Surat Bani Isareel

Surah: 17

Verse: 93

سورة بنی اسراءیل

اَوۡ یَکُوۡنَ لَکَ بَیۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ اَوۡ تَرۡقٰی فِی السَّمَآءِ ؕ وَ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیۡنَا کِتٰبًا نَّقۡرَؤُہٗ ؕ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴿٪۹۳﴾  10

Or you have a house of gold or you ascend into the sky. And [even then], we will not believe in your ascension until you bring down to us a book we may read." Say, "Exalted is my Lord! Was I ever but a human messenger?"

یا آپ کے اپنے لئے کوئی سونے کا گھر ہو جائے یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ہم توآپ کے چڑھ جانے کا بھی اس وقت ہرگز یقین نہیں کریں گے جب تک کہ آپ ہم پر کوئی کتاب نہ اتار لائیں جسے ہم خود پڑھ لیں ، آپ جواب دے دیں کہ میرا پروردگار پاک ہے میں تو صرف ایک انسان ہی ہوں جو رسول بنایا گیا ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّن زُخْرُفٍ ... Or you have a house of Zukhruf. Ibn Abbas, Mujahid and Qatadah said, "This is gold." This was also what was said in the recitation of Ibn Mas`ud, "Or you have a house of gold." ... أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاء ... or you ascend up into the sky, meaning, you climb up on a ladder while we are watching you. ... وَلَن نُّوْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَوُهُ ... and even then we will put no faith in your ascension until you bring down for us a Book that we would read. Mujahid said, "This means a book in which there would be one page for each person, on which would be the words: `This is a book from Allah to so-and-so the son of so-and-so, which he would find by his head when he woke up in the morning." ... قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إَلاَّ بَشَرًا رَّسُولاً Say: "Glorified be my Lord! Am I anything but a man, sent as a Messenger." meaning, `Glorified, exalted and sanctified be He above the notion that anyone would come before Him concerning any matter pertaining to His authority and sovereignty. He is the One Who does what He wills. If He willed, he could have given you what you asked for, or if He willed, he could have refrained. I am only a Messenger to you, sent to convey the Messages of my Lord and advise you. I have done that, and the response to what you have asked is to be decided by Allah, may He be glorified.'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

93۔ 1 زُخْرُف کے اصل معنی زینت کے ہیں مَزِخَرَفُ ، مزین چیز کو کہتے ہیں۔ لیکن یہاں اسکے معنی سونے کے ہیں۔ 93۔ 2 یعنی ہم میں سے ہر شخص اسے صاف صاف خود پڑھ سکتا ہو۔ 93۔ 3 مطلب یہ ہے کہ میرے رب کے اندر تو ہر طرح کی طاقت ہے، وہ چاہے تو تمہارے مطالبے آن واحد میں لفظ ' کُنْ ' سے پورے فرما دے۔ لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو (تمہاری طرح) ایک بشر ہوں۔ کیا کوئی بشر ان چیزوں پر قادر ہے ؟ جو مجھ سے مطالبہ کرتے ہو۔ ہاں، اس کے ساتھ میں اللہ کا رسول بھی ہوں۔ لیکن رسول کا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچانا ہے، اور وہ میں نے پہنچا دیا اور پہنچا رہا ہوں۔ لوگوں کے مطالبات پر معجزات ظاہر کر کے دکھانا یہ رسالت کا حصہ نہیں ہے۔ البتہ اگر اللہ چاہے تو صدق رسالت کے لئے ایک آدھا معجزہ دکھا دیا جاتا ہے لیکن لوگوں کی خواہشات پر اگر معجزے دکھانے شروع کردیئے جائیں تو یہ سلسلہ کہیں بھی جا کر نہیں رک سکے گا ہر آدمی اپنی خواہش کے مطابق نیا معجزہ دیکھنے کا آرزو مند ہوگا اور رسول پھر اسی کام پر لگا رہے گا تبلیغ ودعوت کا اصل کام ٹھپ ہوجائے گا اس لیے معجزات کا صدور صرف اللہ کی مشیت سے ہی ممکن ہے اور میں بھی اس کی مشیت میں دخل اندازی کا مجاز نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٠] وہ حسی معجزے جن کا کفار مکہ مطالبہ کیا کرتے تھے :۔ ان آیات میں کفار مکہ کے ان مطالبات کو یک جابیان کیا جارہا ہے جو وہ وقتاً فوقتاً نبوت کی دلیل پر حسی معجزہ کی صورت میں مطالبہ کرتے رہے تھے۔ وہ اس قسم کے مطالبہ کرنے میں قطعاً حق بجانب نہیں تھے کیونکہ کئی معجزات وہ ایسے دیکھ چکے تھے جو آپ کی نبوت پر واضح دلائل تھے مثلاً بار بار کے چیلنج کے باوجود وہ قرآن جیسا کلام نہ پیش کرسکے تھے۔ چاند پھٹنے کا واقعہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا۔ واقعہ اسراء کے سلسلہ میں بیت المقدس کی ساخت پر وہ سوال و جواب کرچکے تھے۔ یہ سب باتیں ان کے قلبی اطمینان کے لیے کافی تھیں۔ مگر && خوئے بدرا بہا نہ بسیار && کے مصداق وہ نئے سے نئے مطالبے کرتے ہی رہتے تھے جن میں سے چند ایک یہ تھے کہ آپ یہاں پانی کے چشمے بہادیں تاکہ ہمارے لیے پانی کی قلت دور ہو نیز یہاں سے پہاڑوں کو دور ہٹادیں تاکہ ہمیں رہنے کو کچھ میدان میسر آئے اور اس میں کھیتی اور کھجوریں اور انگور کے باغ پیدا ہوں یا جیسے ہمیں دھمکی دیتے رہتے ہو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو ۔ جس سے نہ ہم رہیں اور نہ تم اور یہ روز روز کی تکرار ختم ہوجائے۔ یا جس فرشتے کے متعلق کہتے ہو کہ وہ مجھ پر نازل ہوتا ہے کم از کم ہم اسے ہی دیکھ لیں یا اگر تم ہمارا بھلا نہ کرسکو تو تمہارا اپنا ہی گھر سونے کا یا سنہرا بن جائے یا ہمارے سامنے تم آسمان کی طرف چڑھو اور جب اترو تو تمہارے ہاتھوں میں ہماری طرف ایک کتاب ہونا چاہیے۔ جس میں ہمیں خطاب کیا گیا ہو کہ && یہ واقعی نبی ہے اور اس پر ایمان لے آؤ && تو تب ہی ہم تمہاری نبوت پر ایمان لاسکتے ہیں۔ [١١١] مطالبات کا جواب :۔ کفار مکہ کے ان سب اوٹ پٹانگ قسم کے سب مطالبات کا اللہ تعالیٰ نے ایک مختصر سے جملہ میں جواب دے دیا ہے یعنی آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ میں نے تم سے یہ کب کہا تھا کہ میں خدائی اختیارات کا مالک اور قادر مطلق ہوں ایسے سب کام تو اللہ تعالیٰ کے اختیار اور قبضہ ئقدرت میں ہیں۔ اگر میں نے تمہارے سامنے اپنی خدائی کا دعویٰ کیا ہوتا تو تم مجھ سے ایسے مطالبے پیش کرنے میں حق بجانب تھے مگر میں تو صرف یہ دعویٰ کر رہا ہوں کہ میں تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہوں۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول اور پیغامبر ضرور بنایا ہے۔ اگر تم نے میرا امتحان لینا ہے تو اس پیغام کو جانچو، میری صداقت کو پرکھو، میری سابقہ زندگی تمہارے سامنے ہے، مجھ میں جو عیب نظر آتا ہے اس کی نشان دہی کرو۔ آخر تمہارے ان مطالبات کا میرے دعٰوئے رسالت سے کیا تعلق ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ ۔۔ : ” زُخْرُفٍ “ اصل میں زینت کو کہتے ہیں، یہاں یہ لفظ سونے کے معنی میں ہے، کیونکہ جو چیزیں زینت کے لیے استعمال ہوتی ہیں ان میں سونا بہت قیمتی اور خوبصورت ہے۔ ” ترقی “ ” رَقٰی یَرْقِيْ رُقْیَۃً “ (ض) دم کرنا اور ” رَقِيَ یَرْقٰی رُقِیًّا “ (ع) چڑھنا۔ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ ۔۔ : یہاں قرآن نے کفار کے چھ مطالبوں کا ذکر کیا ہے، جن کے ضمن میں کئی اور مطالبے ہیں۔ فرمایا، میرا رب ہر عیب اور عجز سے پاک ہے، وہ یہ سب کچھ کرسکتا ہے مگر اپنی مرضی سے۔ رہا مجھ سے مطالبے کرنا تو میں تو محض ایک بشر ہوں جو پیغام پہنچانے والا ہے، کیا تم کسی بشر کے متعلق بتاسکتے ہو کہ وہ اس قسم کے تصرفات کی طاقت رکھتا ہو اور پھر میرا کوئی اختیار بھی نہیں، نہ کوئی بات میری اپنی ہے، میں تو محض اللہ کا رسول، یعنی اس کی طرف سے پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا ہوا ہوں اور اس کے حکم کا تابع ہوں، تو میں اس کے اذن کے بغیر یہ چیزیں کیسے لاسکتا ہوں۔ امام رازی کہتے ہیں کہ رسول کے سچا ہونے کے لیے تو ایک معجزہ ہی کافی ہوتا ہے اور آپ کو وہ معجزہ قرآن دیا گیا۔ اب اس کے بعد اگر متعدد معجزات کو معیار صدق قرار دیا جائے تو یہ سلسلہ ختم ہی نہ ہو سکے گا، اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور پہلے تمام رسولوں نے ایسے موقع پر معذرت کردی کہ یہ اللہ کا کام ہے، ہم تو محض بشر اور رسول ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ۭ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا 93؀ۧ بيت أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ، ( ب ی ت ) البیت اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں ۔ زخرف الزُّخْرُفُ : الزّينة المزوّقة، ومنه قيل للذّهب : زُخْرُفٌ ، وقال : أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَها [يونس/ 24] ، وقال : بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ [ الإسراء/ 93] ، أي : ذهب مزوّق، وقال : وَزُخْرُفاً [ الزخرف/ 35] ، وقال : زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] ، أي : المزوّقات من الکلام . ( زخ رف ) الزخرف اصل میں اس زینت کو کہتے ہیں جو ملمع سے حاصل ہو اسی سے سونے کو بھی زخرف کہا جاتا ہے ( کیونکہ یہ زیبائش کے کام آتا ہے ) ۔ قرآن میں ہے :۔ أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَها [يونس/ 24] ، یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی ۔ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ [ الإسراء/ 93] طلائی گھر ۔ وَزُخْرُفاً [ الزخرف/ 35] اور سونے کے ( دروازے ) اور زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً [ الأنعام/ 112] کے معنی ہیں |" ملمع کی ہوئی باتیں |" رقی رَقِيتُ في الدّرج والسّلم أَرْقَى رُقِيّاً ، ارْتَقَيْتُ أيضا . قال تعالی: فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبابِ [ ص/ 10] ، وقیل : ارْقَ علی ظلعک «1» ، أي : اصعد وإن كنت ظالعا . ورَقَيْتُ من الرُّقْيَةِ. وقیل : كيف رَقْيُكَ ورُقْيَتُكَ ، فالأوّل المصدر، والثاني الاسم . قال تعالی: لَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ [ الإسراء/ 93] ، أي : لرقیتک، وقوله تعالی: وَقِيلَ مَنْ راقٍ [ القیامة/ 27] ، أي : من يَرْقِيهِ تنبيها أنه لا رَاقِي يَرْقِيهِ فيحميه، وذلک إشارة إلى نحو ما قال الشاعر : 197- وإذا المنيّة أنشبت أظفارها ... ألفیت کلّ تمیمة لا تنفع «2» وقال ابن عباس : معناه من يَرْقَى بروحه، أملائكة الرّحمة أم ملائكة العذاب «3» ؟ والتَّرْقُوَةُ : مقدّم الحلق في أعلی الصّدر حيث ما يَتَرَقَّى فيه النّفس كَلَّا إِذا بَلَغَتِ التَّراقِيَ [ القیامة/ 26] . ( ر ق ی ) رقی ( س ) رقیا ۔ فی السلم کے معنی سیڑھی پر چڑھنے کے ہیں اور ارتقی ( افتعال ) بھی اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآں میں ہے :۔ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبابِ [ ص/ 10] تو ان کو چاہیے کہ سیڑھیاں لگا کر آسمان پر چڑھیں ۔ مثل مشہور ہے :۔ ارق علی ظلعک یعنی اپنی طاقت کے مطابق چلو اور طاقت سے زیادہ اپنے آپ پر بوجھ نہ ڈالو ۔ اور رقیت بمعنی رقیہ یعنی افسوس کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ محاورہ ہے ۔ ؛کیف رقیک اور قیتک کہ تمہارا افسوس کیسا ہے ۔ اس میں رقی مصدر ہے اور رقیۃ اسم اور آیت کریمہ : لَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ [ الإسراء/ 93] یعنی ہم تیرے افسوں پر یقین کرنے والے نہیں ہیں ۔ میں رقی بمعنی رقیۃ کے ہے ۔ اور آیت ؛۔ وَقِيلَ مَنْ راقٍ [ القیامة/ 27] اور کون افسوں کرے ۔ میں اسے بات پر تنبیہ ہے کہ اس وقت جھاڑ پھونک سے کوئی اس کی جان نہیں بچا سکے گا ۔ چناچہ اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) (190) وإذا المنيّة أنشبت أظفارها ... ألفیت کلّ تمیمة لا تنفع کہ جب موت اپنا پنجہ گاڑ دیتی ہے ۔ تو کوئی افسوں کارگر نہیں ہوتا ۔ ابن عباس نے من راق کے معنی کئے ہیں کہ کونسے فرشتے اس کی روح لے کر اوپر جائیں یعنی ملائکہ رحمت یا ملائکہ عذاب ۔ الترقوۃ ہنسلی کی ہڈی کو کہتے ہیں اس لحاظ سے کہ سانس پھول کر وہیں تک چڑھتی ہے اس کی جمع تراقی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : كَلَّا إِذا بَلَغَتِ التَّراقِيَ [ القیامة/ 26] سنوجی ! جب جان بدن سے نکل کر گلے تک پہنچ جائیگی ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو قرأ والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ( ق ر ء) قرءت المرءۃ وقرءت الدم ۔ القراءۃ کے معنی حروف وکلمات کو ترتیل میں جمع کرنے کے ہیں کیونکہ ایک حروت کے بولنے کو قراءت نہیں کہا جاتا ہے اور نہ یہ عام ہر چیز کے جمع کے کرنے پر بولاجاتا ہے ۔ لہذ ا اجمعت القوم کی بجاے قررءت القوم کہنا صحیح نہیں ہے ۔ القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ سبحان و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر «1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة . ( س ب ح ) السبح ۔ سبحان یہ اصل میں غفران کی طرح مصدر ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] سو جس وقت تم لوگوں کو شام ہو اللہ کی تسبیح بیان کرو ۔ تو پاک ذات ) ہے ہم کو کچھ معلوم نہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( سریع) (218) سبحان من علقمۃ الفاخر سبحان اللہ علقمہ بھی فخر کرتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں سبحان علقمۃ ہے اس میں معنی اضافت کو ظاہر کرنے کے لئے زائد ہے اور علقمۃ کی طرف سبحان کی اضافت بطور تہکم ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں ، ، سبحان اللہ من اجل علقمۃ ہے اس صورت میں اس کا مضاف الیہ محذوف ہوگا ۔ السبوح القدوس یہ اسماء حسنیٰ سے ہے اور عربی زبان میں فعول کے وزن پر صرف یہ دو کلمے ہی آتے ہیں اور ان کو فاء کلمہ کی فتح کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے جیسے کلوب وسمود السبحۃ بمعنی تسبیح ہے اور ان منکوں کو بھی سبحۃ کہاجاتا ہے جن پر تسبیح پڑھی جاتی ہے ۔ بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] . ( ب ش ر ) البشر التبشیر کے معنی ہیں اس قسم کی خبر سنانا جسے سن کر چہرہ شدت فرحت سے نمٹما اٹھے ۔ مگر ان کے معافی میں قدر سے فرق پایا جاتا ہے ۔ تبیشتر میں کثرت کے معنی ملحوظ ہوتے ہیں ۔ اور بشرتہ ( مجرد ) عام ہے جو اچھی وبری دونوں قسم کی خبر پر بولا جاتا ہے ۔ اور البشرتہ احمدتہ کی طرح لازم ومتعدی آتا ہے جیسے : بشرتہ فابشر ( یعنی وہ خوش ہوا : اور آیت کریمہ : { إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ } ( سورة آل عمران 45) کہ خدا تم کو اپنی طرف سے بشارت دیتا ہے میں ایک قرآت نیز فرمایا : لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ قالَ : أَبَشَّرْتُمُونِي عَلى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ قالُوا : بَشَّرْناكَ بِالْحَقِّ [ الحجر/ 53- 54] مہمانوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ بولے کہ جب بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے اب کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں ۔ { فَبَشِّرْ عِبَادِ } ( سورة الزمر 17) تو میرے بندوں کو بشارت سنادو ۔ { فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ } ( سورة يس 11) سو اس کو مغفرت کے بشارت سنادو استبشر کے معنی خوش ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ( اور شہید ہوکر ) ان میں شامل ہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں ۔ وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] اور اہل شہر ( لوط کے پاس ) خوش خوش ( دورے ) آئے ۔ اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی ۔ وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری سے کرآئے ۔ يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] زہے قسمت یہ تو حسین لڑکا ہے ۔ وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے رذریعہ بشارت بنایا۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٣) یا آپ کے پاس کوئی سونے، چاندی کا بنا ہوا گھر نہ ہو یا آپ آسمان پر نہ چڑھ جائیں اور پھر وہاں سے ہمارے پاس فرشتے لے کر نہ آئیں جو اس بات کی آکر گواہی دیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور ہم تو آپ کے آسمان پر چڑھنے کا بھی کبھی باور نہ کریں جب تک کہ آپ ہمارے پاس اللہ کی طرف سے ایک تحریر نہ لائیں جس کو ہم پڑھ بھی لیں کہ اس میں آپ کی رسالت کے متعلق لکھا ہو، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے فرما دیجیے کہ میرا پروردگار تو اولاد اور شریک سب چیزوں سے پاک ہے میں بجائے اس کے آدمی ہوں اور تمام رسولوں کی طرح رسول ہوں اور کیا ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ) ان لوگوں کے ان تمام مطالبات کے جواب میں صرف ایک بات فرمائی گئی : (قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) یعنی میں بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں۔ میں بھی اسی طرح پیدا ہوا ہوں جس طرح تم سب لوگ پیدا ہوئے ہو۔ میں تمہاری ہی طرح کھاتا پیتا ہوں دنیا کے کام کاج کرتا ہوں بازاروں میں چلتا پھرتا ہوں اور میں نے ہر سطح پر کاروبار بھی کیا ہے۔ میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اور میری سیرت اور اخلاق و کردار روز روشن کی طرح تمہارے سامنے ہے۔ مجھ میں اور تم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے اور اللہ کا وہ پیغام جو بذریعہ وحی مجھ تک پہنچتا ہے وہ میں تم لوگوں تک پہنچانے پر مامور ہوں۔ اگرچہ سیرت و کردار اور مرتبہ رسالت و نبوت کے اعتبار سے عام انسانوں سے نبی اکرم کی کوئی مناسبت نہیں مگر عام بشری تقاضوں کے حوالے سے انہیں یہ جواب دیا گیا کہ میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

106. This is the second answer to the demand of the disbelievers for a miracle. The first answer is contained in (Ayat 59). The eloquence of this concise answer is above praise: You demand from me that I should cause a spring to gush forth, or in the twinkling of an eye should bring into being a garden in full bloom with canals flowing in it: or I should cause the heaven to fall into pieces on those of you who are rejecting the message: or I should cause to build a furnished palace of gold: or I should call Allah and the angels to stand before you and testify to this effect: We Ourselves have sent down Muhammad as Our Messenger: or I should go up to the sky in your presence and bring down, addressed to you, the letter of authority of my appointment duly signed by Allah so that you may touch it with your hands and read it with your own eyes. The concise answer to these big demands was this: My Lord be glorified! Have I ever claimed to be anything more than a human Messenger? It may be expanded like this: O people, have I claimed to be God that you are demanding such things from me? Did I ever say that I am all powerful and am ruling over the earth and the Heavens? From the very first day my claim has been that I am a human being who is bringing the Message from God. Therefore, if you want to judge the authenticity of my claim, you may judge it from my message. If you are convinced that it is based on the truth and is absolutely rational, then you should believe in it without making foolish demands. On the other hand, if you find any defect in it, you may reject it. If you want to test whether my claim is based on truth, you should judge it by the standard of my conduct and morals as a human being and my mission. Is it not a folly that, instead of this, you are demanding from me to cleave the earth and cause the sky to fall? Is there any connection whatsoever of Prophethood with things like that.

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل حاشیہ نمبر :106 معجزات کے مطالبے کا ایک جواب اس سے پہلے آیت ۵۹ وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا میں گزر چکا ہے ۔ اب یہاں اسی مطالبے کا دوسرا جواب دیا گیا ہے ۔ اس مختصر سے جواب کی بلاغت تعریف سے بالاتر ہے ۔ مخالفین کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر تم پیغمبر ہو تو ابھی زمین کی طرف ایک اشارہ کرو اور یکایک ایک چشمہ پھوٹ بہے ، یا فورا ایک لہلہاتا باغ پیدا ہو جائے اور اس میں نہریں جاریں ہوجائیں ۔ آسمان کی طرف اشارہ کرو اور تمہارے جھٹلانے والوں پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر جائے ۔ ایک پھونک مارو اور چشم زدن میں سونے کا ایک محل بن کر تیار ہوجائے ۔ ایک آواز دو اور ہمارے سامنے خدا اور اس کے فرشتے فورا آ کھڑے ہوں اور وہ شہادت دیں کہ ہم ہی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ۔ ہماری آنکھوں کے سامنے آسمان پر چڑھ کر جاؤ اور اللہ میاں سے ایک خط ہمارے نام لکھوا لاؤ جسے ہم ہاتھ سے چھوئیں اور آنکھوں سے پڑھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان لمبے چوڑے مطالبوں کا بس یہ جواب دے کر چھوڑ دیا گیا کہ ان سے کہو ، پاک ہے میرا پروردگار! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں ؟ یعنی بیوقوفوں ! کیا میں نے خدا ہونے کا دعوی کیا تھا کہ تم یہ مطالبے مجھ سے کرنے لگے؟ میں نے تم سے کب کہا تھا کہ میں قادر مطلق ہوں؟ میں نے کب کہا تھا کہ زمین و آسمان پر میری حکومت چل رہی ہے؟ میرا دعوی تو اول روز سے یہی تھا کہ میں خدا کی طرف سے پیغام لانے والا ایک انسان ہوں ۔ تمہیں جانچنا ہے تو میرے پیغام کو جانچو ۔ ایمان لانا ہے تو اس پیغام کی صداقت و معقولیت دیکھ کر ایمان لاؤ ۔ انکار کرنا ہے تو اس پیغام میں کوئی نقص نکال کر دکھاؤ ۔ میری صداقت کا اطمینان کرنا ہے تو ایک انسان ہونے کی حیثیت سے میری زندگی کو ، میرے اخلاق کو ، میرے کام کو دیکھو ۔ یہ سب کچھ چھوڑ کر تم مجھ سے یہ کیا مطالبہ کرنے لگے کہ زمین پھاڑو اور آسمان گراؤ؟ آخر پیغمبری کا ان کاموں سے کیا تعلق ہے؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

50: آیت ۸۹ سے ۹۲۔ ان آیات میں مشرکینِ مکہ کے وہ مطالبات بیان فرمائے گئے ہیں جو وہ محض ضد کی بنا پر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم سے کیا کرتے تھے۔ آپ کے متعدد معجزات اِن پر ظاہر ہوچکے تھے، لیکن وہ پھر بھی نت نئی فرمائشوں سے باز نہیں آتے تھے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ان ساری فرمائشوں کا یہ مختصر جواب دینے کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ میں خدا نہیں ہوں کہ یہ سارے کام میرے اختیار میں ہوں۔ میں تو ایک اِنسان ہوں، البتہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے پیغمبر بناکر بھیجا ہے، لہٰذا اﷲ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت جو معجزات مجھے عطا فرمادئیے ہیں، اُن سے زیادہ اپنے اختیار سے میں کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 جب کفار قریش قرآن کا معارضہ نہ کرسکے تو دوسرے معجزات طلب کرنے شروع کردیئے یہاں قرآن نے ان کے چھ مطالبوں کا ذکر کیا ہے۔ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ قریش کعبہ کے پاس جمع ہوئے اور آنحضرت کو اپنی مجلس کے پاس بلایا اور یہ مطالبے پیش کئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور دوسرے رسولو کی طرح آنحضرت نے بھی ان کو یہی جواب دیا کہ میں تو ایک بشر ہوں کیا تم کسی بشیر کے متعلق بتاسکتے ہو کہ وہ اس قسم کے تصرفات کی طاقت رکھتا ہو ؟ اور پھر میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کے حکم کا تابع پس اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر ان امور کو کیسے ظاہر کرسکات ہوں۔ امام رازی لکھتے ہیں پیغمبر کی صداقت کے لئے تو ایک معجزہ ہی کافی ہوتا ہے اور آپ کو وہ معجزہ قرآن دیا گیا اب اس کے بعد اگر متعدد معجزات کو معیار صدق قرار دیا جائے تو یہ سلسلہ ختم ہی نہ ہو سکے گا اس نے پیغمبروں نے ایسے موقعوں پر معذرت کردی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے ہم بشر اور رسول ہیں (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل سبحان ربی ھل کنت الا بسرا (٣٩) ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہو ” پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں ؟ “ یہ ہے ادب رسول ، جو اپنی بشریت کی حدود پر جا کر رک جاتے ہیں ، رسول اپنے مقررہ فرائض منصبی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ وہ اللہ سے مطالبات نہیں کرتے۔ اور اپنے فرائض کے حدود سے آگے بڑھ کر بھی کام نہیں کرتے۔ وہ بڑا شبہ جو مختلف اقوام و ملن کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قبل لاحق ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد بھی کئی ملتوں کو لاحق ہوا اور جس کی وہ سے ان اقوام نے رسولوں کی تصدیق نہ کی اور ان ہدایات کو تسلیم نہ کیا جو رسول لے کر آئے تھے وہ یہ تھا کہ یہ لوگ اس بات کو مستبعد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہوسکتا ہے اور یہ کہ رسول فرشتہ نہیں ہوتا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) (میں تو ایک بشر ہی ہوں ایک انسان ہوں ہاں یہ بات ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے) اگر میں دوسرے انسانوں کی طرح کھاتا پیتا ہوں اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہوں تو یہ بشریت کے تقاضوں کے موافق ہے اور جو توحید و رسالت کی باتیں کرتا ہوں یہ رسول ہونے کی حیثیت سے ہیں اور رسول ہونے کے لوازم میں یہ باتیں نہیں ہے جن کا تم نے مطالبہ کیا ہے، جو مجھ پر ایمان لائے گا اس کا یہ ایمان اسے نفع دے گا اور جو منکر ہوگا اپنا برا کرے گا رسول کے ذمہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ واضح طور پر حق بیان کردے اور پوری طرح اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچا دے۔ فائدہ : ایک ایسی جماعت بھی پائی جاتی ہے جسے سید الاولین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت کا بہت بڑا دعویٰ ہے اور اپنے اس دعویٰ کی وجہ سے حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں ایسے ایسے عقائد اختیار کرلیے ہیں جو قرآن و حدیث کی تصریحات کے سراسر خلاف ہیں انہیں میں سے ان کا ایک یہ عقیدہ بھی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بشر نہیں تھے۔ اور ان میں سے بعض مدعیان علم نے تو غضب کردیا سورة کہف کے آخر میں جو فرمایا ہے۔ (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ) اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ مانا فیہ ہے ان جاہلوں کو یہ بھی پتہ نہیں کہ ان حرف تحقیق ہے جملہ منفیہ پر داخل نہیں ہوتا۔ پھر قرآن شریف میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشریت ثابت کرنے کے لیے صرف یہی تو ایک آیت نہیں ہے جس میں اِنَّمَا آیا ہے۔ مذکورہ بالا آیت بھی تو ہے جس میں (قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) فرمایا ہے اس میں تو مانا فیہ نہیں ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

81:۔ یہ جواب شکوہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ تو عجز سے پاک ہے وہ یہ سارے کام کرنے قدرت رکھتا ہے مگر کسی میں اس پر جبر کرنے کی طاقت نہیں وہ ہر کام اپنی مرضی سے کرتا ہے۔ ” ھل کنت الا بشرا رسولا “ اور میں تو ایک انسان ہوں اور اللہ کا رسول ہوں اور جن باتوں کا تم نے مطالبہ کیا ہے وہ سب انسانی اور بشری طاقت سے ماوراء ہیں یعنی لیس ما سالتم فی طوق البشر بل لو اراد اللہ ان ینزل ما طلبوا لفعل (مظھری ج 5 ص 493) ۔ اس لیے مجھ میں ان کو پورا کرنے کی طاقت نہیں۔ اور پھر ان مطالبات کو پورا کرنا میرے فرائض میں داخل بھی نہیں کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کی وحی کے پابند اور اس کے احکام کے بندے ہیں صرف اسی چیز کو ظاہر کرسکتے ہیں جس کو ظاہر کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہو۔ ای انا رسول کسائر الرسل بشر مثلھم وکان الرسل لا یاتون قومھم الا بما یظھرہ اللہ علیھم من الایات فلیس امر الایات الی انما ھو الی الللہ (مدارک ج 2 ص 253) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

93 یا تیرے پاس کوئی سونے کا بنا ہوا گھر رہنے کو ہو یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور ہم خالی آسمان پر چڑھ جانے کا بھی اس وقت تک یقین نہ کریں گے جب تک تو ہمارے پاس وہاں سے کوئی لکھی ہوئی ایسی کتاب نہ اتار لائے جس کو ہم پڑھ بھی لیں آپ ان سب مطالبات اور مانہ مانگی نشانیوں کے جواب میں کہہ دیجیے میرا پروردگار پاک ہے میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا بشر ہوں اور آدمی ۔ یعنی مجھے جو کام تفویض ہوا ہے وہ کر رہا ہوں مجھے اس سے زیادہ کوئی اختیار نہیں۔ لہٰذا ان آیات کا کوئی تعلق بشر یا رسول سے نہیں رہا۔ حضرت حق تعالیٰ کا منشا تو وہ اپنی حکمت و مصلحت کو جانتے ہیں وہ چاہیں تو بلا ضرورت یہ نشانیاں تم کو دکھائیں اور تم فرمائشی نشانی کو دیکھ کر پھر ایمان نہ لائو تو تم سب کو ہلاک کردیں وہ چاہیں فرمائشی نشان دکھائیں یا نہ دکھائیں یہ ان کی حکمت بالغہ پر محمول ہے میرا کوئی دخل ان کی ملحت غامضہ میں نہیں ہے۔ اس قسم کے فرمائشی معجزوں کے متعلق اسی سورت میں بحث گزر چکی ہے۔