Surat ul Kaahaf

Surah: 18

Verse: 21

سورة الكهف

وَ کَذٰلِکَ اَعۡثَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ لِیَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیۡبَ فِیۡہَا ۚ٭ اِذۡ یَتَنَازَعُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ اَمۡرَہُمۡ فَقَالُوا ابۡنُوۡا عَلَیۡہِمۡ بُنۡیَانًا ؕ رَبُّہُمۡ اَعۡلَمُ بِہِمۡ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰۤی اَمۡرِہِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسۡجِدًا ﴿۲۱﴾

And similarly, We caused them to be found that they [who found them] would know that the promise of Allah is truth and that of the Hour there is no doubt. [That was] when they disputed among themselves about their affair and [then] said, "Construct over them a structure. Their Lord is most knowing about them." Said those who prevailed in the matter, "We will surely take [for ourselves] over them a masjid."

ہم نے اس طرح لوگوں کو ان کے حال سے آگاہ کر دیا کہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ بالکل سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک و شبہ نہیں جبکہ وہ اپنے امر میں آپس میں اختلاف کر رہے تھے کہنے لگے ان کے غار پر ایک عمارت بنالو اور ان کا رب ہی ان کے حال کا زیادہ عالم ہے جن لوگوں نے ان کے بارے میں غلبہ پایا وہ کہنے لگے کہ ہم تو ان کے آس پاس مسجد بنالیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

How the People of the City came to know about Them; building a Memorial over the Cave Allah tells: وَكَذَلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ ... And thus We made their case known, means, `We caused the people to find them.' ... لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لاَ رَيْبَ فِيهَا ... that they might know that the promise of Allah is true, and that there can be no doubt about the Hour. Several scholars of the Salaf mentioned that the people of that time were skeptical about the Resurrection. Ikrimah said: "There was a group of them who said that the souls would be resurrected but not the bodies, so Allah resurrected the people of the Cave as a sign and proof of resurrection." They mentioned that when they wanted to send one of their members out to the city to buy them something to eat, he disguised himself and set out walking by a different route, until he reached the city, which they said was called Daqsus. He thought that it was not long since he left it, but in fact century after century, generation after generation, nation after nation had passed, and the country and its people had changed. He saw no local landmarks that he recognized, and he did not recognize any of the people, elite or commoners. He began to feel confused and said to himself, "Maybe I am crazy or deluded, maybe I am dreaming." Then he said, "By Allah, I am nothing of the sort, what I know I saw last night was different from this." Then he said, "I had better get out of here." Then he went to one of the men selling food, gave him the money he had and asked him to sell him some food. When the man saw the money he did not recognize it or its imprint, so he passed it to his neighbor and they all began to pass it around, saying, "Maybe this man found some treasure." They asked him who he was and where he got this money. Had he found a treasure! Who was he! He said, "I am from this land, I was living here yesterday and Decianus was the ruler." They accused him of being crazy and took him to the governor who questioned him about his circumstances, and he told him. He was confused about his situation. When he told them about it, they -- the king and the people of the city -- went with him to the cave, where he told them, "Let me go in first and let my companions know." It was said that the people did not know how he entered it, and that the people did not know about their story. It was also said that they did enter the cave and see them, and the king greeted them and embraced them. Apparently he was a Muslim, and his name was Tedosis. They rejoiced at meeting him and spoke with him, then they bid farewell to him and went back to sleep, then Allah caused them to die. And Allah knows best. وَكَذَلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ ... And thus We made their case known, meaning, `just as We caused them to sleep then woke them up physically intact, We made their story known to the people of that time.' ... لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لاَ رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ ... that they might know that the promise of Allah is true, and that there can be no doubt about the Hour. (Remember) when they (the people) disputed among themselves about their case, meaning, about Resurrection. Some believed in it and some denied it, so Allah made their discovery of the people of the cave evidence either in their favor or against them. ... فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِم بُنْيَانًا رَّبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ ... they said: "Construct a building over them; their Lord knows best about them," meaning, seal the door of their cave over them, and leave them as they are. ... قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا those who won their point said: "We verily, shall build a place of worship over them." Those who said this were the people of power and influence, but were they good people or not; there is some debate on this point, because the Prophet said: لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَايِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِد Allah has cursed the Jews and the Christians who took the graves of their Prophets and righteous people as places of worship. Warning against what they did. We have reported about the Commander of the faithful Umar bin Al-Khattab that; when he found the grave of Danyal (Daniel) in Iraq during his period of rule, he gave orders that news of this grave should be withheld from the people, and that the inscription containing mention of battles etc., that they found there should be buried.

دوبارہ جینے کی حجت ارشاد ہے کہ اسی طرح ہم نے اپنی قدرت سے لوگوں کو ان کے حال پر اگاہ کر دیا تاکہ اللہ کے وعدے اور قیامت کے آنے کی سچائی کا انہیں علم ہو جائے ۔ کہتے ہیں کہ اس زمانے کے وہاں موجود لوگوں کو قیامت کے آنے میں کچھ شکوک پیدا ہو چلے تھے ۔ ایک جماعت تو کہتی تھی کہ فقط روحیں دوبارہ جی اٹھیں گی ، جسم کا اعادہ نہ ہو گا پس اللہ تعالیٰ نے صدیوں بعد اصحاب کہف کو جگا کر قیامت کے ہونے اور جسموں کے دوبارہ جینے کی حجت واضح کر دی ہے اور عینی دلیل دے دی ۔ مذکور ہے کہ جب ان میں سے ایک صاحب دام لے کر سودا خریدنے کو غار سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ان کی دیکھی ہوئی ایک چیز نہیں سارا نقشہ بدلا ہوا ہے اس شہر کا نام افسوس تھا زمانے گزر چکے تھے ، بستیاں بدل چکی تھیں ، صدیاں بیت گئی تھیں اور یہ تو اپنے نزدیک یہی سمجھے ہوئے تھے کہ ہمیں یہاں پہنچے ایک آدھ دن گزار ہے یہاں انقلاب زمانہ اور کا اور ہو چکا ہے جیسے کسی نے کہا ہے ۔ اما الدیار فانہا کدیارہم واری رجال الحی غیر رجالہ گھر گو انہیں جیسے ہیں لیکن قبیلے کے لوگ اور ہی ہیں اس نے دیکھا کہ نہ تو شہر کوئی چیز اپنے حال پر ہے ، نہ شہر کا کوئی بھی رہنے والا جان پہچان کا ہے نہ یہ کسی کو جانیں نہ انہیں اور کوئی پہچانے ۔ تمام عام خاص اور ہی ہیں ۔ یہ اپنے دل میں حیران تھا ۔ دماغ چکرا رہا تھا کہ کل شام ہم اس شہر کو چھوڑ کر گئے ہیں ۔ یہ دفعتا ہو کیا گیا ؟ ہر چند سوچتا تھا کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تھی ۔ آخر خیال کرنے لگا کہ شاید میں مجنوں ہو گیا ہوں یا میرے حواس ٹھکانے نہیں رہے یا مجھے کوئی مرض لگ گیا ہے یا میں خواب میں ہوں ۔ لیکن فورا ہی یہ خیالات ہٹ گئے مگر کسی بات پر تسلی نہ ہو سکی اس لئے ارادہ کر لیا کہ مجھے سودا لے کر اس شہر کو جلد چھوڑ دینا چاہئے ۔ ایک دکان پر جا کر اسے دام دئیے اور سودا کھانے پینے کا طلب کیا ۔ اس نے اس سکے کو دیکھ کر سخت تر تعجب کا اظہار کیا اپنے پڑوسی کو دیا کہ دیکھنا یہ سکہ کیا ہے کب کا ہے ؟ کسی زمانے کا ہے ؟ اس نے دوسرے کو دیا اس سے کسی اور نے دیکھنے کو مانگ لیا الغرض وہ تو ایک تماشہ بن گیا ہر زبان سے یہی نکلنے لگا کہ اس نے کسی پرانے زمانے کا خزانہ پایا ہے ، اس میں سے یہ لایا ہے اس سے پوچھو یہ کہاں کا ہے ؟ کون ہے ؟ یہ سکہ کہاں سے پایا ؟ چنانچہ لوگوں نے اسے گھیر لیا مجمع لگا کر کھڑے ہو گئے اور اوپر تلے ٹیڑھے ترچھے سوالات شروع کر دئے ۔ اس نے کہا میں تو اسی شہر کا رہنے والا ہوں ، کل شام کو میں یہاں سے گیا ہوں ، یہاں کا بادشاہ دقیانوس ہے ۔ اب تو سب نے قہقہہ لگا کر کہا بھئی یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے ۔ آخر اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیا اس سے سوالات ہوئے اس نے تمام حال کہہ سنایا اب ایک طرف بادشاہ اور دوسرے سب لوگ متحیر ایک طرف سے خود ششدر و حیران ۔ آخر سب لوگ ان کے ساتھ ہوئے ۔ اچھا ہمیں اپنے اور ساتھی دکھاؤ اور اپنا غار بھی دکھا دو ۔ یہ انہیں لے کر چلے غار کے پاس پہنچ کر کہا تم ذرا ٹھیرو میں پہلے انہیں جا کر خبر کر دوں ۔ ان کے الگ ہٹتے ہی اللہ تعالیٰ نے ان پر بےخبری کے پردے ڈال دئے ۔ انہیں نہ معلو ہو سکا کہ وہ کہاں گیا ؟ اللہ نے پھر اس راز کو مخفی کر لیا ۔ ایک روایت یہ بھی آئی ہے کہ یہ لوگ مع بادشاہ کے گئے ، ان سے ملے ، سلام علیک ہوئی ، بغلگیر ہوئے ، یہ بادشاہ خود مسلمان تھا ۔ اس کا نام تندوسیس تھا ، اصحاب کہف ان سے مل کر بہت خوش ہوئے اور محبت و انسیت سے ملے جلے ، باتیں کیں ، پھر واپس جا کر اپنی اپنی جگہ لیٹے ، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں فوت کر لیا ، رحمہم اللہ اجمعین واللہ اعلم ۔ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حبیب بن مسلمہ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے ، وہاں انہوں نے روم کے شہروں میں ایک غار دیکھا ، جس میں ہڈیاں تھیں ، لوگوں نے کہا یہ ہڈیاں اصحاب کہف کی ہیں ، آپ نے فرمایا تین سو سال گزر چکے کہ ان کی ہڈیاں کھوکھلی ہو کر مٹی ہو گئیں ( ابن جریر ) پس فرماتا ہے کہ جیسے ہم نے انہیں انوکھی طرز پر سلایا اور بالکل انوکھے طور پر جگایا ، اسی طرح بالکل نرالے طرز پر اہل شہر کو ان کے حالات سے مطلع فرمایا تاکہ انہیں اللہ کے وعدوں کی حقانیت کا علم ہو جائے اور قیامت کے ہونے میں اور اس کے برحق ہونے میں انہیں کوئی شک نہ رہے ۔ اس وقت وہ آپس میں سخت مختلف تھے ، لڑ جھگڑ رہے تھے ، بعض قیامت کے قائل تھے ، بعض منکر تھے ، پس اصحاب کہف کا ظہور منکروں پر حجت اور ماننے والوں کے لئے دلیل بن گیا ۔ اب اس بستی والوں کا ارادہ ہوا کہ ان کے غار کا منہ بند کر دیا جائے اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے ۔ جنہیں سرداری حاصل تھی انہوں نے ارادہ کیا کہ ہم تو ان کے اردگرد مسجد بنا لیں گے امام ابن جریر ان لوگوں کے بارے میں دو قول نقل کرتے ہیں ایک یہ کہ ان میں سے مسلمانوں نے یہ کہا تھا دوسرے یہ کہ یہ قول کفار کا تھا ۔ واللہ اعلم ۔ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسکے قائل کلمہ گو تھے ، ہاں یہ اور بات ہے کہ ان کا یہ کہنا اچھا تھا یا برا ؟ تو اس بارے میں صاف حدیث موجود ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ یہود و نصاری پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے انبیاء اور اولیا کی قبروں کو مسجدیں بنا لیں جو انہوں نے کیا اس سے آپ اپنی امت کو بچانا چاہتے تھے ۔ اسی لئے امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانے میں جب حضرت دانیال کی قبر عراق میں پائی تو حکم فرمایا کہ اسے پوشیدہ کر دیا جائے اور جو رقعہ ملا ہے جس میں بعض لڑائیوں وغیرہ کا ذکر ہے اسے دفن کر دیا جائے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

21۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے سلایا اور جگایا، اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے آگاہ کردیا۔ بعض روایات کے مطابق یہ آگاہی اس طرح ہوئی جب اصحاب کہف کا ایک ساتھی چاندی کا سکہ لے کر شہر گیا، جو تین سو سال قبل کے بادشاہ دقیانوس کے زمانے کا تھا اور وہ سکہ اس نے ایک دکاندار کو دیا، تو وہ حیران ہوا، اس نے ساتھ والی دکان والے کو دکھایا، وہ دیکھ کر حیران ہوا، جب کہ اصحاب کہف کا ساتھی یہ کہتا رہا کہ میں اس شہر کا باشندہ ہوں اور کل ہی یہاں سے گیا ہوں، لیکن اس ' کل ' کو تین صدیاں گزر چکی تھیں، لوگ کس طرح اس کی بات مان لیتے ؟ لوگوں کو شبہ گزرا کہ کہیں اس شخص کو مدفون خزانہ ملا ہو۔ یہ بات بادشاہ یا حاکم مجاز تک پہنچی اور اس ساتھی کی مدد سے وہ غار تک پہنچا اور اصحاب کہف سے ملاقات کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں پھر وفات دے دی (ابن کثیر) 21۔ 2 یعنی اصحاب کہف کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے وقوع اور بعث بعد الموت کا وعدہ الٰہی سچا ہے، منکرین کے لئے اس واقعہ میں اللہ کی قدرت کا ایک نمونہ موجود ہے۔ 21۔ 3 اذ یا تو ظرف ہے اعثرنا کا، یعنی ہم نے انھیں اس وقت ان کے حال سے آگاہ کیا، جب وہ بعث بعد الموت یا واقعہ قیامت کے بارے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ 21۔ 4 یہ کہنے والے کون تھے، بعض کہتے ہیں کہ اس وقت کے اہل ایمان تھے، بعض کہتے ہیں بادشاہ اور اس کے ساتھی تھے، جب جاکر انہوں نے ملاقات کی اور اس کے بعد اللہ نے انھیں پھر سلا دیا، تو بادشاہ اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ان کی حفاظت کے لئے ایک عمارت بنادی جائے۔ 21۔ 5 جھگڑا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی بابت صحیح علم صرف اللہ کو ہی ہے۔ 21۔ 6 یہ غلبہ حاصل کرنے والے اہل ایمان تھے یا اہل کفر و شرک ؟ شوکانی نے پہلی رائے کو ترجیح دی ہے اور ابن کثیر نے دوسری رائے کو۔ کیونکہ صالحین کی قبروں پر مسجدیں تعمیر کرنا اللہ کو پسند نہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ لعن اللہ الیھود والنصٓاری اتخذوا قبور انبیائھم وصٓالحیھم مساجد۔ البخاری۔ مسلم۔ اللہ تعالیٰ بہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے جنہوں نے اپنے پیغمبروں اور صالحین کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا، حضرت عمر کی خلافت میں عراق میں حضرت دانیال (علیہ السلام) کی قبر دریافت ہوئی تو آپ نے حکم دیا کہ اسے چھپا کر عام قبروں جیسا کردیا جا‏ئے تاکہ لوگوں کے علم میں نہ آئے کہ فلاں قبر فلاں پیغمبر کی ہے۔ تفسیر ابن کثیر۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩] سلطنت کی تبدیلی اور حالات کی سازگاری :۔ جب کھانا لانے والا شہر پہنچا تو وہاں دنیا ہی بدل چکی تھی۔ لوگوں کے تہذیب و تمدن & لباس اور وضع قطع میں نمایاں فرق واقع ہوچکا تھا۔ زبان میں خاصا فرق پڑگیا تھا اور جب لوگوں نے اس نوجوان کو دیکھا تو سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے لیکن وہ ان سے گریز کرتا رہا پھر جب اس نے کھانا خریدنے کے وقت کئی صدیاں پہلے کا سکہ پیش کیا تو دکاندار اور آس پاس والے سب آدمی اس نوجوان کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگے انھیں یہ شبہ ہوا کہ شاید اس شخص کو پرانے زمانے کا کوئی دفینہ مل گیا ہے چناچہ اسی شک و شبہ کی بنا پر لوگوں نے اسے پکڑ کر حکام بالا کے سامنے پیش کردیا اور جب اس نوجوان نے بھی اپنا بیان دیا تو یہ معاملہ کھلا کہ یہ تو وہی پیروان مسیح ہیں جو کئی صدیاں پیشتر یکدم روپوش ہوگئے تھے اور جن کا ریکارڈ اب تک سرکاری دفتروں میں منتقل ہوتا چلا آرہا تھا۔ یہ خبر آناً فاناً ساری عیسائی آبادی میں پھیل گئی جس بات سے وہ لوگ بچنا چاہتے تھے اللہ نے سب لوگوں کو ان کے حال سے باخبر کردیا۔ فرق یہ تھا کہ جب وہ مفرور اور روپوش ہوئے تھے اس وقت وہ معاشرہ اور حکومت کے مجرم تھے لیکن اس وقت وہ سب کی نظروں میں اپنے ایمان پر ثابت قدم رہنے والے اور محترم تھے۔ [٢٠] بعث بعد الموت کے جھگڑے کی نوعیت روحانی ہوگا یا جسمانی ؟ ان دنوں اگرچہ سرکاری مذہب عیسائیت تھا اور عیسائی قیامت اور روز آخرت کے قائل ہوتے ہیں۔ تاہم روز قیامت کے متعلق عجیب عجیب قسم کی اور فلسفیانہ قسم کی بحثیں چھڑی ہوئی تھیں کچھ بےدین قسم کے لوگ تو سرے سے بعث بعد الموت کے منکر تھے جیسا کہ ہر مذہب میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں خواہ یہ انکار عملاً ہو یا قولاً بھی ہو۔ باقی بعث بعد الموت پر ایمان رکھنے والوں میں یہ اختلاف تھا کہ آیا یہ روحانی قسم کا ہوگا یا جسمانی قسم کا ؟ اور اس پر مناظرے بھی ہوتے تھے لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہونے پا رہا تھا۔ بادشاہ خود چاہتا تھا کہ اس اختلاف کا کوئی حتمی فیصلہ ہوجائے۔ انھیں ایام میں ان نوجوانوں کی دریافت والا مسئلہ سب کے سامنے آگیا جس نے جسمانی طور پر بعث بعد الموت کے عقدے کا ناقابل انکار ثبوت فراہم کردیا۔ [٢١] مسجد کی تعمیر بطور یادگار :۔ اب یہ اصحاب کہف سب لوگوں کی نظروں میں محترم تھے اور اولیاء اللہ سمجھے جانے لگے تھے لوگوں نے ان سے غار میں جاکر ملاقات کی یا نہیں کی یا ان لوگوں نے غار سے نکل کر لوگوں کو علیک سلیک کی یا نہیں کی، یہ تفصیل کہیں بھی مذکور نہیں البتہ راجح قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ کھانا لانے والا بھی واپس غار میں چلا گیا وہ پھر پہلے کی طرح لیٹ گئے اور وہیں ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی لوگوں نے یہ خیال کیا کہ یہ سب مقدس ہستیاں تھیں لہذا اس غار پر کوئی یادگار عمارت تعمیر کردینا چاہیئے۔ اس بات پر پھر اختلاف ہوا کہ یہ یادگار تعمیر کس قسم کی ہو اور جو لوگ بااثر اور صاحب رسوخ تھے ان کی رائے ہی غالب آئی اور وہ رائے یہ تھی کہ اس غار کے پاس ایک مسجد یا عبادت خانہ یادگار کے طور پر بنادیا جائے جسے ان بااثر لوگوں نے خود بنانے کا ذمہ لیا۔ اس طرح اصحاب کہف کو اولیاء اللہ کی اور ان کی غار کو آستانے یا ان کے مقبرے کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ آستانوں یا خانقاہوں اور مزاروں وغیرہ کے قریب یا ان پر مسجد بنانا یا کسی مسجد میں کسی کو ولی اللہ سمجھ کر اس کی قبر بنادینا ایسے کام ہیں جن سے رسول اللہ نے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے وجہ یہ ہے کہ ایسے کاموں سے شرک کی بہت سی راہیں کھلتی ہیں جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ ١۔ قبروں پر مسجدیں تعمیر کرنا پرانی شرکیہ رسم ہے :۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ بعض ازواج مطہرات نے رسول اللہ سے ذکر کیا کہ انہوں نے حبشہ میں && ماریہ && نامی ایک کنے سہ (یہودیوں کی عبادت گاہ) دیکھا ہے جس میں مجسمے تھے تو آپ نے فرمایا : && جب ان لوگوں میں سے کوئی صالح مرد مرجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے ایسے لوگ اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں && (مسلم، کتاب الصلوٰۃ) اور اسی حدیث کو امام بخاری نے یوں ذکر کیا ہے : سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ (رض) اور ام سلمہ (رض) نے آپ سے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے ملک حبش میں دیکھا تھا اور اس میں مورتیاں تھیں۔ آپ نے فرمایا ان لوگوں کا قاعدہ یہ تھا کہ جب ان میں سے کوئی صالح آدمی مرجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے اور اس میں مورتیاں رکھ لیتے۔ قیامت کے دن اللہ کے ہاں یہ لوگ سب مخلوق سے بدتر ہوں گے۔ (بخاری، کتاب الصلوۃ، باب ھلے نبش قبور مشرکی اھل الجاھلیہ۔ نیز باب الصلوۃ فی البیعۃ) ٢۔ قبور سے تعلق رکھنے والی احادیث :۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے اپنی اس مرض میں جس سے تندرست ہو کر نہیں اٹھے فرمایا : && یہود پر اللہ لعنت کرے انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں یا سجدہ گاہیں بنا لیا && سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ آپ کی قبر کو سجدہ گاہ بنالیں گے تو آپ کی قبر مرجع خاص و عام بنادی جاتی && (بخاری، کتاب المغازی۔ باب مرض النبی ) اس کی وضاحت یہ ہے کہ رسول اللہ کی قبر مبارک سیدہ عائشہ (رض) کے گھر میں تھی۔ اس کی صورت یہ تھی کہ پیچھے قبر، اس سے آگے سیدہ عائشہ (رض) کی رہائش اور اس سے آگے بیرونی دروازہ تھا اور قبر تک سوائے سیدہ عائشہ (رض) یا رشتہ داروں کے علاوہ دوسرے لوگ جا ہی نہ سکتے تھے کیونکہ قبر کے پیچھے پھر دیوار تھی۔ اسی بنا پر سیدہ عائشہ (رض) فرما رہی ہیں کہ اگر آپ کی قبر کے متعلق یہ خطرہ نہ ہوتا کہ کچھ عرصہ گزرنے پر لوگ آپ کی قبر کو سجدہ کرنے لگیں گے تو بغرض زیارت پچھلی دیوار کھول دی جاتی۔ ٣۔ درج ذیل حدیث میں قبر پرست یہود کے علاوہ عیسائیوں کا بھی ذکر ہے : سیدہ عائشہ (رض) اور سیدنا ابن عباس (رض) دونوں سے روایت ہے کہ جب آپ پر بیماری آن پڑی اور وفات کی علامات ظاہر ہوئیں تو آپ اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانپ لیتے اور جب بیزاری بڑھتی تو اسے چہرے سے ہٹا دیتے اور یوں فرماتے : اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد یا سجدہ گاہیں بنا لیا۔ اس قول سے آپ ہمیں اس برے کام سے ڈراتے تھے جو یہود و نصاریٰ نے کیا تھا۔ (بخاری۔ حوالہ ایضاً ) ٤۔ اور صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ میں سیدنا جندب کی جو روایت ہے اس میں نبیوں کے ساتھ ولیوں کی قبروں کا بھی ذکر ہے، الفاظ یہ ہیں : && سن لو ! تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا، خبردار ! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا۔ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں && ٥۔ سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : تمام روئے زمین نماز کے قابل ہے سوائے قبرستان اور حمام کے && (ترمذی، ابو داؤد، دارمی، بحوالہ مشکوۃ، کتاب الصلٰوۃ باب المساجد و مواضع الصلوٰۃ فصل ثانی) ٦۔ رسول اللہ نے اپنے متعلق ارشاد فرمایا کہ && میری قبر کو عید (عرس یا میلہ) نہ بنانا اور جہاں کہیں تم ہو وہیں سے درود پڑھ لیا کرو۔ تمہارا درود مجھے پہنچا دیا جاتا ہے && (نسائی بحوالہ مشکوٰۃ۔ باب الصلوٰۃ علی النبی و فضلہا۔ فصل ثانی) ٧۔ نیز آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی فرمائی کہ : && یا اللہ ! میری قبر کو وثن (آستانہ) نہ بنادینا کہ لوگ آکر پوجا کرنے لگیں && (مالک، بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب الصلوٰۃ، باب المساجد و مواضع الصلوٰۃ، تیسری فصل) ان سب احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے قبر، مقبرہ، مزار، روضہ، آستانہ پر لوگوں کے اس کو مقدس سمجھ کر جمع ہونے، ان پر عرس یا میلہ لگانے حتیٰ کہ وہاں نماز ادا کرنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ کسی قبر یا مزار یا آستانہ پر مسجد بنانا حرام ہے کیونکہ یہ کام محض صاحب قبر کی تعظیم کی وجہ سے کیا جاتا ہے اور قبرستان میں نماز نہیں ہوتی جبکہ ہمارے ہاں دستور یہ ہے کہ ہر مزار پر مسجد ہوتی ہے یا مسجد میں ہی کسی بزرگ کو دفن کردیا جاتا ہے۔ ایسی سب صورتیں ممنوع ہیں، مزاروں پر جو لوگ اکٹھے ہوتے ہیں وہ ان بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر ہی وہاں جاتے ہیں۔ نیز ایسے آداب یا عبادات بجالاتے ہیں جو صرف اللہ کے لیے سزاوار ہیں یا بیت اللہ کے لیے مثلاً وہاں نذریں، نیازیں یعنی مالی قربانی بھی دیتے ہیں۔ قبروں کی صفائی، انھیں مزیں کرنا، ان پر چراغاں کرنا سب شرعاً حرام ہیں جو وہاں بجا لاتے ہیں اور بعض بدبخت تو قبروں کا بیت اللہ کی طرح طواف کرتے، غلاف چڑھاتے حتیٰ کہ سجدہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور غالباً یہی وجوہ ہیں جن کی بنا پر قبرستان میں نماز کو ممنوع اور مزارات اور آستانوں کی تعمیر کو حرام قرار دیا گیا ہے اور آج کل تو بعض مزارات پر عرس کے بجائے حج کے پورے مناسک بھی ادا کیے جاتے ہیں اور اسے حج ہی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ ۔۔ : یعنی جس طرح ہم نے انھیں ثابت قدم رکھا اور حیرت انگیز طریقے سے سلائے رکھا اسی طرح ہم نے شہر والوں کو ان کی حقیقت حال اور جگہ سے مطلع کردیا۔ بہت سے مفسرین کا بیان ہے اور واقعہ کی صورت خود بخود بھی یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب وہ شخص کھانا خریدنے کے لیے روانہ ہوا تو اس نے دیکھا کہ شہر کے راستے، لوگوں کی تہذیب، رہن سہن، زبان اور لباس ہر چیز بدل چکی ہے، اس نے خیال کیا کہ شاید میں پاگل ہوگیا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں۔ بالآخر وہ شہر پہنچا اور ایک دکاندار سے کھانا خریدنے لگا اور اس نے سکہ نکالا تو دکاندار ششدر رہ گیا اور اس نے ایک دوسرے دکاندار کو بلایا، بالآخر کچھ لوگ جمع ہوگئے اور انھیں شک گزرا کہ شاید اس شخص کو کہیں سے پرانا خزانہ ہاتھ لگا ہے۔ مگر جب اس نے بتایا کہ میں اسی شہر کا رہنے والا ہوں اور کل ہی یہاں فلاں بادشاہ کو چھوڑ کر گیا ہوں تو لوگوں کی حیرت اور بڑھ گئی اور وہ اسے پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے آئے۔ وہاں جب پوچھ گچھ ہوئی تو سب معاملہ کھل گیا، اس لیے اصحاب کہف کو دیکھنے اور انھیں سلام کرنے کے لیے بادشاہ اور اس کے ساتھ لوگوں کا ایک ہجوم غار پر پہنچ گیا۔ شہر جانے والا ساتھی اندر داخل ہوگیا اور سارے ساتھی دوبارہ لیٹ گئے، اسی حال میں اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرلی۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا وہاں تین سو نو (٣٠٩) سال ٹھہرنا بیان فرمایا ہے، اگر وہ اس کے بعد بھی زندہ ہوتے تو ان پر عمارت بنانے یا مسجد بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، بلکہ ان کی کرامت دیکھنے والے خوش عقیدہ لوگ انھیں شہر لے جاتے اور ہر طرح ان کی خدمت بجا لاتے۔ 3 اس آیت سے کئی ساتھیوں کا مال برابر جمع کرکے کھانے وغیرہ کے لیے اکٹھا خرچ کرنا ثابت ہوتا ہے، خواہ کوئی کم کھاتا ہو یا زیادہ اور یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کسی کو اپنا نائب یا وکیل بنایا جاسکتا ہے۔ لِيَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ ۔۔ : یعنی ان پر مطلع ہونے والے شہر کے لوگوں کو یقین آجائے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ ۔۔ : یعنی ہم نے شہر والوں کو ان پر اس وقت مطلع کیا جب وہ آپس میں اپنے معاملے میں جھگڑ رہے تھے۔ کوئی کہتا تھا کہ مر کر جی اٹھنا برحق ہے، کوئی اس کا انکار کرتا تھا، کوئی کہتا کہ حشر صرف روح کا ہوگا بدن کا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں اصحاب کہف کا حال آنکھوں سے دکھا کر یقین دلا دیا کہ قیامت آئے گی اور حشر بدن اور روح دونوں کا ہوگا۔ ” اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ “ کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب شہر والے اصحاب کہف کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ یہ کون لوگ تھے ؟ غار میں کب آئے ؟ کتنی دیر سوئے رہے ؟ اب ان کے مرنے پر ان کے ساتھ کیا کیا جائے ؟ بعض نے کہا، ان پر دیوار بنا کر غار کا منہ بند کردیں۔ بعض نے کہا، ان پر ایک عمارت ان کی یادگار کے طور پر بنادیں۔ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ : یعنی اصحاب کہف اور شہر والوں کے احوال ان کا رب بہتر جانتا ہے۔ قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓي اَمْرِهِمْ ۔۔ : جن لوگوں کے پاس غلبہ و اقتدار تھا وہ کہنے لگے کہ ہم تو ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے اور اس طرح ان کی یاد گار کو باقی رکھیں گے۔ گزشتہ قوموں میں اسی راستے سے شرک داخل ہوتا رہا اور اب بھی شرک کے سب سے بڑے مراکز انھی قبروں پر تعمیر شدہ عمارتیں مثلاً خانقاہیں وغیرہ یا مسجدیں ہی ہیں۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی اس بیماری میں فرمایا جس میں آپ فوت ہوئے : ( لَعَنَ اللّٰہُ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَاءِھِمْ مَسَاجِدَ ) [ بخاری، الجنائز، باب ما یکرہ من اتخاذ المساجد۔۔ : ١٣٣٠۔ مسلم : ٥٢٩ ] ” اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ “ جندب (رض) نے فرمایا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کے فوت ہونے سے پانچ دن پہلے سنا، آپ نے فرمایا : ( أَلَا وَإِنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوْا یَتَّخِذُوْنَ قُبُوْرَ أَنْبِیَاءِھِمْ وَصَالِحِیْھِمْ مَسَاجِدَ ، أَلَا فَلاَ تَتَّخِذُوا الْقُبُوْرَ مَسَاجِدَ ، إِنِّيْ أَنْھَاکُمْ عَنْ ذٰلِکَ ) [ مسلم، المساجد، باب النہي عن بناء المساجد علی القبور۔۔ : ٥٣٢ ] ” جان لو ! جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں کو مسجدیں بنا لیتے تھے، سن لو کہ تم قبروں کو مسجدیں نہ بنانا، میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔ “ ایک حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کرنے والوں کو اللہ کے ہاں سب سے بدتر مخلوق قرار دیا، فرمایا : ( فَأُولٰءِکَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) [ بخاري، الصلاۃ، باب ھل تنبش قبور مشرکي الجاھلیۃ ۔۔ : ٤٢٧۔ مسلم : ٥٢٨، عن عائشۃ ] ان احادیث میں قبروں پر مسجدیں بنانے سے مراد ان کے پاس مسجدیں بنانا ہے، کیونکہ یہود و نصاریٰ کے عبادت خانے ان کے انبیاء و اولیاء کی قبروں کے پاس ہوا کرتے تھے۔ افسوس کہ بعض مسلمانوں نے یہ تکلف بھی ختم کرکے اپنے بزرگوں کی قبریں عین مسجدوں کے اندر بنانا شروع کردیں۔ ان لوگوں کی کوئی مسجد کم ہی کسی نہ کسی قبر سے خالی نظر آئے گی، ان کے مولویوں نے اس بدترین فعل کے جواز کے لیے زیر تفسیر آیت کو دلیل بنا لیا، حالانکہ اس میں صرف یہ ذکر ہے کہ ان کے غالب اور بااثر لوگوں نے یہ کہا۔ رہی یہ بات کہ انھوں نے درست کہا یا غلط، اس کی وضاحت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرما دی، چناچہ جابر (رض) بیان کرتے ہیں : ( نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُّجَصَّصَ الْقَبْرُ ، وَأَنْ یُّقْعَدَ عَلَیْہِ ، وَأَنْ یُّبْنٰی عَلَیْہِ ) [ مسلم، الجنائز، باب النھي عن تجصیص القبر۔۔ : ٩٧٠ ]” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا کہ قبر چونا گچ (سیمنٹڈ) بنائی جائے اور اس سے کہ اس پر بیٹھا جائے اور اس سے کہ اس پر عمارت بنائی جائے۔ “ بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا۔ چناچہ ابو الہیاج الاسدی، علی (رض) کے داماد فرماتے ہیں کہ علی بن ابی طالب (رض) نے مجھ سے فرمایا : ( أَلاَ أَبْعَثُکَ عَلٰی مَا بَعَثَنِيْ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ أَنْ لاَّ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلَّا طَمَسْتَہُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّیْتَہُ ) [ مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر : ٩٦٩ ] ” کیا میں تمہیں اس کام پر مقرر نہ کروں جس پر مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقرر فرمایا ؟ وہ یہ ہے کہ کوئی مورتی نہ چھوڑ جسے تو مٹا نہ دے اور نہ کوئی اونچی قبر جسے تو برابر نہ کر دے۔ “ اللہ کی حکمت دیکھیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبریں برابر کرنے پر اس شخص کو مقرر فرمایا جس کے نام لیواؤں نے سب سے زیادہ قبروں کو پختہ اور اونچا بنانا تھا، تاکہ کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Described in this verse which opens with the words: وَكَذَٰلِكَ أَعْثَرْ‌نَا عَلَيْهِمْ (And in this way We made them known) is the disclosure of the secret of the People of Kahf before the residents of the city. Along with it given there is a view of His wisdom, and of the belief in the Hereafter and the Last Day when the dead will rise again, and that they will ultimately be-lieve in it. How this came about has been mentioned briefly in Tafsir al-Qurtubi as follows: The secret of the People of Kahf: How did the people of the city learn about it? When the People of Kahf went out, the Mushrik king Daqyanus, the oppressive ruler of that city died. Centuries went by. Then, it was taken over by people who were pure monotheists. Their king was a righteous man (whose name has been given as Baidusis in Tafsir Mazhari with ref¬erences to historical narratives). During his time, it so happened that dif¬ferences became rampant on the issue of the dead rising again on the day of Qiyamah. One sect rejected the possibility of human bodies rising again after the process of decomposition, disintegration and dispersal as scattered particles all over the world. Baidusis, the king of the time, started worrying about ways to dispel these doubts. When nothing worked, he got into ragged clothes, sat down on a heap of ash and prayed to Allah. Lamenting and pleading earnestly, he said, &0 Allah, now it is up to Thee to make things work out in a way that the belief of my people gets corrected and they take to the right path.& On one side was this king engaged in his plaint and prayer while, on the other side, Allah Ta` ala arranged to have his supplication answered in His own way. The People of Kahf woke up. They sent one of their men (reportedly named Tamlikha) to the city bazaar to buy food. He went to a shop and paid for the food he bought in the form of a silver coin dating back to the time of king Daqyanus who reigned there three hundred years ago. The shopkeeper was taken aback. Where did this coin come from? What peri¬od does it belong to? He was confused. He showed it to other shopkeep¬ers. Everyone said that the man had struck some treasure and was there with a coin from it. This man told them that nothing of that kind had happened to him and the coin was his own. The shopkeepers detained him and produced him before the king. As said earlier, this king was a righteous man of Allah. It is said that he was aware of the old state treasure house and in its archaeological sec¬tion he had also seen the tablet inscribed on which there was a list of the names of the People of Kahf along with the description of the incident of their escape. According to some, the cruel king Daqyanus was the one who had ordered that such a tablet should be inscribed to declare them as proclaimed offenders, to preserve their names and addresses and to have them arrested on sight. Some other reports say that there were peo¬ple in the royal court who disapproved of idol-worship by heart and took the People of Kahf as votaries of truth. But, they did not have the cou¬rage to declare it openly. What they did was to have this tablet inscribed to be kept as memorabilia. The name of this tablet was Raqim because of which the People of Kahf were also called the People of Raqim. So, this king knew something about this event and at that time he was busy praying to Allah that He would somehow make his people be¬lieve that making dead bodies rise again was not beyond His most per¬fect power. Therefore, when he inquired into the background of Tamlikha, he was convinced that the man was one of the People of Kahf. He said that he used to pray to Allah in the hope that He would somehow make him fortunate enough to meet the people who had run away from Daqyanus for the sake of their faith. Now that Allah had perhaps heard his prayer, he was grateful. May be there is, in this event, some decisive proof that makes people believe in the rising of the dead. After saying this, he asked this man to take him to the Cave from where he had come. The king arrived there with a retinue of people from the city. When the Cave came close, Tamlikha asked the king to wait there for a while so that he could go in and inform his companions about the situation. He would tell them that the king was there to meet them along with his peo¬ple and that the king was a believer, a monotheist and so were his peo¬ple. If he failed to do that, and the king appeared there unannounced, it was likely that they might take him to be their enemy like the previous one. When Tamlikha went in the Cave, he related the whole story before his companions. They were pleased. They greeted the king showing due respect for him. Then they returned to their Cave. And as most narra¬tives have it, when Tamlikha related the whole story before his compan¬ions, they died and could not meet the king. At this stage, Abu Hayyan has reported a narrative in al-Bahr al-Muhit which says that after the meeting, the People of the Cave took leave of the king and the visiting ci¬tizens and went into the Cave. It was at that time that Allah Ta` ala sent death to them. Allah knows best the reality as it is. However, the people of the city now had before them a marvel of Divine power manifested so decisively and clearly. They came to believe in the working of that power. They saw living human beings kept alive for three hundred years without food and things essential in life. And then, they also saw them raised intact, healthy and fit after having been kept asleep for such a long time. With all this in view, why should it be at all difficult for that power to make these bodies come alive after having met their death? Through this event, their perception that the resurrection of bodies was a far out proposition stood refuted. They now realized that taking the Power of the master of the universes on the analogy of the power of human beings was an act of ignorance by itself. A hint was made towards this very aspect in the words: لِیَعلَمُوآ اَنَّ وَعدَ اللہِ حَقُّ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَّا رَ‌يْبَ فِيهَا (so that they realize that Allah&s promise is true and that there is no doubt about the Hour). It means, &Allah raised the People of Kahf after having kept them asleep for a long time so that others realized that His promise to raise the dead on the Last Day of Qiyamah was true, and that there was no doubt about the coming of the Qiyamah.& People differed after the death of Ashab al-Kahf As for the holiness of the People of Kahf, everyone agreed about that and thought of making a memorial for them close to the Cave. However, there was a difference of opinion on the nature of the building. Some reports tell us that idol-worshippers, still left in the city, also used to visit the site. They proposed that it should be a public welfare building. But, the king and the official in his government were believers who played a dominant role in public affairs. They proposed that they should make a mosque over there so that it serves as a memorial to them and also becomes the cause of saving people from idol-worship in the future. At this place in the Qur&an, the reference to this difference of opinion is hemmed in by the sentence: رَّ‌بُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ (Their Lord knows them best). Regarding the meaning of this sentence, Tafsir al-Bahr al-Muhit has mentioned two probabilities. (1) This was said by the same people from the city present there, because when a memorial was proposed after their death, people thought of inscribing a tablet mentioning the names and the details about the people of the Cave for the memory of whom the building was to be dedicated. And so they started talking variously about the background details concerning the People of Kahf. In the end, when their differences remained unresolved, they said: رَّ‌بُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ (their Lord knows them best). After saying that, they turned to the main job at hand which was raising a building in their memory. Those who were dominant decided to make a mosque. (2) Then, the probability that this was said by Allah Ta` ala also exists here as it warns people who in¬dulged in mutual disputations around baseless issues during that time. They are being told here that they do not know the reality and they do not have the sources to arrive at that knowledge. Why, then, would they waste their precious time in futile argumentation? Then, it is also pos¬sible that the warning was beamed at Jews and others who used the crutch of this event to indulge in baseless debates during the blessed time of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Pure and High is Allah who knows best. Ruling This event tells us that making a masjid for Salah near the graves of men of Allah is no sin. As for the Hadith in which words of curse have ap¬peared against those who make the graves of prophets a masjid, it means making the graves as such a place of sajdah or prostration - which is, by consensus, Shirk, and Haram. (Mazhari)

خلاصہ تفسیر : اور (ہم نے جس طرح اپنی قدرت سے ان کو سلایا اور جگایا) اسی طرح ہم نے (اپنی قدرت و حکمت سے اس زمانے کے) لوگوں کو ان ( کے حال) پر مطلع کردیا تاکہ (منجملہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہو کہ) وہ لوگ (اس واقعہ سے استدلال کر کے) اس بات کا یقین (یا زیادہ یقین) کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، اور وہ یہ کہ قیامت میں کوئی شک نہیں ( یہ لوگ اگر پہلے سے قیامت میں زندہ ہونے پر ایمان رکھتے تھے تو زیادہ یقین اس واقعہ سے ہوگیا، اور اگر قیامت کے منکر تھے تو اب یقین حاصل ہوگیا یہ واقعہ تو اصحاب کہف کی زندگی میں پیش آیا، پھر ان صاحبوں نے وہیں غار میں وفات پائی، تو ان کے متعلق اہل عصر میں اختلاف ہوا جس کو آگے بیان فرمایا ہے کہ) وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ اس زمانے کے لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑ رہے تھے، (اور وہ معاملہ اس غار کا منہ بند کرنا تھا، تاکہ ان کی لاشیں محفوظ رہیں، یا ان کی یادگار قائم کرنا مقصود تھا) سو ان لوگوں نے کہا کہ ان کے (غار کے) پاس کوئی عمارت بنوا دو (پھر اختلاف ہوا کہ وہ عمارت کیا ہو، اس میں رائیں مختلف ہوئیں، تو اختلاف کے وقت) ان کا رب ان (کے احوال مختلفہ) کو خوب جانتا تھا (بالآخر) جو لوگ اپنے کام پر غالب تھے (یعنی اہل حکومت جو اس وقت دین حق پر قائم تھے) انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کے پاس ایک مسجد بنادیں گے ( تاکہ مسجد اس بات کی بھی علامت رہے کہ یہ لوگ خود عابد تھے معبود نہ تھے اور دوسری عمارتوں میں یہ احتمال تھا کہ آگے آنے والے انہی کو معبود بنالیں) معارف و مسائل : وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ اس آیت میں اصحاب کہف کے راز کا اہل شہر پر منکشف ہوجانا اور اس کی حکمت عقیدہ آخرت و قیامت کہ سب مردے دوبارہ زندہ ہوں گے اس پر ایمان و یقین حاصل ہونا بیان فرمایا ہے، تفسیر قرطبی میں اس کا مختصر قصہ اس طرح مذکور ہے کہ :۔ اصحاب کہف کا حال اہل شہر پر کھل جانا : اصحاب کہف کے نکلنے کے وقت جو ظالم اور مشرک بادشاہ دقیانوس اس شہر پر مسلط تھا وہ مر گیا، اور اس پر صدیاں گذر گئیں، یہاں تک اس مملکت پر قبضہ اہل حق کا ہوگیا جو توحید پر یقین رکھتے تھے ان کا بادشاہ ایک نیک صالح آدمی تھا (جس کا نام تفسیر مظہری میں تاریخی روایات سے بیدوسیس لکھا ہے) اس کے زمانے میں اتفاقا قیامت اور اس میں سب مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے مسئلے میں کچھ اختلافات پھیل گئے، ایک فرقہ اس کا منکر ہوگیا کہ یہ بدن گلنے سڑنے، پھر ریزہ ریزہ ہو کر ساری دنیا میں پھیل جانے کے بعد پھر زندہ ہوجائیں گے، بادشاہ وقت بیدوسیس کو اس کی فکر ہوئی کہ کس طرح ان کے شکوک و شبہات دور کئے جائیں، جب کوئی تدبیر نہ بنی تو اس نے ٹاٹ کے کپڑے پہنے اور راکھ کے ڈھیر پر بیٹھ کر اللہ سے دعا کی اور الحاح وزاری شروع کی، کہ یا اللہ آپ ہی کوئی ایسی صورت پیدا فرما دیں کہ ان لوگوں کا عقیدہ صحیح ہوجائے اور یہ راہ پر آجائیں، اس طرف یہ بادشاہ گریہ وزاری اور دعا میں مصروف تھا، دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا کی قبولیت کا یہ سامان کردیا کہ اصحاب کہف بیدار ہوئے اور انہوں نے اپنے ایک آدمی کو (جس کا نام تملیخا بتلایا جاتا ہے ان کے بازار میں بھیج دیا وہ کھانا خریدنے کے لئے دکان پر پہنچا اور تین سو برس پہلے بادشاہ دقیانوس کے زمانے کا سکہ کھانے کی قیمت میں پیش کیا تو دکاندار حیران رہ گیا، کہ یہ سکہ کہاں سے آیا، کس زمانے کا ہے، بازار کے دوسرے دکان داروں کو دکھلایا، سب نے یہ کہا کہ اس شخص کو کہیں پرانا خزانہ ہاتھ آگیا ہے اس میں سے یہ سکہ نکال کر لایا ہے، اس نے انکار کیا کہ نہ مجھے کوئی خزانہ ملا، نہ کہیں سے لایا یہ میرا اپنا روپیہ ہے۔ بازار والوں نے اس کو گرفتار کر کے بادشاہ کے سامنے پیش کردیا، یہ بادشاہ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے، ایک نیک صالح اللہ والا تھا، اور اس نے سلطنت کے پرانے خزانے کے آثار قدیمہ میں کہیں وہ تختی بھی دیکھی تھی جس میں اصحاب کہف کے نام اور ان کے فرار ہوجانے کا واقعہ بھی لکھا ہوا تھا، بعض کے نزدیک خود ظالم بادشاہ دقیانوس نے یہ تختی لکھوائی تھی، کہ یہ اشتہاری مجرم ہیں، ان کے نام اور پتے محفوظ رہیں، جب کہیں ملیں گرفتار کر لئے جائیں، اور بعض روایات میں ہے کہ شاہی دفتر میں بعض ایسے مومن بھی تھے جو دل سے بت پرستی کو برا سمجھتے اور اصحاب کہف کو حق پر سمجھتے تھے، مگر ظاہر کرنے کی ہمت نہیں تھی، انہوں نے یہ تختی بطور یادگار کے لکھ لی تھی، اس تختی کا نام رقیم ہے جس کی وجہ سے اصحاب کہف کو اصحاب رقیم بھی کہا گیا۔ الغرض اس بادشاہ کو اس واقعہ کا کچھ علم تھا، اور اس وقت وہ اس دعا میں مشغول تھا کہ کسی طرح لوگوں کو اس بات کا یقین آجائے کہ مردہ اجسام کو دوبارہ زندہ کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے سامنے کچھ بعید نہیں۔ اس لئے تملیخا سے اس کے حالات کی تحقیق کی تو اس کو اطمینان ہوگیا کہ یہ انہی لوگوں میں سے ہے اور اس نے کہا کہ میں تو اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرتا تھا کہ مجھے ان لوگوں سے ملا دے جو دقیانوس کے زمانے میں اپنا ایمان بچا کر بھاگے تھے ؟ بادشاہ اس پر مسرور ہوا اور کہا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی، اس میں لوگوں کے لئے شاید کوئی ایسی حجت ہو جس سے ان کو حشر اجساد کا یقین آجائے، یہ کہہ کر اس شخص سے کہا کہ مجھے اس غار پر لے چلو جہاں سے تم آئے ہو۔ بادشاہ بہت سے اہل شہر کے مجمع کے ساتھ غار پہنچا، جب غار قریب آیا تو تملیخا نے کہا کہ آپ ذرا ٹھہریں میں جا کر اپنے ساتھیوں کو حقیقت معاملہ سے باخبر کر دوں کہ اب بادشاہ مسلمان موحد ہے اور قوم بھی مسلمان ہے، وہ ملنے کے لئے آئے ہیں، ایسا نہ ہو کہ اطلاع سے پہلے آپ پہونچیں، تو وہ سمجھیں کہ ہمارا دشمن بادشاہ چڑھ آیا ہے، اس کے مطابق تملیخا نے پہلے جا کر ساتھیوں کو تمام حالات سنائے تو وہ لوگ اس سے بہت خوش ہوئے، بادشاہ کا استقبال تعظیم کے ساتھ کیا، پھر وہ اپنے غار کی طرف لوٹ گئے، اور اکثر روایات میں یہ ہے کہ جس وقت تملیخا نے ساتھیوں کو یہ سارا قصہ سنایا، اسی وقت سب کی وفات ہوگئی، بادشاہ سے ملاقات نہیں ہوسکی، بحر محیط میں ابو حیان نے اس جگہ یہ روایت نقل کی ہے کہ ملاقات کے بعد اہل غار نے بادشاہ اور اہل شہر سے کہا کہ اب ہم آپ سے رخصت چاہتے ہیں اور غار کے اندر چلے گئے، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ان سب کو وفات دیدی، واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔ بہر حال اب اہل شہر کے سامنے یہ واقعہ عجیبہ قدرت آلہیہ کا واشگاف ہو کر آ گیا تو سب کو یقین ہوگیا کہ جس ذات کی قدرت میں یہ داخل ہے کہ تین سو برس تک زندہ انسانوں کو بغیر کسی غذا اور سامان زندگی کے زندہ رکھے اور اس طویل عرصہ تک ان کو نیند میں رکھنے کے بعد پھر صحیح سالم، قوی، تندرست اٹھاوے اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ مرنے کے بعد بھی پھر ان اجسام کو زندہ کر دے، اس واقعہ سے ان کے انکار کا سبب دور ہوگیا کہ حشر اجساد کو مستبعد اور خارج از قدرت سمجھتے تھے، اب معلوم ہوا کہ مالک الملکوت کی قدرت کو انسانی قدرت پر قیاس کرنا خود جہالت ہے۔ اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا (آیت) لِيَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيْهَا یعنی ہم نے اصحاب کہف کو زمانہ دراز تک سلانے کے بعد جگا کر بٹھا دیا تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ اللہ کا وعدہ یعنی قیامت میں سب مردوں کے اجسام کو زندہ کرنے کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں۔ اصحاب کہف کی وفات کے بعد لوگوں میں اختلاف رائے :۔ اصحاب کہف کی بزرگی اور تقدس کے تو سب ہی قائل ہوچکے تھے، ان کی وفات کے بعد سب کا خیال ہوا کہ غار کے پاس کوئی عمارت بطور یادگار کے بنائی جائے، عمارت کے بارے میں اختلاف رائے ہوا، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل شہر میں اب بھی کچھ بت پرست لوگ موجود تھے وہ بھی اصحاب کہف کی زیارت کو آتے تھے ان لوگوں نے عمارت بنانے میں یہ رائے دی کہ کوئی رفاہ عام کی عمارت بنادی جائے مگر ارباب حکومت اور بادشاہ مسلمان تھے، اور انہی کا غلبہ تھا، ان کی رائے یہ ہوئی کہ یہاں مسجد بنادی جائے جو یادگار بھی رہے اور آئندہ بت پرستی سے بچانے کا سبب بھی بنے یہاں اختلاف رائے کا ذکر کرتے ہوئے درمیان میں قرآن کا یہ جملہ ہے رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ ، یعنی ان کا رب ان کے حالات کو پوری طرح جانتا ہے۔ تفسیر بحر محیط میں اس جملے کے معنی میں دو احتمال ذکر کئے ہیں ایک یہ کہ یہ قول انہی حاضرین اہل شہر کا ہو، کیونکہ ان کی وفات کے بعد جب ان کی یادگار بنانے کی رائے ہوئی جو جیسا عموما یادگاری تعمیرات میں ان لوگوں کے نام اور خاص حالات کا کتبہ لگایا جاتا ہے جن کی یادگار میں تعمیر کی گئی ہے تو ان کے نسب اور حالات کے بارے میں مختلف گفتگو ہونے لگیں، جب کسی حقیقت پر نہ پہنچنے تو خود انہوں نے ہی آخر میں عاجز ہو کر کہہ دیا رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ اور یہ کہہ کر اصل کام یعنی یادگار بنانے کی طرف متوجہ ہوگئے، جو لوگ غالب تھے ان کی رائے مسجد بنانے کی ہوگئ۔ دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ یہ کلام حق تعالیٰ کی طرف سے ہے، جس میں اس زمانے کے باہم جھگڑا اور اختلاف کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جب تمہیں حقیقت کا علم نہیں، اور اس کے علم کے ذرائع بھی تمہارے پاس نہیں تو کیوں اس بحث میں وقت ضائع کرتے ہو، اور ممکن ہے کے زمانہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں یہود وغیرہ جو اس واقعہ میں اسی طرح کی بےاصل باتیں اور بحثیں کیا کرتے تھے، ان کو تنبیہ مقصود ہو، واللہ سبحانہ وتعالی اعلم مسئلہ : اس واقعہ سے اتنا معلوم ہوا کہ اولیاء صلحاء کی قبور کے پاس نماز کے لئے مسجد بنادینا کوئی گناہ نہیں، اور جس حدیث میں قبور انبیاء کو مسجد بنانے والوں پر لعنت کے الفاظ آئے ہیں، اس سے مراد خود قبور کو سجدہ گاہ بنادینا ہے، جو باتفاق شرک و حرام ہے (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْہِمْ لِيَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَيْبَ فِيْہَا۝ ٠ۚۤ اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَہُمْ اَمْرَہُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَيْہِمْ بُنْيَانًا۝ ٠ۭ رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِہِمْ۝ ٠ۭ قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓي اَمْرِہِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْہِمْ مَّسْجِدًا۝ ٢١ عثر عَثَرَ الرّجلُ يَعْثُرُ عِثَاراً وعُثُوراً : إذا سقط، ويتجوّز به فيمن يطّلع علی أمر من غير طلبه . قال تعالی: فَإِنْ عُثِرَ عَلى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْماً [ المائدة/ 107] ، يقال : عَثَرْتُ علی كذا . قال : وَكَذلِكَ أَعْثَرْنا عَلَيْهِمْ [ الكهف/ 21] ، أي : وقّفناهم عليهم من غير أن طلبوا . ( ع ث ر ) عثر یعثر عثار وعثورا کے معنی پھسل جانے اور گر پڑنے کے ہیں مجازا عثر علٰی کٰذا کے معنی کسی بات پر بغیر قصد کے مطلع ہوجانا بھی آتے ہیں ۔ قرآن میں ہے فَإِنْ عُثِرَ عَلى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْماً [ المائدة/ 107] پھر اگر معلوم ہوجائے کہ انہوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔ ( اعثرہ علٰی کذا اس نے فلاں کو اس چیز سے باخبر کردیا چناچہ قرآن میں ہے : وَكَذلِكَ أَعْثَرْنا عَلَيْهِمْ [ الكهف/ 21] اور اس طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے باخبر کردیا یعنی لوگوں کے قصد کے بغیر ہی ہم نے ان کے حال پر مطلع کردیا ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خرٰا و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ ريب فَالرَّيْبُ : أن تتوهّم بالشیء أمرا مّا، فينكشف عمّا تتوهّمه، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ [ الحج/ 5] ، ( ر ی ب ) اور ریب کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کے متعلق کسی طرح کا وہم ہو مگر بعد میں اس تو ہم کا ازالہ ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنا عَلى عَبْدِنا [ البقرة/ 23] اگر تم کو ( قیامت کے دن ) پھر جی اٹھنے میں کسی طرح کا شک ہوا ۔ نزع نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی: وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] ( ن زع ) نزع الشئی کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں ۔ جیسا کہ کام ن کو در میان سے کھینچا جاتا ہے اور کبھی یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور محبت یا عداوت کے دل سے کھینچ لینے کو بھی نزع کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ۔ ہم سب نکال ڈالیں گے ۔ بنی يقال : بَنَيْتُ أَبْنِي بِنَاءً وبِنْيَةً وبِنًى. قال عزّ وجلّ : وَبَنَيْنا فَوْقَكُمْ سَبْعاً شِداداً [ النبأ/ 12] . والبِنَاء : اسم لما يبنی بناء، قال تعالی: لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِها غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ [ الزمر/ 20] ، والبَنِيَّة يعبر بها عن بيت اللہ تعالیٰ «2» . قال تعالی: وَالسَّماءَ بَنَيْناها بِأَيْدٍ [ الذاریات/ 47] ، وَالسَّماءِ وَما بَناها [ الشمس/ 5] ، والبُنيان واحد لا جمع، لقوله تعالی: لا يَزالُ بُنْيانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ التوبة/ 110] ، وقال : كَأَنَّهُمْ بُنْيانٌ مَرْصُوصٌ [ الصف/ 4] ، قالُوا : ابْنُوا لَهُ بُنْياناً [ الصافات/ 97] ، وقال بعضهم : بُنْيَان جمع بُنْيَانَة، فهو مثل : شعیر وشعیرة، وتمر وتمرة، ونخل ونخلة، وهذا النحو من الجمع يصح تذكيره وتأنيثه . و ( ب ن ی ) بنیت ابنی بناء وبنیتہ وبنیا کے معنی تعمیر کرنے کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا } ( سورة النبأ 12) اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے { وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ } ( سورة الذاریات 47) اور آسمانوں کو ہم ہی نے ہاتھوں سے بنایا ۔ { وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا } ( سورة الشمس 5) اور آسمان اور اس ذات کی ( قسم ) جس نے اسے بنایا ۔ البنیان یہ واحد ہے جمع نہیں ہے جیسا کہ آیات ۔ { لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ } ( سورة التوبة 110) یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں ( موجب ) خلجان رہے گی ۔ { كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ } ( سورة الصف 4) کہ گویا سیساپلائی ہوئی دیوار ہیں :{ قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ } ( سورة الصافات 97) وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ بعض کے نزدیک یہ بنیانۃ کی جمع ہے اور یہ : شعیر شعیر وتمر وتمر ونخل ونخلتہ کی طرح ہے یعنی جمع اور مفرد میں تا کے ساتھ فرق کرتے ہیں اور جمع کی اس قسم میں تذکر وتانیث دونوں جائز ہوتے ہیں لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِها غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ [ الزمر/ 20] ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں ۔ بناء ( مصدر بمعنی مفعول ) عمارت جمع ابنیتہ البنیتہ سے بیت اللہ مراد لیا جاتا ہے غلب الغَلَبَةُ القهر يقال : غَلَبْتُهُ غَلْباً وغَلَبَةً وغَلَباً «4» ، فأنا غَالِبٌ. قال تعالی: الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] ( غ ل ب ) الغلبتہ کے معنی قہرا اور بالادستی کے ہیں غلبتہ ( ض ) غلبا وغلبتہ میں اس پر مستول اور غالب ہوگیا اسی سے صیغہ صفت فاعلی غالب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] الم ( اہل ) روم مغلوب ہوگئے نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہوجائیں گے أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢١) اور اسی طرح ہم نے اپنی قدرت و حکمت سے افسوس شہر کے مسلمانوں اور کافروں کو ان کی حالت سے مطلع کردیا اور اس وقت ان شہر والوں کا بادشاہ یستفاد نامی مسلمان شخص تھا اور دقیانوس مجوسی بادشاہ اس سے قبل مرچکا تھا مگر اس کے بعث بعد الموت میں تسلی نہیں ہوئی تھی تاکہ اب اس شہر کے مسلمان اور کافر بھی اس بات کا یقین کرلیں کہ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہونا یقینی ہے اور یہ کہ قیامت کے قائم ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اور وہ وقت بھی قابل ذکر جب کہ اس زمانہ کے لوگ ان کے معاملہ میں باہم جھگڑا رہے تھے کافر کہنے لگے کہ ان کے پاس کوئی گرجا یا عمارت بنا دو کیوں کہ یہ ہمارے دین پر تھے بالآخر جو لوگ اپنے کام پر غالب تھے یعنی کہ مسلمان (اھل حکومت) انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کے پاس ایک مسجد بنائیں گے کیوں کہ یہ ہمارے دین پر تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١ (وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ ) چنانچہ اصحاب کہف کا ایک ساتھی جب کھانا لینے کے لیے شہر گیا تو اپنے لباس حلیے اور کرنسی وغیرہ کے باعث فوری طور پر اسے پہچان لیا گیا کہ وہ موجودہ زمانے کا انسان نہیں ہے۔ پھر جب اس سے تفتیش کی گئی تو سارا راز کھل گیا۔ اس وقت اگرچہ اس واقعہ کو تین سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا مگر اس کے باوجود یہ بات ابھی تک لوگوں کے علم میں تھی کہ فلاں بادشاہ کے ڈر سے اس شہر سے سات آدمی کہیں روپوش ہوگئے تھے اور پوری مملکت میں تلاش بسیار کے باوجود کہیں ان کا سراغ نہ مل سکا تھا۔ اسی طرح یہ بات بھی لوگوں کے علم میں تھی کہ اس پورے واقعے کو ایک تختی پر لکھ کر ریکارڈ کے طور پر شاہی خزانے میں محفوظ کرلیا گیا تھا۔ لہٰذا اصحاب کہف کے ساتھی سے ملنے والی معلومات کی تصدیق کے لیے جب مذکورہ تختی ریکارڈ سے نکلوائی گئی تو اس پر اس واقعہ کی تمام تفصیلات لکھی ہوئی مل گئیں اور یوں یہ واقعہ پوری وضاحت کے ساتھ لوگوں کے سامنے آگیا۔ (لِيَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيْهَا) یہ واقعہ گویا بعث بعد الموت کے بارے میں ایک واضح دلیل تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تین سو سال تک ان لوگوں کو سلائے رکھا اور پھر اٹھا کھڑا کیا تو اس کے لیے مردوں کا دوبارہ زندہ کرنا کیونکر ممکن نہیں ہوگا ؟ (اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ اَمْرَهُمْ ) اس کے بعد اصحاب کہف تو اپنی غار میں پہلے کی طرح سوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر حقیقی موت وارد کردی لیکن لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف پیدا ہوگیا کہ ان کے بارے میں حتمی طور پر کیا معاملہ کیا جائے۔ (فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا ۭ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ ) کچھ لوگوں نے رائے دی کہ اس معاملہ کی اہمیت کے پیش نظر یہاں ایک شاندار یادگار تعمیر کی جانی چاہیے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

17. The secret of their sleep was revealed when one of them went to Ephesus to buy food for them and offered a coin of the period of Emperor Decius. As it was a changed world, he naturally attracted attention for he was wearing a costume of 300 year old fashion and spoke a language different from that in vogue. This was because during those two centuries the language, culture, dress etc. had undergone a marked change. So the shopkeeper looked askance at him and, according to a Syriac tradition, he suspected that he had dug up some ancient treasure. Accordingly, he gathered some people of his neighborhood and they took him before the ruler. On questioning, it was discovered that he was one of those followers of Christ, who had fled the city 300 years ago to save their faith. As most of the population had embraced Christianity, the news immediately spread throughout the city and a big crowd of the people along with the Christian Roman Ruler, arrived at the cave. It was then that the sleepers of the cave came to know that they had slept for about three hundred years. So after making salutations to their Christian brothers they lay down and their souls left their bodies. 18. According to the Syriac tradition, at the time of this occurrence, hot discussions were going on in Ephesus about Resurrection and the Hereafter. Though the people had embraced Christianity under the influence of the Roman Empire, yet traces of shirk and idolatry of the Romans and the effects of the Greek philosophy were still very powerful. So in spite of the Christian creed of the Hereafter, many people denied this, or at least were skeptical about this. To add to this the Sadducee sect of the Jews, who formed a great part of the population of the city, openly denied the Hereafter and professed to base this on the Torah. The Christian scholars, however, could not put forward any strong arguments to refute them: so much so that the reports of the polemical discussion given in Matthew, Mark and Luke, attributed to Prophet Jesus (peace be upon him), are admittedly very weak even according to the Christian scholars. (Please refer to Matthew 22: 23-33, Mark 12: 18- 27, Luke 20: 27-40). That is why the disbelievers in the Hereafter were having the upper hand and even the believers were being involved in doubts about it. It was at that time that the sleepers of the cave were raised up and furnished an absolute proof of the life after death and turned the scales in favor of the believers in this dispute. 19. It appears from the context that this was the saying of the righteous people from among the Christians. They were of the opinion that a wall should be raised at the entrance of the cave in order to let the sleepers remain in the same condition in which they were, for they argued that their Lord alone knew best about their rank and position and the reward they deserved. 20. The people “those who prevailed in their matter” were the Roman rulers and the priests of the Christian Church, who did not let the righteous Christians have their way. This was because by the middle of the fifth century, the common people, especially the orthodox among the Christians, had become fully involved in shirk and the worship of saints and tombs. They used to visit the tombs of the saints to worship them and kept the statues of Jesus, Mary and the apostles in their churches: so much so that a few years before the rising up of the sleepers of the cave, in 431 A.D., a great council of the representatives of the Christian world had been held in Ephesus itself, in which it was resolved that the creed of the divinity of Christ and of Mary as the mother of God, should be included in the articles of the Christian Church. If we keep in view the year 431, it becomes clear that by “those who prevailed in their matter” are meant the leaders of the Church and the officers of the government, who had the reins of the religious and political powers in their hands. In fact these were the people who were the upholders of shirk and who decided that a mausoleum should be built over the cave of the sleepers to make it a place of worship. 21. It is an irony that some people among the Muslims have misconstrued this verse of the Quran so as to make it lawful for themselves to build mausoleums, monuments and mosques over the tombs of the righteous persons and saints. The Quran has, in fact, pointed out the deviation of the workers of iniquity who prevailed upon others and built a place of worship over the cave of the sleepers, who were indeed a sign of Resurrection and of the life after death. But they abused this good opportunity and produced another means of practicing shirk. One fails to understand how anyone can deduce from this verse an argument for the legality of building mosques over the tombs of the righteous people, when the Prophet (peace be upon him) has categorically prohibited this. (1) Allah has cursed those women who visit tombs and those people who build mosques over them and burn lights over them (Ahmad, Tirmizi, Abu Dawud, Nasai, Ibn Majah). (2) Beware that the people, who have passed before you, made the tombs of their Prophets the places of their worship. I forbid you to do that. (Muslim). (3) Allah has cursed the Jews and the Christians, for they made the tombs of their Prophets the places of their worship. (Ahmad, Bukhari, Muslim, Nasai). (4) The behavior of those people was strange: if a righteous person from among them, died they would build a mosque over his grave and draw his pictures. They will be treated as worst criminals on the Day on Resurrection. (Ahmad, Bukhari, Muslim, Nasai). Thus, it is clear from the above sayings of the Prophet (peace be upon him) that building of the places of worship over the tombs is utterly unlawful. The Quran has merely stated as a historical fact the sinful act of the Christian priests and the Roman rulers and has not sanctioned such a thing. Therefore no God fearing person can turn this into an argument for building mosques over the tombs. Incidentally, it will be worthwhile to cite a statement of Rev. T. Arundell who published his discoveries in Asia Minor in 1834. He says that he had seen the remains of the Mausoleums of Mary and the seven sleepers on a hillock near the remains of the ancient city of Ephesus.

سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :17 یعنی جب وہ شخص کھانا خریدنے کے لیے شہر گیا تو دنیا بدل چکی تھی ۔ بت پرست روم کو عیسائی ہوئے ایک مدت گزر چکی تھی ۔ زبان تہذیب ، تمدن ، لباس ہر چیز میں نمایاں فرق آگیا تھا ۔ دو سو برس پہلے کا یہ آدمی اپنی سج دھج ، لباس ، زبان ہر چیز کے اعتبار سے فوراً ایک تماشا بن گیا ۔ اور جب اس نے قیصر ڈیسیس کے وقت کا سکہ کھانا خریدنے کے لیے پیش کیا تو دکاندار کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ سریانی روایت کی رو سے دکاندار کو اس پر شبہ یہ ہوا کہ شاید یہ کسی پرانے زمانے کا دفینہ نکال لایا ہے ۔ چنانچہ اس نے آس پاس کے لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا اور آخرکار اس شخص کو حکام کے سامنے پیش کیا گیا ۔ وہاں جا کر یہ معاملہ کھلا کہ یہ شخص تو ان پیروان مسیح میں سے ہے جو دو سو برس پہلے اپنا ایمان بچانے کے لیے بھاگ نکلے تھے ۔ یہ خبر آناً فاناً شہر کی عیسائی آبادی میں پھیل گئی اور حکام کے ساتھ لوگوں کا ایک ہجوم غار پہنچ گیا ۔ اب جو اصحاب کہف خبردار ہوئے کہ وہ دو سو برس بعد سو کر اٹھے ہیں تو وہ اپنے عیسائی بھائیوں کو سلام کر کے لیٹ گئے اور ان کی روح پرواز کر گئی ۔ سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :18 سریانی روایت کے مطابق اس زمانے میں وہاں قیامت اور عالم آخرت کے مسئلے پر زور شور کی بحث چھڑی ہوئی تھی ۔ اگر چہ رومی سلطنت کے اثر سے عام لوگ مسیحیت قبول کر چکے تھے ، جس کے بنیادی عقائد میں آخرت کا عقیدہ بھی شامل تھا ، لیکن ابھی تک رومی شرک و بت پرستی اور یونانی فلسفے کے اثرات کافی طاقت ور تھے جن کی بدولت بہت سے لوگ آخرت سے انکار ، یا کم از کم اس کے ہونے میں شک کرتے تھے ۔ پھر اس شک و انکار کو سب سے زیادہ جو چیز تقویت پہنچا رہی تھی وہ یہ تھی کہ افسس میں یہودیوں کی بڑی آبادی تھی اور ان میں سے ایک فرقہ ( جسے صَدوقی کہا جاتا تھا ) آخرت کا کھلم کھلا منکر تھا ۔ یہ گروہ کتاب اللہ ( یعنی توراۃ ) سے آخرت کے انکار پر دلیل لاتا تھا اور مسیحی علماء کے پاس اس کے مقابلے میں مضبوط دلائل موجود نہ تھے ۔ متی ، مرقس ، لوقا ، تینوں انجیلوں میں صدوقیوں اور مسیح علیہ السلام کے اس مناظرے کا ذکر ہمیں ملتا ہے جو آخرت کے مسئلے پر ہوا تھا ، مگر تینوں نے مسیح علیہ السلام کی طرف سے ایسا کمزور جواب نقل کیا ہے جس کی کمزوری کو خود علمائے مسیحیت بھی تسلیم کرتے ہیں ( ملاحظہ ہو مری باب ۲۲ ۔ آیت ۲۳ ۔ مرقس باب ۱۲ ۔ آیت ۱۸ ۔ ۲۷ ۔ لوقاباب ۲۰ ۔ آیت ۲۷ ۔ ٤۰ ) اسی وجہ سے منکرین آخرت کا پلا بھاری ہو رہا تھا اور مومنین آخرت بھی شک و تذبذب میں مبتلا ہوتے جا رہے تھے ۔ عین اس وقت اصحاب کہف کے بعث کا یہ واقعہ پیش آیا اور اس نے بعث بعد الموت کا ایک ناقابل انکار ثبوت بہم پہنچا دیا ۔ سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :19 فحوائے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صالحین نصاریٰ کا قول تھا ۔ ان کی رائے یہ تھی کہ اصحاب کہف جس طرح غار میں لیٹے ہوئے ہیں اسی طرح انہیں لیٹا رہنے دو اور غار کے دہانے کو تیغا لگا دو ، ان کا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں ، کس مرتبے کے ہیں اور کس جزا کے مستحق ہیں ۔ سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :20 اس سے مراد رومی سلطنت کے ارباب اقتدار اور مسیحی کلیسا کے مذہبی پیشوا ہیں جن کے مقابلے میں صالح العقیدہ عیسائیوں کی بات نہ چلتی تھی ۔ پانچویں صدی کے وسط تک پہنچتے پہنچتے عام عیسائیوں میں اور خصوصاً رومن کیتھولک کلیسا میں شرک اور اولیاء پرستی اور قبر پرستی کا پورا زور ہو چکا تھا ، بزرگوں کے آستانے پوجے جا رہے تھے ، اور مسیح ، مریم اور حواریوں کے مجسمے گرجوں میں رکھے جا رہے تھے ۔ اصحاب کہف کے بعث سے چند ہی سال پہلے ٤۳۱ میں پوری عیسائی دنیا کے مذہبی پیشواؤں کی ایک کونسل اسی افسس کے مقام پر منعقد ہو چکی تھی جس میں مسیح علیہ السلام کی الوہیت اور حضرت مریم علیہا السلام کے مادر خدا ہونے کا عقیدہ چرچ کا سرکاری عقیدہ قرار پایا تھا ۔ اس تاریخ کو نگاہ میں رکھنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اَلَّذِیْنَ غَلَبُوْ اعَلٰٓی اَمْرِھِمْ سے مراد وہ لوگ ہیں جو سچے پیروان مسیح کے مقابلے میں اس وقت عیسائی عوام کے رہنما اور سربراہ کار بنے ہوئے تھے اور مذہبی و سیاسی امور کی باگیں جن کے ہاتھوں میں تھیں ۔ یہی لوگ دراصل شرک کے علم بردار تھے اور انہوں نے ہی فیصلہ کیا کہ اصحاب کہف کا مقبرہ بنا کر اس کو عبادت گاہ بنایا جائے ۔ سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :21 مسلمانوں میں سے بعض لوگوں نے قرآن مجید کی اس آیت کا بالکل الٹا مفہوم لیا ہے ۔ وہ اسے دلیل ٹھہرا کر مقبِر صلحاء پر عمارتیں اور مسجدیں بنانے کو جائز قرار دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہاں قرآن ان کی اس گمراہی کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جو نشانی ان ظالموں کو بعث بعد الموت اور امکان آخرت کا یقین دلانے لیے دکھائی گئی تھی اسے انہوں نے ارتکاب شرک کے لیے ایک خداداد موقع سمجھا اور خیال کیا کہ چلو ، کچھ اور ولی پوجا پاٹ کے لیے ہاتھ آ گئے ۔ پھر آخر اس آیت سے قبور صالحین پر مسجدیں بنانے کے لیے کیسے استدلال کیا جا سکتا ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہ ارشادات اس کی نہی میں موجود ہیں : لعن اللہ تعالیٰ زائرات القبور و المتخذین علیھا المساجد والسرج ۔ ( احمد ، ترمذی ، ابو داؤد نسائی ۔ ابن ماجہ ) ۔ اللہ نے لعنت فرمائی ہے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر ، اور قبروں پر مسجدیں بنانے اور چراغ روشن کرنے والوں پر ۔ الاوان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیاءھم مَساجد فانی اَنھٰکم عن ذٰلک ( مسلم ) خبردار رہو ، تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا دیتے تھے ، میں تمہیں اس حرکت سے منع کرتا ہوں ۔ لعن اللہ تعالیٰ الیھود و النصاریٰ اتخذوا قبور انبیآءھم مساجد ( احمد ، بخاری ، مسلم ، نَسائی ) اللہ نے لعنت فرمائی یہود اور نصاریٰ پر ، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا ۔ اِنَّ اولٰٓئک اذا کان فیھم الرجل الصالح فمات بنوا علیٰ قبرہ مسٰجد او صوروا فیہ تلک الصور اولٰٓئک شرار الخلق یوم القیٰمۃ ( احمد ، بخاری ، مسلم ، نسائی ) ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ اگر ان میں کوئی مرد صالح ہوتا تو اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر مسجدیں بناتے اور اس کی تصویریں تیار کرتے تھے ۔ یہ قیامت کے روز بد ترین مخلوقات ہوں گے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ان تصریحات کی موجودگی میں کون خدا ترس آدمی یہ جرأت کر سکتا ہے کہ قرآن مجید میں عیسائی پادریوں اور رومی حکمرانوں کے جس گمراہانہ نعل کا حکایۃً ذکر کیا گیا ہے اس کو ٹھیک وہی فعل کرنے کے لیے دلیل و حجت ٹھیرائے ؟ اس موقع پر یہ ذکر کر دینا بھی خالی از فائدہ نہیں کہ ۱۸۳٤ء میں ریورنڈٹی ارنڈیل ( Arundeil ) نے ایشیائے کوچک کے اکتشافات ( Discoveries in Asia Mino ) کے نام سے اپنے جو مشاہدات شائع کیے تھے ان میں وہ بتاتا ہے کہ قدیم شہر افسس کے کھنڈرات سے متصل ایک پہاڑی پر اس نے حضرت مریم اور سات لڑکوں ( یعنی اصحاب کہف ) کے مقبروں کے آثار پائے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

13: جب وہ صاحب، جن کا نام بعض روایتوں میں ’’تملیخا‘‘ بتایا گیا ہے کھانا لینے کے لئے شہر پہنچے، اور دکان دار کو وہ سکہ پیش کیا جو تین سو سال پُرانا تھا، اور اُس پر پُرانے بادشاہ کی علامتیں تھیں تو دُکان دار بڑا حیران ہوا، اور اِن کو لے کر اس وقت کے بادشاہ کے پاس پہنچا۔ یہ بادشاہ بہت نیک تھا، اور اس نے یہ قصہ سن رکھا تھا کہ کچھ نوجوان دقیانوس کے ظلم سے تنگ آ کر کہیں غائب ہوگئے تھے۔ اِس نے معاملے کی مزید تحقیق کی تو پتہ چل گیا کہ یہ وہی نوجوان ہیں، اس پر بادشاہ نے ان کا خوب اکرام کیا، لیکن یہ حضرات دوبارہ اسی غار میں چلے گئے اور وہیں پر اﷲ تعالیٰ نے اُنہیں وفات دے دی۔ 14: اِن اصحابِ کہف کا اتنی لمبی مدت تک سوتے رہنا اور پھر زندہ جاگ اٹھنا اﷲ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی واضح دلیل تھی، اور اس واقعے کو دیکھ کر ہر شخص بآسانی اس نتیجے تک پہنچ سکتا تھا کہ جو ذات اتنے عرصے تک سونے کے بعد ان نوجوانوں کو زندہ اٹھا سکتی ہے، یقینا وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ تمام اِنسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کردے۔ بعض روایات میں ہے کہ اُس وقت کا بادشاہ تو قیامت اور آخرت پر ایمان رکھتا تھا، لیکن کچھ لوگ آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے تھے، اور بادشاہ نے یہ دُعا کی تھی کہ اﷲ تعالیٰ ان کو کوئی ایسا واقعہ دکھا دے جس سے آخرت پر ان کا ایمان مضبوط ہوجائے۔ اﷲ تعالیٰ نے اسی وقت ان نوجوانوں کو جگا کر اپنی قدرت کا یہ کرشمہ دکھا دیا۔ 15: جیسا کہ پیچھے عرض کیا گیا، یہ حضرات جاگنے کے بعد جلد ہی اُسی غار میں وفات پاگئے تھے۔ اب اﷲ تعالیٰ کی قدرت کا یہ کرشمہ سامنے آیا کہ جن نوجوانوں کو کبھی اِس شہر میں اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے، اب اُسی شہر میں ان کی ایسی عزت ہوئی کہ لوگ اُن کی یاد گار میں کوئی عمارت بنانے کی فکر میں پڑگئے۔ اور آخر کار جن لوگوں کو اقتدار حاصل تھا، اُنہوں نے یہ طے کیا کہ جس غار میں ان کی وفات ہوئی ہے، اُس پر ایک مسجد بنا دیں۔ واضح رہے کہ عمان کے پاس جو غار دریافت ہوا ہے، اُس میں کھدائی کرنے سے غار کے اوپر بنی ہوئی ایک مسجد بھی بر آمد ہوئی ہے۔ یہاں یہ بھی واضح رہنا چاہئے کہ اُن کی وفات کی جگہ پر مسجد بنانے کی یہ تجویز اُس زمانے کے اصحاب اقتدار نے دی تھی، قرآنِ کریم نے اس تجویز کی تائید نہیں فرمائی۔ لہٰذا اس آیت سے مقبرے بنانے یا قبروں کو عبادت گاہ میں تبدیل کرنے کا کوئی جواز نہیں نکلتا۔ بلکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کئی احادیث میں اِس عمل سے منع فرمایا ہے۔ 16: روایات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب ان حضرات کی یادگار تعمیر کرنے کی تجویز آئی تو لوگوں نے یہ بھی سوچا کہ ان کے صحیح صحیح نام اور اِن کا نسب اور مذہب وغیرہ بھی اس یادگار پر لکھا جائے، لیکن چونکہ کسی کو ان کے پورے حالات معلوم نہیں تھے، اس لئے پھر لوگوں نے کہا کہ اِن کے ٹھیک ٹھیک حالات تو اﷲ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن ہم ان کے نسب وغیرہ کی تحقیق میں پڑے بغیر ہی ان کی یاد گار بنا دیتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢١۔ شروع سورة سے اصحاب کہف کا قصہ جو یہاں تک گزرا کہ یہ لوگ تین سو برس تک پہاڑ کی کھوہ میں بےآب و دانہ سوتے اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تین سو برس تک جسم کو اس نے زمین میں رکھ کر پھر اٹھا بٹھایا تو قیامت کے آنے اور مر کر پھر جینے میں کون شک کرسکتا ہے مر کر جینا تو ایسا ہی ہے جس طرح ماؤں کے پیٹوں میں بچوں کے پتلے تیار ہوتے ہیں اور ان میں روح پھونک دی جاتی ہے اسی طرح حشر کے دن پتلے تیار کیے جائیں گے اور ان میں روح پھونک دی جائے گی تین سو برس بےآب و دانہ روح کا جسم میں اور جسم کا مٹی میں رہنا اور جسم کو مٹی کا نہ کھانا اس سے زیادہ مشکل ہے جو کچھ حشر کے دن ہوگا جس کی قدرت کے آگے ایسے مشکل کام آسان ہیں اس کو آسان ہیں اس کو آسان کاموں کے کرنے میں کیا مشکل پیش آسکتی ہے شمسی سوبرسوں کے ایک سو تین سال قمری ہوتے ہیں اصحاب کہف کی قوم میں شمسی سال کا حساب تھا اس قوم کے حساب سے تین سو برس اصحاب کہف کو غائب ہو کر ہوگئے تھے اور عرب میں قمری سال کا حساب ہے جس کے حساب سے شمسی تین سو برس کے قمری تین سو نو برس ہوتے تھے کیونکہ شمسی سو برس کے قمری ایک سو تین برس ہوجاتے ہیں اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے تین سو برس علیحدہ اور نو برس علیحدہ آیت میں ذکر فرمائے تاکہ دونوں حساب صحیح بیٹھ جائیں۔ عکرمہ کے قوم کے موافق اس آیت کی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اس تین سو نو برس کی مدت میں دقیانوس اور اس کے بعد کئی بادشاہ ہو کر مرگئے تھے اور جوانوں کے جاگنے کے زمانہ میں ایک عیسائی دین کا پابند اس شہر کا بادشاہ تھا لیکن اس کی رعیت میں کچھ لوگ حشر کے پورے قائل نہیں تھے ان کے قائل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تین سو نو برس کے بعد ان جوانوں کو جگایا اور اوپر کی آیتوں کے موافق جب ان جوانوں میں کا ایک دقیانوس کے سکہ کا روپیہ لے کر شہر میں گیا تو شہر کے دکاندار لوگ وہ اتنی مدت کا سکہ دیکھ کر یہ خیال کرنے لگے کہ اس جوان کو کہیں گڑا ہوا خزانہ ملا ہے یہ پرانے سکہ کا روپیہ اس خزانہ میں کا ہے آخر یہ قصہ اس وقت کے بادشاہ تک گیا بادشاہ نے جوان سے اس روپیہ کا حال پوچھا تو اس نے سارا اپنا اور اپنے ساتھیوں کا قصہ بادشاہ کے روبرو بیان کیا۔ بادشاہ اس بات کی تلاش میں تھا کہ اپنی رعیت میں کے منکر حشر لوگوں کو کسی طرح قائل کر کے راہ راست پر لائے اس لیے بادشاہ اپنی رعیت کو ساتھ لے کر اس غار پر گیا مجاہد کے قول کے مواقفق بادشاہ اور اس کی رعیت نے ان جوانوں کو دیکھا اور بادشاہ نے سارا قصہ ان جوانوں سے پوچھا اور انہوں نے بادشاہ کے روبرو اپنا سارا قصہ بیان کیا اس کے بعد وہ جوان تو پہلے کی طرح سوگئے اور بادشاہ اپنی رعیت سمیت شہر کو واپس چلا آیا غرض اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے لوگوں پر اس واسطے ان جوانوں کی حالت ظاہر کردی کہ منکرین حشر اس حشر کے نمونہ سے یہ جان لیں کہ حشر اور قیامت کا وعدہ برحق ہے اس وعدہ کے ظہور میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں کیونکہ انسان پہلے نیست و نابود تھا اللہ تعالیٰ نے جس طرح اس کو پہلی دفعہ پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کرے گا جو لوگ پہلی دفعہ کی پیدائش کو آنکھوں سے دیکھ کر دوسری دفعہ کی پیدائش کے منکر ہیں ان کو اپنی سمجھ نہیں کہ دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد دوسرا جہاں قائم ہو کر نیک وبد کی جزا وسزا کا فیصلہ نہ ہو تو دنیا کا پیدا کرنا بےفائدہ ٹھہرتا ہے جو اللہ کی شان سے بہت بعید ہے اس مطلب کو کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے وہی آیتیں اس آیت کی گویا تفسیر ہیں آگے فرمایا جو لوگ اس قصہ سے پہلے حشر کے منکر تھے ان جوانوں کا حال دیکھ کر اتنے تو قائل ہوئے کہ اس غار پر عمارت بنانے کو تیار ہوگئے اور جب حشر کے ماننے والے لوگوں نے وہاں عبادت خانہ بنانے کا قصد کیا تو ان سے جھگڑنے لگے آخر بادشاہ کے حکم سے وہاں عبادت خانہ بنایا گیا۔ ربھم اعلم بھم۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس عبادت خانے کے بنانے سے اصحاب کہف خوش ہوئے یا ناخوش۔ اس کا حال اللہ کو معلوم ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبرو نصاری کے عبادت خانوں کا ذکر آیا آپ نے مذمت کے طور پر فرمایا ان لوگوں میں دستور ہے کہ جب کوئی نیک آدمی ان میں کا مرجاتا ہے تو اس کی قبر کے پاس عبادت خانہ بنا کر اس میں اس نیک آدمی کی تصویر بھی بنا دیتے ہیں ١ ؎۔ اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جس دستور کے موافق اس غار کے پاس عبادت خانہ بنایا گیا ہے اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس سے اصحاب کہف ناخوش ہیں کیونکہ اس طرح کے عبادت خانہ کی بنیاد بت پرستی کی بنیاد ہے اور اصحاب کہف بت پرستی سے ہی بیزار ہو کر اس غار میں آن کر چھپے ہیں۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ٧٧١ ج ١ باب مایکرہ من اتخاذ المسجد الخ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 تمہاری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوجائیں گی۔7 یعنی جس طرح ہم نے ان کو ثابت قدم رکھا اور حیرت انگیز طریقہ سے سلائے رکھا اسی طرح ہم نے شہروالوں کو ان کی حقیقت حال اور جگہ سے مطلع کردیا۔ بہت سے مفسرین کا بیان ہے کہ ہوا یہ کہ جب وہ شخص کھانا خرینے کے لئے روانہ ہوا تو اس نے دیکھا کہ شہر کے راستے لوگوں کی تہذیب اور رہن سہن زبان و لباس ہر چیز بدل چکی ہے۔ اس نے خیال کیا کہ شاید میں پاگل ہوگیا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں۔ بالآخر وہ ایک شہر پہنچا اور ایک دکاندار سے کھاتا خریدنے لگا اور اس نے سکہ نکالا تو دکاندار ششدر رہ گیا اور اس نے ایک دوسرے دکادنار کو بلایا بالآخر کچھ لوگ جمع ہوگئے اور انہیں شک گزرا کہ شاید اس شخص کو کہیں سے پرانا ناخون ہاتھ لگا ہے۔ مگر جب اس نے بتایا کہ میں اسی شہر کا رہنے والا ہوں اور کل ہی یہاں دقیانوس بادشاہ کو چھوڑ کر گیا ہوں تو لوگوں نے حیرت اور بڑھ گئی اور وہ اسے پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے آئے۔ وہاں جب پوچھ گچھ ہوئی تو سب معاملہ کھل گیا اور سارے شہر میں یہ خبر پھیل گئی۔ اس لئے اصحاب کہف کو دیکھنے اور انہیں سلام کرنے کے لئے بادشاہ اور اسکے ساتھ لوگوں کا ایک ہجوم غار پر پہنچ گیا۔ بادشاہ نے غار میں داخل ہو کر ان لوگوں سے سلام و مغافقہ کیا جس سے وہ بہت خوش ہوئے۔ پھر وہ دوبارہ اپنی جگہ لیٹ گئے اور اسی حال میں اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرلی۔ واللہ اعلم (ابن کثیر)8 یعنی شہر والوں کو یقین آجائے۔9 کوئی کہتا تھا کہ مر کر پھری اٹھنا برحق ہے کوئی اس سے انکار کرتا اور کہتا کہ حشر صرف روح کا ہوگا بدن کا نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے انہیں صاحاب کہف کا حال آنکھوں سے دکھا کر یقین دلای دیا کہ قیامت آئے گی اور حشر روح اور بدن دونوں کا ہوگا۔ ” اذبننا زعون امرھم بننھم “ کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ جب شہر والے اصحاب کہف کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ کیا یہ وفات پاچکے ہیں اور ان کے ساتھ کیا کیا جائے ؟ (کبیر)10 کہ یہ کون لوگ ہیں کب غار میں آئے اور اب مرجانے کے بعد کس جزا کے مستحق ہیں ؟11 اور اس طرح ان کی یادگار باقی رکھیں گے۔ یہ قبروں پر مسجدیں بنانے کی جہالت اور بعت ہر زمانہ میں جاری رہی ہے اور ہوسکتا ہے کہ غالب آنے والوں سے مراد وقت کے رئوسا اور مشرک ہی ہوں ورنہ اسلام میں تو قبروں پر یا بطور تبرک قبر کے پاس مسجد بنانا ہی حرام ہے۔ حدیث میں ہے کہ یہودی و نصاریٰ پر اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ (بخاری و مسلم) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن بدترین مخلوق ہوں گے۔ (بخاری و مسلم) ایک حدیث میں آنحضرت فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں پر مسجدیں بنانے اور ان میں چراغ روشن کرنے والوں پر لعنت فرمائے۔ (ابو دائود و ترمذی وغیرہ)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اصحاب کہف کو تین سو نو سال کے بعد اٹھانے کی حکمت اور عقیدہ آخرت کا ایک اور ٹھوس ثبوت۔ یہ حقیقت پہلے بھی کئی بار عرض کی جاچکی ہے کہ عقیدہ آخرت اسلام کا تیسر ابنیادی عقیدہ اور اصول ہے جس کے لیے ناصرف قرآن مجید نے عقلی اور نقلی دلائل دیئے ہیں۔ بلکہ اس حقیقت کے اثبات کے لیے انسانی تاریخ میں پھیلے ہوئے ایسے واقعات بیان فرمائے ہیں کہ جن سے ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ضرور انسان کو پیدا فرمائے گا۔ اصحاب کہف کو بھی تین سونو سال کے بعد اس لیے جگایا اور اٹھایا گیا تاکہ انہیں اور ان کے حوالے سے لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر صورت قیامت برپا کرنے کا وعدہ پور اکرے گا۔ جس کے برپا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اصحاب کہف نے مشورہ کرنے کے بعد جس ساتھی کو شہر میں کھانے کے لیے بھیجا تھا جب وہ شہر گیا۔ تو اس نے شہر اور لوگوں کو بالکلبدلا ہو اپایا۔ جب اس نے تین سو نو سال پہلے کی کرنسی پیش کی تو دکان دار کا کیا ردعمل تھا۔ وہ کھانا لے کر غار میں واپس آیا اور اسکے ساتھ کیا کیا واقعات پیش آئے۔ اس کے بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی تفصیل نہیں ملتی۔ کیونکہ ان باتوں پر رد عمل کا ہونا ایک فطری بات ہے۔ لہٰذا اس کے ذکر کی چنداں ضرورت نہیں تھی جس پر اس کی تفصیلات بیان نہیں کی گئی ہیں۔ البتہ مفسرین اور مؤرخین نے یہ واقعات درج کیے ہیں کہ جب وہ غار سے نکلا، شہر میں داخل ہو اتو شہر کی حالت، لوگوں کا رہن سہن اور ان کے نظریات میں تبدیلی محسوس کی۔ جب اس نے کھانے کی قیمت پیش کی تو دکاندارنے کہا یہ کرنسی تو بہت پرانی ہے۔ اس نے کہا کل تو یہ کرنسی استعمال ہوتی تھی راتوں رات اسے کیا ہوگیا ہے۔ ان کی آپس میں ہونے والی تکرار سن کر لوگ اکٹھے ہوئے۔ مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے۔ بالآخر لوگوں نے عجوبہ سمجھ کر غار تک اس کا پیچھا کیا وہ لوگوں کے سامنے غار میں داخل ہوا لیکن اس کا پیچھا کرنے والوں کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ آگے بڑھ کر غار میں جھانک سکیں۔ جب یہ بات حکمرانوں تک پہنچی تو ذمّہ داران حکومت غار کے دہانے پر پہنچے بعدازاں ان میں اس بات پر تنازعہ ہوا کہ ان کی یادگار کیسی ہونی چاہیے ؟ بالآخر جو طبقہ اپنی رائے میں غالب رہا انہوں نے فیصلہ کیا کہ غار کے قریب مسجدتعمیر کی جائے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ قَاتَلَ اللَّہُ الْیَہُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِیَاءِہِمْ مَسَاجِدَ ) [ رواہ البخاری : باب حدثنا ابو الیمان ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ یھودیوں کو ہلاک کرے انہوں نے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ “ مسائل ١۔ قیامت آنے والی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ ٢۔ اصحاب کہف کے غار کے پاس ایک مسجد تعمیر کی گئی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے : ١۔ ہم نے ان کو ان کے حال سے خبردار کردیا تاکہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ (الکھف : ٢١) ٢۔ اللہ کا وعدہ یقیناً پوراہو کر رہے گا۔ (بنی اسر ائیل : ١٠٨) ٣۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور اللہ تعالیٰ کی بات سے کس کی بات سچی ہوسکتی ہے ؟ (النساء : ١٢٢) ٤۔ آگاہ رہو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ (یونس : ٥٥) ٥۔ بلاشبہ اللہ کا وعدہ برحق ہے لہٰذا تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے۔ (لقمان : ٣٣) ٦۔ صبر کیجئے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ (المومن : ٥٥۔ ٧٧) ٧۔ قیامت کے دن شیطان کہے گا یقیناً اللہ نے تمہارے ساتھ برحق وعدہ فرمایا تھا۔ (ابراہیم : ٢٢) ٨۔ اے لوگو ! یقیناً اللہ کا وعدہ برحق ہے تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے۔ (فاطر : ٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس واقعہ سے قرآن مجید کے پیش نظر کیا نتیجہ نکالنا مقصود ہے ؟ یہ کہ بعث بعد الموت کے لئے یہ واقعہ ایک قریب انفہم اور محسوس نمونہ ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ موجودہ انسانی ڈھانچے کو بھی صدیوں تک زندہ رکھ سکتا ہے اور دوبارہ بھی اٹھا سکتا ہے اور قیام قیامت اور بعث بعد الموت حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ یوں اللہ نے ان نوجوانوں کو ان کی نیند سے جگایا اور ان کی قوم کو بتایا کہ صدیوں تک یہ لوگ یونہی پڑے تھے۔ اب بعض لوگوں نے کہا بعض لوگوں نے کہا ان پر دیوار چن دو کیونکہ ان کے عقائد کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔ ان کا رب ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے یعنی ان کے عقائد اور ان کی پوزیشن کے بارے میں لیکن اس وقت اصحاب حل و عقد نے کہا ’ ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے “ مسجد سے مقصد یہاں عبادت گاہ ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ کا طریقہ تھا کہ و انبیاء اور اولیاء کی قبروں کے قریب عبادت گاہ بنا دیتے تھے۔ جس طرح آج مسلمانوں میں سے جو لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقہ کار کو چھوڑ کر ، صلحاء کی قبروں کے ساتھ مساجد اور گنبد بناتے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پ جنہوں نے اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں سے عبادت گاہ بنا دی “ اب اس منظر پر بھی پردہ گرتا ہے اور جب پردہ اٹھتا ہے تو اصحاب کہف کے بارے میں اب تاریخی مباحث شروع ہیں ، جیسا کہ لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔ لوگ تاریخی خبریں اور روایات نقل کرتے رہتے ہیں۔ بعض واقعات کو حذف کردیتے ہیں ، بعض میں اضافہ کردیتے ہیں اور نسلا بعد نسل ان واقعات میں اپنے خیالات بھرتے رہتے ہیں اب قصے پھیلتے جاتے ہیں اصل قصہ الگ رہ جاتا ہے کچھ اور واقعات اہمیت اختیار کرلیتے ہیں ایک ایک بات کے بارے میں اقوال و اختلاف سامنے آتے ہیں اور قیل و قال میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور جوں جوں وقت گزرتا ہے اختلافات بڑھتے جاتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ دقیانوس بادشاہ مرگیا تھا (جس کے زمانہ میں یہ حضرات کہف میں داخل ہوئے تھے) سینکڑوں سال گزر گئے بادشاہ آتے جاتے رہے آخر میں ایک نیک شخص اس علاقہ کا بادشاہ ہوا اور وہ اور اس کی رعایا اس بات کو تو مانتے تھے کہ موت کے بعد حشر نشر ہے لیکن کچھ لوگوں نے کہا کہ روحیں محشور ہوں گی۔ کیونکہ جسم کو زمین کھا جاتی ہے، ان لوگوں نے جسم کے ساتھ حشر ہونے کو بعید سمجھا اور کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ جسم اور روح دونوں کو اٹھایا جائے گا بادشاہ کو اس اختلاف سے حیرانی ہوئی اور اصل حقیقت جاننے کے لیے اس نے اتنا اہتمام کیا کہ ٹاٹ کے کپڑے پہن لیے اور راکھ پر بیٹھ گیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا کرتا رہا کہ ہمیں کوئی ایسی دلیل مل جائے جس سے یہ واضح ہوجائے کہ روح اور جسم دونوں کا حشر کوئی مستبعد نہیں، اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ شانہ نے اصحاب کہف کو ظاہر فرما دیا بادشاہ نے ان کو دیکھ کر کہا کہ یہ تو وہی لوگ معلوم ہوتے ہیں جو دقیانوس کے زمانہ میں شہر سے چلے گئے تھے میں دعا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان کو دکھا دے جب ان لوگوں کے کئی سو سال سونے کے بعد اٹھ جانے کا واقعہ معلوم ہوا تو لوگوں کو یقین ہوگیا کہ واقعی اللہ کا وعدہ حق ہے قیامت حق ہے۔ (وَکَذٰلِکَ اَعْثَرْنَا عَلَیْھِمْ لِیَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ) میں اس بات کو بتایا ہے کہ جب وہ لوگ اصحاب کہف پر مطلع ہوئے تو انہیں قیامت کا یقین آگیا اصحاب کہف باہر نکل کر واپس غار میں چلے گئے ہوں اور بعد میں انہیں موت آئی ہو۔ یا یملیخا کی خبر سننے کی وجہ سے وہیں غار میں انہیں موت آگئی ہو روایات میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ قرآن مجید کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غار ہی میں اندر وفات پاگئے، یہ جو آپس میں جھگڑا ہوا کہ ان کے بارے میں کیا کیا جائے پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ ان کے اوپر عمارت بناؤ اور جو غالب تھے انہوں نے کہا کہ ہم ان کے اوپر مسجد بنا دیں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے غار میں ہوتے ہوئے ہی اس طرح کا اختلاف ہوا۔ روح المعانی ص ٢٣٤ ج ١ میں لکھا ہے کہ جب بادشاہ کو ان لوگوں کا پتہ چلا تو اس نے وہاں جاکر ان لوگوں سے ملاقات کی اور دیکھا کہ ان کے چہرے روشن ہیں اور کپڑے بھی خراب نہیں ہیں انہوں نے بادشاہ کو وہ حالات سنائے جو دقیانوس کے زمانہ میں پیش آئے تھے ابھی باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اصحاب کہف نے کہا نستودعک اللّٰہ تعالیٰ والسلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ تعالیٰ حفظک اللّٰہ تعالیٰ وحفظ ملکک نعیذک باللّٰہ تعالیٰ من شر الانس والجن (ہم تجھے اللہ کے سپرد کرتے ہیں تجھ پر اللہ کا سلام ہو اور اس کی رحمت۔ اللہ تیری حفاظت کرے اور تیرے ملک کی بھی حفاظت کرے اور ہم تجھے انسانوں اور جنات کے شر سے اللہ کی پناہ میں دیتے ہیں) یہ کہا اور وہ واپس اندر اپنی اپنی جگہوں پر چلے گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر موت طاری فرما دی پھر بادشاہ نے انہیں لکڑی کے تابوتوں میں دفن کردیا اور غار کے منہ پر مسجد بنادی، صاحب روح المعانی نے اس کے بعد ایک قول یہ لکھا ہے کہ جب بادشاہ کے پاس اس شخص کو لایا گیا جو غار میں سے کھانا لینے کے لیے آیا تھا تو بادشاہ نے اس سے پوچھا تم کون ہو ؟ اس نے کہا کہ میں اس شہر کا رہنے والا ہوں اور یہ بتایا کہ میں کل ہی شہر سے نکلا تھا اس نے اپنا گھر بھی بتایا اور کچھ لوگوں کے نام بھی بتائے جنہیں کوئی بھی نہ پہچان سکا، بادشاہ نے سن رکھا تھا کہ کچھ لوگ پرانے زمانہ میں روپوش ہوگئے تھے اور یہ بھی سنا ہوا تھا کہ ان کے نام سرکاری خزانے میں ایک تختی پر لکھے ہوئے رکھے ہیں وہ تختی منگائی اور ان کے نام پڑھے تو وہی نام نکلے جو اصحاب کہف کے نام تھے وہ جو ایک شخص کھانا لینے کے لیے آیا تھا اس کے ساتھ بادشاہ اور چند لوگ چلے جب غار کے دروازہ پر آئے تو وہ نوجوان اندر گیا اور انہیں پوری صورت حال بتادی اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو قبض فرمالیا اور بادشاہ اور اس کے ساتھیوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ اندر داخل نہ ہوسکے لوگوں میں یہ اختلاف ہوا کہ ان کے بارے میں کیا کیا جائے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ان کے اوپر یعنی غار کے دروازہ پر عمارت بنا دی جائے اور وہ جماعت جو ان کے معاملہ میں غالب ہوگئی یعنی بادشاہ اور اس کے ساتھی انہوں نے کہا کہ ہم مسجد بنائیں گے چناچہ انہوں نے مسجد بنادی یہ مسجد غار کے دروازے پر بنادی گئی تھی چونکہ یہ مسجد دروازہ پر تھی مرنے والوں کی قبروں پر نہیں تھی اور قبروں کی طرف قبلہ بھی نہیں تھا اس لیے یہ اشکال نہیں ہوتا کہ قبروں پر مسجد بنانے کی ممانعت ہے لہٰذا تعمیر مسجد کو کیوں اختیار کیا گیا۔ ایک فریق نے کہا کہ ان پر عمارت بنا دو دوسرے فریق نے کہا کہ ہم مسجد بنا دیں گے ان دونوں کے درمیان جو لفظ (رَبُّھُمْ اَعْلَمُ بِھِمْ ) آیا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ جملہ معترضہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ اصحاب کہف کے ساتھ کیا کیا جائے اس بارے میں دو رائیں آرہی تھیں یہ کون لوگ تھے کن خاندانوں سے تھے یہ کن احوال سے گزرے اور کتنے دن غار میں رہے پھر جب ان چیزوں کا صحیح علم نہ ہوسکا اور ان کے حاصل ہونے کا کوئی راستہ بھی نہ ملا تو کہنے لگے کہ اسے اللہ کے سپرد کرو وہ علام الغیوب ہے سب کو جانتا ہے ان کا حال بھی اسی کو صحیح معلوم ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

21:۔ یہاں بھی کاف بیان کمال کے لیے ہے۔ یعنی ہم نے اس زمانہ میں اصحاب کہف پر قرب و جوار کے لوگوں کو مطلع کیا۔ تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ اس کی آمد میں کوئی شک نہیں جس وقت اصحاب کہف بیدار ہوئے۔ اس زمانے کے لوگ ایک مسئلہ پر دو فریق ہوچکے تھے۔ اس وقت کا بادشاہ مومن و موحد تھا وہ اور اس کے طرف دار کہتے تھے کہ قیامت ضرور آئے گی لیکن مشرکین قیامت کے منکر تھے۔ اصحاب کہف کے سینکڑوں برس سونے کے بعد بیدار ہونے کا واقعہ یش آگیا۔ جس سے بادشاہ اور اس کے ہم خیال لوگ بہت خوش ہوئے کیونکہ انہیں اپنے دعوی پر ایک دلیل مشاہدہ ہاتھ آگئی۔ اس سے ایک طرف ان کے اپنے ایمان و یقین میں قوت اور مضبوطی پیدا ہوگئی۔ دوسری طرف انہوں نے مشرکین کو لاجواب کردیا۔ 22:۔ یہ آیت اصحاب کہف کے دوبارہ غار میں واپس جا کر عبادت و ریاضت میں مصروف ہوجانے کے بعد سے متعلق ہے۔ قرآن مجید چونکہ قصوں کو محض قصوں کی حیثیت سے ذکر نہیں کرتا بلکہ استشہاد کے لیے ذکر کرتا ہے اس لیے قرآن کا دستور یہ ہے کہ وہ قصوں کے اصل مسئلہ سے غیر متعلق حصوں کو حذف کردیتا ہے۔ چناچہ جب اصحاب کہف دوبارہ غار میں چلے گئے تو اس کے بعد ان پر کیا گذری قرآن نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ جب اصحاب کہف دوبارہ غار میں پہنچ کر عبادت اور یاد الٰہی میں مصروف ہوگئے تو لوگوں میں ان کے غار پر یادگار تعمیر کرنے کے بارے میں اختلاف ہوگیا کہ کس قسم کی عمارت بنائی جائے اور کس طرح ان کی یادگار قائم کی جائے۔ چناچہ اس مسئلہ پر لوگوں میں دو رائیں ہوگئیں مشرکین کہنے لگے کہ اصحاب کہف چونکہ ابتداء میں ہمارے مذہب پر تھے اس لیے ہم اس غار پر ان کا مندر یا ان کی یادگاری سرائے بنائیں گے۔ ان الکفار قالوا انھم کانوا علی دیننا فنتخذ علیھم بنیانا (کبیر ج 5 ص 700) وروی ان طائفۃ کافرۃ قالت نبنی بیعۃ او مضیفا (قرطبی ج 10 ص 379) ۔ مگر مسلمانوں نے جو اپنے مشن میں غالب ہوئے تھے۔ کہا کہ ہم تو غار پر مسجد بنا کر اس میں اللہ کی عبادت کریں گے۔ اصحاب کہف سے اور ان کی جگہ سے تبرک حاصل کریں گے اور اس کے ذریعے سے ان کے آثار و نشانات کی یادگار قائم کریں گے۔ یصلی فیہ المسلموں ویتبرکون بھم (مظہری ج 6 ص 23) یصلی فیہ المسلمون و یتبرکون بمکانھم (مدارک ج 3 ص 6) ۔ لنتخذن علیھم مسجدا نعبد اللہ فیہ و نستبقی اثار اصحاب الکھف بسب ذلک المسجد (کبیر ج 5 ص 701) ۔ رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہاں شرک ہونے لگا۔ لوگوں نے اصحاب کہف کی عبادت و پوجا شروع کردی۔ ان کے نام کی نذریں منتیں دینے لگے اور ان کو متصرف و کارساز سمجھ کر غائبانہ پکارنے لگے۔ 23:۔ اس سے مراد اس وقت کے مسلمان ہیں۔ ای من المسلمین و ملکھم (مدارک) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

2 1 اور جس طرح ہم نے ان کو سلایا اور جگایا اسی طرح ان کے احوال سے اس زمانے کے لوگوں کو مطلع کردیا تاکہ منجملہ اور فوائد کے اس شہر کے لوگ اور وہاں کی حکومت سب اس امر کا یقین کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور وعدہ یہ کہ قیامت کے واقعہ ہونے میں ذرا شک کی گنجائش نہیں وہ وقت قابل ذکر ہے جب کہ اس زمانہ کے لوگ ان کے بارے میں باہم جھگڑ رہے تھے سو ان لوگوں نے کہا کہ ان لوگوں کی کھوہ اور غار کے منہ پر ایک عمارت تعمیر کرا دو ان کا پروردگار ہی ان کے حالات کو خوب جانتا تھا۔ بالآخر جو لوگ اپنے کام پر غالب اور قابو یافتہ تھے یعنی ذی اقتدار تھے انہوں نے کہا ہم تو اصحاب کہف کے غار پر یعنی اس کے قریب ایک مسجد تعمیر کر ادیں گے۔ یعنی جس طرح ان کو سلایا اور ان کے اجسام کی حفاظت کی اور ان کو ایک خاص موقعہ پر جب کہ دقیانوس کا نام و نشان نہ رہا ان کو زندہ کردیا اسی طرح ان کے حال سے اہل شہر کے باشندوں کو باخبر بھی کردیا کیونکہ قیامت کے وقوع اور عدم وقع کا قصہ چل رہا تھا ان کے حالات سے قائلین وقوع قیامت کو تقویت پہونچے یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسے وقت ان لوگوں کا حال معلوم ہوا جب کہ شہر میں ان کا چرچا بہت تھا اور لوگ ان کا تاریخی طور پر ذکر کرتے تھے۔ کوئی کہتا تھا ان کو تلاش کرو، کوئی کہتا تھا وہ مر کھپ گئے ہوں گے اب کہاں رکھے ہیں ان کو بھاگے ہوئے عرصہ ہوگیا۔ غرض ! جتنے منہ اتنی باتیں ان کا حال ظاہر ہوجانے سے وہ سب باتیں صاف ہوگئیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جھگڑا عمارت کے بنانے نہ بنانے میں ہوا ہو عمارت کا فیصلہ ہونے کے بعد نقشے کے تعین میں جھگڑا ہوا ہو اور ارباب حکومت اور اصحاب اقتدار نے یہ فیصلہ کیا ہو کہ ہم یہاں ایک مسجد بنادیں گے تاکہ سب جھگڑا ختم ہو جو لوگ تعمیرچاہتے تھے ان کا منشا یا تو یادگار قائم کرنا ہوگا یا عوام سے حفاظت مقصود ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اصحاب کہف کا دین و مذہب اللہ کو معلوم ہے کہ فقط توحید پر قائم تھے اور کسی نبی کی شریعت پکڑنے نہیں پائے مگر جو لوگ ان کی خبر پا کر معتقد ہوئے اور پاس مکان زیارت بنادیا وے نصاریٰ تھے اصحاب کہف سب لوگوں کو رخصت کر کر پھر سو گئے۔ 12