Allah tells that;
وَقَالَ لَهُمْ نِبِيُّهُمْ إِنَّ ايَةَ مُلْكِهِ أَن يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ
...
And their Prophet said to them: "Verily! The sign of His kingdom is that there shall come to you At-Tabut,
Their Prophet then proclaimed, "The sign of the blessings of Talut's kingship over you is that Allah will give you back the Tabut (wooden box) that has been taken from you."
Allah said:
فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ
(wherein is Sakinah from your Lord) meaning,
peace (or grace) and reassurance.
Abdur-Razzaq stated that Qatadah said:
فِيهِ سَكِينَةٌ
(wherein is Sakinah),
means grace.
In addition, Ar-Rabi said that;
Sakinah means mercy.
This is also the meaning given by Ibn Abbas, as Al-Awfi narrated.
Allah then said:
...
وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ الُ مُوسَى وَالُ هَارُونَ
...
...and a remnant of that which Musa (Moses) and Harun (Aaron) left behind,
Ibn Jarir related that Ibn Abbas said about this Ayah:
Meaning, Moses' staff and the remnants of the Tablets.
This is the same Tafsir of Qatadah, As-Suddi, Ar-Rabi bin Anas and Ikrimah, who added, "And also the Torah."
Abdur-Razzaq said that he asked Ath-Thawri about the meaning of,
وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ الُ مُوسَى وَالُ هَارُونَ
(...and a remnant of that which Musa (Moses) and Harun (Aaron) left behind),
Ath-Thawri said,
"Some said that it contained a pot of manna and the remnants of the Tablets, while some others said that it contained (Moses') staff and two shoes (and refer to 20:12)."
Allah then said:
...
تَحْمِلُهُ الْمَليِكَةُ
...
...carried by the angels.
Ibn Jurayj stated that Ibn Abbas said,
"The angels came down while carrying the Tabut between the sky and the earth, until they placed it before Talut while the people were watching."
As-Suddi said,
"The Tabut was brought to Talut's house, so the people believed in the Prophethood of Shamun (Simeon) and obeyed Talut."
The Prophet then said:
...
إِنَّ فِي ذَلِكَ لايَةً لَّكُمْ
...
Verily, in this is a sign for you,
testifying to my truth in what I was sent with, my Prophethood, and my command to you to obey Talut.
...
إِن كُنتُم مُّوْمِنِينَ
if you are indeed believers.
in Allah and the Hereafter.
تابوت سکینہ اور جنگ طالوت و جالوت
نبی فرما رہے ہی کہ طالوت کی بادشاہت کی پہلی علامت برکت یہ ہے کہ کھویا ہوا تابوت سکینہ انہیں پھر مل جائے گا ، جس میں وقار و عزت دلجمعی اور جلالت رافت و رحمت ہے جس میں اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں تم بخوبی جانتے ہو ، بعض کا قول ہے کہ سکینہ ایک سونے کا طشت تھا جس میں انبیاء کے دِل دھوئے جاتے تھے جو حضرت موسیٰ کو ملا تھا اور جس میں آپ نے توراۃ کی تختیاں رکھی تھیں ، کسی نے کہا ہے اس کا منہ بھی تھا جیسے انسان کا منہ ہوتا ہے اور روح بھی تھی ، ہاتھ بھی تھا ، دو سر تھے ، دو پر تھے اور دُم بھی تھی ، وہب کہتے یہں مردہ بلی کا سر تھا جب وہ تابوت میں بولتا تو انہیں نصرت کا یقین ہو جاتا اور لڑائی فتح ہو جاتی ، یہ قول بھی ہے کہ یہ ایک روح تھی اللہ کی طرف سے جب کبھی بنی اسرائیل میں کوئی اختلاف پڑتا یا کسی بات کی اطلاع نہ ہوتی تو وہ کہہ دیا کرتی تھی ۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے ورثے کے باقی حصے سے مراد لکڑی اور توراۃ کی تختیاں اون اور کچھ ان کے کپڑے اور جوتی ہیں ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ فرشتے آسمان و زمین کے درمیان اس تابوت کو اٹھائے ہوئے سب لوگوں کے سامنے لائے اور حضرت طالوت بادشاہ کے سامنے لا رکھا ، اس تابوت کو ان کے ہاں دیکھ کر انہیں نبی کی نبوت اور طالوت کی بادشاہت کا یقین ہو گیا ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ گائے کے اوپر لایا گیا ، بعض کہتے ہیں کہ کفار نے جب یہودیوں پر غلبہ پایا تو تابوت سکینہ کو ان سے چھین لیا اور اریحا میں لے گئے اور اپنے بڑے بت کے نیچے رکھ دیا جب اللہ کو اسے واپس بنی اسرائیل تک پہنچانا تھا ، تب وہ کفار صبح کو جب بت خانے میں گئے تو دیکھا بت نیچے ہے اور تابوت اوپر ہے ، انہں نے پھر بت کو اوپر کر دیا لیکن دوسری صبح دیکھا کہ پھر وہی معاملہ ہے انہوں نے پھر بت کو اوپر کر دیا ، صبح جو گئے تو دیکھا بت ایک طرف ٹوٹا پھوٹا پڑا ہے ، تو یقین ہو گیا کہ یہ قدرت کے کرشمے ہیں چنانچہ انہوں نے تابوت کو یہاں سے لے جا کر کسی اور چھوٹی سی بستی میں رکھ دیا ، وہاں ایک وبائی بیماری پھیلی ، آخر بنی اسرائیل کی ایک عورت نے جو وہاں قید تھی ، اس نے کہا کہ اسے واپس بنی اسرائیل پہنچا دو تو تمہیں اس سے نجات ملے گی ، ان لوگوں نے دو گائیوں پر تابوت کو رکھ کر بنی اسرائیل کے شہر کی طرف بھیج دیا ، شہر کے قریب پہنچ کر گائیں تو رسیاں تڑوا کر بھاگ گئیں اور تابوت وہیں رہا جسے بنی اسرائیل لے آئے ، بعض کہتے ہیں دو نوجوان اسے پہنچا گئے واللہ اعلم ، ( لیکن الفاظ قرآن میں یہ موجود ہیں کہ اسے فرشتے اٹھا لائیں گے ( مترجم ) یہ بھی کہا گیا کہ ہے کہ فلسطین کی بستیوں میں سے ایک بستی میں تھا جس کا نام ازدوہ تھا ۔ پھر فرماتا ہے میری نبوت کی دلیل اور طالوت کی بادشاہت کی دلیل یہ بھی ہے کہ تابوت فرشتے پہنچا جائیں گے ، اگر تمہیں اللہ عزوجل اور قیامت پر ایمان ہو ۔