Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 207

سورة البقرة

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡرِیۡ نَفۡسَہُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ رَءُوۡفٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿۲۰۷﴾

And of the people is he who sells himself, seeking means to the approval of Allah . And Allah is kind to [His] servants.

اور بعض لوگ وہ بھی ہیں کہ اللہ تعالٰی کی رضامندی کی طلب میں اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّهِ ... And of mankind is he who would sell himself, seeking the pleasure of Allah. Ibn Abbas, Anas, Sa`id bin Musayyib, Abu Uthman An-Nahdi, Ikrimah and several other scholars said that; this Ayah was revealed about Suhayb bin Sinan Ar-Rumi. When Suhayb became a Muslim in Makkah and intended to migrate (to Al-Madinah), the people (Quraysh) prevented him from migrating with his money. They said that if he forfeits his property, he is free to migrate. He abandoned his money and preferred to migrate, and Allah revealed this Ayah about him. Umar bin Khattab and several other Companions met Suhayb close to the outskirts of Al-Madinah at Al-Harrah (flat lands with black stones). They said to him, "The trade has indeed been successful." He answered them, "You too, may Allah never allow your trade to fail. What is the matter?" Umar told him that Allah has revealed this Ayah (2:207) about him. It was also reported that Allah's Messenger said, "The trade has been successful, O Suhayb!" The meaning of the Ayah (2:207) includes every Mujahid in the way of Allah. Allah said in another Ayah: إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُوْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَلَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الّجَنَّةَ يُقَـتِلُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالاِنجِيلِ وَالْقُرْءانِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَيْعِكُمُ الَّذِى بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ Verily, Allah has purchased of the believers their lives and their properties for (the price) that theirs shall be the Paradise. They fight in Allah's cause, so they kill (others) and are killed. It is a promise in truth which is binding on Him in the Tawrah and the Injil and the Qur'an. And who is truer to his covenant than Allah Then rejoice in the bargain which you have concluded. That is the supreme success. (9:111) When Hisham bin Amr penetrated the lines of the enemy, some people criticized him. Umar bin Al-Khattab and Abu Hurayrah refuted them and recited this Ayah: وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّهِ وَاللّهُ رَوُوفٌ بِالْعِبَادِ And of mankind is he who would sell himself, seeking the pleasure of Allah. And Allah is full of kindness to (His) servants.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

207۔ 1 یہ آیت کہتے ہیں حضرت صہیب (رض) رومی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جب وہ ہجرت کرنے لگے تو کافروں نے کہا یہ مال سب یہاں کا کمایا ہوا ہے اسے ہم ساتھ نہیں لے جانے دیں گے حضرت صہیب (رض) نے یہ سارا مال ان کے حوالے کردیا اور دین لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سن کر فرمایا صہیب نے نفع بخش تجارت کی دو مرتبہ فرمایا (فتح القدیر) لیکن یہ آیت بھی عام ہے جو تمام مومنین متقین اور دنیا کے مقابلے دین کو اور آخرت کو ترجیح دینے والوں کو شامل ہے کیونکہ اس قسم کی تمام آیات کے بارے میں لفظ عموم کا اعتبار ہوگا سبب نزول کے خصوص کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ پس اخنس بن شریق (جس کا ذکر پچھلی آیت میں ہوا) برے کردار کا ایک نمونہ ہے جو ہر اس شخص پر صادق آئے گا جو اس جیسے برے کردار کا حامل ہوگا اور صہیب (رض) خیر اور کمال ایمان کی ایک مثال ہیں ہر اس شخص کے لیے جو ان صفات خیر و کمال سے متصف ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٧٥] یعنی انسانوں میں کچھ اس قسم کے لوگ بھی موجود ہیں جو اللہ کی راہ میں اپنا جان و مال سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔ چناچہ صہیب بن سنان رومی (رض) اپنا وطن ترک کر کے ہجرت کی غرض سے مدینہ آ رہے تھے کہ راستہ میں مشرکوں نے پکڑ لیا اور انہیں اسلام سے برگشتہ ہونے پر مجبور کیا۔ صہیب (رض) کہنے لگے کہ میں اپنا گھر اور اپنا سارا مال تمہیں اس شرط پر دینے کو تیار ہوں کہ تم میری راہ نہ روکو اور مجھے مدینہ جانے دو ۔ انہوں نے اس شرط پر آپ کو چھوڑ دیا اور صہیب رومی (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ گئے۔ ایسے ہی مخلص مومنوں کی تعریف میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ( الرحیق المختوم ٢٤٦) ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت صہیب (رض) ، حضرت بلال (رض) اور سلمان (رض) کے متعلق حضرت ابوبکر (رض) سے فرمایا تھا۔ && اگر تم نے ان کو ناراض کردیا تو اپنے رب کو ناراض کردیا۔ && (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فضائل سلمان )

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اوپر اس شخص کا بیان ہوا ہے جو طلب دنیا کی خاطر دین و ایمان کو بیچ ڈالتا ہے، اب اس آیت میں اس شخص کا بیان ہے جو اللہ کی رضا کے حصول کے لیے مال ہی نہیں جان تک قربان کردیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ ) [ التوبۃ : ١١١ ] ” بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں۔ “ اس آیت کے اولین مصداق مہاجر صحابہ ہیں، جنھوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں اور اپنی جائدادیں مکہ میں چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور انصار صحابہ، جنھوں نے اپنے جان و مال سے ان کی مدد کی۔ ” بِالْعِبَادِ “ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ” ان بندوں “ ترجمہ کیا گیا ہے۔ بعض روایات میں اس آیت کا سبب نزول صہیب (رض) کو قرار دیا گیا ہے، جو قریش کے روکنے پر سارا مال ان کے حوالے کر کے ہجرت کر گئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سب صحابہ کا یہی حال تھا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَہُ ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللہِ۝ ٠ ۭ وَاللہُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۝ ٢٠٧ شری الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت بمعنی اشْتَرَيْتُ أكثر، قال اللہ تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، أي : باعوه، ( ش ر ی ) شراء اور بیع دونوں لازم ملزوم ہیں ۔ کیونکہ مشتری کے معنی قیمت دے کر اس کے بدلے میں کوئی چیز لینے والے کے ہیں ۔ اور بائع اسے کہتے ہیں جو چیز دے کہ قیمت لے اور یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب ایک طرف سے نقدی اور دوسری طرف سے سامان ہو لیکن جب خریدو فروخت جنس کے عوض جنس ہو ۔ تو دونوں میں سے ہر ایک کو بائع اور مشتری تصور کرسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بیع اور شراء کے الفاظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں اور عام طور پر شربت بمعنی بعت اور ابتعت بمعنی اشتریت آتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اس کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا ۔ وأمّا الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ( ب غ ی ) البغی الا بتغاء یہ خاص کر کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش بھی محمود ہوگی ( ورنہ مذموم ) چناچہ فرمایا : ۔ { ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ } ( سورة الإسراء 28) اپنے پروردگار کی رحمت ( یعنی فراخ دستی ) کے انتظار میں ۔ وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] بلکہ اپنے خدا وندی اعلیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے ۔ رضي يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا لأمره، ومنتهيا عن نهيه، قال اللہ تعالی: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] ، وقال تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، وقال تعالی: وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] ، وقال تعالی: أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] ، وقال تعالی: يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] ، وقال عزّ وجلّ : وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] ، والرِّضْوَانُ : الرّضا الکثير، ولمّا کان أعظم الرِّضَا رضا اللہ تعالیٰ خصّ لفظ الرّضوان في القرآن بما کان من اللہ تعالی: قال عزّ وجلّ : وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] ، وقال تعالی: يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] ، وقال : يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ، وقوله تعالی: إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، أي : أظهر كلّ واحد منهم الرّضا بصاحبه ورَضِيَهُ. ( ر ض و ) رضی ( س ) رضا فھو مرضی و مرضو ۔ راضی ہونا ۔ واضح رہے کہ بندے کا اللہ تعالیٰ سے راضی ہونا یہ ہے کہ جو کچھ قضائے الہیٰ سے اس پر وارد ہو وہ اسے خوشی سے بر داشت کرے اور اللہ تعالیٰ کے بندے پر راضی ہونے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اسے اپنے اوامر کا بجا لانے والا اور منہیات سے رکنے والا پائے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اللہ تعالیٰ سے خوش ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] تو اللہ تعالیٰ ضرور ان مسلمانوں سے خوش ہوتا ہے وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] اور ہم نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا : ۔ أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] کیا آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر قناعت کر بیٹھے ہو ۔ يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] اپنی زبانی باتوں سے تو تم کو رضا مند کردیتے ہیں اور ان کے دل ہیں کہ ان باتوں سے انکار کرتے ہیں ۔ وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] اور آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ ( بھی ) تم ان کو دوگے وہ ( لے کر سب ) راضی ہوجائیں گی ۔ الرضوان رضائے کثیر یعنی نہایت خوشنودی کو کہتے ہیں ۔ چونکہ سب سے بڑی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے اس لئے قرآن پاک میں خاص کر رضا الہی ٰ کے لئے رضوان کا لفظ استعما ل ہوا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا : ۔ وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] اور ( لذت ) دنیا کا چھوڑ بیٹھنا جس کو انہوں نے از خود ایجاد کیا تھا ہم نے وہ طریق ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر ( ہاں ) انہوں نے اس کو خدا ( ہی ) کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایجاد کیا تھا ۔ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] اور خدا کے فضل اور خوشنودی کی طلب گاری میں لگے رہتے ہیں ۔ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ان کا پروردگار ان کو اپنی مہربانی اور رضامندی کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔۔ : إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، جب جائز طور پر آپس میں وہ راضی ہوجائیں ۔ میں تراضوا باب تفاعل سے ہے جس کے معنی باہم اظہار رضامندی کے ہیں ، رأف الرَّأْفَةُ : الرّحمة، وقد رَؤُفَ فهو رَئِفٌ ورُؤُوفٌ ، نحو يقظ، وحذر، قال تعالی: لا تَأْخُذْكُمْ بِهِما رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ [ النور/ 2] . ( ر ء ف ) الرافتہ یہ رؤف ( ک ) سے ہے اور اس کے معنی شفقت اور رحمت کے ہیں صفت کا صیغہ رؤوف اور رئف مثل حزر وبقظ آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لا تَأْخُذْكُمْ بِهِما رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ [ النور/ 2] اور اللہ کے حکم ( کی تعمیل ) میں تم کو ان ( کے حال ) پر ( کسی طرح کا ) ترس دامن گیر نہ ہو ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٠٧) اور بعض حضرات اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لیے اپنی جان کو اپنے مال کے بدلے خریدتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ صہیب بن سنان (رض) اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے ان حضرات نے اپنی جانوں کو اپنے مال کے بدلے مکہ والوں سے خریدا تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت ہی مہربانی فرمانی فرمانے والا ہے یہ آیت کریمہ حضرت عمار بن یاسر (رض) اور حضرت سمیہ (رض) کے والدین کے بارے میں نازل ہوئی، ان حضرات کو مشرکین مکہ نے شہید کردیا تھا۔ شان نزول : (آیت) ” ومن الناس من یشری “۔ (الخ) حارث بن ابی امام (رح) نے اپنی مسند میں اور ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت صہیب (رض) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کرکے روانہ ہوئے تو قریش کی ایک جماعت نے ان کا پچھا کیا، حضرت صہیب (رض) اپنی سواری سے اتر گئے، اور ان کے ترکش میں جو تیر تھے وہ سب نکال لیے اور فرمایا اے قریش کی جماعت تمہیں معلوم ہے کہ میں تم سب زیادہ تیر انداز ہوں اور اللہ کی قسم تم لوگ میرے قریب اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ میں اپنے تمام تیر تمہیں نہ مار دوں اور اس کے بعد جتنی میرے ہاتھ میں طاقت باقی رہے گی اپنی تلوار سے تم سے جہاد کروں گا۔ اب جو تمہاری مرضی ہو کرو اور تم چاہو تو میں تمہیں اپنا وہ مال بتا دیتا ہوں جو مکہ میں ہے اور تم میرا پیچھا چھوڑ دو ۔ قریش اس پر رضا مند ہوگئے، جب حضرت صہیب (رض) مدینہ منورہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابویحیی تمہاری تجارت سود مند رہی، ابویحیٰ تمہاری تجارت کامیاب ہوگئی اور یہ آیات نازل ہوئیں، (آیت) ” ومن الناس من یشری “ (الخ) اور امام حاکم (رح) نے اپنی مستدرک میں اسی طرح ابن مسیب عن صہیب (رض) کے ذریعہ سے موصولا روایت کیا ہے اور امام حاکم (رح) نے بھی اسی طرح عکرمہ (رض) کے مراسیل سے روایت کیا ہے۔ اور امام حاکم (رح) ہی نے بواسطہ حماد بن سلمہ ثابت (رح) ، حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے اور اس میں آیت کے نازل ہونے کی وضاحت موجود ہے اور امام حاکم (رح) نے فرمایا ہے یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ اور ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت صہیب (رض) ابوداؤد (رض) ، جندب بن ابی السکن کے بارے میں اتری ہے (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح ) تفسیر سورة بقرۃ آیات (٢٠٨) تا (٢١٢)

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠٧ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآءَ مَرْضَات اللّٰہِ ط) قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ کرداروں کا فوری تقابل (simultaneous contrast) کرتا ہے۔ چناچہ ایک ناپسندیدہ کردار کے ذکر کے فوراً بعد پسندیدہ کردار کا ذکر کیا گیا کہ لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو اپنے آپ کو اللہ کی رضا جوئی کے لیے َ تج دیتے ہیں اور اپنا تن من دھن قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ (اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (وَاللّٰہُ رَءُ وْفٌم بالْعِبَادِ ) ۔ جس شخص نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنا سب کچھ تج دینے کا ارادہ کرلیا ہو ‘ نیت کرلی ہو ‘ اس سے بھی کبھی کوئی کوتاہی ہوسکتی ہے ‘ کبھی جذبات میں آکر کوئی غلط قدم اٹھ سکتا ہے۔ اپنے ایسے بندوں کو اللہ تعالیٰ بڑی شفقت اور مہربانی کے ساتھ معاف فرمائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

137: یہ ان صحابہ کرام کا ذکر ہے جنہوں نے اپنی جانیں اسلام کے مقاصد کے لیے کھپا رکھی تھیں۔ ایسے کئی صحابہ کے واقعات مفسرین نے ذکر کیے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

ابو یحییٰ صہیب (رض) ایک صحابی تھے آنحضرت کی ہجرت فرمانے کے بعد انہوں نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا اور مکہ سے باہر نکل مشرکوں نے خبر پاکر ان کے روکنے کا قصد کیا اور راستے میں آکر ان کو روکا انہوں نے روکنے والوں کو مخاطب ٹھہرا کر کہا تمہیں معلوم ہے کہ مکہ کے لوگوں میں میں نامی تیر انداز ہوں میں تمہارے قابو کا نہیں ہوں بہتر ہے کہ تم میرا پیچھا نہ کرو اور جو کچھ میرا مال ہے وہ میں نے تم کو دیا۔ جاؤ وہ مال لے لو مشرکین مال لے کر مکہ کو چلے آئے اور حضرت عمر (رض) اور چند صحابہ نے اس آیت کو یاد کر کے سرحد مدینہ پر ہی حضرت صہیب (رض) کو جا ملے اور ان سے کہا وہ خوب نفع کی تجارت کی انہوں نے کہا اللہ تمہیں دین دنیا کا نفع دے بتاؤ تو سہی کیا بات ہے مجھ کو کون سے تجارت میں نفع ہوا جب حضرت عمر (رض) اور اور اصحاب نے ان کو اس آیت کے نازل ہونے کا حال تفصیل وار بتایا بعض مفسرین کا قول ہے کہ شہداء رجیع بلکہ عام مجاہدین کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:207) یشری۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ شری مصدر (باب ضرب) وہ فروخت کرتا ہے وہ اطاعت الٰہیہ کے لئے وقف کردیتا ہے شراء اور بیع دونوں لازم ملزوم ہیں کیونکہ مشتری کے معنی قیمت دے کر اس کے بدلے میں کوئی چیز لینے والے ہیں۔ اور بائع اسے کہتے ہیں جو چیز دے کر قیمت لے۔ اور یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب ایک طرف سے نقدی اور دوسری طرف سے سامان ہو۔ لیکن جب خریدو فروخت جنس کے عوض جنس ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کو بائع اور مشتری تصور کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیع و شراء کے الفاظ ایک دوسرے کہ جگہ استعمال ہوتے ہیں اور عام طور پر شریت بمعنی بعت اور ابتعت بمعنی اشتریت آتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے وشروہ بثمن بخس (12:20) اور انہوں نے اس کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا۔ اور اشتروا الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ (2:86) جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ آیت ہذا میں یشرون بمعنی فروخت کردینا ہے۔ ترجمہ ہوگا۔ اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنی جان تک اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بیچ ڈالتا ہے۔ رءوف۔ رء ف یرء ف (کرم) رأفۃ مصدر سے۔ بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے مہربان۔ شفقت کرنے والا۔ امام خطابی رأفت اور رحمت میں فرق تحریر فرماتے ہیں کہ : ” رحمت تو کسی مصلحت کی بناء پر کبھی ناپسندیدگی میں بھی ہوتی ہے۔ لیکن رأفت ناپسندیدگی میں تقریباً نہیں ہوتی۔ نفسہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنی جان کو۔ ابتغائ۔ چاہتا۔ تلاش کرنا، بروزن افتعال ۔ مصدر ہے۔ ابتغاء سخت کوشی کے لئے مخصوص ہے اگر اچھے مقصد کے لئے ہو تو محمود ہے ورنہ مذموم۔ مرضات۔ مرضاۃ۔ مصدر میمی واسم مصدر۔ پسند کرنا۔ رضا مند ہونا۔ پسندیدگی۔ خوشنودی، رضا مندی (باب سمع) مرضات اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی رضا مندی۔ اللہ کو خوشنودی۔ ابتغاء مرضات اللہ۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 اوپر کی آیات میں اس شخص کا بیان ہوا ہے جو طلب دنیا کی خاطر دین و ایمان کو بیچ ڈالتا ہے۔ اب اس آتی میں اس شخص کا بیان ہے جو طلب دین کے لیے دنیا کو قربان کردیتا ہے۔ ( رازی) یہ آیت صہبیب عمار بلال اور دیگر صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کو کفار نے سخت سزائیں دیں مگر وہ اسلام و ایمان پر ثابت قدم رہے، حضرت صہیب (رض) کے متعلق مروی ہے کہ جب وہ ہجرت کرنے لگے تو مشرکین نے کہا کہ تم اپنا مال لے کر نہیں جاسکتے چناچہ وہ سارا مال ومتاع چھوڑ کر مدینہ چلے آئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صہیب (رض) کو سودے میں نفع ہوا ہے۔ (ابن کثیر۔ رازی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ تو ہے ایک قسم کے لوگوں کی تصویر ۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔ دوسرا بھی بھی دیکھئے ۔ اس دنیا میں کچھ اچھے لوگ بھی تو ہیں ۔ ذرا ان نفوس قدسیہ پر بھی نظر ڈالیں ۔ ان کے مقابلے میں وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ ” دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے۔ “ لفظ یشری کا مفہوم وسیع ہے یعنی فروخت کردینا اپنی جان کو ، پوری جان کو ، پوری کی پوری حوالہ کردیتا ہے ۔ اپنے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑتا ، لیکن اس سودے میں قیمت کیا وصول کرتا ہے ؟ صرف رضائے الٰہی کی امید ۔ اب اس کا نفس اس کا اپنا نہیں رہا ہے ۔ نہ نفس کے بعد اس کے لئے کچھ رہ گیا ہے ، بےدھڑک اس نے سب کچھ بیچ ڈالا ۔ بےخطر سب کچھ دے دیا اور لیا بھی کچھ نہیں ۔ تمام پونجی ، تمام وجود بیچ ڈالا ، اللہ کو دے دیا ۔ غیر اللہ کے لئے نفس کا کوئی حصہ بچا کر نہ رکھا گیا۔ ایک تعبیر یہ بھی ہوسکتی ہے : اس نے اپنے نفس کو بیچا نہیں ، بلکہ خریدا ہے ۔ اس کا نفس اغراض دنیا وی کا غلام تھا ۔ اس نے اسے خرید لیا ۔ خرید کر آزاد کردیا ۔ آزاد کرکے اللہ تعالیٰ خالص اللہ کا کردیا۔ اب اس نفس کے ساتھ کسی کا کوئی حق وابستہ نہیں ہے ۔ صرف اللہ کا حق ہے ۔ مالک کا حق ہے ۔ یہ شخص دنیا کی تمام اغراض ، تمام مقاصد کو قربان کردیتا ہے اور اپنے نفس کو قابض کرکے اللہ کے لئے کردیتا ہے ۔ بعض روایات میں ان آیات کے نزول کا موقعہ بھی بیان کیا گیا ہے ۔ ابن کثیر نے لکھا ہے :” ابن عباس (رض) ، انس (رض) ، سعید بن مسیب (رح) ، ابوعثمان نہدی (رح) ، عکرمہ (رح) اور ایک پوری جماعت صحابہ وتابعین کا کہنا ہے : یہ آیت صہیب بن سنان رومی (رض) کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ یہ مکہ مکرمہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے ہجرت کی تیاری کرنے لگے ۔ لوگوں نے کہا کہ تم اپنی دولت کے ساتھ نہیں جاسکتے ۔ اگر جانا ہی چاہتے ہو تو دولت یہاں چھوڑ دو اور انہوں نے ان کی شرائط کے مطابق جان چھڑائی ۔ تمام دولت ان کے حوالے کردی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان کے حق میں نازل فرمائی۔ حضرت عمر (رض) اور آپ کے بعض دوسرے رفقاء کی ملاقات ان سے حرہ کے گرد ونواح میں ہوئی ۔ انہوں نے اس سے کہا : سودا نفع بخش ہے ۔ “ انہوں نے کہا :” اچھا آپ لوگ ہیں ! اللہ آپ کی تجارت میں کبھی خسارہ نہ کرے ۔ معاملہ کیا ہے ؟ “ انہوں نے انہیں پورا قصہ سنایا اور اطلاع دی کہ تمہارے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا :” صہیب نے اس سودے میں بہت ہی نفع کمایا ہے۔ “ ابن مردویہ (رح) نے محمد بن ابراہیم (رح) ، محمد بن عبداللہ (رح) ، سلیمان بن داؤد ، جعفر بن ابی سلیمان ضبی ، عوف (رح) ، اور ابوعثمان نہدی (رح) کے واسطوں سے حضرت صہیب (رض) سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں :” جب میں نے مکہ مکرمہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو مجھے اہل قریش نے کہا صہیب ! جب تم آئے تھے تو تمہارے پاس ایک کوڑی نہ تھی ، اب تم جاتے ہو تو مال کے ساتھ ۔ یہ نہ ہوسکے گا ۔ میں نے ان سے کہا : اگر میں اپنی دولت تمہارے لئے چھوڑ دوں تو کیا تم مجھے جانے دوگے ؟ انہوں نے کہا :” بڑی خوشی سے ۔ “ میں نے اپنی دولت ان کے حوالے کردی انہوں نے مجھے چھوڑ دیا ۔ میں نکل پڑا ۔ مدینہ پہنچا ۔ اس ماجرا کی اطلاع رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پائی تو آپ نے فرمایا :” صہیب خوب کمایا صہیب خوب کمایا۔ “ دو مرتبہ آپ نے فرمایا۔ چاہے آیت اس واقعے میں نازل ہوئی ہو یا اس واقعے پر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ نے اسے منطبق پایا۔ لیکن اس کا مفہوم ایک حادثہ ایک فرد کے مقابلے میں بہت ہی وسیع ہے ۔ یہ تو ایک نفس کی نفسیاتی کییفیت کی ایک تصویر ہے ۔ اس میں لوگوں کی ایک قسم کے خدوخال بتائے گئے ہیں ۔ اس کی مثالیں جگہ جگہ ملتی ہیں ، دیکھی جاسکتی ہیں ۔ یہ دو فیچر ہیں ، دو تصاویر ہیں ، پہلی تصویر ہر شخص پر منطبق ہوتی ہے جس میں دورنگی ہو ، نمائش ہو ۔ چرب زبان ہو ، سنگ دل ہو ، شریف النفس ہو ، سخت جھگڑالو ہو اور اس کی فطرت فاسدہ ہوچکی ہو ........ دوسری تصویر ہر اس شخص کی ہے جو مومن ہو۔ خالص الایمان ہو ، اللہ کے لئے یکسو ہو ، اس نے اغراض دنیا کو خیر باد کہہ دیا ہو ۔ یہ دونوں انسانوں کے دومعروف نمونے ہیں ۔ تخلیق قلم سے ان کی یہ عجیب معجزانہ تصاویر ہیں ۔ لوگوں کے سامنے ان دونوں تصاویر کی نمائش ہورہی ہے ۔ لوگ ایک طرف قرآن کے اعجاز بیان پر غور کرتے ہیں اور دوسری طرف اس پر حیران ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس اعجاز سے انسانوں میں فرق کیا ہے۔ ایک ہی انسان ہے مگر مومن اور وہی انسان ہے ، مگر منافق ۔ ایک ہی شکل مگر ذائقہ جدا ........ لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ میٹھی میٹھی باتوں سے دھوکہ نہ کھاؤ، محض چرب زبانی کی وجہ سے کسی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرلو ، میٹھی میٹھی ذائقہ دار باتوں کے پیچھے حقیقت بھی تلاش کرو۔ نیز الفاظ اور بناوٹی لفاظی ، خوش ذائقہ ریاکاری کے پس منظر میں معنی بھی دیکھو اور ساتھ ہی ساتھ بتادیا کہ ایمانی قدریں کیا ہیں ؟ دو تصاویر آئل پینٹنگ (Oil Painting) کی دو چادریں ، ایک بدکار منافقت کا نمونہ اور دوسری خالص ایمان کا نمونہ ۔ ان کو سامنے رکھ کر ، ان کے سائے میں رک کر ، تحریک اسلامی کو پکارا جاتا ہے۔ اہل ایمان کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ اس نام سے جو ان کا جانا پہچانا ہے ایمان والو ! پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ ! شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو ! ہوشیار ہوجاؤ ! اس بین خطاب کے بعد بھی کہیں پائے خیال پھسل نہ پڑے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ کی رضا کے لیے جان و مال خرچ کرنے والوں کی فضیلت حلیتہ الاولیاء ص ١٠١ ج ١ میں حضرت سعید بن المسیب سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت صہیب رومی (رض) مدینہ منورہ ہجرت کرنے کی نیت سے (مکہ معظمہ سے) نکلے تو قریش کے چند افراد ان کے پیچھے لگ گئے تاکہ ان کو واپس کریں۔ حضرت صہیب رومی (رض) اپنی سواری سے اترے اور اپنے ترکش سے تیر نکالے اور ان سے کہا کہ اے قریش کے لوگو ! تمہیں معلوم ہے کہ میں تم سے بڑھ کر تیر انداز ہوں اور خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم مجھ تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ میں اپنے سارے تیر تمہاری طرف نہ پھینک دوں جو میرے ترکش میں بھرے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد میں اپنی تلوار سے لڑوں گا جب تک میرے ہاتھ میں سکت رہے گی۔ اب تم جو چاہو کرلو، اور ایک صورت یہ ہے کہ میرا مال اور میرے کپڑے جہاں مکہ میں رکھے ہیں میں تمہیں ان کا پتہ بتادیتا ہوں تم ان کو لے لو اور میرا راستہ چھوڑ دو ، وہ کہنے لگے ہاں یہ ٹھیک ہے ہم اس پر راضی ہیں وہ لوگ تو ادھر چلے گئے اور حضرت صہیب (رض) سفر قطع کر کے مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ربح البیع ابا یحی ربح البیع ابا یحییٰ (اے ابو یحییٰ یہ بیع نفع والی ہے، اے ابو یحییٰ یہ بیع نفع والی ہے (جس کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑی سی دنیا خرچ کرکے جو اپنی جان اور دین کو بچا لے یہ نفع کا سودا ہے۔ (ابو یحییٰ حضرت صہیب کی کنیت ہے) ان کے پہنچنے سے پہلے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو واقعہ کی خبر دیدی تھی۔ مستدرک حاکم ص ٣٩٨ ج ٣ میں بھی تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ یہ قصہ مذکور ہے اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ آیت شریفہ (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآءَ مَرْضَات اللّٰہِ ) حضرت صہیب (رض) کے مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے ہی نازل ہوگئی تھی۔ جب وہ مدینہ منورہ پہنچے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے ابو یحییٰ نفع کا سودا ہوا اور آپ نے انہیں آیت بالا پڑھ کر سنائی۔ تفسیر ابن کثیر ص ٢٤٧ ج ١ میں ہے کہ حضرت صہیب (رض) نے بیان فرمایا کہ جب میں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو قریش نے کہا کہ اے صہیب (رض) تم یہاں آئے تھے تو تمہارے پاس کچھ بھی مال نہ تھا اور اب تم یہاں کا کمایا ہوا مال اپنے ساتھ لے جا رہے ہو۔ اللہ کی قسم ایسا نہ ہوگا۔ میں نے ان سے کہا کہ تم مناسب جانو تو میں تمہیں اپنا مال دیدوں اور تم مجھے چھوڑ دو ۔ وہ اس پر راضی ہوگئے اور میں ان کو اپنا مال دے دیا اور مدینہ منورہ پہنچ گیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو واقعہ کی خبر مل چکی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (رَبِحَ صُھَیْبٌ رَبِحَ صُھَیْبٌ) (صہیب نے نفع کا سودا کیا۔ صہیب نے نفع کا سودا کیا) بعض مفسرین نے یشری کا ترجمہ یبیع سے کیا ہے یعنی بعض آدمی ایسے ہیں کہ اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لیے اپنے نفس کو بیچ دیتے ہیں۔ مفسر ابن کثیر ص ٢٤٧ ج ١ میں لکھتے ہیں کہ اکثر حضرات نے آیت کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ ہر ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے، قرآن کی آیت (اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ ) (الایۃ) سے واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کی جانوں اور مالوں کو جنت کے عوض خرید لیا۔ اس اعتبار سے مجاہدین اپنے جان و مال کو فروخت کرنے والے ہوگئے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں ص ٢٢ ج ٢ ...... کہ حضرت صہیب کے قصے میں جو یہ وارد ہوا ہے کہ وہ مشرکین مکہ سے قتال کے لیے تیار ہوگئے اس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے نفس کو بیچ دیا، اس اعتبار سے ان کے قصہ کو سامنے رکھ کر بھی یشری کا ترجمہ یبیع (بیچتا ہے) کیا جاسکتا ہے۔ درحقیقت آیت کا جو شان نزول ہے (یعنی حضرت صہیب (رض) کا واقعہ) اس کو سامنے رکھتے ہوئے بھی آیت کا عموم ہر اس شخص کو شامل ہے جو بھی اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال خرچ کرے اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان پر کھیل جائے، معالم التنزیل ص ١٨٣ ج ٢ میں ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اس کا مصداق ایسے شخص کو بتایا جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وجہ سے قتل کردیا جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

ٖ 395 یہ دوسری ترغیب ہے۔ یشری شراء سے ہے جس کے معنی یہاں بیچنے کے ہیں اور اس سے جہاد میں جان دینا مراد ہے۔ ابتغاء یشری کا مفعول لہ ہے۔ ای یبیعھا ببذلہا فی الجھاد (روح ص 96 ج 2) یعنی منافقین کے مقابلہ میں کچھ ایسے مخلص اور جان نثار لوگ بھی ہیں جو محض اللہ کی رضا کے لیے جہاد میں اپنی جانیں قربان کردیتے ہیں۔ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَاد۔ عباد سے مرادمؤمنین ہیں۔ مؤمنین پر اللہ تعالیٰ خاص طور پر مہربان ہے کہ انہیں بلند درجات حاصل کرنے کے لیے اپنی راہ میں پیاری جانیں دینے کی راہ دکھائی اور اپنی رضا مندی کے حصول کے طریقے انہیں بتائے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 اور لوگوں میں سے بعض آدمی ایسا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور اس کی رضا مندی تلاش کرنے کی غرض سے اپنی جان تک فروخت کر ڈالتا ہے اور اپنی جان بھی صرف کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے بندوں پر بڑی مہربانی اور بڑی شفقت فرماتا ہے۔ (تیسیر) اس آیت کا تعلق بظاہر حضرت صہیب بن سنان رومی سے معلوم ہوتا ہے یہ صہیب وہی مشہور صحابی ہیں جو موصل کے علاقے کے رہنے والے تھے رومیوں نے ایک زمانہ میں موصل پر حملہ کیا تو ان کے بزرگوں کو گرفتار کرکے روم میں لے گئے یہ صہیب وہیں بڑھے پلے اس لئے اس کو رومی کہتے ہیں اگرچہ عراقی عرب ہیں یہ مکہ میں آکر مسلمان ہوئے تھے بڑی عمر کے آدمی تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ تشریف لے گئے تو یہ بھی ایک دن چھپ کر ہجرت کی غرض سے نکلے کفار مکہ نے ان کو راہ میں گھیر لیا تو انہوں نے للکار کر کہا سن لو ! میں پہلے تو تمہاری تیروں سے خبر لوں گا اور جب تیر ختم ہوجائیں گے تو تلوار سے مقابلہ کروں گا اگر تم کو مقابلہ منظور ہو تو مقابلہ کرلو اور اگر مال چاہتے ہو تو مکہ میں میرا مال دفن ہے میں تم کو بتادیتا ہوں تم جا کر وہ مال نکال لو اور مجھ کو مدینہ جانے دو ۔ کفار دفینہ حاصل کرنے پر رضا مند ہوگئے اور ان کا پیچھا چھوڑ دیا اور انہوں نے تمام مال جہاں دفن کر رکھا تھا وہ ان کو بتادیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ربع البیع لبا یحییٰ یعنی ابا یحییٰ کی بیع نفع آور ہوئی اور صہیب کی تجارت سود مند ہوئی صہیب کی کنیت ابو یحییٰ ہے جب یہ مدینہ پہونچے تو حضر ت عمر (رض) کی سرپرستی میں صحابہ کرام (رض) کی ایک جماعت نے ان کا خیر مقدم کیا اور ان کو مبارک باد دی۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلے میں قتل کیا جائے کسی نے کہا مجاہد فی سبیل اللہ کے بارے میں ہے بہرحال ہر وہ مخلص مسلمان جو اللہ کی راہ میں تکلیف اٹھائے اور دین کی خدمت میں ایذا دیاجائے اس آیت سے مراد لیا جاسکتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ حال صاحب ایمان کا کہ اللہ کی رضا پر اپنی جان دیوے۔ موضح القرآن بہرحال آیت کا شان نزول اگرچہ کسی مخصوص منافق اور مخلص مسلمان کے لئے ہو۔ لیکن آیت اپنے مفہوم میں عام ہے اب آگے عام مسلمانوں کو خطاب ہے اور اسلام میں پوری طرح داخل ہونے کی تاکید ہے۔ (تسہیل)