہِمۡ ۚ فَمَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ بِیَمِیۡنِہٖ فَاُولٰٓئِکَ یَقۡرَءُوۡنَ کِتٰبَہُمۡ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا ﴿۷۱﴾

[Mention, O Muhammad], the Day We will call forth every people with their record [of deeds]. Then whoever is given his record in his right hand - those will read their records, and injustice will not be done to them, [even] as much as a thread [inside the date seed].

جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے پیشوا سمیت بلائیں گے ۔ پھر جن کا بھی اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ تو شوق سے اپنا نامۂ اعمال پڑھنے لگیں گے اور دھاگے کے برابر ( ذرہ برابر ) بھی ظلم نہ کئے جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Everyone will be called by his Imam on the Day of Resurrection Allah tells; يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ... (And remember) the Day when We shall call together all human beings with their (respective) Imam (i.e. the Book of deeds). Allah tells us that on the Day of Resurrection, he will call each people to account by its Imam. The scholars differed as to the meaning of this (i.e. Imam). Mujahid and Qatadah said that; it meant each nation would be called to account by its Prophet. Some of the Salaf said; this is the greatest honor for the people of Hadith, because their leader is the Prophet. Ibn Zayd said it means; they would be called to account by their Book which was revealed to their Prophet with its laws. This was also the view favored by Ibn Jarir. Ibn Abi Najih narrated that Mujahid said, "With their Books." It may be that what is meant here is what Al-Awfi narrated from Ibn Abbas concerning this Ayah, يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ((And remember) the Day when We shall call together all human beings with their (respective) Imam), which is that it refers to the Book (or record) of their deeds. This was also the view of Abu Al-Aliyah, Al-Hasan and Ad-Dahhak. This view is the most correct, because Allah says: وَكُلَّ شىْءٍ أَحْصَيْنَـهُ فِى إِمَامٍ مُّبِينٍ and all things We have recorded with numbers (as a record) in a Clear Book (Fi Imamin Mubin). (36:12) وَوُضِعَ الْكِتَـبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ And the Book (one's record) will be placed, and you will see the criminals, fearful of that which is (recorded) therein. (18:49) وَتَرَى كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أمَّةٍ تُدْعَى إِلَى كِتَـبِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ هَـذَا كِتَـبُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ And you will see each nation humbled to their knees, each nation will be called to its record (of deeds). This Day you shall be recompensed for what you used to do. This Our record speaks about you with truth. Verily, We were recording what you used to do. (45:28-29) This does not contradict the fact that the Prophet will be brought forward when Allah judges between his Ummah, for he will inevitably be a witness against his Ummah over their deeds. But what is meant here by Imam is the Book of deeds. Allah says: يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُوْلَـيِكَ يَقْرَوُونَ كِتَابَهُمْ ... (And remember) the Day when We shall call together all human beings with their (respective) Imam. So whosoever is given his record in his right hand, such will read their records, means, because of their happiness and joy at what is recorded therein of good deeds - they will read it and want to read it. As Allah says: فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَأوُمُ اقْرَوُاْ كِتَـبيَهْ Then as for him who will be given his record in his right hand will say: "Here! read my record!) until His saying, وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِشِمَالِهِ But as for him who will be given his record in his left hand, (69:19-29) ... وَلاَ يُظْلَمُونَ فَتِيلً and they will not be dealt with unjustly in the least (Fatilan). We have already mentioned that the Fatil is the long thread in the groove of a date-pit. Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bazzar recorded a Hadith from Abu Hurayrah according to which the Prophet said, concerning the Ayah, يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ (And remember) the Day when We shall call together all human beings with their (respective) Imam. يُدْعَى أَحَدُهُمْ فَيُعْطَى كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ وَيُمَدُّ لَهُ فِي جِسْمِهِ وَيَبْيَضُّ وَجْهُهُ وَيُجْعَلُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجٌ مِنْ لُوْلُوَةٍ يَتَلَْلاَُ فَيَنْطَلِقُ إِلَى أَصْحَابِهِ فَيَرَوْنَهُ مِنْ بَعِيدٍ فَيَقُولُونَ اللَّهُمَّ اتِنَا بِهَذَا وَبَارِكْ لَنَا فِي هَذَا فَيَأْتِيهِمْ فَيَقُولُ لَهُمْ أَبْشِرُوا فَإِنَّ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ مِثْلَ هَذَا وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَسْوَدُّ وَجْهُهُ وَيُمَدُّ لَهُ في جِسْمِهِ وَيَرَاهُ أَصْحَابُهُ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ هَذَا أَوْ مِنْ شَرِّ هَذَا اللَّهُمَّ لاَ تَأْتِنَا بِهِ فَيَأْتِيهُمْ فَيَقُولُونَ اللَّهُمَّ أَخْزِهِ فَيَقُولُ أَبْعَدَكُمُ اللهُ فَإِنَّ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ مِثْلَ هَذَا One of you will be called and will be given his Book in his right hand. He will be in a good physical state, with a white face, and there will be placed on his head a crown of shining pearls. He will go to his companions and they will see him from afar, and will say, "O Allah, let him come to us and bless us with this." Then he will come to them and will say to them, "Rejoice, for every man among you will be like this." As for the disbeliever, his face will be black and his body will be enlarged. His companions will see him from afar and will say, "We seek refuge in Allah from this, or from the evil of this, O Allah, do not let him come to us." Then he will come to them and they will say, "O Allah, humiliate him!" He will say, "May Allah cast you away, every man among you will be like this." Then Al-Bazzar said: "This was only reported through this chain."

الکتاب ہی ہدایت و امام ہے امام سے مراد یہاں نبی ہیں ہر امت قیامت کے دن اپنے نبی کے ساتھ بلائی جائے گی جیسے اس آیت میں ہے ( وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِيَ بَيْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 47؀ ) 10- یونس:47 ) ہر امت کا رسول ہے ، پھر جب ان کے رسول آئیں گے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ حساب کیا جائے ۔ بعض سلف کا قول ہے کہ اس میں اہل حدیث کی بہت بڑی بزرگی ہے ، اس لئے کہ ان کے امام آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ ابن زید کہتے ہیں مراد یہاں امام سے کتاب اللہ ہے جو ان کی شریعت کے بارے میں اتری تھی ۔ ابن جریر اس تفسیر کو بہت پسند فرماتے ہیں اور اسی کو مختار کہتے ہیں ۔ مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں مراد اس سے ان کی کتابیں ہیں ۔ ممکن ہے کتاب سے مراد یا تو احکام کی کتاب اللہ ہو یا نامہ اعمال ۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے مراد اعمال نامہ لیتے ہیں ۔ ابو العالیہ ، حسن ، ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ترجیع والا قول ہے جیسے فرمان الہٰی ہے آیت ( وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12۝ۧ ) 36-يس:12 ) ہر چیز کا ہم نے ظاہر کتاب میں احاطہ کر لیا ہے ۔ اور آیت میں ہے و آیت ( وضع الکتاب ) الخ کتاب یعنی نامہ اعمال درمیان میں رکھ دیا جائے گا اس وقت تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہوں گے ۔ الخ اور آیت میں ہے ہر امت کو تو گھٹنوں کے بل گری ہوئی دیکھے گا ۔ ہر امت اپنے نامہ اعمال کی جانب بلائی جا رہی ہو گی ، آج تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ۔ یہ ہے ہماری کتاب جو تم پر حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہم برابر لکھتے رہتے تھے ۔ یہ یاد رہے کہ یہ تفسیر پہلی تفسیر کے خلاف نہیں ایک طرف نامہ اعمال ہاتھ میں ہو گا دوسری جانب خود نبی سامنے موجود ہو گا ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بِالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 69؀ ) 39- الزمر:69 ) زمین اپنے رب کے نور سے چمکنے لگے گی نامہ اعمال رکھ دیا جائے گا اور نبیوں اور گواہوں کو موجود کر دیا جائے گا اور آیت میں ہے ( فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا 41؀ڲ ) 4- النسآء:41 ) یعنی کیا کیفیت ہو گی اس وقت جب کہ ہر امت کا ہم گواہ لائیں گے اور تجھے اس تیری امت پر گواہ کر کے لائیں گے ۔ لیکن مراد یہاں امام سے نامہ اعمال ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ جن کے دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ تو اپنی نیکیاں فرحت و سرور ، خوشی اور راحت سے پڑھنے لگیں گے بلکہ دوسروں کو دکھاتے اور پڑھواتے پھریں گے ۔ اسی کا مزید بیان سورہ الحاقہ میں ہے ۔ فتیل سے مراد لمبا دھاگہ ہے جو کجھور کی گٹھلی کے بیچ میں ہوتا ہے ۔ بزار میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو بلوا کر اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ اس کا جسم بڑھ جائے گا ، چہرہ چمکنے لگے گا ، سر پر چمکتے ہوئے ہیروں کا تاج رکھ دیا جائے گا ، یہ اپنے گروہ کی طرف بڑھے گا اسے اس حال میں آتا دیکھ کر وہ سب آرزو کرنے لگیں گے ، کہ اے اللہ ہمیں بھی یہ عطا فرما اور ہمیں اس میں برکت دے وہ آتے ہی کہے گا کہ خوش ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک کو یہی ملنا ہے ۔ لیکن کافر کا چہرہ سیاہ ہو جائے گا اس کا جسم بڑھ جائے گا ، اسے دیکھ کر اس کے ساتھی کہنے لگیں گے اللہ اسے رسوا کر ، یہ جواب دے گا ، اللہ تمہیں غافت کرے ، تم میں سے ہر شخص کے لئے یہی اللہ کی مار ہے ۔ اس دنیا میں جس نے اللہ کی آیتوں سے اس کی کتاب سے اس کی راہ ہدایت سے چشم پوشی کی وہ آخرت میں سچ مچ رسوا ہو گا اور دنیا سے بھی زیادہ راہ بھولا ہوا ہو گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

71۔ 1 اِ مَام کے معنی پیشوا، لیڈر اور قائد کے ہیں، یہاں اس سے کیا مراد ہے ؟ اس میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد پیغمبر ہے یعنی ہر امت کو اس کے پیغمبر کے حوالے سے پکارا جائے گا، بعض کہتے ہیں، اس سے آسمانی کتاب مراد ہے جو انبیاء کے ساتھ نازل ہوتی رہیں۔ یعنی اے اہل تورات ! اے اہل انجیل ! اور اے اہل قرآن ! وغیرہ کہہ کر پکارا جائے گا بعض کہتے ہیں یہاں ' امام سے مراد نامہ اعمال ہے یعنی ہر شخص کو جب بلایا جائے گا تو اس کا نامہ اعمال اس کے ساتھ ہوگا اور اس کے مطابق اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اسی رائے کو امام ابن کثیر اور امام شوکانی نے ترجیح دی ہے۔ 71۔ 2 فَتِیل اس جھلی یا تاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی میں ہوتا ہے یعنی ذرہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٩] امام سے مراد کسی امت کا نبی بھی ہوسکتا ہے اور وہ شخص بھی جسے آپ کی زندگی کے بعد پیشوا سمجھا گیا ہو۔ اور یہ بلانا اس طرح ہوگا : اے موسیٰ کی امت، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت، اے عیسیٰ کی امت یا اے قرآن والو ! اے انجیل والو، اے تورات والو، اسی طرح ہر گروہ والوں کو اس گروہ کے بانی کے نام سے پکارا جائے گا۔ [٩٠] اللہ کے فرمانبرداروں کو ان کا اعمال نامہ سامنے سے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور یہ ایک حسی مشاہدہ ہوگا جسے دیکھ کر ہر شخص اس کے جنتی ہونے کا اندازہ لگا سکے گا۔ ایسے شخص بہت خوش و خرم ہوں گے اور خوشی سے اپنا اعمال نامہ دوسروں کو بھی پڑھنے کو کہیں گے اور انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا اجر مل جائے گا لیکن جس شخص کو اس کا اعمال نامہ پیچھے کی طرف سے دائیں ہاتھ میں تھما یا گیا اسے بھی فوراً اپنا انجام معلوم ہوجائے گا وہ اپنا اعمال نامہ چھپانا چاہے گا اور کہے گا کاش ! مجھے یہ دیا ہی نہ جاتا۔ [٩١] فتیلا اس باریک سے دھاگے کو بھی کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں ہوتا ہے اور اس لفظ سے بہت تھوڑی مقدار مراد لی جاتی ہے یعنی ہر ایک کو قیامت کے دن اس کی محنت کا پورا صلہ بلکہ اس سے زیادہ بھی ملے گا۔ لیکن مجرموں کو ان کے گناہوں سے ذرہ بھر بھی زیادہ سزا نہ دی جائے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ : امام کا معنی پیشوا بھی ہے، جیسا کہ فرمایا : ( وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا ) [ الفرقان : ٧٤ ] ” اور ہمیں متقی لوگوں کا پیشوا بنا۔ “ دوسرا معنی کتاب ہے، فرمایا : ( وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ ) [ یٰسٓ : ١٢ ] ” اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں محفوظ کر رکھا ہے۔ “ پہلا معنی مراد ہو تو اہل ایمان کے امام انبیاء ( علیہ السلام) ہوں گے اور کفار و مشرکین کے امام ان کے باطل سردار ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ) [ القصص : ٤١ ] ” اور ہم نے انھیں ایسے سردار بنایا جو آگ کی طرف دعوت دیتے تھے۔ “ وہ لوگ جنھوں نے کتاب و سنت کے سوا کسی کی پیروی نہیں کی وہ اپنے امام محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بلائے جائیں گے اور ان سے بڑھ کر کون خوش نصیب ہوسکتا ہے جو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ہوں اور جنھوں نے کتاب و سنت کو چھوڑ کر کسی اور کی پیروی کی ہوگی، نیک ہو یا بد، وہ ان کے ساتھ بلائے جائیں گے، مگر وہ سب اپنے پیروکاروں سے صاف بری ہوجائیں گے، حتیٰ کہ شیطان بھی اپنے پیروکاروں سے بری ہونے کا اعلان کر دے گا۔ (دیکھیے ابراہیم : ٢٢) وہ نیک ائمہ اور بزرگ جو زندگی میں اپنی تقلید سے منع کرتے رہے اور کتاب و سنت کی پیروی کی تاکید کرتے رہے، وہ بھی اپنے ان جھوٹے پیروکاروں سے بالکل بری ہوجائیں گے، جنھوں نے اپنے اماموں کی بات مانی نہ کتاب و سنت پر عمل کیا۔ دیکھیے سورة بقرہ (١٦٥ تا ١٦٧) اور احقاف (٦) اور اگر دوسرا معنی مراد لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اس دن ہر شخص کو اس کی کتاب اعمال کے ساتھ بلایا جائے گا۔ یہاں یہ معنی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ آگے کتاب کو دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیے جانے کی بات کی گئی ہے۔ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ : دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے ہی سے انھیں آنے والی خیر و سعادت کا پتا چل جائے گا، چناچہ وہ خوشی خوشی اسے پڑھیں گے اور دوسروں کو بھی دکھائیں گے۔ دیکھیے سورة حاقہ (١٩) ۔ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا : کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں باریک دھاگے کو ” فَتِيْلًا “ کہتے ہیں، یعنی تھوڑا سا ظلم بھی نہیں ہوگا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The word: اِمَام (Imam) in the first sentence of verse يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ translated as & (Think of) the Day We will call every people with their book of deeds& appears here in the sense of &book& as in Surah Ya Sin: وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ (and We have enumerated everything in a clear book - 36:12). Here, إِمَامٍ مُّبِينٍ means a clear book. Then, &kitab& is called &imam& for the reason that, in the event of some error or difference, one turns to the book very much like turning to a religious leader who is fol¬lowed. (Qurtubi) And it also appears from a Hadith of Tirmidhi as narrated by Sayyid¬na Abu Hurairah (رض) (Tirmidhi calls it Hasan Gharib) that, &imam& in this verse means &kitab.& The words of the Hadith are given below: يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ قال یُدعٰی اَحَدُھُم فَیُعطٰی کِتَابُہ بِیَمَینِہٖ Explaining the verse يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ (71), the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself said: One of them will be called and his book of deeds will be given in his right hand. (From a lengthy Hadith) It also stands established from this Hadith that &imam& has been used here in the sense of &book&, and that &kitab& signifies the &book of deeds.& (Maulana Ashraf Thanavi (رح) has, therefore, translated &imam& as the &book of deeds& ) Also reported from some commentators, including Sayyidna ` Ali al-Murtada (رض) and Mujahid, is the meaning of &imam& as religious lead¬er. It means that everyone is to be called as the follower of a certain lead¬er - whether they be blessed prophets or their deputies, the Shaykhs and the ` Ulama&, or leaders who have been inviting people to error and sin. (Qurtubi) Given this meaning, the sense of the verse would be that everyone will be called by the name of his or her leader and all those so called will be assembled at one place. For example, there will be the followers of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، the followers of Sayyidna Musa and Sayyidna ` Isa (علیہم السلام) to and the followers of Sayyidna Muhammad al-Mustafa (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Then, possibly the names of those will also be called out who are their di¬rect instructors or leaders (such as ` Ulama& and religious guides). The Book of Deeds As it appears from several verses of the Holy Qur&an, only disbeliev¬ers will be given the book of deeds in the left hand. This is as it is said in the verse:إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ الْعَظِيمِ (Indeed, he was not used to believing in Allah, the Great - al-Haqqah, 69:33) and also in another verse: إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ‌(Indeed, he surmised that he would never return - a1-Inshigaq, 84:14). In the first verse quoted above, faith has been negated explicitly while the second carries a denial of the Hereafter - which too is disbelief after all. This comparative look tells us that those who shall get their book of deeds in the right hand will be the people of faith, pious or sinner. The believer will read his or her book of deeds in delight. In fact, the happy believer will have others read it too. This happiness will be because of having one&s &Iman (faith) intact and because of deliverance from eternal punishment - though, punishment may also come for some deeds. How the book of deeds will be given in the right or the left hand is so¬mething not mentioned in the Holy Qur’ an. But, the expression: تَطَاٰیُرُالکُتُبِ - (causing the books fly) has appeared in some Ahadith (reported by Ahmad on the authority of Sayyidah ` A&ishah (رض) & ascending to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . And in some narrations of Hadith, it appears that all books of deeds will be there at one place under the ` Arsh (Throne). Then a wind will blow and cause these to fly and reach the hands of people in a manner that some will get it in their right hand and some others in the left. (Reported by al-` Uqaili on the authority of Sayyidna Anas (رض) ascending to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) (Bayan al-Qur&an from Ruh al-Ma’ ani)

خلاصہ تفسیر : (اس دن کو یاد کرنا چاہئے) جس روز ہم تمام آدمیوں کو ان کے نامہ اعمال سمیت (میدان حشر میں) بلاویں (اور نامہ اعمال اڑا دیئے جاویں گے پھر کسی کے داہنے ہاتھ اور کسی کے بائیں ہاتھ میں آجاویں گے) پھر جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاوے گا (اور یہ اہل ایمان ہوں گے) تو ایسے لوگ اپنا نامہ اعمال (خوش ہو کر) پڑھیں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جاوے گا (یعنی ان کے ایمان اور اعمال کا ثواب پورا پورا ملے گا ذرا کم نہ ہوگا خواہ زیادہ مل جائے اور عذاب سے نجات بھی ہوگی خواہ اول ہی یا گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد) اور جو شخص دنیا میں (راہ نجات دیکھنے سے) اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی (منزل نجات تک پہنچنے سے) اندھا رہے گا اور (بلکہ وہاں دنیا سے بھی) زیادہ گم کردہ راہ ہوگا (کیونکہ دنیا میں تو گمراہی کا علاج ممکن تھا وہاں یہ بھی نہ ہو سکے گا یہ وہ لوگ ہوں گے جن کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا) معارف و مسائل : (آیت) يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ اس آیت میں لفظ امام بمعنی کتاب ہے جیسا کہ سورة یسین میں ہے (آیت) وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ اس میں امام مبین سے مراد واضح کتاب ہے اور کتاب کو امام اس لئے کہا جاتا ہے کہ بھول چوک اور اختلاف کے وقت کتاب ہی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جیسے کسی امام مقتدا کی طرف رجوع کیا جاتا ہے (قرطبی) اور ترمذی کی حدیث بروایت ابوہریرہ (رض) (جس کو ترمذی نے حسن غریب کہا ہے) اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ امام سے مراد اس آیت میں کتاب ہے الفاظ حدیث کے یہ ہیں يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ قال یدعی احدہم فیعطی کتابہ بیمینہ (الحدیث بطولہ) آیت يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ کی تفسیر میں خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ ایک شخص کو بلایا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دے دیا جائے گا۔ اس حدیث سے یہ بھی متعین ہوگیا کہ امام بمعنے کتاب ہے اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کتاب سے مراد نامہ اعمال ہے اسی لئے خلاصہ تفسیر از بیان القرآن میں اس کا ترجمہ نامہ اعمال سے کردیا گیا ہے اور حضرت علی مرتضی (رض) اور مجاہد وغیرہ مفسرین سے یہاں لفظ امام کے معنی مقتدا اور پیشوا کے بھی منقول ہیں کہ ہر شخص کو اس کے مقتدا و پیشوا کا نام لے کر پکارا جائے خواہ وہ مقتدا و پیشوا انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے نائب مشائخ و علماء ہوں یا گمراہی اور معصیت کی طرف دعوت دینے والے پیشوا (قرطبی) اس معنے کے لحاظ سے مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ میدان حشر میں ہر شخص کو اس کے مقتدا اور پیشوا کے نام سے پکارا جائے گا اور سب کو ایک جگہ جمع کردیا جائے گا مثلا متبعین ابراہیم (علیہ السلام) متبعین موسیٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) و متبعین محمد مصطفے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر ان کے ذیل میں ممکن ہے کہ ان متبعین کے بلاواسطہ مقتداؤں کا نام بھی لیا جائے۔ نامہ اعمال : قرآن مجید کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال صرف کفار کو دیا جائے گا جیسا کہ ایک آیت میں ہے (آیت) اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤ ْمِنُ باللّٰهِ الْعَظِيْمِ اور ایک دوسری آیت میں ہے (آیت) اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَ پہلی آیت میں صراحۃ ایمان کی نفی کی گئی ہے اور دوسری آیت میں انکار آخرت مذکور ہے وہ بھی کفر ہی ہے اس تقابل سے معلوم ہوا کہ داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال اہل ایمان کو دیا جائے گا خواہ متقی ہوں یا گناہ گار مومن اپنے نامہ اعمال کو خوشی کے ساتھ لے گا بلکہ دوسروں کو بھی پڑھوائے گا یہ خوشی ایمان کی اور عذاب ابدی سے نجات کی ہوگی گو بعض اعمال پر سزا بھی ہوگی۔ اور قرآن کریم میں نامہ اعمال داہنے یا بائیں ہاتھ میں دیئے جانے کی کیفیت مذکور نہیں لیکن بعض احادیث میں تطایرالکتب کا لفظ آیا ہے (رواہ احمد عن عائشہ (رض) مرفوعا) اور بعض روایات حدیث میں ہے کہ سب نامہ اعمال عرش کے نیچے جمع ہوں گے پھر ایک ہوا چلے گی جو سب کو اڑا کر لوگوں کے ہاتھ میں پہنچا دے گی کسی کے داہنے ہاتھ میں (اخرجہ العقیلی عن انس مرفوعا) بیان القرآن از روح المعانی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71؀ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ إِمام : المؤتمّ به، إنسانا كأن يقتدی بقوله أو فعله، أو کتابا، أو غير ذلک محقّا کان أو مبطلا، وجمعه : أئمة . وقوله تعالی: يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ [ الإسراء/ 71] أي : بالذي يقتدون به، الامام وہ ہے جس کی اقتداء کی جائے خواہ وہ انسان ہو یا اس کے قول وفعل کی اقتداء کی جائے یا کتاب وغیرہ ہو اور خواہ وہ شخص جس کی پیروی کی جائے حق پر ہو یا باطل پر ہو اس کی جمع ائمۃ افعلۃ ) ہے اور آیت :۔ { يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ } ( سورة الإسراء 71) جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے ۔ میں امام سے وہ شخص مراد ہے جس کی وہ اقتداء کرتے تھے ۔ قرأ والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ( ق ر ء) قرءت المرءۃ وقرءت الدم ۔ القراءۃ کے معنی حروف وکلمات کو ترتیل میں جمع کرنے کے ہیں کیونکہ ایک حروت کے بولنے کو قراءت نہیں کہا جاتا ہے اور نہ یہ عام ہر چیز کے جمع کے کرنے پر بولاجاتا ہے ۔ لہذ ا اجمعت القوم کی بجاے قررءت القوم کہنا صحیح نہیں ہے ۔ القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں فتل فَتَلْتُ الحبل فَتْلًا، والْفَتِيلُ : الْمَفْتُولُ ، وسمّي ما يكون في شقّ النّواة فتیلا لکونه علی هيئته . قال تعالی: وَلا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا [ النساء/ 49] ، وهو ما تَفْتِلُهُ بين أصابعک من خيط أو وسخ، ويضرب به المثل في الشیء الحقیر . وناقة فَتْلَاءُ الذّراعین : محكمة . ( ف ت ل ) فتلت الحبل تفلا کے معنی رسی کو بل دینے کے ہیں اور بٹی ہوئی رسی کو مفتول کہا جاتا ہے ۔ اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں جو بار یک سا ڈور اہوتا ہے اسے بھی فتیل کہا جاتا ہے کیونکہ وہ رسی کی شکل و صورت پر ہوتا ہے ( عربی زبان میں یہ حقیر شے کے لئے ضرب المثل ہے ) جیسے فرمایا : ۔ وَلا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا [ النساء/ 49] اور ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ فتیل اصل میں اس تاگے یا میل کو کہتے ہیں جو وہ انگلیوں میں پکڑ کر پٹی جاتی ہے اور یہ حقیر چیز کے لئے ضرب المثل ہے ۔ ناقۃ فتلاء الذراعین مضبوط بازؤں والی اونٹنی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

روز محشر امام کون ہوگا ؟ قول باری ہے (یوم ندعوا کل اناس بامامھم ۔ پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے) ایک قول کے مطابق یہ اعلا ن ہوگا کہ ابراہیم کے پیروکاروں کو لائو، موسیٰ کے پیروکاروں کو لائو، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیروکاروں کو لائو، یہ اعلا سن کر انبیاء (علیہم السلام) کے تمام پیروکار ایک ایک کر کے کھڑے ہوجائیں گے اور اپنے اپنے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں پکڑ لیں گے پھر پیشوا یان ضلال کے پیروکاروں کو نام بنام اسی طریقے سے پکارا جائے گا۔ مجاہد اور قتادہ کا قول کہ امام سے مراد نبی ہے۔ حضرت ابن عباس ، حسن اور ضحاک کا قول ہے کہ امام سے مراد نامہ اعمال ہے ابوعبیدہ کے قول کے مطابق ہر گروہ کو اس شخص کے ساتھ بلایا جائے گا جس کی دنیا میں یہ اقتدا ر کرتے تھے۔ ایک قول کے مطابق امام سے مراد وہ کتاب ہے جس میں حلال و حرام اور فرائض کا ذکر ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧١) قیامت کے دن جب کہ ہم تمام انسانوں کو ان کے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ یا ان کے نامہ اعمال سمیت یا یہ کہ ان کے دعوت ہدایت دینے والے یا دعوت گمراہی دینے والے کے ساتھ ملا دیں گے۔ پھر جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو ایسے حضرات اپنی نیکیوں کو خوش ہو کر پڑھیں گے اور ان کی نیکیوں میں ذرا کمی نہ کی جائے گی اور نہ ان کی برائیوں میں ذرا اضافہ کیا جائے گا۔ کھجور کی گٹھلی کے درمیان جو لکیر ہوتی ہے اس میں جو چیز ہو اس کو فتیل کہتے ہیں اور انگلیوں کی جڑوں میں جو معمولی سا میل کچیل ہو، اس معنی میں بھی لفظ فتیل کا استعمال کیا گیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧١ (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ) پھر ذرا اس دن کا خیال کرو جس دن تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے لیے اس طرح بلایا جائے گا کہ ہر گروہ اپنے راہنما یا لیڈر کے ساتھ حاضر ہوگا۔ پچھلی آیات میں تمام مخلوق پر انسان کی فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ چناچہ جب انسان کو اس کائنات میں اس قدر اعلیٰ مقام اور مرتبے سے نوازا گیا ہے تو پھر اس کا محاسبہ بھی ہونا چاہیے : ” جن کے رتبے ہیں سوا ‘ ان کی سوا مشکل ہے ! “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

86. We learn from the Quran that on the Day of Resurrection, the righteous people will be given their records in their right hands and they will be overjoyed to have a look at it and will show it to others. As regards to the wicked people, they will get their records in their left hands and in their shame will try to hide it behind their backs. Please refer to (Surah Al-Haaqqa, Ayats 19-28), (Surah Al-Inshiqaq, Ayats 7-13).

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :86 یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے روز نیک لوگوں کو ان کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ خوشی خوشی اسے دیکھیں گے ، بلکہ دوسروں کو بھی دکھائیں گے ۔ رہے بداعمال لوگ ، تو ان کا نامہ سیاہ ان کو بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اسے لیتے ہی پیٹھ پیچھے چھپانے کی کوشش کریں گے ۔ ملاحظہ ہو سورہ الحاقہ آیت ١۹ ۔ ۲۸ ۔ اور سورہ انشقاق آیت ۷ ۔ ١۳

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧١:۔ اس آیت کی تفسیر میں علماء مفسرین نے لفظ امام کے مختلف معنے لیے ہیں لیکن نامہ اعمال کے لفظ کے ساتھ لفظ امام کی تفسیر کا کرنا زیادہ صحیح ہے کس واسطے کہ یہ تفسیر ترمذی اور مسند بزار وغیرہ میں خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آچکی ہے چناچہ ابوہریرہ (رض) سے ترمذی مسند بزار اور صحیح ابن حبان میں معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن بعضے لوگوں کو بلا کر ان کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا جس سے ایسے شخص کے منہ پر ایک طرح کا نور آجائے گا اس شخص کے سر پر ایک تاج رکھ دیا جائے گا جس جماعت سے یہ شخص بلایا گیا تھا اس جماعت میں واپس آن کر باقی کے لوگوں کو خوشخبری دیوے گا کہ ہماری ساری جماعت کے لوگوں کے ساتھ یہی معاملہ پیش آئے گا اور جماعت کے لوگ اس کو نجات کی مبارک بادی دیویں گے اور بعضے لوگوں کو ایک جماعت میں سے ہر ایک شخص کو بلا کر بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا جس سے اس شخص کا منہ کالا ہوجائے گا اور یہ شخص جس جماعت میں سے گیا تھا اس جماعت میں آنا چاہے گا تو باقی کے لوگ اس کو جھڑکیں گے کہ ہماری جماعت میں مت آؤ وہ جماعت والوں کو چھیڑے گا اور کہے گا جو میرا حال ہوا ہے وہی ساری جماعت کا حال ہونیوالا ہے ١ ؎۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر (رض) کی حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے ٢ ؎۔ کہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے یہ حدیث ولا یظلمون فتیلا کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر حرام ٹھہرا لیا ہے اس واسطے قیامت کے دن اعمالناموں کے موافق جزا وسزا ہوگی کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔ شاہ صاحب نے ترجمہ میں امام کے معنے سردار کے جو قرار دیئے ہیں وہ مجاہد کے قول کے موافق ہیں باقی کے دونوں ترجموں میں بھی یہی مجاہد کا قول لیا گیا ہے اور حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اسی قول کو ترجیح دی ہے لیکن اوپر ابوہریرہ (رض) کی حدیث جو گذری حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے ٣ ؎۔ ١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ١٩٤ ج ٤۔ ٢ ؎ تفسیر ہذاص ٣٤ ج ٣۔ ٣ ؎ فتح البیان ص ٨٠٤ ج ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:71) یوم۔ فعل محذوف اذکرکا مفعول بہٖ ہے ای اذکر یوم ندعوا۔۔ الخ۔ یقرء ون مضارع جمع مذکر غائب قراء ۃ مصدر (باب فتح) وہ پڑھیں گے۔ وہ پڑھتے ہیں۔ فتیلا۔ فتل یفتل (ضرب) فتل رسی بٹنا۔ فتلت الحبل فتلا رسی کو بل دیتا بٹی ہوئی رسی کو مفتول کہتے ہیں۔ کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں جو ایک باریک سا ڈورا ہوتا ہے اسے بھی فتیل کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ رسی کی شکل و صورت پر ہوتا ہے۔ فتیل اصل میں اس دھاگے کو کہتے ہیں جو دو انگلیوں میں پکڑ کر بٹی جاتی ہے۔ یہ حقیر چیز کے لئے ضرب المثل ہے۔ فتیلہ وہ بتی جس سے چراغ روشن کیا جاتا ہے۔ لا یظلمون فتیلا۔ ان پر ذرہ برابر بھی ظلم یا بےانصافی نہیں کی جائے گی۔ نیز ملاحظہ ہو 4:49 ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

(شوکانی)3 مثلاً پکارا جائے :” اے محمد (ﷺ) کی امت، اے موسیٰ (علیہ السلام) کی امت والے ! علی ہذا القیاس یا اے قرآن کے ماننے والو ! اے توراۃ کے ماننے والو ! اے انجیل پر عمل کرنے والو۔ “ بعضوں نے امام سے مراد ” نامہ اعمال “ لیا ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا :” وکل شی حصینہ فی امام مبین اور ہر چیز کو ہم نے ایک واضح امام میں شمار کر رکھا ہے۔ (یٰسین :12) حافظ ابن کثیر نے اسی قول کو راجح قرار دیا ہے اور امام سے مراد ہر وہ شخص ہوسکتا ہے جس کی دنیا میں پیروی کی جاتی ہے۔ چناچہ اہل ایمان کے امام انبیاء (علیہم السلام) اور کفار و مشرکین کے امام ان کے سرداران باطل ہونگے جیسے فرمایا : وجعلنا ھم اتم یدعون الی النار (قصص 4) سلف میں بعض اہل علم کا قول ہے کہ اس آیت میں اصحاب حدیث کی بڑی فضیلت ہے کیونکہ ان کا امام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کوئی نہیں۔ (ابن کثیر)4 وہ خوشی سے اپنا نامہ اعمال دوسرے کو دکھائیں گے جیسا سورة حاقہ آیت 19 میں مذکور ہے تفصیل کے لئے دیکھئے سورة نساء 49)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٨) اسرارومعارف اب اگر یہ برائی کرتا ہے یا شیطان کی پیروی کرتا ہے تو آخر ایک روز ہر انسان کو اس کے نامہ اعمال سمیت بلایا جائے گا اور میدان حشر میں اکٹھا کیا جائے گا ۔ (امام) کہ امام سے مراد اعمالنامہ ہے کہ حدیث شریف میں یہ معنی بھی وارد ہے اور امام بمعنی پیشوا ومقتدا بھی مراد ہے کہ جیسے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ماننے والے یا ان کے نائبین مشائخ وعلماء کے پیچھے چلنے والے اور دوسرے شیطان کے پیروکار تو گویا دنیا میں جو عمل اور کردار ہے یا جس کی پیروی کرتا ہے ، اسی کے گروہ یا طبقے میں اٹھایا جائے گا کہ امام کا معنی مطلق پیشوا ہے نیک ہو بد مومن ہو یا کافر کہ امامت نبوت کی طرح کوئی شرعی منصب نہیں ، خود کتاب اللہ میں کفار کے پیشواؤں کو آئمۃ الکفر کہا گیا ہے تو حاضری پر جب اعمالنامے تقسیم ہوں گے تو مومن کو دائیں ہاتھ میں تھما دیا جائے گا نیک ہو یا گناہگار مگر کفر اور ابدی عذاب سے تو بچ گیا لہذا خوش ہو کر اپنا اعمالنامہ پڑھے گا اور کسی پر معمولی زیادتی بھی نہ کی جائے گی ، جبکہ کفار کو بالعکس یعنی بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جس پر وہ نجات سے ناامید ہوجائیں گے ۔ مگر جو یہاں اندھا پن اختیار کئے رہا اور راہ ہدایت کو نہ پا سکا اسے بھلا وہاں نجات کا راستہ کیسے ملے گا ، جیسے یہاں اندھا تھا وہاں بھی ہوگا اور جیسے یہاں گمراہ تھا وہاں بھی نجات کی راہ سے بھٹک جائے گا ۔ (کفار ومشرکین کی دوستی) یہ بدبخت نہ صرف خود بھٹکے ہوئے ہیں بلکہ جس سے دوستی کرتے ہیں اس کو بھی راہ سے ہٹا دیتے ہیں حتی کہ یہ آپ کو بھی احکام الہی کے خلاف کرنے پر اکسانا چاہتے تھے بلکہ پوری کوشش کرچکے ہیں کہ اگر آپ ایسا کریں تو ہم بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کریں ۔ (مشرکین اور کفار سے دوستی کے لیے مسلمانوں کی حمایت سے دستبردار ہونا) مشرکین مکہ کے سرداروں نے خدمت عالی میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ ہم سب کی طرف مبعوث ہوئے ہیں تو ہمارے لیے بھی موقع پیدا فرمائیں کہ ہم آپ کی خدمت میں بیٹھ کر ارشادات تو سن سکیں اور آپ جانتے ہیں کہ شہر کے فقراء کے ساتھ ہم نہیں بیٹھ سکتے تو آپ ان غریب مسلمانوں کو مجلس سے اٹھا دیا کریں اس پر یہ آیہ مبارک نازل ہوئی کہ یہ آپ سے اللہ کی وحی کے خلاف کروانا چاہتے ہیں ، اور مسلمان سے الگ ہونے کی شرط پر کفار سے دوستی گویا اللہ جل جلالہ کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے اور جب یہ عمل آپ سے صادر ہوتا تو اس کا معنی تھا کہ اللہ جل جلالہ کا حکم ہی ایسا ہے کہ نبی تو اللہ جل جلالہ کے حکم کے خلاف نہیں کرتا تو اتنے بڑے نقصان کے عوض دوستی اور وہ بھی کافر کی جو بہرحال دشمنی ہی ہوتی ہے ۔ اگر آپ کو عصمت نبوت عطا فرما کر ثابت قدم نہ کردیا جاتا تو ممکن ہے کہ کسی قدر آپ کا میلان ان کی بات کی طرف ہوجاتا یہ شان رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے کہ عصمت نبوت نے تو اللہ جل جلالہ کے حکم کی خلاف ورزی کا امکان ہی ختم کردیا اس کے بغیر بھی نبی کا وجود تخلیقی طور پر اتنا پاکیزہ ہوتا ہے اور مزاج اتنا صالح ہوتا ہے کہ اللہ جل جلالہ کے حکم اور پسند کے خلاف جانا طبعا گوارا نہیں کرتا یعنی پھر بھی صرف یہ امکان تھا کہ کسی قدر آپ کا میلان اس طرف ہوجاتا ۔ (مسلمانوں کی ذلت یا مخالفت پر کفار کی دوستی خریدنے کی سزا) اور اگر آپ ایسا کرتے جو نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا اور نہ اس کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے امکان ہی تھا ، مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرکے ارشاد فرمانے سے مراد ہے کہ پھر دنیا میں کوئی دوسرا ایسا نہیں جو یہ عمل کرکے اس سزا سے بچ سکے کہ ایسا کرنے والے کو ہم دوگنا عذاب اس دنیا میں بھی دیتے اور بعد موت برزخ اور آخرت میں بھی اس کے عذاب کو دوگنا کردیتے اور اسے ہمارے مقابل کوئی مددگار بھی نصیب نہیں ہوسکتا ، اب اس ارشاد باری کی روشنی میں ان قوموں ، ملکوں اور حکمرانوں کو دیکھا جائے جو امریکہ اور یورپ کے کفار کی دوستی کے بدلے مسلمانوں سے بےاعتنائی برتتے ہیں کہ یہ کتنا بڑا ظلم ہے اور سب کو ہدایت دے ۔ بلکہ کفار تو آپ کو شہر بدر کرنے کے درپے تھے پھر دوستی کیسی کہ دنیاوی اعتبار سے بھی ان کے باطن میں تو محض آپ کو خدام سے محروم کرکے شہر سے نکلنے پر مجبور کرنا تھا ، مگر اللہ جل جلالہ کا قانون یہ ہے کہ جو لوگ اس کے نبیوں کو اپنی سرزمین سے نکال دیتے ہیں پھر وہ بھی وہاں سکھ کا سانس نہیں لے سکتے اور نہ رہ سکتے ہیں ، لہذا اگر یہ ایسا کرتے تو انہیں بھی نتیجہ بھگتنا پڑتا کہ آپ سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو جن اقوام نے نکال دیا وہ اسی ضابطہ کے تحت تباہ ہوگئیں کہ یہی سنت اللہ ہے اور سنت اللہ میں کبھی تفاوت نہیں ہوتا ، چناچہ اہل مکہ نے بھی یہ کر کے دیکھ لیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہجرت پہ مجبور کیا مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ایک لمحہ آرام نہ پا سکے ، جنگوں میں ذلیل اور تباہ ہوئے قحط کا شکار ہوئے اور بالآخر مکہ سے ہاتھ دھو بیٹھے اور آٹھ ہجری میں مکہ مکرمہ فتح ہوگیا ، یہی حال ان افراد کا ہوتا ہے جو سنت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی ذات یا اپنے عمل سے خارج کردیتے ہیں ، کہ پھر دو عالم میں تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے ، لہذا دنیا کے امن اور آبرو کے لیے بھی شہروں یا قوموں میں نبی کو وجود اور اتباع ضروری ہے تو افراد میں بھی اطاعت نبوت کا عنصر عزت وآبرو کی بنیاد ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 77 اوتی دیا گیا۔ یمین داھنا ہاتھ۔ قتیل دھاگہ، ذرہ برابر، اعمی اندھا، نابینا۔ ثبتنا ہم نے ثابت قدم رکھا۔ ضعف دوگنا۔ دوہرا۔ سنۃ طریقہ، قانون الٰہی۔ تحویل تحویل کا معنی صرف تبدیلی ہے۔ تشریح : آیت نمبر 71 تا 77 اصل میں جس شخص کو ایمان قبول کر کے راہ حق پر چلنا ہے اس کو نہ تو معجزات، کرامات اور ادھر ادھر کی باتوں سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ معمولی باتوں سے اس کے قدم ڈگمگاتے ہیں بلکہ اس نے جس سچائی کو قبول کرلیا ہے اس پر عمل کرنے کو سعادت سمجھتا ہے لیکن جس کو صرف باتیں بنانا ہیں اور اس کو آخرت کی کوئی فکر نہیں ہوتی اس کو سوائے اعتراضات کرنے کے دوسرا کام نہیں ہوتا۔ چناچہ کفار مکہ کبھی تو کہتے کہ اے محمد ! دراصل ہم آپ کے پاس آ کر آپ کی بہت سی باتیں سننا چاہتے ہیں لیکن چند باتیں ایسی ہیں جو ہمارے قدموں کو روک لیتی ہیں مثلاً آپ کے پاس معاشرہ کے نچلے طبقے کے غریب و نادار لوگ یا غلام بیٹھے رہتے ہیں ہم ان کے برابر بیٹھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اگر آپ ان کو اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ کے پاس آ کر آپ کی باتیں سن سکتے ہیں۔ کبھی کہتے کہ آپ جس قرآن کو پڑھتے ہیں اس میں ہمارے رسم و رواج اور ہمارے معبودوں کی برائی ہوتی ہے یا تو آپ ان کو قرآن سے نکال دیں یا ان کی اصلاح کردیں یا جس طرح آپ حجر اسود کو ہاتھ لگاتے ہیں ہمارے بتوں کو بھی کبھی ہاتھ لگا دیجیے۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو ہم مل جل کر اتحاد و اتفاق کی کوئی راہ نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ! یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے آپ کو ثابت قدم رکھا ورنہ ان کفار نے تو آپ کو راہ حق سے بھٹکانے کا پوری طرح انتظام کرلیا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ اگر آپ نے ان کی باتوں پر دھیان دیا ہوتا تو یہ آپ کی محبت کا دم بھرنے لگتے اور آپ کو اپنا پکا دوست بنا لیتے لیکن اس وقت آپ اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتے اور یہ ایک ایسانا قابل معافی جرم بن جاتا کہ اس پر آپ کو دنیا اور آخرت میں دگنا عذاب دیا جاسکتا تھا لیکن لیکن اللہ نے ان کفار کے مقابلے میں آپ کو ثابت قدم رکھا اور اسی نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ ان کفار کی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ ہو سکتا ہے یہ کفار اس حد تک چلے جائیں کہ جب آپ ان کے مطالبات کو تسلیم نہ کریں تو آپ کو مکہ مکرمہ سے نکالنے کی تدابیر کریں۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان سے صاف صاف کہہ دیجیے کہ شروع ہی سے اللہ کا یہ قانون رہا ہے جس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی کہ جب بھی کوئی قوم اللہ کے نبی کو نکال دیتی ہے تو وہ قوم بھی بہت عرصہ تک اپنی جگہ چین اور اطمینان سے نہیں رہ سکتی یعنی اس بستی پر اللہ کا عذاب آ کر رہتا ہے۔ لہٰذا اگر کفار مکہ نے ایسا کیا تو یہ خود بھی بہت عرصہ تک اس سر زمین پر نہ رہ سکیں گے اور ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن جائے گی۔ فرمایا ان لوگوں کو اپنی آخرت کی فکر کرنا چاہئے جب ہر شخص اپنے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہوگا ۔ کسی کے داہنے ہاتھ میں اور کسی کے بائیں ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ ہوگا۔ جس کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا وہ تو بہت خوش ہوگا۔ اور دوسروں کو بھی دکھائے گا لیکن جس کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پہنچے گا وہ نہایت شرمندہ اور ذلیل و رسوا ہو کر رہ جائے گا۔ انسانوں کے نامہ اعمال کس طرح ان کے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اس کی تفصیل معتبر احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ حدیث میں فرمایا گیا کہ جب لوگوں کو میدان حشر میں جمع کرلیا جائے گا تو تمام لوگوں کے اعمال نامے عرش الٰہی کے نیچے جمع کئے جائیں گے۔ پھر ایک ایسی ہوا چلے گی کہ وہ اعمال نامے اڑ ا اڑ کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں گے یہ ایک محسوس علامت ہوگی کہ آئندہ کس کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے چناچہ جو لوگ صاحب ایمان ہوں گے ان کے داہنے ہاتھ میں اور جو کفار ہوں گے ان کے بائیں ہاتھ میں ان کے اعمال نامے پہنچ جائیں گے۔ ان آیات سے چند اصولی باتیں معلوم ہوئیں۔ (1) جتنے بھی اولین و آخرین انسان ہیں وہ سب کے سب ایک ایسے میدان میں جمع ہوں گے جس کو میدان حشر یا انصاف کا دن قرار دیا گیا ہے۔ یعنی اس دن کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔ بلکہ اس نے جیسے اعمال کئے ہوں گے اس کو اچھی یا بری جزا دی جائے گی۔ (2) جو حق و صداقت کی روشنی سے دنیا میں محروم رہا اور وہ حق دیکھتے ہوئے بھی اس سے اندھا بنا رہا قیامت میں بھی اندھا ہی رہے گا یعنی یہ شخص آخرت میں بھی ہر خیر اور بھلائی کے دیکھنے سے محروم رہے گا جو بڑی بدقسمتی ہوگی۔ (3) فرمایا کہ اے نبی ! یہ لوگ آپ کو وحی الٰہی سے ہٹانے کی فکر میں تھے تاکہ آپ اس حکم کے سوا ہماری طرف بعض غلط چیزوں کو منسوب کردیں اور وہ آپ کو دوست بھی بنا لیتے۔ ممکن تھا کہ آپ ان کی طرف کچھ مائل ہوجاتے اور غریبوں کو اپنی محفل سے نکال دیتے لیکن اللہ نے آپ کو ثابت قدم رکھا اور وہ کفار اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کی وساطت سے ساری امت کو یہ بات بتا دی کہ اگر وہ کفار کے جھانسے اور چال میں آ کر کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے جس سے اللہ کے دین کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو اس پر اللہ کی طرف سے دوگنا عذاب اور دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی مسلط کردی جائے گی۔ (4) اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی اس سازش کو کھول کر اپنا قانون ارشاد فرمادیا۔ فرمایا کہ اے نبی ! وہ لوگ جو آپ کی دشمنی میں حد سے آگے بڑھ رہے ہیں اس بات کو یاد رکھیں کہ اللہ کا یہ قانون اور دستور ہے کہ جب بھی کسی بستی سے اللہ کے نبی کو نکالا گیا تو پھر اس بستی کے لوگ بھی زیادہ عرصہ تک اپنی جگہ نہ ٹھہر سکے۔ فرمایا کہ اگر مکہ والوں نے ایسا کیا تو پھر وہ خود بھی اس سر زمین پر نہ رہ سکیں گے اور اللہ کا وہ قانون نافذ ہو کر رہے گا جس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی اور مکہ والوں کو ہر طرح کی ذلت و رسوائی سے واسطہ پڑ کر رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو مکہ والے شدید مشکلات میں گرفتار ہوگئے۔ ان پر اتنا شدید قحط پڑا کہ وہ کتے، بلیاں اور پتے تک کھانے پر مجبور ہوگئے۔ پھر اللہ نے بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا سے اس عذاب کو دور فرمایا۔ اس موقع پر یہ عرض کروں گا کہ کفار مکہ نے ایسے حالات پیدا کردیئے تھے کہ آپ اور آپ کے صحابہ مکہ سے نکل جائیں۔ ان کے لئے مکہ کی سر زمین کو تنگ کردیا گیا تھا لیکن انہوں نے سازشوں کے باوجود آپ کو نکالا نہیں تھا بلکہ اللہ کے حکم سے آپ نے ہجرت فرمائی تھی اسی لئے ان پر وہ عذاب نہیں آیا جو پہلی قوموں پر آیا تھا لیکن قحط اور بلاؤں میں گرفتار ہونا یہ بھی ایک عذاب ہی تھا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : انسان کو اشرف المخلوقات اور بحروبر میں عزت و عظمت سے نوازنے کے ساتھ کھلا نہیں چھوڑ دیا گیا۔ بلکہ اس کا پورا پورامحاسبہ ہوگا۔ قرآن مجید بار بار یہ حقیقت ازبر کرواتا ہے کہ اے انسان ! تیرے ایک ایک عمل اور لفظ کو ضبط تحریر میں لایا جارہا ہے۔ کراماً کاتبین صبح و شام تیرے اعمال کا اندارج کر کے اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر رہے ہیں۔ قیامت کے دن پورے کا پورا ریکارڈ کتاب کی شکل میں تیرے سامنے رکھ دیا جائے گا پھر حکم ہو گا (اقْرَأْ کِتَابَکَ کَفَی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا )[ بنی اسرائیل : ١٤] ” اپنی کتاب یعنی اعمال نامے کو پڑھ۔ جو تیرے حساب کے لیے کافی ہے۔ “ انسان اپنا اعمال نامہ دیکھ کر پکا راٹھے گا کہ ہائے افسوس ! اس میں ہر چھوٹی بڑی بات لکھ دی گئی ہے۔ اس نے تو کسی بات کو نہیں چھوڑا۔ (الکہف : ٤٩) قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال نامہ کی طرف بلایا جائے گا جس کو اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ وہ اپنا اعمال نامہ پڑھ کر خوش ہوگا اور کسی پر دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ جو دنیا میں ہدایت سے اندھا رہا وہ آخرت میں اندھا ہوگا اور۔ یہاں پہلی آیت میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ لفظ امام کے صحابہ کرام (رض) نے تین معنی لیے ہیں۔ ١۔ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ امام سے مراد ہر امت کا نبی ہوگا۔ جن کو اللہ تعالیٰ حکم فرمائیں گے کہ اپنی امت کو لے کر میری بارگاہ میں فلاں وقت حاضر ہوجاؤ۔ چناچہ ہر نبی اپنی امت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو کر جواب دہ ہوگا۔ (بنی اسرائیل : ٧١) ٢۔ دوسری جماعت نے امام سے مرادہر شخص کا اعمال نامہ لیا ہے۔ کیونکہ ” بِاِمَامِھِمْ “ کے بعد یہ الفاظ آئے ہیں کہ جس شخص کو اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ لہٰذا صحابہ کرام (رض) اور تابعین کی دوسری جماعت کا خیال ہے کہ اس آیت کے سیاق وسباق کے حوالے سے یہاں ” امام “ سے مراد ہر شخص کا اعمال نامہ ہے۔ اور اسی کی طرف سب کو بلایا جائے گا۔ ٣۔ صحابہ کرام کی تیسری جماعت نے ” بِاِمَامِھِمْ “ کا یہ معنیٰ لیا ہے کہ ہر شخص کو اس کے امام یعنی پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا۔ جن لوگوں نے قرآن وسنت کے حاملین کو اپنا رہبر اور پیشوابنایا۔ وہ ان کے ساتھ پیش ہوں گے اور جن لوگوں نے برے لوگوں کو اپنا رہبر اور پیشوامانا۔ وہ ان کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔ ٤۔ جب سے مسلمانوں میں چار آئمہ کی تقلید کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ اس وقت سے لیکر بعض علماء اپنے اپنے امام کی اہمیت اور اس کی تقلید ثابت کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ کہ اس آیت کی بنیاد پر آئمہ کی تقلید ثابت ہوتی ہے لہٰذا مسلمانوں کو کسی ایک امام کا مقلد ہونا ضروری ہے۔ مسائل ١۔ قیامت کے دن سب کو ان کے نامہ اعمال کے ساتھ بلایا جائے گا۔ ٢۔ ہر امت کو اس کے نبی کے ساتھ بلایا جائے گا۔ ٣۔ جن کو نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ملے گا وہ اسے پڑھ کر خوش ہوگا۔ ٤۔ جس کو اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا وہ پچھتائے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا : ١۔ ہر جان کو اس کی کمائی کا پورا پورا صلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (البقرۃ : ٢٨) ٢۔ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (یونس : ٥٤) ٣۔ نیک لوگوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔ (مریم : ٦٠) ٤۔ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (الزمر : ٦٩) ٥۔ ہر انسان کو اس کے اعمال کا پورا صلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ (النحل : ١١١) ٦۔ قیامت کے دن ہر کسی کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (البقرۃ : ١٨١) ٧۔ ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور کسی پر دھاگے کے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (النساء : ١٢٤) ٨۔ ہر کسی کو اس کے اعمال کا صلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (آل عمران : ١٦١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ایک نیا منظر ہے ، مناظر قیامت میں سے۔ تمام لوگ میدان میں حشر میں ہوں گے۔ ہر جماعت کو اس کے نام و عنوان اور اس کے امام کے ساتھ پکارا جائے گا۔ اگر کسی کا کوئی نبی ہوگا تو وہ ان کا امام ہوگا۔ یا دنیا میں اگر ان کا کوئی پیشوا اور مقتداء ہوگا تو اس کے ساتھ۔ امام کے سامنے ان کو ان کا نامہ اعمال تھمایا جائے گا۔ دائیں ہاتھ ، جن کو اعمال نامے دئیے جا رہے ہیں وہ ان کو خوشی خوشی سے پرھ رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اعمال کا پورا پورا اجر ان کو مل رہا ہے۔ ایک فقیل (وہ دھاگہ جو گٹھلی کے درمیان ہوتا ہے) کے برابر بھی ان پر ظلم نہ ہوگا۔ جس شخص نے اس دنیا میں دلائل ہدایت کے دیکھنے میں اندھے پن کا ثبوت دیا ، وہ وہاں بھی اندھا ہوگا اور اپنے اعمال نامے میں کوء خیر و ہدایت نہ دیکھ سکے گا۔ اور جزاء پھر معلو ہے کیا ہوگی ؟ سیاق کلام کے اس منظر کو اس طرح بتاتا ہے کہ جس طرح وہ شخص قیامت میں اندھا ہوگا۔ ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہوگا۔ کوئی ہاتھ پکڑ کر اسے راہ راست پر لے جانے والا نہ ہوگا۔ نہ کوئی ایسا ذریعہ ہوگا۔ جس کی وجہ سے وہ راہ معلوم کرسکے۔ بس اس شخص کو اس منظر میں یوں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ ادھر ادھر پھر رہا ہے۔ آگے قاری پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ خود سوچ لے کہ ایسے شخص کا انجام کیا ہوا یا ہوگا ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن جن کے داہنے ہاتھ میں اعمالنامے دئیے جائیں گے وہ اپنے اعمالنامے پڑھ لیں گے جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے آخرت میں بھی اندھا ہوگا اوپر دو آیتوں کا ترجمہ لکھا گیا ہے پہلی آیت میں اعمال ناموں کی تفصیل اور دوسری آیت میں راہ ہدایت سے منہ موڑنے والوں کا اور قصداً اندھا بننے والوں کا تذکرہ ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ قرآن مجید میں لفظ ” امام “ کئی معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مفسر قرطبی نے حضرت ابن عباس اور حسن اور قتادہ (رض) سے یہاں بِاِمَامِھِمْ کی تفسیر ” بکتابھم “ نقل کی ہے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ والکتاب یسمی اماما لانہ یرجع الیہ فی تعرف اعمالھم لفظ امام کا جو معنی اس جگہ حضرت ابن عباس (رض) نے مراد لیا ہے سیاق کلام کے موافق ہے کیونکہ بعد میں داہنے ہاتھ میں اعمال نامے دئیے جانے کا ذکر ہے۔ قال القرطبی قولہ تعالیٰ فَمَنْ اُوْتِیَ کِتَابَہٗ ھذا یقوی قول من قال امامھم بکتابھم اسی سورت کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے کہ (وَ کُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ طٰٓءِرَہٗ فِیْ عُنُقِہٖ وَ نُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلْقہُ مَنْشُوْرًا) جس میں بتایا ہے کہ ہر انسان کو اس کا اعمال نامہ ملے گا، اور وہ کھلا ہوا دیکھ لے گا۔ اور یہاں فرمایا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دئیے جائیں گے وہ ان کو پڑھیں گے۔ چونکہ داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ مل جانا اس بات کی دلیل ہوگا کہ یہ لوگ نجات والے ہیں اور جنت والے ہیں۔ اس لیے خوشی خوشی اپنے اعمالنامہ کو پڑھیں گے۔ سورة حاقہ میں ہے کہ جس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ لوگوں سے کہے گا (ھَآؤُمُ اقْرَءُ وْاکِتَابِیَہْ ) (لو میرا اعمال نامہ پڑھ لو) یہ خوشی میں کہے گا۔ اپنا اعمال نامہ خود بھی پڑھے گا اور دوسروں کو بھی پڑھوائے گا اور وہ یوں بھی کہے گا۔ (اِنِّیْ ظَنَنْتُ اِنِّیْ مُلاَقٍ حِسَابِیَہْ ) (میں یقین رکھتا تھا کہ مجھے اپنے حساب سے ملاقات کرنا ہے) دنیا میں حساب کا یقین رکھا لہٰذا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتا رہا آج اس کا یہ پھل مل رہا ہے کہ اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں ہے اور آئندہ میرے لیے خیر ہی خیر ہے۔ (وَلاَ یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً ) اور ان پر ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا کھجور کی گٹھلی کے گڑھے میں جو تاگہ ہوتا ہے اہل عرب اسے فتیل کہتے تھے اور ذرا سی چیز بتانے کے لیے اسے بطور مثال پیش کیا کرتے تھے۔ اسی معنی کو بیان کرتے ہوئے (وَلاَ یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً ) فرمایا۔ سورۂ حاقہ میں ہے کہ برے لوگوں کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے۔ اور سورة انشقاق میں ہے کہ ان لوگوں کے اعمال نامے پشت کے پیچھے سے دئیے جائیں گے۔ مشکیں بندھی ہوئی ہونے کی صورت میں ہاتھ پیچھے ہوتے ہیں لہٰذا بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنا اور پشت کے پیچھے سے دیا جانا اس میں کوئی تعارض کی بات نہیں ہے۔ جن کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دئیے جائیں گے یہ کافر ہوں گے اور کافروں کی کبھی نجات نہ ہوگی۔ ہمیشہ دائمی عذاب میں رہیں گے۔ لفظ (بِاِمَامِھِمْ ) کے بارے میں حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ اس سے ہر امت کا نبی مراد ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ ہم سب لوگوں کو ان کے انبیاء کے ساتھ بلائیں گے، ہر امت اپنے نبی کے ساتھ ہوگی سورة نساء کی آیت (فَکَیْفَ اِذَاجِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَھِیْدٍ ) سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔ اور (بِاِمَامِھِمْ ) کی تفسیر یہ ہے (ونقلہ القرطبی عن ابن زید) کہ اس سے ہر امت کی کتاب مراد ہے۔ اہل تورات تورات کے ساتھ بلائے جائیں گے۔ اور قرآن والے قرآن کے ساتھ بلائے جائیں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی کتاب پر کیا عمل کیا ؟ اس کے اوامر کو کتنا اپنایا اور جن چیزوں سے اس نے منع کیا تھا اس سے کتنے بچے رہے ؟ فائدہ : بعض لوگوں نے بِاِمَامِھِمْ کا ترجمہ بامھاتھم سے کیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ قیامت کے دن لوگ ماؤں کے نام سے بلائے جائیں گے۔ یہ بات صحیح نہیں اول تو ام کی جمع امام نہیں آتی، دوسرے احادیث صحیحہ سے یہ بات ثابت ہے کہ باپوں کے نام سے بلائے جائیں گے۔ حضرت ابو الدرداء (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم قیامت کے روز اپنے ناموں کے ساتھ اور باپوں کے ناموں کے ساتھ بلائے جاؤ گے، لہٰذا تم اپنے نام اچھے رکھو۔ (رواہ ابو داؤد فی کتاب الادب) امام بخاری (رض) نے اپنی جامع صحیح میں باب باب ما یدعی الناس یوم القیامۃ باباءھم قائم کرکے صحیح حدیث سے ثابت کیا ہے کہ قیامت کے روز باپوں کے نام سے بلاوا ہوگا۔ معالم التنزیل میں ماؤں کے ناموں کے ساتھ پکارنے کے تین سبب بتائے گئے ہیں۔ لیکن یہ سب خود ساختہ ہیں جو محض روایت کی شہرت کی وجہ سے تجویز کیے گئے ہیں۔ چناچہ صاحب معالم التنزیل نے تینوں اسباب ذکر کرکے فرمایا ہے کہ والاحادیث الصحیحۃ بخلافہ یعنی صحیح احادیث اس مشہور قول کے خلاف ہیں۔ دوسری آیت میں فرمایا جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور زیادہ راہ گم کردہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے مخلوق کو پیدا فرمایا جس میں آسمان بھی ہیں اور زمین بھی ہے چاند سورج بھی ہیں لیل و نہار بھی ہیں اور پہاڑ بھی بحار و انہار بھی ہیں اور اشجار بھی، ان سب چیزوں میں دلائل موجود ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ خالق ومالک ایک ہی ہے۔ یہ دلائل تکوینیہ ہیں ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ان پر کتابیں نازل فرمائیں انہوں نے توحید کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نبوت اور رسالت کے اثبات کے لیے معجزات ظاہر فرمائے اور راہ حق کو خوب واضح فرما دیا۔ لیکن بہت سے لوگ قصداً اور ارادۃً دلائل تکوینیہ کو دیکھ کر ایمان نہ لائے۔ اور معجزات سامنے ہونے پر بھی متاثر نہ ہوئے۔ جیسا کہ کفر و شرک میں ڈوبے ہوئے تھے اسی طرح بدستور گمراہی میں رہنا پسند کیا اور اپنے آپ کو اندھا بنالیا۔ جس نے دنیا میں اپنے لیے گمراہ ہونے کو پسند کیا وہ آخرت میں بھی نابینا ہوگا۔ یعنی اسے وہاں کوئی راستہ نجات کا نہیں ملے گا۔ دنیا میں تو یہ بھی ہوسکتا تھا کہ جب تک زندہ ہے توبہ کرلے اور ایمان قبول کرلے لیکن جب مرگیا تو توبہ کا راستہ بھی بند ہوگیا۔ اور مزید گمراہ اور بےراہ ہوگیا کیونکہ اب نجات کا کوئی راستہ نہ رہا۔ لہٰذا جو دنیا میں اندھا بنا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور وہاں نجات کا راستہ پانے کی کوئی تدبیر نہ ہوسکے گی۔ سورة حج میں ارشاد فرمایا (اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَھُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِھَآ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَ لٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ) (کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے تاکہ ان کے ایسے دل ہوتے جن کے ذریعے سمجھتے یا ایسے کان ہوتے جن سے سنتے، سو بلاشبہ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں لیکن دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں) یعنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن دلوں کی بصیرت سے کام نہیں لیتے قصداً اور ارادۃً اندھے بنے رہتے ہیں۔ کفار و مشرکین دنیا میں دل کے اندھے ہیں اور آخرت میں بھی اس کے نتیجے میں اندھے ہوں گے اور نجات کی کوئی سبیل نہ پائیں گے اور ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ آنکھوں سے نابینا ہونے کی حالت میں اٹھائے جائیں گے۔ اسی سورت کے گیارہویں رکوع میں فرمایا (وَ نَحْشُرُھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ عُمْیًا وَّ بُکْمًا وَّ صُمًّا مَاْوٰیھُمْ جَھَنَّمُ کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰھُمْ سَعِیْرًا) (اور قیامت کے دن ہم انہیں اس حالت میں محشور کریں گے کہ چہروں کے بل اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں چل رہے ہوں گے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے جب وہ دھیمی ہوجائے گی تو ہم اسے اور زیادہ بھڑکا دیں گے) معلوم ہوا کہ مشرکین و کفار جب محشور ہوں گے تو آنکھوں سے اندھے اور زبانوں سے گونگے اور کانوں سے بہرے ہوں گے البتہ بعد میں زبان کو گویائی دے دی جائے گی اور سمع و بصر بھی واپس کردی جائیں گی دل کے اندھے ہو کر تو دنیا ہی سے گئے تھے ابتداءً محشور ہوں گے تو اس وقت آنکھوں سے بھی اندھے ہوں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

65:۔ بشارت و تخویف اخری ہے۔ قیامت کے دن ہر گروہ اپنے پیشوا کے ساتھ میدان حشر میں حاضر ہوگا۔ ہر امت کے نیک و موحد مومنین اپنے انبیاء (علیہم السلام) کیساتھ حاضر ہوں گے اور ہر امت کے مشرک اور بدکار اپنے مشرک پیشواؤں کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ ” فمن اوتی کتابہ الخ “ یہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے یعنی مومنوں کو اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائینگے وہ انہیں پڑھ کر خوش ہوں گے اور انہیں ان کی تمام نیکیوں کی پوری پوری جزا دیجائیگی۔ ای ولا ینقصون من ثواب اعمالھم ادنی شیء (خازن ج 4 ص 171) ۔ ” ومن کان فی ھذہ اعمی الخ “ یہ اصحاب الیمین کے مقابلے میں اصحاب الشمال کا ذکر ہے اور جو دنیا میں اندھا رہا اور راہ توحید کو نہ دیکھا وہ آخرت میں راہ جنت سے اندھا ہوگا اور اس سے بہت دور ہوگا کیونکہ دنیا میں تو اس کے راہ راست پر آجانے کا امکان تھا مگر آخرت میں یہ امکان بھی ختم ہوجائے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

7 1 اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم ہر فرقے کو ان کے سرداروں اور پیشوائوں کے ساتھ بلائیں گے پھر جس شخص کا نامہ اعمال اور اس کی کتاب دائیں ہاتھ میں دی جائے گی تو ایسے لوگ اپنی اپنی کتاب کو پڑھتے ہونگے اور خوش ہو کر پڑھنے لگیں گے اور ان پر ایک دھاگے کے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یعنی جو شخص اور جو فرقہ جس کے کہنے پر چلتا تھا اس پیشوا کو بھی ساتھ ہی طلب کیا جائے گا۔ پھر تمام لوگوں کے نامہ اعمال اڑا دیئے جائیں گے اور نیک لوگوں کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں آجائیں گے تب خوش ہو کر پڑھیں گے بلکہ دوسروں کو بھی بلا کر کہیں گے آئو میری کتاب اور میرا نامہ اعمال پڑھو۔ ھائوم اقرئو اکتابیہ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس دن عمل کا کاغذ اڑا دیں گے نیکوں کے ہاتھ میں آئے گا داہنے ڈھب سے اور بدوں کو بانوے سے اور پیچھے سے یہ نشانی دیکھ کر نیت خوشی سے پڑھنے لگیں گے۔ 12 بعض حضرات نے امام کا ترجمہ نامہ اعمال کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے نامہ اعمال کے ساتھ بلائیں گے فتیل کھجور کی گٹھلی پر جو سفید دھاگہ وتا ہے اس کو کہتے ہیں۔