Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 224

سورة البقرة

وَ لَا تَجۡعَلُوا اللّٰہَ عُرۡضَۃً لِّاَیۡمَانِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡا وَ تَتَّقُوۡا وَ تُصۡلِحُوۡا بَیۡنَ النَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۲۴﴾

And do not make [your oath by] Allah an excuse against being righteous and fearing Allah and making peace among people. And Allah is Hearing and Knowing.

اور اللہ تعالٰی کو اپنی قسموں کا ( اس طرح ) نشانہ نہ بناؤ کہ بھلائی اور پرہیزگاری اور لوگوں کے درمیان کی اصلاح کو چھوڑ بیٹھو اور اللہ تعالٰی سننے والا جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Prohibition of swearing to abandon a Good Deed Allah commands, وَلاَ تَجْعَلُواْ اللّهَ عُرْضَةً لاِّاَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّواْ وَتَتَّقُواْ وَتُصْلِحُواْ بَيْنَ النَّاسِ وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ And make not Allah's (Name) an excuse in your oaths against doing good and acting piously, and making peace among mankind. And Allah is All-Hearer, All-Knower (i.e., do not swear much and if you have sworn against doing something good then give an expiation for the oath and do good). Allah commands, `You should not implement your vows in Allah's Name to refrain from pious acts and severing the relations with the relatives, if you swear to abandon such causes.' Allah said in another Ayah: وَلاَ يَأْتَلِ أُوْلُواْ الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُوْتُواْ أُوْلِى الْقُرْبَى وَالْمَسَـكِينَ وَالْمُهَـجِرِينَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُواْ وَلْيَصْفَحُواْ أَلاَ تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ (And let not those among you who are blessed with graces and wealth swear not to give (any sort of help) to their kinsmen, Al-Masakin (the poor), and those who left their homes for Allah's cause. Let them pardon and forgive. Do you not love that Allah should forgive you! (24:22) Continuity in a sinful vow is more sinful than breaking it by expiation. Allah's Messenger said: وَاللهِ لاَاَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ اثَمُ لَهُ عِنْد اللهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللهُ عَلَيْه By Allah! It is more sinful to Allah that one of you implements his vow regarding (severing the relations with) his relatives than (breaking his promise and) paying the Kaffarah that Allah has required in such cases. This is how Muslim reported this Hadith and also Imam Ahmad. Ali bin Abu Talhah reported that Ibn Abbas said that what Allah said: وَلاَ تَجْعَلُواْ اللّهَ عُرْضَةً لاِّاَيْمَانِكُمْ (And make not Allah's (Name) an excuse in your oaths) means, "Do not vow to refrain from doing good works. (If you make such vow then) break it, pay the Kaffarah and do the good work." This was also said by Masruq, Ash-Sha`bi, Ibrahim An-Nakhai, Mujahid, Tawus, Sa`id bin Jubayr, Ata, Ikrimah, Makhul, Az-Zuhri, Al-Hasan, Qatadah, Muqatil bin Hayyan, Ar-Rabi bin Anas, Ad-Dahhak, Ata Al-Khurasani and As-Suddi. Supporting this view, which is the majority view, is what is reported in the Two Sahihs that Abu Musa Al-Ashari narrated that Allah's Messenger said: إِنِّي وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ لاَ أَحْلِفُ عَلى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا By Allah! Allah willing, I will not vow to do a thing and then see a better act, but I would do what is better and break my vow. Muslim reported that Abu Hurayrah said that Allah's Messenger said: مَنْ حَلَفَ عَلى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْر Whoever makes a vow and then finds what is better than his vow (should break his vow) pay the Kaffarah and perform the better deed.

قسم اور کفارہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی اور صلہ رحمی کے چھوڑنے کا ذریعہ اللہ کی قسموں کو نہ بناؤ ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ) 24 ۔ النور:22 ) یعنی وہ لوگ جو کشادہ حال اور فارغ البال ہیں وہ قرابت داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے پر قسمیں نہ کھا بیٹھیں ، انہیں چاہئے کہ معاف کرنے اور درگزر کرنے کی عادت ڈالیں ، کیا تمہاری خود خواہش نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے ، اگر کوئی ایسی قسم کھا بیٹھے تو اسے چاہئے کہ اسے توڑ دے اور کفارہ ادا کر دے ، صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ہم پیچھے آنے والے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے بڑھنے والے ہیں ، فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ایسی قسم کھا لے اور کفارہ ادا نہ کرے اور اس پر اَڑا رہے وہ بڑا گنہگار ہے ، یہ حدیث اور بھی بہت سی سندوں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں ۔ حضرت مسروق وغیرہ بہت سے مفسرین سے بھی یہی مروی ہے ، جمہور کے ان اقوال کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم انشاء اللہ میں اگر کوئی قسم کھا بیٹھوں گا اور اس کے توڑنے میں مجھے بھلائی نظر آئے گی تو میں قطعاً اسے توڑ دوں گا اور اس قسم کا کفارہ ادا کروں گا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن سمرہ سے فرمایا اے عبدالرحمن سرداری امارت اور امامت کو طلب نہ کر اگر بغیر مانگے تو دیا جائے گا تو اللہ کی جانب سے تیری مدد کی جائے گی اور اگر تو نے آپ مانگ کر لی ہے تو تجھے اس کی طرف سونپ دیا جائے گا تو اگر کوئی قسم کھا لے اور اس کے خلاف بھی بھلائی دیکھ لے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور اس نیک کام کو کر لے ( بخاری و مسلم ) صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ جو شخص کوئی قسم کھا لے پھر اس کے سوا خوبی نظر آئے تو اسے چاہئے کہ اس خوبی والے کام کو کرلے اور اپنی اس قسم کو توڑ دے اس کا کفارہ دے دے ، مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ۔ ابو داؤد میں ہے نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ہی ہے نہ رشتوں ناتوں کو توڑتی ہے جو شخص کوئی قسم کھا لے اور نیکی اس کے کرنے میں ہو تو وہ قسم کو چھوڑ دے اور نیکی کا کام کرے ، اس قسم کو چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں کل کی کل صحیح احادیث میں یہ لفظ ہیں کہ اپنی ایسی قسم کا کفارہ دے ، ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ ایسی قسم کا پورا کرنا یہی ہے کہ اسے توڑ دے اور اس سے رجوع کرے ، ابن عباس سعید بن مسیب مسروق اور شعبی بھی اسی کے قائل ہیں کہ ایسے شخص کے ذمہ کفارہ نہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

224۔ 1 یعنی غصے میں اس طرح کی قسم مت کھاؤ کہ فلاں کے ساتھ نیکی نہیں کروں گا فلاں سے نہیں بولوں گا فلاں کے درمیان صلح نہیں کراؤں گا۔ اس قسم کی قسموں کے لئے حدیث میں کہا گیا ہے اگر کھالو تو انہیں توڑ دو اور قسم کا کفارہ ادا کرو (کفارہ قسم کے لئے دیکھئے (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ باللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ۚ فَكَفَّارَتُهٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِيْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ ۭ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ ۭذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ ۭ وَاحْفَظُوْٓا اَيْمَانَكُمْ ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 89؀) 005:089

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٠٠] یعنی کوئی اچھا کام نہ کرنے پر اللہ کی قسم کھا کر اللہ کے نام کو بدنام نہ کرو جیسے یہ قسم کہ میں اپنے ماں باپ سے نہ بولوں گا یا بیوی سے اچھا سلوک نہ کروں گا یا فلاں کو صدقہ نہ دوں گا یا یہ کہ اب میں کسی کے درمیان مصالحت نہ کراؤں گا۔ یعنی برائی کے کاموں میں اللہ کے نام کا استعمال مت کرو اور اگر کسی نے یہ کام کیا ہو تو اسے چاہیے کہ قسم توڑ ڈالے اور اس کا کفارہ ادا کرے۔ چناچہ آپ نے حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) کو حکم دیا کہ اگر تو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھے تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور جس کام کو بہتر سمجھے وہی کر۔ (بخاری، کتاب الایمان والنذور)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

بعض لوگ غصے میں آکر کسی نیک کام کے نہ کرنے کی قسم کھالیتے اور پھر اس قسم کو نیکی سے باز رہنے کے لیے آڑ بنا لیتے۔ اس آیت میں اس قسم کے لوگوں کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں اس لیے نہ کھاؤ کہ نیکی، پرہیزگاری اور لوگوں میں صلح کرانے جیسے نیک کاموں سے باز رہنے کا بہانہ ہاتھ آجائے، کیونکہ غلط قسم پر اڑے رہنا گناہ ہے۔ دیکھیے سورة نور (٢٢) ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبد الرحمان بن سمرہ (رض) سے فرمایا : ” جب تم کسی بات پر قسم کھالو، پھر دیکھو کہ دوسرا کام اس سے بہتر ہے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بہتر ہے۔ “ [ بخاری، الأیمان والنذور، باب قول اللہ تعالیٰ : ( لا یؤاخذکم اللہ ۔۔ ) : ٦٦٢٢ ] قسم کے کفارے کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (٨٩) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Verse warns those who swear in the name of Allah that they will not do some vituous deeds or that they will not effect a compromise between two groups. The Verse reminds them that by this behaviour they are using the name of Allah as a barrier against the good deeds, which is a severe violation of the sanctity of the name of Allah, and they must avoid it in any case,

خلاصہ تفسیر : حکم نمر ٢٠ نیک کام نہ کرنے کی قسم کی ممانعت : اور اللہ کے نام کو اپنی قسموں کے ذریعے ان امور کا حجاب مت بناؤ کہ تم نیکی کے اور تقویٰ کے اور اصلاح فیما بین خلق کے کام کرو (یعنی اللہ کے نام کی یہ قسم نہ کھاؤ کہ ہم یہ نیک کام نہ کریں گے) اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتے جانتے ہیں (تو زبان سنبھال کر بات کرو اور دل میں برے خیالات مت لاؤ )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لِّاَيْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَـتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَيْنَ النَّاسِ۝ ٠ ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝ ٢٢٤ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ ( عرضة) ، قد تکون بمعنی العارض أي الحاجز أو المعروض کالقبضة والغرفة بمعنی المقبوض والمغروف، وهو الشیء الذي يعرض وينصب . برَّ ومن العبد الطاعة . وذلک ضربان : ضرب في الاعتقاد . وضرب في الأعمال، وقد اشتمل عليه قوله تعالی: لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ [ البقرة/ 177] وعلی هذا ما روي «أنه سئل عليه الصلاة والسلام عن البرّ ، فتلا هذه الآية» «1» . فإنّ الآية متضمنة للاعتقاد والأعمال الفرائض والنوافل . وبِرُّ الوالدین : التوسع في الإحسان إليهما، وضده العقوق، قال تعالی: لا يَنْهاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ [ الممتحنة/ 8] ( ب رر) البر ( نیکی ) دو قسم پر ہے اعتقادی اور عملی اور آیت کریمہ ؛۔ لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ [ البقرة/ 177] ( آلایۃ ) دونوں قسم کی نیکی کے بیان پر مشتمل ہے ۔ اسی بنا ہر جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بر کی تفسیر دریافت کی گئی ثو آن جناب نے جوابا یہی آیت تلاوت فرمائی کیونکہ اس آیت میں عقائد و اعمال فرائض و نوافل کی پوری تفصیل بتائی جاتی ہے ۔ برالوالدین کے معنی ہیں ماں اور باپ کے ساتھ نہایت اچھا برتاؤ اور احسان کرنا اس کی ضد عقوق ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا يَنْهاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ [ الممتحنة/ 8] جن لوگون میں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا ہے ۔ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے ولاتجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم ان تبروا وتتقواوتصلحوا بین الناس واللہ سمیع علیم۔ اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لئے استعمال نہ کرو جن سے مقصود نیکی اور تقویٰ اور بندگان خدا کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو۔ اللہ تمہاری ساری باتیں سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے) ۔ اس آیت کی دوتفسیریں کی گئیں ہیں اول یہ کہ وہ اپنی قسم کو نیکی، تقوی اور بندگان خدا کی بھلائی کے کاموں کے لئے رکاوٹ بنا دے جب اس سے ان کاموں کو سرانجام دینے کا مطالبہ کیا جائے تو کہہ دے کہ میں نے تو ان کاموں کے نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اور اس طرح وہ اپنی قسم کو اپنے اور نیکی کے کاموں کے درمیان حائل بنا دے یا یہ کہ نیکی تقوی اور بھلائی کے کاموں پر مامور ہے اگر وہ ان کاموں کے نہ کرنے کی قسم کھائے گا تو اللہ کے حکم کی مخالفت کرے گا۔ اس لئے اسے اپنی قسم توڑ کرنی کی کے یہ کام کرلینے چاہئیں۔ مجاہد، سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی، حسن بصری اور طائوس سے یہی منقول ہے اس کی نظیر یہ قول باری ہے ولایاتل اولوا الفضل منکم والسعۃ ان یوتوا اولی القربی والمساکین والمھاجرین فی سبی اللہ اور تم سے جو صاحب حیثیت اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ اشعث نے ابن سیرین سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر کے پاس دو یتیم پرورش پا رہے تھے ایک کا نام مسطح تھا یہ غزوہ بدر میں بھی شامل ہوچکا تھا۔ جب افک کا مشہور واقعہ پیش آیا تو مسطح اس معاملے میں مخالفین کے ہتھے چڑھ گیا۔ حضرت ابوبکر (رض) کو اس سے بڑا غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ ان دونوں کے ساتھ نہ صلہ رحمی کریں گے اور نہ ہی ان کی کوئی مددکریں گے۔ اس پر یہ آیت ولایاتل اولوا الفضل منکم۔ نازل ہوئی۔ حضرت ابوبکر نے ایک کے لئے کپڑے بنا دیئے اور دوسرے کو سواری مہیا کردی ہم نے زیر بحث آیت کا جو مفہوم بیان کیا ہے سنت میں بھی اسی مفہوم کی روایتیں موجود ہیں۔ حضرت انس بن مالک (رض) ، حضرت عدی بن حاتم اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کا یہ قول نقل کیا ہے من حلف علی یمین فوا غیرھا، خیراً منھا خلیات الذی ھو خیر ولیکفرعن یمینہ جو شخص کسی بات کی قسم کھا بیٹھے اور پھر دیکھے کہ کوئی دوسری بات اس سے بہتر ہے تو وہ بہتر بات پر عمل کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ آیت زیر بحث کی جو تاوایل ہم نے کی ہے اس کے بھی یہی معنی ہیں اس تاویل کی بنیاد پر قول باری ولاتجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس کی قسم اسے بھلائی کے کاموں سے نہ روکے بلکہ وہ بھلائی کے کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ قول باری عرضۃ لایمانکم۔ سے مراد ہے کثرت سے اللہ کی قسمیں کھانا۔ یہ بات اللہ کے مقابلے میں دلیری کرنے اور ہر الٹے سیدھے کام میں اس کے نام کے بےجا استعمال کی ایک صورت ہے یعنی کثرت سے اللہ کے نام کی قسمیں نہ کھائو تاکہ کم قسمیں کھانے کی صورت میں) ان قسموں کو پورا کرسکو اور قسم توڑنے کے گناہ سے بچ سکو حضرت عائشہ (رض) سے اسی قسم کی ایک روایت ہے۔ جو شخص کسی شئے کا کثرت سے ذکر کرتا ہے وہ اسے نشانہ بنالیا ہے جیسا کہ کوئی کہنے والا یہ کہے کہ ” تم نے تو مجھے نشانہ ملامت بنا لیا ہے “ (جب کوئی شخص کسی کو کثرت سے ملامت کرے تو اس وقت یہ فقرہ بولا جاتا ہے) شاعر کا قول ہے۔ لاتجعلینی عرضۃ اللوائم۔ اے محبوبہ ! تو مجھے ملازمت کرنے والی عورتوں کا نشانہ نہ بنا۔ اللہ تعالیٰ نے کثرت سے قسم کھانے والوں کی مذمت کی ہے۔ قول باری ہے ولاتطع کل حلاف مھین تم ایسے ہر شخص کی بات نہ مانو جو بہت زیادہ قسمیں کھانے والا ذلیل ہے۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ کے نام کو نشانہ نہ بنائو اور اسے ہر الٹے سیدھے کام میں استعمال نہ کرو تاکہ جب تمہاری قسمیں کم ہوں تو تم انہیں پورا کرسکو اور قسم توڑنے کے گناہ سے بچ جائو۔ اس لئے کہ قسموں کی کثرت نیکی اور تقوی سے دور اور گناہ نیز اللہ کے سامنے دلیری کے اظہار سے قریب کردیتی ہے گویا کہ معنی یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کثرت سے قسمیں کھانے اور اس کے سامنے دلیری کے اظہار سے روک رہا ہے کیونکہ ان سے باز رہنے میں ہی نیکی تقوی اور بھلائی ہے۔ اس طرح تم ان سے باز رہ کرنیکوکار اور پرہیزگار بن سکتے ہو اس لئے کہ قول باری ہے کنتم خیرامۃ اخرجت للناس اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے) چونکہ زیر بحث آیت میں مذکورہ بالا دونوں تاویلوں کا احتمال ہے اس طرح یہ آیت اللہ کے نام کے بےجا استعمال اور ہرالٹی سیدھی بات میں اس کی قسمیں کھا کر اسے نشانہ بنانے کی ممانعت کا فائدہ دے گی۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات کی بھی ممانعت ہوجائے گی کہ کوئی شخص اپنی قسم کو نیکی، تقویٰ اور بھلائی سے باز رہنے کا ذریعہ نہ بنائے خواہ وہ کثرت سے قسمیں نہ بھی کھاتا ہو۔ بلکہ اس پر یہ واجب ہے کہ کثرت سے قسمیں نہ کھائے اور جب کوئی قسم کھالے تو اسے پورا کرنے سے باز نہ رہے بشرطیکہ اس کی قسم طاعت نیکی تقوی اور بھلائی کے کسی کام کے لئے ہو جیسا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے من حلف علی یمین قراء غیرھا خیراً منھا خلیات الذی موخیرولیکفرعن یمینہ۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٢٤) یہ آیت حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے اس بات کی قسم کھالی تھی کہ اپنی بہن اور داماد کے ساتھ حسن سلوک نہیں کریں گے اور نہ ان سے بات چیت کریں گے اور نہ ان کے درمیان صلح کرائیں گے، اس چیز کی اللہ تعالیٰ نے ممانعت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی قسموں کے لیے پردہ مت بناؤ، کہ نہ نیکی کریں گے اور نہ قطع رحمی سے ہٹیں گے اور صلح کریں گے بلکہ جو اچھا اور بہتر کام ہو وہ کرو اور اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرتے رہو اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ کسی کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک نہیں کریں گے بلکہ ترک احسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی قسم کھانے سے بچو اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ، یعنی لوگوں میں اختلافات اور تقسیم کا عمل اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے اس سے بچتے رہو۔ شان نزول : ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم (الخ) ابن جریر (رح) نے ابن جریج (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے کہ جب انہوں نے مسطح کے بارے میں حسن سلوک نہ کرنے کی قسم کھالی تھی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٢٤ (وَلاَ تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِاَّیْمَانِکُمْ ) (اَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ ط) یعنی اللہ تعالیٰ کے عظیم نام کو استعمال کرتے ہوئے ایسی قسمیں مت کھاؤ جو نیکی وتقویٰ اور مقصد اصلاح کے خلاف ہوں۔ کسی وقت غصے ّ میں آکر آدمی قسم کھا بیٹھتا ہے کہ میں فلاں شخص سے کبھی حسن سلوک اور بھلائی نہیں کروں گا ‘ اس سے روکا گیا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے بھی اسی طرح کی قسم کھالی تھی۔ مِسطَح ایک غریب مسلمان تھے ‘ جو آپ (رض) کے قرابت ‘ دار بھی تھے۔ ان کی آپ (رض) مدد کیا کرتے تھے۔ جب حضرت عائشہ صدیقہ (رض) پر تہمت لگی تو مسطح بھی اس آگ کے بھڑکانے والوں میں شامل ہوگئے۔ حضرت ابوبکر (رض) ان کے طرز عمل سے بہت رنجیدہ خاطر ہوئے کہ میں تو اس کی سرپرستی کرتا رہا اور یہ میری بیٹی پر تہمت لگانے والوں میں شامل ہوگیا۔ آپ (رض) نے قسم کھائی کہ اب میں کبھی اس کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ واقعہ سورة النور میں آئے گا۔ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم ایسا نہ کرو ‘ تم اپنی نیکی کے دروازے کیوں بند کرتے ہو ؟ جس نے ایسی قسم کھالی ہے وہ اس قسم کو کھول دے اور قسم کا کفارہ دے دے۔ اسی طرح لوگوں کے مابین مصالحت کرانا بھی ضروری ہے۔ دو بھائیوں کے درمیان جھگڑا تھا ‘ آپ نے مصالحت کی کوشش کی لیکن آپ کی بات نہیں مانی گئی ‘ اس پر آپ نے غصے میں آکر کہہ دیا کہ اللہ کی قسم ‘ اب میں ان کے معاملے میں دخل نہیں دوں گا۔ اس طرح کی قسمیں کھانے سے روکا گیا ہے۔ اور اگر کسی نے ایسی کوئی قسم کھائی ہے تو وہ اسے توڑ دے اور اس کا کفارہّ دے دے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

243. Authentic Traditions indicate that if a person takes a vow and discovers later that righteousness and common good are best served by breaking that vow then he should do so. Expiation consists in either feeding or providing clothes for ten poor people, or setting free a slave, or fasting for three days (see 5: 89) .

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :243 احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے کسی بات کی قسم کھائی ہو اور بعد میں اس پر واضح ہو جائے کہ اس قسم کے توڑ دینے ہی میں خیر اور بھلائی ہے ، اسے قسم توڑ دینی چاہیے اور کفارہ ادا کرنا چاہیے ۔ قسم توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انہیں کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا یا تین دن کے روزے رکھنا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو سُورہ مائدہ ، آیت ۸۹ )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

146: بعض مرتبہ انسان کسی وقتی جذبے سے مغلوب ہو کر قسم کھالیتا ہے کہ فلاں کام نہیں کروں گا، حالانکہ وہ نیک کام ہوتا ہے، مثلاً ایک مرتبہ حضرت مسطح (رض) سے ایک غلطی ہوگئی تھی توحضرت صدیق اکبر (رض) نے یہ قسم کھالی تھی کہ آئندہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے، یا جیسے روح المعانی میں ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے اپنے بہنوئی کے بارے میں قسم کھالی تھی کہ وہ ان سے بات نہیں کریں گے، اور نہ ان کی بیوی سے ان کی صلح کرائیں گے، یہ آیت ایسی قسم کھانے سے منع کررہی ہے، کیونکہ اس طرح اللہ کا نام ایک غلط مقصد میں استعمال ہوتا ہے، اور صحیح حدیث میں آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی نامناسب قسم کھالے تو اسے توڑدینا چاہئے اور اس کا کفارہ ادا کرنا چاہئے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(224 ۔ 225) ۔ علمائے مفسرین نے اس آیت کی شان نزول دو بتائے ہیں ایک تو یہ کہ عبد اللہ بن رواحہ (رض) صحابی اور ان کے داماد بشر بن نعمان (رض) میں کچھ تکرار ہوگئی تھی اس پر عبد اللہ بن رواحہ (رض) نے قسم کھالی تھی کہ وہ اپنے داماد سے بات چیت نہ کریں گے اور نہ اس کی صورت دیکھیں گے اور نہ اس کے کسی نیک و بد میں شریک ہوں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ دوسری یہ کہ لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) پر جو بہتان باندھا تھا اس بہتان میں مسطح ایک صحابیہ بھی عبد اللہ بن ابی منافق کے صلاح کار تھے ان مسطح کے باپ مسطح کی چھوٹی عمر میں مرگئے تھے اور مسطح کی ماں اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) میں قرابت تھی اس وجہ سے چھوٹی عمر سے مسطح کو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے پالا تھا۔ اب جو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے سنا کہ عبد اللہ بن ابی نے جو حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی نسبت بہتان اٹھایا ہے اس میں یہ مسطح بھی شریک ہے تو غصہ میں آکر حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے مسطح کا جو کچھ مقرر کر رکھا تھا وہ موقوف کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی عبداللہ بن ابی منافق نے جو بہتان عائشہ صدیقہ (رض) پر باندھا تھا اس کی پوری تفصیل تو سورة نور میں آئے گی۔ لیکن خلاصہ اس قصہ کا یہ ہے کہ ٦ ؁ ہجری میں جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی مصطلق کی لڑائی سے فارغ ہو کر مدینہ تشریف لا رہے تھے تو راستہ میں پچھلے راستے سے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) حاجت کو جنگل میں تشریف لے گئیں ابھی یہ واپس نہیں آئی تھیں کہ اتنے میں قافلہ کے کوچ کا وقت آگیا اور قافلہ والوں نے اس خالی کجا کو جس میں حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سوار ہوا کرتی تھیں یہ خیال کر کے کہ حضرت عائشہ (رض) اس میں ہیں وہ کجا وہ اونٹ پر لاد دیا اور قافلہ چل نکلا وہاں جنگل میں حضرت عائشہ (رض) کے گلے کا ہار گرگیا تھا اس کے ڈہونڈنے میں ان کو ذرا دیر ہوگئی جب ہار کو ڈھونڈھ کر یہ وہاں تشریف لائیں جہاں قافلہ اترا تھا تو قافلہ روانہ ہو کر بہت دور نکل چکا تھا آخر یہ پریشان ہو کر جنگل میں لیٹ گئیں اور ان کی آنکھ لگ گئی اتنے میں صبح ہوگئی صبح ان کے کان میں انا للہ کے پڑھنے کی آواز آئی۔ آنکھ کھول کر دیکھا تو صفوان بن معطل (رض) صحابی ہیں ان کو دیکھ کر حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے اپنا منہ ڈھانک لیا یہ صفوان قافلہ کے پیچھے رہ گئے تھے جب یہ اس مقام پر پہنچے جہاں قافلہ اترا ہوا تھا تو انہوں نے تن تنہا ایک شخص کو سوتے ہوئے دیکھا پردہ کی آیت کے نازل ہونے سے پہلے صفوان نے حضرت عائشہ (رض) کو دیکھا تھا اس لئے ان کو پہچان لیا۔ اور سمجھ گئے کہ قافلہ سے بچھڑ کر یہ یہاں رہ گئیں ہیں ان کے جاگ اٹھنے کی غرض سے صفوان (رض) نے انا للہ پڑھی تھی جب یہ جاگ اٹھیں تو صفوان نے اپنا اونٹ بٹھایا اور حضرت عائشہ (رض) اس پر سوار ہوئیں اور صفوان اونٹ کے ساتھ ہوئے اور قافلہ کے پیچھے یہ دونوں بھی مدنیہ میں داخل ہوگئے اس پر عبد اللہ بن ابی اور چند لوگوں نے مل کر ان دونوں پر بد فعلی کا بہتان اٹھایا جس کی برأت اللہ تعالیٰ نے سورة نور میں نازل فرمائی ہے۔ حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ کسی کام سے رکنے کے لئے اللہ کی قسم کھا کر ما بعد میں اگر آدمی دیکھے کہ قسم پر قائم نہ رہنے کی صورت میں دینی یا دنیوی کوئی زیادہ فائدہ کی بات ہے تو ایسی حالت میں ضرور اس فائدہ کی بات کو کرلینا چاہیے اور قسم کا کفارہ دے دینا چاہیے قسم کے کفارہ کا ذکر آگے سورة مائدہ میں آئے گا۔ کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلا دینا ہے یا کپڑا بنا دینا یا ایک بردہ آزاد کرنا یا تیس روزے رکھنا صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میری ہر ایک قسم ایسی ہے کہ قسم کھانے کے بعد کوئی چیز اور میں اس چیز سے بہتر دیکھ پاؤں جس چیز پر میں نے قسم کھائی تو فورًا میں اپنی قسم کا کفارہ دے دوں اور اس بہتر کام کو ضرور کرلوں ١ سو اس حدیث کے اور بھی صحیح حدیثیں اس باب میں وارد ہوئی ہیں ابو داؤد کی صحیح روایتوں میں یہ بھی ہے کہ قطع رحم۔ یا اور کسی گناہ کے کام کرنے پر اگر آدمی قسم کھا بیٹھے تو اس کے طرح کے کام کو چھوڑ دینا ہے قسم کا کفارہ ہے جدا کفارہ کی ضرورت نہیں ہے۔ ٢۔ تکیہ کلام کے طور پر جو آدمی کے منہ سے واللہ باللہ نکل جاتا ہے یا ایک بات کو ایک طرح گمان کر کے آدمی قسم کھا لیوے اور حقیقت میں وہ بات اس طرح سے نہ ہو وہ قسم میں داخل نہیں نہ اس کا کفارہ ہے نہ اس پر کچھ مواخذہ ہے اسی کو یمین لغو کہتے ہیں اور اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ یمین لغو پر کچھ مواخذہ نہیں ہے اور نہ وہ قسم ہے مواخذہ کے قابل وہی قسم ہے جو دل کے قصد سے ہو یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ قسم یا اللہ کے نام کی ہوتی ہے۔ جیسے اللہ کی قسم یا اللہ کی صفات کی ہوتی ہیں مثلاً جیسے اللہ کی جاہ و جلال کی قسم سوا اللہ کی ذات اور صفات کے اور چیزوں کی قسم کھانا جیسے لوگوں میں رواج ہے کہ فلاں کے سر کی قسم یا فلاں کی جان کی قسم یہ بالکل منع ہے۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سب ساتھ تھے حضرت عمر (رض) نے کسی بات پر اپنے باپ کی قسم کھائی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فورًا ان کو روکا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس سے منع کیا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی چیز کی قسم کھاؤ اس لئے جو کوئی قسم کھائے تو اللہ کی کھائے نہیں تو چپکا رہے ١۔ قسم کھانے کی آدمی کی دو حالتیں ہیں یا آئندہ کی کسی بات پر قسم ہوتی ہے کہ آئندہ اتنی مدت کے بعدایسا ہوگا۔ یا کسی گذری ہوئی بات پر قسم ہوتی ہے کسی آدمی کو گذشتہ بات معلوم ہو اور پھر وہ لالچ یا رعایت کے سبب سے جان بوجھ کر اصلی حالت کو چھپا کر قسم کھا جائے تو یہ کبیرہ گناہ ہے اور اسی کو یمین غموس یعنی گناہ میں ڈوبی ہوئی قسم کہتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:224) عرضۃ۔ آڑ۔ نشانہ۔ بہانہ۔ ہتھکنڈا۔ ایمانکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری قسمیں ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم اور اللہ کو اپنی قسموں کے لئے آڑیا بہانہ نہ بناؤ یعنی کسی اچھے کام کے نہ کرنے پر خدا کی قسم نہ کھا بیٹھو۔ کہ جب اس کے کرنے کو کہا جائے تو اپنی قسم کو آڑ بنا کر نیک کام کرنے سے محروم نہ رہو۔ یا مطلب نکالنے کے لئے بات بات پر قسم نہ کھایا کرو۔ اور اس طرح اللہ تعالٰ کی باعزت نام کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ۔ ان۔ کہ ۔ یہ کہ۔ اس کی چار صورتیں ہیں : (1) ان۔ مصدر۔ ماضی و مضارع پر داخل ہوکر مضارع کو نصب دیتا ہے اور اس کا مابعد بمنزلہ مصدر ہوتا ہے جیسے وان تصوموا خیرلکم (2:184) اور روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے۔ (2) ان۔ مخففہ۔ جو کہ شروع میں ثقیلہ تھا۔ پھر خفیفہ کرلیا گیا۔ یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے۔ جیسے علم ان سیکون منکم مرضی (73:20) معلوم ہوا کہ بیشک تم میں سے کتنے ہی بیمار ہوجائیں گے۔ (3) ان۔ زائدہ۔ جو لما کی تاکید کے لئے آتا ہے۔ جیسے فلما ان جاء البشیر (12:92) پھر جب پہنچا خوشخبری دینے والا۔ (4) ان۔ مفسرہ۔ یہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جس میں کہنے کے معنی پائے جائیں خواہ کہنے کے معنی پر اس فعل کی دلالت لفظی ہو جیسے فاوحینا ان اصنع الفلک (23:27) پھر ہم نے اس کو حکم بھیجا کہ کشتی بنا۔ یا دلالت معنوی ہو۔ جیسے وانطلق الملأ منھم ان امشوا (38:6) تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو۔ یعنی ان کے کہنے کا مطلب گویا یہ کہنا تھا کہ تم بھی چلو ۔ آیت ہذا میں ان مصدریہ ہے۔ تبروا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ بر (باب سمع) مصدر۔ تبروا۔ اصل میں تبرون تھا۔ ان کے آنے سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ تم نیکی کرتے ہو۔ یا کرو گے۔ تتقوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر۔ بمعنی پرہیز کرنا۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا۔ کہ تم بچتے رہو گے۔ ڈرتے رہو گے۔ یا پرہیز کرو گے یا کرتے ہو۔ تتقوا اصل میں تتقون تھا۔ نون اعرابی بوجہ عمل ان گرگیا۔ تصلحوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصلاح (افعال) مصدر تم صلح کراتے ہو، تم اصلاح کرتے ہو۔ اصل میں تصلحون تھا۔ نون اعرابی بوجہ عمل ان ساقط ہوگیا۔ ان تبروا وتتقوا وتصلحوا بین الناس۔ (کہ اللہ کے نام کی قسم کا بہانہ کرکے (تم) نیکی اور پرہیزگاری اور لوگوں میں اصلاح نہ کرو۔ یا یہ کہ نیکی کو اور پرہیزگاری کو صلح بین الناس کو خدا کی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ۔ سمیع۔ سمع سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ سننے والا۔ جب اللہ تعالٰٰ کی صفت ہو تو اس کے معنی ” جس کی سماعت ہر شے پر حاوی ہے “ ۔ علیم علم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ ہر دو اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی میں سے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

اس آیت میں اس قسم کے لوگوں کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں اس لیے نہ کھاؤ کہ نیکی پرہیز گاری لوگوں میں صلح کرانے نیک کاموں سے باز رہنے بہانہ ہاتھ آجائے کیونکہ ایک غلط قسم پر اڑے رہنا گناہ ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالر حمن بن سمرہ سے فرمایا اگر تم قسم کھالو اور پھر دیکھو کہ غیر قسم بہتر ہے تو تم اس بہتر کام کو کرو اور اپنی قسم توڑنے کا کفارہ دو ۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیحین) قسم توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا نہیں کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے اور جو شخص ایسا نہ کرسکے اس کے لیے تین روزے رکھنا ہے۔ (دیکھئے سورت المائدہ آیت 89)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 224 تا 225 لا تجعلوا (تم نہ بناؤ) ۔ عرضۃ (نشانہ، ہتھ کنڈا) ۔ ان تبروا (یہ کہ تم بھلائی نہ کرو (یہاں ان نفی کے لئے ہے ) ۔ تصلحوا (یہ کہ تم اصلاح نہ کراؤ (یہ اصل میں تن تصلحوا تھا) ۔ بین الناس (لوگوں کے درمیان ) ۔ لا یواخذ (نہیں پکڑتا ہے ) ۔ لغو (بیکار اور فضول) ۔ ایمان (قسمیں (یمین، قسم) ۔ کسبت (کمایا) ۔ حلیم (برداشت کرنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 224 تا 225 نکاح اور طلاق وعدے کے مسائل سے پہلے قسموں کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے ارشاد فرمایا ہے کہ کار خیر اور بھلے کام جیسے حسن سلوک ، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی یہ ایسے کام ہیں جن کو کرنا ہر مومن کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ان بھلے اور بہتر کاموں کو کرنے کے بجائے ایسے کام نہ کرنے کی قسمیں کھا لینا بری بات ہے اور اللہ کا نام استعمال کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے بھلے اور بہتر کام نہ کرنے کے لئے اللہ کے نام کو آڑ بنایا۔ یقیناً ایک مومن کو زیب نہیں دیتا ۔ کیونکہ اللہ کے نام کو تو ان چیزوں کے اختیار کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایسی قسمیں توڑ دینے کا کفارہ دس آدمیوں کو کھانا کھلانا یا کپڑا پہنانا یا تین روزے رکھ کر ادا کرنا ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ قسمیں جو بلا ارادہ یا بطور تکیہ کلام کے منہ سے نکل جاتی ہیں جن کا تعلق دل سے نہیں ہوتا ایسی قسموں پر مواخذہ تو نہیں ہے لیکن گناہ کی بات تو ضرور ہے ، البتہ وہ قسمیں جن میں دلی ارادہ اور عزم پایا جاتا ہے۔ اگر ایسی قسمیں کھا کر توڑ دی جائیں گی تو ان پر اللہ کی طرف سے ضرور مواخذہ ہوگا۔ بہرحال لغو قسمیں کھانا بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے عادی بن جانے پر گناہ تو ضرور ہوتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ نیک کام کا ترک کرنا بلاقسم بھی برا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : میاں بیوی کے درمیان کسی مسئلہ میں تکرار ہوجائے تو بسا اوقات معاملہ بحث و تکرار سے بڑھ کر قسم تک پہنچ جاتا ہے لہٰذا جذباتی قسم کے بارے میں رعایت دی گئی ہے۔ ازدواجی وعائلی مسائل کے دوران قسم کے مسئلہ کی وضاحت اس لیے ضروری سمجھی گئی کہ اس زمانے میں اور آج بھی باہمی مخالفت یا طیش میں آکر لوگ قسم اٹھا لیتے ہیں کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ اتنے دن کلام سے اجتناب، بائیکاٹ یا فلاں کام نہیں کروں گا۔ حالانکہ اس موقع پر قسم اٹھانا مناسب بات نہیں ہوتی۔ جہاں تک بیوی سے ایلاء یعنی بائیکاٹ کا معاملہ ہے اس فرمان میں ایلاء کی آخری مدت چار ماہ مقرر کردی گئی۔ خاوند کو اس کے بعد رجوع کرنا یا پھر طلاق دینا ہوگی۔ مسلمان کو ایسی قسم اٹھانے سے روک دیا گیا ہے جو نیکی اور خیر کے کام میں رکاوٹ بنتی ہو۔ یہ قسم اس لحاظ سے عجیب اور غیر دانش مندی کا مظہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر آدمی کسی نیک کام سے رک جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نیکی کا حکم دیتا اور ہر قسم کی برائی سے منع کرتا ہے۔ یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بابرکت اور عظیم نام ہی نیکی میں رکاوٹ بنادیا جائے۔ اس لیے یہاں حکم دیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کو نیکی اور اصلاح بین الناس کے درمیان رکاوٹ نہ بناؤ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم کس نیت اور غرض سے اس کے عظیم نام کو استعمال کررہے ہو ؟ (عَنْ زَھْدَمَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ أَبِیْ مُوْسَی الأَشْعَرِیِّ (رض) قَالَ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِیْ نَفَرٍ مِنَ الْأَشْعَرِیِّیْنَ فَوَافَقْتُہٗ وَھُوَ غَضْبَانُ فَاسْتَحْمَلْنَاہُ فَحَلَفَ أَنْ لاَّ یَحْمِلَنَا ثُمَّ قَالَ وَاللّٰہِ إِنْ شَآء اللّٰہُ لَآ أَحْلِفُ عَلٰی یَمِیْنٍ فَأَرٰی غَیْرَھَا خَیْرًا مِّنْھَآ إِلَّآ أَتَیْتُ الَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ وَتَحَلَّلْتُھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الأیمان والنذور، باب الیمین فیما لایملک الخ ] ” حضرت زھدم (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم ابو موسیٰ اشعری (رض) کے پاس تھے وہ فرماتے ہیں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اشعری قبیلہ کے کچھ افراد کے ہمراہ اس وقت حاضر ہوا جب آپ غصہ میں تھے۔ ہم نے سواری کا مطالبہ کیا تو آپ نے قسم اٹھادی کہ میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا۔ پھر آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر اللہ کی مشیت شامل حال ہو تو جس کام پر میں قسم کھاتا ہوں اگر میں اس کے بجائے دوسرے کام کو بہتر سمجھوں تو میں افضل کام کرکے قسم کا کفارہ ادا کردیتا ہوں۔ “ یہاں اس بات کی بھی وضاحت فرمادی گئی کہ اللہ تعالیٰ تمہارا انہی قسموں پر مؤاخذہ کرے گا جو تم نے نیتًا اٹھائی ہوں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ ظرف ہونے اور اپنی بخشش کی وجہ سے تمہاری لغو قسموں پر مؤاخذہ نہیں کرتا۔ حالانکہ تم اس کا پاک اور عظیم نام کو بےمقصد کام کے لیے استعمال کرتے ہو۔ لغو کے بارے میں سورة المؤمنون آیت : ٣ کی تلاوت کیجئے : (وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ )[ المومنون : ٣] ” مؤمن وہ ہیں جو لغو اور بےمقصد کام اور کلام سے پرہیز کرتے ہیں۔ “ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے : (مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَالَا یَعْنِیْہِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزھد ] ” آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بےمقصد کام چھوڑ دے “۔ البتہ جس نے عزم کے ساتھ قسم اٹھائی اور پھر اس قسم کو پورا نہ کیا اس کی سزا ساتویں پارے میں یوں بیان کی گئی ہے۔ (لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ باللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَ لٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَدْتُّمُ الْاَیْمَانَ ج فَکَفَّارَتُہ ‘ ٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ اَوْکِسْوَتُھُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ ط فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ط ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْط وَ احْفَظُوْٓا اَیْمَانَکُمْط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیَاتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) [ المائدۃ : ٨٩] ” اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو۔ اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا کھلانا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھروالوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا پہنچانایا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کو مقدور نہ ہوتوتین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھالو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو۔ اللہ تعالیٰ تمہاریلیے اپنے احکام اس لیے بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔ “ مسائل ١۔ نیکی اور اصلاح بین الناس سے رکنے یا روکنے کے لیے قسم اٹھانا جائز نہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ بےارادہ قسموں پر مؤاخذہ نہیں کرتا۔ ٤۔ عزم کے ساتھ اٹھائی ہوئی قسم پر مؤاخذہ ہوگا۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی حوصلے اور معاف کرنے والا ہے۔ ٦۔ بیوی سے ایلاء کی مدت چار ماہ ہے۔ ٧۔ ایلاء کا معنی ہے بیوی سے بائیکاٹ کرنا۔ تفسیر بالقرآن جھوٹی قسم کا گناہ : ١۔ قسم کو ڈھال نہ بنائیں۔ (البقرۃ : ٢٢٤) ٢۔ قسموں کو پورا کرنا چاہیے۔ (النمل : ٩١) ٣۔ ناجائز قسموں پر عمل نہ کیا جائے۔ (التحریم : ١، ٢) ٤۔ صدقہ نہ دینے کی قسم ممنوع ہے۔ (النور : ٢٢) ٥۔ غلط قسموں کے ذریعے مال بٹورنے والوں کا انجام کیا ہوگا ؟ (آل عمران : ٧٧) ٦۔ جھوٹی قسمیں کھانے والوں کا انجام۔ (التوبۃ : ٩٥) ٧۔ بلا قصد قسموں پر مؤاخذہ نہیں۔ (المائدۃ : ٨٩) قسم کی وجہ سے بیوی سے علیحدگی کی عدّت : ١۔ عورتوں سے علیحدگی کی قسم کی مدت چارماہ ہے۔ (البقرۃ : ٢٢٦) ٢۔ چار ماہ کے بعد رجوع ہے یا طلاق دینا ہوگی۔ (البقرۃ : ٢٢٦، ٢٢٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وَلا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةًکی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ تم اپنی قسم کو اس لئے استعمال نہ کرو کہ تم بھلائی کے کچھ کام نہ کروگے بلکہ قسم کا کفارہ ادا کرو اور بھلائی کرتے چلے جاؤ۔ یہی تفسیر مسروق ، شعبی ابراہیم نخعی مجاہد ، طاؤس ، سعید بن جبیر ، عطاء ، عکرمہ ، مکحول ، زہری ، حسن ، قتادہ ، مقاتل بن حیان ، ربیع بن انس ، ضحاک ، عطاخراسانی ، السدی سے منقول ہے ۔ تفصیل دیکھئے ابن کثیر میں۔ اسی کی تائید میں امام مسلم (رح) کی روایت ہے جو کہ ابوہریرہ (رض) سے منقول ہے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” جو کوئی ایسی قسم کھابیٹھے کہ اس کے توڑ میں خیر ہو ، اسے چاہئے کہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرے ۔ اور وہ کام کرتا رہے جس میں بھلائی ہے۔ “ اسی طرح امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا ہے ، رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : اللہ کی قسم تم میں سے کوئی شخص اپنے اہل و عیال کے بارے میں قسم کو پوراکرے ۔ تو وہ زیادہ گناہ گار ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ کفارہ دے دے ، جو اللہ نے فرض کیا ہے ۔ ان احادیث کی روشنی میں مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ کے نام کی قسم کھالینا تمہیں نیکی ، تقویٰ اور اصلاح بین الناس کے کاموں سے کہیں روک نہ دے ۔ اگر تم اس قسم کی کوئی قسم کھابیٹھے ہو تو اسے توڑ دو ، نیکی کے کام جاری رکھو اور حلف توڑنے کا کفارہ ادا کرو۔ کیونکہ نیکی ، تقویٰ اور بھلائی کے کاموں پر عمل کرنا اس سے بہتر ہے کہ کوئی اپنی قسم کو پورا کرے ۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو ایسا ہی واقعہ پیش آیا ۔ آپ کے رشتہ دار کا نام مسطح تھا ، آپ ان کے ساتھ امداد و تعاون فرمایا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ (رض) پر افک کے معاملے میں غیر شعوری طور پر یہ بھی شریک ہوگیا تھا ، اور اس پر حضرت ابوبکر صدیق (رض) قسم اٹھالی کہ وہ اس کے ساتھ کوئی امداد نہ کریں گے ۔ اس پر سورة النور کی یہ آیت نازل ہوئیوَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ” تم میں سے جو لوگن صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھابیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار ، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں معاف کردینا چاہئے ، درگزر کرنا چاہئے ۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے ۔ “ اس پر حضرت ابوبکر (رض) نے اپنی قسم کو توڑ دیا اور کفارہ ادا کیا ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اپنی قسموں کو نیکی اور تقویٰ سے بچنے کا ذریعہ نہ بناؤ اسباب النزول ص ٧٢ میں ہے کہ یہ آیت شریفہ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کے بارے میں نازل ہوئی، ان کے بہنوئی اور بہن کے درمیان کچھ ناراضگی ہوگئی تھی انہوں نے قسم کھائی کہ اس کے پاس کبھی بھی نہیں جائیں گے اور نہ اس سے بات کریں گے اور نہ میاں بیوی کے درمیان صلح کرائیں گے وہ کہتے تھے کہ میں نے تو قسم کھا رکھی ہے۔ اب میں اس کی خلاف روزی کیسے کروں۔ اس پر اللہ جل شانہ نے آیت بالانازل فرمائی۔ تفسیر درمنثور ص ٢٦٨ ج ١ میں ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ بعض مرتبہ کوئی شخص قسم کھا لیتا تھا کہ فلاں نیکی اور تقویٰ کا کام نہیں کرونگا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا۔ اگر کوئی شخص قسم کھائے تو خیر کی قسم کھائے یعنی نیک کام کے ارادہ کو موکد کرنے کے لیے قسم کھائی جاسکتی ہے۔ لیکن نیکی نہ کرنے پر قسم کھانا اور گناہ کرنے پر قسم کھانا شرعاً ممنوع ہے بعض لوگ جو قسم کھالیتے تھے کہ میں فلاں عزیز کے گھر نہیں جاؤں گا یا فلاں مسلمان بھائی کی دعوت قبول نہیں کروں گا یا جماعت سے نماز نہیں پڑھوں گا یا فلاں گناہ کروں گا ایسے لوگوں کو آیت بالا میں ہدایت دی گئی ہے اور فرمایا کہ اللہ کے نام کو نیکیوں سے بچنے اور تقویٰ چھوڑنے کا ذریعہ مت بناؤ، قسم کھا بیٹھے اب کہتے ہیں کہ قسم کے خلاف کیسے کریں ؟ حالانکہ قسم اس لیے نہیں ہے کہ اس کو خیر سے بچنے کا ذریعہ بنایا جائے، اگر کوئی شخص گناہ کی قسم کھالے تو قطع رحمی کی یا کسی بھی قسم کے گناہ کی قسم کھالے تو اس پر لازم ہے کہ قسم توڑ دے اور اس کے خلاف کرلے، اور قسم کا کفارہ دیدے۔ حضرت عوف بن مالک (رض) کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنے چچا کے پاس جاتا ہوں اس سے کچھ سوال کرتا ہوں ہو وہ مجھے نہیں دیتا اور صلہ رحمی نہیں کرتا، پھر اسے حاجت در پیش ہوجاتی ہے تو مجھ سے آکر سوال کرنے لگتا ہے حالا ن کہ میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ اسے کچھ نہ دوں گا اور صلہ رحمی نہیں کرونگا، اس کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں وہ کام کروں جو خیر ہو اور قسم کا کفارہ دیدوں۔ (مشکوۃ المصابیح ص ٢٩٧) سورة نور میں ارشاد فرمایا : (وَلاَ یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسَاکِیْنَ وَالْمُہَاجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلاَ تُحِبُّونَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) ” اور جو لوگ تم میں بزرگی اور وسعت والے ہیں وہ اہل قرابت کو اور مساکین کو اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے قسم نہ کھا بیٹھیں اور چاہئے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم یہ بات نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا قصور معاف کردے۔ بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ “ حضرت ابوبکر صدیق (رض) اپنے ایک بھانجہ پر خرچ کیا کرتے تھے اس سے ایک ایسی حرکت سرزد ہوگئی جس کی وجہ سے حضرت ابوبکر (رض) کو بہت ناراضگی ہوئی اور انہوں نے قسم کھالی کہ میں اب اس پر خرچ نہیں کیا کرونگا۔ اس پر سورة نور کی مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ : جب تو کوئی قسم کھالے پھر تو دیکھے کہ جس چیز پر قسم کھائی ہے دوسری چیز اس سے بہتر ہے (جو اس کے مقابل ہے) تو اس بہتر صورت کو اختیار کرلے (اور اس کے اختیار کرنے سے جو قسم ٹوٹ گئی) اس کا کفارہ دیدے۔ (رواہ البخاری و مسلم کمافی المشکوۃ ص ٢٩٦) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

442 ربط :۔ پانچ ذوجہتین مسائل کے بعد امور انتظامیہ کا دوبارہ ذکر۔ جب بیویاں حیض سے پاک ہوجائیں تو ان سے مخالطت کرو۔ اگر تم ان سے صحبت نہ کرنے کی قسم بھی کھاچکے ہو تو اسے توڑ ڈالو۔ اور قسم توڑنے کا کفارہ دے دو ۔ زمانہ جاہلیت میں ایک بری رسم یہ تھی کہ لوگ نیک کاموں پر خدا کی قسم کھالیتے تھے مثلاً فلاں رشتہ دار سے نیک سلوک نہیں کرینگے۔ فلاں دو آدمیوں کے درمیان صلح نہیں کرائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ اور پھر ان قسموں کی پابندی کرتے۔ اور اس طرح خدا کے نام کو نیک کام کے نہ کرنے کا بہانہ بنا لیتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا۔ کیونکہ اس سے بہت سے امور انتظامیہ میں تعطل پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔ عُرْضَةً کے معنی ہدف اور نشانہ کے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کے معنی حاجز اور مانع کے بھی ہیں اور یہاں یہی معنی زیادہ چسپاں ہیں۔ العرضۃ عبارۃ عن المانع (کبیر ص 356 ج 1) لِاِیْمَانِکُمْ کا لام تعلیل کیلئے ہے۔443 اَنْ مصدریہ ہے اور اس سے پہلے حرف جار مِنْ مقدر ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نام کو اپنی قسموں کی وجہ سے نیکی اور تقویٰ کے کاموں اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کیلئے مانع نہ بناؤ۔ تقدیر الایۃ ولا تجعلوا ذکر اللہ مانعاً بسبب ایمانکم من ان تبروا الخ (کبیر ص 356 ج 2) حضرت شیخ نے فرمایا کہ ایمان سے ماعلیہ الایمان مراد ہے۔ یعنی وہ امور جن پر قسم کھائی جائے۔ مطلب یہ کہ اللہ کے نام کو نیکی اور تقویٰ اور اصلاح بین الناس سے روکنے کا ذریعہ نہ بناؤ اور اگر کہیں ایسی قسم کھا بیٹھو تو اسے فوراً توڑ ڈالو۔444 اللہ تعالیٰ تمہارے اقوال و اعمال کو بخوبی سنتا اور جانتا ہے اس لیے ہر بات سوچ سمجھ کر منہ سے نکالو۔ اور ہر کام خدا کی رضا کیلئے کرو۔ اس آیت میں یمین منعقدہ کا ایک حکم بیان کیا ہے کہ نیکی کے کاموں پر قسمیں مت کھایا کرو اور قسموں کے بہانے نیکی کے کام مت چھوڑو۔ آگے یمین لغو اور یمین غموس کا ذکر ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اور اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں کھا کر اپنی قسموں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو آڑ اور حجاب نہ بنائو کہ بھلائی اور نیک سلوک کرنے سے اور تقویٰ ا ختیار کرنے سے اور لوگوں کے مابین اصلاح کرنے سے بچ جائو یعنی خلق کی اصلاح اور ان کے مابین مصالحت اور پرہیز گاری اور حسن سلوک جیسی باتوں کے نہ کرنے پر قسم کھا بیٹھو اور اللہ تعالیٰ سب کی باتیں سنتا اور سب کے دلوں کی نیت کو جانتا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ کار خیر اور بھلے کام جیسے حسن سلوک، تقویٰ اور لوگوں کی اصلاح یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان کو کرنا چاہئے نہ یہ کہ ان پر قسم کھا بیٹھو کہ ہم یہ کام نہیں کریں گے اور اگر کوئی کہے کہ یہ کام کرو تو عذر کریں کہ میں تو قسم کھاچکا ہوں اس لئے معذور ہوں جو شخص ایسا کرتا ہے تو گویا وہ اللہ تعالیٰ کو اور اس کے نام کو نیک اعمال کے ترک کرنے کے لئے آڑ اور نشانہ بناتا ہے ایسا کرنے سے اس آیت میں منع فرمایا ہے حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کی بہن کو بشیر بن نعمان انصاری نے طلاق دیدی تھی اس پر انہوں نے قسم کھالی کہ میں بشیر کے ساتھ نہ کوئی بھلائی کروں گا نہ ان کے گھر جائوں گا نہ میاں بیوی کے ملاپ کی کوشش کروں گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ کے نام پر تو بھلے کام کی کثرت ہونی چاہئے نہ یہ کہ اللہ کے نام کو بھلے کام کے چھوڑنے کیلئے آڑ بنالو بلکہ کبھی ایسی قسم کھالو تو اس قسم کا کفارہ ادا کرو اور کار خیر کو ترک نہ کرو۔ لا یمانھم کا تعلق لا تجعلوا اور عرضۃ دونوں سے ہوسکتا ہے عرضۃ کے چند معنی ہیں قوت ، ہمت ، نشانہ دو چیزوں کے درمیان آڑ اور حجاب یہاں آخری معنی مراد ہے۔ اصلاح بین الناس کا مفہوم بہت عام اور وسیع ہے اور رفاہ عام کے تمام کاموں کو شامل ہے اسی طرح ان تبروا بھی ہر قسم کی بھلائی اور نیکی کو شامل ہے اور سچ تو یہ ہے کہ حضرت حق نے ان تین لفظوں میں تمام ابواب خیر کو جمع کردیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہر قسم کے اعمال کو خواہ وہ ذاتی ہوں یا قومی اور جماعتی ہوں ان کو بجا لاتے رہو اور ان کو ترک کرنے پر قسم نہ کھائو کیونکہ اعمالِ خیر قابل ترک چیز نہیں ہیں چہ جائیکہ تم ان کے ترک کرنے پر قسم کھا بیٹھو۔ فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اگر کوئی شخص کسی چیز پر قسم کھا بیٹھے پھر اس کے خلاف میں بہتری اور خیر دیکھے تو اس کو چاہئے کہ اس خیر اور بہتر چیز کو کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) ارشاد فرماتے ہیں یعنی خدا کی قسم اچھا کام چھوڑنے پر نہ کھا وے مثلاً ماں باپ سے نہ بولوں گا اس فقیر کو نہ دوں گا اور اگر کھا بیٹھے تو قسم توڑے اور کفارت دے (موضح القرآن) اب آگے قسم کی تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)