Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 216

سورة البقرة

کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ وَ ہُوَ کُرۡہٌ لَّکُمۡ ۚ وَ عَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ عَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیۡئًا وَّ ہُوَ شَرٌّ لَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۱۶﴾٪  10

Fighting has been enjoined upon you while it is hateful to you. But perhaps you hate a thing and it is good for you; and perhaps you love a thing and it is bad for you. And Allah Knows, while you know not.

تم پر جہاد فرض کیا گیا گو وہ تمہیں دشوار معلوم ہو ، ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو بری جانو اور دراصل وہی تمہارے لئے بھلی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو اچھی سمجھو ، حالانکہ وہ تمہارے لئے بری ہو حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ، تم محض بے خبر ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Jihad is made Obligatory Allah says; كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ ... Fighting is ordained for you (Muslims), In this Ayah, Allah made it obligatory for the Muslims to fight in Jihad against the evil of the enemy who transgress against Islam. Az-Zuhri said, "Jihad is required from every person, whether he actually joins the fighting or remains behind. Whoever remains behind is required to give support, if support is warranted; to provide aid, if aid is needed; and to march forth, if he is commanded to do so. If he is not needed, then he remains behind." It is reported in the Sahih: مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِالْغَزْوِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّــة Whoever dies but neither fought (i.e., in Allah's cause), nor sincerely considered fighting, will die a death of Jahiliyyah (pre-Islamic era of ignorance). On the day of Al-Fath (when he conquered Makkah), the Prophet said: لاَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا There is no Hijrah (migration from Makkah to Al-Madinah) after the victory, but only Jihad and good intention. If you were required to march forth, then march forth. Allah's statement: ... وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ... ...though you dislike it, means, `Fighting is difficult and heavy on your hearts.' Indeed, fighting is as the Ayah describes it, as it includes being killed, wounded, striving against the enemies and enduring the hardship of travel. Allah then said: ... وَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْيًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ... ...and it may be that you dislike a thing which is good for you, meaning, fighting is followed by victory, dominance over the enemy, taking over their lands, money and offspring. Allah continues: ... وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَيْيًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ... ...and that you like a thing which is bad for you. This Ayah is general in meaning. Hence, one might covet something, yet in reality it is not good or beneficial for him, such as refraining from joining the Jihad, for it might lead to the enemy taking over the land and the government. Then, Allah said: ... وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ Allah knows, but you do not know. meaning, He has better knowledge than you of how things will turn out to be in the end, and of what benefits you in this earthly life and the Hereafter. Hence, obey Him and adhere to His commands, so that you may acquire the true guidance.

جہاد بقائے ملت کا بنیادی اصول دشمنان اسلام سے دین اسلام کے بچاؤ کے لئے جہاد کی فرضیت کا اس آیت میں حکم ہو رہا ہے زہری فرماتے ہیں جہاد ہر شخص پر فرض ہے ، خواہ لڑائی میں نکلے خواہ بیٹھا رہے سب کا فرض ہے کہ جب ان سے مدد طلب کی جائے تو وہ امداد کریں جب ان سے فریاد کی جائے یہ فریاد رسی کریں جب انہیں میدان میں بلایا جائے یہ نکل کھڑے ہوں صحیح حدیث شریف میں ہے جو شخص مر جائے اور اس نے نہ تو جہاد کیا ہو نہ اپنے دل میں جہاد کی بات چیت کی ہو وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور حدیث میں ہے ، فتح مکہ کے بعد ہجرت تو نہیں رہی لیکن جہاد اور نیت موجود ہے اور جب تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو نکل کھڑے ہو یہ حکم آپ نے مکہ کی فتح کے دن فرمایا تھا ۔ پھر فرمایا ہے حکم جہاد گو تم پر بھاری پڑے گا اور اس میں تمہیں مشقت اور تکلیف نظر آئے گی ممکن ہے قتل بھی کئے جاؤ ممکن ہے زخمی ہو جاؤ پھر سفر کی تکلیف دشمنوں کی یورش کا مقابلہ ہو لیکن سمجھو تو ممکن ہے تم برا جانو اور ہو تمہارے لئے اچھا کیونکہ اسی سے تمہارا غلبہ اور دشمن کی پامالی ہے ان کے مال ان کے ملک بلکہ ان کے بال بچے تک بھی تمہارے قدموں میں گر پڑیں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو اپنے لئے اچھا جانو اور وہ ہی تمہارے لئے برا ہو عموما ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک چیز کو چاہتا ہے لیکن فی الواقع نہ اس میں مصلحت ہوتی ہے نہ خیروبرکت اسی طرح گو تم جہاد نہ کرنے میں اچھائی سمجھو دراصل وہ تمہارے لئے زبردست برائی ہے کیونکہ اس سے دشمن تم پر غالب آجائے گا اور دنیا میں قدم ٹکانے کو بھی تمہیں جگہ نہ ملے گی ، تمام کاموں کے انجام کا علم محض پروردگار عالم ہی کو ہے وہ جانتا ہے کہ کونسا کام تمہارے لئے انجام کے لحاظ سے اچھا ہے اور کونسا برا ہے ، وہ اسی کام کا حکم دیتا ہے جس میں تمہارے لئے دونوں جہان کی بہتری ہو تم اس کے احکام دل وجان سے قبول کر لیا کرو اور اس کے ہر ہر حکم کو کشادہ پیشانی سے مان لیا کرو اسی میں تمہاری بھلائی اور عمدگی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

216۔ 1 جہاد کے حکم کی ایک مثال دے کر اہل ایمان کو سمجھایا جا رہا ہے کہ اللہ کے ہر حکم پر عمل کرو چاہے تمہیں وہ گراں اور ناگوار ہی لگے اس لئے کہ اس کے انجام اور نتیجے کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے تم نہیں جانتے ہوسکتا ہے اس میں تمہارے لئے بہتری ہو جیسے جہاد کے نتیجے میں تمہیں فتح اور غلبہ، عزت اور سر بلندی اور مال و اسباب مل سکتا ہے اسی طرح تم جس کو پسند کرو (یعنی جہاد کے بجائے گھر میں بیٹھے رہنا) اس کا نتیجہ تمہارے لئے خطرناک ہوسکتا ہے یعنی دشمن تم پر غالب آجائے اور تمہیں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٨٥] مکی دور میں بعض جوشیلے مسلمان جہاد کی اجازت مانگتے رہے مگر انہیں جہاد کی بجائے صبر کی تلقین کی جاتی رہی اور یہاں مدینہ میں آ کر جب اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی اور جہاد فرض کیا گیا تو بعض مسلمانوں نے اسے دشوار سمجھا۔ کیونکہ ہر معاشرہ میں تمام آدمی ایک ہی جیسے نہیں ہوتے، بعض جوشیلے، دلیر اور جوان بہت ہوتے ہیں تو بعض بوڑھے کمزور اور کم ہمت بھی ہوتے ہیں۔ یہ خطاب اسی دوسری قسم کے لوگوں سے ہے اور انہیں سمجھایا جا رہا ہے کہ جو چیز تمہیں بری معلوم ہوتی ہے، ہوسکتا ہے وہ فی الحقیقت بری نہ ہو، بلکہ تمہارے حق میں بہت مفید ہو اور اس کے برعکس بھی معاملہ ہوسکتا ہے اور بالخصوص یہ بات جہاد کے سلسلہ میں اس لیے کہی گئی کہ قتال سے ہر انسان کی طبیعت طبعاً نفرت کرتی ہے کیونکہ زندگی سے پیار ہر جاندار کی فطرت میں طبعاً داخل ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جہاد میں جان و مال کا نقصان ہوگا۔ حالانکہ یہی جہاد کسی قوم کی روح رواں ہوتی ہے۔ شہید کی موت قوم کی حیات ہے۔ اسی لیے کتاب و سنت میں جہاد کو بہت افضل عمل قرار دیا گیا ہے اور بعض لوگ تو اسے اس قدر اہمیت دیتے ہیں کہ جہاد کو فرض کفایہ کی بجائے فرض عین سمجھنے لگے ہیں اور اسے اسلام کا چھٹا رکن سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کا انداز فکر درست نہیں۔ جہاد افضل الاعمال ہونے کے باوجود نہ فرض عین ہے اور نہ اسلام کا چھٹا رکن (تفصیل کے لیے دیکھئے سورة نساء کی آیت نمبر ٩٦ اور سورة توبہ کی آیت نمبر ٩٢ کے حواشی)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

كُرْهٌ“ یہ مصدر بمعنی ” کَرَاہِیَۃٌ“ ہے۔ مصدر کو اسم مفعول ” مَکْرُوْہٌ“ کی جگہ مبالغہ کے لیے لایا گیا ہے، جیسا کہ ” زَیْدٌ عَدْلٌ“ ” زید سراپا عدل ہے۔ “ تو یہاں ” كُرْهٌ“ کا معنی ہوگا ” سراسر ناپسند ہے۔ “ ” كُتِب “ یہ وہی ” كُتِب “ ہے جو اس سے پہلے قصاص، وصیت اور صیام کے لیے آیا ہے۔ پچھلی آیت میں مال خرچ کرنے کی ترغیب کے بعد اب جان خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔ ” الْقِتَالُ “ سے ہر لڑائی مراد نہیں، بلکہ عہد کا الف لام ہونے کی وجہ سے خاص یعنی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے لڑائی ہے۔ ابن کثیر (رض) نے فرمایا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے کہ وہ جہاد کریں اور دشمنوں سے اسلام کا دفاع کریں۔ امام زہری نے فرمایا، جہاد ہر ایک پر واجب ہے، خواہ لڑائی میں نکلے یا بیٹھا رہے، بیٹھنے والوں پر لازم ہے کہ جب ان سے مدد طلب کی جائے تو وہ امداد کریں، جب ان سے فریاد کی جائے، فریاد کو پہنچیں، جب انھیں میدان میں بلایا جائے نکل کھڑے ہوں۔ (ابن کثیر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو شخص اس حال میں مرجائے کہ اس نے نہ جنگ کی اور نہ اپنے نفس کے ساتھ جنگ کی بات کی، تو وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرے گا۔ “ [ مسلم، الإمارۃ، باب ذم من مات ۔۔ : ١٩١٠، عن أبی ہریرۃ (رض) ] جہاد یعنی اللہ کا دین غالب کرنے کے لیے اپنی آخری کوشش کرتے رہنا تو ہر مسلمان پر فرض ہے، لیکن نفیر یعنی لڑائی کے لیے نکلنا ہر وقت ہر مسلمان پر فرض نہیں۔ (دیکھیے توبہ (١٢٢) البتہ تمام علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ تین مواقع پر قتال آدمی پر فرض عین ہوجاتا ہے : 1 جب امام کسی خاص شخص کو یا تمام مسلمانوں کو نکلنے کا حکم دے دے، الایہ کہ امام کسی کو مستثنیٰ کر دے، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبوک میں سب کو نکلنے کا حکم دیا مگر علی (رض) کو پیچھے رہنے کا حکم دیا۔ (مسلم : ٣١؍٢٤٠٤) اس کی دلیل سورة توبہ کی آیات (٣٨، ٣٩) ہیں۔ 2 جب کفار مسلمانوں کی کسی آبادی پر حملہ کردیں تو اس کے رہنے والوں پر اس کا دفاع واجب ہے۔ (دیکھیے بقرہ : ١٩١) اس حد تک کہ اگر ان کے پاس کافی اسلحہ نہ بھی ہو تو پتھروں، اینٹوں، لکڑیوں غرض جو کچھ بھی ملے اس کے ذریعے سے لڑنا فرض ہے۔ اگر دانتوں سے کاٹ کھانے کے سوا کچھ نہ ملے تو دانتوں سے کاٹ کر اپنا دفاع واجب ہے۔ اگر اس آبادی والے دفاع نہ کرسکیں یا سستی کریں تو قریب والی آبادی، پھر اس کے بعد والی پر، حتیٰ کہ تمام دنیا کے اہل اسلام پر لڑنا فرض ہوجاتا ہے، کیونکہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ 3 جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہو تو ثابت قدم رہنا واجب ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ ) [ الأنفال : ١٥ ] ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، ایک لشکر کی صورت میں ملو تو ان سے پیٹھیں نہ پھیرو۔ “ حافظ ابن حجر نے فرمایا : ” جب کسی شخص پر لڑائی فرض عین ہوجائے تو ” فَلاَ إِِذْنَ “ یعنی اس وقت والدین یا کسی اور سے اجازت کی کوئی ضرورت نہیں۔ “ [ فتح الباری، الجہاد والسیر، باب الجہاد بإذن الأبوین ] اس بات پر بھی علماء کا اتفاق ہے کہ اپنے دفاع کی خاطر لڑنے کے لیے کوئی بھی شرط لازم نہیں، نہ امیر کا حکم، نہ والدین کی اجازت اور نہ کوئی اور شرط، جیسا کہ ابو بصیر (رض) کا واقعہ اس کی واضح دلیل ہے۔ وَھُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ یعنی وہ تمہیں سراسر ناپسند ہے، کیونکہ اس میں زخمی ہونے، اعضاء کٹنے اور جان جانے کا سامنا ہوتا ہے، جب کہ ہر آدمی فطری طور پر زندہ رہنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں مال کا خرچ، اہل و عیال اور وطن سے جدائی، سفری صعوبتیں، کھانے پینے اور نیند کی بےترتیبی، غرض بیشمار مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ) قرطبی (رض) نے فرمایا : ” معنی یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ تم جہاد میں جو مشقت ہے اسے ناپسند کرو، حالانکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے، اس لیے کہ تم غالب رہو گے، فتح یاب ہو گے، غنیمت حاصل کرو گے اور اجر پاؤ گے اور تم میں سے جو فوت ہوگا وہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ تم آرام طلبی اور لڑائی ترک کرنے کو پسند کرو، حالانکہ یہ چیز تمہارے لیے بہت بری ہے، کیونکہ تم مغلوب ہوجاؤ گے اور تمہاری حکومت ختم ہوجائے گی۔ “ قرطبی (رض) مزید فرماتے ہیں : ” اللہ کا یہ فرمان بالکل صحیح ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں، جیسا کہ اندلس میں پیش آیا، انھوں نے جہاد ترک کیا، لڑائی سے بزدلی اختیار کی اور کثرت سے فرار اختیار کیا تو دشمن تمام شہروں پر قابض ہوگیا۔ شہر بھی کیسے کیسے اور کیا کیا اسیری ؟ قتل، بچوں اور عورتوں کی غلامی اور عزتوں کی بربادی۔ ( إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ) یہ سب ہمارے اپنے ہاتھوں کا کیا کمایا ہے۔ “ (قرطبی) قرطبی کے کئی سو سال پہلے لکھے ہوئے یہ الفاظ آج بھی حقیقت ہیں، جن سے دل درد و غم سے بھرجاتا ہے، اس وقت اندلس سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دیا گیا تھا، اب مسلمانوں کی آرام طلبی اور ترک جہاد نے کفار کو عراق، افغانستان پر قبضے کا اور باقی تمام مسلمان ممالک میں اپنے احکام چلانے کا موقع دیا ہے اور ہند اور اندلس کی طرح مسلمانوں کا وجود ختم کرنے کے در پے ہیں۔ اب آرام طلبی اور ترک جہاد کا کون سا موقع ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ قتال کی کڑوی دوا کے سوا مسلمانوں کی شفا کی کوئی صورت نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Explanation in brief: Verse 216 establishes the obligatory nature of Jihad even though it may be burdensome for some temperaments. In this case, the truth is that it is Allah Almighty who knows the reality of everything while man does not possess the full range of that knowledge. Therefore, one should not decide on things being good or bad as prompted by personal desires, rather, one must say yes to the command of Allah and follow it consistently as the most expedient course of action. Verse 217 begins with a question which was asked by some disbelievers from the tribe of Quraysh. It has been reported that some Companions (رض) of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) were by chance confronted by disbelievers while on a journey. During the engagement, one disbeliever got killed at their hands. The day this happened was the first of the month of Rajab which, according to the calculation of the Companions (رض) ، was the 30th of the Jumada al-Ukhirah جماد الآخرہ . It may be noted that Rajab is one of the &sacred& months. So, the disbelievers taunted Muslims by saying that they did not even honour the sanctity of the &sacred& month. The Muslims were worried and asked the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about it. According to some narrations, as stated above, some disbelievers themselves came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and raised the question as a matter of objection. The answer given is that &fighting in a sacred month, is something grave& (but, Muslims did not do so intentionally, instead, this came to pass inadvertently because of a misunderstanding about the date). Moreover, what the disbelievers have committed is graver than this, because the disbelief, the placing of idols in the Holy Mosque and the expelling of Muslims from there is a greater evil than killing a disbeliever in a state of war. Injunctions and related considerations 1. The injunction declaring Jihad as obligatory appears in the first of the three verses under comment in the words: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ |"Fighting is enjoined upon you...|" which means that &Jihad. has been made obligatory on you&. These words apparently seem to say that Jihad is obligatory on every Muslim in every condition. Some other verses of the Qur&an and the sayings of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، however, have clarified that this obligation is not absolute, that is, every Muslim is not charged to perform it as Fard ` Ayn فرضِ عین ، (absolute and mandatory obligation on every Muslim) instead, it is Fard ` ala al-Kifayah فرض علی الکفایہ whereby, should a group of Muslims come forward to discharge this obligation, other Muslims would be considered absolved from it. However, should there remain just no group ready to discharge the obligation of Jihad at any time or in any country, the result will be that all Muslims will fall into the sin of abandoning an obligation. The saying of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the hadith: الجھاد ماض الی یوم القیامہ means that it is necessary that there be, right upto the Day of Doom, a group of Muslims which keeps discharging the obligation of Jihad. Another verse of the Holy Qur&an says: فَضَّلَ اللَّـهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَ‌جَةً And Allah has given precedence to mujahidin, who carry out jihad with their properties and lives, over those who sit away, and Allah has promised good for both. (4:95) Here, the promise of good has been extended to those also who may not be able to take part in Jihad because of some compulsive excuse or because of engagement in some other religious service. It is obvious that the promise of good would have never been made for those who are absent from Jihad, in the event that it were an absolute obligation on every individual Muslim. Similarly, this is what appears in another فَلَوْلَا نَفَرَ‌ مِن كُلِّ فِرْ‌قَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ Why could a small group from every large community of yours not come forward so that they pursue understanding in relig¬ion? (9:122) Here, the Holy Qur&an itself suggests a division of work whereby some Muslims carry out Jihad and some keep serving the cause of religious education. This can be done only when Jihad is Fard ` alit al-Kifayah فرض علی الکفایہ and not Fard ` Ayn فرضِ عین . In a hadith appearing in al-Bukhari and Muslim, it is said that a person sought the permission of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to take part in Jihad. He asked him: &Are your parents alive?& He said, &Yes, they are alive.& He said: &Then, go. Serve your parents and earn the reward of Jihad&. Incidentally, this also tells that Jihad is a Fard ` ala al Kifayah فرض علی الکفایہ . When a group from among the Muslims is staunchly discharging the obligation of Jihad, remaining Muslims can engage themselves in other services and duties. But, should there come a time when the &Imam& or the leader of Muslims gives a general call under the compulsion of need and invites all Muslims to take part in Jihad, then, Jihad becomes an absolute obligation on everybody. In Surah al-Taubah, the Holy Qur&an says: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُ‌وا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ اثَّاقَلْتُمْ O those who believe, what has happened to you that, when you are asked to come out in the way of Allah, you become heavy? (9:38) This verse carries the injunction relating to the general call of Jihad mentioned above. In the same way, should it be that disbelievers, God forbid, invade an Islamic country and the group engaged in defence is not fully capable of it, being weak or insufficient in number, then, at that time as well, this obligation becomes &contagious&, passing on from that first group to all Muslims close by, as an equally effective obligation. And in case, they too are weak or incapable, the obligation will pass on to Muslims close to them. This situation may reach a point when Jihad becomes an absolute obligation on each and every individual Muslim all over the world. It is in view of these verses from the Holy Qur&an that the majority of Muslim jurists and scholars of hadith have set up the rule that Jihad is Fard ala al-Kifdyah فرض علی الکفایہ under normal conditions. 2. Therefore, as far as Jihad remains a Fard Kifayah, it is not permissible for the off-spring to go for Jihad without the permission of their parents. 3. It is not correct for one who has a debt to pay to take part in this Fard Kifayah فرض علی الکفایہ until such time that he clears his debt off. But, should there come a time when, either due to a general call for Jihad or an aggressive encirclement of Muslims by the disbelievers, Jihad becomes Fard ` Ayn فرضِ عین ، an absolute obligation on all, then, no condition such as that of the permission of parents or of the husband or of the creditor remains operative. Towards the end of this verse, it is as a mode of persuasion that Jihad has been identified as something which may, temperamentally, appear &hard& but one must remember that human intelligence and effort fails so many times when it comes to the outcome. It is not at all surprising that the most intelligent person around may take the beneficial to be harmful and vice versa. If everyone was to look back into the events of his or her life, it will be noticed right there that there was something they were going after as beneficial turned out ultimately to be very harmful, or there was something they were avoiding as harmful which later on proved to be very beneficial. This scenario of human reasoning and planning failing time and again is a matter of repeated experience, therefore, it was said that fighting in the way of Allah may obviously appear to be a loss of life and property, yet the time will come when realities will be unveiled and we shall find out that this loss was no loss, instead, it was the ultimate in gain, and a source of eternal peace.

خلاصہ تفسیر : تیرہواں حکم فرضیت جہاد : جہاد کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے اور وہ تم کو (طبعا) گراں (معلوم ہوتا) ہے اور یہ بات ممکن ہے کہ تم کسی بات کو گراں سمجھو اور (واقع میں) وہ تمہارے حق میں خیر (اور مصلحت) ہو اور یہ (بھی) ممکن ہے کہ تم کسی امر کو مرغوب سمجھو اور (واقع میں) وہ تمہارے حق میں (باعث) خرابی کا ہو اور (ہر شے کی حقیقت حال کو) اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم (پورا پورا) نہیں جانتے (اچھے برے کا فیصلہ اپنی خواہش کی بنیاد نہ کرو جو کچھ اللہ کا حکم ہوجائے اسی کو اجمالا مصلحت سمجھ کر اس پر کار بند رہا کرو) چودہواں حکم تحقیق قتال در شہر حرام : (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند صحابہ کرام (رض) اجمعین کا ایک سفر میں اتفاق سے کفار کے ساتھ مقابلہ ہوگیا ایک کافر ان کے ہاتھ سے مارا گیا اور جس روز یہ قصہ ہوا رجب کی پہلی تاریخ تھی مگر صحابہ کرام اس کو جمادی الاخریٰ کی تیس سمجھتے تھے اور رجب اشہر حرم میں سے ہے کفار نے اس واقعہ پر طعن کیا کہ مسلمانوں نے شہر حرام کی حرمت کا بھی خیال نہیں کیا مسلمانوں کو اس کی فکر ہوئی اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا اور بعض روایات میں ہے کہ خود بعض کفار قریش نے بھی حاضر ہو کر اعتراضا سوال کیا اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے ) ۔ لوگ آپ سے شہر حرام میں قتال کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ اس میں خاص طور) یعنی عمدا) قتال کرنا جرم عظیم ہے (مگر مسلمانوں سے یہ فعل بالقصد صادر نہیں ہوا بلکہ تاریخ کی تحقیق نہ ہونے کے سبب غلطی سے ایسا ہوگیا یہ تو تحقیقی جواب ہے) اور (الزامی جواب یہ ہے کہ کفار و مشرکین کا تو کسی طرح منہ ہی نہیں مسلمانوں پر اعتراض کرنے کا، کیونکہ اگرچہ شہر حرام میں لڑنا جرم عظیم لیکن ان کفار کی جو حرکتیں ہیں یعنی) اللہ تعالیٰ کی راہ (دین) سے (لوگوں کو) روک ٹوک کرنا (یعنی مسلمان ہونے پر تکلیفیں پہنچانا کہ ڈر کے مارے لوگ مسلمان نہ ہوں) اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی کعبہ) کے ساتھ کفر کرنا (کہ وہاں بہت سے بت رکھ چھوڑے تھے اور بجائے خدا کی عبادت کے ان کی عبادت اور طواف کرتے تھے) اور جو لوگ مسجد حرام کے اہل تھے (یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے مؤ منین) ان کو (تنگ اور پریشان کرکے) اس (مسجد حرام) سے خارج (ہونے پر مجبور) کردینا (جس سے نوبت ہجرت یعنی ترک وطن کی پہنچی سو یہ حرکتیں شہر حرام میں قتال کرنے سے بھی زیادہ) جرم عظیم ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک (کیونکہ یہ حرکتیں دین حق کے اندر فتنہ پردازی کرنا) اور (ایسی) فتنہ پردازی کرنا (اس) قتل (خاص) سے (جو مسلمانوں سے صادر ہوا) بدرجہا (قباحت میں) بڑھ کر ہے (کیونکہ اس قتل سے دین حق کو تو کوئی مضرت نہیں پہنچی بہت سے بہت اگر کوئی جان کر کرے خود ہی گنہگار ہوگا اور ان حرکتوں سے تو دین حق کو ضرر پہنچتا ہے کہ اس کی ترقی رکتی ہے) اور یہ کفار تمہارے ساتھ ہمیشہ جنگ (وجدال کا سلسلہ جاری ہی) رکھیں گے اس غرض سے کہ اگر (خدا نہ کرے) قابو پاویں تو تم کو تمہارے دین (اسلام) سے پھیر دیں (ان کے اس فعل سے دین کی مزاحمت ظاہر ہے) انجام ارتداد : اور جو شخص تم میں سے اپنے دین (اسلام) سے پھر جاوے پھر کافر ہی ہونے کی حالت میں مرجاوے تو ایسے لوگوں کے (نیک) اعمال دنیا اور آخرت میں سب غارت ہوجاتے ہیں (اور) یہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ شہر حرام میں قتال کرنے کے بارے میں مسلمانوں کو جواب مذکور سن کر گناہ نہ ہونے کا تو اطمینان ہوگیا تھا مگر اس خیال سے دل شکستہ تھے کہ ثواب تو ہوا ہی نہ ہوگا آگے اس میں تسلی کی گئی۔ وعدہ ثواب پر اخلاص نیت : حقیقۃ جو لوگ ایمان لائے ہوں اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا ہو اور جہاد کیا ہو ایسے لوگ تو رحمت خداوندی کے امیدوار ہوا کرتے ہیں (اور تم لوگوں میں یہ صفات علی سبیل منع الخلو موجود ہیں، چناچہ ایمان اور ہجرت تو ظاہر ہے رہا اس جہاد خاص میں شبہ ہوسکتا ہے، سو چونکہ تمہاری نیت تو جہاد ہی کی تھی لہذا ہمارے نزدیک وہ بھی جہاد ہی میں شمار ہے پھر ان صفات کے ہوتے ہوئے تم کیوں ناامید ہوتے ہو) اور اللہ تعالیٰ (اس غلطی کو) معاف کردیں گے (اور ایمان و جہاد و ہجرت کی وجہ سے تم پر) رحمت کریں گے۔ معارف و مسائل : بعض احکام جہاد : مسئلہ : مذکور الصدر آیات میں سے پہلی آیت میں جہاد کے فرض ہونے کا حکم ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَال یعنی تم پر جہاد فرض کیا گیا ان الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاد ہر مسلمان پر ہر حالت میں فرض ہے، بعض آیات قرآنی اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فریضہ فرض عین کے طور پر ہر ہر مسلم پر عائد نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت اس فرض کو ادا کردے تو باقی مسلمان سبکدوش سمجھے جائیں گے ہاں کسی زمانہ یا کسی ملک میں کوئی جماعت بھی فریضہ جہاد ادا کرنے والی نہ رہے تو سب مسلمان ترک فرض کے گنہگار ہوجائیں گے، حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد الجہاد ماض الیٰ یوم القیامۃ کا یہ مطلب ہے کہ قیامت تک ایسی جماعت کا موجود رہنا ضروری ہے جو فریضہ جہاد ادا کرتی رہے قرآن مجید کی دوسری آیت میں ارشاد ہے : فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِيْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ عَلَي الْقٰعِدِيْنَ دَرَجَةً ۭ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰي (٩٥: ٤) یعنی اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو تارکین جہاد پر فضیلت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے دونوں سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے، اس میں ایسے لوگوں سے جو کسی عذر کے سبب یا کسی دوسری دینی خدمت میں مشغول ہونے کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہوں ان سے بھی بھلائی کا وعدہ مذکور ہے ظاہر ہے کہ اگر جہاد ہر فرد مسلم پر فرض عین ہوتا تو اس کے چھوڑنے والوں سے وعدہ حسنیٰ یعنی بھلائی کا وعدہ ہونے کی صورت نہ تھی۔ اسی طرح ایک دوسری آیت میں ہے : فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــةٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ (١٢٢: ٩) اور کیوں نہ نکل کھڑی ہوئی تمہاری ہر بڑی جماعت میں سے چھوٹی جماعت اس کام کے لئے کہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں۔ اس میں خود قرآن کریم نے یہ تقسیم عمل پیش فرمائی کہ کچھ مسلمان جہاد کا کام کریں اور کچھ تعلیم دین میں مشغول رہیں اور یہ جبھی ہوسکتا ہے جبکہ جہاد فرض عین نہ ہو بلکہ فرض کفایہ ہو۔ نیز صحیح بخاری ومسلم کی حدیث ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شرکت جہاد کی اجازت چاہی تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں زندہ ہیں آپ نے فرمایا کہ پھر جاؤ ماں باپ کی خدمت کرکے جہاد کا ثواب حاصل کرو اس سے بھی یہ معلوم ہوا کہ جہاد فرض کفایہ ہے جب مسلمانوں کی ایک جماعت فریضہ جہاد کو قائم کئے ہوئے ہو تو باقی مسلمان دوسری خدمتوں اور کاموں میں لگ سکتے ہیں ہاں اگر کسی وقت امام المسلمین ضرورت سمجھ کر نفیر عام کا حکم دے اور سب مسلمانوں کو شرکت جہاد کی دعوت دے تو پھر جہاد سب پر فرض عین ہوجاتا ہے قرآن کریم نے سورة توبہ میں ارشاد فرمایا : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ (٣٨: ٩) اے مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم بوجھل بن جاتے ہو۔ اس آیت میں اسی نفیر عام کا حکم مذکور ہے اسی طرح اگر خدانخواستہ کسی وقت کفار کسی اسلامی ملک پر حملہ آور ہوں اور مدافعت کرنے والی جماعت ان کی مدافعت پر پوری طرح قادر اور کافی نہ ہو تو اس وقت بھی یہ فریضہ اس جماعت سے متعدی ہو کر پاس والے سب مسلمانوں پر عائد ہوجاتا ہے اور اگر وہ بھی عاجز ہوں تو ان کے پاس والے مسلمانوں پر، یہاں تک کہ پوری دنیا کے ہر ہر فرد مسلم پر ایسے وقت جہاد فرض عین ہوجاتا ہے قرآن مجید کی مذکورہ بالا تمام آیات کے مطالعہ سے جمہور فقہا ومحدثین نے یہ حکم دیا ہے کہ عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہے۔ مسئلہ : اسی لئے جب تک جہاد فرض کفایہ ہو اولاد کو بغیر ماں باپ کی اجازت کے جہاد میں جانا جائز نہیں۔ مسئلہ : جس شخص کے ذمہ کسی کا قرض ہو اس کے لئے جب تک قرض ادا نہ کردے اس فرض کفایہ میں حصہ لینا درست نہیں ہاں اگر کسی وقت نفیر عام کے سبب یا کفار کے نرغہ کے باعث جہاد سب پر فرض عین ہوجائے تو اس وقت نہ والدین کی اجازت شرط ہے نہ شوہر کی اور نہ قرض خواہ کی اس آیت کے آخر میں جہاد کی ترغیب کے لئے ارشاد فرمایا ہے کہ جہاد اگرچہ طبعی طور پر تمہیں بھاری معلوم ہو لیکن خوب یاد رکھو کہ انسانی بصیرت ودانشمندی اور تدبیر و محنت عواقب و نتائج کے بارے میں بکثرت فیل ہوتی ہے کسی مفید کو مضر یا مضر کو مفید سمجھ لینا بڑے سے بڑے ہوشیار عقلمند سے بھی مستبعد نہیں ہر انسان اگر اپنی عمر میں پیش آنے والے وقائع پر نظر ڈالے تو اپنی ہی زندگی میں اس کو بہت سے واقعات ایسے نظر پڑیں گے کہ وہ کسی چیز کو نہایت مفید سمجھ کر حاصل کر رہے تھے اور انجام کار یہ معلوم ہوا کہ وہ انتہائی مضر تھی یا کسی چیز کو نہایت مضر سمجھ کر اس سے اجتناب کر رہے تھے، اور انجام کار یہ معلوم ہوا کہ وہ نہایت مفید تھی، انسانی عقل و تدبیر کی رسوائی اس معاملہ میں بکثرت مشاہدہ میں آتی رہتی ہے۔ خویش را دیدم و رسوائی خویش اس لئے فرمایا کہ جہاد و قتال میں اگرچہ بظاہر مال اور جان کا نقصان نظر آتا ہے لیکن جب حقائق سامنے آئیں گے تو کھلے گا کہ یہ نقصان ہرگز نقصان نہ تھا بلکہ سراسر نفع اور دائمی راحت کا سامان تھا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَكُرْہٌ لَّكُمْ۝ ٠ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَخَيْرٌ لَّكُمْ۝ ٠ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَشَرٌّ لَّكُمْ۝ ٠ ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۝ ٢١٦ ۧ كتب ( فرض) ويعبّر عن الإثبات والتّقدیر والإيجاب والفرض والعزم بِالْكِتَابَةِ ، ووجه ذلك أن الشیء يراد، ثم يقال، ثم يُكْتَبُ ، فالإرادة مبدأ، والکِتَابَةُ منتهى. ثم يعبّر عن المراد الذي هو المبدأ إذا أريد توكيده بالکتابة التي هي المنتهى، قال : كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي [ المجادلة/ 21] ، وقال تعالی: قُلْ لَنْ يُصِيبَنا إِلَّا ما كَتَبَ اللَّهُ لَنا [ التوبة/ 51] ، لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ [ آل عمران/ 154] نیز کسی چیز کے ثابت کردینے اندازہ کرنے ، فرض یا واجب کردینے اور عزم کرنے کو کتابہ سے تعبیر کرلیتے ہیں اس لئے کہ پہلے پہل تو کسی چیز کے متعلق دل میں خیال پیدا ہوتا ہے پھر زبان سے ادا کی جاتی ہے اور آخر میں لکھ جاتی ہے لہذا ارادہ کی حیثیت مبداء اور کتابت کی حیثیت منتھیٰ کی ہے پھر جس چیز کا ابھی ارادہ کیا گیا ہو تاکید کے طورپر اسے کتب س تعبیر کرلیتے ہیں جو کہ دراصل ارادہ کا منتہیٰ ہے ۔۔۔ چناچہ فرمایا : كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي[ المجادلة/ 21] خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے ۔ قُلْ لَنْ يُصِيبَنا إِلَّا ما كَتَبَ اللَّهُ لَنا [ التوبة/ 51] کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اس کے کہ جو خدا نے ہمارے لئے مقدر کردی ہے ۔ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ [ آل عمران/ 154] تو جن کی تقدیر میں مار جانا لکھا تھا ۔ وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرو ر نکل آتے ۔ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] كره قيل : الْكَرْهُ والْكُرْهُ واحد، نحو : الضّعف والضّعف، وقیل : الكَرْهُ : المشقّة التي تنال الإنسان من خارج فيما يحمل عليه بِإِكْرَاهٍ ، والکُرْهُ : ما يناله من ذاته وهو يعافه، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] ( ک ر ہ ) الکرہ ( سخت ناپسند یدگی ) ہم معنی ہیں جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے کہ کرۃ ( بفتح الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے اور اس پر زبر دستی ڈالی جائے ۔ اور کرہ ( بضم الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو اسے نا خواستہ طور پر خود اپنے آپ سے پہنچتی ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] اور اگر چہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔ عسی عَسَى طَمِعَ وترجّى، وكثير من المفسّرين فسّروا «لعلّ» و «عَسَى» في القرآن باللّازم، وقالوا : إنّ الطّمع والرّجاء لا يصحّ من الله، وفي هذا منهم قصورُ نظرٍ ، وذاک أن اللہ تعالیٰ إذا ذکر ذلک يذكره ليكون الإنسان منه راجیا لا لأن يكون هو تعالیٰ يرجو، فقوله : عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] ، أي : کونوا راجین ( ع س ی ) عسیٰ کے معنی توقع اور امید ظاہر کرنا کے ہیں ۔ اکثر مفسرین نے قرآن پاک میں اس کی تفسیر لازم منعی یعنی یقین سے کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق میں طمع اور جا کا استعمال صحیح نہیں ہے مگر یہ ان کی تاہ نظری ہے کیونکہ جہاں کہیں قرآن میں عسی کا لفظ آیا ہے وہاں اس کا تعلق انسان کے ساتھ ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کیساتھ لہذا آیت کریمہ : ۔ عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] کے معنی یہ ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ سے امید رکھو کہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے لئے جیسے مرد کسی عورت سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ آیت : ۔ وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] میں اسی نوع کی محبت کی طرف اشارہ ہے ۔ ( 2 ) محبت نفع اندوزی کی خاطر جیسا کہ انسان کسی نفع بخش اور مفید شے سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13 اور ایک چیز کو تم بہت چاہتے ہو یعنی تمہیں خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح حاصل ہوگی ۔ ( 3 ) کبھی یہ محبت یہ محض فضل وشرف کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ اہل علم وفضل آپس میں ایک دوسرے سے محض علم کی خاطر محبت کرتے ہیں ۔ شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے کتب علیکم القتال وھوکرہ لکم تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔ آیت کے الفاظ قتال کی فرضیت پر دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے کہ کتب علیکم کے معنی فرض علیکم کے ہیں یعنی تم پر جنگ فرض کردی گئی ہے جس طرح کہ روزے کے سلسلے میں فرمایا گیا کہ کتب علیکم الصیام۔ آیت میں مذکورہ القتال میں الف لام یا تو معہود کے لئے ہے جس سے مخاطبین آگاہ ہیں یا معہود کے لئے نہیں بلکہ ہم جنس کے لئے ہے اس لئے کہ اسم نکرہ پر داخل ہونے والے الف لام یا تو معہود کے لئے ہوتے ہیں یا جنس کے لئے۔ اگر اس سے مراد وہ جنگ ہے جس کا مخاطبین کو علم ہے تو یہ کلام اسی کی طرف راجع ہوگا جس طرح کہ قول باری ہے وقاتلوا المشرکین کا نۃ کما یقاتلونکم کافۃ۔ تم اسی طرح تمام مشرکوں سے جنگ کرو جس طرح وہ تم سے جنگ کرتے ہیں۔ یا یہ قول باری ہے ولاتقاتلوھم عندالمسجد الحرام حتی یقاتلوکم فیہ فان قاتلوکم فاقتلوھم۔ ان سے مسجد حرام کے قریب جنگ نہ کرو جب تک کہ وہ یہاں تم سے جنگ نہ کریں اگر وہ تم سے جنگ کریں تو انہیں قتل کرو اگر الف لام سے مراد معہود ہے تو اس میں جنگ کا حکم ایک خاص حالت کے تحت ہوگا اور وہ یہ کہ ہم مشرکین سے اسی وقت جنگ کریں جب وہ ہم سے جنگ کریں۔ اس صورت میں یہ کلام ایسے معہود پر مبنی ہوگا جس کا حکم معلوم ہے اور تاکید کے طور پرا س کے ذکر کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اگر الف لام کسی معہود کے لئے نہیں ہے تو لامحالہ یہ کلام ایسے مجمل کی طرف راجع ہے جس کے بیان اور تفصیل کی ضرورت ہے۔ وہ اس طرح کہ اس حکم کے ورود کے وقت یہ بات معلوم تھی کہ الہ نے ہمیں تمام لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا اس لئے کلام میں عموم کا اعتقاد رکھنا درست نہیں ہوا، اور جس حکم میں عموم کا اعتقاد نہ رکھا جاسکے وہ مجمل ہوتا ہے اور اسے بیان اور وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم عنقریب جہاد کی فرضیت کے متعلق اہل علم کے اختلاف کو بیان کریں گے۔ نیز جہاد کی کیفیت کے بارے میں بھی وضاحت کریں گے۔ جب ہم آیت یقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم۔ پر پہنچیں گے۔ قول باری وھوکرہ لکم کے معنی ہیں کہ یہ تمہیں ناپسند ہے یہاں مصدر کو اسم مفعول کے قائم مقام کردیا گیا ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں کہ فلان رضی اس کے معنی یہ ہیں کہ فلان مرضی (فلاں پسندیدہ ہے)

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢١٦) تم پر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عام کوچ کرنے میں جہاد فرض کیا گیا ہے اور یہ تم پر بہت گراں تھا اور تم اسے گراں سمجھتے ہو، مگر درحقیقت یہ تمہارے لیے بہتر ہے، تمہیں اس کی وجہ سے شہادت اور مال غنیمت ملے گا اور جہاد نہ کرنے سے شہادت حاصل ہوتی ہے اور نہ مال غنیمت، اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ جہاد کرنا تمہارے لیے بہتر اور جہاد نہ کرنا تمہارے لیے برا ہے یہ آیت حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) اور مقداد بن اسود (رض) اور ان کے ساتھیوں کے متعلق اتری ہے۔ حضرت عبداللہ بن جحش (رض) اور ان کے ساتھیوں نے عمرو بن حضرمی کو جمادی الثانی کو شام کو رجب کا چاند نظر آنے سے پہلے قتل کردیا تھا کفار نے انہیں اس پر برا بھلا کہا، انہوں شہر حرام میں قتال کرنے کے بارے میں دریافت کیا، اس پر یہ آیت کریمہ اتری۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١٦ (کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ ج) واضح رہے کہ سورة البقرۃ سے پہلے سورة محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نازل ہوچکی تھی اور اس میں قتال کی فرضیتّ آچکی تھی۔ (چنانچہ اس کا ایک نام سورة القتال بھی ہے۔ ) لہٰذا اس حوالے سے کچھ لوگ پریشان ہو رہے تھے۔ خاص طور پر منافقین یہ کہتے تھے کہ بھائی صلح جوئی سے کام لو ‘ بس دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف لاؤ ‘ یہ جنگ وجدال اور لڑائی بھڑائی تو کوئی اچھا کام نہیں ہے ‘ اس میں تو بہت خرابی ہے۔ ان کے علاوہ ایسے مسلمان جن کا ایمان قدرے کمزور تھا ‘ اگرچہ وہ منافق تو نہیں تھے ‘ لیکن ان کا ایمان ابھی پختہ نہیں تھا ‘ ابھی تازہ تازہ ایمان لائے تھے اور تربیت کے مراحل سے ابھی نہیں گزرے تھے ‘ ان میں سے بھی بعض لوگوں کے دلوں میں انقباض پیدا ہو رہا تھا۔ یہاں قتال کی فرضیتّ کے لیے کُتِبَ کا لفظ آیا ہے۔ اس سے پہلے یہ لفظ روزے ‘ قصاص اور وصیت کے ضمن میں آچکا ہے۔ (کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ ۔۔ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی۔۔ کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَکَ خَیْرَنِ اج الْوَصِیَّۃُ ۔۔ ) فرمایا کہ تم پر جنگ فرض کردی گئی ہے اور وہ تمہیں بری لگ رہی ہے۔ (وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْءًا وَّہُوَخَیْرٌ لَّکُمْ ج ) (وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْءًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ط) (وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ) ۔ تم اپنی عقل پر ایمان نہ رکھو ‘ اللہ کی وحی پر ایمان رکھو ‘ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان رکھو۔ جس وقت کے لیے جو حکم موزوں تھا وہی تمہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے دیا گیا۔ چودہ برس تک تمہیں قتال سے منع کیا گیا۔ اس وقت تمہارے لیے حکم تھا : کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ (اپنے ہاتھ روکے رکھو ! ) اب تم پر قتال فرض کیا جا رہا ہے ‘ لہٰذا اب اس حکم پر سر تسلیم خم کرنا تمہارے لیے لازم ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

جہاد کے حکم کی تعمیل میں جا نے جانے کے خوف کو زخمی ہوجانے کے اندیشہ کو گھر اہل و عیال چھوٹنے کی تکلیف کو خیال کر کے بعض لوگ جہاد کے حکم کی تعمیل سے گھبراتے تھے ایسی لوگوں کی ہمت بڑھانے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ تم لوگوں کو علم غیب نہیں ہے اس لئے دنیا کی اکثر چیزوں کی ظاہری حالت دیکھ کر تم ان کو اچھا نہیں جانتے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں ان کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ جہاد بھی اسی طرح کی چیز ہے کہ اس کا انجام اچھا ہے۔ چناچہ جہاد کے حکم کی تعمیل میں مسلمانوں کو یا درجہ شہادت عقبیٰ میں ملا دیا دنیا میں بادشاہت ہاتھ آئی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:216) کتب علیکم۔ کتب علی۔ واجب قرار دینا۔ فرض کردینا۔ القتال ای الجھاد۔ کرۃ۔ ناگوار چیز۔ کریہہ۔ مشقت۔ مصدر بمعنی مفعول (مکروہ) ہے جیسے نقص بمعنی منقوص ہے۔ عسی۔ عنقریب ہے، شتاب ہے ، ممکن ہے، توقع ہت۔ اندیشہ ہے۔ کھٹکا ہے افعال مقاربہ میں سے ہے۔ محبوب چیز میں امبد کے لئے اور مکروہ بات میں خوف کے لئے ہے۔ تکرھوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ کرہ (باب سمع) مصدر۔ تم ناپشند کرتے ہو۔ تم ناپسند کرو۔ تم مکروہ سمجھو، تم کو ناگوار معلوم ہو، تم کو برا لگے۔ تم کو دشوار لگے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 آیت میں اتصتال سے مراد قتل نوع انسانی نہیں بلکہ جہاد ہے اور اسلام میں جہاد سے مقصود اللہ تعالیٰ کے دین کو سربلندی کرنا کفر وشرک کی بیخ کنی کرنا اور مسلمانوں کی کفار کے شر سے بجانا ہے اور امت مسلمہ پر یہ فریضہ قیامت تک عائد رہے گا، حدیث میں ہے کہ میری امت قیامت تک جہاد کرتی رہے گی یہاں تک کہ خیر امت دجال سے جنگ کردے گی اور فتح کے روز آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اب فتح مکہ کے بعد مدینہ ہجرت کی ضرورت نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔ (ابن کثیر، وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 216 القتال (جہاد، جنگ) ۔ کرہ (ناگوار، ناپسندیدہ ) ۔ ان تکرھو (یہ کہ تم برا سمجھو) ۔ خیر (بہتر) ۔ ان تحبوا (یہ کہ تم پسند کرتے ہو) ۔ شر (برا) ۔ یعلم (وہ جانتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 216 انسانی فطرت اور مزاج کا یہ عجب پہلو ہے کہ جو چیزیں اسے انتہائی پسندیدہ اور مرغوب ہیں وہی اس کو پست کرنے والی ہیں اور جو چیزیں انسان کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچانے والی ہیں وہ عموماً اس کے نفس پر بڑی بھاری اور شاق ہیں۔ انسان اکثر ان چیزوں کو جو اس کی بھلائی اور بہتری کے لئے ہیں ان سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے لیکن چونکہ انبیاء ورسل کے ذریعہ اللہ نے انسانی بھلائی اور بہتری کا ذمہ لیا ہوا ہے اس لئے اس کو انجام کے اعتبار سے زندگی کی اونچ نیچ سے واقف کرایا جاتا ہے۔ جس کو وہ خود نہیں جانتا بلکہ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ جنگ و جہاد کے ظاہری پہلوؤں کو اگر بغور دیکھاجائے تو وہ بری ہولناک چیز ہے لیکن زندہ قومیں ہمیشہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ جانتی ہیں۔ انہیں موت کو محبوب اور خوشگوار بنانا پڑتا ہے تب ہی اس قوم کی شیرازہ بندی ہوا کرتی ہے اور اسی میں دونوں عالموں کی بھلائی پوشیدہ ہوا کرتی ہے۔ فرمایا گیا کہ ہم نے تمہارے اوپر جہاد فی سبیل اللہ کو فرض کردیا ہے اگرچہ وہ ایک بھاری اور ہولناک چیز ہے اور تمہارے نفسوں پر شاق ہے لیکن ظاہر و باطن اور ماضی اور مستقل کا جاننے والا جانتا ہے کہ کیا چیز تمہارے لئے بہتر ہے اور کیا چیز تمہارے لئے نقصان پہنچانے والی ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ جہاد فرض ہے جبکہ اس کے وہ شرائط پائے جاویں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ اور فرض دو طرح کا ہوتا ہے فرض عین، فرض کفایہ۔ سو اعداء دین جب مسلمانوں پر چڑھ آویں تب جہاد فرض عین ہے ورنہ فرض کفایہ۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا اور جان قربان کرنا دونوں مشکل ترین کام ہیں۔ اس لیے انہیں ایک دوسرے کے بعد ذکر کیا ہے جہاد میں دونوں لازم وملزوم ہوتے ہیں۔ ہرمعاشرے اور قوم میں ایسے لوگ بھی ہوا کرتے ہیں جو مشکل حالات میں جذباتی ہو کر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوجایا کرتے ہیں۔ لیکن کفار کے ساتھ باضابطہ مقابلے کے وقت آگے بڑھنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ میدان کارزار میں اترنا ہر کسی کے دل گردہ کی بات نہیں۔ لہٰذا لوگوں کو انگیخت دینا اور تیار کرنا پڑتا ہے۔ اس فرمان میں ایسی ہی صورت حال کی طرف اشارات پائے جارہے ہیں۔ جس سے اس الزام کی از خود نفی ہورہی ہے جو غیر مسلم مسلمانوں پر لگایا کرتے ہیں کہ مسلمان بنیادی طور پر جنگجو اور جارح قوم ہے۔ یہاں تو عیاں ہورہا ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں بھی کچھ مسلمان ابتداءً جنگ سے کتراتے تھے۔ لیکن جب مسلمانوں پر ایسے حالات ٹھونس دیے جائیں کہ جنگ کے بغیر چارہ کار نہ ہو تو پھر لڑنے مرنے کا فیصلہ کرنا مسلمانوں کا اختیار نہیں رہتا ان حالات میں آسمانی حکم ہے۔ ایسی صورت حال میں لڑائی سے جی چرانا اپنے آپ کو دشمن کے کے حوالے کرنا ہے۔ اللہ عالم الغیب جانتا ہے کہ بہتری اور خیر کس کام میں زیادہ ہے۔ کیا کوئی شخص یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ اس کام میں خیر زیادہ اور دوسرے میں بہتری کم ہے ؟ فرمایا ہرگز نہیں ! خیر اور نقصان کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ تمہاری خیر اللہ کے حکم ماننے میں ہے۔ لہٰذا مال بھی خرچ کرو اور جان بھی لڑاؤ۔ اس سے دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے ہر صورت اس پر عمل کرنا مسلمان پر فرض ہے۔ مسائل ١۔ خیر وشر کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ ٢۔ انسان کسی چیز کو اپنے لیے بہتر سمجھتا ہو تو ضروری نہیں وہ بہتر ہو۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر کام کی حکمت جانتا ہے انسان نہیں جانتا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قتال فی سبیل اللہ بہت بارگراں فریضہ ہے ۔ اس کے باوجود یہ ایسا ہے کہ اس کی ادائیگی واجب ہے ۔ اس لئے کہ اس میں ایک مسلمان کے لئے بھی بڑی خیر ہے ، اسلامی جماعت کے لئے بھی خیر کثیر ہے بلکہ اس میں پوری انسانیت کی عظیم بھائی ہے ۔ یہ فریضہ محض سچائی کے لئے ہے ، بھلائی کے لئے ہے اور اصلاح احوال کے لئے ہے ۔ اسلام چونکہ ایک فطری دین ہے ، اس لئے وہ ہر معاملے میں اپنا موقف اور نقطہ نظر بھی عین فطرت کے مطابق اختیار کرتا ہے ۔ اس فریضے کی ادائیگی میں جو مشقتیں اور دشواریاں ہیں اللہ ان کا انکار نہیں کرتا۔ نہ اسے آسان اور ہلکا تصور کیا جاتا ہے۔ نہ اس بات کا انکار کیا جاتا ہے کہ نفس انسانی اسے بتقاضائے فطرت ناپسند کرتا ہے اور اسے بھاری سمجھتا ہے ۔ اسلام نہ فطرت کا انکار کرتا ہے ۔ نہ کسی معاملے میں نظام فطرت سے متصادم ہوتا ہے ۔ نہ انسان پر اس کے ان فطری احساسات کو حرام قرار دیتا ہے ، جن کے انکار کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ جن کو کالعدم نہیں گردانا جاسکتا ۔ البتہ اسلام ان فطری احساسات کا علاج ایک دوسرے طریقے سے کرتا ہے ۔ اسلام فطرت کی ان تاریکیوں کو ایک جدید قسم کی روشنی سے ختم کرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ تم جو فرض عائد کیا گیا ہے بیشک وہ شاق ناپسندیدہ ہے ، لیکن اس کے پس منظر میں ایک عظیم مصلحت ہے جس کی وجہ سے وہ بہت ہی ہلکا ہوجاتا ہے ، آسان ہوجاتا ہے ۔ اس کی مشقت کم ہوجاتی ہے ۔ اور اس کے ذائقے کی کڑواہٹ کم ہوجاتی ہے ۔ اس کے ذریعہ ایک پوشیدہ بھلائی وجود میں آتی ہے ۔ اس پوشیدہ بھلائی کو انسان کی سطحی نظر اچھی طرح نہیں دیکھ سکتی ۔ اس نقطہ نظر کو پالینے کے بعد ، انسانی روح پر معرفت کے لئے دروازے کھل جاتے ہیں اور ان کے ذریعہ انسان اس معاملے کی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے ۔ اب انسان جہاد و قتال کے مسئلے پر ایک نئے زاویہ سے نگاہ ڈالتا ہے ۔ اور پھر جب انسان مشکلات سے دوچار ہوتا ہے اور مصائب میں گھر اہوتا ہے ، تو اس کے روح کے اس زاویہ ار معرفت کے اس نئے دروازے سے اس کے قلب ونظر پر ٹھنڈی ٹھنڈی خوشگوار ہواچلتی ہے اور اسے اطمینان نصیب ہوتا ہے اس لئے کہ عین ممکن ہے شاید ان مشکلات کے بعد آسانیاں ہوں اور کسے خبر ہے کہ شاید پسندیدہ امر کا انجام یہ نہ ہوگا ۔ یہ تو وہی ہے جو دور دراز انتہاؤں کا علم رکھنے والا ہے جبکہ تمام لوگ اس علم کے ایک حصہ سے بھی خبردار نہیں ہیں ۔ جب نفس انسانی پر یہ خوشگوار بادنسیم چلتی ہے تو اس پر ٹوٹنے والے تمام مصائب اور مشقتیں اور سختیاں آسان ہوجاتی ہیں ۔ امید وبقا کے دریچے کھل جاتے ہیں ، سخت تپش میں بھی دل ٹھنڈک محسوس کرتا ہے اور یقین وامید کے ساتھ اطاعت اور ادائے فرض کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ اسلام فطرت کے ساتھ یوں معاملہ کرتا ہے کہ وہ انسان کے فطری رجحانات پر کوئی نکیر نہیں کرتا ۔ اور نہ ہی انسان کو کسی مشکل فرض کے سرانجام دینے پر محض آرڈر اور حکم کے ذریعہ مجبور کرتا ہے ، بلکہ وہ انسان کی تربیت کرکے اسے اطاعت پر آمادہ کرتا ہے ۔ امید کا دائرہ وسیع کردیتا ہے ۔ وہ اسے یہ تعلیم دیتا ہے کہ ادنیٰ چیز کو خرچ کرکے اعلیٰ ترین حاصل کرو ، وہ انسان کو ذاتی خواہشات کے مقابلے میں نہیں بلکہ خوشی ورضا سے کھڑا کرتا ہے تاکہ انسان کی فطرت کو اس بات کا احساس ہو کہ اللہ کا رحم وکرم اس کے شامل حال ہے کیونکہ وہ انسانی کمزوریوں سے خوب واقف ہے ۔ وہ وہ معترف ہے کہ انسان پر جو فریضہ عائد کیا گیا ہے وہ ایک مشکل کام ہے ۔ وہ اس کی مجبوریوں سے بھی واقف ہے اور انسان کی بھی قدر کرتا ہے اور بلندہمتی ، التجا اور امید کے ذریعے اسے مسلسل آگے بڑھانے کی ہمت بھی دیتا رہتا ہے ۔ یوں اسلام انسانی فطرت کی تربیت کرتا ہے ، وہ فرائض پر ملول نہیں ہوتی ، صدمات کی ابتلا میں جزع وفزع نہیں کرتی اور نہ مصائب شروع ہوتے ہی وہ ہمت ہار بیٹھتی ہے ۔ اگر مشکلات کے مقابلے میں کمزوری ظاہر ہوجائے تو شرمندہ ہو کر صاف گرہی نہیں جاتی بلکہ ثابت قدم رہنے کی سعی کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اسے عنداللہ معذور سمجھاجائے گا۔ اسے یہ امید ہوتی ہے کہ اللہ اس کی امداد کرے گا اور اپنی طرف سے قوت بخشے گا اور مصائب کا مقابلہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلیتی ہے ۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان مشکلات کی تہہ میں کچھ خیر پوشیدہ ہو۔ مشکلات کے بعد آسانیاں آجائیں ۔ تھکاوٹ اور ضعف کے بعد بہت بڑا آرام نصیب ہوجائے ۔ یہ فطرت محبوبات ومرغوبات پر فریفتہ نہیں ہوتی اس لئے کہ عیش و عشرت کا نتیجہ حسرت بھی تو ہوسکتی ہے۔ محبوب کی تہہ سے مکروہ بھی برآمد ہوسکتا ہے ۔ کبھی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روشن تر امیدوں کے پس پردہ ہلاکت اور مصیبت انتظار کررہی ہو۔ تربیت کا یہ عجیب نظام ہے ۔ بہت ہی گہرا اور بہت ہی سادہ ۔ یہ نظام نفس انسانی کے سرچشموں ، اس کے پوشیدہ گوشوں اور اس کے مختلف گزرگاہوں کا شناسا ہے ۔ یہ نظام تربیت سچائی اور صداقت سے کام لیتا ہے ۔ اس میں جھوٹے اشارے ، جھوٹے تاثرات اور نظر فریب جعل سازی نہیں ہوتی ۔ پس یہ حقیقت ہے انسان کا ناقص اور ضعیف ذہن کسی بات کو ناپسند کرے حالانکہ وہ خیر ہی خیر ہو۔ اور یہ بھی حق ہے کہ انسان کسی چیز کو پسند کرے اور اس کا جانثار ہو ۔ لیکن اس میں شر ہی شر ہو ۔ اور یہ بھی حق ہے کہ اللہ جانتا ہے اور انسان نہیں جانتے ۔ لوگوں کو عواقب اور انجام کا کیا علم ہے ۔ وہ کیا جانیں کیونکہ پردہ گرا ہوا ہے اور پس پردہ کیا ہے ؟ غرض لوگوں کو ان حقائق کا علم نہیں ہوسکتا جو ہماری خواہشات ، جہالت اور نفس کے تابع نہیں ہیں۔ قلب انسانی کے اندر یہ ربانی احساس ، اس کے دریچے کھول دیتا ہے ۔ اس کے سامنے ایک نئی دنیا نمودار ہوجاتی ہے ۔ یہ دنیا اس محدود دنیا سے بالکل مختلف ہے جسے ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں ۔ اس کی نظروں کے سامنے کچھ دوسرے عوامل بھی آجاتے ہیں جو اس کائنات کی گہرائیوں میں کام کررہے ہوتے ہیں ، جو معاملات کی کا یا پلٹ دیتے ہیں ، جو نتائج کی اس ترتیب کو الٹ دیتے ہیں جن میں انسان کو تمنا ہوتی ہے یا وہ ان کی توقع کئے ہوئے ہوتا ہے ۔ جب قلب مومن تن بہ تقدیر اس ربانی احساس کے تابع ہوجاتا ہے ، تو پھر وہ پرامیدہوکر کام کرتا ہے ۔ اسے امید بھی ہوتی ہے اور اللہ کا ڈر بھی ، لیکن وہ تمام نتائج برضا ورغبت دست قدرت کے سپرد کردیتا ہے جو حکیم ہے اور علیم ہے ۔ جس کا علم سب کو گھیرے ہوئے ہے ۔ یہ ہے دراصل سلامتی کے کھلے دروازے کا داخلہ ۔ نفس انسانی کو اسلام کا صحیح شعور اس وقت تک نصیب نہیں ہوسکتا ، جب تک اس میں یہ یقین پیدا نہ ہوجائے کہ خیر اسی میں ہے جسے اللہ نے خیر بتایا ، بھلائی اس میں ہے کہ اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کی جائے ۔ اللہ تعالیٰ کو آزمانے اور اللہ سے براہین طلب کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ پختہ یقین ، پرسکوں امید اور سعی پیہم ہی سلامتی کے دروازے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو انہی دروازوں سے داخل ہونے کی دعوت دیتا ہے اور حکم دیتا کہ نیمے دروں اور نیمے بیروں میں نہیں بلکہ پورے پورے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بڑے سادہ عجیب لیکن بہت گہرے منہاج کے ساتھ اس سلامتی کی طرف لے جارہا ہے ۔ بڑی نرمی ، بڑی آسانی اور دھیمی رفتار سے ۔ سلامتی کے اس راستے پر وہ انہیں اس طریقے سے لے جارہا ہے کہ آخرکار وہ ان پر قیام امن کے لئے قتال بھی فرض کردیتا ہے ۔ سلامتی کیا چیز ہے ؟ سلامتی یہ ہے کہ میدان جنگ میں انسان کی روح اور اس کا ضمیر مطمئن اور امن وسلامتی سے رہیں ۔ قرآن کریم کی اس آیت میں قتال کی نسبت سے جو اشارہ کیا گیا ہے ، وہ قتال تک ہی محدود نہیں ہے ۔ قتال تو ان امور کی ایک واضح مثال ہے جسے نفس انسانی فطرتاً پسند نہیں کرتا۔ لیکن اس میں نتائج کے اعتبار سے بھلائی ہوتی ہے ۔ یہ نکتہ دراصل مومن کی پوری زندگی میں اس کا فلسفہ حیات ہے ۔ اس کے تمام واقعات زندگی پر اس کا پرتو ہوتا ہے ۔ انسان تو کسی معاملے میں یہ نہیں جانتا کہ خیر کہاں ہے اور شر کہاں ہے ؟ بدر کے دن مسلمان نکلے کہ قریش کے قافلے کو لوٹ لیں اور ان کے مال تجارت پر قبضہ کرلیں ۔ اللہ نے ان سے غنیمت کا وعدہ بھی کر رکھا تھا ، وہ سمجھتے تھے کہ یہی قافلہ اور اس کا مال تجارت بس انہیں ملنے ہی والا ہے ۔ ان کے تصور میں بھی یہ نہ تھا کہ انہیں قریش کی فوج کے ساتھ دوچار ہونا پڑے گا ، لیکن اللہ کا کرنا یہ تھا کہ قافلہ بچ نکلا اور ان کا سامنا قریش کی ساز و سامان سے لیس فوج سے ہوگیا اور اس کے نتیجہ میں اہل اسلام کو وہ کامیابی نصیب ہوئی جس کی آواز بازگشت پورے جزیرۃ العرب میں سنی گئی ۔ اب دیکھئے کہ مسلمانوں کی کامیابی کے مقابلہ میں قافلہ اور اس کے تجارتی سامان کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟ اب دیکھئے ، مسلمانوں نے اپنے لئے جو پسند کیا اس کی قدر و قیمت کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو اختیار کیا اس کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے اور لوگ نہیں جانتے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھی نوجوان اپنا کھانا بھول گیا یعنی مچھلی ۔ جب پتھر کے پاس پہنچے تو مچھلی دریا میں چلی گئی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آگے چلے گئے اور اپنے خادم سے کہا لاؤ ہمارا ناشتہ آج کے سفر میں تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں ۔ خادم نے کہا آپ نے دیکھا ، یہ کیا ہوا ؟ جب ہم اس چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے ، اس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کردیا کہ میں اس کا ذکر آپ سے کرنا بھول گیا ۔ مچھلی توعجیب طریقے سے نکل کردریا میں چلی گئی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اسی کی تو ہمیں تلاش تھی ، چناچہ وہ دونوں اپنے نقش قدم پر واپس ہوئے اور وہاں انہوں نے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا ۔ یہی وہ مقصد تھا جس کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سفر اختیار کیا ۔ اگر مچھلی کا واقع نہ ہوتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہ لوٹتے اور وہ پورا مقصد فوت ہوجاتا جس کے لئے انہوں نے یہ تھکا دینے والا سفر اختیار کیا تھا۔ ہر اگر انسان اگر تامل کرے تو وہ بعض مخصوص تجربوں میں اس سچائی کو دریافت کرسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کئی ایسے تجربات سے دوچار ہوا جو اسے ناپسند تھے ۔ لیکن ان کے پس پردہ وہ خیر عظیم کارفرما تھی ۔ اور کئی پر ذائقہ اور لذید چیزیں بھی تھیں ۔ لیکن ان کی تہہ میں شر عظیم نہا تھا۔ کئی ایسے مقاصد ہوتے ہیں کہ جن سے انسان محروم ہوجاتا ہے اور اسے اپنی اس محرومی کا بےحد صدمہ بھی ہوتا ہے لیکن ایک عرصہ کے بعد نتائج دیکھ کر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے محروم رکھ کر دراصل بلائے عظیم سے نجات دی تھی ۔ کئی مصائب وشدائد ایسے جاں گسل ہوتے ہیں ، کہ انسان بڑی ناخوش گواری سے ان کے کڑوے گھونٹ بھرتا ہے اور قریب ہوتا ہے کہ ان مصائب کی سختی کے نتیجے میں اس کی جان ہی نکل جائے ، لیکن ایک طویل عرصہ نہیں گزرتا کہ ان سختیوں کے نتائج اتنے اچھے نکلتے ہیں جتنے ایک طویل پر آسائش زندگی کے نتیجے میں اچھے نہ ہوسکتے تھے۔ یہ ہے منہاج تربیت جس کے مطابق اللہ نفس انسانی کو لیتا ہے کہ وہ ایمان لے آئے ، اسلام میں داخل ہوجائے اور آنے والے نتائج اللہ کے سپرد کردے ۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ بقدر استطاعت ، ظاہری جدوجہد کے میدان میں اپنی پوری قوت لگادے ۔ تحریک اسلامی کو امن وسلامتی کی طرف لے جایا جارہا تھا کہ وہ پوری کی پوری سلامتی کے نظام میں داخل ہوجائے ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی حرام مہینوں میں قتال کے بارے میں فتویٰ بھی ہے ۔ چناچہ فرماتے ہیں

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جہاد کی فرضیت اور ترغیب مکہ مکرمہ کے زمانہ قیام میں مسلمان بہت ہی ضعیف تھے، تھوڑے سے تھے۔ کافروں کا تسلط تھا ان سے لڑنے اور جنگ کرنے کا کوئی موقعہ نہ تھا اور نہ جنگ کرنے کی اجازت تھی، بالآخر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ قیام پذیر ہوگئے، یہاں قیام کرنے کے بعد ان لوگوں سے جنگ کرنے کی اجازت دی گئی جو لڑنے کے لیے آمادہ ہوجائیں جیسا کہ سوررۂ حج میں فرمایا : (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا) اس کے بعد وہ وقت بھی آیا کہ عام مشرکین سے قتال کرنے کا حکم ہوگیا اگرچہ وہ ابتداء نہ کریں۔ (قرطبی ص ٣٨ ج ٣) آیت بالا کے عموم سے بظاہر یہی مستفاد ہوتا ہے کہ کفار سے جنگ کرنا ہر مسلمان پر نماز روزہ کی طرح فرض عین ہے لیکن سورة برأت کی آیت (وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ ) (الایۃ) سے اور بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قتال کرنا ہر مسلمان پر ہر وقت فرض عین نہیں ہے لیکن اسی لیے فقہاء نے اس بارے میں تفصیل لکھی ہے اور تحریر فرمایا ہے کہ بعض حالات میں فرض عین اور عام حالات میں فرض کفایہ ہے کافروں سے جنگ کرنا جارحانہ بھی مشروع ہے اور مد افعانہ بھی جیسا کہ قرآن و حدیث کی نصوص عامہ سے ثابت ہے، عام طور سے کافروں سے جنگ کرنے کو جہاد کہا جاتا ہے لفظ جہاد جہد سے لیا گیا ہے جو محنت اور کوشش کے معنی میں ہے یہ اپنے عمومی معنی کے اعتبار سے ہر اس محنت اور کوشش کو شامل ہے جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے ہو، سورة برأت میں فرمایا (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاھِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) (نکل کھڑے ہو ہلکے ہو یا بھاری اور جہاد کرو اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے، اللہ کی راہ میں یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو) اس آیت میں مال اور جان دونوں سے جہاد کرنے کا حکم فرمایا ہے اور سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جاھد المشرکین بأموالکم و انفسکم و ألسنتکم (باب کراھیۃ ترک الغزو) اس حدیث میں زبانوں سے جہاد کرنے کا حکم بھی فرمایا ہے۔ زبان سے جہاد کرنے میں بہت سی باتیں آگئیں، کافروں سے مناظرہ کرنا، ان کے خلاف تقریریں کرنا مسلمانوں کو جہاد کے لیے ترغیب دینا اور آمادہ کرنا وغیرہ، مسلمانوں پر ہر قسم کا جہاد باقی رکھنا لازم ہے۔ علامہ ابوبکر جصاص احکام القرآن ص ١١٣ ج ٣ میں لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف اور امام محمد اور امام مالک اور تمام فقہاء امصار کا قول ہے کہ جہاد قیامت تک فرض ہے۔ لیکن اس میں اتنی تفصیل ہے کہ عام حالات میں فرض کفایہ ہے مسلمانوں کی ایک جماعت اس میں مشغول رہے گی تو باقی مسلمانوں کو اس کے ترک کرنے کی گنجائش ہوگی، اور یہ بھی لکھا ہے کہ تمام مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہے کہ مسلمانوں کے ممالک کی سرحدوں کے رہنے والے مسلمان اگر طاقتور نہ ہوں اور ان میں کافروں سے مقابلہ کی طاقت نہ ہو جس کی وجہ سے انہیں اپنے شہروں اور اپنی جانوں اور اپنے بال بچوں پر دشمنوں کی طرف سے خوف ہو تو ساری امت پر فرض ہوگا کہ وہ اپنے گھروں سے نکلیں اور کافروں کے حملہ سے مسلمانوں کی حفاظت کریں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ امت میں کسی کا بھی یہ قول نہیں ہے کہ جب (کسی علاقہ میں) مسلمانوں کو اپنی جانوں کے قتل ہونے کا اور بچوں کے قید ہونے کا خطرہ ہو تو دوسرے (علاقہ کے) مسلمانوں کو ان کی مدد چھوڑ کر گھر میں بیٹھنا جائز ہو۔ پھر لکھا ہے کہ امام المسلمین پر اور عامتہ المسلمین پر لازم ہے کہ ہمیشہ کافروں سے جنگ کرتے رہیں۔ یہاں تک کہ اسلام قبول کریں یا جزیہ ادا کریں۔ (ثم قال : و ھو مذھب أصحابنا و من ذکرنا من السلف المقداد بن الأسود و أبی طلحۃ فی آخرین من الصحابۃ و التابعین و قال حذیفۃ بن الیمان : الاسلام ثمانیۃ أسھم و ذکر سھما منھا الجھاد) علامہ جصاص نے جہاد کی فرضیت پر متعدد آیات قرآنیہ نقل کی ہیں۔ مثلاً (وَ قَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنَ لِلّٰہِ ) اور (قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ ) (الآیۃ) اور (قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ لَا بالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) ّ (الایۃ) اور (فَلاَ تَہِنُوْا وَتَدْعُوْا اِِلَی السَّلْمِ وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ) اور (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ ) اور (وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً ) وغیرھا من الآیات صاحب ہدایۃ لکھتے ہیں کہ جہاد فرض کفایہ ہے، مسلمانوں کی ایک جماعت اگر اس فریضہ پر قائم رہے تو باقی مسلمانوں سے ساقط ہوجائے گا اور اگر کوئی بھی جہاد میں مشغول نہ رہے تو سب گنہگار ہوں گے۔ پھر لکھتے ہیں کہ کافروں سے قتال کرنا واجب ہے۔ اگرچہ وہ خود سے جنگ میں پہل نہ کریں، اور اگر مسلمانوں کے کسی شہر پر دشمن چڑھ آئیں تو تمام مسلمانوں پر ان کا دفاع لازم ہوگا۔ اس صورت میں عورت بھی شوہر کی اجازت کے بغیر نکل کھڑی ہو اور غلام بھی آقا کی اجازت کے بغیر میدان میں آجائے، اس لیے کہ اس صورت میں دشمنوں سے جنگ کرنا فرض عین ہوجاتا ہے۔ (ہدایہ کتاب السیر) جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا جہاد اور قتال اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے اور اللہ کا دین پھیلانے کے لیے ہے اور جنگ برائے جنگ نہیں ہے اور جہاد کے لیے مستقل احکام ہیں جو حدیث اور فقہ کی کتابوں میں بیان کیے گئے ہیں۔ جہاد کے بعض احکام : صاحب ہدایہ لکھتے ہیں کہ جب مسلمان کافروں کے ملک میں داخل ہوں اور ان کے کسی شہر یا قلعہ کا محاصرہ کرلیں تو ان کو اسلام کی دعوت دیں اگر وہ دعوت قبول کرلیں اور اسلام لے آئیں تو جنگ کرنے سے رک جائیں، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ (لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ ) کی گواہی دیں اور مجھ پر اور میرے لائے ہوئے دین پر ایمان لائیں۔ (کما رواہ مسلم فی روایۃ) اور اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کریں تو ان کو جزیہ ادا کرنے کی دعوت دیں۔ اگر وہ جزیہ ادا کرنا منظور کرلیں تو پھر ان کے وہی حقوق ہو نگے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان کی وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو (ملک کی حفاظت کے سلسلے میں) مسلمانوں پر عائد ہوں گی (لیکن جزیہ کی دعوت مشرکین عرب کو نہیں دی جائے گی ان کے لیے اسلام ہے یا تلوار ہے) جن لوگوں کو دعوت اسلام نہیں پہنچی ان کو دعوت دئیے بغیر جنگ کرنا جائز نہیں۔ اور جن لوگوں کو دعوت اسلام پہنچ چکی ہے ان کے بارے میں مستحب ہے کہ پہلے ان کو دعوت جائے پھر قتال کیا جائے۔ اگر کفار قبول اسلام سے بھی انکاری ہوں اور جزیہ دینے پر بھی راضی نہ ہوں تو اللہ سے مددطلب کرکے ان سے جنگ کی جائے اور عورتوں کو اور بچوں کو اور بہت بوڑھے کو اور اپاہج کو اور اندھے کو قتل نہ کیا جائے۔ ہاں اگر ان میں سے کوئی شخص امور حرب میں رائے رکھنے والاہو یا عورت بادشاہ بنی ہوئی ہو تو ان کو قتل کردیا جائے (من الھدایۃ باب کیفیۃ القتال) مسلمانوں نے جب سے جہاد چھوڑا ہے دشمنوں نے ان پر قابو پایا ہوا ہے۔ اور ایسے معاہدوں میں جکڑ دیا ہے جن کی وجہ سے وہ کافروں پر حملہ نہ کرسکیں اور کافروں کا اپنا یہ حال ہے کہ معاہدوں کی پاسداری کے بغیر جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ سراسر خیر ہی ہے اس سے اسلام پھیلتا ہے کافروں پر حجت قائم ہوتی ہے۔ مسلمانوں میں قوت آجاتی ہے۔ دشمن مغلوب ہوتے ہیں اور مغلوب رہتے ہیں۔ مسلمان باعزت زندہ رہتے ہیں۔ اللہ کی مدد نازل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کرنا دشمنان دین کے مشوروں پر چلنا اور ان سے دبنا اسی نے تو عالم میں مسلمانوں کی ساکھ خراب کر رکھی ہے۔ مسلمانوں نے خدمت اسلام کے جذبہ کو چھوڑ دیا۔ حب جاہ، حب اقتدار نے ان کے چھوٹے چھوٹے ملک بنا دئیے، ہر ایک اپنے اقتدار کی ہوس میں ہے اور اقتدار باقی رکھنے کے لیے دشمنوں کا سہارا ڈھونڈتا ہے۔ اس طوائف الملو کی نے مسلمانوں کی طاقت کو منتشر کر رکھا ہے۔ آپس میں لسانی عصبیتوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کی جانوں کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔ دشمنوں کی شہہ پر اپنی و حدت ختم کر رکھی ہے۔ سارے عالم کے مسلمانوں کا اگر ایک ہی ملک ہوتا اور ایک ہی امیر المومنین ہوتا سارے مسلمان اسلام ہی کے لیے سوچتے اور اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے تو کسی دشمن کی ہمت نہ تھی کہ آنکھ اٹھا کر دیکھتا، دشمنوں نے عصبیتیں سمجھا کر بہت سارے چھوٹے چھوٹے ملک بھی بنوا دئیے اور جہاد سے بھی دور کردیا۔ لہٰذا اپنے قابو میں کچھ نہ رہا، ہمت کر کے آپس میں ایک ہوں تو اب بھی انشاء اللہ حال ٹھیک ہوجائے گا۔ مجاہدین کے فضائل حضرت ابوہریرہ، حضرت سہل بن سعد اور حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام کو نکلناساری دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے۔ (صحیح بخاری ص ٣٩٢ ج ١) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرورمیری خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں۔ (صیح بخاری ص ٣٩٢ ج ١) حضرت عبدالرحمن بن جبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی بندے کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوگئے اسے دوزخ کی آگ نہ چھوئے گی۔ (بخاری ص ٣٩٤ ج ١) حضرت انس بن مالک (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کیا کہ جو بھی کوئی شخص جنت میں داخل ہوگا وہ دنیا میں واپس آنے کی آرزو نہ کرے گا خواہ اس کو وہ سب کچھ مل جائے جو دنیا میں ہے سوائے شہید کے۔ وہ وہاں جو اپنا اعزاز دیکھے گا اس کی وجہ سے آرزو کرے گا کہ دنیا میں واپس چلا جاتا اور دس مرتبہ قتل کیا جاتا۔ (صحیح بخاری ص ٣٩٥ ج ١) حضرت سلمان فارسی (رض) نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اللہ کی راہ میں ایک دن ایک رات اسلامی ملک کی سرحد کی حفاظت میں گزارنا ایک ماہ کے روزے رکھنے اور راتوں رات ایک ماہ نمازوں میں قیام کرنے سے بہتر ہے۔ اگر یہ شخص اسی حالت میں وفات پا گیا تو (ثواب کے اعتبار سے) اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو عمل وہ کیا کرتا تھا اور اس کا رزق جاری رہے گا (اور قبر میں) فتنہ ڈالنے والوں سے پر امن رہے گا۔ (صحیح مسلم ص ١٤٢ ج ٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرگیا کہ اس نے جہاد نہیں کیا اور اس کے نفس میں جہاد کا خیال بھی نہ آیا تو وہ نفاق کے ایک شعبہ پر مرگیا۔ (صحیح مسلم ص ١٤١ ج ٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہوا اور اللہ ہی کو معلوم ہے کہ اس کی راہ میں کون زخمی ہوتا ہے تو وہ شخص قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا۔ رنگ تو خون کا ہوگا اور خوشبو مشک کی ہوگی۔ (صحیح بخاری ص ٣١٣ ج ٢ صحیح مسلم ص ١٢٣ ج ٢) جہاد میں مال خرچ کرنے کا ثواب : اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا بھی بڑا ثواب ہے۔ ایک شخص نے جہاد کے لیے ایک اونٹنی پیش کردی جس کو مہار لگی ہوئی تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تیرے لیے اس کے عوض قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ہوں گی ہر ایک کو مہار لگی ہوئی ہوگی (صحیح مسلم ص ١٣٧ ج ٢) (یعنی مہار لگی ہوئی سات سو اونٹنیاں خرچ کرنے کا ثواب ملے گا) ۔ جہاد میں شرکت کے لیے جانے والے کو سامان دے دینا جس سے وہ جنگ کرے اور کھائے پیئے اس کا بھی بہت بڑا ثواب ہے۔ حضرت زید بن خالد (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہ جس نے کسی فی سبیل اللہ جہاد کرنے والے کو سامان دیا اس نے (بھی) جہاد کیا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے گھر والوں کی خدمت میں خیر کے ساتھ رہا اس نے بھی جہاد کیا۔ (صحیح بخاری ص ٣٩٩ ج ١) جہاد پر دشمنان اسلام کا اعتراض اور اس کا جواب : دشمنان اسلام نے جہاد کو بہت مکروہ طریقہ پر پیش کیا ہے اول تو اسلام کی دشمنی میں اسلام کی دعوت کو نہیں سمجھتے۔ اسلام کی دعوت یہ ہے کہ سارے انسان اللہ کو وحدہ لاشریک مانیں اس کے سب رسولوں اور سب کتابوں پر ایمان لائیں۔ خاتم النبیین محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کا نبی اور رسول مانیں، قرآن پر ایمان لائیں اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی طرف سے جو شریعت پیش کی ہے اس کو مانیں، جو شخص یہ سب قبول کرے گا وہ مسلم ہوگا۔ اللہ کا فرمانبر دار ہوگا۔ مستحق جنت ہوگا۔ اور جو شخص اس دین و شریعت کو قبول نہ کرے گا۔ وہ کافر ہوگا۔ مستحق دوزخ ہوگا۔ ہمیشہ ہمیشہ آگ کے دائمی عذاب میں رہے گا۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے جب مسلمان کافروں سے جنگ کریں تو انہیں پہلے اسلام کی دعوت دیں اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو کوئی لڑائی نہیں جنگ نہیں۔ قتال نہیں، اگر اسلام کو قبول نہ کریں تو ان سے جزیہ دینے کو کہا جائے گا۔ پھر اگر جزیہ دینا بھی قبول نہ کریں تو جنگ کی جائے۔ جہاد کا مقصود اعلی کافروں کو دین حق کی طرف بلانا ہے تاکہ وہ جنت کے مستحق ہوجائیں اگر جنگ کرکے کسی قوم کو دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کرلیا تو اس میں ان کے ساتھ احسان ہی کیا، کسی قوم کے تھوڑے سے افراد جنگ میں کام آگئے اور اکثر افراد نے اسلام قبول کرلیا تو مجموعی حیثیت سے اس قوم کا فائدہ ہی ہوگا، اگر کوئی قوم اسلام قبول نہ کرے اور جزیہ دینے پر راضی ہوجائے اور اس طرح مسلمانوں کی عملداری میں رہنا قبول کرے تو اس میں بھی اس قوم کا فائدہ ہے کہ دنیاوی اعتبار سے ان کی جانیں محفوظ ہوگئیں اور آخرت کے اعتبار سے یہ فائدہ ہوا کہ انہیں دین اسلام کے بارے میں غور کرنے کا موقع مل گیا۔ مسلمانوں کی اذانیں سنیں گے، نمازیں دیکھیں گے۔ مسلمانوں کا جو اللہ سے تعلق ہے اور جو مخلوق کے ساتھ ان کے معاملات ہیں وہ سامنے آئیں گے۔ مسلمانوں کے زہد وتقویٰ سے متاثر ہوں گے۔ اس طرح سے اقرب ہے کہ وہ اسلام قبول کرلیں اور کفر سے بچ جائیں اور آخرت کے عذاب سے محفوظ ہوجائیں۔ رہا جزیہ تو وہ ان کی جانوں کی حفاظت کا بدلہ ہے اور وہ بھی سب پر نہیں ہے۔ اور زیادہ نہیں ہے۔ اس ساری تفصیل سے سمجھ لینا چاہیے کہ جہاد میں کافروں کی خیر خواہی پیش نظر ہے اگر کافروں کی کوئی جماعت اسلام بھی قبول نہ کرے اور جزیہ دینا بھی منظور نہ کرے تو ان کے ساتھ جنگ اور قتل و قتال کا معاملہ ہوگا، کافر اللہ کا باغی ہے۔ کفر بہت بڑی بغاوت ہے۔ مجازی حکومتوں میں سے کسی حکومت کا کوئی فردیا جماعت بغاوت کرے تو اس کو سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے اللہ کے باغی جو اس کی زمین پر بستے ہیں اس کا دیاکھاتے ہیں اس کی عطا کی ہوئی نعمتیں کام میں لاتے ہیں مگر اللہ پر ایمان نہیں لاتے اگر اللہ کو مانتے ہیں تو اس کے ساتھ غیر اللہ کی بھی عبادت کرتے ہیں۔ بتوں کو پوجتے ہیں اور بہت سے خدا مانتے ہیں ایسے لوگ اس قابل کہاں ہیں کہ خدا کی زمین پر زندہ رہیں، اللہ کے وفادار بندے جنہوں نے اللہ کے دین کو قبول کرلیا اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہیں پھر ان باغیوں کے منکر ہونے کے بعد اللہ کے وفادار بندے ان کو قتل کردیں تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے ؟ دنیا سے کفر و شرک مٹانے کے لیے اور خالق ومالک جل مجدہ، کے باغیوں کی سرکوبی کے لیے جو اسلام میں جہاد شروع کیا گیا ہے اس پر تو دشمنوں کو اعتراض ہے۔ لیکن صدیوں دشمنان اسلام خاص کر یورپ کے لوگ جو ایشیا کے ممالک پر قبضہ کرتے رہے ہیں اور اس سلسلہ میں جو لاکھوں کروڑوں خون ہوئے ہیں۔ ١٨٥٧ ء میں جو انگریزوں نے ہندوستانیوں کا قتل عام کیا ہے اور ١٩٤١ ء اور ١٩٤٢ ء میں جو عالمی جنگیں ہوئی تھیں اور ہیرو شیما پر جو بم پھینکا گیا اور ایک طویل زمانہ تک جو صلیبی جنگیں ہوئی ہیں جن میں لاکھوں انسان تہ تیغ ہوئے یہ سب کچھ کونسی خیر پھیلانے کے لیے ہوئے ؟ کیا اس میں ملک گیری کی ہوس اور کفر و شرک پھیلانے کے عزائم اور دین اسلام کو مٹانے کے ارادے نہیں تھے ؟ یہ ان لوگوں کی حرکتیں ہیں جو سیدنا حضرت عیسیٰ علی نبینا و (علیہ السلام) سے نسبت رکھنے کے جھوٹے دعوے دار ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم یہ تھی کہ کوئی شخص تمہارے رخسار پر ایک طمانچہ مارے تو دوسرا رخسار بھی اس کے سامنے کردو، اور مشرکین ہند کو دیکھو جن کے یہاں ہتھیا کرنا بہت بڑا پاپ ہے جو چوہا مارنے کو برا جانتے ہیں وہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں اور برابر فساد کرتے ہیں اور اسلامی جہاد پر اعتراض کرنے والے اپنے آئینہ میں اپنا منہ نہیں دیکھتے اور جو لوگ اللہ کے باغی ہیں ان کی بغاوت کو کچلنے والوں کے جہاد اور قتال پر اعتراض کرتے ہیں، سچ ہے۔ اپنے عیبوں کی کہاں آپ کو کچھ پروا ہے ؟ غلط الزام بھی اوروں پر لگا رکھا ہے ! یہ ہی فرماتے رہے تیغ سے پھیلا اسلام یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیلا ہے ؟ ممکن ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو : آیت بالا میں جہاد کی فرضیت بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : (وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْءًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْءًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ) (کہ ممکن ہے تمہیں کوئی چیز ناگوار ہو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تمہیں کوئی چیز محبوب ہو اور وہ تمہارے لیے بری ہو) سیاق کلام کے اعتبار سے تو اس کا تعلق جہاد اور قتال سے ہے کہ طبعی طور پر جہاد ناگوار معلوم ہوتا ہے لیکن نتائج اور ثمرات کے اعتبار سے تمہارے لیے بہتر ہے۔ اور جہاد چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ جانا اور کاروبار میں لگنا تمہاری محبوب چیز ہے لیکن حقیقت میں جہاد کا چھوڑ دینا تمہارے حق میں شر ہے، اور اس کے چھوڑ دینے سے بہت سی خیر سے محرومی ہے اور برے نتائج سامنے آنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن انداز بیان ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ جہاد کے علاوہ بھی بہت سے امور کو شامل ہے، عموماً انسان بعض چیزوں کو مکروہ جانتا ہے لیکن اس کے لیے وہ بہتر ہوتی ہیں اور بہت سی چیزوں کو پسند کرتا ہے لیکن حقیقت میں وہ اس کے لیے مضر ہوتی ہیں اور یہ ایسی بات ہے جس کا رات دن تجربہ ہوتا رہتا ہے۔ لہٰذا خیر اسی میں ہے کہ اللہ کے احکام مانیں اور ان ہی پر چلیں۔ آخر میں ارشاد فرمایا : (وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) کہ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے، کیونکہ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے۔ اسے اپنی مخلوق کا نفع و ضرر اور مصلحت سب کچھ معلوم ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

415 مضمونِ جہاد کا تیسری باز ذکر۔ کُرْہْ سے طبعاً ناپسندیدہ چیز مراد ہے۔ مال وجان کا ضیاع ہمیشہ انسانی طبیعت کو گراں محسوس ہوتا ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ صحابہ کرام کو اللہ تعالیٰ کا امر بالجہاد ناپسند تھا۔ ای شاق علیکم قال بعض اھل المعانی ھذا لکرہ من حیث نفور الطبع عنہ لما فیہ من مؤنۃ الحال ومشقۃ النفس وخطر الروح لا انھم کر ھو امر اللہ تعالیٰ (معالم ص 171 ج 1) عَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ بعض چیزیں اپنے ظاہری اور مادی نقصانات کی وجہ سے تمہیں ناپسند ہوں اور تم انہیں اچھا نہ سمجھتے ہو مگر انجام کے لحاظ سے اور پوشیدہ فوائد کے لحاظ سے وہ تمہارے لیے خیر و برکت اور فلاح دارین کا باعث ہوں۔ مثلاً جہاد ہی کو لے لیجئے جو بظاہر قتل و خونریزی اور مال وجان کے ضیاع کی وجہ سے تمہیں ناپسند ہے مگر اس کا انجام بہتر ہے۔ کیونکہ جہاد ہی سے تم اپنا اور اپنے دین کا نام دنیا میں سر بلند کرسکتے ہو۔ اس کے وقار اور اس کی شان و شوکت کو قائم رکھ سکتے ہو۔ جہاد ہی سے تم اپنی عزت وآبرو اور اپنے مال وجان کی حفاظت کرسکتے ہو اور جہاد ہی سے تم غازیوں اور شہیدوں کے درجات حاصل کرسکتے ہو۔ اس سے بھی مسلمانوں کو جہاد پر آمادہ کرنا مقصود ہے۔416 اسی طرح یہ بھی عین ممکن ہے کہ ایک چیز کے ظاہری فوائد کی وجہ سے تم اسے پسند کرو مگر حقیقت میں وہ چیز تمہارے حق میں سخت مضر ہو۔ مثلاً جہاد میں شرکت نہ کرنے اور آرام و راحت سے گھر بیٹھے رہنے کو تم پسند کرتے ہو۔ اس لیے کہ اس طرح مال وجان محفوظ رہے گا۔ لیکن در اصل ترک جہاد میں تمہارا سراسر نقصان اور خسارہ دارین ہے۔ کیونکہ اس طرح تم کافروں کے ہاتھوں ذلیل ہوجاؤ گے۔ وہ تمہارا ستیاناس کردیں گے۔ مال لوٹ لیں گے۔ عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیں گے۔ تمہارے شہروں پر قبضہ کرلیں گے۔ اور تمہارا دین دنیا سے مٹاڈالیں گے۔ یہ دوسری طرز پر جہاد کی ترغیب ہے۔ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَاللہ تعالیٰ کا علم کامل اور ہر چیز پر حاوی ہے۔ انسان کا علم ناقص اور محدود ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے فوائد اور نقصانات سے بخوبی آگاہ اور ہر کام کی حکمتوں کو جانتا ہے۔ لہذا اس نے جو جہاد کا حکم دیا ہے اس میں یقیناً مسلمانوں کی بھلائی اور بہتری ہے

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 مسلمانو ! تم پر جہاد کرنا فرض کیا گیا ہے اور وہ جہادتم پر اپنی طبیعت کے اعتبار سے شاق اور گراں معلوم ہوتا ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تم پر گراں اور شاق ہو اور وہ حقیقت میں تمہارے لئے بہتر ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی کام کو پسند کرتے ہو اور کوئی امر تم کو مرغوب و محبوب ہو اور وہ حقیقتاً تمہارے لئے شر اور موجب خرابی اور ہلاکت ہو اور ہر شے کی بری بھلی حقیقت کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم صحیح طورپر نہیں جانتے کہ تمہارے حق میں کیا چیز اچھی اور نافع ہے اور کیا چیز بری اور ضرر رساں ہے۔ جہا د و قتال کے متعلق ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں کہ جہاد ایک آئینی لڑائی کو کہتے ہیں جو محض اپنے تحفظ اور دین حق کی آزادی اور اعلاء کلمۃ اللہ کی غرض سے لڑی جاتی ہے اور مقصد محض یہ ہوتا ہے کہ دین حق پر عمل کرنے میں مخالفوں کی طرف سے کوئی مزاحمت نہ کی جائے جہاد فرض کفایہ ہے اگر ایک جماعت مسلمانوں کی جہاد کرتی رہے تو دوسروں پر ضروری اور فرض نہیں البتہ اگر کفار یلغار کردیں اور دشمن کا ہجوم ہو تو اس وقت جہاد فرض عین ہوجاتا ہے جہاد کی بہت سی شرطیں ہیں جن کا متحقق ہونا جہاد کے لئے ضروری ہے اگر شرطیں متحقق نہ ہوں تو جہاد فرض نہیں ہوگا چونکہ جہاد میں ترک وطن کرنا پڑتا ہے اور مال خرچ ہوتا ہے اور مختلف تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے ہر شخص پر طبعاً گراں ہوتا ہے اور یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ناپسند اور گراں ہوتا ہے طبعات کسی کا م کا شاق ہونا اور بات ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر اس کو حق سمجھنا اور اس پر عمل کرنا اور بات ہے اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ہر حکم کی حکمت اورا سکی حقیقت مصلحت کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا اور بات ہے۔ اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ہر حکم کی حکمت اور اسکی حقیقی مصلحت کو سمجھنا ہمارے علم اور ہماری عقل سے بالاتر ہے ایک جہاد پر کیا موقوف ہے عام ادا مرِ الٰہیہ کا یہی حال ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے ان کی مصالح کا پوری طرح کون احاطہ کرسکتا ہے ہم جہاد اور قتال کو ایک خطرناک چیز سمجھتے ہیں لیکن کون جانتا ہے کہ جہاد میں مسلمانوں کی زندگی مضمر ہے۔ حضر ت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں ہے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہاد تمہارے اوپر واجب ہے ہر امیر کے جھنڈے کے نیچے جہاد کرو خواہ وہ امیر نیک اور صالح ہو یا فاسق و فاجر ہو۔ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت میں ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ مکہ فتح ہوجانے کے بعد مکہ سے ہجرت کرنا ختم ہوگیا مگر ہاں جہاد اور نیت باقی ہے جب تم کو بلایاجائے اور جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو نکل آیا کرو۔ (تسہیل)