Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 225

سورة البقرة

لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ وَ لٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا کَسَبَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿۲۲۵﴾

Allah does not impose blame upon you for what is unintentional in your oaths, but He imposes blame upon you for what your hearts have earned. And Allah is Forgiving and Forbearing.

اللہ تعالٰی تمہیں تمہاری ان قسموں پر نہ پکڑے گا جو پختہ نہ ہوں ہاں اس کی پکڑ اس چیز پر ہے جو تمہارے دلوں کا فعل ہو اللہ تعالٰی بخشنے والا اور بردبار ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Laghw (Unintentional) Vows Allah said: لااَّ يُوَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِيَ أَيْمَانِكُمْ ... Allah will not call you to account for that which is unintentional in your oaths, This Ayah means, `Allah does not punish or hold you accountable for the Laghw (unintentional) vows that you make.' The Laghw vows are unintentional and are just like the habitual statements that the tongue repeats, without really intending them. For instance, it is reported in the Two Sahihs that Abu Hurayrah narrated that Allah's Messenger said: مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ بِاللَّتِ وَالْعُزَّى فَلْيَقُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ الله Whoever swore and (unintentionally) mentioned Al-Lat and Al-Uzza (two idols) in his vow, should then say, `There is no deity worthy of worship except Allah'. The Messenger said this statement to some new Muslims whose tongues were, before Islam, used to vowing by their idol Al-Lat. Therefore, the Prophet ordered them to intentionally recite the slogan of Ikhlas, just as they mentioned these words by mistake, so that it (the word of Ikhlas) may eradicate the word (of Shirk). This is why Allah said: ... وَلَكِن يُوَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ... ...but He will call you to account for that which your hearts have earned. and in another Ayah, بِمَا عَقَّدتُّمُ الاٌّيْمَـنَ ...for your deliberate oaths. (5:89) Abu Dawud reported under Chapter: `The Laghw Vows' that Ata said that Aishah said that Allah's Messenger said: اللَّغْوُ فِي الْيَمِينِ هُوَ كَلَمُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ كَلَّ وَاللهِ وَبَلَى وَالله The Laghw in the vows includes what the man says in his house, such as, `No, by Allah,' and, `Yes, by Allah'. Ibn Abu Hatim reported that Ibn Abbas said, "The Laghw vow includes vowing while angry." He also reported that Ibn Abbas said, "The Laghw vow includes vowing to prohibit what Allah has allowed, and this type does not require a Kaffarah (expiation)." Similar was said by Sa`id bin Jubayr. In addition, Abu Dawud related under Chapter: `Vowing while Angry' that; Sa`id bin Musayyib said that two Ansari brothers both received inheritance and one of them asked that the inheritance be divided. His brother said, "If you ask me about dividing the inheritance again, then all of what I have will be spent on the Ka`bah's door." Umar said to him, "The Ka`bah does not need your money. So break your vow, pay the Kaffarah and come to terms with your brother. I heard Allah's Messenger saying: لاَا يَمِينَ عَلَيْكَ وَلاَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ وَفِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ وَفِيمَا لاَا تَمْلِك Do not make a vow against yourself, nor to disobey the Lord, cut the relations of the womb or dispose of what you do not own." Allah said: ... وَلَكِن يُوَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ... ...but He will call you to account for that which your hearts have earned, Ibn Abbas, Mujahid and several others said that; this Ayah means swearing about a matter while knowing that he is lying. Mujahid and others said this Ayah is similar to what Allah said: وَلَـكِن يُوَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الاٌّيْمَـنَ ...but He will punish you for your deliberate oaths. (5:89) Allah said, ... وَاللّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ And Allah is Oft-Forgiving, Most-Forbearing. meaning, He is Oft-Forgiving to His servants and Most Forbearing with them.

پھر فرماتا ہے جو قسمیں تمہارے منہ سے بغیر قصداً اور ارادے کے عادتاً نکل جائیں ان پر پکڑ نہیں ۔ مسلم بخاری کی حدیث میں ہے جو شخص لات اور عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے وہ آیت ( لا الہ الا اللہ ) پڑھ لے ۔ یہ ارشاد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کو ہوا تھا جو ابھی ابھی اسلام لائے تھے اور جاہلیت کے زمانہ کی یہ قسمیں ان کی زبانوں پر چڑھی ہوئی تھیں تو ان سے فرمایا کہ اگر عادتاً کبھی ایسے شرکیہ الفاظ نکل جائیں تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیا کرو تاکہ بدلہ ہو جائے ۔ پھر فرمایا ہاں جو قسمیں پختگی کے ساتھ دِل کی ارادت کے ساتھ قصداً کھائی جائیں ان پر پکڑ ہے ۔ دوسری آیت کے لفظ ( لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ) 5 ۔ المائدہ:89 ) ہیں ، ابو داؤد میں بروایت حضرت عائشہ ایک مرفوع حدیث مروی ہے جو اور روایتوں میں موقوف وارد ہوئی ہے کہ یہ لغو قسمیں وہ ہیں جو انسان اپنے گھر بار میں بال بچوں میں کہہ دیا کرتا ہے کہ ہاں اللہ کی قسم اور انہیں اللہ کی قسم ، غرض بطور تکیہ کلام کے یہ لفظ نکل جاتے ہیں دِل میں اس کی پختگی کا خیال بھی نہیں ہوتا ، حضرت عائشہ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ دو قسمیں ہیں جو ہنسی ہنسی میں انسان کے منہ سے نکل جاتی ہیں ، ان پر کفارہ نہیں ، ہاں جو ارادے کے ساتھ قسم ہو پھر اس کا خلاف کرے تو کفارہ ادا کرنا پڑے گا ، آپ کے علاوہ اور بھی بعض صحابہ اور تابعین نے یہی تفسیر اس آیت کی بیان کی ہے ، یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی اپنی تحقیق پر بھروسہ کر کے کسی معاملہ کی نسبت قسم کھا بیٹھے اور حقیقت میں وہ معاملہ یوں نہ ہو تو یہ قسمیں لغو ہیں ، یہ معنی بھی دیگر بہت سے حضرات سے مروی ہیں ، ایک حسن حدیث میں ہے جو مرسل ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیر اندازوں کی ایک جماعت کے پاس جا کھڑے ہوئے ، وہ تیر اندازی کر رہے تھے اور ایک شخص کبھی کہتا اللہ کی قسم اس کا تیر نشانے پر لگے گا ، کبھی کہتا اللہ کی قسم یہ خطا کرے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی نے کہا دیکھئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس کی قسم کے خلاف ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو قسمیں لغو ہیں ان پر کفارہ نہیں اور نہ کوئی سزا یا عذاب ہے ، بعض بزرگوں نے فرمایا ہے یہ وہ قسمیں ہیں جو انسان کھا لیتا ہے پھر خیال نہیں رہتا ، یا کوئی شخص اپنے کسی کام کے نہ کرنے پر کوئی بد دعا کے کلمات اپنی زبان سے نکال دیتا ہے ، وہ بھی لغو میں داخل ہیں یا غصے اور غضب کی حالت میں بےساختہ زبان سے قسم نکل جائے یا حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر لے تو اسے چاہئے کہ ان قسموں کی پروا نہ کرے اور اللہ کے احکام کیخلاف نہ کرے ، حضرت سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص جو آپس میں بھائی بھائی تھے ان کے درمیان کچھ میراث کا مال تھا تو ایک نے دوسرے سے کہا اب اس مال کو تقسیم کر دو ، دوسرے نے کہا اگر اب تو نے تقسیم کرنے کیلئے کہا تو میرا مال کعبہ کا خزانہ ہے ۔ حضرت عمر نے یہ واقع سن کر فرمایا کہ کعبہ ایسے مال سے غنی ہے ، اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے بول چال رکھ ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی رشتے ناتوں کے توڑنے اور جس چیز کی ملکیت نہ ہو ان کے بارے میں قسم اور نذر نہیں ۔ پھر فرماتا ہے تمہارے دِل جو کریں اس پر گرفت ہے یعنی اپنے جھوٹ کا علم ہو اور پھر قسم کھائے جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ) 5 ۔ المائدہ:89 ) یعنی جو تم مضبوط اور تاکید والی قسمیں کھا لو ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے اور ان پر علم و کرم کرنے والا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

225۔ 1 یعنی جو غیر ارادے اور عادت کے طور پر ہوں البتہ عملاً جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٠١] اور اگر کفارہ ادا کر دے تو اس صورت میں بھی اللہ بخشنے والا ہے اور بلا ارادہ قسمیں کھانے پر مواخذہ کرنے پر بھی، قسم کا کفارہ ایک دوسرے مقام پر مذکور ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائے یا انہیں پوشاک مہیا کرے یا غلام آزاد کرے یا تین دن کے روزے رکھے۔ (٨٩/ ٥)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لغو قسموں سے مراد وہ قسمیں ہیں جو نیت کے بغیر عادت کے طور پر یوں ہی زبان سے نکل جاتی ہیں۔ ایسی قسموں پر کسی قسم کا کفارہ یا سزا نہیں ہے، ہاں جو قسمیں دل کے ارادے کے ساتھ کھائی جائیں کہ اللہ کی قسم میں یہ کام ضرور کروں گا، یا نہیں کروں گا اور پھر ان کی خلاف ورزی کی جائے تو ان پر کفارہ ہے، مگر کوئی شخص جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے کہ میں نے یا فلاں نے یہ کام کیا ہے یا نہیں کیا تو یہ کبیرہ گناہ ہے۔ اس کا کفارہ نہیں صرف ندامت، آئندہ ایسا نہ کرنے کا عہد اور استغفار ہی اس کا علاج ہے۔ اسے ” یمین غموس “ کہتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Note: The laghw لغو or ineffectual oath has two meanings: I. In the first case it means a false oath sworn without volition over something in the past, or it could have been sworn with volition while the oath-taker considers it to be true in his supposition. For ex-ample, guided by his information and supposition, one ends up declar¬ing on oath that a certain person has arrived while that person had not arrived in reality. Similarly, if someone swears on oath for some-thing in future unintentionally, while he has been actually wanting to say something else, but the words of oath come out of his lips mista¬kenly, this type of oath also falls in this category. All these three types are not an act of sin and that is why they are called laghw لغو or ineffectu¬al. This act will not be reprehensible in the Hereafter (Akhirah). As compared to this, the oath which has been declared reprehensible is the one that has been uttered intentionally knowing it to be false. This is known as ghamus (perjury), and is an act of sin, but according to the Hanafiyyah, it does not require kaffarah or expiation. Therefore, لغو laghw, in the sense explained earlier, involves no kaffarah more obvi¬ously, (because it is not a sinful act). The verse under discussion exclu¬sively takes up these two categories that carry no کَفَّارہ kaffarah. II. Laghw لغو also means that which has no kaffarah کَفَّارہ . It will be called as laghw because it does not entail the liability of Kaffarah کَفَّارہ in this world. III. Given this meaning, the word, laghw لغو is inclusive of ghamus, which being an act of sin, however, does not require kaffarah کَفَّارہ . As compared to this, the oath that requires kaffarah کَفَّارہ is called mun&aqidah منعقدہ (that which is established, confirmed: fait accompli). For instance, if someone intentionally declares on oath to the effect that he or she would or would not perform a certain act, then, acting contrarily requires kaffarah. (Bayan al-Qur&an)

خلاصہ تفسیر : حکم نمبر ٢١ جھوٹی قسمیں کھانے کا حکم : اللہ تعالیٰ تم پر آخرت میں دارو گیر نہ فرماویں گے تمہاری قسموں میں ایسی بیہودہ قسم پر (جس میں بلا قصد جھوٹ بولا گیا) لیکن دارو گیر فرماویں گے اس جھوٹی قسم پر جس میں تمہارے دلوں نے (جھوٹ بولنے کا) ارادہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ غفور ہیں (کہ ایسی بیہودہ قسم پر دارو گیر نہ فرمائی) حلیم ہیں (کہ قصدا جھوٹی قسم کھانے کی سزا میں آخرت تک کی مہلت دی )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللہُ بِاللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ۝ ٠ ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ۝ ٢٢٥ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ لغو اللَّغْوُ من الکلام : ما لا يعتدّ به، وهو الذي يورد لا عن رويّة وفكر، فيجري مجری اللَّغَا، وهو صوت العصافیر ونحوها من الطّيور، قال أبو عبیدة : لَغْوٌ ولَغًا، نحو : عيب وعاب وأنشدهم : عن اللّغا ورفث التّكلّم يقال : لَغِيتُ تَلْغَى. نحو : لقیت تلقی، وقد يسمّى كلّ کلام قبیح لغوا . قال : لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا كِذَّاباً [ النبأ/ 35] ( ل غ و ) اللغو ۔ ( ن ) کے معنی بےمعنی بات کے ہے جو کسی گنتی شمار میں نہ ہو یعنی جو سوچ سمجھ کر نہ کی جائے گویا وہ پرندوں کی آواز کی طرح منہ سے نکال دی جائے ابو عبیدہ کا قول ہے کہ اس میں ایک لغت لغا بھی ہے ۔ جیسے عیب وعاب شاعر نے کہا ہے ( الرجز) ( 394) عن اللغ اور فث التکم جو بہیودہ اور فحش گفتگو سے خاموش ہیں ۔ اس کا فعل لغیت تلغیٰ یعنی سمع سے ہے ۔ اور کبھی ہر قبیح بات کو لغو کہہ دیا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا كِذَّاباً [ النبأ/ 35] وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ اور خرافات يَمِينُ ) قسم) في الحلف مستعار من الید اعتبارا بما يفعله المعاهد والمحالف وغیره . قال تعالی: أَمْ لَكُمْ أَيْمانٌ عَلَيْنا بالِغَةٌ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ [ القلم/ 39] ، وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] ، لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ [ البقرة/ 225] ، وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ [ التوبة/ 12] ، إِنَّهُمْ لا أَيْمانَ لَهُمْ [ التوبة/ 12] وقولهم : يَمِينُ اللهِ ، فإضافته إليه عزّ وجلّ هو إذا کان الحلف به . ومولی اليَمِينِ : هو من بينک وبینه معاهدة، وقولهم : ملك يَمِينِي أنفذ وأبلغ من قولهم : في يدي، ولهذا قال تعالی: مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمانُكُمْ [ النور/ 33] وقوله صلّى اللہ عليه وسلم آله : «الحجر الأسود يَمِينُ اللهِ» «1» أي : به يتوصّل إلى السّعادة المقرّبة إليه . ومن اليَمِينِ : تُنُووِلَ اليُمْنُ ، يقال : هو مَيْمُونُ النّقيبة . أي : مبارک، والمَيْمَنَةُ : ناحيةُ اليَمِينِ. الیمین بمعنی دایاں ہاتھ سے استعارہ کے طور پر لفظ یمین قسم کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اس لئے کہ عرب قسم کھاتے یا عہد کرتے وقت اپنا دایاں ہاتھ دوسرے کے دائیں ہاتھ پر مارتے تھے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ أَمْ لَكُمْ أَيْمانٌ عَلَيْنا بالِغَةٌ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ [ القلم/ 39] یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن چلی جائیں گی ۔ وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ النور/ 53] اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں ۔ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ [ البقرة/ 225] خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا ۔ وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ [ التوبة/ 12] اگر عہد کرن کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں ۔ ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ۔ اور عربی محاورہ ویمین اللہ ( اللہ کی قسم ) میں) یمین کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لئے کی جاتی ہے ۔ کہ قسم کھانے والا اللہ کے نام کی قسم کھاتا ہے ۔ اور جب ایک شخص دوسرے سے عہدو پیمان باندھتا ہے تو وہ اس کا موالی الیمین کہلاتا ہے اور کسی چیز پر ملک اور قبضہ ظاہر کرنے کے لئے فی یدی کی نسبت ملک یمینی کا محاورہ زیادہ بلیغ ہے ۔ اسی بنا پر غلام اور لونڈیوں کے بارے میں قرآن نے اس محاورہ کی اختیار کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمانُكُمْ [ النور/ 33] جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں ۔ اور حدیث میں حجر اسود کی یمین اللہ کہا گیا ہے (132) کیونکہ اس کے ذریعہ قرب الہی کی سعادت حاصل کی جاتی ہے ۔ یمین سے یمن کا لفظ ماخوذ ہے جو خیروبرکت کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ محاورہ ہے ۔ ھومیمون ۔ النقیبۃ وہ سعادت مند ہے اور میمنۃ کے معنی دائیں جانب بھی آتے ہیں ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ حلم الحِلْم : ضبط النّفس والطبع عن هيجان الغضب، وجمعه أَحْلَام، قال اللہ تعالی: أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلامُهُمْ بِهذا [ الطور/ 32] ، قيل معناه : عقولهم ، ولیس الحلم في الحقیقة هو العقل، لکن فسّروه بذلک لکونه من مسبّبات العقل وقد حَلُمَ وحَلَّمَهُ العقل وتَحَلَّمَ ، وأَحْلَمَتِ المرأة : ولدت أولادا حلماء قال اللہ تعالی: إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] ، ( ح ل م ) الحلم کے معنی ہیں نفس وطبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ وغضب کے موقع پر بھڑ کنہ اٹھے اس کی جمع احلام ہے اور آیت کریمہ : ۔ کیا عقلیں ان کو ۔۔۔ سکھاتی ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ احلام سے عقیں مراد ہیں اصل میں ھلم کے معنی متانت کے ہیں مگر چونکہ متانت بھی عقل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس لئے حلم کا لفظ بول کر عقل مراد لے لیتے ہیں جیسا کہ مسبب بول کر سبب مراد لے لیا جاتا ہے حلم بردبار ہونا ۔ عقل نے اسے برد بار رہنا دیا ۔ عورت کا حلیم بچے جننا ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے لایواخدکم اللہ باللغوفی ایمانکم ولکن اخذکم بما کسبت قلوبکم واللہ غفور حلیم۔ جو بےمعنی قسمیں تم بلا ارادہ کھالیتے ہو ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو ان کی باز پرس وہ ضرور کرے گا۔ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ اللغو کا کئی مقام پر ذکر کیا ہے۔ اس لئے استعمال کے موقع و محل کی مناسبت سے اس سے مختلف معانی مراد لئے گئے ہیں قول باری ہے۔ لاتسمع فیھا لاغیہ۔ تم جنت میں کوئی فحش اور قبیح کلمہ نہیں سنو گے) یہاں لاغیۃ سے مراد فحش اور قبیح کلمہ ہے۔ اس طرح قول باری لایسمعون فیھا لغواً ولاتاثیماً ۔ وہ جنت میں کوئی لغو اور گناہ میں مبتلا کرنے والی بات نہیں سنیں گے) یہاں لفظ لغو کا وہی مفہومہ ہے جو پچھلی آیت میں لاغیۃ کا ہے۔ نیز قول باری ہے واذاسمعوا اللغوا عرضواعنہ اور جب کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں یہاں لغو سے مراد کفر اور کلام قبیح ہے۔ اسی طرح قول باری ہے والغوافیہ اور قرآن سننے کے درمیان غل مچا دیا کرو۔ یہاں اس سے مراد وہ شور و غل ہے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا کہ سامعین کے ذہنوں کو قرآن سننے کی طرف سے مشغول کردیا جائے۔ اسی طرح قول باری ہے واذا مروا باللغومروکداما اور جب یہ کسی فضول چیز کے پاس سے گزرتے ہیں تو دامن بچا کر وقار سے گزر جاتے ہیں) یہاں لغو سے مراد فضول اور باطل گفتگو یا شئے ہے جب کوئی شخص بےفائدہ اور بےمعنی گفتگو کرے تو محاورے میں یہ فقرہ کہا جاتا ہے لغافی کلامہ اس نے فضول اور لایعنی باتیں کیں۔ بےمعنی قسم کے متعلق سلف سے کئی اقوال منقول ہیں حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو کسی ایسی بات کی قسم کھا بیٹھتا ہے جس کے متعلق اس کا خیال ہو کہ وہ ایسی ہی ہوگی حالانکہ وہ ایسی نہیں ہوتی مجاہد اور ابراہیم نخعی سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔ مجاہد نے قول باری ولکن یواخذکریما عقدتم الایمان۔ مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہو اس کی وہ ضرور تم سے بازپرس کرے گا) کی تفسیر میں کہا ہے کہ تم جانتے ہوئے ایک چیز کی قسم کھا بیٹھو یہی معنی قول باری بما کسبت قلوبکم کا بھی ہے حضر ت عائشہ (رض) کا قول ہے کہ یمین لغویہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے ” لاو اللہ یا بلی واللہ (نہیں، بخدا نہیں یا بخدا کیوں نہیں) حضرت عائشہ (رض) سے یہ روایت مرفوعاً بھی نقل ہوئی ہے۔ ہمارے نزدیک اس سے مراد گزری ہوئی بات پر قسم کھانے سے روکنا ہے عطاء نے اس کے متعلق حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ کوئی شخص یہ کہے ” فعلنا واللہ کذایاصنعنا واللہ کذا، (بخدا ہم نے یہ کام کیا یا بخدا ہم نے یہ حرکت کی) حسن بصری اور شعبی سے بھی اسی قسم کی روایت ہے اس کے متعلق سعید بن جبیر کا قول ہے یہ وہ شخص ہے جو کسی حرام کام کے کرنے کی قسم کھا لیتا ہے پھر وہ کام نہ کرنے پر اللہ اس کی گرفت نہیں کرتا “۔ آیت زیر بحث کی یہ تاویل قول باری عرضۃ لایمانکم کی اس تاویل کے مطابق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کسی شخص کا قسم کے ذریعے ایک مباح فعل سے باز رہنا یا ممنوع فعل کر گزرنا ہے اب جبکہ لفظ لغو ان تمام معانی کا احتمال رکھتا ہے اور دوسری طرف یہ بھی واضح ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنے قول ولکن یواخذکم بما کسبت قلوبکم کا ماقبل کے قول پر عطف کر کے ایسی قسم مراد لی ہے جس کی گرہ دل میں جھوٹ اور خلاف واقعہ بات پر باندھی جائے۔ تو اس سے یہ واجب ہوجاتا ہے کہ آیت میں جس گرفت اور مواخذہ کا ذکر ہے وہ سزائے آخرت ہو اور اس قسم کے ٹوٹنے پر کفارہ لازم نہ آئے۔ اس لئے کہ اس کفار سے کا دل کے کسب سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اس کے ذریعے قاصد خیر اور قاصد شرودنوں کا حال یکساں ہوتا ہے نیز عمد اور سہو دونوں کا حکم بھی ایک جیسا ہوتا ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوگیا کہ آیت میں مذکورہ عقوبت سے مراد وہ سزا ہے جو اسے یمین غموس کا ارادہ کرنے پر ملے گی اور یمین غموس وہ قسم ہے جو وہ کسی گزشتہ فعل پر کھاتا ہے۔ اس قسم کا اٹھانے والا دراصل خلاف واقعہ بات کہہ کر جھوٹ کا ارادہ کرتا ہے اس لئے یمن لغو وہ قسم ہونی چاہیے جس میں جھوٹ کا ارادہ نہیں ہوتا۔ یہ گزرے ہوئے کسی فعل کے متعلق ہوتی ہے اور قسم اٹھانے والا یہ خیال کرتا ہے کہ اس نے جس طرح کی قسم کھائی ہے واقعہ بھی یہی ہے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کا نام لغو اس لئے رکھا ہے کہ کفارہ کے وجوب کے لحاظ سے اور نہ ہی سزا کے استحقاق کے لحاظ سے اس کے ساتھ کوئی حکم متعلق ہوتا ہے۔ یہی وہ قسم ہے جس کے مفہوم کی روایت حضرت عائشہ (رض) سے اور حضرت ابن عباس (رض) سے ہوئی ہے کہ کوئی شخص اپنی بات پیش کرتے ہوئے لاو اللہ یا بلی واللہ کہے اور یہ خیال کرے کہ وہ سچ کہہ رہا ہے اس کی حیثیت اس لغو کلام کی سی ہوگی جو بےفائدہ ہوتا ہے اور جس کے ساتھ کسی حکم کا تعلق بھی نہیں ہوتا۔ ایک احتمال یہ بھی ہے آیت میں مذکورہ یمین سے اللہ نے وہ صورت مراد لی ہو جس کا ذکر سعید بن جبیر نے کیا ہے کہ ایک شخص کسی فعل حرام کی قسم اٹھالے اور پھر قسم پوری نہ کرنے پر اللہ اس کا مواخذہ نہ کرے۔ اس مواخذہ سے سعید بن جبیر کی مراد آخرت کی سزا ہے اگرچہ قسم توڑنے کی صورت میں اس پر کفارہ واجب ہوجائے گا مسروق کا قول ہے کہ ہر وہ قسم جسے قسم کھانے والا پوری نہ کرسکتا ہو یمین لغو ہے اس میں کفارہ واجب نہیں ہوتا۔ یہ بات سعید بن جبیر کے قول اور ہماری کہی ہوئی بات کے موافق ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ قسم توڑنے پر سعید بن جبیر اس پر کفارہ واجب کرتے ہیں اور مسروق کفارہ واجب نہیں کرتے۔ اس سلسلے میں حضرت ابن عباس (رض) سے ایک اور روایت بھی ہے وہ یہ کہ جس لغو قسم پر کفارہ واجب ہوجائے وہ یمین لغو ہے ضحاک سے بھی اسی قسم کی ایک روایت ہے حضرت ابن عباس (رض) سے یہ بھی مروی ہے کہ بھول کر قسم توڑ دینے کا نام یمین لغو ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٢٥) اللہ تعالیٰ تمہارے ترک احسان کے متعلق قسموں کو سنتا ہے اور تمہاری نیتوں اور قسموں کے کفارہ کی ادائیگی کو جانتا ہے، تمہاری فضول قسموں پر جیسا کہ خرید وفروخت کے وقت، لا واللہ، اور بلی واللہ، تم کہتے ہو کوئی کفارہ نہیں۔ لیکن جن قسموں میں تم اپنے خیالات دلوں میں پوشیدہ رکھ کے جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہو، اس پر اللہ تعالیٰ آخرت میں مواخذہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری ان فضول اور بیہودہ قسموں کی جو بغیر ارادہ کے نکل جائیں بخشش فرمانے والا ہے اور سزا کے بارے میں دانستہ جھوٹی قسموں پر جلدی بھی نہیں فرماتا، یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ گناہ کرنے کے لیے قسم کھانے کو لغو کہتے ہیں، اگر اس کو چھوڑ دے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے تو اللہ تعالیٰ مواخذہ نہیں کرتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٢٥ (لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ باللَّغْوِ فِیْ اَیْمَانِکُمْ ) عربوں کا انداز گفتگو اس طرح کا ہے کہ واللہ ‘ باللہَ کے بغیر ان کا کوئی جملہ شروع ہی نہیں ہوتا۔ اس سے درحقیقت ان کی نیت قسم کھانے کی نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کا گفتگو کا ایک اسلوب ہے۔ اس طرح کی قسموں پر مؤاخذہ نہیں ہے۔ (وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ ط) ۔ ایسی قسموں کو توڑو گے تو کفارہّ دینا ہوگا۔ کفارے ّ کا حکم سورة المائدۃ میں بیان ہوا ہے۔ میں عرض کرچکا ہوں کہ سورة البقرۃ میں شریعت اسلامی کا ابتدائی خاکہ دے دیا گیا ہے اور اس کے تکمیلی احکام کچھ سورة النساء میں اور کچھ سورة المائدۃ میں بیان ہوئے ہیں۔ (وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ ) ۔ وہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔ وہ فوراً نہیں پکڑتا ‘ بلکہ اصلاح کی مہلت دیتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

244. This refers to oaths which one utters either through habit or without any intent and purpose. The breach of such vows neither entails expiation nor makes man liable to God's reproach.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :244 یعنی بطور تکیہ کلام کے بلا ارادہ جو قسمیں زبان سے نکل جاتی ہیں ، ایسی قسموں پر نہ کفارہ ہے اور نہ ان پر مواخذہ ہو گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

147: لغو قسم سے مراد تو وہ قسم ہے جو قسم کھانے کے ارادے سے نہیں، بلکہ تکیۂ کلام کے طور سے زبان پر آجائے، خاص طور پر عربوں میں اس کا بہت رواج تھا کہ بات بات میں وہ ’’واللہ‘‘ کہہ دیتے تھے۔ اسی طرح بعض اوقات انسان ماضی کے کسی واقعے پر قسم کے ارادے ہی سے قسم کھاتا ہے، لیکن اس کے اپنے خیال کے مطابق وہ قسم صحیح ہوتی ہے، جھوٹ بولنے کا ارداہ نہیں ہوتا، لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جو بات قسم کھاکر کہی تھی، وہ حقیقت میں صحیح نہیں تھی، ان دونوں طرح کی قسموں کو لغو کہا جاتا ہے۔ اس آیت نے بتایا کہ اس پر گناہ نہیں ہوتا۔ البتہ انسان کو چاہئے کہ وہ قسم کھانے میں احتیاط سے کام لے، اور ایسی قسم سے بھی پرہیز کرے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:225) لایؤاخذکم اللہ۔ اللہ۔ فاعل ۔ لایؤاخذ فعل کم ضمیر مفعول۔ لایؤاخذ فعل مضارع منفی۔ واحد مذکر غائب۔ مؤاخذۃ (مفاعلۃ) مصدر بمعنی مؤاخذہ کرنا۔ گرفت کرنا۔ پکڑ کرنا ۔ اللہ فردت نہیں کرے گا تمہاری۔ باللغو۔ ب سببیہ۔ اللغو (باب نصر) بےمعنی بات۔ جو کسی گنتی شمار میں نہ ہو۔ جو سوچ سمجھ کر نہ کی جائے ۔ بےہودہ بات۔ یا بےہودی چیز۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے والذین ھم عن اللغو مغرضون (23:3) اور جو بےہودہ باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ پہلو تہی کرتے ہیں۔ لغو اسم قسم کو کہتے ہیں جو بغیر نیت قسم کے بطور تکیہ کلام کے منہ سے نکل جاتی ہے۔ بقول حضرت عائشہ (رض) آدمی کی لغو قسم اس طرح کہنا ہے کہ لاو اللہ۔ بلی واللہ۔ لا یؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم۔ اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں سے بےہودہ قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں کریگا۔ اخذ ۔۔ ب۔ کسی چیز کو پکڑنا۔ کسی کو گناہ پر سزا دینا۔ مؤاخذہ کرنا۔ بما کسبت قلوبکم۔ ما موصولہ۔ کسبت۔ فعل ماضی ۔ واحد مؤنث غائب۔ کسب (باب ضرب) مصدر۔ کمائی کرنا۔ نفع کے لئے کوئی کام کرنا خواہ نتیجہ اچھا نکلے یا برا۔ یہاں اس کا استعمال قلبی ارادہ اور نیت کی پختگی سے کام کرنے کے لئے ہوا ہے۔ یعنی وہ قسمیں جو تمہارے دلوں نے ارادۃ اور نیۃ کھائی ہوں۔ لیکم تم سے اس (قسم) پر مؤاخذہ کرے گا جو تم نے دلی ارادہ سے کھائی ہو جس پر تمہارے دلوں نے قصد کیا ہو۔ غفور۔ مغفرۃ۔ مصدر (باب ضرب) سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت بخشنے والا۔ حلیم حلم سے بروزن فعیل۔ صفت مشیہ کا صیغہ ہے۔ بردبار۔ تحمل والا۔ حلم۔ جوش غضب سے اپنے نفس اور طبیرت کر روکنا۔ برباری۔ تحمل کرنا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 لغو قسموں سے مراد وہ قسمیں ہیں جو بےساختہ عادت کے طور پر یو نہی زبان سے نکل جاتی ہیں، نہیں پکڑے گا۔ یعنی ایسی قسموں پر کسی قسم کا کفارہ یا سزا نہیں ہے ہاں جو قسمیں دل کے ارادہ کے ساتھ کھائی جائیں اور پھر ان کی خلاف روزی کی جائے تو ان پر کفارہ یا سزا ہے۔ فقہ کی زبان میں ایسی قسم کو منعقدہ کہتے ہیں مگر کوئی شخص عمداجھوٹی قسم کھائے تو یہ کبیرہ گناہ ہے اس کا کفارہ نہیں ہے ایسی قسم کو یین غموس کہا جاتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ لغو قسم کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ کسی گزری ہوئی بات پر جھوٹی قسم بلا ارادہ نکل گئی یا آئندہ بات پر اس طرح قسم نکل گئی کہ کہنا چاہتا تھا کچھ اور بےارادہ منہ سے کچھ نکل گیا اس میں گناہ نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلہ میں جس پر مواخذہ ہونے کا ذکر فرمایا وہ قسم ہے جو قصدا جھوٹی سمجھ کر کھائی ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ تعالیٰ رؤف ورحیم ہے ، اس لئے اس نے کفارہ اس قسم پر عائد کیا ہے جو قصد و ارادہ سے ہو ، جس میں قسم کھانے والا قصداً قسم کھالے ۔ اور اس کا ارادہ یہ ہو کہ اس نے جس چیز پر قسم کھائی ہے وہ اس کا ارتکاب نہ کرے گا ، لیکن عام طور پر لوگ بلا ارادہ اور بلا قصد جو قسمیں کھالیتے ہیں ان پر کفارہ عائد نہیں کیا گیا۔ لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ” جو بےمعنی قسمیں تم بلاارادہ کھالیا کرتے ہو ، ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو ، ان کی باز پرس وہ ضرور کرے گا ۔ اللہ بہت درگزر کرنے والا ہے۔ “ ابوداؤد نے اپنی سند سے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم میں لغو یہ ہے کہ آدمی گھر میں کہے ہرگز نہیں اللہ کی قسم ، یا کہے ہاں اللہ کی قسم ۔ ابن جریر نے عروہ کے واسطہ سے اس روایت کو حضرت عائشہ (رض) سے موقوف نقل کیا ، فرماتی ہیں جن بےمعنی قسموں پر اللہ کی گرفت نہیں ہے وہ یہ ہیں ، کہ کوئی کہے ہرگز نہیں اللہ کی قسم یا کہے ہاں اللہ کی قسم ، حسن بن حسن سے ایک مرسل حدیث میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گروہ پر سے گزرے جو تیر اندازی کررہے تھے ۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک صحابی بھی تھے ۔ ایک شخص ان میں سے اٹھا اور چلایا اللہ کی قسم میرا تیر نشانے پر لگ گیا اور تمہارا نشانہ ٹھیک نہیں لگا ، اللہ کی قسم ، رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو صحابی جارہا تھا اس نے کہا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، یہ شخص تو اپنی قسم میں حانث ہوگیا۔ اس پر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ، ہرگز نہیں ، تیر اندازی کا مقابلہ کرنے والوں کی قسمیں لغ وہیں ۔ بےمعنی ہیں ان میں نہ کفارہ ہے اور نہ ہی کوئی عذاب ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں ، لغو قسم یہ ہے کہ کوئی شخص غصے کی حالت میں قسم کھابیٹھے ۔ نیز ان سے یہ روایت ہے کہ یمین لغو یہ ہے کہ تم اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام قرار دو ۔ اس میں تم پر کوئی کفارہ نہیں ہے ۔ حضرت سعید ابن المسیب سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ دو انصار بھائیوں کے درمیان میراث کا تنازعہ تھا ، ایک نے دوسرے سے کہا کہ وہ اسے اس کا حصہ دے دے ، اس پر اس نے قسم کھالی کہ اگر تم نے دوبارہ مجھ سے اپنا حصہ طلب کیا تو میرا تمام مال خانہ کعبہ کے لئے وقف ہوا ، حضرت عمر (رض) نے فرمایا کعبہ غریب نہیں ہے ۔ کعبہ کو تیرے مال کی ضرورت نہیں ہے ، اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو اور اپنے بھائی سے بات کرو ۔ میں نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اللہ کی معصیت میں تم جو قسم کھاؤ وہ کوئی قسم نہیں ہے اور نہ وہ کوئی نذر ہے ۔ نہ صلہ رحمہ قطع کرنے کی کوئی قسم واجب ہے ۔ نہ اس چیز کی قسم جس کے تم مالک ہو۔ ان روایات سے جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قسم میں اگر اس کام کے کرنے اور چھوڑنے کی نیت نہ ہو ، جس پر قسم کھائی گئی ہے تو یہ قسم بےمعنی ہے اور اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے ۔ وہی قسم ، قسم کہلائے گی کہ قسم کھانے والا کسی بات کے کرنے یا کسی کام سے رکنے کا پختہ ارادہ کرے جس پر وہ قسم کھارہا ہے ۔ ایسی قسم اگر توڑ دی جائے تو اس پر کفارہ واجب ہوگا۔ اور اگر اس قسم کی قسم کسی اچھے کام سے رکنے کے لئے ہو یا کسی برے کام یا برے فعل کے ارتکاب کے لئے ہو ، تو ایسی قسم کا توڑنا لازمی ہے ۔ رہا وہ شخص جو کسی ایسے امر پر قسم کھائے جس کے بارے میں اسے یقین ہو کہ وہ جھوٹا ہے تو بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اس قسم کا کوئی کفارہ نہیں ہے ، نہ کسی کے کفارے سے اس گناہ کی تلافی ممکن ہے ۔ امام مالک (رح) مؤطا میں فرماتے ہیں ، اس سلسلے میں سب سے اچھی جو بات میں نے سنی ہے وہ یہ ہے کہ یمین لغو وہ ہے کہ انسان کسی بات پر قسم کھائے اور جان رہا ہو کہ وہ جھوٹا ہے ، گناہ گار ہے ، اس طرح کرنے سے وہ کسی کو خوش کررہا ہو ، یا کسی کا حق مارنا چاہتا ہو ، یہ عظیم گناہ ہے اور کفارہ سے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی ۔ جس قسم کے توڑنے میں خیر ہو ، بھلائی ہو ، اس کے حکم کے آخر میں فرمایا جاتا ہے وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” اللہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے۔ “ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ تم جو کچھ کہتے ہو وہ اسے سنتا ہے لیکن وہ یہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ خیر کس میں ہے اس لئے وہ یہ حکم دیتا ہے۔ اور لغو وبے معنی قسم اور سچی قسم کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ ” غفور رحیم “ معاف کرنے والا اور رحیم ہے کہ وہ بندوں کے ہر فعل پر مواخذہ نہیں کرتا ۔ جب ان کے منہ سے غلطی سے جو نکل جائے وہ اس پر مواخذہ نہیں کرتا ۔ وہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو معاف کردیتا ہے ۔ بشرطیکہ بندہ اس کی طرف لوٹ آئے ۔ ان دونوں تبصروں اور نتائج سے قسم کے یہ معاملات سب کے سب اللہ سے جڑجاتے ہیں اور ایک مسلمان کا دل ہر قول میں اور ہر فعل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قسموں کی قسموں کا بیان اور ان کے احکام جو قسم کھائی جائے اس کی تین صورتیں ہیں ایک یہ کہ گزشتہ کسی فعل پر جھوٹی قسم کھائی جائے، جو کام نہیں کیا تھا اس کے بارے میں قسم کھالے کہ میں نے کیا، یا جو کام کیا تھا اس کے بارے میں قسم کھالی کہ یہ میں نے نہیں کیا۔ اس کو یمین غموس کہا جاتا ہے اس کا بہت بڑا گناہ ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور یمین غموس۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ١٧) یہ لفظ غمس سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کو پوری طرح کسی دوسری چیز میں داخل کردیا جائے۔ علماء نے لکھا ہے کہ جھوٹی قسم کو یمین غموس اس لیے کہا گیا کہ یہ اولاً گناہ میں پھر دوزخ میں داخل کردیتی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آئندہ کسی کام کے بارے میں قسم کھائے، مثلاً یوں کہے کہ اللہ کی قسم یہ کام ضرور کروں گا، یا اللہ کی قسم فلاں کام نہیں کروں گا، اس کو یمین منعقدہ کہا جاتا ہے، اس کی خلاف ورزی کرنے پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ جو سورة مائدہ کے رکوع نمبر ١٢ میں مذکور ہے کفارہ قسم کی تفصیلات انشاء اللہ تعالیٰ وہیں بیان ہو نگی۔ تیسری صورت یہ ہے کہ کسی گزشتہ کام پر قسم کھالی اور یہ سمجھ کر قسم کھالی کہ میں سچ بول رہا ہوں سچی قسم کھا رہا ہوں، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہ تھا جیسا اس نے سمجھا تھا اپنے خیال میں اس نے سچی قسم کھائی لیکن اصل واقعہ اس کے خلاف تھا۔ اس قسم کا نام یمین لغو ہے، اس کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر مواخذہ نہیں فرمائے گا، یمین لغو کی دوسری تفسیر حضرت عائشہ (رض) سے یوں منقول ہے کہ باتوں باتوں میں قسم کی نیت کے بغیر جو زبان سے لاو اللہ اور بلیٰ واللہ نکل جاتا ہے یہ یمین لغو ہے۔ (رواہ البخاری ص ٩٨٦ ج ٢) یمین لغو میں کیونکہ ارادہ نہیں ہوتا اس لیے اس پر مواخذہ نہیں ہے۔ آیت کے ختم پر فرمایا (وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ) کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے جو یمین لغو پر مواخذہ نہیں فرمائے گا۔ اور بردبار بھی ہے سزا دینے میں جلدی نہیں فرماتا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

445 یہ یمین لغو کا حکم ہے۔ کہ اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ نہ دنیا میں کفارہ ہے نہ آخرت میں سزا۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یمین لغو کی صورت یہ ہے کہ کسی نہ کسی گذشتہ واقعہ کو صحیح سمجھتے ہوئے اس کے متعلق قسم کھائی کہ ایسا ہوا ہے حالانکہ واقعہ میں ایسا نہیں تھا۔ فعندنا ھو ان یحلف جیسے اس نے کسی کو بتاتے وقت اس پر قسم کھالی کہ خالد لاہور چلا گیا ہے حالانکہ یہ خبر غلط تھی مگر زید نے اس خبر کو صحیح سمجھ کر قسم کھائی تو یہ یمین لغو ہوگی اور اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ حضرت ابن عباس، حسن، مجاہد، نخعی، زہری، قتادہ، سلیمان بن یسار وغیرہ کا یہی مسلک ہے۔ وقول ابی حنیفۃ ھو قول ابن عباس والحسن والمجاھد والنخعی والزھری وسلیمان بن یسار وقتادۃ والسدی ومکحول (کبیر ص 357 ج 2) وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ ۔ یہ یمین غموس کا حکم ہے۔ اور یمین غموس یہ ہے کہ عمداً اور قصداً کسی گذشتہ واقعہ کے متعلق جھوٹی قسم کھائی جائے۔ یعنی یمین لغوپر تو کوئی مواخذہ نہیں البتہ دل کے ارادہ اور قصد سے تم جو جھوٹی قسمیں کھاؤگے، ان پر مواخذہ ہوگا۔ اور یہ مواخذہ اخروی عذاب کی صورت میں ہوگا۔ دنیا میں اس کا کوئی کفارہ نہیں۔ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ۔ وہ بخشنے والا ہے چناچہ غیر ارادی اور لغو قسموں پر مواخذہ نہیں کرتا۔ اور بردبار ہے۔ ارادۃً جھوٹی قسموں پر فوراً مواخذہ نہیں کرتا بلکہ بندوں کو توبہ کرنے اور گناہوں پر نادم ہونے کا موقع دیتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری انق سموں پر جو لا یعنی اور لغو و بےہودہ ہوں کوئی مواخذہ نہیں فرمائے گا مگر ہاں ان قسموں پر تم سے مواخذہ فرمائے گا اور تمہاری گرفت کرے گا جن کا تمہارے دلوں نے قصد اور ارادہ کیا ہے یعنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کا ارادہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب مغفرت اور صاحب علم ہے کہ لغو و لا یعنی پر گرفت نہیں کرتا اور قصداً جھوٹی قسم کھانے پر فوری داروگیر نہیں فرماتا بلکہ اپنے حلم سے مجرم کو مہلت دیتا ہے۔ (تیسیر) لغو ایسے کلام کو کہتے ہیں جو بلا ضرورت اور بدون احتیاج بولا جائے اس میں کوئی خیر اور بھلائی نہ ہو یعنی ایسا کام جو ساقط الاعتبار ہو اور اس کا کوئی شمار نہ ہو یہ لفظ ویت کی بحث میں بھی آتا ہے اور وہاں بھی اس کو اس معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی اس معنی میں ہے کہ اس قسم کا کوئی شمار نہیں اور وہ ساقط الاعتبار ہے قسم کھانے والا کسی گذرے ہوئے واقع پر قسم کھائے جیسے کوئی کہے خدا کی قسم جمعہ کے روز بارش ہوئی تھی یا مستقبل پر کھائے جیسے کوئی کہے کہ خدا کی قسم میں کل ضرور آئوں گا اب اگر قسم کھانے والے نے ماضی پر قسم کھائی اور جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی بارش ہوئی تھی جمعرات کے دن اور قصداً جھوٹ بوالا اور جمعہ بتایا تو اس قسم کا نام غموس ہے اور اگر اس نے جان کر جھوٹ نہیں بولا بلکہ اسکا پختہ خیال تھا کہ بارش جمعہ کو ہوئی تھی اگرچہ حقیت میں اس کا یہ خیال غلط تھا مگر اس نے اپنے نزدیک سچی قسم کھائی تو اس کو لغو کہتے ہیں اسی طرح مستقبل پر قسم کھانے والے نے قسم کھائی کہ میں کل آئوں گا یہ قسم منعقدہ ہے اور ایک صورت مستقبل کی یہ ہے کہ قسم کھانے کا ارادہ نہ تھا نہ قسم کھانی چاہتا تھا بلا ارادہ منہ سے قسم نکل گئی تو اس قسم کو بھی اس اعتبار سے کہ اس پر کوئی مواخذہ نہیں لغو میں داخل کیا گیا ہے ، لہٰذا قسموں کی تین شکلیں ہوتی ہیں۔ 1۔ لغو اس پر نہ کوئی گناہ اور نہ کوئی مواخذہ۔ 2 ۔ عموس اس پر حنیفہ کے نزدیک اخروی مواخذہ ہے۔ اور اس کا مرتکب گناہ گار ہے لیکن اس پر کوئی کفارہ نہیں اس کو توبہ کرنا ضروری ہے تا کہ اخروی مواخذہ سے محفوظ رہے۔ 3۔ منعقدہ اس قسم کے خلاف کرنے والے پر بالا تفاق کفارہ ہے جس کی تفصیل سورة مائدہ میں انشاء اللہ آ جائیگی۔ یہاں صرف دو قسم کا قسموں کا ذکر ہے یعنی جو ماضی پر کھائی جائیں اگر جان بوجھ کر جھوٹی کھائی تو گناہ گار اور قیامت میں قابل گرفت اور اگر سچ سمجھ کر کھائی مگر وہ تھی جھوٹی تو نہ کوئی گناہ اور نہ کوئی مواخذہ۔ اب رہی لغو کی وہ قسم جو مستقبل پر بلا ارادہ منہ سے نکل گئی اور وہ جو قصدا ً قسم کھائی یعنی منعقدہ اور اس کا خلاف کیا تو ان دونوں قسموں کا ذکر سورة مائدہ میں انشاء اللہ آجائے گا ۔ یہاں صرف گزشتہ واقعہ پر قسم کھانے کی دونوں شکلوں کا ذکر ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے جو لوگ عام طور سے لا واللہ بلے واللہ کہنے کے عادی ہیں حالانکہ نہ ان کا قسم کھانے کا ارادہ ہوتا ہے نہ ماضی مستقبل کی کوئی چیز ہوتی ہے اس قسم کے عادی لوگوں کی قسمیں لغو قسمیں ہیں ۔ ابن جریر نے حسن ابن ابی الحسن سے مرفوعاً اور ابن کثیر نے مرسلا ً نقل کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو دیکھا کہ جب وہ نشانہ کی طرف تیر پھینکتے تو کہتے خدا کی قسم تیر نشانہ پر بیٹھ گیا ۔ کوئی کہتا واللہ میرا تیر خطا کر گیا ، کسی نے ان کی قسموں پر دریافت کیا یا رسول اللہ یہ حانث ہوئے اور ان پر کفارہ واجب ہوا ۔ سرکار نے جواب دیا نہیں تیر اندازوں کی قسم لغو ہوتی ہے صحابہ اور تابعین کی جماعت سے لغو کی مختلف تفسیریں منقول ہیں ۔ اگرچہ لغو قسموں پر بالا تفاق گناہ اور کفارہ نہیں لیکن قسموں کی کثرت سے اجتناب کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے ولید بن مغیرہ کی مذمت میں فرمایا ہے۔ ولا تطع کل حلاف۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ناکاری قسم وہ جو منہ سے نکلے اور دل کو خبرنہ ہو ۔ ( موضح القرآن) اب آگے اس قسم کا ذکر ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جانے اور ہم بستری کی قسم کھاے بیٹھے تو اس کی قسم کا کیا حکم ہے۔ ( تسہیل)