Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 248

سورة البقرة

وَ قَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اٰیَۃَ مُلۡکِہٖۤ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ بَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَ اٰلُ ہٰرُوۡنَ تَحۡمِلُہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۴۸﴾٪  16

And their prophet said to them, "Indeed, a sign of his kingship is that the chest will come to you in which is assurance from your Lord and a remnant of what the family of Moses and the family of Aaron had left, carried by the angels. Indeed in that is a sign for you, if you are believers."

ان کے نبی نے انہیں پھر کہا کہ اس کی بادشاہت کی ظاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلجمعی ہے اور آل موسیٰ اور آل ہارون کا بقیہ ترکہ ہے ۔ فرشتے اسے اُٹھا کر لائیں گے ۔ یقیناً یہ تو تمہارے لئے کھلی دلیل ہے اگر تم ایمان والے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah tells that; وَقَالَ لَهُمْ نِبِيُّهُمْ إِنَّ ايَةَ مُلْكِهِ أَن يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ ... And their Prophet said to them: "Verily! The sign of His kingdom is that there shall come to you At-Tabut, Their Prophet then proclaimed, "The sign of the blessings of Talut's kingship over you is that Allah will give you back the Tabut (wooden box) that has been taken from you." Allah said: فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ (wherein is Sakinah from your Lord) meaning, peace (or grace) and reassurance. Abdur-Razzaq stated that Qatadah said: فِيهِ سَكِينَةٌ (wherein is Sakinah), means grace. In addition, Ar-Rabi said that; Sakinah means mercy. This is also the meaning given by Ibn Abbas, as Al-Awfi narrated. Allah then said: ... وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ الُ مُوسَى وَالُ هَارُونَ ... ...and a remnant of that which Musa (Moses) and Harun (Aaron) left behind, Ibn Jarir related that Ibn Abbas said about this Ayah: Meaning, Moses' staff and the remnants of the Tablets. This is the same Tafsir of Qatadah, As-Suddi, Ar-Rabi bin Anas and Ikrimah, who added, "And also the Torah." Abdur-Razzaq said that he asked Ath-Thawri about the meaning of, وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ الُ مُوسَى وَالُ هَارُونَ (...and a remnant of that which Musa (Moses) and Harun (Aaron) left behind), Ath-Thawri said, "Some said that it contained a pot of manna and the remnants of the Tablets, while some others said that it contained (Moses') staff and two shoes (and refer to 20:12)." Allah then said: ... تَحْمِلُهُ الْمَليِكَةُ ... ...carried by the angels. Ibn Jurayj stated that Ibn Abbas said, "The angels came down while carrying the Tabut between the sky and the earth, until they placed it before Talut while the people were watching." As-Suddi said, "The Tabut was brought to Talut's house, so the people believed in the Prophethood of Shamun (Simeon) and obeyed Talut." The Prophet then said: ... إِنَّ فِي ذَلِكَ لايَةً لَّكُمْ ... Verily, in this is a sign for you, testifying to my truth in what I was sent with, my Prophethood, and my command to you to obey Talut. ... إِن كُنتُم مُّوْمِنِينَ if you are indeed believers. in Allah and the Hereafter.

تابوت سکینہ اور جنگ طالوت و جالوت نبی فرما رہے ہی کہ طالوت کی بادشاہت کی پہلی علامت برکت یہ ہے کہ کھویا ہوا تابوت سکینہ انہیں پھر مل جائے گا ، جس میں وقار و عزت دلجمعی اور جلالت رافت و رحمت ہے جس میں اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں تم بخوبی جانتے ہو ، بعض کا قول ہے کہ سکینہ ایک سونے کا طشت تھا جس میں انبیاء کے دِل دھوئے جاتے تھے جو حضرت موسیٰ کو ملا تھا اور جس میں آپ نے توراۃ کی تختیاں رکھی تھیں ، کسی نے کہا ہے اس کا منہ بھی تھا جیسے انسان کا منہ ہوتا ہے اور روح بھی تھی ، ہاتھ بھی تھا ، دو سر تھے ، دو پر تھے اور دُم بھی تھی ، وہب کہتے یہں مردہ بلی کا سر تھا جب وہ تابوت میں بولتا تو انہیں نصرت کا یقین ہو جاتا اور لڑائی فتح ہو جاتی ، یہ قول بھی ہے کہ یہ ایک روح تھی اللہ کی طرف سے جب کبھی بنی اسرائیل میں کوئی اختلاف پڑتا یا کسی بات کی اطلاع نہ ہوتی تو وہ کہہ دیا کرتی تھی ۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے ورثے کے باقی حصے سے مراد لکڑی اور توراۃ کی تختیاں اون اور کچھ ان کے کپڑے اور جوتی ہیں ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ فرشتے آسمان و زمین کے درمیان اس تابوت کو اٹھائے ہوئے سب لوگوں کے سامنے لائے اور حضرت طالوت بادشاہ کے سامنے لا رکھا ، اس تابوت کو ان کے ہاں دیکھ کر انہیں نبی کی نبوت اور طالوت کی بادشاہت کا یقین ہو گیا ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ گائے کے اوپر لایا گیا ، بعض کہتے ہیں کہ کفار نے جب یہودیوں پر غلبہ پایا تو تابوت سکینہ کو ان سے چھین لیا اور اریحا میں لے گئے اور اپنے بڑے بت کے نیچے رکھ دیا جب اللہ کو اسے واپس بنی اسرائیل تک پہنچانا تھا ، تب وہ کفار صبح کو جب بت خانے میں گئے تو دیکھا بت نیچے ہے اور تابوت اوپر ہے ، انہں نے پھر بت کو اوپر کر دیا لیکن دوسری صبح دیکھا کہ پھر وہی معاملہ ہے انہوں نے پھر بت کو اوپر کر دیا ، صبح جو گئے تو دیکھا بت ایک طرف ٹوٹا پھوٹا پڑا ہے ، تو یقین ہو گیا کہ یہ قدرت کے کرشمے ہیں چنانچہ انہوں نے تابوت کو یہاں سے لے جا کر کسی اور چھوٹی سی بستی میں رکھ دیا ، وہاں ایک وبائی بیماری پھیلی ، آخر بنی اسرائیل کی ایک عورت نے جو وہاں قید تھی ، اس نے کہا کہ اسے واپس بنی اسرائیل پہنچا دو تو تمہیں اس سے نجات ملے گی ، ان لوگوں نے دو گائیوں پر تابوت کو رکھ کر بنی اسرائیل کے شہر کی طرف بھیج دیا ، شہر کے قریب پہنچ کر گائیں تو رسیاں تڑوا کر بھاگ گئیں اور تابوت وہیں رہا جسے بنی اسرائیل لے آئے ، بعض کہتے ہیں دو نوجوان اسے پہنچا گئے واللہ اعلم ، ( لیکن الفاظ قرآن میں یہ موجود ہیں کہ اسے فرشتے اٹھا لائیں گے ( مترجم ) یہ بھی کہا گیا کہ ہے کہ فلسطین کی بستیوں میں سے ایک بستی میں تھا جس کا نام ازدوہ تھا ۔ پھر فرماتا ہے میری نبوت کی دلیل اور طالوت کی بادشاہت کی دلیل یہ بھی ہے کہ تابوت فرشتے پہنچا جائیں گے ، اگر تمہیں اللہ عزوجل اور قیامت پر ایمان ہو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

248۔ 1 صندوق یعنی تابوت جو توب سے ہے جس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں کیونکہ بنی اسرائیل تبرک کے لئے اس کی طرف رجوع کرتے تھے (فتح القدیر) اس تابوت میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے تبرکات تھے یہ تابوت بھی ان کے دشمن چھین کرلے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر فرشتوں کے ذریعے سے حضرت طالوت کے دروازے پر پہنچا دیا جسے دیکھ کر بنو اسرائیل خوش بھی ہوئے اور اسے طالوت کی بادشاہی کے لئے منجانب اللہ نشانی بھی سمجھا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اسے ان کے لئے ایک اعجاز (آیت) اور فتح و سکینت کا سبب قرار دیا سکینت کا مطلب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص نصرت کا ایسا نزول ہے جو وہ اپنے خاص بندوں پر نازل فرماتا ہے اور جس کی وجہ سے جنگ کی خون ریز معرکہ آرائیوں میں جس سے بڑے بڑے شیر دل بھی کانپ کانپ اٹھتے ہیں وہاں اہل ایمان کے دل دشمن کے خوف اور ہیبت سے خالی اور فتح و کامرانی کی امید سے لبریز ہوتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٤٦] اس صندوق کو بنی اسرائیل && عہد کا صندوق && کہتے تھے جس میں آل موسیٰ و ہارون کے تبرکات رکھے ہوئے تھے۔ مثلاً پتھر کی وہ تختیاں جو کوہ طور پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو عطا کی تھیں اور تورات کا وہ اصل نسخہ جسے موسیٰ (علیہ السلام) نے خود لکھوایا تھا اور ایک بوتل میں من تھا جو بنی اسرائیل پر نازل ہوتا رہا۔ نیز اس میں وہ عصائے موسیٰ بھی تھا جو سانپ بن جاتا تھا۔ یہ کچھ تھا بنی اسرائیل کے سکون قلب کا سامان جو اس صندوق میں محفوظ تھا اور یہ ہر وقت ان کے پاس رہتا تھا اور جب دشمن سے جنگ ہوتی تو اس صندوق کو آگے رکھتے اور اس کی وساطت سے فتح و نصرت کی دعا کرتے۔ ایک لڑائی کے موقعہ پر مشرک بادشاہ جالوت نے ان پر غالب آ کر ان سے وہ صندوق چھین لیا اور وہ لوگ اسے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اس صندوق کے چھن جانے کو بنی اسرائیل اپنی نحوست و ادبار کی علامت تصور کرتے تھے اور اس کی موجودگی کو فتح و نصرت کا نشان سمجھتے تھے۔ [٣٤٧] اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ بتلایا کہ اگر طالوت کے دور حکومت میں وہ چھنا ہوا صندوق تمہیں واپس مل جائے تو سمجھ لینا کہ طالوت کو فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی نے بادشاہ مقرر کیا ہے۔ چناچہ ہوا یہ کہ ان چھیننے والے مشرکوں کے شہر میں وبائیں پھوٹ پڑیں۔ انہوں نے اسی صندوق کو غالباً اپنی نحوست کی علامت سمجھا اور ایک بیل گاڑی پر اس صندوق کو رکھ کر اسے ہانک دیا۔ چناچہ فرشتے اس بیل گاڑی کو ہانک کر بنی اسرائیل تک لے آئے اور اسے طالوت کے گھر کے سامنے چھوڑ گئے۔ اس طرح ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل پر اتمام حجت ہوگئی اور دوسری طرف بنی اسرائیل کے حوصلے بڑھ گئے اور انہوں نے طالوت کو اپنا بادشاہ تسلیم کرلیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَنْ يَّاْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ ۔۔ : بنی اسرائیل کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اور طالوت کی بادشاہت پر یقین میں اضافے کے لیے نبی نے طالوت کے بادشاہ مقرر ہونے کی ایک نشانی بیان فرمائی کہ وہ تابوت (جو دشمن تم سے چھین کرلے گیا تھا) جس کے ہوتے ہوئے تمہیں (دشمن کے مقابلے کے وقت) سکون و اطمینان حاصل رہتا تھا اور جس میں آل موسیٰ اور آل ہارون کی چند باقی ماندہ چیزیں تھیں، وہ تابوت تمہارے پاس آجائے گا، جسے فرشتے اٹھا لائیں گے۔ چناچہ اس تابوت (صندوق) کے آجانے سے بنی اسرائیل کے حوصلے بلند ہوگئے اور وہ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ لَہُمْ نَبِيُّہُمْ اِنَّ اٰيَۃَ مُلْكِہٖٓ اَنْ يَّاْتِــيَكُمُ التَّابُوْتُ فِيْہِ سَكِيْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّۃٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَاٰلُ ھٰرُوْنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ۝ ٠ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝ ٢٤٨ ۧ تابوت التَّابُوت فيما بيننا معروف، أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ [ البقرة/ 248] ، قيل : کان شيئا منحوتا من الخشب فيه حكمة . وقیل : عبارة عن القلب، والسکينة عمّا فيه من العلم، وسمّي القلب سفط العلم، وبیت الحکمة، وتابوته، ووعاء ه، وصندوقه، وعلی هذا قيل : اجعل سرّك في وعاء غير سرب . وعلی تسمیته بالتابوت قال عمر لابن مسعود رضي اللہ عنهما : (كنيف ملیء علما) ( ت ب ت ) التابوت کے معنی صندوق کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ [ البقرة/ 248] کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ وہ صندوق لکڑی کا تھا جس میں حکمت کی کتابین تھیں ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ تابوت سے مراد دل ہے اور اس میں سکینت سے مراد علم ہے اس لئے دل کو سقط العلم و بیت الحکمۃ وتابوت العلم وصندوقہ کہا جاتا ہے ۔ چناچہ کہا گیا ہے :۔ اجعل سرک فی وعآء غیر سرب ۔ کہ اپنے بھید کو ایسے برتن میں رکھو جو ٹپکتا نہ ہو اور دل کا نام تابوت ہونے کہ وجہ سے حضرت عمر نے عبد اللہ بن مسعود کے متعلق فرمایا (47) ھو کنیت ملئ علما وہ ایک ایسا برتن ہے جو علم سے پر ہے ۔ سَّكِينَةَ والسَّكْنُ : سُكَّانُ الدّار، نحو سفر في جمع سافر، وقیل في جمع ساکن : سُكَّانٌ ، وسكّان السّفينة : ما يسكّن به، والسِّكِّينُ سمّي لإزالته حركة المذبوح، وقوله تعالی: أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 4] ، فقد قيل : هو ملك يُسَكِّنُ قلب المؤمن ويؤمّنه كما روي أنّ أمير المؤمنین عليه السلام قال : (إنّ السَّكِينَةَ لتنطق علی لسان عمر) وقیل : هو العقل، وقیل له سكينة إذا سكّن عن المیل إلى الشّهوات، وعلی ذلک دلّ قوله تعالی: وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ [ الرعد/ 28] . وقیل : السَّكِينَةُ والسَّكَنُ واحد، وهو زوال الرّعب، وعلی هذا قوله تعالی: أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 248] ، وما ذکر أنّه شيء رأسه كرأس الهرّ فما أراه قولا يصحّ والْمِسْكِينُ قيل : هو الذي لا شيء له، وهو أبلغ من الفقیر، وقوله تعالی: أَمَّا السَّفِينَةُ فَكانَتْ لِمَساكِينَ [ الكهف/ 79] ، فإنه جعلهم مساکين بعد ذهاب السّفينة، أو لأنّ سفینتهم غير معتدّ بها في جنب ما کان لهم من المسکنة، وقوله : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] ، فالمیم في ذلک زائدة في أصحّ القولین . السکین ( چھری ) کو سکیں اس لئے کہا جاتا ہے ( وہ مذبوح کی حرکت کو زائل کردیتی ہے ) تو یہ سکون سے فعیل کے وزن پر اسم مشتق ہے ) اور آیت : أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 4] ( وہی تو ہے ) جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ سکینۃ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو مومن کے دل کو تسکین دیتے ہیں ۔ جیسا کہ امیر المومنین ( حضرت علی (رض) ) سے راویت ہے (إن السکينة لتنطق علی لسان عمر) حضرت عمر (رض) کی زبا ن پر سکینۃ گویا ہے اور بعض نے اس سے عقل انسانی مراد لی ہے اور عقل کو بھی جب کہ وہ شہوات کی طرف مائل ہونے سے روک دے سکینۃ کہا جاتا ہے اور آیت : ۔ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ [ الرعد/ 28] اور جن کے دل یاد خدا سے آرام پاتے ہیں ۔ بھی اس معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ سکینۃ اور سکن کے ایک ہی معنی ہیں یعنی رعب اور خوف کا زائل ہونا اور آیت : ۔ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 248] کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئیگا اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی ہوگی ۔ میں بھی یہی معنی مراد ہیں اور بعض مفسرین نے جو یہ ذکر کیا ہے کہ وہ چیز تھی جس کا سر بلی کے سر کے مشابہ تھا وغیرہ تو ہمارے نزدیک یہ قول صحیح نہیں ہے ۔ المسکین بعض نے اس کی تفسیر الذي لا شيء له ( یعنی جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ) کے ساتھ کی ہے اور یہ فقر سے ابلغ ہے ( یعنی بنسبت فقیر کے زیادہ نادار ہوتا ہے ) لیکن آیت : أَمَّا السَّفِينَةُ فَكانَتْ لِمَساكِينَ [ الكهف/ 79] اور کشتی غریب لوگوں کی تھی ۔ میں باوجود کشتی کا مالک ہونے کے انہیں مسکین قرار دینا ما یؤول کے لحاظ سے ہے یعنی کشتی کے چلے جانے کے بعد کی حالت کے لحاظ سے انہیں مسکین کہا گیا ہے ۔ یا اس لئے کہ ان کی احتیاج اور مسکنت کے مقابلہ میں کشتی کی کچھ بھی حیثیت نہ تھی ۔ اور آیت : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] اور آخر کار ذلت و رسوائی اور محتاجی ( و بےنوائی ) ان سے چمٹا دی گئی ۔ میں اصح قول کے لحاظ سے مسکنۃ کی میم زائد ہے ( اور یہ سکون سے ہے ۔ ) رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھسن جائیں وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] اور دریا سے ( کہ ) خشک ( ہورہا ہوگا ) پاور ہوجاؤ ۔ اور بحالت مجبوری چھوڑ نے کے متعلق فرمایا : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] وہ لوگ بہت سے جب باغ چھوڑ گئے ۔ حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ مصاد رکے فرق کیا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ بوجھ جو حسی طور پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ کوئی چیز پیٹھ لادی جائے اس پر حمل ( بکسرالحا) کا لفظ بولا جاتا ہے اور جو بوجھ باطن یعنی کوئی چیز اپنے اندر اٹھا ہے ہوئے ہوتی ہے اس پر حمل کا لفظ بولا جاتا ہے جیسے پیٹ میں بچہ ۔ بادل میں پانی اور عورت کے حمل کے ساتھ تشبیہ دے کر درخت کے پھل کو بھی حمل کہہ دیاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا پنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا ۔ فرشته الملائكة، ومَلَك أصله : مألك، وقیل : هو مقلوب عن ملأك، والمَأْلَك والمَأْلَكَة والأَلُوك : الرسالة، ومنه : أَلَكَنِي إليه، أي : أبلغه رسالتي، والملائكة تقع علی الواحد والجمع . قال تعالی: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا [ الحج/ 75] . قال الخلیل : المَأْلُكة : الرسالة، لأنها تؤلک في الفم، من قولهم : فرس يَأْلُكُ اللّجام أي : يعلك . ( ا ل ک ) الملئکۃ ( فرشتے ) اور ملک اصل میں مالک ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ ملاک سے معلوب ہے اور مالک وما لکۃ والوک کے معنی رسالت یعنی پیغام کے ہیں اسی سے لکنی کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں اسے میرا پیغام پہنچادو ، ، ۔ الملائکۃ کا لفظ ( اسم جنس ہے اور ) واحد و جمع دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { اللهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا } ( سورة الحج 75) خدا فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرلیتا ہے ۔ خلیل نے کہا ہے کہ مالکۃ کے معنی ہیں پیغام اور اسے ) مالکۃ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ بھی منہ میں چبایا جاتا ہے اور یہ فرس یالک اللجام کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں گھوڑے کا منہ میں لگام کو چبانا ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٤٨) شموئیل (علیہ السلام) نے فرمایا ان کی بادشاہت اللہ کی طرف سے ہونے کی یہ نشانی ہے کہ وہ صندوق جو تم سے لیا گیا تھا تمہارے پاس آجائے گا اس میں رحمت اور طمانیت ہوگی اور سکینہ کے معنی نصرت اور مدد کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں یعنی اس میں اس قسم کی زردی ہوگی جیسے انسان کی صورت ہوتی ہے، اور اس میں کچھ چیزیں بھی ہوں گی جن کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چھوڑ گئے یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب اور الواح (تختیاں) اور ان کا عصا اور جو ہارون (علیہ السلام) چھوڑ گئے ہیں جیسے ان کی چادر اور اس کا صافہ (پگڑی) اس صندوق کو تمہارے پاس فرشتے اٹھا کر لائیں گے اور صندوق کو تمہارے پاس لوٹائے جانے میں اس بات کی اور نشانی ہوگی کہ طالوت کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اگر تم اس بات کی تصدیق کرو، جب یہ صندوق ان کے پاس پہنچ گیا تو ان لوگوں نے طالوت کی حکمرانی اور بادشاہت کو قبول کرلیا اور ان کے ساتھ جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤٨ (وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖٓ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ ہٰرُوْنَ تَحْمِلُہُ الْمَلآءِکَۃُ ط) طالوت کی امارت اور بادشاہی کی علامت کے طور پر وہ صندوق تمہارے پاس واپس آجائے گا۔ اصل میں یہ تابوت سکینہ لکڑی کا ایک بہت بڑا صندوق تھا ‘ جس میں بنی اسرائیل کے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے تبرکات محفوظ تھے۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ صندوق اب بھی مسجد اقصیٰ کے نیچے سرنگ میں موجود ہے۔ انہوں نے بعض ذرائع سے فوٹو لے کر اس کی دستاویزی فلم بھی دکھا دی ہے۔ یہ تابوت سکینہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے تعمیر کردہ ہیکل کے تہہ خانے میں رکھا ہوا تھا اور وہیں پر ربائیّ (رَبَّانِیِّیْنَ ) بھی موجود تھے۔ جب اس ہیکل کو منہدم کیا گیا تو وہ اسی میں دب گئے۔ وہ تہہ خانہ چاروں طرف سے بند ہوگیا ہوگا اور ان کی لاشیں اور تابوت سکینہ اس کے اندر ہی ہوں گے۔ تابوت سکینہ میں بنی اسرائیل کے لیے بہت بڑی روحانی تسکین کا سامان تھا کہ ہمارے پاس حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے تبرکات ہیں۔ اس میں عصائے موسیٰ بھی تھا اور وہ الواح بھی جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو کوہ طور پر دی گئی تھیں اور جن پر تورات لکھی ہوئی تھی۔ اس تابوت کو دیکھ کر بنی اسرائیل کو اسی طرح تسکین ہوتی تھی جیسے ایک مسلمان کو خانۂ کعبہ کو دیکھ کر تسکین ہوتی ہے۔ اسرائیلیوں کو جب ان کے پڑوسی ملکوں نے شکست دی تو وہ تابوت سکینہ بھی چھین کرلے گئے۔ پوری قوم نے اس عظیم سانحے پر ماتم کیا اور اسے بنی اسرائیل سے ساری عزت و حشمت چھن جانے سے تعبیر کیا گیا۔ چناچہ اس سے ان کے حوصلے مزید پست ہوگئے۔ اب جبکہ اسرائیلیوں نے جنگ کا ارادہ کیا اور وقت کے نبی حضرت سیموئیل ( علیہ السلام) نے طالوت کو ان کا امیر مقرر کیا تو انہیں یہ بھی بتایا کہ طالوت کو اللہ کی طرف سے نامزد کیے جانے کی ایک علامت یہ ہوگی کہ تمہاری تسکین کا سامان تابوت سکینہ جو تم سے چھن گیا تھا ‘ ان کے عہد امارت میں تمہیں واپس مل جائے گا اور اس وقت وہ فرشتوں کی تحویل میں ہے۔ ہوا یہ کہ ان کے دشمن جب تابوت چھین کرلے گئے تو وہ ان کے لیے ایک مصیبت بن گیا۔ وہ اسے جہاں رکھتے وہاں طاعون اور دوسری وبائیں پھوٹ پڑتیں۔ بالآخر انہوں نے اسے نحوست کا باعث سمجھتے ہوئے ایک چھکڑے پر رکھا اور بیلوں کو ہانک دیا کہ جدھر چاہیں لے جائیں۔ بیل سیدھے چلتے چلتے اسے بنی اسرائیل کے علاقے میں لے آئے۔ ظاہر ہے کہ یہ معاملہ فرشتوں کی راہنمائی سے ہوا۔ اس طرح وہ تابوت سکینہ ان کے پاس واپس پہنچ گیا جو برسوں پہلے ان سے چھن چکا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

270. The Biblical version of this incident is different from the Qur'anic one. The former sheds light, however, on certain details of the incident. It shows that during a military engagement the pagan Philistines had captured the 'Ark of the covenant'. Terrified of the scourge and pestilence which spread wherever they carried the Ark, these pagans placed it on a cart driven by milk cows, and sent it off. (1 Samuel 5-6 - Ed.) Perhaps the Qur'an alludes to this when it mentions angels, since the cart was driverless and it was the angels who kept it in their custody and brought it to the Israelites. The Qur'anic statement, that in the Ark 'lies inward peace for you', can be understood in the light of the Biblical statements that the Israelites regarded the Ark as highly auspicious, and as an emblem of their triumph and victory. When they were deprived of it, they began to feel that they had been deprived of the mercy of God. The return of the Ark, therefore, had a highly salutary effect on them as it strengthened their sagging morale and raised their spirits. The Qur'anic mention of 'the sacred relics left behind by the house of Aaron' seems to allude to the Tablets of Law bequeathed to Moses on Mount Sinai. The Ark is also said to have contained the original copyof the Torah, which Moses himself had had transcribed and which he had himself handed over to the Levites. The Ark is also supposed to have contained a golden urn holding the manna (Hebrews 9: 2 ff - Ed.) , in order that the coming generations might recall God's benevolence to their forefathers during their wandering in the desert. The Ark also probably contained the rod of Moses which was one of the great miracles of God. (Hebrews 9: 5 mentions the rod of Aaron - Ed.)

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :270 بائیبل کا بیان اس باب میں قرآن سے کسی حد تک مختلف ہے ۔ تاہم اس سے اصل واقع کی تفصیلات پر کافی روشنی پڑتی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صندوق ، جسے بنی اسرائیل اصطلاحاً ” عہد کا صندوق “ کہتے تھے ، ایک لڑائی کے موقع پر فلسطینی مشرکین نے بنی اسرائیل سے چھین لیا تھا ، لیکن یہ مشرکین کے جس شہر اور جس بستی میں رکھا گیا ، وہاں وبائیں پھوٹ پڑیں ۔ آخر کار انہوں نے خوف کے مارے اسے ایک بیل گاڑی پر رکھ کر گاڑی کو ہانک دیا ۔ غالباً اسی معاملے کی طرف قرآن ان الفاظ میں اشارہ کرتا ہے کہ اس وقت وہ صندوق فرشتوں کی حفاظت میں تھا ، کیونکہ وہ گاڑی بغیر کسی گاڑی بان کے ہانک دی گئی تھی اور اللہ کے حکم سے یہ فرشتوں ہی کا کام تھا کہ وہ اسے چلا کر بنی اسرائیل کی طرف لے آئے ۔ رہا یہ ارشاد کہ ”اس صندوق میں تمہارے لیے سکون قلب کا سامان ہے“ ، تو بائیبل کے بیان سے اس کی حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل اس کو بڑا متبرک اور اپنے لیے فتح و نصرت کا نشان سمجھتے تھے ۔ جب وہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا ، تو پوری قوم کی ہمت ٹوٹ گئی اور ہر اسرائیلی یہ خیال کرنے لگا کہ خدا کی رحمت ہم سے پھر گئی ہے اور اب ہمارے برے دن آگئے ہیں ۔ پس اس صندوق کا واپس آنا اس قوم کے لئے بڑی تقویت قلب کا موجب تھا اور یہ ایک ایسا ذریعہ تھا ، جس سے ان کی ٹوٹی ہوئی ہمّیں پھر بن سکتی تھیں ۔ ”آلِ موسی علیہ السلام اور آل ہارون علیہ السلام کے چھوڑے ہوئے تبرکات “ جو اس صندوق میں رکھے ہوئے تھے ، ان سے مراد پتھر کی وہ تختیاں ہیں ، جو طور سینا پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی تھیں ۔ اس کےعلاوہ تورات کا وہ اصل نسخہ بھی اس میں تھا ، جسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خود لکھوا کر بنی لاوی کے سپرد کیا تھا ۔ نیز ایک بوتل میں من بھی بھر کر اس میں رکھ دیا گیا تھا تاکہ آئندہ نسلیں اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کریں ، جو صحرا میں اس نے ان کے باپ دادا پر کیا تھا ۔ اور غالباً حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ عصا بھی اس کے اندر تھا ، جو خدا کے عظیم الشان معجزات کا مظہر بنا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

166: جب بنی اسرائیل نے طالوت کو بادشاہ ماننے سے انکار کیا اور ان کے بادشاہ مقرر ہونے پر کوئی نشانی طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت سموئیل (علیہ السلام) سے کہلوایا کہ ان کے منجانب اللہ ہونے کی نشانی یہ ہوگی کہ اشدودی قوم کے لوگ جو متبرک صندوق اٹھاکر لے گئے تھے ان کے زمانے میں، اللہ کے فرشتے وہ صندوق تمہارے پاس اٹھاکر لے آئیں گے، اسرائیلی روایات کے مطابق اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اشدودیوں نے وہ صندوق ایک مندر میں لے جاکر رکھا مگر اس کے بعد وہ طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار ہونا شروع ہوگئے، کبھی ان کے بت اوندھے پڑے ہوئے ملتے، کبھی گلٹیوں کی وبا پھیل جاتی، کبھی چوہوں کی کثرت پریشان کرتی، آخر کار ان کے نجومیوں نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ یہ ساری آفتیں اس صندوق کی وجہ سے ہیں ؛ چنانچہ انہوں نے وہ صندوق بیل گاڑیوں پر رکھ کر انہیں شہر سے باہر ہنکادیا، بائبل میں فرشتوں کے صندوق لانے کا ذکر نہیں ہے، مگر قرآن کریم نے صاف کہا ہے کہ اسے فرشتے لے کر آئیں گے، اگر بائبل کی یہ روایت درست مانی جائے کہ ان لوگوں نے خود صندوق کو باہر نکال دیا تھا تو ممکن ہے کہ بیل گاڑیوں نے اسے شہر سے باہر چھوڑدیا ہو اور وہاں سے اسے فرشتے اٹھاکر بنی اسرائیل کے پاس لے آئے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ بیل گاڑیوں پر ہنکانے کا قصہ ہی غلط ہو اور فرشتے اسے براہ راست اٹھالائے ہوں، واللہ اعلم۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

بنی اسرائیل میں ایک صندوق موروثی طور پر آتا تھا جس میں حضرت موسیٰ اور ہارون کے وقت کی چیزیں تبرک کی تھیں لڑائی کے وقت اس صندوق کو سب لشکر کے آگے لے چلنے سے تمام لشکر میں ایک طرح کی دل جمعی اور اس دل جمعی کے سبب سے ایک ہمت اور جرأت پیدا ہوجاتی تھی جس سے لشکری لوگ دل کھول کر دشمن سے لڑتے تھے اور فتح یاب ہوتے تھے اسی واسطے اس صندوق کا نام تابوت سکینہ رکھ گیا تھا تھا سکینہ کے معنی دل جمعی اور اطمینان کے ہیں بنی اسرائیل کے اعمال کی شامت سے تابوت سکینہ ان کے قبضہ سے نکل کر دشمن کے قبضہ میں چلا گیا تھا حضرت شمویل نے بنی اسرائیل کو یہ جو سمجھا یا تھا کہ طالوت کی بادشاہت خدا کی طرف سے ہے اس کی علامت انہوں نے یہ بتلا یا کہ تابوت سکینہ بغیر لڑائی کے خود بخود طالوت کے پاس آجائے گا۔ اگر تم اللہ پر پورا ایمان رکھتے ہو تو تابوت کے آجانے کے بعد تم کو پورا یقین آجائے گا کہ طالوت کی بادشہت خدا کی طرف سے ہے۔ تابوت سکینہ کے طالوت کے پاس آجانے کا قصہ جو مفسرین نے لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قوم عمالقہ کی جس بستی میں تابوت سکینہ رکھا ہوا تھا اس بستی میں سخت وبا پھیل گئی جس سے بستی کے لوگ گھبرا گئے اس بستی میں بنی اسرائیل کی ایک لڑکی قید تھی اس نے بستی کے لوگوں سے کہا کہ جب تک یہ صندوق اس بستی میں رہے گا وبا ہرگز جانے والی نہیں ہے ان لوگوں نے ایک گاڑی پر اس صندوق کو لاد کر اس گاڑی کو بستی کے باہر کردیا اللہ کے حکم سے فرشتوں نے اس گاڑی کو ہانک کر طالوت کے گھر کے سامنے لا کھڑا کردیا۔ صحیح مسلم میں براء بن عازب (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے سورة کہف پڑھی اس کی آواز سے ایک بادل نے اس کو ڈھانک لیا جس سے اس شخص کا ایک گھوڑا جو وہاں بندھا ہوا تھا وہ ڈر گیا جب اس شخص نے اس قصہ کا ذکر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تو آپ نے فرمایا وہ سکینہ ہے ١۔ اس حدیث سے فقط یہ معلوم ہوا کہ جس چیز کا نام آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکینہ فرمایا وہ ایک بادل تھا اب اس حدیث کے ساتھ وہ حدیثیں ملائی جائیں جن میں یہ کر ہے کہ ذکر الٰہی کی مجلس میں فرشتے آتے ہیں اور مجلس کو ڈھانک لیتے ہیں ٢۔ تو حاصل یہ ہوتا ہے کہ اس بادل میں فرشتے تھے جن کو دیکھ کر وہ گھوڑا ڈر گیا کیونکہ خالی بادل سے گھوڑ کے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور ان فرشتوں کو ہی آپ نے سکینہ فرمایا ہے۔ اسی طرح تابوت کے تبرکات کے ساتھ جو فرشتے ہوا کرتے تھے ان کو سکینہ کہا گیا ہے انہی فرشتوں کی برکت سے لشکر میں ایک دلی اطمینان پھیل جاتا تھا سو اس تفسیر کے سکینہ کی تفسیر میں اوراقوال اہل کتاب کی روایات سے لئے گئے ہیں جو اعتبار کے قابل نہیں ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:248) ان ایۃ ملکہ ان یاتیکم التابوت۔ ان حرف تحقیق مشبہ بالفعل ایۃ مضاف۔ ملکہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ان۔ تحقیق اس کی امارت کی نشانی یہ ہے کہ تابوت (از خود) تمہارے پاس آجائے گا۔ تابوت بروزن فعلوت۔ توب سے مشتق ہے جس کے معنی رجوع کے ہیں۔ اور اسے تابوت اس لئے کہتے ہیں کہ جو چیز اس میں سے نکالی جاتی تھی وہ پھر واپس اسی میں چلی آتی تھی (تفسیر مظہری) اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ تابوت بمعنی لکڑی کا صندوق عموماً مستعمل ہے اس کی جمع توابیت ہے۔ فیہ سکینۃ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یا تو تابوت ہے یعنی اس میں ایسی چیزیں رکھی ہوئی ہیں جن سے تمہاری تسکین ہوجائے گی۔ یا تابوت کی واپسی کا امر ای فی اتیانہ سکون لکم وطمانیۃ۔ سکینۃ۔ تسکین۔ تسلی خاطر۔ اطمینان۔ سکون سے بروزن فعیلۃ مصدر ہے جو اسم کی جگہ استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہ عزیمۃ ہے۔ علامہ بغوی سید محمد مرتضے زبیدی (رح) لکھتے ہیں :۔ سکینہ وہ اطمینان۔ چین و قرار اور سکون ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے قلب میں اس وقت نازل فرماتا ہے جب کہ وہ ہولناکیوں کی شدت سے مضطرب ہوجاتا ہے پھر اس کے بعد جو کچھ بھی اس پر گزرے وہ اس سے گھبراتا نہیں ہے یہ اس کے لئے ایمان کی زیادتی ۔ یقین میں قوت اور استقلال کو ضروری کردیتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ” یوم الغار “ اور ” یوم حنین “ جیسے قلق و اضطراب کے مواقع پر اپنے رسول اور مؤمنین پر اس کے نازل کرنے کی خبر دی ہے۔ واضع رہے کہ سکینۃ کا لفظ قرآن مجید میں چھ جگہ استعمال ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ بجز سورة بقرہ کے قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی سکینۃ آیا ہے اس کے معنی اطمینان کے ہیں۔ سورة بقرہ کی جس آیت کا حضرت ابن عباس (رض) نے استثناء فرمایا ہے وہ آیۃ کریمہ یہ ہے ان ایۃ ملکہ ۔۔ فیہ سکینۃ من ربکم۔ یہاں سکینۃ سے کیا مراد ہے۔ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے تو یہاں بھی حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے اطمینان ہی کے معنی روایت کے ہیں اور یہی صحیح ہیں۔ اس کے علاوہ اس بارے میں تفسیر کی کتابوں میں جو بہت سی بےسروپا روایتیں منقول ہیں وہ نہ عقلاً صحیح ہیں نہ نقلاً ۔ اور پھر سخت متعارض کہ ان کا باہم جمع کرنا غیر ممکن ہے (لغات القرآن) ۔ فیہ سکینۃ من ربکم۔ یہ جملہ تابوت سے موضع حال میں ہے۔ وبقیۃ مما ترک ال موسیٰ وال ھرون۔ واؤ ہر دو جگہ عاطفہ ہیں۔ بقیۃ۔ بچی ہوئی چیز، باقی رکھا ہوا۔ بروزن فعیلۃ۔ بقاء سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ یہ بچی ہوئی چیزیں کیا تھیں ۔ تورات کی دو لوحیں۔ کچھ ٹوٹی ہوئی لوحوں کا ریزہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا۔ ان کی نعلین ۔ حضرت ہارون کا عمامہ اور عصاء اور ایک قفیز (ایک پیمانہ) من جو بنی اسرائیل پر نزال ہوتا تھا۔ بقیۃ اس کا عطف سکینۃ پر ہے۔ مما مرکب ہے من تبعیضیہ سے اور ما موصولہ سے۔ ال موسیٰ وال ھرون میں ال سے مراد یا تو حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) بنفسہما ہیں اور ال کا لفظ ہر دو کی شان عظمت کے لئے مستعمل ہے۔ یا ال سے مراد ان کے متبعین ہیں یا بنی اسرائیل کے انبیائ۔ مما ترک ال موسیٰ وال ھرون یہ بقیۃ کی صفت ہے۔ تحملہ الملئکۃ یہ جملہ تابوت سے حال ہے۔ تحمل مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع تابوت ہے۔ جس کو فرشتے اٹھائے ہوتے ہوں گے۔ فی ذلک۔ ای فی رجوع التابوت الیکم۔ تابوت کی تمہاری طرف واپسی۔ لایۃ میں لام تاکید کے لئے ہے اور ایۃ منصوب بوجہ عامل ان ہے۔ ان کنتم۔ میں ان شرطیہ ہے۔ جواب شرط محذوف ہے۔ ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین۔ یہ (1) یا تو حضرت شموئیل نبی کے کلام کا بقیہ ہے۔ (2) یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک علیحدہ خطاب ہے۔ فائدہ : روح البیان میں ہے وقال بعضہم التابوت ھو القلب والسکینۃ ما فیہ من العلم والاخلاص واتیانہ تصییر قلبہ مقر العلم والوقار۔ یعنی بعض مفسرین نے تابوت سے مراد دل۔ سکنیۃ سے مراد علم و اخلاص اور تابوت کے آنے سے دل کا علم و ایمان سے بھر جانا مراد لیا ہے۔ بقیۃ کے معنی بہترین کے بھی ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ہے فلولا کان من القرون من قبلکم اولوا بقیۃ تنھون عن الفساد فی الارض (11:116) یہاں اولوا بقیۃ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی رائے اور عقل باقی رہے۔ یا ارباب فضل مراد ہیں۔ اسی سے عرب والے بولتے ہیں فلان من بقیۃ القوم یعنی فلاں آدمی قوم میں عمدہ ہے۔ اس اعتبار سے آیت کے معنی ہوئے : اس کی حکومت کی علامت یہ ہے کہ فرشتوں کے سہارے تمہاری کھوئی ہوئی ہمت واپس آجائے گی اور تمہیں اطمینان قلب ضرور نصیب ہوگا۔ اور تم آل موسیٰ و آل ہارون کے بہترین ترکہ یعنی اخلاق فاضلہ کے وارث بنو گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 مفسرین کے بیان کے مطابق یہ تابوت سکینتہ ایک صندوق تھا جو بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) زمانے سے چلا آرہا تھا اور اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) اودسرے انبیاء کے کچھ متبرک آثار (بقیی) تھے۔ بنی اسرائیل اپنی لڑائیوں میں اسے آگے آگے رکھتے اور اسے دیکھ کر حوصلہ اور ہمت محسوس کرتے تھے مگر ان کی بد اعمالیوں کے باعث ان کے دشمن یہ تابوت ان سے چھین کرلے گئے تھے۔ انہوں نے اسے اپنے معبد میں بت کے نیچے رکھ دیا تھا اس وجہ سے ان میں وبا پھوٹ پڑی اور تقریبا پانچ شہر ویران ہوگئے۔ چناچہ انہوں نے اسے منحوس سمجھ کر اور رات کو بیل گاڑی پر رکھ کر بنی اسرائیل کی طرف دھکیل دیا۔ فرشتے بیلوں کو ہانک کر بنی اسرائیل کی بستی تک لے آئے اور وہ رات کے وقت طالوت کے گھر کے سامنے آموجود ہوا۔ اس سے بنی اسرائیل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ طالوت کے زیر قیادت اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے آمادہو گئے۔ (ابن کثیر۔ معالم) (نیز سکینتہ کے لیے دیکھئے التوبہ آیت 26 والفتح آیت 26) مگر قرآن کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تابوت کی آمد اعجازی حثیت کی حامل تھی اس لیے اسے ایتہ قرار دیا ہے۔ (رازی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اس صندوق میں تبرکات تھے جالوت جب بنی اسرائیل پر غالب آیا تھا یہ صندوق بھی لے گیا تھا جب اللہ کو اس صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تو یہ سامان کیا کہ جہاں اس صندوق کو رکھتے وہاں سخت بلائیں نازل ہوتیں آخر ان لوگوں نے ایک گاڑی پر اس کو لاد کر بیلوں کو ہانک دیا فرشتے اس کو ہانک کر یہاں پہنچا گئے جس سے بنی اسرائیل کو بڑی خوشی ہوئی اور طالوت بادشاہ مسلم ہوگئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

تیہ کی سرگردانی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے زمانہ مابعد میں اس دور کا واقعہ ہے جبکہ حضرت ہوشع نبی تھے ۔ اس دور میں بنی اسرائیل کے دشمنوں نے ان پر حملہ کیا ۔ ان سے ان کا علاقہ بھی چھین لیا اور وہ تبرکات بھی چھین لئے جو ان کے پاس ایک بکس میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے خاندانوں سے محفوظ چلے آرہے تھے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس بکس میں تورات کا وہ نسخہ بھی محفوظ تھا ، جو کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے دیا گیا تھا۔ نبی وقت نے اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علامت قراردیا کہ یہ معجزہ تمہارے سامنے رونما ہوگا۔ یہ بکس تمہارے پاس لوٹ آئے گا ۔ فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے تاکہ ان کے دلوں پر اطمینان کی بارش ہوجائے ۔ نبی وقت نے فرمایا کہ یہ معجزہ اس بات کا شاہد صادق ہوگا کہ اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے بشرطیکہ تمہارے دلوں میں ایمان ہو۔ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معجزہ رونماہوا اور تب جاکر ان لوگوں کو یقین ہوا کہ طالوت اللہ کی جانب سے مقرر ہیں ۔ اب طالوت نے ان لوگوں کو منظم کیا جنہوں نے جہاد میں شریک ہونے سے انکار نہ کیا تھا ، اور انہوں نے نبی وقت کے ساتھ جو پختہ عہد کیا تھا ، وہ اس پر قائم تھے ۔ یہ سب باتیں قرآن مجید نے ، اپنے اسلوب قصص کے عین مطابق ترک کردیں ۔ قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کسی قصے کے ایک منظر کے بعد متصلاً دوسرا منظر پیش کردیتا ہے ۔ اور درمیان کی غیر ضروری کڑیاں چھوڑدیتا ہے (دیکھئے میری کتاب التصویر الفنی فی القرآن) ۔ چناچہ یہاں بھی جو منظر پیش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت طالوت لشکر اسلام کو لے کر دشمن کی طرف مارچ کررہے ہیں :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

485 جب اسرائیلیوں نے طالوت کی امارت پر حیرت اور تعجب کا اظہار کیا تو حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے حکم الٰہی سے اعلان فرمایا کہ طالوت کے من جانب اللہ امیر ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تابوت سکینہ جو کبھی تمہارے پاس تھا مگر فلسطینی اسے تم سے چھین کرلے گئے تھے جس میں تمہارے لیے اطمینان قلب کا سامان ہے اور اس میں حضرت موسیٰ وہارون (علیہما السلام) کے باقی ماندہ تبرکات ہیں وہ تمہارے پاس پہنچ جائے گا۔ جب سے فلسطینی وہ تابوت چھین کرلے گئے وہ چین سے نہ بیٹھے کسی نہ کسی تکلیف میں مبتلا رہے۔ آخرتنگ آکر اس صندوق کو بیل گاڑی پر لادا اور اسے چھوڑ دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرشتوں کو متعین کردیا جو بیلوں کو ہانک کر بنی اسرائیل کے علاقے میں لے آئے۔ (کذا فی البحر المحیط ص 263 ج 2، و تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 302) لیکن حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ فرشتے اس صندوق کو ہوا میں اڑا کر لائے تھے۔ اور لا کر طالوت کے سامنے رکھ دیا۔ تمام لوگ یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ قال ابن عباس جاءت الملائکة تحمل التابوت بین السماء والارض حتی وضعتہ بین یدی طالوت والناس ینظرون (ابن کثیر ص 301 ج 1) سَکِیْنَةٌ (یعنی سکون و اطمینان کا باعث اور سبب) سے مراد تورات ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور ان کے نبی حضرت شمویل نے ان سے کہا کہ طالوت کے من جانب اللہ بادشاہ مقرر ہونے کی یہ علامت ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق بلا کسی سعی کے آجائے گا جس میں تمہارے رب کی جانب سے سکون و طمانیت اور برکت کا سامان ہے اور کچھ وہ بقیہ اشیاء بھی ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) چھوڑ گئے تھے۔ اس صندوق کو فرشتے اٹھا کرلے آئیں گے۔ بلا شبہ اس صندوق کے آجانے میں تمہارے لئے بہت بڑی نشانی ہے بشرطیکہ تم یقین کرنے والے ہو اور تم ایمان رکھتے ہو۔ ( تیسیر) بنی اسرائیل میں اوپر کے لوگوں سے ایک صندوق چلا آتا تھا ان کا خیال اس کے متعلق یہ تھا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ یہ صندوق اترا تھا ۔ بہر حال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جب یہ صندوق پہنچا تو اس میں وہ توریت رکھا کرتے تھے اور یہ صندوق ایک متبرک چیز خیال کی جاتی تھی ۔ جب کبھی دشمنوں سے لڑتے تو یہ صندوق اسلامی لشکر میں فرشتے لئے رہتے اور اس صندوق کی برکت سے فتح کے امیدوار رہتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل میں خرابی پھیلی تو قوم عمالقہ کے لوگ وہ صندوق ان سے چھین کرلے گئے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں دہشت ڈال دی کیونکہ ان کے بہت سے آدمی اس صندوق کی بےادبی کرنے کی وجہ سے مرگئے تو انہوں نے گھبرا کر اس صندوق کو دو بیلوں پر رکھ کر اپنے ملک سے باہر نکال دیا اور بیلوں کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ فرشتے ان بیلوں کو ہنکا لائے اور اس طرح وہ صندوق طالوت کے مکان پر پہنچ گیا اور جس علامت کی شمویل نبی نے اطلاع دی تھی وہ نشانی پور ی ہوگئی اور ان لوگوں نے طالوت کی بادشاہت کو تسلیم کرلیا ۔ سکینۃ کے معنی ہیں ۔ تسکین ، اطمینان ، طمانیت ، وقار ، قرآن کریم میں یہ لفظ اکثر جگہ استعمال ہوا ہے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر صدیق (رض) وہ مسلمان جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے اور وہ لوگ جو غزوہ ٔ حنین میں شریک تھے ان سب کے متعلق نزول سکینہ کا ذکر آیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ سکینہ قلب کی ایک حالت ہے جس کی وجہ سے قلب کی پریشانیاں اور تفکرات اور ہموم و عموم دور ہوجاتے ہیں اور قلب میں ایک تقویت اور سکون پیدا ہوجاتا ہے اور یہ حضرات حق کی ایک خاص توجہ اور ایک خاص عنایت کا اثر ہوتا ہے خواہ یہ جنگ کے موقعہ پر میسر ہو اور خواہ نماز کے مصلے پر کسی کو نواز دیں میدان جنگ میں نازل فرمائیں تو ہمت اور تقویت زیادہ ہو اور دل بڑھ جائے اور بزم میں کسی پر نازل فرما دیں تو ما سوا اللہ سے مستغنی اور بےپروا کردیں کہتے ہیں کہ اس صندوق میں توریت کی تختیاں تھیں ۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عمامہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نعلین تھیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے کچھ کپڑے تھے ۔ ایک بوری میں من اور سلویٰ کے زمانے کی بچی ہوئی ترنجین تھی اور چند کلمات فرج تھے یعنی وہ کلمات جو پریشانی کے وقت پڑھے جاتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ پریشانی کو دور فرما دیتا ہے وہ کلمات یہ ہیں۔ لا الہ الا اللہ العلیم الکریم سبحان اللہ رب السموات السبع ورب العرش العظیم والحمد للہ رب العالمین آل کا لفظ یہاں محض موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی تفخیم شان کے لئے ہے اس لئے ہم نے اس کا کوئی ترجمہ نہیں کیا اور جن لوگوں نے تفخیم کے لئے مراد نہیں لیا تو وہ اولاد موسیٰ (علیہ السلام) اور اولاد ہارون (علیہ السلام) ترجمہ کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ اس سے مراد اولاد یعقوب (علیہ السلام) کے دوسرے ابنیاء ہیں۔ بہرحال یہ ہوسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے علاوہ دوسرے انبیاء کی بھی کچھ چیزیں اس صندوق میں ہوں اور ان کو آل موسیٰ (علیہ السلام) اور آل ہارون (علیہ السلام) فرمایا ہو ۔ غرض ان تبرکات کی وجہ سے مجاہدین کے قلب کو تسلی اور طمانیت ہوتی تھی اور اسی غرض سے یہ صندوق میدان جہاد میں مسلمانوں کے ساتھ ہوتا تھا اور اس کی برکت سے مسلمان اور ان کا نبی کامیاب ہوتا تھا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ یہ صندوق تین ذراع لمبا اور دو ذراع چوڑا تھا۔ فیہ کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے اتیان قرار دیا ہے۔ اس تقریر پر ترجمہ یوں ہوگا کہ اس صندوق کے آنے میں تمہارے پروردگار کی جانب سیت سکین و اطمینان ہے۔ ( واللہ اعلم) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بنی اسرائیل میں ایک صندوق چلا آتا تھا اس میں تبرکات تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی لڑائی کے وقت سردار کے آگے لے چلتے اور دشمن پر حملہ کرتے تو اس کو آگے دھر کر پھر اللہ فتح دیتا ۔ جب یہ بدنیت ہوگئے وہ صندوق ان سے چھینا گیا ۔ غنیم کے ہاتھ لگا ، اب جو طالوت بادشاہ ہوا وہ صندوق خود بخود رات کے وقت اس کے گھر کے سامنے آموجود ہوا ۔ سبب یہ کہ غنیم کے شہر میں جہاں رکھا تھا ان پر بلا پڑی پانچ شہر ویران ہوئے تب نا چار ہوئے دو بیلوں پر لاد کر ہانک دیا ، پھر فرشتے بیلوں کو ہانک کر یہاں لے آئے ۔ (موضح القرآن) اب آگے مزید تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ (تسہیل)