RemotivityVerbPersonal PronounPersonal Pronoun

فَهَزَمُوهُم

So they defeated them

تو انہوں نے شکست دے دی ان کو

Verb Form 1
Perfect Tense Imperfect Tense Imperative Active Participle Passive Participle Noun Form
هَزَمَ
يَهْزِمُ
اِهْزِمْ
هَازِم
مَهْزُوْم
هَزْم
Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلْھَزْمُ کے اصل معنی کسی خشک چیز کو دبا کر توڑدینے کے ہیں۔خشک اور پرانے مشکیزہ کو دباکر توڑ ڈالنے یا تربوز،ککڑی وغیرہ کے تورنے پر ہزم کا لفظ بولا جاتا ہے اور اسی سے ہزیمت (بمعنی شکست) ہے جس طرح حَطْمٌ یَاکَسْرٌ کا لفظ (مجازاً) شکست کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اسی طرح ھَزَمَ کا لفظ بھی اسی معنی میں بولا جاتا ہے۔قرآن پاک میں ہے: ۔ (فَھَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اﷲ) تو طالوت علیہ السلام کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی۔ (۲۔۲۵۱) (جُنۡدٌ مَّا ہُنَالِکَ مَہۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ) (۳۸۔۱۱) یہاں شکست کھائے ہوئے گروہوں میں سے بھی ایک لشکر ہے۔ (1) اور فَاقِرَۃٌ کی طرح ھَازِمَۃٌ بھی بڑی مصیبت کو کہتے ہیں۔چنانچہ محاورہ ہے۔اَصَابَتْہُ ھَازِمَۃُ الدَّھْرِ: اسے بڑی مصیبت پہنچی۔ ھَزَمَ الرَّعْدُ: گرج کی آواز کا شکستہ ہونا۔ اَلْمِھْزَامُ: ایک لکڑی جس کے سرے پر آگ لگاکر بچے کھیلتے ہیں۔گویا وہ اس سے دوسرے لڑکوں کو ہزیمت دیتے ہیں اور کمینے (ونی) شخص کے متعلق ھَزَمَ وَاھْتَزَمَ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔

Lemma/Derivative

2 Results
هَزَمُ
Surah:2
Verse:251
تو انہوں نے شکست دے دی ان کو
So they defeated them
Surah:54
Verse:45
عنقریب شکست کھاجائے گا
Soon will be defeated