Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 89

سورة بنی اسراءیل

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ۫ فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۸۹﴾

And We have certainly diversified for the people in this Qur'an from every [kind] of example, but most of the people refused [anything] except disbelief.

ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے سمجھنے کے لئے ہر طرح سے مثالیں بیان کر دی ہیں ، مگر اکثر لوگ انکار سے باز نہیں آتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Say: "If mankind and the Jinn were together to produce the like of this Qur'an, they could not produce the like thereof, even if they helped one another." And indeed We have fully explained to mankind, in this Qur'an, every kind of similitude, but most of mankind refuse (the truth and accept nothing) but disbelief. Then Allah points out the great virtue of the Qur'an, and says that even if mankind and the Jinn were all to come together and agree to produce something like that which was revealed to His Messenger, they would never be able to do it, even if they were to cooperate and support and help one another. This is something which is impossible. How could the words of created beings be like the Words of the Creator Who has no equal and peer, for there is none like unto Him وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ ... And indeed We have fully explained to mankind, meaning, `We have furnished them with evidence and definitive proof, and We have shown them the truth and explained it in detail, yet despite that most of mankind insist on disbelief, i.e., denying and rejecting the truth.'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

89۔ 1 یہ آیت اسی سورت کے شروع میں بھی گزر چکی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٩] قرآن میں کون کون سے موضوعات پر دلائل دیئے گئے ہیں ؟ اس قرآن میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر، روز آخرت اور قیامت کے واقع ہونے پر، جزاء و سزا کی معقولیت پر، رسول اللہ کی نبوت پر، شرک کی تردید پر، من گھڑت معبودوں کی بےچارگی اور احتیاج پر، نافرمان اقوام سابقہ کے انجام پر مختلف پیراؤں میں دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اور دلائل ایسے ہیں جنہیں سب لوگ سمجھ سکتے ہیں۔ اور خارجی کائنات اور اپنی اندر کی دنیا میں دیکھ سکتے ہیں۔ اور ہر جگہ نئے اور اچھوتے طرز استدلال کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں اور وہ اتنی کثیر تعداد میں ہیں جو ایک طالب ہدایت کے لیے بہت کافی ہیں مگر ان لوگوں نے ایسی ضد اور ہٹ دھرمی کی راہ اختیار کرلی ہے کہ ہر دلیل سے یہ الٹا ہی اثر لیتے ہیں۔ اس طرح ان کے کفر میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا للنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ ۔۔ : اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے ہر طرح سے چیلنج کیا ہے اور یہ بھی کہ ہم نے توحید کے اثبات اور شرک کی نفی کے لیے ہر قسم کے دلائل پیش کیے ہیں، یا ہر معنی کو فصاحت و بلاغت کے ساتھ ایسے دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے کہ وہ مثال کی طرح ذہن میں اترتا چلا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس حد تک بیان اور سمجھانے کا تعلق ہے ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (٤١) اور کہف (٥٤) ۔ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا : یعنی کسی طرح بھی ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The last verse: وَلَقَدْ صَرَّ‌فْنَا (And surely We have explained - 89) tells us that the Holy Qur’ an stands out as a miracle so clear that it leaves no room for any question and doubt. Still, what is happening is that people do not thank Allah for His blessings, do not even recognize the real worth of the blessing of the Qur&an and keep wandering around in error.

آخری آیت وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا میں یہ بتلا دیا کہ اگرچہ قرآن کریم کا معجزہ اتنا کھلا ہوا ہے کہ اس کے بعد کسی سوال اور شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی مگر ہو یہ رہا ہے کہ لوگ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے نعمت قرآن کی بھی قدر نہیں پہچانتے اس لئے گمراہی میں بھٹکتے رہتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۡ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا 89؀ صرف الصَّرْفُ : ردّ الشیء من حالة إلى حالة، أو إبداله بغیره، يقال : صَرَفْتُهُ فَانْصَرَفَ. قال تعالی: ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] ( ص ر ف ) الصرف کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا یا کسی اور چیز سے بدل دینا ۔ محاور ہ ہے ۔ صرفتہ فانصرف میں نے اسے پھیر دیا چناچہ وہ پھر گیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] پھر خدا نے تم کو ان کے مقابلے سے پھیر کر بھگادیا ۔ أبى الإباء : شدة الامتناع، فکل إباء امتناع ولیس کل امتناع إباءا . قوله تعالی: وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ [ التوبة/ 32] ، وقال : وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] ، وقوله تعالی: أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] ، وقوله تعالی: إِلَّا إِبْلِيسَ أَبى [ طه/ 116] ( اب ی ) الاباء ۔ کے معنی شدت امتناع یعنی سختی کے ساتھ انکارکرنا ہیں ۔ یہ لفظ الامتناع سے خاص ہے لہذا ہر اباء کو امتناع کہہ سکتے ہیں مگر ہر امتناع کو اباء نہیں کہہ سکتے قرآن میں ہے ۔ { وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ } [ التوبة : 32] اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں ۔ { وَتَأْبَى قُلُوبُهُمْ } ( سورة التوبة 8) لیکن ان کے دل ان باتوں کو قبول نہیں کرتے ۔{ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ } [ البقرة : 34] اس نے سخت سے انکار کیا اور تکبر کیا {إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى } [ البقرة : 34] مگر ابلیس نے انکار کردیا ۔ ایک روایت میں ہے (3) کلکم فی الجنۃ الامن ابیٰ ( کہ ) تم سب جنتی ہو مگر وہ شخص جس نے ( اطاعت الہی سے ) انکار کیا ۔ رجل ابی ۔ خود دار آدمی جو کسی کا ظلم برداشت نہ کرے ابیت الضیر ( مضارع تابیٰ ) تجھے اللہ تعالیٰ ہر قسم کے ضرر سے محفوظ رکھے ۔ تیس آبیٰ ۔ وہ بکرا چوپہاڑی بکردں کا بول ملا ہوا پانی پی کر بیمار ہوجائے اور پانی نہ پی سکے اس کا مونث ابواء ہے كفر ( ناشکري) الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وكُفْرُ النّعمة وكُفْرَانُهَا : سترها بترک أداء شكرها، قال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ، فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] ويقال منهما : كَفَرَ فهو كَافِرٌ. قال في الکفران : لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وقال : وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ کفر یا کفر ان نعمت کی ناشکری کر کے اسے چھپانے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] ؂ تو اس کی کوشش رائگاں نہ جائے گی ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا ۔ اور فعل کفر فھوا کافر ہر دو معانی کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ میہ 5 کفران کے متعلق فرمایا : ۔ لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تاکہ مجھے آز مائے کر میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوم ۔ اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے ۔ اور جو ناشکری کرتا ہے ۔ تو میرا پروردگار بےپروا اور کرم کر نیوالا ہے ۔ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٩) اور ہم نے اس قرآن کریم میں مکہ والوں کے لیے وعدے وعید اور ہر قسم مضامین بیان کیے ہیں مگر پھر بھی اکثر لوگوں نے قبول نہ کیا اور کفر ہی پر جمے رہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(17:89) صرفنا۔ ماضی جمع متکلم۔ تصریف (تفعیل) ہم نے پھیر پھیر کر سمجھایا۔ ہم نے طرح سے بیان کیا۔ تصریف الامر۔ کسی بات کو بار بار مختلف انداز سے بیان کرنا۔ ابی۔ ماضی واحد مذکر غائب ابائمصدر۔ اس نے سختی سے انکار کردیا۔ کفورا۔ انکار۔ کفر۔ منصوب بوجہ ابی کے مفعول ہونے کے ہے۔ فابی اکثر الناس الا کفورا۔ سوائے کفر کے اکثر لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ یا اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 اس سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہم نے ہر طرح سے تجدی کی ہے اور یہ بھی کہ ہم نے دلائل توحید اور نفی شرک پر ہر نوع کے دلائل پیش کئے ہیں یا ہر معنی کو فصاحت و بلاغت کے ساتھ ایسے دلکش پیریہ میں بیان کیا ہے کہ وہ مثال کی طرح ذہن میں اترتے چلے جاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس حد تک بیان اور افہام کا تعلق ہے ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی (رازی)3 یعنی کسی طرح بھی ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہوتے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ذرا دیکھئے ، یہ لوگ قرآن کریم کی اس معجزانہ شان کو نہ سمجھ سکے اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے مادی معجزات اور خوارق عادت امور کے وقع کا مطالبہ کرتے رہے۔ معمولی غور سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انکے مطالبات کس قدر طفلانہ ہیں۔ یہ لوگ ذات باری تعالیٰ کے حق میں بھی توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ مطالبہ کرتے وقت انہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ خود ہمارے سامنے حاضر ہوجائے۔ حالانکہ قرآن مجید نے جو تعلیمات پیش کی ہیں ، وہ نہایت ہی معقول انداز میں اور پھیر پھیر کر مختلف اسالیب میں اور مختلف مثالوں کی مدد سے ہر درجہ عقل و فکر کے لوگوں کے لئے سہل انداز میں پیش کی ہیں ، اور یہ تعلیمات اور یہ انداز کلام ابدالا باد کے لئے مفید ہے لیکن فابی اکثر الناس الا کفورا (٧١ : ٩٨) ” مگر اکثر لوگ انکار پر ہی جمے رہے “۔ اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کو اس شرط سے مشروط کردیا کہ آپ ہمارے لئے زمین سے چشمے نکال دیں۔ یا آسمان کا کوئی ٹکڑا ان پر عذاب بن کر گرے جس طرح آپ ہمیں ڈراتے ہیں کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا یا یہ کہ اللہ اور ملائکہ ہمارے سامنے آکر حاضر ہوجائیں اور اللہ اور فرشتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ھق میں ایسی مداخلت کریں۔ جیسی مدافعت قبائل ایک دوسرے کے لئے کرتے ہیں۔ یا یہ کہ نہایت ہی قیمتی دھاتوں سے ان کے لئے ایک محل بنے یا یہ کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے سامنے آسمانوں پر چڑھ جائیں اور وہ دیکھ رہے ہوں اور اس طرح واپس آئیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں ایک کتاب ہو جسے وہ پڑھ سکیں۔ یہ تھے ان کے مطالبات۔ ان کے تصور اور قوت مدرکہ کی ناپختگی کا اظہار ان مطالبات سے ظاہر ہے۔ نیز ان مطالبات سے ان کی ہٹ دھرمی بھی اچھی طرح معلوم ہوتی ہے۔ وہ ایک طرف یہ مطالبہ کرتے ہیں آپ کے پاس قیمتی دھاتوں کا بنا ہوا مکان ہونا چاہیے اور دوسری طرف سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ زمین سے آسمان کی طرف چڑھ جائیں۔ ایک طرف زمین سے چشمے نکالنے کا مطالبہ اور دوسری طرف سے فرشتوں اور خدا تعالیٰ سے یہ مطالبہ کہ وہ ان کے سامنے چلے آئیں۔ ان کے ذہن میں ان تمام باتوں کے درمیان مشترک چیز یہ ہے کہ یہ سب خارق عادت امور ہیں۔ اگر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان شرائط کو پورا کردیں تب وہ ایمان لانے پر غور کرسکتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کی کند ذہنی کا حال یہ ہے کہ ان کو قرآن کی شکل میں آنے والا معجزہ نظر نہیں آتا۔ بار بار کے چیلنج کے باوجود وہ نہ لفظ میں ، نہ نظم و ترکیب میں ، نہ اسلوب میں اور نہ معانی میں اور نہ نظام زندگی کے اعتبار سے اس جیسی کتاب لاسکے ہیں۔ ان کے حواس اور قوائے مدرکہ اس اعجاز کا ادراک تو نہیں کرسکتیں البتہ ایسے معجزات کے یہ لوگ طلبگار ہیں جن کو ان کی حواس دیکھ سکیں۔ معجزات جن کا صدور پیغمبروں کے ہاتھوں ہوا کرتا ہے وہ کسی پیغمبر کی کار ستانی نہیں ہوتی نہ پیغمبر کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ معجزات دکھاتا پھرے۔ یہ کام تو خداوند کریم کا ہے۔ وہ اپنی حکمت اور اسکیم کے مطابق معجزات بھی ظاہر کرتا ہے۔ نیز کسی رسول کو یہ حق بھی نہیں ہے کہ وہ ان معجزات کا مطالبہ کرے۔ اگر اللہ ان کا صدور نہ چاہتا ہو ، اس کائنات کو تدبیر میں اللہ کی جو حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں ان کو جانتے ہوئے اور بارگاہ تعالیٰ میں ادب و احترام کا لحاظ کرتے ہوئے ، رسولوں کی عادت اور آداب یہ ہوتے ہیں کہ وہ کسی قسم کے معجزے کا مطالبہ نہیں کیا کرتے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

79:۔ یہ زجر ہے جو آئندہ شکوہ کا مبدا ہے۔ ہم نے قرآن میں سب کچھ بیان کردیا ہے کوئی عقدہ لاینحل نہیں چھوڑا۔ مسئلہ توحید، رد شرک، حشر ونشر، رسالت و نبوت، ترغیب و ترہیب اوامرو نواہی، امثال و واقعات غرضیکہ ایک متلاشی حق کیلئے ہم وہ تمام امور کھول کر قرآن میں بیان کردئیے ہیں جن کی حق سمجھنے کیلئے ضرورت ہے۔ مگر اس کے باوجود معاندین کفر و انکار پر ڈٹے ہوئے ہیں اسلیے ان کے سوالات مطالبات محض ضد وعناد پر مبنی اور ٹالنے کیلئے حیلے اور بہانے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

89 اور یقینا ہم نے لوگوں کو اس قرآن کریم میں ہر پیرایہ سے بار بار ہر قسم کا عمدہ اور عجیب مضمون بیان کیا ہے پھر بھی بہت سے لوگ بن ناشکری کئے نہیں ہے۔ یعنی جہاں تک سمجھانے کا تعلق ہے ہم نے اس قرآن کریم میں مختلف انداز سے ہر قسم کے دلائل اور مثالیں لوگوں کے لئے بیان کیں اور بار بار بیان کیں لیکن باوجود اس کے اکثر لوگوں نے سوائے شیوئہ کفر کے ہر بات کا انکار کیا یعنی کفر کو نہ چھوڑا اور ایمان و شکر گزاری کی پوری بات اختیار نہ کی۔