Everyone will be called by his Imam on the Day of Resurrection
Allah tells;
يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ
...
(And remember) the Day when We shall call together all human beings with their (respective) Imam (i.e. the Book of deeds).
Allah tells us that on the Day of Resurrection, he will call each people to account by its Imam.
The scholars differed as to the meaning of this (i.e. Imam).
Mujahid and Qatadah said that;
it meant each nation would be called to account by its Prophet.
Some of the Salaf said;
this is the greatest honor for the people of Hadith, because their leader is the Prophet.
Ibn Zayd said it means;
they would be called to account by their Book which was revealed to their Prophet with its laws.
This was also the view favored by Ibn Jarir.
Ibn Abi Najih narrated that Mujahid said,
"With their Books."
It may be that what is meant here is what Al-Awfi narrated from Ibn Abbas concerning this Ayah,
يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ
((And remember) the Day when We shall call together all human beings with their (respective) Imam),
which is that it refers to the Book (or record) of their deeds.
This was also the view of Abu Al-Aliyah, Al-Hasan and Ad-Dahhak.
This view is the most correct, because Allah says:
وَكُلَّ شىْءٍ أَحْصَيْنَـهُ فِى إِمَامٍ مُّبِينٍ
and all things We have recorded with numbers (as a record) in a Clear Book (Fi Imamin Mubin). (36:12)
وَوُضِعَ الْكِتَـبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ
And the Book (one's record) will be placed, and you will see the criminals, fearful of that which is (recorded) therein. (18:49)
وَتَرَى كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أمَّةٍ تُدْعَى إِلَى كِتَـبِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
هَـذَا كِتَـبُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
And you will see each nation humbled to their knees, each nation will be called to its record (of deeds). This Day you shall be recompensed for what you used to do. This Our record speaks about you with truth. Verily, We were recording what you used to do. (45:28-29)
This does not contradict the fact that the Prophet will be brought forward when Allah judges between his Ummah, for he will inevitably be a witness against his Ummah over their deeds. But what is meant here by Imam is the Book of deeds.
Allah says:
يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُوْلَـيِكَ يَقْرَوُونَ كِتَابَهُمْ
...
(And remember) the Day when We shall call together all human beings with their (respective) Imam. So whosoever is given his record in his right hand, such will read their records,
means, because of their happiness and joy at what is recorded therein of good deeds - they will read it and want to read it.
As Allah says:
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَأوُمُ اقْرَوُاْ كِتَـبيَهْ
Then as for him who will be given his record in his right hand will say: "Here! read my record!) until His saying,
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِشِمَالِهِ
But as for him who will be given his record in his left hand, (69:19-29)
...
وَلاَ يُظْلَمُونَ فَتِيلً
and they will not be dealt with unjustly in the least (Fatilan).
We have already mentioned that the Fatil is the long thread in the groove of a date-pit.
Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bazzar recorded a Hadith from Abu Hurayrah according to which the Prophet said, concerning the Ayah,
يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ
(And remember) the Day when We shall call together all human beings with their (respective) Imam.
يُدْعَى أَحَدُهُمْ فَيُعْطَى كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ وَيُمَدُّ لَهُ فِي جِسْمِهِ وَيَبْيَضُّ وَجْهُهُ وَيُجْعَلُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجٌ مِنْ لُوْلُوَةٍ يَتَلَْلاَُ فَيَنْطَلِقُ إِلَى أَصْحَابِهِ فَيَرَوْنَهُ مِنْ بَعِيدٍ فَيَقُولُونَ
اللَّهُمَّ اتِنَا بِهَذَا وَبَارِكْ لَنَا فِي هَذَا
فَيَأْتِيهِمْ فَيَقُولُ لَهُمْ أَبْشِرُوا فَإِنَّ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ مِثْلَ هَذَا
وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَسْوَدُّ وَجْهُهُ وَيُمَدُّ لَهُ في جِسْمِهِ وَيَرَاهُ أَصْحَابُهُ فَيَقُولُونَ
نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ هَذَا أَوْ مِنْ شَرِّ هَذَا اللَّهُمَّ لاَ تَأْتِنَا بِهِ
فَيَأْتِيهُمْ فَيَقُولُونَ اللَّهُمَّ أَخْزِهِ
فَيَقُولُ أَبْعَدَكُمُ اللهُ فَإِنَّ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ مِثْلَ هَذَا
One of you will be called and will be given his Book in his right hand. He will be in a good physical state, with a white face, and there will be placed on his head a crown of shining pearls. He will go to his companions and they will see him from afar, and will say,
"O Allah, let him come to us and bless us with this."
Then he will come to them and will say to them, "Rejoice, for every man among you will be like this."
As for the disbeliever, his face will be black and his body will be enlarged. His companions will see him from afar and will say,
"We seek refuge in Allah from this, or from the evil of this, O Allah, do not let him come to us."
Then he will come to them and they will say, "O Allah, humiliate him!"
He will say, "May Allah cast you away, every man among you will be like this."
Then Al-Bazzar said:
"This was only reported through this chain."
الکتاب ہی ہدایت و امام ہے
امام سے مراد یہاں نبی ہیں ہر امت قیامت کے دن اپنے نبی کے ساتھ بلائی جائے گی جیسے اس آیت میں ہے ( وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِيَ بَيْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 47 ) 10- یونس:47 ) ہر امت کا رسول ہے ، پھر جب ان کے رسول آئیں گے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ حساب کیا جائے ۔ بعض سلف کا قول ہے کہ اس میں اہل حدیث کی بہت بڑی بزرگی ہے ، اس لئے کہ ان کے امام آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ ابن زید کہتے ہیں مراد یہاں امام سے کتاب اللہ ہے جو ان کی شریعت کے بارے میں اتری تھی ۔ ابن جریر اس تفسیر کو بہت پسند فرماتے ہیں اور اسی کو مختار کہتے ہیں ۔ مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں مراد اس سے ان کی کتابیں ہیں ۔ ممکن ہے کتاب سے مراد یا تو احکام کی کتاب اللہ ہو یا نامہ اعمال ۔
چنانچہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے مراد اعمال نامہ لیتے ہیں ۔ ابو العالیہ ، حسن ، ضحاک بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ترجیع والا قول ہے جیسے فرمان الہٰی ہے آیت ( وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ ) 36-يس:12 ) ہر چیز کا ہم نے ظاہر کتاب میں احاطہ کر لیا ہے ۔ اور آیت میں ہے و آیت ( وضع الکتاب ) الخ کتاب یعنی نامہ اعمال درمیان میں رکھ دیا جائے گا اس وقت تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہوں گے ۔ الخ اور آیت میں ہے ہر امت کو تو گھٹنوں کے بل گری ہوئی دیکھے گا ۔ ہر امت اپنے نامہ اعمال کی جانب بلائی جا رہی ہو گی ، آج تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ۔ یہ ہے ہماری کتاب جو تم پر حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہم برابر لکھتے رہتے تھے ۔ یہ یاد رہے کہ یہ تفسیر پہلی تفسیر کے خلاف نہیں ایک طرف نامہ اعمال ہاتھ میں ہو گا دوسری جانب خود نبی سامنے موجود ہو گا ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بِالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 69 ) 39- الزمر:69 ) زمین اپنے رب کے نور سے چمکنے لگے گی نامہ اعمال رکھ دیا جائے گا اور نبیوں اور گواہوں کو موجود کر دیا جائے گا اور آیت میں ہے ( فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا 41ڲ ) 4- النسآء:41 ) یعنی کیا کیفیت ہو گی اس وقت جب کہ ہر امت کا ہم گواہ لائیں گے اور تجھے اس تیری امت پر گواہ کر کے لائیں گے ۔ لیکن مراد یہاں امام سے نامہ اعمال ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ جن کے دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ تو اپنی نیکیاں فرحت و سرور ، خوشی اور راحت سے پڑھنے لگیں گے بلکہ دوسروں کو دکھاتے اور پڑھواتے پھریں گے ۔ اسی کا مزید بیان سورہ الحاقہ میں ہے ۔ فتیل سے مراد لمبا دھاگہ ہے جو کجھور کی گٹھلی کے بیچ میں ہوتا ہے ۔ بزار میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو بلوا کر اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ اس کا جسم بڑھ جائے گا ، چہرہ چمکنے لگے گا ، سر پر چمکتے ہوئے ہیروں کا تاج رکھ دیا جائے گا ، یہ اپنے گروہ کی طرف بڑھے گا اسے اس حال میں آتا دیکھ کر وہ سب آرزو کرنے لگیں گے ، کہ اے اللہ ہمیں بھی یہ عطا فرما اور ہمیں اس میں برکت دے وہ آتے ہی کہے گا کہ خوش ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک کو یہی ملنا ہے ۔ لیکن کافر کا چہرہ سیاہ ہو جائے گا اس کا جسم بڑھ جائے گا ، اسے دیکھ کر اس کے ساتھی کہنے لگیں گے اللہ اسے رسوا کر ، یہ جواب دے گا ، اللہ تمہیں غافت کرے ، تم میں سے ہر شخص کے لئے یہی اللہ کی مار ہے ۔ اس دنیا میں جس نے اللہ کی آیتوں سے اس کی کتاب سے اس کی راہ ہدایت سے چشم پوشی کی وہ آخرت میں سچ مچ رسوا ہو گا اور دنیا سے بھی زیادہ راہ بھولا ہوا ہو گا ۔