Surat ul Kaahaf

Surah: 18

Verse: 30

سورة الكهف

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا ﴿ۚ۳۰﴾

Indeed, those who have believed and done righteous deeds - indeed, We will not allow to be lost the reward of any who did well in deeds.

یقیناً جو لوگ ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں تو ہم کسی نیک عمل کرنے والے کا ثواب ضائع نہیں کرتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Reward of those Who believe and do Righteous Deeds Allah says, إِنَّ الَّذِينَ امَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لاَ نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلً

سونے کے کنگن اور ریشمی لباس اوپر برے لوگوں کا حال اور انجام بیان فرمایا ، اب نیکوں کا آغاز و انجام بیان ہو رہا ہے ۔ یہ اللہ ، رسول اور کتاب کے ماننے والے نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں ان کے لئے ہمیشہ والی دائمی جنتیں ہیں ، ان کے بالاخانوں کے اور باغات کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں ۔ انہیں زیورات خصوصا سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ان کا لباس وہاں خالص ریشم کا ہو گا ، نرم باریک اور نرم موٹے ریشم کا لباس ہو گا ، یہ باآرام ، شاہانہ شان سے مسندوں پر جو تختوں پر ہوں گے ، تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے ۔ کہا گیا ہے کہ لیٹنے اور چار زانوں بیٹھنے کا نام بھی یہی قول ہیں ار ایک جمع ہے اریکہ کی تخت چھپر کھٹ وغیرہ کو کہتے ہیں ۔ کیا ہی اچھا بدلہ ہے اور کتنی ہی اچھی اور آرام دہ جگہ ہے برخلاف دوزخیوں کے کہ ان کے لیے بری سزا اور بری جگہ ہے ۔ سورہ فرقان میں بھی انہیں دونوں گروہ کا اسی طرح مقابلہ کا بیان ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

30۔ 1 قرآن کے انداز بیان کے مطابق جہنمیوں کے ذکر کے بعد اہل جنت کا تذکرہ ہے تاکہ لوگوں کے اندر جنت حاصل کرنے کا شوق ورغبت پیدا ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۔۔ : ظالمین یعنی کفار کے بعد اہل ایمان اور ان کے اجر کا ذکر فرمایا۔ اس مفہوم کی آیات کہ جو اچھا عمل کرے ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے، کے لیے دیکھیے آل عمران (١٧١، ١٩٥) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا۝ ٣٠ۚ أمن والإِيمان يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ويقال لكلّ واحد من الاعتقاد والقول الصدق والعمل الصالح : إيمان . قال تعالی: وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمانَكُمْ [ البقرة/ 143] أي : صلاتکم، وجعل الحیاء وإماطة الأذى من الإيمان قال تعالی: وَما أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنا وَلَوْ كُنَّا صادِقِينَ [يوسف/ 17] قيل : معناه : بمصدق لنا، إلا أنّ الإيمان هو التصدیق الذي معه أمن، وقوله تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنَ الْكِتابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ [ النساء/ 51] فذلک مذکور علی سبیل الذم لهم، ( ا م ن ) الامن الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلما ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست (2 ۔ 62) میں امنوا کے یہی معنی ہیں اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید ہوۃ کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ اور کبھی ایمان کا لفظ بطور مدح استعمال ہوتا ہے اور اس سے حق کی تصدیق کرکے اس کا فرمانبردار ہوجانا مراد ہوتا ہے اور یہ چیز تصدیق بالقلب اقرار باللسان اور عمل بالجوارح سے حاصل ہوتی ہے اس لئے فرمایا ؛۔ { وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ } ( سورة الحدید 19) اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لائے ہیں روہی صدیق میں یہی وجہ ہے کہ اعتقاد قول صدق اور عمل صالح میں سے ہر ایک کو ایمان کہا گیا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ } ( سورة البقرة 143) ۔ اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یوں ہی کھودے (2 ۔ 143) میں ایمان سے مراد نماز ہے اور (16) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیا اور راستہ سے تکلیف کے دور کرنے کو جزو ایمان قرار دیا ہے اور حدیث جبرائیل میں آنحضرت نے چھ باتوں کو کو اصل ایمان کہا ہے اور آیت کریمہ ؛۔ { وَمَا أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ } ( سورة يوسف 17) اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے (12 ۔ 17) میں مومن بمعنی مصدق ہے ۔ لیکن ایمان اس تصدیق کو کہتے ہیں جس سے اطمینان قلب حاصل ہوجائے اور تردد جاتا رہے اور آیت کریمہ :۔ { أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ } ( سورة النساء 44 - 51) من ان کی مذمت کی ہے کہ وہ ان چیزوں سے امن و اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں جو باعث امن نہیں ہوسکتیں کیونکہ انسان فطری طور پر کبھی بھی باطل پر مطمئن نہیں ہوسکتا ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ ضيع ضَاعَ الشیءُ يَضِيعُ ضَيَاعاً ، وأَضَعْتُهُ وضَيَّعْتُهُ. قال تعالی: لا أُضِيعُ عَمَلَ عامِلٍ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 195] ( ض ی ع ) ضاع ( ض ) الشیئ ضیاعا کے معنی ہیں کسی چیز کا ہلاک اور تلف کرنا ۔ قرآن میں ہے : لا أُضِيعُ عَمَلَ عامِلٍ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 195] اور ( فرمایا ) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا ۔ أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ( ا ج ر ) الاجروالاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دینوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا جر تو خدا کے ذمے ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٠۔ ٣١) البتہ جو حضرات رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے خداوندی کی بجاآوری کی تو جو خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرے ہم ایسے لوگوں کے اجر وثواب کو ضائع نہ کریں گے ایسے حضرات کے لیے رحمن کی طرف سے محلات ہیں کہ ان محلات اور درختوں کے نیچے سے دودھ، شہد، پانی، اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی، ان لوگوں کو جنت میں سونے کے ہار پہنائے جائیں گے اور سبز رنگ کے کپڑے باریک اور موٹے ریشم کے پہنیں گے اور جنت میں مسہریوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جنت کیا ہی اچھا صلہ ہے اور کیا ہی اچھا ٹھکانا ہے یعنی بہترین جگہ ان کے رفقاء یعنی انبیاء اور صالحین کی جگہ ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 31 لانضیع ہم ضائع نہیں کریں گے۔ احسن زیادہ بہترین۔ یحلون پہنائے جائیں گے۔ اساور (سوار) کنگن، کلائی کا زیور۔ ذھب سونا۔ یلبسون وہ پہنیں گے ۔ ثیاب (ثوب) کپڑے۔ خضر سبز رنگ۔ سندس باریک تار والا ریشم۔ اسبترق موٹے تار سے بنا ریشم۔ متکئین تکیہ لگانے والے۔ الارائک (اریکۃ) مسہریاں، تخت ۔ نعم الثواب بہترین بدلہ۔ حسنت نہایت عمدہ۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 31 اس سیپ ہلی آیات میں کفار و مشرکین کے برے اعمال اور برے انجام کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل ایمان اور ان کے بہترین انجام کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کرتے ہیں ان کی ہر نیکی چھوٹی ہو یا بڑی اس کو اللہ ضائع نہیں فرمائیں گے بلکہ اس کی قدر کرتے ہوئے اجر عظیم عطا فرمائیں گے اور انسان کی ہر نیکی اور حسن عمل اللہ کے ہاں پوری طرح محفوظ ہ۔ ایسے نیکو کاروں کو شاہانہ باغات اور حسین ترین محلات عطا کئے جائیں گے۔ ان کا لباس بھی انتہائی خوبصورت اور شاہانہ ہوگا ۔ بادشاہوں کی طرح سونے کے کنگن اور باریک ریشم اور دبیر ریشم کے لباس پہنے ہوئے بڑی شان سے مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ یہ سب کچھ ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کا بہترین انجام ہوگا۔ ۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہ تو اپنے عیش و آرام، خوبصورت باغات، حسین محلات اور بہترین لباس کے لئے طرح طرح کے جتن کرتے ہیں کبھی کبھی تو ظلم و زیادتی یا انسانی کھوپڑیوں پر اپنے محلات تعمیر کرتے ہیں تب جا کر وہ سونے کے کنگن پہن کر فخر کرتے ہیں لیکن یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کو جنت میں ہمیشہ کی راحتیں عطا کی جائیں گی۔ دنیا کی بادشاہتیں اور عیش و آرام تو ایک وقت تک ہیں پھر موت کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہیں لیکن اہل جنت کو جو انعامات دیئے جائیں گے وہ ہمیشہ کے لئے ہوں گے۔ یہ اللہ کی قدرت ہے کہ وہ عارضی طور پر اس دنیا کی راحتیں بھی عطا فرما دے اور بادشاہوں کے تاج و تخت اہل ایمان کے قدموں کی دھول بنا دے۔ چناچہ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاں نثار صحابہ کرام نے جب ایمان اور عمل صالح اختیار کر کے ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں تو قیصر و کسریٰ کے تاج و تخت ان کے قدموں کی دھول بن گئے۔ روایات میں آتا ہے کہ قیصر و کسریٰ کے شاہانہ تاج و تخت ان کے وضو خانہ کے کمروں میں استنجے کے ڈھیلوں کے ساتھ پڑیر ہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان صحابہ کرام کو قیامت میں جنت کی ابدی راحتیں عطا فرمائیں گے جس کا تصور تو اس دنیا میں کرنا مشکل بلکہ ناممکن ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا کیا نعمتیں دی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایمان و صالح کا پیکر بنا کر جنت کی راحتوں کا حق دار بنا دے۔ آمین۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کی سزا کے بعد جنتیوں کے انعام کا ذکر۔ فہم القرآن میں یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوئی ہے کہ قرآن مجید کا اصول ہے کہ وہ نیک لوگوں کے بعد برے لوگوں کا، جنت کے ساتھ جہنم کا اور سزا کے ساتھ نیک لوگوں کے انعام کا ذکر کرتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر جہنم کے عذاب کیساتھ نیک لوگوں کے بہترین اجر، جنت میں ان کے مقام اور اس کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جنتیوں کے لیے ہمیشگی کے باغات ہیں۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جنتیوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہن کر اونچی جگہوں پر تکیہ لگاکر بیٹھا کریں گے۔ کتنا ہی اچھا ان کا صلہ اور آرام گاہیں ہوں گی۔ یاد رہے کہ دنیا میں مرد کے لیے سونا پہننا حرام ہے۔ لیکن جنت میں سونا پہننا اور شراب پینا ان کے لیے جائز ہوگا لیکن شراب میں نشہ نہیں ہوگا۔ (عَنْ أَبِی حَازِمٍ قَالَ کُنْتُ خَلْفَ أَبِی ہُرَیْرَۃ َ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ للصَّلاَۃِ فَکَانَ یَمُدُّ یَدَہُ حَتّٰی تَبْلُغَ إِبْطَہُ فَقُلْتُ لَہُ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ مَا ہَذَا الْوُضُوءُ فَقَالَ یَا بَنِی فَرُّوخَ أَنْتُمْ ہَا ہُنَا لَوْ عَلِمْتُ أَنَّکُمْ ہَا ہُنَا مَا تَوَضَّأْتُ ہَذَا الْوُضُوءَ سَمِعْتُ خَلِیلِی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ تَبْلُغُ الْحِلْیَۃُ مِنَ الْمُؤْمِنِ حَیْثُ یَبْلُغُ الْوَضُوءُ ) [ رواہ مسلم : کتاب الطہارۃ، باب تَبْلُغُ الْحِلْیَۃُ حَیْثُ یَبْلُغُ الْوَضُوءُ ] ” حضرت ابوحازم کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) کے پیچھے تھا اور آپ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا یہاں تک کہ ان کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوگئی (یعنی بازوؤں کو کہنیوں سے آگے تک دھویا۔ یاد رہے یہ حضرت ابوہریرہ (رض) کا اپنا استدلال ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں) میں نے ان سے کہا ابوھریرہ یہ کیسا وضو ہے ؟ ابوہریرہ کہنے لگے اے ابو فروخ ! تم یہاں کھڑے ہو اگر مجھے اس بات کا علم ہو تاتو میں ایسا وضو نہ کرتا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ مومن کو اس کے وضو کے پانی کی جگہ تک زیور پہنایا جائے گا۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یَنْعَمُ لاَ یَبْأَسُ لاَ تَبْلَی ثِیَابُہُ وَلاَ یَفْنَی شَبَابُہُ )[ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأہلہا ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو بندہ جنت میں داخل ہوگا وہ نر م ونازک ہوگا، بدحال نہ ہوگا اور نہ ہی اس کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے اور نہ اس کی جوانی ختم ہوگی۔ “ مسائل ١۔ ایمان دار اور صالح عمل کرنے والوں کے اعمال ضائع نہیں کیے جائیں گے۔ ٢۔ ایمان والوں کے لیے ہمیشگی کے باغات ہوں گے۔ ٣۔ ایمان والوں کو جنت میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ ٤۔ ایمان والوں کو جنت میں سبز رنگ کے ریشم کے کپڑے پہنچائیں جائیں گے۔ ٥۔ جنت بڑی اعلیٰ اور بہترین جگہ ہے۔ ٦۔ جنت میں جنتی ایک دوسرے کے سامنے صوفوں پر ٹیک لگائے تشریف فرما ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں کا مقام اور ان کے انعامات کی ایک جھلک : ١۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : ٣٤) ٣۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : ١٥) ٤۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : ١٧) ٥۔ جنت میں سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : ٣٣) ٦۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمٰن : ٥٢) ٧۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمٰن : ٧٦) ٨۔ جنتیوں کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : ٢١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

39:۔ یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ مشرکین کے شبہات کا مدلل رد کرنے کے بعد منکرین کے لیے تخویف اخروی اور مومنین کے لیے بشارتِ اخروی نازل ہوئی۔ واعلم انہ تعالیٰ لما وصف الکفر والایمان والباطل و الحق اتبعہ بذکر الوعید علی الکفر والاعمال الباطلۃ وبذکر الوعد علی الایمان والعمل الصالح (کبیر ج 5 ص 714) ۔ ” سندس “ باریک ریشم اور ” استبرق “ موٹے ریشم کو کہتے ہیں۔ السندس الرقیق من الدیباج والاستبرق الغلیظ منہ (مفردات ص 227) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

30 اب آگے ایمان لانے والوں کے نفع اور بھلائی کا ذکر ہ ارشاد ہوتا ہے یقینا جو لوگ ایمان لائے اور وہ ایمان کے ساتھ نیک اعمال کے بھی پابند رہے تو ہم ایسے شخص کے اجر وثواب کو ضائع نہیں کیا کرتے جو بھلا کا م کیا کرتا ہے۔