The tafseer of Surat ul Kaahaf, verse 53, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.
وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُم مُّوَاقِعُوهَا ... And the criminals shall see the Fire and apprehend that they are to fall therein. meaning when they see Hell with their own eyes, since it is being dragged forth by seventy thousand reins, each pulled by seventy thousand angels. When, وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ (the criminals shall see the Fire), they will realize that they cannot escape being thrown into it, and that will only intensify their anxiety and distress, because the anticipation and fear of punishment is in itself a real punishment. ... وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا And they will find no way of escape from it. means, they will have no way of fleeing, it will be inevitable.
53۔ 1 جس طرح بعض روایات میں ہے کہ کافر ابھی چالیس سال کی مسافت پر ہوگا کہ یقین کرلے گا کہ جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے (مسند احمد جلد۔ 3، ص 75)
وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ ۔۔ : آگ میں جانے سے پہلے آگ کو دیکھنا اور اس بات کا یقین کہ اب اس میں جائے بغیر کوئی چارہ نہیں، بجائے خود ایک بہت بڑا عذاب ہے۔ مزید دیکھیے شوریٰ (٤٤ تا ٤٧) ۔
وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ مُّوَاقِعُوْہَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْہَا مَصْرِفًا ٥٣ۧ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔ وقع الوُقُوعُ : ثبوتُ الشیءِ وسقوطُهُ. يقال : وَقَعَ الطائرُ وُقُوعاً ، والوَاقِعَةُ لا تقال إلّا في الشّدّة والمکروه، وأكثر ما جاء في القرآن من لفظ «وَقَعَ» جاء في العذاب والشّدائد نحو : إِذا وَقَعَتِ الْواقِعَةُ لَيْسَ لِوَقْعَتِها كاذِبَةٌ [ الواقعة/ 1- 2] ، ( و ق ع ) الوقوع کے معنی کیس چیز کے ثابت ہونے اور نیچے گر نے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ وقع الطیر وقوعا پر ندا نیچے گر پڑا ۔ الواقعۃ اس واقعہ کو کہتے ہیں جس میں سختی ہو اور قرآن پاک میں اس مادہ سے جس قدر مشتقات استعمال ہوئے ہیں وہ زیادہ تر عذاب اور شدائد کے واقع ہونے کے متعلق استعمال ہوئے ہیں چناچہ فرمایا ۔ إِذا وَقَعَتِ الْواقِعَةُ لَيْسَ لِوَقْعَتِها كاذِبَةٌ [ الواقعة/ 1- 2] جب واقع ہونے والی واقع ہوجائے اس کے واقع ہونے میں کچھ جھوٹ نہیں ۔ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے حواس خمسہ میں سے کسی ایک حاسہ کے ساتھ اور اک کرنا جیسے وجدت طعمہ ( حاسہ ذوق ) وجدت سمعہ ( حاسہ سمع ) وجدت خثومتہ حاسہ لمس ) قوی باطنہ کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنا ۔ جیسے وجدت الشبع ( میں نے سیری کو پایا کہ اس کا تعلق قوت شہو یہ کے ساتھ ہے ۔ وجدت الحزن وا لسخط میں نے غصہ یا غم کو پایا اس کا تعلق قوت غضبہ کے ساتھ ہے ۔ اور بذریعہ عقل کے کسی چیز کو پالیتا جیسے اللہ تعالیٰ یا نبوت کی معرفت کہ اسے بھی وجدان کہا جاتا ہے ۔ جب وجود پالینا ) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کے معنی محض کسی چیز کا علم حاصل کرلینا کے ہوتے ہیں کیونکہ ذات باری تعالیٰ جوارح اور آلات کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل کرنے سے منزہ اور پاک ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں اکثروں کو ( دیکھا تو ) بد عہد دیکھا ۔ صرف الصَّرْفُ : ردّ الشیء من حالة إلى حالة، أو إبداله بغیره، يقال : صَرَفْتُهُ فَانْصَرَفَ. قال تعالی: ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] ، ( ص ر ف ) الصرف کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا یا کسی اور چیز سے بدل دینا ۔ محاور ہ ہے ۔ صرفتہ فانصرف میں نے اسے پھیر دیا چناچہ وہ پھر گیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] پھر خدا نے تم کو ان کے مقابلے سے پھیر کر بھگادیا ۔
(٥٣) اور مشرکین دوزخ کو دیکھیں گے اور یقین کرلیں گے کہ ضرور ہم اس میں داخل ہوں گے اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔
ف 7 کیونکہ اس کی آگ نے انہیں ہر طرف سے گھیر رکھا ہوگا۔
ورا المجرمون النار فظنوا انھم مواقعوھا ولم یحدوا عنھا مصرفاً (٨١ : ٣٥) ” مجرم اس روز آگ دیکھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اب ہمیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لئے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔ “ …… ان کے لئے اس سے رہائی کا راستہ تو تھا۔ اے کاش کہ وہ اس سے قبل دنیا میں اپنے دلوں کو قرآن کی طرف پھیرتے اور قرآن جس سچائی کو لے کر آیا تھا اس کے مقابلے میں نہ اتر آتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں اثمال کے ذریعے بات کو بار بار پھیر کر سمجھانے کی کوشش کی تھی اور ہر حال ان کو سمجھایا تھا۔
57:۔ جب مشرکین اپنے سفارشیوں سے ناامید ہوجائیں گے تو اب ان کے سامنے جہنم کی آگ ہوگی جسے دیکھتے ہی انہیں یقین ہوجائے گا کہ وہ اس میں گر کر رہیں گے اور اب آگ سے بچ نکلنے کی کوئی سبیل نہیں۔
53 اور گنہگار جہنم کی آگ کو دیکھیں گے تو اس وقت اس امر کا یقین کریں گے کہ وہ مجرم اس آگ میں گرنیوالے ہیں اور وہ اس آگ سے بچنے اور پلٹ آنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے یعنی جب مشاہدہ ہوجائے گا تو یقین آجائے گا لیکن اس وقت یقین بیکار ہوگا۔