The Laghw (Unintentional) Vows
Allah said:
لااَّ يُوَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِيَ أَيْمَانِكُمْ
...
Allah will not call you to account for that which is unintentional in your oaths,
This Ayah means, `Allah does not punish or hold you accountable for the Laghw (unintentional) vows that you make.'
The Laghw vows are unintentional and are just like the habitual statements that the tongue repeats, without really intending them. For instance, it is reported in the Two Sahihs that Abu Hurayrah narrated that Allah's Messenger said:
مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ بِاللَّتِ وَالْعُزَّى فَلْيَقُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ الله
Whoever swore and (unintentionally) mentioned Al-Lat and Al-Uzza (two idols) in his vow, should then say, `There is no deity worthy of worship except Allah'.
The Messenger said this statement to some new Muslims whose tongues were, before Islam, used to vowing by their idol Al-Lat. Therefore, the Prophet ordered them to intentionally recite the slogan of Ikhlas, just as they mentioned these words by mistake, so that it (the word of Ikhlas) may eradicate the word (of Shirk). This is why Allah said:
...
وَلَكِن يُوَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ
...
...but He will call you to account for that which your hearts have earned.
and in another Ayah,
بِمَا عَقَّدتُّمُ الاٌّيْمَـنَ
...for your deliberate oaths. (5:89)
Abu Dawud reported under Chapter: `The Laghw Vows' that Ata said that Aishah said that Allah's Messenger said:
اللَّغْوُ فِي الْيَمِينِ هُوَ كَلَمُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ كَلَّ وَاللهِ وَبَلَى وَالله
The Laghw in the vows includes what the man says in his house, such as, `No, by Allah,' and, `Yes, by Allah'.
Ibn Abu Hatim reported that Ibn Abbas said,
"The Laghw vow includes vowing while angry."
He also reported that Ibn Abbas said,
"The Laghw vow includes vowing to prohibit what Allah has allowed, and this type does not require a Kaffarah (expiation)."
Similar was said by Sa`id bin Jubayr.
In addition, Abu Dawud related under Chapter: `Vowing while Angry' that;
Sa`id bin Musayyib said that two Ansari brothers both received inheritance and one of them asked that the inheritance be divided. His brother said, "If you ask me about dividing the inheritance again, then all of what I have will be spent on the Ka`bah's door."
Umar said to him, "The Ka`bah does not need your money. So break your vow, pay the Kaffarah and come to terms with your brother. I heard Allah's Messenger saying:
لاَا يَمِينَ عَلَيْكَ وَلاَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ وَفِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ وَفِيمَا لاَا تَمْلِك
Do not make a vow against yourself, nor to disobey the Lord, cut the relations of the womb or dispose of what you do not own."
Allah said:
...
وَلَكِن يُوَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ
...
...but He will call you to account for that which your hearts have earned,
Ibn Abbas, Mujahid and several others said that;
this Ayah means swearing about a matter while knowing that he is lying.
Mujahid and others said this Ayah is similar to what Allah said:
وَلَـكِن يُوَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الاٌّيْمَـنَ
...but He will punish you for your deliberate oaths. (5:89)
Allah said,
...
وَاللّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ
And Allah is Oft-Forgiving, Most-Forbearing.
meaning, He is Oft-Forgiving to His servants and Most Forbearing with them.
پھر فرماتا ہے جو قسمیں تمہارے منہ سے بغیر قصداً اور ارادے کے عادتاً نکل جائیں ان پر پکڑ نہیں ۔ مسلم بخاری کی حدیث میں ہے جو شخص لات اور عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے وہ آیت ( لا الہ الا اللہ ) پڑھ لے ۔ یہ ارشاد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کو ہوا تھا جو ابھی ابھی اسلام لائے تھے اور جاہلیت کے زمانہ کی یہ قسمیں ان کی زبانوں پر چڑھی ہوئی تھیں تو ان سے فرمایا کہ اگر عادتاً کبھی ایسے شرکیہ الفاظ نکل جائیں تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیا کرو تاکہ بدلہ ہو جائے ۔ پھر فرمایا ہاں جو قسمیں پختگی کے ساتھ دِل کی ارادت کے ساتھ قصداً کھائی جائیں ان پر پکڑ ہے ۔ دوسری آیت کے لفظ ( لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ) 5 ۔ المائدہ:89 ) ہیں ، ابو داؤد میں بروایت حضرت عائشہ ایک مرفوع حدیث مروی ہے جو اور روایتوں میں موقوف وارد ہوئی ہے کہ یہ لغو قسمیں وہ ہیں جو انسان اپنے گھر بار میں بال بچوں میں کہہ دیا کرتا ہے کہ ہاں اللہ کی قسم اور انہیں اللہ کی قسم ، غرض بطور تکیہ کلام کے یہ لفظ نکل جاتے ہیں دِل میں اس کی پختگی کا خیال بھی نہیں ہوتا ، حضرت عائشہ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ دو قسمیں ہیں جو ہنسی ہنسی میں انسان کے منہ سے نکل جاتی ہیں ، ان پر کفارہ نہیں ، ہاں جو ارادے کے ساتھ قسم ہو پھر اس کا خلاف کرے تو کفارہ ادا کرنا پڑے گا ، آپ کے علاوہ اور بھی بعض صحابہ اور تابعین نے یہی تفسیر اس آیت کی بیان کی ہے ، یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی اپنی تحقیق پر بھروسہ کر کے کسی معاملہ کی نسبت قسم کھا بیٹھے اور حقیقت میں وہ معاملہ یوں نہ ہو تو یہ قسمیں لغو ہیں ، یہ معنی بھی دیگر بہت سے حضرات سے مروی ہیں ، ایک حسن حدیث میں ہے جو مرسل ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیر اندازوں کی ایک جماعت کے پاس جا کھڑے ہوئے ، وہ تیر اندازی کر رہے تھے اور ایک شخص کبھی کہتا اللہ کی قسم اس کا تیر نشانے پر لگے گا ، کبھی کہتا اللہ کی قسم یہ خطا کرے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی نے کہا دیکھئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس کی قسم کے خلاف ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو قسمیں لغو ہیں ان پر کفارہ نہیں اور نہ کوئی سزا یا عذاب ہے ، بعض بزرگوں نے فرمایا ہے یہ وہ قسمیں ہیں جو انسان کھا لیتا ہے پھر خیال نہیں رہتا ، یا کوئی شخص اپنے کسی کام کے نہ کرنے پر کوئی بد دعا کے کلمات اپنی زبان سے نکال دیتا ہے ، وہ بھی لغو میں داخل ہیں یا غصے اور غضب کی حالت میں بےساختہ زبان سے قسم نکل جائے یا حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر لے تو اسے چاہئے کہ ان قسموں کی پروا نہ کرے اور اللہ کے احکام کیخلاف نہ کرے ، حضرت سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص جو آپس میں بھائی بھائی تھے ان کے درمیان کچھ میراث کا مال تھا تو ایک نے دوسرے سے کہا اب اس مال کو تقسیم کر دو ، دوسرے نے کہا اگر اب تو نے تقسیم کرنے کیلئے کہا تو میرا مال کعبہ کا خزانہ ہے ۔ حضرت عمر نے یہ واقع سن کر فرمایا کہ کعبہ ایسے مال سے غنی ہے ، اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے بول چال رکھ ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی رشتے ناتوں کے توڑنے اور جس چیز کی ملکیت نہ ہو ان کے بارے میں قسم اور نذر نہیں ۔ پھر فرماتا ہے تمہارے دِل جو کریں اس پر گرفت ہے یعنی اپنے جھوٹ کا علم ہو اور پھر قسم کھائے جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ) 5 ۔ المائدہ:89 ) یعنی جو تم مضبوط اور تاکید والی قسمیں کھا لو ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے اور ان پر علم و کرم کرنے والا ہے ۔