Surat ul Kaahaf

Surah: 18

Verse: 28

سورة الكهف

وَ اصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَ لَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۸﴾ الثلٰثۃ

And keep yourself patient [by being] with those who call upon their Lord in the morning and the evening, seeking His countenance. And let not your eyes pass beyond them, desiring adornments of the worldly life, and do not obey one whose heart We have made heedless of Our remembrance and who follows his desire and whose affair is ever [in] neglect.

اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادے رکھتے ہیں ( رضا مندی چاہتے ہیں ) ، خبردار! تیری نگاہیں ان سے نہ ہٹنے پائیں کہ دنیاوی زندگی کے ٹھاٹھ کے ارادے میں لگ جا ۔ دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سےغافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ... And keep yourself patiently with those who call on their Lord morning and afternoon, seeking His Face; meaning, sit with those who remember Allah, who say "La Ilaha Illallah", who praise Him, glorify Him, declare His greatness and call on Him, morning and evening, all the servants of Allah, whether rich or poor, strong or weak. It was said that this was revealed about the nobles of Quraysh when they asked the Prophet to sit with them on his own, and not to bring his weak Companions with him, such as Bilal, `Ammar, Suhayb, Khabbab and Ibn Mas`ud. They wanted him to sit with them on his own, but Allah forbade him from doing that, and said, وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ And turn not away those who invoke their Lord, morning and afternoon. (6:52) Allah commanded him to patiently content himself with sitting with those people (the weak believers), and said: وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ And keep yourself patiently with those who call on their Lord morning and afternoon... Imam Muslim recorded in his Sahih that Sa`d bin Abi Waqqas who said: "There was a group of six of us with the Prophet. The idolators said, `Tell these people to leave so they will not offend us.' There was myself, Ibn Mas`ud, a man from Hudayl, Bilal and two other men whose names I have forgotten. Allah's Messenger thought to himself about whatever Allah willed he should think about, then Allah revealed: وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ And turn not away those who invoke their Lord, morning and afternoon seeking His Face). (6:52) Only Muslim reported this; excluding Al-Bukhari. ... وَلاَ تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ... and let not your eyes overlook them, desiring the pomp and glitter of the life of the world; Ibn Abbas said, `(this means) do not favor others over them, meaning do not seek the people of nobility and wealth instead of them.' ... وَلاَ تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا ... and obey not him whose heart We have made heedless of Our remembrance, means, those who are distracted by this world from being committed to the religion and from worshipping their Lord. ... وَاتَّبَعَ هَوَاهُ ... and who follows his own lusts, ... وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا and whose affair (deeds) has been lost. means, his actions and deeds are a foolish waste of time. Do not obey him or admire his way or envy what he has. As Allah says elsewhere: وَلاَ تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَجاً مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَى And strain not your eyes in longing for the things We have given for enjoyment to various groups of them, the splendor of the life of this world, that We may test them thereby. But the provision of your Lord is better and more lasting. (20:131)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

28۔ 1 یہ وہی حکم ہے جو اس کے قبل سورة الا نعام۔ 52 میں گزر چکا ہے۔ مراد ان سے وہ صحابہ کرام ہیں جو غریب اور کمزور تھے۔ جن کے ساتھ بیٹھنا اشراف قریش کو گوارا نہ تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، میرے علاوہ بلال، ابن مسعود، ایک ہذلی اور دو صحابی اور تھے۔ قریش مکہ نے خواہش ظاہر کی کہ ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹا دو تاکہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کی بات سنیں، نبی کے دل میں آیا کہ چلو شاید میری بات سننے سے ان کے دلوں کی دنیا بدل جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سختی کے ساتھ ایسا کرنے سے منع فرما دیا (صحیح مسلم) 28۔ 2 یعنی ان کو دور کر کے آپ اصحاب شرف و اہل غنی کو اپنے قریب کرنا چاہتے ہیں۔ 28۔ 3 فرطا، اگر افراط سے ہو تو معنی ہوں گے حد سے متجاوز اور اگر تفریط سے ہو تو معنی ہوں گے کہ ان کا کام تفریط پر مبنی ہے جس کا نتیجہ ضیاع اور ہلاکت ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٨] غریب اور مخلص مومنوں سے آپ کو وابستہ رہنے کی ہدایت :۔ یہ صبح و شام اللہ کے ذکر میں مشغول رہنے والے اور اللہ کی رضا چاہنے والے لوگ بموجب روایات سیدنا بلال بن رباح (رض) ، سیدنا صہیب رومی (رض) ، سیدنا خباب بن الارت (رض) ، سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) اور سیدنا عمار بن یاسر (رض) تھے جو سب کے سب غریب طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان میں سے اکثر سرداران قریش کے غلام یا آزاد کردہ غلام تھے جو اکثر اوقات آپ کی صحبت میں رہا کرتے تھے اب اونچی ناک والے قریشی سرداروں مثلاً عیینہ بن بدر اوراقرع بن حابس وغیرہ آپ سے یہ کہا کرتے تھے کہ ہر وقت یہ رذیل قسم کے لوگ آپ کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں تو ان کی موجودگی میں ہم کیسے ان کے ساتھ آپ کے پاس بیٹھیں۔ ممکن ہے آپ کے دل میں کچھ ایسا خیال آبھی گیا ہو کہ یہ لوگ تو بہرحال خالص مومن ہیں۔ سرداروں کے آنے پر کچھ دیر انھیں الگ کردینے سے اگر یہ قریشی سردار میری بات غور سے سن لینے اور ایمان لانے پر تیار ہوجائیں تو کیا حرج ہے ؟ خصوصاً اس صورت میں کہ آپ ان قریشی سرداروں کے ایمان لانے پر حریص بھی تھے کہ اس طرح اسلام کو تقویت حاصل ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ نے بروقت ہدایت فرما دی کہ ایسا خیال بھی دل میں نہ لائیے اپنا دل انہی غریب اور مخلص مومنوں کے ساتھ وابستہ رکھیے یہی لوگ قیمتی سرمایہ ہیں۔ قریشی سرداروں کے مطالبہ اور ان کی ٹھاٹھ باٹھ کی طرف مت دیکھئے کیونکہ ان کے اس مطالبہ سے ہی یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ ایمان لانے میں کس حد تک مخلص ہیں۔ [٢٩] یعنی جو شخص آخرت میں اللہ کے سامنے جوابدہی پر ایمان ہی نہیں رکھتا وہ تو جدھر اور جس طرح اپنا ذاتی مفاد دیکھے گا فوراً ادھر جھک جائے گا اور جو کچھ اس کا جی چاہے گا وہی کچھ وہ کرے گا اس کا کوئی کام اصول کے تحت یا حد اعتدال تک محدود نہ رہے گا لہذا ایسے لوگوں کی بات ہرگز نہ مانیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ : ” لَا تَعْدُ عَيْنٰكَ “ ” عَدَا یَعْدُوْ “ (ن) سے نہی کا صیغہ ہے، تجاوز نہ کریں تیری آنکھیں۔ یہ وہی حکم ہے جو اس سے پہلے سورة انعام (٥٢) میں گزر چکا ہے۔ مراد وہ کمزور مسلمان ہیں جن کے پاس قریش کے چودھریوں کو بیٹھنا گوارا نہ تھا۔ سعد بن ابی وقاص (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چھ آدمی تھے تو مشرکین نے آپ سے کہا، ان لوگوں کو دور ہٹا دیں کہ یہ لوگ ہم پر جرأت نہ کریں۔ میں تھا، ابن مسعود، قبیلہ ہذیل کا ایک آدمی، بلال اور دو آدمی اور جن کا میں نام نہیں لیتا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں آیا جو اللہ نے چاہا کہ آئے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دل میں کوئی بات سوچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ ) [ الأنعام : ٥٢ ] ” اور ان لوگوں کو دور نہ ہٹا جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں۔ “ [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب في فضل سعد بن أبي وقاص (رض) : ٤٦؍٢٤١٣ ] اس آیت میں بھی آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ اپنے آپ کو روک کر رکھنے کا حکم ہے جن میں مذکورہ صفات پائی جاتی ہیں، کیونکہ ان صفات کی وجہ سے وہی اس قابل ہیں کہ آپ ان کے ساتھ رہیں۔ ان کو چھوڑ کر آپ کی نگاہیں آگے مت بڑھیں کہ آپ دنیا کی زندگی کی زینت کا ارادہ رکھتے ہوں اور ایسے لوگوں کی بات مت مانیں جن کے دلوں کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Da&wah and Tabligh admit of no discrimination Some events have been mentioned in the background of the revela¬tion of the verse: وَاصْبِرْ‌ نَفْسَكَ (And keep yourself content - 28). It is possible that all of them became the cause of this instruction. Al-Baghawi reports that ` Uyainah ibn Hisn al-Fazari, the chief of Makkah paid a visit to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Sitting there with him was Sayyidna Salman al-Farisi (رض) who was one of the poor Sahabah. His dress was tattered and his looks, that of a derwish. Then, there were some other poor and humble people like him sitting within the gathering. ` Uyainah said, &these are the people who stop us from coming to you and listening to you. We cannot sit with such broken-down people. You should remove them from your gathering, or you should, at the least, have one separate gathering for us and another, for them.& Ibn Marduwayh reports on the authority of Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) that Umaiyyah ibn Khalaf al-jumahi advised the Holy Proph¬et (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he should not have poor and broken-down Muslims as those close to him. Instead of that, he should prefer to have the chiefs of Makkah and the Quraysh tribe with him. If these people embraced the relig¬ion brought by him, it will advance the cause of religion. Pursuant to events of this nature, came the Divine instruction that firmly stopped him from accepting their advice. Not only that he should not remove them from his company, in fact, the command given reads: وَاصْبِرْ‌ نَفْسَكَ (wasbir nafsak: translated as &and keep yourself content& ). If translated literally, it could mean &keep yourself tied with them,& not in the sense of not leaving them anytime, but meaning that he should attend to and relate to these very people, seeking their advice in essential matters and working in association with them alone. Why should he do that and what was the wisdom behind it? The words that follow spell the reason out. They call their Lord morning and evening, remembering Him under all conditions. And what they do is exclusively for the good pleas¬ure of Allah. All these conditions around them are conditions that at-tract the help and support of Allah Ta` ala. And such are the people to whom comes the help of Allah. So, let them not worry about the loss of worldly support for the final victory shall be theirs. The reason why he was prevented from accepting the advice of the Quraysh chiefs has been given towards the end of the verse. It was said that their hearts were heedless of the remembrance of Allah, everything they did was subservient to their physical desires and these conditions guaranteed that they would stand alienated far from the mercy and support of Allah Ta` ala.

معارف و مسائل : دعوت و تبلیغ کے خاص آداب : وَاصْبِرْ نَفْسَكَ اس آیت کے شان نزول میں چند واقعات مذکور رہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ سب ہی اس ارشاد کا سبب بنے ہوں بغوی نے نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن فزاری مکہ کا رئیس آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے پاس حضرت سلمان فارسی (رض) بیٹھے ہوئے تھے جو فقرا صحابہ میں سے تھے، ان کا لباس خستہ اور ہئیت فقیرانہ تھی، اور بھی اسی طرح کے کچھ فقراہ غربا مجمع میں تھے، عیینہ نے کہا کہ ہمیں آپ کے پاس آنے اور آپ کی بات سننے سے یہی لوگ مانع ہیں، ایسے خستہ حال لوگوں کے پاس ہم نہیں بیٹھ سکتے، آپ ان کو اپنی مجلس سے ہٹا دیں، یا کم از کم ہمارے لئے علیحدہ مجلس بنادیں اور ان کے لئے الگ۔ ابن مردویہ نے بروایت حضرت ابن عباس (رض) نقل کیا ہے کہ امیہ بن خلف حمجحی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ مشورہ دیا کہ غریب فقیر شکستہ حال مسلمانوں کو آپ اپنے قریب نہ رکھیں، بلکہ مکہ اور قریش کے سرداروں کو ساتھ لگائیں، یہ لوگ آپ کا دین قبول کرلیں گے تو دین کو ترقی ہوگی۔ اس طرح کے واقعات پر یہ ارشاد ربانی نازل ہوا، جس میں ان کا مشورہ قبول کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا، اور صرف یہی نہیں کہ ان کو اپنی مجلس سے ہٹائیں نہیں، بلکہ حکم یہ دیا گیا کہ واصْبِرْ نَفْسَكَ ، یعنی آپ اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ باندھ کر رکھیں، اس کا یہ مفہوم نہیں کہ کسی وقت جدا نہ ہوں، بلکہ مراد یہ ہے کے تعلقات اور توجہات سب ان لوگوں کے ساتھ وابستہ رہیں، معاملات میں انہی سے مشورہ لیں، انہی کی امدا و اعانت سے کام کریں، اور اس کی وجہ اور حکمت ان الفاظ سے بتلا دی گئی کہ یہ لوگ صبح شام یعنی ہر حال میں اللہ کو پکارتے اور اسی کا ذکر کرتے ہیں، ان کا جو عمل ہے وہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے ہے، اور یہ سب حالات وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کو کھینچتے ہیں، اللہ کی مدد ایسے ہی لوگوں کے لئے آیا کرتی ہے، چند روز کی کس مپرسی سے گھبرائیں نہیں، انجام کار فتح و نصرت انہی کو حاصل ہوگی۔ اور روسا قریش کا مشورہ قبول کرنے کی ممانعت کی وجہ بھی آخرت میں یہ بتلائی کہ ان کے دل اللہ کی یاد سے غافل ہیں اور ان کے سب کام اپنی تفسانی خواہشات کے تابع ہیں، اور یہ حالات اللہ تعالیٰ کی رحمت و نصرت سے ان کو دور کرنے والے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْہَہٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْہُمْ۝ ٠ۚ تُرِيْدُ زِيْنَۃَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝ ٠ۚ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَكَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا۝ ٢٨ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ غدا الْغُدْوَةُ والغَدَاةُ من أول النهار، وقوبل في القرآن الغُدُوُّ بالآصال، نحو قوله : بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الأعراف/ 205] ، وقوبل الغَدَاةُ بالعشيّ ، قال : بِالْغَداةِ وَالْعَشِيِ [ الأنعام/ 52] ، غُدُوُّها شَهْرٌ وَرَواحُها شَهْرٌ [ سبأ/ 12] ( غ د و ) الغدوۃ والغراۃ کے معنی دن کا ابتدائی حصہ کے ہیں قرآن میں غدو ( غدوۃ کی جمع ) کے مقابلہ میں اصال استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا : ۔ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الأعراف/ 205] صبح وشام ( یا د کرتے رہو ) ( غدو ( مصدر ) رواح کے مقابلہ میں ) جیسے فرمایا : ۔ غُدُوُّها شَهْرٌ وَرَواحُها شَهْرٌ [ سبأ/ 12] اس کا صبح کا جانا ایک مہینہ کی راہ ہوتی ہے اور شام کا جانا بھی ایک مہینے کی ۔ عشا العَشِيُّ من زوال الشمس إلى الصّباح . قال تعالی: إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحاها[ النازعات/ 46] ، والعِشَاءُ : من صلاة المغرب إلى العتمة، والعِشَاءَانِ : المغرب والعتمة «1» ، والعَشَا : ظلمةٌ تعترض في العین، ( ع ش ی ) العشی زوال آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک کا وقت قرآن میں ہے : ۔ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْضُحاها[ النازعات 46] گویا ( دنیا میں صرف ایک شام یا صبح رہے تھے ۔ العشاء ( ممدود ) مغرب سے عشا کے وقت تک اور مغرب اور عشا کی نمازوں کو العشاء ن کہا جاتا ہے اور العشا ( توندی تاریکی جو آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے رجل اعثی جسے رتوندی کی بیمار ی ہو اس کی مؤنث عشراء آتی ہے ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معیج چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ زين الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين، ( زی ن ) الزینہ زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک پہلو کے اعتبار سے زینت کہہ سکتے ہیں حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» . قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے غفل الغَفْلَةُ : سهو يعتري الإنسان من قلّة التّحفّظ والتّيقّظ، قال تعالی: لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] ( غ ف ل ) الغفلتہ ۔ اس سہو کو کہتے ہیں جو قلت تحفظ اور احتیاط کی بنا پر انسان کو عارض ہوجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] بیشک تو اس سے غافل ہو رہا تھا قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے هوى الْهَوَى: ميل النفس إلى الشهوة . ويقال ذلک للنّفس المائلة إلى الشّهوة، وقیل : سمّي بذلک لأنّه يَهْوِي بصاحبه في الدّنيا إلى كلّ داهية، وفي الآخرة إلى الهَاوِيَةِ ، وَالْهُوِيُّ : سقوط من علو إلى سفل، وقوله عزّ وجلّ : فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] قيل : هو مثل قولهم : هَوَتْ أمّه أي : ثکلت . وقیل : معناه مقرّه النار، والْهَاوِيَةُ : هي النار، وقیل : وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] أي : خالية کقوله : وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] وقد عظّم اللہ تعالیٰ ذمّ اتّباع الهوى، فقال تعالی: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] ، وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] وقوله : وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] فإنما قاله بلفظ الجمع تنبيها علی أنّ لكلّ واحد هوى غير هوى الآخر، ثم هوى كلّ واحد لا يتناهى، فإذا اتّباع أهوائهم نهاية الضّلال والحیرة، وقال عزّ وجلّ : وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] أي : حملته علی اتّباع الهوى. ( ھ و ی ) الھوی ( س ) اس کے معنی خواہشات نفسانی کی طرف مائل ہونے کے ہیں اور جو نفساتی خواہشات میں مبتلا ہو اسے بھی ھوی کہدیتے ہیں کیونکہ خواہشات نفسانی انسان کو اس کے شرف ومنزلت سے گرا کر مصائب میں مبتلا کردیتی ہیں اور آخر ت میں اسے ھاویۃ دوزخ میں لے جاکر ڈال دیں گی ۔ الھوی ( ض ) کے معنی اوپر سے نیچے گر نے کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] اسکا مرجع ہاویہ ہے : ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ ھوت انہ کیطرف ایک محاورہ ہے اور بعض کے نزدیک دوزخ کے ایک طبقے کا نام ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ اسکا ٹھکانا جہنم ہے اور بعض نے آیت وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ( ہوا ہو رہے ہوں گے ۔ میں ھواء کے معنی خالی یعنی بےقرار کئے ہیں جیسے دوسری جگہ فرمایا : ۔ وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوگیا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خواہشات انسانی کی اتباع کی سخت مذمت کی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے ولا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا ۔ وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ۔ اور آیت : ۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] اگر تم ان کی خواہشوں پر چلو گے ۔ میں اھواء جمع لاکر بات پت تنبیہ کی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش دوسرے سے مختلف اور جدا ہے اور ایہ ایک کی خواہش غیر متنا ہی ہونے میں اھواء کا حکم رکھتی ہے لہذا ایسی خواہشات کی پیروی کرنا سراسر ضلالت اور اپنے آپ کو درطہ حیرت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] اور نادانوں کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَلا تَتَّبِعُوا أَهْواءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا [ المائدة/ 77] اور اس قوم کی خواہشوں پر مت چلو ( جو تم سے پہلے ) گمراہ ہوچکے ہیں ۔ قُلْ لا أَتَّبِعُ أَهْواءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ [ الأنعام/ 56] ( ان لوگوں سے ) کہدو کہ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا ۔ ایسا کروں میں گمراہ ہوچکا ہوں گا ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَهُمْ وَقُلْ آمَنْتُ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ [ الشوری/ 15] اور ان ( یہود ونصاریٰ کی کو اہشوں پر مت چلو اور ان سے صاف کہدو کہ میرا تو اس پر ایمان ہے ۔ جو خدا نے اتارا ۔ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ وہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ۔ الھوی ( بفتح الہا ) کے معنی پستی کی طرف اترنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل ھوی ( بھم الہا ) کے معنی بلندی پر چڑھنے کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) ( 457 ) یھوی مکار مھا ھوی الاجمال اس کی تنگ گھائیوں میں صفرہ کیطرح تیز چاہتا ہے ۔ الھواء آسمان و زمین فضا کو کہتے ہیں اور بعض نے آیت : ۔ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ہوا ہور رہے ہوں گے ۔ کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے یعنی بےقرار ہوتے ہیں ھواء کی طرح ہوں گے ۔ تھا ویٰ ( تفاعل ) کے معنی ایک دوسرے کے پیچھے مھروۃ یعنی گڑھے میں گرنے کے ہیں ۔ اھواء اسے فضا میں لے جا کر پیچھے دے مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوى [ النجم/ 53] اور اسی نے الٹی بستیوں کو دے پئکا ۔ استھوٰی کے معنی عقل کو لے اڑنے اور پھسلا دینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] جیسے کسی کی شیاطین ( جنات ) نے ۔۔۔۔۔۔۔ بھلا دیا ہو ۔ فرط فَرَطَ : إذا تقدّم تقدّما بالقصد يَفْرُطُ ، ما فَرَّطْتُمْ فِي يُوسُفَ [يوسف/ 80] . ( ف ر ط ) فرط یفرط ( ن ) کے معنی قصدا آگے بڑھ جانے کے ہیں ما فَرَّطْتُمْ فِي يُوسُفَ [يوسف/ 80] تم یوسف کے بارے میں قصؤر کرچکے ہو ۔ افرطت القریۃ مشکیزہ کو پانی سے خوب بھر دیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٨) اور آپ اپنے کو ان لوگوں کے ساتھ مقید رکھا کیجیے جو صبح وشام اپنے رب کی عبادت محض اس کی رضا اور خوشنودی کے لیے کرتے ہیں جیسا کہ حضرت سلمان فارسی (رض) اور دنیوی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں ان سے ہٹنے نہ پائیں، اور ایسے شخص کی بات نہ مانیے جس کے قلب کو ہم نے اپنی توحید سے غافل کردیا ہے اور دو بتوں کی پوجا میں مصروف ہے اور اس کی یہ باتیں سب اکارت اور برباد ہیں یہ آیت کریمہ عیینہ بن حصن فزاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان نزول : ( آیت ) ”۔ ولا تطع من اغفلنا “۔ (الخ) ابن مردویہ (رح) نے جریر (رح) اور ضحاک (رح) کے واسطہ سے حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں روایت کیا ہے، کہ یہ آیت امیہ بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ اس نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک ایسی چیز کی درخواست کی تھی جو اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمائی وہ یہ کہ مسلمان مساکین کو اپنے پاس سے ہٹادیجیے اور مکہ کے رؤسا کو اپنے پاس بٹھائیے، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، اور ابن ابی حاتم (رح) نے ربیع سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیہ بن خلف کی بات کا اثر لیا تھا اور آپ سے جو کہا گیا تھا آپ اس سے بیخبر اور غافل تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، نیز ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ عیینہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ کے پاس حضرت سلمان فارسی (رض) بیٹھے ہوئے تھے تو عیینہ کہنے لگا جس وقت ہم آپ کے پاس آیا کریں تو انہیں اپنے پاس سے ہٹا دیا کیجیے اور ہمیں بٹھا لیا کیجیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ ) یہ بلال حبشی عبد اللہ بن اُمّ مکتوم عمار بن یاسر اور خباب جیسے لوگ اگرچہ مفلس اور نادار ہیں مگر اللہ کی نظر میں بہت اہم ہیں۔ آپ ان لوگوں کی رفاقت کو غنیمت سمجھئے اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کیجیے۔ (يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ ۚ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا) ان غلاموں اور بےآسرا لوگوں سے آپ کی توجہ ہٹ کر کہیں مکہ کے سرداروں اور امراء کی طرف نہ ہونے پائے جس سے لوگوں کو یہ گمان ہو کہ آپ بھی دنیا کی زیب وزینت ہی کو اہمیت دیتے ہیں۔ لہٰذا ولید بن مغیرہ بظاہر کتنا ہی با اثر اور صاحب ثروت سہی آپ عبد اللہ بن اُمّ مکتوم کو نظر انداز کر کے اسے ہرگز اہمیت نہ دیں۔ ترجمہ کے اعتبار سے یہ آیت مشکل آیات میں سے ہے۔ یہاں الفاظ کے عین مطابق ترجمہ ممکن نہیں۔ حضور کی یہ شان ہرگز نہ تھی کہ آپ کی نظریں غرباء سے ہٹ کر امراء کی طرف اٹھتیں۔ چناچہ ان الفاظ سے یہی مفہوم سمجھ میں آتا ہے کہ دراصل آپ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ دعوت و تبلیغ کی غرض سے بھی ان امراء کی طرف اس انداز میں التفات نہ فرمائیں جس سے کسی کو مغالطہ ہو کہ آپ کی نگاہ میں دنیوی مال و اسباب کی بھی کچھ وقعت اور اہمیت ہے۔ سورة الحجر میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : (لاَ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ) ” آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اس مال و متاع کی طرف جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دے رکھا ہے اور آپ ان (امراء) کے بارے میں فکرمند نہ ہوں اور اہل ایمان کے لیے اپنے بازو جھکا کر رکھیں ! “ کسی بھی داعی حق کے لیے یہ معاملہ بہت نازک ہوتا ہے۔ معاشرے کے اونچے طبقے کے لوگوں کا بہر حال اپنا ایک حلقہ اثر ہوتا ہے۔ ان میں سے اگر کوئی اہل حق کی صف میں شامل ہوتا ہے تو وہ اکیلا بہت سے افراد کے برابر شمار ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے کئی دوسرے لوگ خود بخود کھنچے آتے ہیں اور پہلے سے موجود لوگوں کے لیے بھی ایسے شخص کی شمولیت تقویت اور اطمینان کا باعث ہوتی ہے۔ جیسے حضور نے اللہ تعالیٰ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ عمر بن الخطاب یا عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے کسی ایک کو ضرور میری جھولی میں ڈال دے ! ان دونوں میں سے کوئی ایک ایمان لے آئے۔ ظاہر ہے کہ ان جیسی بااثر شخصیات میں سے کسی کا ایمان لانا اسلام کے لیے باعث تقویت ہوگا اور اس کی رفاقت سے ان کمزور مسلمانوں کو سہارا ملے گا جن پر قافیہ حیات تنگ ہوا جارہا ہے۔ اور پھر واقعتا ایسا ہوا بھی کہ حضرت عمر اور حضرت حمزہ کے ایمان لانے کے بعد مکہ میں کمزور مسلمانوں پر قریش کے ظلم وتعدی میں کافی حد تک کمی آگئی۔ بہر حال اس سلسلے میں معروضی حقائق کسی بھی داعی کو اس طرف راغب کرتے ہیں کہ معاشرے کے متمول طبقوں اور ارباب اختیار و اقتدار تک پیغام حق ترجیحی بنیادوں پر پہنچایا جائے اور انہیں اپنی تحریک میں شامل کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ مگر دوسری طرف اس حکمت عملی سے تحریک کے نادار اور عام ارکان کو یہ تاثر ملنے کا اندیشہ ہوتا ہے کہ انہیں کم حیثیت سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اس طرح ان کی حوصلہ شکنی ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب کوئی داعی حق اثر و رسوخ کے حامل افراد کی طرف ترجیحی انداز میں متوجہ ہوگا تو عوام میں اس کی ذات اور اس کی تحریک کے بارے میں یہ تاثر ابھرنے کا اندیشہ ہوگا کہ یہ لوگ بھی امراء اور ارباب اختیار سے مرعوب ہیں اور ان کے ہاں بھی دنیوی ٹھاٹھ باٹھ ہی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ چناچہ دولت مند اور اثر و رسوخ کے حامل افراد تک دین کی دعوت کو پھیلانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں مذکورہ بالا دو عوامل کے منفی اثرات سے بچنا بھی نہایت ضروری ہے۔ چناچہ حضور کو اس آیت میں حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ اس سلسلے میں احتیاط کریں کہیں لوگ یہ تاثر نہ لے لیں کہ محمد کے ہاں بھی دولت مند لوگوں ہی کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ (وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ وَكَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا) یہ بات متعدد بار بیان ہوچکی ہے کہ کفار مکہ رسول اللہ کے ساتھ مداہنت پر مصر تھے اور وہ آپ کے ساتھ کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر مذاکرات کرنا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں سرداران قریش کی طرف سے آپ پر شدید دباؤ تھا۔ اس پس منظر میں یہاں پھر متنبہ کیا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کے دلوں کو ہم نے اپنی یاد سے غافل اور محروم کردیا ہے آپ ایسے لوگوں کی باتوں کی طرف دھیان بھی مت دیجیے !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

28. Though these words have also been addressed to the Prophet (peace be upon him), they are really meant for the chiefs of the Quraish. According to a tradition related by Ibn Abbas, the chiefs of the Quraish would say to the Prophet (peace be upon him) that they considered it below their dignity to sit with such people as Bilal, Suhaib, Ammar, Khabbab, Ibn-Masud and the like who generally remained in his company, and that if he should send them away, they would be willing to attend his meetings in order to learn about his message. At this Allah revealed this verse: And keep yourself whole heartedly content with those who pray to their Lord morning and evening in order to win His approval and do not turn your attention away from them: Do you desire to discard these sincere but poor people so that the chiefs of the Quraish, the well to do people, should come and sit near you? This was meant to warn the chiefs of the Quraish to this effect: Your wealth, your pomp and show of which you are so proud has no value at all in the sight of Allah and His Messenger (peace be upon him). Nay, those poor people are really more worthy in their sight, for they are sincere and always remember Allah. The same was the attitude of the chiefs of Prophet Noah’s (peace be upon him) people, who said: And we also see that none but the meanest and the most shallow of our people have become your followers. Upon this, Noah (peace be upon him) replied: I am not going to drive away those who have believed in me, nor can I say about those whom you disdain that Allah has not bestowed any good on them. (Surah Al-Anbia Ayats 27, 29, (31). 29. That is, do not yield to what he says, nor submit to him, nor fulfill his desire, nor follow his bidding. 30. The original Arabic text may also mean: Who discards the truth, breaks all moral limits and rushes on headlong. But in both cases it comes to this: The one, who is neglectful of Allah and becomes a slave of his lust, inevitably transgresses all limits and becomes a victim of immoderation. Therefore the one who will submit to him, will also follow the same way and wander about in deviation after him.

سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :28 ابن عباس کی روایت کے مطابق ، قریش کے سردار نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہتے تھے کہ یہ بلال رضی اللہ عنہ اور صہیب رضی اللہ عنہ اور عَمَّار رضی اللہ عنہ اور خَبّاب رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے غریب لوگ ، جو تمہاری صحبت میں بیٹھا کرتے ہیں ، ان کے ساتھ ہم نہیں بیٹھ سکتے ۔ انہیں ہٹاؤ تو ہم تمہاری مجلس میں آ سکتے ہیں اور معلوم کر سکتے ہیں اور معلوم کر سکتے ہیں کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے فرمایا کہ جو لوگ رضائے الٰہی کی خاطر تمہارے گرد جمع ہوئے ہیں اور شب و روز اپنے رب کو یاد کرتے ہیں ، ان کی معیت پر اپنے دل کو مطمئن کرو اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو ۔ کیا تم ان مخلص لوگوں کو چھوڑ کر یہ چاہتے ہو کہ دنیوی ٹھاٹھ باٹھ رکھنے والے لوگ تمہارے پاس بیٹھیں ؟ اس فقرے میں بھی بظاہر خطاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے ، مگر سنانا دراصل سرداران قریش کو مقصود ہے کہ تمہاری یہ دکھاوے کی شان و شوکت ، جس پر تم پھول رہے ہو ، اللہ اور اس کے رسول کی نگاہ میں کچھ قدر و قیمت نہیں رکھتی ۔ تم سے وہ غریب لوگ زیادہ قیمتی ہیں جن کے دل میں خلاص ہے اور جو اپنے رب کی یاد سے کبھی غافل نہیں رہتے ۔ ٹھیک یہی معاملہ حضرت نوح اور ان کی قوم کے سرداروں کے درمیان بھی پیش آیا تھا ۔ وہ حضرت نوح علیہ السلام سے کہتے تھے وَمَا نَرٰکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیْنَ ھُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّأیِ ۔ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ تم میں سے جو رذیل لوگ ہیں وہ بے سوچے سمجھے تمہارے پیچھے لگ گئے ہیں اور حضرت نوح علیہ السلام کا جواب یہ تھا کہ مَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ، میں ایمان لانے والوں کو دھتکار نہیں سکتا ، اور وَلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیٔٓ اَعْیُنُکُمْ لَنْ یُّؤْ تِیَہُمُ اللہُ خَیْراً ، جن لوگوں کو تم حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہو ، میں ان کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ نے انہیں کوئی بھلائی عطا نہیں کی ہے ۔ ( ہود آیات ۲۷ ۔ ۹۲ ۔ ۳۱ ۔ نیز سورہ اَنعام ، آیت ۵۲ ۔ اور سورہ الحجر ، آیت ۸۸ ) سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :29 یعنی اس کی بات نہ مانو ، اس کے آگے نہ جھکو ، اس کا منشا پورا نہ کرو اور اس کے کہے پر نہ چلو ۔ یہاں اطاعت ، کا لفظ اپنے وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے ۔ سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :30 کَانَ اَمْرُہ فُرُطاً کا ایک مطلب تو وہ ہے جو ہم نے ترجمے میں اختیار کیا ہے ۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو حق کو پیچھے چھوڑ کر اور اخلاقی حدود کو توڑ کر بَگ ٹُٹ چلنے والا ہے ۔ دونوں صورتوں میں حاصل ایک ہی ہے ۔ جو شخص خدا کو بھول کر اپنے نفس کا بندہ بن جاتا ہے اس کے ہر کام میں بے اعتدالی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ حدود ناآشنا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ ایسے آدمی کی اطاعت کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اطاعت کرنے والا خود بھی حدود ناآشنا ہو جائے اور جس جس وادی میں مطاع بھٹکے اسی میں مطیع بھی بھٹکتا چلا جائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

22: بعض کفار کا مطالبہ یہ بھی تھا کہ جو غریب اور کم حیثیت لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہتے ہیں، اگر آپ انہیں اپنے پاس سے ہٹادیں تو ہم آپ کی بات سننے کو تیار ہوں گے، موجودہ حالت میں ہم ان غریبوں کے ساتھ بیٹھ کر آپ کی کوئی بات نہیں سن سکتے، یہ آیت اس مطالبے کو رد کرکے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت دے رہی ہے کہ آپ اس مطالبے کو نہ مانیں اور اپنے غریب صحابہ کی رفاقت نہ چھوڑیں، اور اس ضمن میں ان غریب صحابہ کرام کی فضیلت اور ان کے مقابلے میں ان مالدار کافروں کی برائی بیان فرمائی گئی ہے۔ یہی مضمون سورۂ انعام (٦۔ ٥٢) میں بھی گزرچکا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(18:28) اصبر نفسک۔ احبسھا۔ تو اس کو روک۔ یعنی اپنے نفس کو روک۔ استقلال سے رہ۔ صبر سے جس کے معنی نفس کو عقل وشرع کے مطابق روکے رکھنے کے ہیں۔ لا تعد علینک عنہم فعل نہی واحد مذکر حاضر تو اپنی آنکھوں کو ان سے نہ پھیر۔ عدو (باب نصر) سے جس کے معنی پھرنے، دوڑنے، کسی چیز سے تجاوز کرنے اور گزرنے کے ہیں۔ العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم آہنگی نہ ہونے کے ہیں اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو عداوت کہلاتی ہے رفتار سے تعلق ہو تو عدو کہا جاتا ہے۔ عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں عدوان وعدو کہا جاتا ہے۔ معاداۃ سے اشتقاق کے ساتھ رجل عدو۔ وقوم عدو۔ بمعنی دشمن۔ ترید زینۃ الحیوۃ الدنیا۔ الحیوۃ الدنیا موصوف صفت دونوں مل کر مضاف الیہ زینۃ مضاف۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ۔ ترید فعل بافاعل یہ سارا جملہ ضمیر لا تعد سے حال ہے۔ دنیوی زندگی کی رونق کا خیال کرتے ہوئے۔ لا تطع۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر، تو کہا نہ مان ۔ تو اطاعت نہ کر۔ امرہ۔ مضاف مضاف الیہ اس کا معاملہ۔ فرطا۔ حد سے بڑھا ہوا۔ فرط یفرط (نصر) آگے بڑھنا۔ مقدم ہونا۔ افراط (افعال) حد سے بڑھ جانا۔ تفریط (تفعیل) ضائع کرنا۔ کوتاہی کرنا۔ فرطا۔ افراط و تفریط میں حد سے بڑھا ہوا ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 مراد ہیں حضرت سلمان، ابوذر، بلال، صہیب، خباب اور دوسرے غریب مسلمان جو آنحضرت کی صحبت میں بیٹھ کرتے تھے10 حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ چند غریب صحابہ آنحضرت کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ مشریکن کے چند سردار آئے اور کہنے لگے آپ ان غریب مسلمانوں کو اپنے پاس سے ہٹا دیں تب ہم آپ کے پاس آ کر بیٹھیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت سلمان کی روایت میں ہے کہ حینیہ بن بدر اور اقرع بن حابس وغیرہ آئے۔ (ابن کثیر)11 یعنی مجھے تمہاری کوئی پروا نہیں مانو گے تو اپنا بھلا کرو گے اور نہ مانو گے تو اپنی شناخت بلائو گے میں ان مومنوں کو پانی مجلس سے نہیں اٹھا سکتا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ ” واصبر نفسہ “ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب تک یہ لوگ نہ اٹھیں گے آپ بیٹھے رہا کیجئے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ بدستور سابق ان کو اپنی طول مجالست سے مشرف رکھیئے۔ 2۔ رونق کے خیال سے مراد یہ کہ رئیس مسلمان ہوجاویں تو اسلام میں زیادہ جمال و کمال ہوگا، پس اس میں بتلا دیا کہ اس ظاہر سامان سے اسلام کا جمال و کمال نہیں بلکہ اس کا مدار اخلاص و اطاعت کا ملہ ہے، گو فقراء ہی سے ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے بےجا اعتراضات اور مطالبات پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کی تلقین اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ وابستہ رہنے کا حکم : کفار مکہ کا مسلسل مطالبہ تھا کہ اگر قرآن مجید میں ردوبدل کردیا جائے تو ہم تجھ پر ایمان لانے کے لیے تیار ہیں۔ جب یہ مطالبہ کلیتاً مسترد کردیا گیا تو انہوں نے یہ مطالبہ کرڈالا کہ جب ہم آپ کے پاس حاضر ہوں تو جو لوگ معاشی اور معاشرتی اعتبار سے کمزور ہیں وہ آپ کی مجلس میں نہیں ہونے چاہییں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پہلے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے بتلایا کہ اللہ کے کلام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ اگر آپ اس میں ردوبدل کا خیال کریں کہ یہ لوگ اس پر راضی ہوجائیں تو یادرکھنا ایسی صورت میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ جہاں تک ان لوگوں کا یہ مطالبہ ہے کہ آپ اپنی مجلس میں کمزور مسلمانوں کو نکال باہر کریں۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ رکھیں جو صبح وشام اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں۔ جو لوگ دنیا کی زیب وزینت میں محو ہو کر اپنے رب کی یاد سے غافل ہوچکے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بات کبھی نہیں ماننا اور نہ ہی ان کی جاہ، شوکت دیکھ کر کسی حسرت کا اظہار کرنا چاہیے۔ سورة آل عمران کی آیت ١٩٦، ١٩٧ میں فرمایا کہ اے نبی ! شہروں میں کفار کا چلنا پھرنا آپ کو دھوکہ میں مبتلانہ کردے۔ یہ تو دنیا کا معمولی سامان ہے بالآخر ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، جو بدترین رہنے کی جگہ ہے۔ یہ انجام اس لیے ہوگا کہ ایسے لوگوں نے اپنے نفس کو خدا بنا رکھا ہے اور دنیا کے بندے ہو کر رہ گئے ہیں یہ پرلے درجے کی گمراہی ہے حالانکہ دنیا کی حقیقت یہ ہے۔ دنیا کی حقیقت : (إِنَّمَا مَثَلُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ أَنْزَلْنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا یَأْکُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتّٰی إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَہَا وَازَّیَّنَتْ وَظَنَّ أَہْلُہَا أَنَّہُمْ قَادِرُوْنَ عَلَیْہَا أَتٰہَا أَمْرُنَا لَیْلًا أَوْ نَہَارًا فَجَعَلْنَاہَا حَصِیْدًا کَأَنْ لَمْ تَغْنَ بالْأَمْسِ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیَاتِ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُوْنَ )[ یونس : ٢٤] ” دنیا کی زندگی کی مثال تو بس اس پانی کی سی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی سے (اگنے والی چیزیں) خوب گنجان ہوگئیں، جس سے انسان اور چوپائے کھاتے ہیں، یہاں تک کہ جب زمین شاداب اور خوب مزین ہوگئی اور اس کے رہنے والے گمان کر بیٹھے کہ یقیناً وہ اس پر قادر ہیں رات یا دن کے وقت اس پر ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اسے جڑ سے کاٹی ہوئی کردیا، جیسے وہ کل تھی ہی نہیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے نشانیاں مفصل بیان کرتے ہیں جو سوچتے ہیں۔ “ مسائل ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نیک لوگوں کے ساتھ وابستہ رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ٢۔ دنیا عارضی ہے۔ ٣۔ اللہ کے نافرمانوں کی تابعداری نہیں کرنی چاہیے۔ ٤۔ اپنی یا لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اپنی یا کسی کی غلط خواہش کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے : ١۔ اس شخص کا کہنا نہ مانیے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے۔ (الکھف : ٢٨) ٢۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور خوا ہش کے پیچھے نہ لگیں۔ (ص : ٢٦) ٣۔ اس سے بڑا گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اپنی خواہشات کے تابع ہوچکا ہے۔ (القصص : ٥٠) ٤۔ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو گمراہ ہوچکے ہیں۔ (المائدۃ : ٧٧) ٥۔ فرما دیجیے ! میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا اگر پیروی کروں تو میں گمراہ ہوجاؤں گا۔ (الانعام : ٥٦) ٦۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ کیونکہ آپ کے پاس حق آچکا ہے۔ (المائدۃ : ٤٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 131 ایک نظر میں یہ سبق سب کا سب اسلامی نظریہ حیات کی قدروں کے تعین کے موضوع کے ساتھ منسلک ہے۔ اسلامی نظریہ حیات کی رو سے اعلیٰ قدریں صرف مال و دولت ، منصب و مرتبہ اور اقتدار و اختیارات ہی نہیں ہیں ، نیز اسلامی نظریہ حیات کی رو سے اعلیٰ قدریں صرف زندگی کا سازوسامان یا عیش و عشرت ہی نہیں ہیں۔ یہ تو سب کھوٹی اور زائل ہونے والی چیزیں ہیں۔ ان چیزوں سے جو حلال و طیب ہیں۔ اسلام ان کے خلاف نہیں ہے ، لیکن اسلام ان چیزوں کو انسانی زندگی کا مقصد اعلیٰ بھی قرار نہیں دیتا۔ اگر کوئی ان چیزوں سے زندگی میں فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو وہ بیشک اٹھائے ، لیکن وہ اس ذات باری کا بھی شکریہ ادا کرے جس نے انسان کے لیے یہ نعمتیں پیدا کی ہیں اور یہ شکر عمل صالح کے ذریعہ ادا کرے۔ کیونکہ اعمال صالحہ اللہ کے ہاں باقی رہنے والے ہیں اور ان کے نتائج انسانوں کے لئے عقبیٰ میں اچھے ہیں۔ اس سبق کا آغاز حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس ہدایت سے ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کے ساتھ جم جائیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں اور جن لوگوں نے اللہ کو بھلا دیا ، ان کو بھلا دیں۔ اس کے بعد فریقین کو ایک مثال سے واضح کیا جاتا ہے کہ ایک شخص اپنے مال ، عزت اور سازوسامان پر اتراتا ہے اور دوسرا ایمان خالص پر فخر کرتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ اللہ کے ہاں جو اجر ہے وہ سب سے بہتر ہے۔ اس کے بعد حیات دنیا کی فنا اور زوال کو ایک تمثیل سے واضح کیا جاتا ہے جس طرح دنیا میں شادابی پیدا ہوتا ہے اور پھر یہ چیزیں بھس بن جاتی ہے اور ان کو ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور آخر میں یہ ثابت شدہ حقیقت بیان کی جاتی ہے۔ المال و البنون…املا (36:18) ” یہ مال اور یہ اولاد محض دنیاوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے۔ اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور انہی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں “۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات اشراف قریش کے بارے میں نازل ہوئیں جن کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی مجلس سے غربائ، اہل ایمان مثلاً بلال ، عمار ، جناب اور ابن مسعود (رض) کو نکال دیں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواہش تھی کہ اکابر قریش اگر ایمان لے آئیں تو اسلام کو ترقی نصیب ہوجائے۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بھی خواہش رکھتے تھے کہ ان کے لئے عام مسلمانوں سے علیحدہ ایک مجلس کا انتظام کریں ، کیونکہ ان غرباء کے بدن پر ایسے جبے تھے جن سے پسینے کی بو آتی تھی اور گہرائے قریش کو یہ بات اذیت دیتی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ایمان کے معاملے میں دلچسپی رکھتے تھے ، اس لئے آپ نے دل میں اہل قریش کے اس مطالبے پر غور شروع کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ و اصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغدوۃ و العشی (27:18) ” اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلبگار بن کر صبح و شام اسے پکارتے ہیں “۔ یہ آیت نازل کرکے اللہ تعالیٰ نے ایک حقیقی قدر قائم کردی اور حق و باطل کی جدائی کے لئے ایک ایسا ترازو قائم کردیا جس میں کوئی غلطی نہیں ہو سکتی اور اس کے بعد پھر یہ اصول آتا ہے۔ فمن شاء فلیومن و من شذہ فیکفر (29:18) ” جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے “۔ اسلام کسی کی چاپلوسی نہیں کرتا اور نہ ہی وہ جاہلیت کے پیمانوں سے لوگوں کو ناپتا ہے ، نہ اسلام کسی بھی جاہلیت کے پیمانوں کو قبول کرتا ہے جو اسلام کے پیمانوں سے علیحدہ ہیں۔ و اصبر نفسک ” اپنے دل کو مطمئن کر دو “۔ نہ پریشان ہو اور نہ جلدی کرو۔ مع الذین یدعون ربھم بالغدوۃ و العشی یریدون وجھہ (28:18) ” ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے رب کی رضا کے طلبگار بن کر صبح و شام اسے پکارتے ہیں “۔ ان کا مطلوب اللہ ہوتا ہے وہ صبح و شام اللہ کی ہی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ سے منہ نہیں پھیرتے۔ صرف اس کی رضا مندی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اور یہ لوگ جس چیز کی تلاش میں ہیں وہ اس سے بہت زیادہ قیمتی ہے۔ جس کی تلاش میں یہ طالبان دینا ہوتے ہیں۔ ولاتعد عینک عنھم ترید زینۃ الحیوۃ الدنیا (28:18) ” اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو ، کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو “۔ یعنی آپ کی نظروں میں دنیا کی زیب وزینت کی اہمیت زیادہ نہ ہوجائے ، جس کا اہتمام ، یہ اہل دنیا بہت کرتے ہیں ، کیونکہ یہ تو دنیا کی زندگی کی زیب و زبیت ہے اور جو لوگ صبح و شام اللہ کی رضا مندی کی تلاش میں ہیں ان کی نظریں جس افق پر ہیں وہ بہت بلند ہے۔ ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا و اتبع ھوہ و کان امرہ فرطاً (28:18) ” کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو ، جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے اور جس کا طریق کار افراط وتفریط پر مبنی ہے “۔ یعنی ان کا جو مطالبہ ہے کہ امرائے قریش اور ان کے درمیان امتیازی سلوک کرو ، اس معاملے میں ان کی پیروی نہ کرو ، اگر یہ لوگ اللہ کا ذکر کرتے تو ان کے کبرو غرور میں کچھ کمی آجاتی اور ان کے سر ذرا جھک جاتے۔ اس غلو میں وہ کمی کردیتے اور غرور کی جن بلند چوٹیوں پر وہ بیٹھے ہیں ان سے ذرا نیچے اتر آئے اور اللہ کی بزرگی اور بلندی کا شعور انہیں حاصل ہوتا۔ جس کے نتیجے میں ان کے نزدیک تمام انسان مساوی ہوجاتے ۔ یہ لوگ اسلامی اخوت کے رابطے کو سمجھ جاتے ، جس کے اندر تمام انسان بھائی بھائی ہوجاتے ہیں۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں یعنی جاہلی خواہشات کی ۔ یہ بیوقوف ہیں ، ان کی خواہشات احمقانہ ہیں ، انہوں نے اللہ کو بھلا دیا ہے ، لہٰذا اس کا صلہ ان کو یہ ملنا چاہیے کہ ان کو بھی بھلا دیا جائے۔ اسلام کا یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے اللہ کے سامنے تمام انسانوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا۔ اللہ کے ہاں کسی کو مال ، نسب ، مرتبہ کے زاویہ سے کوئی فضیلت نہیں ہے ، کیونکہ یہ قدریں تو زائل ہونے والی کھوٹی قدریں ہیں۔ اللہ کے نزدیک درجات کی بلندی و پستی صرف اس لحاط سے ہے کہ اللہ کے ہاں مرتبہ کس کا بلند ہے اور اللہ کے ہاں درجات کی بلندی کی پیمائش اس طرح ہوتی ہے کہ کون اللہ کی طرف زیادہ متوجہ ہے ، کون کس قدر اللہ کی طرف خالص ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ ہوائے نفس ہے ، حماقت ہے اور باطل اور زوال پذیر ہے۔ ولاتطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا (28:18) ” کسی ایسے شخص کی اطاعات نہ کرو ، جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے “۔ اس کا دل غافل ہوا کہ وہ اپنی ذآت ، اپنے مال اور اپنی اولاد کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوگیا ، اس کی توجہات کا مرکز دنیا کا سازوسامان ، دنیا کی لذات اور خواہشات نفس بن گئے۔ اس کے دل میں اللہ کے لئے کوئی جگہ نہ رہی۔ یاد رہے کہ جو دل بھی ان مشاغل میں مشغول ہوجائیں اور ان کو اپنا مقصود اور مطلوب بنا لیں ، وہ ذکر الٰہی سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اللہ ان کی غفلت میں اور اضافہ کرتا ہے اور جس حال میں وہ ہوتے ہیں اس میں ان کو مہلت دیتا ہے۔ ان لوگوں کی زندگی ایسے ہی گزر جاتی ہے اور ایسے لوگوں کے لئے اللہ نے جو انجام تیار کیا ہوتا ہے ، اس تک وہ پہنچ جاتے ہیں۔ یہ لوگ خود اپنے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں اور دوسروں کے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ ) یعنی جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں آپ ان کے ساتھ بیٹھے رہا کیجیے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں۔ اس میں حضرات صحابہ کی دو طرح تعریف ہے اول یہ کہ وہ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں دوسرے یہ کہ وہ اللہ کی رضا کو چاہتے ہیں۔ (وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا) (اور آپ ایسے شخص کی بات نہ مانئے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا) (وَ اتَّبَعَ ھَوٰہُ ) (اور جو اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا) (وَ کَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا) (اور اس کا حال حد سے بڑھ گیا) اس میں یہ فرمایا ہے کہ جن لوگوں کو ہماری یاد کا دھیان نہیں ہے اپنی خواہش کے پیچھے چلتے ہیں اور اس سلسلہ میں آگے بڑھ گئے ہیں ان کا اتباع نہ کیجیے ان سے رؤسائے کفار مراد ہیں۔ اور یہ جو فرمایا ہے کہ آپ ایسا نہ کریں کہ دنیاوی زینت کا خیال کرتے ہوئے ان لوگوں سے آپ کی آنکھیں ہٹ جائیں جو صبح شام اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اس میں یہ بتادیا کہ دنیا کی ظاہری زینت کی کوئی حقیقت نہیں ہے اس کے لیے ایمانی تقاضوں کو نہ چھوڑا جائے احتمال تھا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خیال ہوجائے کہ یہ سردار مسلمان ہوجائیں تو اسلام اور اہل اسلام کو قوت حاصل ہوجائے ارشاد فرمایا کہ اسلام کا جمال باطنی یعنی اخلاص اور اطاعت ہی اس کی زینت ہے اور اس کے لیے کافی ہے مخلصین کو مجلس سے ہٹا کر اصحاب دنیا کے ذریعہ حاصل ہونے والی دنیا کو نہ دیکھا جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

35:۔ یہ تیسرا امر متفرع ہے۔ یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلیہ ہے یعنی آپ صبر و استقامت کے ساتھ مسئلہ توحید کی اشاعت کرتے رہیں اور جو لوگ مسئلہ توحید مان چکے اور محض اللہ کی رضا کے طلبگار ہیں صبح و شام حاجات و مشکلات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتے۔ آپ ان کا ساتھ نہ چھوڑیں۔ حاصل یہ کہ آپ اپنے دعوے پر قائم رہیں اور ان لوگوں کے ساتھ مجلس کریں جو محض اللہ کی بندگی کرتے اور صرف اسی کو پکارتے ہیں اور شرک نہیں کرتے۔ ” الذین یدعون ربھم “ میں حصر ہے یعنی وہ صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو نہیں پکارتے۔ یہاں اگرچہ کوئی کلمہ حصر موجود نہیں لیکن مفہوم حصر کے لیے کلمات حصر کا وجود ضروری نہیں جیسا کہ علمائے نحو نے تصریح کی ہے بلکہ بعض دفعہ قرائن اور سیاق وسباق سے بھی حصر کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ چناچہ یہاں حصر پر قرینہ موجود ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے سے مشرکین بھی منکر نہیں تھے بلکہ وہ بھی اپنی حاجات میں اللہ تعالیٰ کو پکارتے تھے مگر وہ اللہ تعالیٰ کی پکار میں اوروں کو بھی شریک کرتے تھے اور صرف صرف ایک اللہ کو نہیں پکارتے تھے۔ اس لیے اس آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان لوگوں کی رفاقت و معیت کا حکم دیا جا رہا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے اور اس کی پکار میں کسی اور کو شریک نہیں کرتے تھے۔ 36:۔ یہ چوتھا امر متفرع ہے۔ ” ترید “ جملہ ” عینک “ کے سے حال ہے۔ والجملۃ علی القراء ۃ المتواترۃ حال من کاف (عینک) وجازت الحال منہ لانہ جزاء المضاف الخ (روح ج 15 ص 263) ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیوی منافع کی خاطر توحید کو ماننے والوں سے آپ اپنی نگاہیں ہرگز نہ پھیریں ” ولا تطع من اغفلنا “ یہ پانچواں امر متفرع ہے۔ اور جن لوگوں کے دل اللہ کی توحید سے خالی اور اس کی یاد سے غافل ہیں اور جو اللہ کی عبادت کے بجائے دنیا کی دولت جمع کرنے میں مشغول ہیں آپ ان کی پیروی نہ کریں۔ ای شغل عن الدین وعبادۃ ربہ بالدنیا (ابن کثیر ج 3 ص 81) ۔ ان آیتوں میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ امت کو تعلیم ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

28 اور اے پیغمبر جو لوگ صبح اور شام اپنے رب کی یاد اور اس کی عبادت محض اس کی خوشنودی اور رضا جوئی کی غرض سے کیا کرتے ہیں ان کی ہم نشینی اور ان کے ساتھ بیٹھنے کے پابند رہئے اور ایسا نہ ہو کہ دنیوی زندگی کی زینت و آرائش کے خیال سے آپ کی آنکھیں اور آپ کی توجہات خصوصی ان مخلصین سے پھرجائیں اور آپ ایسے شخص کا کہنا نہ مانیئے اور اس کی اطاعت نہ کیجیے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش پر چلتا اور نفسانی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا یہ کام حد سے گزر چکا ہے۔ ساتویں پارے میں مفصل بحث گزر چکی ہے واقعہ یہ ہے کہ مکہ کے دولت مند کافر غریب مسلمانوں کے ہمراہ بیٹھ کر قرآن کریم سننا پسند نہ کرتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ قرآن کریم سننے کے لئے ہماری مجلس کا تقرر ان سے علیحدہ کیا جائے اس پر آیت نازل ہوئی کہ غریبوں کی ہم نشینی اختیار کیجیے ار ئوسا اور سرمایہ داروں کی وجہ سے مسلمان غرباء کا ساتھ نہ چھوڑے یہ لوگ صبح و شام یعنی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عبادت محض اس کی خوشنودی کے لئے کرتے ہیں ان کا مقصد صرف اس کی ذات ہے اور جو بھلائی کرتے ہیں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کو راضی کرنے کی غرض سے کرتے ہیں ان کی اور کوئی دنیوی غرض نہیں ہوتے ایسے لوگوں کو نظر انداز نہ فرمائیے اور کفار رئوسا کی دل جوئی کے لئے اپنی خصوصی توجہات سے غریب مسلمانوں کو محروم نہ کیجیے اور آپ ایسے شخص کا مشورہ قبول نہ کیجیے جو اپنی نفسانی خواہش کا تابع ہے اور جس بدنصیب کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے ایسے لوگ ہرگز اس قابل نہیں کہ ان کی خاطر ہے مخلصین کو چھوڑا جائے۔ یہ رئوساء مکہ تو وہ لوگ ہیں جو نفسانی خواہشات کی پیروی میں حد سے گزر چکا ہے اور افراط وتفریط میں ملوث ہیں۔ آیت سے معلوم ہوا کہ نافرمانی اور کفر پر اصرار کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ قلب سے ذکر کی لذت سلب کرلی جاتی ہے بلکہ دل کو یاد الٰہی سے غافل کردیا جاتا ہے اور یہ حالت روحانی مرض کی انتہا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ایک کافر حضرت کو سمجھانے لگا اپنے پاس رذالوں کو نہ بیٹھنے دو کہ سردار تم پاس بیٹھیں رذالا کہا غریب مسلمانوں کو اور سردار دولت مند کافروں کو اسی پر یہ آیت اتری۔ 12