The Prohibition of swearing to abandon a Good Deed
Allah commands,
وَلاَ تَجْعَلُواْ اللّهَ عُرْضَةً لاِّاَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّواْ وَتَتَّقُواْ وَتُصْلِحُواْ بَيْنَ النَّاسِ وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
And make not Allah's (Name) an excuse in your oaths against doing good and acting piously, and making peace among mankind. And Allah is All-Hearer, All-Knower (i.e., do not swear much and if you have sworn against doing something good then give an expiation for the oath and do good).
Allah commands, `You should not implement your vows in Allah's Name to refrain from pious acts and severing the relations with the relatives, if you swear to abandon such causes.'
Allah said in another Ayah:
وَلاَ يَأْتَلِ أُوْلُواْ الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُوْتُواْ أُوْلِى الْقُرْبَى وَالْمَسَـكِينَ وَالْمُهَـجِرِينَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُواْ وَلْيَصْفَحُواْ أَلاَ تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ
(And let not those among you who are blessed with graces and wealth swear not to give (any sort of help) to their kinsmen, Al-Masakin (the poor), and those who left their homes for Allah's cause. Let them pardon and forgive. Do you not love that Allah should forgive you! (24:22)
Continuity in a sinful vow is more sinful than breaking it by expiation.
Allah's Messenger said:
وَاللهِ لاَاَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ اثَمُ لَهُ عِنْد اللهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللهُ عَلَيْه
By Allah! It is more sinful to Allah that one of you implements his vow regarding (severing the relations with) his relatives than (breaking his promise and) paying the Kaffarah that Allah has required in such cases.
This is how Muslim reported this Hadith and also Imam Ahmad.
Ali bin Abu Talhah reported that Ibn Abbas said that what Allah said:
وَلاَ تَجْعَلُواْ اللّهَ عُرْضَةً لاِّاَيْمَانِكُمْ
(And make not Allah's (Name) an excuse in your oaths) means,
"Do not vow to refrain from doing good works. (If you make such vow then) break it, pay the Kaffarah and do the good work."
This was also said by Masruq, Ash-Sha`bi, Ibrahim An-Nakhai, Mujahid, Tawus, Sa`id bin Jubayr, Ata, Ikrimah, Makhul, Az-Zuhri, Al-Hasan, Qatadah, Muqatil bin Hayyan, Ar-Rabi bin Anas, Ad-Dahhak, Ata Al-Khurasani and As-Suddi.
Supporting this view, which is the majority view, is what is reported in the Two Sahihs that Abu Musa Al-Ashari narrated that Allah's Messenger said:
إِنِّي وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ لاَ أَحْلِفُ عَلى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا
By Allah! Allah willing, I will not vow to do a thing and then see a better act, but I would do what is better and break my vow.
Muslim reported that Abu Hurayrah said that Allah's Messenger said:
مَنْ حَلَفَ عَلى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْر
Whoever makes a vow and then finds what is better than his vow (should break his vow) pay the Kaffarah and perform the better deed.
قسم اور کفارہ:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی اور صلہ رحمی کے چھوڑنے کا ذریعہ اللہ کی قسموں کو نہ بناؤ ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ) 24 ۔ النور:22 ) یعنی وہ لوگ جو کشادہ حال اور فارغ البال ہیں وہ قرابت داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے پر قسمیں نہ کھا بیٹھیں ، انہیں چاہئے کہ معاف کرنے اور درگزر کرنے کی عادت ڈالیں ، کیا تمہاری خود خواہش نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے ، اگر کوئی ایسی قسم کھا بیٹھے تو اسے چاہئے کہ اسے توڑ دے اور کفارہ ادا کر دے ، صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ہم پیچھے آنے والے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے بڑھنے والے ہیں ، فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ایسی قسم کھا لے اور کفارہ ادا نہ کرے اور اس پر اَڑا رہے وہ بڑا گنہگار ہے ، یہ حدیث اور بھی بہت سی سندوں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں ۔ حضرت مسروق وغیرہ بہت سے مفسرین سے بھی یہی مروی ہے ، جمہور کے ان اقوال کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم انشاء اللہ میں اگر کوئی قسم کھا بیٹھوں گا اور اس کے توڑنے میں مجھے بھلائی نظر آئے گی تو میں قطعاً اسے توڑ دوں گا اور اس قسم کا کفارہ ادا کروں گا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن سمرہ سے فرمایا اے عبدالرحمن سرداری امارت اور امامت کو طلب نہ کر اگر بغیر مانگے تو دیا جائے گا تو اللہ کی جانب سے تیری مدد کی جائے گی اور اگر تو نے آپ مانگ کر لی ہے تو تجھے اس کی طرف سونپ دیا جائے گا تو اگر کوئی قسم کھا لے اور اس کے خلاف بھی بھلائی دیکھ لے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور اس نیک کام کو کر لے ( بخاری و مسلم ) صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ جو شخص کوئی قسم کھا لے پھر اس کے سوا خوبی نظر آئے تو اسے چاہئے کہ اس خوبی والے کام کو کرلے اور اپنی اس قسم کو توڑ دے اس کا کفارہ دے دے ، مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ۔ ابو داؤد میں ہے نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ہی ہے نہ رشتوں ناتوں کو توڑتی ہے جو شخص کوئی قسم کھا لے اور نیکی اس کے کرنے میں ہو تو وہ قسم کو چھوڑ دے اور نیکی کا کام کرے ، اس قسم کو چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں کل کی کل صحیح احادیث میں یہ لفظ ہیں کہ اپنی ایسی قسم کا کفارہ دے ، ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ ایسی قسم کا پورا کرنا یہی ہے کہ اسے توڑ دے اور اس سے رجوع کرے ، ابن عباس سعید بن مسیب مسروق اور شعبی بھی اسی کے قائل ہیں کہ ایسے شخص کے ذمہ کفارہ نہیں ۔