Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 274

سورة البقرة

اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً فَلَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۲۷۴﴾ؔ

Those who spend their wealth [in Allah 's way] by night and by day, secretly and publicly - they will have their reward with their Lord. And no fear will there be concerning them, nor will they grieve.

جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چُھپے کُھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لئے ان کے رب تعالٰی کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غمگینی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Those who spend their wealth (in Allah's cause) by night and day, in secret and in public, they shall have their reward with their Lord. On them shall be no fear, nor shall they grieve. This Ayah praises those who spend in charity for Allah's sake, seeking His pleasure, day and night, publicly and in secret, including what one spends on his family. The Two Sahihs recorded that the Messenger of Allah said to Sa`d bin Abi Waqqas: وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللهِ إِلاَّ ازْدَدْتَ بِهَا دَرَجَةً وَرِفْعَةً حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِك You will not spend charity with which you seek Allah's Face, but you will ascend a higher degree and status because of it, including what you put in your wife's mouth. Imam Ahmad recorded that Abu Mas`ud said that the Prophet said, إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَة When the Muslim spends on his family while awaiting the reward for it from Allah, it will be written as charity for him. Al-Bukhari and Muslim also recorded this Hadith. Allah said, ... فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ ... shall have their reward with their Lord, on the Day of Resurrection, as reward for what they spent in acts of obedience. We previously explained the Ayah, ... وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ there shall be no fear on them nor shall they grieve.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٩١] یہ آیت دراصل صدقات و خیرات کے احکام کا تتمہ ہے۔ یعنی آخر میں ایک دفعہ پھر صدقہ کی ترغیب دی جارہی ہے۔ اب اس کی عین ضد سود کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ صدقات و خیرات سے جہاں آپس میں ہمدردی، مروت، اخوت، فیاضی پیدا ہوتی ہے وہاں طبقاتی تقسیم بھی کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس سود سے شقاوت قلبی، خود غرضی، منافرت، بےمروتی اور بخل جیسے اخلاق رذیلہ پرورش پاتے ہیں اور طبقاتی تقسیم بڑھتی چلی جاتی ہے جو بالآخر کسی نہ کسی عظیم فتنہ کا باعث بن جاتی ہے۔ اشتراکیت دراصل ایسے ہی فتنہ کی پیداوار ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یہاں تک چودہ آیات میں صدقے کا بیان تھا، اس کے بعد سود کو حرام قرار دیا۔ جب صدقے کی تاکید فرمائی تو قرض دینا تو بالاولیٰ ضروری ٹھہرا اور قرض پر سود کیوں لیا جائے۔ (موضح)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

(8). Verse 274: الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ‌ |"Those who spend their wealth night and day.|" Presented in this verse is the great reward and excellence of those who are used to spending in the way of Allah. They are those who, under all conditions and circumstances, during the day and during the night, secretly and openly, keep spending in the way of Allah in all sorts of ways. By implication, it was also stated that there is no time fixed for charities, i.e., sadaqah صدقہ and khayrat خیرات . There is no restriction of night or day. Similarly, spending in the way of Allah, secretly and openly, is an act of thawab ثواب both ways, however, the condition is that it should be done with sincerity (ikhlas اخلاص ), and not to earn name and fame. The excellence of spending secretly is limited to a situation where there be no pressing need to spend out openly; and where such a need does exist, spending there openly is certainly better. Based on the authority of Ibn ` Asakir, there is a report in Ruh al-Ma` ani which says that Sayyidna Abu Bakr (رض) spent forty thousand dinars in the way of Allah - making it ten thousand during the day, ten thousand during the night, ten thousand openly and ten thousand secretly. Some commentators have said that this very event related to Sayyidna Abu Bakr (رض) was the background of the revelation of this verse. There are other views also regarding the circumstances of its revelation.

آٹھویں آیت اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَار میں ان لوگوں کے اجر عظیم اور فضلیت کا بیان ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے عادی ہیں تمام حالات واوقات میں رات میں اور دن میں خفیہ اور علانیہ ہر طرح فی سبیل اللہ خرچ کرتے رہتے ہیں اس کے ضمن میں یہ بھی بتلا دیا کہ صدقہ و خیرات کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں نہ رات اور دن کی کوئی تعیین ہے اس طرح خفیہ اور علانیہ دونوں طرح سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ثواب ہے بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ خرچ کیا جائے نام ونمود مقصود نہ ہو خفیہ خرچ کرنے کی فضیلت بھی اسی حد تک ہے کہ علانیہ خرچ کرنے کے لئے کوئی ضرورت داعی نہ ہو اور جہاں ایسی ضرورت ہو وہاں علانیہ خرچ کرنا ہی افضل ہے۔ روح المعانی میں بحوالہ ابن عساکر نقل کیا ہے کہ حضرت صدیق اکبر نے چالیس ہزار دینار اللہ کی راہ میں اسی طرح خرچ کئے کہ دس ہزار دن میں دس ہزار رات میں، دس ہزار خفیہ اور دس ہزار علانیہ۔ بعض مفسرین نے اس آیت کا شان نزول اسی واقعہ صدیق اکبر کو لکھا ہے اسکے شان نزول کے متعلق اور بھی مختلف اقوال ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَۃً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝ ٠ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۝ ٢٧٤ ؔ نفق نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] ، وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254] ( ن ف ق ) نفق ( ن ) س الشئی کے منعی کسی چیز کے ختم ہونے یا چلے جانے کے ہیں ۔ اور چلے جانے کی مختلف صورتیں ہیں ( 1 ) خوب فروخت ہونے سے جیسے نفق البیع ( سامان کا ) خوب فروخت ہونا اسی سے نفاق الایتیم ہے جس کے معنی بیوہ عورت سے نکاح کے طلب گاروں کا بکثرت ہونا کے ہیں ۔ نفق القوم بازار کا پر رونق ہونا ۔ ( 2 ) بذیعہ مرجانے کے جیسے نفقت الدابۃ نفوقا جانور کا مرجانا ۔ ( 3 ) بذریعہ فنا ہوجانے کے جیسے نفقت الدراھم درواہم خرچ ہوگئے ۔ انفق تھا ان کو خرچ کردیا ۔ الا نفاق کے معنی مال وغیرہ صرف کرنا کے ہیں اور یہ کبھی واجب ہوتا ہے ۔ اور کبھی مستحب اور مال اور غیر مال یعنی علم وغیرہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا ۔ وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] اور خدا کی راہ میں مال خرچ کرو ۔ وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254] اور جو مال ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرلو ۔ ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ سرر (كتم) وسَارَّهُ : إذا أوصاه بأن يسرّه، وتَسَارَّ القومُ ، وقوله : وَأَسَرُّوا النَّدامَةَ [يونس/ 54] ، أي : کتموها ( س ر ر ) الاسرار اور تسارالقوم کے معنی لوگوں کا باہم ایک دوسرے کو بات چھپانے کی وصیت کرنے یا باہم سر گوشی کرنے کے ہیں اور آیت ۔ وَأَسَرُّوا النَّدامَةَ [يونس/ 54] ( پچھتائیں گے ) اور ندامت کو چھپائیں گے ۔ تو یہاں اسروا کے معنی چھپانے کے ہیں ۔ علن العَلَانِيَةُ : ضدّ السّرّ ، وأكثر ما يقال ذلک في المعاني دون الأعيان، يقال : عَلَنَ كذا، وأَعْلَنْتُهُ أنا . قال تعالی: أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْراراً [ نوح/ 9] ، أي : سرّا وعلانية . وقال : ما تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَما يُعْلِنُونَ [ القصص/ 69] . وعِلْوَانُ الکتابِ يصحّ أن يكون من : عَلَنَ اعتبارا بظهور المعنی الذي فيه لا بظهور ذاته . ( ع ل ن ) العلانیہ ظاہر اور آشکار ایہ سر کی ضد ہے اور عام طور پر اس کا استعمال معانی یعنی کیس بات ظاہر ہونے پر ہوتا ہے اور اجسام کے متعلق بہت کم آتا ہے علن کذا کے معنی میں فلاں بات ظاہر اور آشکار ہوگئی اور اعلنتہ انا میں نے اسے آشکار کردیا قرآن میں ہے : ۔ أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْراراً [ نوح/ 9] میں انہیں بر ملا اور پوشیدہ ہر طرح سمجھا تا رہا ۔ ما تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَما يُعْلِنُونَ [ القصص/ 69] جو کچھ ان کے سینوں میں مخفی ہے اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں علوان الکتاب جس کے معنی کتاب کے عنوان اور سر نامہ کے ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ علن سے مشتق ہو اور عنوان سے چونکہ کتاب کے مشمو لات ظاہر ہوتے ہیں اس لئے اسے علوان کہہ دیا گیا ہو ۔ أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ، وَآتَيْناهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ العنکبوت/ 27] ، وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا [يوسف/ 57] . والأُجرة في الثواب الدنیوي، وجمع الأجر أجور، وقوله تعالی: وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ [ النساء/ 25] كناية عن المهور، والأجر والأجرة يقال فيما کان عن عقد وما يجري مجری العقد، ولا يقال إلا في النفع دون الضر، نحو قوله تعالی: لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 199] ، وقوله تعالی: فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ [ الشوری/ 40] . والجزاء يقال فيما کان عن عقدٍ وغیر عقد، ويقال في النافع والضار، نحو قوله تعالی: وَجَزاهُمْ بِما صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيراً [ الإنسان/ 12] ، وقوله تعالی: فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ [ النساء/ 93] . يقال : أَجَر زيد عمراً يأجره أجراً : أعطاه الشیء بأجرة، وآجَرَ عمرو زيداً : أعطاه الأجرة، قال تعالی: عَلى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمانِيَ حِجَجٍ [ القصص/ 27] ، وآجر کذلک، والفرق بينهما أنّ أجرته يقال إذا اعتبر فعل أحدهما، وآجرته يقال إذا اعتبر فعلاهما «1» ، وکلاهما يرجعان إلى معنی واحدٍ ، ويقال : آجره اللہ وأجره اللہ . والأجير : فعیل بمعنی فاعل أو مفاعل، والاستئجارُ : طلب الشیء بالأجرة، ثم يعبّر به عن تناوله بالأجرة، نحو : الاستیجاب في استعارته الإيجاب، وعلی هذا قوله تعالی: اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [ القصص/ 26] . ( ا ج ر ) الاجر والاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دنیوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا اجر تو خدا کے ذمے ہے ۔ { وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ } [ العنکبوت : 27] اور ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے ۔ { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا } [يوسف : 57] اور جو لوگ ایمان لائے ۔ ۔۔۔ ان کے لئے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے ۔ الاجرۃ ( مزدوری ) یہ لفظ خاص کر دنیوی بدلہ پر بولا جاتا ہے اجر کی جمع اجور ہے اور آیت کریمہ : { وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ } [ النساء : 25] اور ان کے مہر بھی انہیں ادا کردو میں کنایہ عورتوں کے مہر کو اجور کہا گیا ہے پھر اجر اور اجرۃ کا لفظ ہر اس بدلہ پر بولاجاتا ہے جو کسی عہد و پیمان یا تقریبا اسی قسم کے عقد کی وجہ سے دیا جائے ۔ اور یہ ہمیشہ نفع مند بدلہ پر بولا جاتا ہے ۔ ضرر رساں اور نقصان دہ بدلہ کو اجر نہیں کہتے جیسے فرمایا { لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ } [ البقرة : 277] ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا ۔ { فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ } ( سورة الشوری 40) تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے الجزاء ہر بدلہ کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی عہد کی وجہ سے ہو یا بغیر عہد کے اچھا ہو یا برا دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ { وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا } [ الإنسان : 12] اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت کے باغات اور ریشم ( کے ملبوسات) عطا کریں گے ۔ { فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } ( سورة النساء 93) اس کی سزا دوزخ ہے ۔ محاورہ میں ہے اجر ( ن ) زید عمرا یا جرہ اجرا کے معنی میں زید نے عمر کو اجرت پر کوئی چیز دی اور اجر عمر زیدا کے معنی ہوں گے عمرو نے زید کو اجرت دی قرآن میں ہے :۔ { عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ } [ القصص : 27] کہ تم اس کے عوض آٹھ برس میری خدمت کرو ۔ اور یہی معنی اجر ( مفاعلہ ) کے ہیں لیکن اس میں معنی مشارکت کا اعتبار ہوتا ہے اور مجرد ( اجرتہ ) میں مشارکت کے معنی ملحوظ نہیں ہوتے ہاں مال کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں ۔ محاورہ ہی ۔ اجرہ اللہ واجرہ دونوں طرح بولا جاتا ہے یعنی خدا اسے بدلہ دے ۔ الاجیرہ بروزن فعیل بمعنی فاعل یا مفاعل ہے یعنی معاوضہ یا اجرت کا پر کام کرنے والا ۔ الاستیجار کے اصل معنی کسی چیز کو اجرت پر طلب کرنا پھر یہ اجرت پر رکھ لینے کے معنی میں بولا جاتا ہے جس طرح کہ استیجاب ( استفعال ) بمعنی اجاب آجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ : { اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ } [ القصص : 26] اسے اجرت پر ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو میں ( استئجار کا لفظ ) ملازم رکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ بھی کہا جاتا ہے حزن ( س ) غمزدہ ہونا غمگین کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے ۔۔۔۔۔ اس سے تم اندو ہناک نہ ہو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٧٤) جو حضرات پوشیدہ اور دکھا کر صدقہ و خیرات کرتے ہیں، جنت میں ان کو اس کا ثواب ملے گا اور انھیں نہ خوف ہوگا اور نہ غم، یہ آیت حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان نزول : (آیت) ” الذین ینفقون اموالھم “۔ (الخ) طبرانی (رح) اور ابن ابی حاتم (رح) نے بزریعہ یزید، عبداللہ (رح) ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے، کہ یہ آیت کریمہ (جہاد کے لیے) گھوڑے رکھنے والوں کے متعلق نازل ہوئی ہے، یزید اور عبداللہ دونوں راوی مجہول ہیں اور عبدالرزاق (رح) اور ابن جریر (رح) ، ابن ابی حاتم (رح) اور طبرانی (رح) نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت علی (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے ان کے پاس چار درہم تھے، انہوں نے اس میں سے ایک رات کو اور ایک دن کے وقت اور ایک پوشیدہ طور پر اور ایک ظاہر کرکے اللہ کی راہ میں خرچ کیے تھے اور ابن منذر (رح) نے ابن مسیب (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) اور حضرت عثمان بن عفان (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے، ان حضرات نے سامان جہاد فراہم کیا تھا۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اب ہم اس سورة مبارکہ کا جو رکوع پڑھ رہے ہیں یہ آج کے حالات میں اہم ترین ہے۔ یہ رکوع سود کی حرمت اور شناعت پر قرآن حکیم کا انتہائی اہم مقام ہے۔ اس دور میں اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت کی سب سے بڑی صورت تو غیر اللہ کی حاکمیت کا تصور ہے ‘ جو سب سے بڑا شرک ہے۔ اگرچہ نفسیاتی اور داخلی اعتبار سے سب سے بڑا شرک مادّے پر توکلّ ہے ‘ لیکن خارجی اور واقعاتی دنیا میں اس وقت سب سے بڑا شرک غیر اللہ کی حاکمیت ہے ‘ جو اب عوامی حاکمیت کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ اس کے بعد اس وقت کے گناہوں اور بدعملی میں سب سے بڑا فتنہ اور فساد سود کی بنیاد پر ہے۔ اس وقت دنیا میں سب سے بڑی شیطنت جو یہودیوں کے ذریعے سے پورے کرۂ ارضی کو اپنی گرفت میں لینے کے لیے بےتاب ہے ‘ وہ یہی سود کا ہتھکنڈا ہے۔ یہاں اس کی حرمت دو ٹوک انداز میں بیان کردی گئی۔ اس مقام پر میرے ذہن میں کبھی کبھی ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ اس رکوع کی پہلی آیت کا تعلق تو انفاق فی سبیل اللہ سے ہے ‘ لہٰذا اسے پچھلے رکوع کے ساتھ شامل ہونا چاہیے تھا ‘ لیکن بعد میں یہ حقیقت مجھ پر منکشف ہوئی کہ اس آیت کو بڑی حکمت کے ساتھ اس رکوع کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ وہ حکمت میں بعد میں بیان کروں گا آیت ٢٧٤ (اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ بالَّیْلِ وَالنَّہَارِ ) (سِرًّا وَّعَلاَنِیَۃً ) صدقات واجبہ علانیہ اور صدقات نافلہ خفیہ طور پر دیتے ہیں۔ (فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْج وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ) اس کے برعکس معاملہ ان کا ہے جو سود کھاتے ہیں۔ وجہ کیا ہے ؟ اصل مسئلہ ہے قدر زائد (surplus value) کا ! آپ کا کوئی شغل ہے ‘ کوئی کاروبار ہے یا ملازمت ہے ‘ آپ کما رہے ہیں ‘ اس سے آپ کا خرچ پورا ہو رہا ہے ‘ کچھ بچت بھی ہو رہی ہے۔ اب اس بچت کا اصل مصرف کیا ہے ؟ آیت ٢١٩ میں ہم پڑھ آئے ہیں : (وَیَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ط قُلِ الْعَفْوَ ط) لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کتنا خرچ کریں ؟ کہہ دیجیے جو بھی زائد از ضرورت ہو ! چناچہ اصل راستہ تو یہ ہے کہ اپنی بچت کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دو ۔ یا محتاجوں کو دے دو یا اللہ کے دین کی نشرو اشاعت اور سربلندی میں لگا دو ۔ لیکن سود خورانہ ذہنیت یہ ہے کہ اس بچت کو بھی مزید کمائی کا ذریعہ بناؤ۔ لہٰذا اصل میں سود خوری انفاق فی سبیل اللہ کی ضد ہے۔ یہ عقدہ مجھ پر اس وقت کھلا جب میں نے اَلْقُرْآنُ یُفَسِّرُ بَعْضُہٗ بَعْضًا کے اصول کے تحت سورة الروم کی آیت ٣٩ کا مطالعہ کیا۔ وہاں بھی ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں لایا گیا ہے ‘ اللہ کی رضا جوئی کے لیے انفاق اور اس کے مقابلے میں ربا ‘ یعنی سود پر رقم دینا۔ فرمایا : (وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَا فِیْ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ ج) اور جو مال تم دیتے ہو سود پر تاکہ لوگوں کے اموال میں (شامل ہو کر) بڑھ جائے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ محنت کوئی کر رہا ہے اور آپ اس کی کمائی میں سے اپنے سرمائے کی وجہ سے وصول کر رہے ہیں تو آپ کا مال اس کے مال میں شامل ہو کر اس کی محنت سے بڑھ رہا ہے۔ لیکن اللہ کے ہاں اس کی بڑھوتری نہیں ہوتی۔ (وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ ) اور وہ جو تم زکوٰۃ (اور صدقات) میں دے دیتے ہو محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے تو یہی لوگ (اپنے مال اللہ کے ہاں) بڑھا رہے ہیں۔ ان کا مال مسلسل بڑھ رہا ہے ‘ اس کی بڑھوتری ہو رہی ہے۔ چناچہ انفاق فی سبیل اللہ اور صدقات و زکوٰۃ وغیرہ کا معاملہ سود کے بالمقابل اور اس کے برعکس ہے۔ اپنے اس بچت کے مال کو یا تو کوئی اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا یا پھر سودی منافع حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے گا۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ آج کے بینکنگ کے نظام میں سب سے زیادہ زور بچت (saving) پر دیا جاتا ہے اور اس کے لیے سیونگ اکاؤنٹ اور بہت سی پرکشش منافع بخش سکیمیں متعارف کرائی جاتی ہیں۔ ان کی طرف سے یہی ترغیب دی جاتی ہے کہ بچت کرو مزید کمانے کے لیے ! بچت اس لیے نہیں کہ اپنا پیٹ کاٹو اور غرباء کی ضروریات پوری کرو ‘ اپنا معیار زندگی کم کرو اور اللہ کے دین کے لیے خرچ کرو۔ نہیں ‘ بلکہ اس لیے کہ جو کچھ تم بچاؤ وہ ہمیں دو ‘ تاکہ وہ ہم زیادہ شرح سود پر دوسروں کو دیں اور تھوڑی شرح سود تمہیں دے دیں۔ چناچہ انفاق اور سود ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

طبرانی ابن ابی حاتم ‘ عبد الرزاق ‘ ابن جریر اور ابن المنذر نے روایت کی ہے کہ عقبیٰ کے اجر کے خیال سے جب صحابہ (رض) میں طرح طرح کی خیرات کا چرچہ ہوا مثلاً اکثر صحابہ نے جہاد کا سامان گھوڑے اور ہتھیار خریدنے اور مجاہدین کو طرح طرح کی مدد دی مثلاً حضرت علی کے پاس چار درہم تھے آپ نے ایک رات دن میں وہ سب خیرات کر دئیے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کو اللہ سے بڑے بڑے اجروں کی توقع رکھنی چاہیے حضرت علی (رض) کے چار درہم خیرات کرنے کے قصہ کی روایت میں اگرچہ ابن جریر وغیرہ کی سند ضعیف ہے مگر ابن مردویہ (رح) نے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کے طریق سے جو اس قصہ کو روایت کیا ہے ١۔ وہ سند قوی ہے اور اس قوی طریق کی مدد سے وہ ضعیف طریقہ بھی کچھ قوت پکڑ جاتا ہے۔ صحیحین میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جو شخض عقبیٰ کے اجر کے خیال سے اپنی بی بی بچوں کو نان و نفقہ میں بھی کچھ خرچ کرے گا تو اس کو بھی قیامت کے دن اس خرچ کرنے کا اجر خدا کی درگاہ سے ضرور ملے گا ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:274) الذین ینفقون۔ الذین اسم موصول جمع مذکر۔ ینفقون اموالہم باللیل والنھار سرا وعلانیۃ۔ صلہ۔ موصول وصلہ مل کر مبتداء فلہم اجدھم ۔۔ ولاھم یحزنون۔ خبر ۔ ف اس لئے کہ مبتدا میں بوئے شرط تھی۔ اللیل والنھار اسم ظرف زمان بمعنی لیلا ونھارا رات ہو یا دن ۔ سرا وعلانیۃ۔ خفیہ طور پر یا علانیہ طور پر چاروں حال میں۔ ولاہم یحزنون۔ واؤ عاطفہ ھم ضمیر جمع مذکر غائب ای الذین ینفقون۔ لا یحزنون مضارع منفی جمع مذکر غائب حزن (باب سمع) مصدر۔ نہ وہ غمگین ہوں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

274 تا 281 اسرارو معارف الذین ینفقون…………ولاھم یحزنون۔ جو لوگ دن رات ظاہر پوشیدہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی جیسے ضرورت پیش آئے اسے پورا کرنے کو لپکتے ہیں۔ اعلانیہ دینا پڑے یا چھپا کر ، رات ہو یا دن کا وقت نہ تاخیر کرتے ہیں اور نہ کسی حالت کو آڑے آنے دیتے ہیں جیسے سیدنا صدیق اکبر (رض) ، کہ شاعر مشرق (رح) نے کیا خوب کہا ہے ؎ آں امن الناس بر مولائے ما آں حکیم وادی سینائے ما دولت اوکشت ملت راچوں ابر ثانی اثنین وغار وبدر وقبر یا دیگر جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کے صدقات اور مالی جانی قربانیوں سے تاریخ عالم مزین ہے اور چشم فلک حیران۔ ایسی قوم نہ سورج نے ان سے پہلے دیکھی اور نہ ان کے بعد امید کرسکتا ہے۔ ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس ان کی جاں نثاریوں کا بدلہ محفوظ ہے۔ نہ انہیں اپنی حق تلفی کا یا اپنے کئے پر پشیمانی کا یا عذاب الٰہی کا خوف ہی ہوگا۔ نہ آئندہ کا غم کہ کل کیا ہوگا۔ ان کا کل ان کے آج سے بھی درخشاں ہوگا۔ والحمد للہ علی ذالک اللھم ارزقنا ابتاء عھم۔ جوشخص بھی اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا ایسے ہی اعلیٰ انعامات کا امیدوار ہوگا۔ صدقہ مال کو بغیر کسی مادی نفع کی امید کے اللہ کی رضا کے لئے دینے کو کہتے ہیں۔ اس کے مقابل ربو ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ بغیر کسی معاوضہ کے دوسرے کا مال لیا جاتا ہے۔ ارشاد ہے ، الذین یا کلون الربوا…………ھم فیھا خالدون۔ کہ جو لوگ سود لیتے ہیں اگرچہ یہاں ارشاد سود کھانا ہے مگر مراد سود کا لینا ہی ہے خواہ کھانے میں استعمال کرے یا لباس میں یا مکان وغیرہ کے بنانے میں۔ مطلقاً سود لینا ہی سود کھانا ہے کہ سود خور کو حاصل کردہ رقم پر مکمل قبضہ اور تصرف حاصل ہوتا ہے اور اس کی واپسی کی کوئی صورت نہیں۔ اس لئے سود لینے کو سود کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ لوگ قیامت کو اس طرح کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے ان سے لپٹ کر ان کو خبطی بنادیا ہے۔ جنات و شیاطین کا اثر : اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جنات و شیاطین کے اثر سے انسان بےہوش یا مجنون ہوسکتا ہے یہ بات کتاب اللہ ، احادیث مبارکہ اور متواتر مشاہدات سے بھی ثابت ہے اور اطبانے بھی اس کو تسلیم کیا ہے کہ صرع ، جنون یا بےہوشی کے مختلف اسباب میں سے ایک سبب جنات کا اثر بھی ہوسکتا ہے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ جزا از قسم اعمال ہوا کرتی ہے۔ دنیا میں سود خوار ایسا مدہوش تھا کہ کسی کی غربت اور بےکسی کی پرواہ تھی نہ احکام الٰہی کی۔ آخرت میں اٹھا تو ایسا خبطی تھا جیسے کسی کو جنات لپٹ کر مخبوط الحواس بنادیں۔ کہ یہ دنیا میں کہتا تھا سود مثل بیع ہی تو ہے۔ کہ اشیاء کی خریدوفروخت سے مقصود دولت کو بڑھانا اور نفع کمانا ہے اور سود سے بھی دولت کی بڑھوتری ہی مراد ہے تو پھر تم لوگوں نے بیع کو کیوں حلال سمجھ رکھا ہے اور وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام اور اللہ مالک الملک والملکوت ہے وہ ساری مخلوق کے نفع نقصان کو خود مخلوق سے بہت ہی زیادہ جانتا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ حاکم ہے جب اس نے حکم دے دیا تو بات ختم ہوگئی۔ بیع حلال اور ربو حرام ، کسی کو اس کی ذات پر اعتراض کرنے یا سوال کرنے کا حق ہی حاصل نہیں۔ دوسری بات یہ کہ سود کو حلال کہنے والے کی دلیل تو عقلی تھی اور جواب حاکمانہ ہے عرض ہے اللہ حاکم بھی ہے اور رب العالمین بھی۔ وہ مجموعہ نظام عالم کا خالق بھی اور ساری مخلوق سے اور مخلوق کے بھلے برے سے آگاہ بھی۔ جب اس نے حرام کردیا تو ظاہر ہے اس میں ضرور نقصان چھپا ہوا ہوگا اور خباثت بھی خواہ ہم اس کو کسی حد تک جان سکیں یا بالکل ہی نہ جان سکیں کہ ہم اپنے نفع ونقصان کو تو ممکن ہے کسی حد تک سمجھ سکتے ہوں مگر پورے عالم پر کیا گزرے گی یا پوری قوم پر کیا اثر ہوگا ؟ اسے وہی علیم وخبیر جانتا ہے۔ جس کے پاس اللہ کی نصیحت پہنچی اور وہ سود کو حلال کہنے کے کفریہ فعل سے باز آگیا اور سود لینا بھی چھو ڑ دیا ، تو اس سے پہلے جو کچھ وہ لے چکا ہے وہ اسی کا ہوا اور ظاہراً اس کی توبہ قبول ہوئی ، اگرچہ اس کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے یعنی صحیح تائب ہوا ہے یا نہیں۔ یہ اللہ کے علم میں ہے اور وہی اس سے باز پرس کرے گا لیکن اگر توبہ کے بعد پھر سود لینا شروع کردیا تو یہ فعل اسے دوزخ میں لے جائے گا اور اگر حرام جان کر بھی کھائے تو بھی۔ ہاں ! حرام جاننے والا ہمیشہ دوزخ میں نہ رہے گا۔ واللہ اعلم۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد وگرامی ہے کو جو گوشت حرام لقمے سے بنا اس کے لئے آگ ہی سزاوار ہے نیز یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ ابن کثیر اور صاحب مظہری رحمہم اللہ تعالیٰ نے احادیث نقل فرمائی ہیں جن میں ارشاد ہے کہ سود کے ستر گناہ ہیں اور ادنیٰ یہ ہے کہ کوئی اپنی ماں سے زنا کرے۔ العیاذ باللہ ! یہ گناہ اسے دوزخ میں لے جائے گا اور اگر حلال جانتا ہے تو یہ کفر ہے پھر ہمیشہ دوزخ ہی میں رہے گا۔ بیع کیا ہے ؟ اور ربوٰ کسے کہا جائے گا یہ بحث تفسیر مظہری میں دیکھ لی جائے۔ یا صاحب معارف القرآن نے بہت اعلیٰ انداز میں بیان فرمایا ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔ بحق اللہ الربو …………کفار اثیم۔ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے اور صدقات کو بڑھاتے ہیں اور کسی کافر یعنی سود کو حلال جاننے والے یا بدکار یعنی سود جیسا کبیرہ گناہ کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے بلکہ مبغوض رکھتے ہیں یاد رہے کہ سود لینے والا ، دینے والا یا سود کی دستاویز لکھنے والا سب برابر کے گنہگار ہیں نیز جس لالچ میں سود خور کام کرتا ہے وہ ہو بھی نہیں پاتا کہ اللہ سود کو مٹاتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ سٹے کے بازاروں میں بڑے بڑے کروڑ پتی دیکھتے دیکھتے دیوالیہ ہوجاتے ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ دولت فی نفسہ مقصود نہیں ، نہ سونا چاندی کوئی کھانے کی چیز ہے بلکہ مقصود دولت سے ان اشیاء کا حصول ہے جو جسم کو آرام پہنچادیں تو اول سود خور اپنے آرام کے لئے بھی خرچ نہیں کرتا اگر کوئی کرے بھی تو جب اللہ آرام اندر نہیں پہنچنے دیتے تو ظاہری اسباب کا کیا فائدہ۔ ان محلوں میں رہنے کا کیا سکھ جن میں نیند کی گولیوں کے بغیر رات بسر نہ ہو اور پھر آخری بات یہ ہے کہ سارا جمع شدہ مال تو دنیا میں رہ گیا لیکن ابدی زندگی کے لئے ایک بہت بڑا عذاب بن کر مسلط ہوگیا۔ صاحب تفسیر مظہری نے ایک حدیث واقعہ معراج کے بارے میں نقل فرمائی ہے کہ میں نے کچھ لوگوں کو راستے میں پڑا ہوا دیکھا جن کے پیٹ بڑی بڑی کوٹھڑیوں جتنے تھے اور ان میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو باہر سے نظر آتے تھے پھر دور سے لوگوں کے دوڑنے کی آواز آئی تو ان لوگوں نے راستے سے ہٹنا چاہا مگر وہ پیٹ انہیں اٹھنے نہ دیتے تھے حتیٰ کہ وہ لوگ آپہنچے اور انہیں روند کر گزر گئے۔ جبرائیل امین (علیہ السلام) نے بتایا کہ یہ سود کھانے والے راستے میں پڑے ہیں اور انہیں روند کر گزرنے والے فرعونی ہیں جو صبح وشام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں جو دوڑتے ہوئے چیخ اٹھتے ہیں کہ اللہ کبھی قیامت قائم نہ ہو۔ ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ خون کی نہر میں کچھ لوگ تھے جو کنارے پر آتے تر فرشتہ منہ میں پتھر ٹھونس دیتا۔ پھر لڑھکتے ہوئے واپس چلے جاتے۔ پوچھنے پر جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ یہ سود خوار ہیں۔ ایسے طرح طرح کے عذاب تو برزخ میں ہو رہے ہیں آخرت میں اس سے کہیں شدید ہوں گے۔ رہا معاملہ صدقات کا تو اللہ ایسے آدمی کے مال میں برکت دیتا ہے۔ اس کا دل مطمئن رہتا ہے وہ تنکوں پر ایسی راحت پاتا ہے جو سود خوار کو محل میں نصیب نہیں ، اور پھر آخرت میں اس کا مال ہزاروں گنا بڑھا کر اسے اجر کی صورت میں ملتا ہے یہاں تک ارشاد ہے کہ جو اللہ کی راہ پر ایک کھجور دے اللہ اس کی پرورش فرماتا ہے حتیٰ کہ وہ کھجور احد پہا ڑ کے برابر ہوجاتی ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کبھی دیوالیہ ہوتے نہیں دیکھے بلکہ ان کے مال میں برکت ہوتی ہے ۔ زندگی پرسکون اور اخروی اجر کا اندازہ ممکن نہیں جو مقصود ہے اور حقیقی زندگی کی حقیقی راحت بھی ہے اور اس کے ساتھ اللہ کی رضا ، اس کی خوشنودی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے جو سود خواروں کو نصیب نہیں۔ ان الذین امنوا……………ولاھم یحزنون۔ پھر ابدی راحت کا صحیح راستہ ارشادفرمادیا۔ جو صرف ایک ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے یعنی تکمیل ایمان یہ ہے کہ انسان کا عمل اس کے عقیدے کے تابع ہوجائے زندگی کے تمام امور ، معاملات ہوں یا اخلاقیات سب اس عقیدے کے تابع ہوں جس کا وہ مدعی ہے اور پھر عبادات کے لئے اپنی ممکن کوشش صرف کردے۔ اقام الصلوٰۃ یعنی نماز کو قائم کرے پوری محنت ، پورے خلوص کے ساتھ۔ نماز اور زکوٰۃ ارشاد فرما کر جو مقصود عبادات ہیں بدنی ہوں یا مالی ، پورے خلوص سے ادا کرے تو ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے رب کے پاس انعامات اور اجر ہے جنہیں نہ کسی قسم کا ڈر ہوگا اور نہ افسوس۔ جو گزشتہ پر بھی اللہ کا شکر ادا کر رہے ہوں گے۔ اور آئندہ بھی اللہ کی نعمتوں میں روز افزوں زیادتی کے امیدوار۔ یایھا الذین امنوا تقو اللہ…………وھم لا یظلمون۔ (278 281) اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو۔ اللہ کی رضامندی اور خوشنودی کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دو اور سود چونکہ اللہ نے تمہارے لئے حرام قرار دیا ہے جو باقی ہے سب چھوڑ دو ۔ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو اور تم نے صدق دل سے ایمان قبول کیا ہے تو پھر اطاعت کے سوا کوئی راستہ نہیں اور اگر تم باز نہ آئے تو ظاہر ہے صرف دعویٰ ایمان ہے ورنہ سود جیسی لعنت میں مبتلا ہونے کی کیا ضرورت تھی ؟۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لڑنے کے لئے تیار ہوجائو ! یعنی سود کو مسلمان حاکم زبردستی روک دے اور اگر سود خواروں کی جماعت ہو جن کو روکنے کے لئے لڑنا پڑے تو ان سے جہاد کیا جائے گا ۔ جب تک وہ تائب نہیں ہوجاتے۔ یہی حکم نماز ، روزہ اور زکوٰۃ کا ہے کہ انکار کرنے والا قطعی کافر ہو کر مرتد ہوگا اور واجب القتل۔ اگر کثیر جماعت ہے تو اس کے ساتھ جہاد مسلمان امیر پر فرض ہے تاوقتیکہ وہ توبہ کریں یا قتل ہوں ، اور اگر نہ انکار کرے نہ عمل کرے تو فاسق ہوگا اور حاکم اسے قید کرے تاوقتیکہ وہ تائب ہو۔ اگر بغیر توبہ کے مرجائے تو نہ جنازہ پڑھا جائے گا اور نہ ہی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہوگا۔ فرمایا اگر تم توبہ کرلو تو تم اصل مال لینے کے حقدار ہو نہ تم کسی سے زیادہ لے کر ظلم کرو ، اور نہ کوئی تمہارا اصل مال روک کر تم پر زیادتی کرے۔ یہاں ثابت ہوتا ہے کہ سود خوار اگر توبہ نہ کرے تو اس کا اصل مال بھی ضبط کیا جائے گا۔ اسے نہیں مل سکے گا۔ ہاں ! اگر جس سے اصل مال واپس لینا ہے اسے تنگی میں پائو تو اسے مہلت دو صبر سے کام لو ، اس پر احسان کرو۔ تاوقتیکہ اللہ اسے فراخی دے اور وہ مال واپس کرنے کے قابل ہوجائے۔ لیکن اگر بالکل ہی بےبس ہے تو صدقہ کردو۔ اللہ کے لئے چھوڑ دو ۔ یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر اور بہت بڑے اجر کا سبب ہے۔ اگر تم سمجھ سکو تو یہ بہت اعلیٰ نیکی ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس کی بہت بڑی فضیلت آئی ہے۔ بلکہ یہاں تک ارشاد ہے کہ غریبوں کو تنگی کی حالت میں ادائے قرض کی مہلت دینے والے یا اللہ کے لئے معاف کرنے والے لوگ عرش الٰہی کے سایہ میں ہوں گے جبکہ میدان حشر میں اس کے سوا کوئی سایہ ہ ہوگا۔ فرمایا کہ اس دن کا خیال کرو اور اس روز کے لئے اپنی کوئی جائے پناہ بنالو۔ جس روز تم سب اللہ کی بارگاہ میں حاضر کئے جائو گے اور پھر ہر کسی کو اس کی محنت یا کارکردگی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی سے کوئی زیادتی نہ کی جائے گی ، جو کچھ کسی نے دنیا میں عقیدہ وایمان رکھا ، اس کے مطابق اور جو کچھ اس نے کیا اس پر جو بھی اجر ملنا چاہیے عذاب یا ثواب ہر کسی کو بغیر کسی کی حق تلفی کئے دیا جائے گا۔ سبحان اللہ ! انداز بیان ایسا ہے کہ گناہ بخشش کی گنجائش ہے مگر نیکی کے زیاں کا کوئی امکان نہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پہلے ریاکاری کی مذمت کی گئی ہے اب وضاحت فرمائی ہے کہ نیت میں اخلاص ہو تو اعلانیہ صدقہ کرنا ریاکاری میں شامل نہیں۔ صدقہ کرنے کے انداز اور طریقہ کے بارے میں پہلے ارشاد یہ تھا کہ چھپا کر صدقہ کرو یا اعلانیہ دونوں صورتیں تمہارے لیے بہتر ہیں۔ اس کے بدلے تمہارے گناہوں کو معاف کردیا جائے گا۔ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ رات کی تاریکی میں صدقہ کریں یا دن کی روشنی میں سب کے سامنے کریں یا چھپ کر ایسے لوگوں کے اخلاص ‘ جذبات اور صدقات کے مطابق ان کے رب کے ہاں نہایت ہی عمدہ اجر ہے۔ جس میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی کمی نہیں کی جائے گی۔ اس اجر کے ساتھ انہیں یہ بھی انعام سنایا جاتا ہے کہ انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ اور فکر مند ہونے کا اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ غربت کے خوف اور دولت کے لالچ سے بےنیاز ہو کر مستحق غریب کو معاشی غم سے نجات دلایا کرتے ہیں اس کے بدلے ان پر نہ خوف طاری ہوگا اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی پریشانی اور پشیمانی ہوگی۔ دنیا میں بھی ان کا مال کم نہیں ہوگا۔ مسائل ١۔ صدقہ دن رات، چھپ کر یا اعلانیہ کیا جائے اس کا اجر اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔ ٢۔ صدقہ کرنے والے کو کوئی خوف و خطر نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن خوف وغم سے مبرّا حضرات : ١۔ ہدایت پر عمل پیرا ہونے والا خوف زدہ اور غمگین نہیں ہوگا۔ (البقرۃ : ٣٨) ٢۔ ایمان اور عمل صالح کرنے والے خوف زدہ نہ ہوں گے۔ (البقرۃ : ٦٢) ٣۔ رضائے الٰہی کے لیے خرچ کرنے والے بےخوف وبے غم ہوں گے۔ (البقرۃ : ٢٦٢) ٤۔ ایمان، نماز اور زکوٰۃ مومن کو بےخوف وبے غم کرتی ہے۔ (البقرۃ : ٢٧٧) ٥۔ ایمان پر قائم رہنے والوں اور اصلاح کرنے والوں پر خوف وغم نہ ہوگا۔ (الانعام : ٤٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس خاتمہ کلام میں اس آیت کی عمومیت اور ہم آہنگی بہت ہی خوبصورت نظر آتی ہے ۔ آیت کا آغاز اور اختتام ایک موزوں سر کی طرح باہم متوازن اور اصول عام کی صورت میں دوبارہ دہرایا جاتا ہے۔ اور بہت ہی موزونیت کے ساتھ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ............... ” وہ لوگ جو اپنے اموال خرچ کرتے ہیں۔ “ یعنی ہر قسم کے مال اور دولت جو وہ خرچ کرتے ہیں ۔ اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے۔ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلانِيَةً............... ” شب و روز چھپے یا کھلے ۔ “ یعنی جن اوقات اور جن حالات میں بھی وہ انفاق فی سبیل اللہ کرتے ہیں فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ............... ” تو ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ “ ان کا ہر قسم کا اجر محفوظ ہے ۔ اس میں اضافہ بھی ہوگا ، اس سے ان کی عمر میں برکت بھی ہوگی ۔ آخرت میں بھی پوری پوری جزاملے گی ۔ اور اللہ کی رضامندی اس پر مستزاد ہوگی۔ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ............... کسی بھی جانب سے انہیں کوئی خوف نہ ہوگا ۔ کسی جانب سے کسی کا کوئی خدشہ نہ ہوگا۔ نہ دنیا میں ہوگا نہ آخرت میں ہوگا۔ غرض دستور انفاق فی سبیل اللہ کا یہ موزوں اور متناسب اختتامیہ ہے جس میں یہ اشارات پنہاں ہیں کہ انفاق فی سبیل اللہ اپنی عمومی شکل میں ماجور ہے چاہے وہ جس قسم کا ہو جس وقت ہو ، جس مقصد کے لئے ہو۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کی زندگی کی معیشت کا مدار صرف انفاق فی سبیل اللہ پر نہیں رکھتا ۔ اسلامی نظام میں معیشت کا دارومدار اس پر تھا کہ ہر شخص کے لئے جو قدرت رکھتا ہو ، روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں ۔ اس کے علاوہ اسلام نے اپنی معیشت کا دارومدار ، اہل اسلام کے درمیان ، دولت کی منصفانہ تقسیم پر رکھا ہے اور دولت کی اس تقسیم کا اصول حسن کارکردگی اور استحقاق پر رکھا گیا ہے لیکن بعض اوقات ایسے استثنائی حالات درپیش ہوجاتے ہیں ، جن میں معیشت کے عمومی اصول کارآمد نہیں ہوتے اور ان حالات میں درپیش مشکلات ان سے حل نہیں ہوتیں۔ ایسے حالات کو اسلام انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعے حل کرتا ہے ۔ یہ انفاق بعض اوقات تو ایک لازمی ٹیکس کی صورت میں ہوتا ہے ، جسے وہ اسلامی حکومت نافذ کرتی ہے جو اسلامی شریعت نافذ کرنے والی ہو ۔ صرف اسلامی حکومت ہی اس قسم کا لازمی ٹیکس نافذ کرسکتی ہے ۔ زکوٰۃ اور صدقات واجبہ اسلامی حکومت کے محاصل میں سے اہم ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ تقسیم دولت صدقات نفلیہ کی صورت میں ہوتا ہے جن کی مقدار کا تعین نہیں ہوتا اور یہ نفلی صدقات اہل ثروت کی جانب سے مستحقین کے لئے ہوتے ہیں ۔ جو انہیں ذاتی طور پر دئیے جاتے ہیں ۔ اور اس قسم کا عطیہ دیتے وقت ان آداب اور شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے جن کا اوپر ذکر ہوا ۔ اور ان آداب ہی کی وجہ سے لینے والے خودداری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ یہی خودداری ہے جس کا اظہار اس آیت میں ہوا ہے ۔ اس خود داری کو اسلام نے اسلامی معاشرہ میں اس قدر ترقی دی تھی کہ ایک شخص کے پاس کچھ بھی نہ ہوتا تھا اور وہ معمولی ضروریات زندگی کا بھی محتاج ہوتا ، تب بھی وہ دست سوال کسی کے سامنے دراز نہ کرتا۔ بخاری نے عطاء ابن یسار اور عبدالرحمن بن ابی عمرہ سے روایت کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابوہریرہ سے سنا ۔ فرمایا کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک کھجور یا دوکھجوریں لوٹادیں ۔ یا ایک لقمے یا دو لقموں کے لئے وہ بھیک مانگتا پھرے ، مسکین وہ ہوتا ہے جو خوددار ہو۔ “ اگر تم چاہو تو اس آیت لا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ............... ” وہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر سوال نہیں کرتے ۔ “ امام احمد نے ابوبکر ، عبدالحمید بن جعفر ، اس کے والد کے واسطہ سے قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کی روایت نقل کی ہے ۔ اس شخص کو اس کی والدہ نے مشورہ دیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تم کیوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاکر سوال نہیں کرتے ؟ اس نے کہا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ مانگوں ۔ پہنچا تو آپ تقریر فرما رہے تھے ” جس نے خودداری کی اللہ تعالیٰ اسے دے دے گا اور جو شخص استغناء کرے گا اللہ تعالیٰ اسے غنی بنادے گا ۔ جو شخص لوگوں سے سوال کرتا ہو حالانکہ اس کے پاس پانچ اوقیہ کے برابر مال موجود ہے تو گویا اس نے اصرار کرکے سوال کیا (الحافاً ) میں نے اپنے دل میں کہا ” میرے پاس ایک اونٹنی ہے جو یقیناً پانچ اوقیہ سے زیادہ قیمتی ہے ۔ اور میرے غلام کے پاس ایک دوسری اونٹنی ہے ، وہ بھی پانچ اوقیہ سے زیادہ قیمتی ہے ۔ “ اس لئے میں واپس ہوگیا اور درخواست نہ کی ۔ حافظ طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ ، محمد بن سیرین سے روایت کی ہے ۔ حارث کو (ایک شخص جو قریشی تھے اور شام میں رہتے تھے ) خبر ملی کہ حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کے مالی حالات ٹھیک نہیں تو اس نے انہیں تین سو دنیار بھجوائے ۔ ابوذر نے جواب دیا :” کیا عبداللہ کو مجھ سے زیادہ تنگ دست اور کوئی نظر نہیں آیا ۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ” جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس چالیس درہم ہوں تو اس نے الحاف کیا ۔ “ ابوذر کے خاندان کے پاس چالیس درہم موجود ہیں ایک بکری اور دونوکر بھی موجود ہیں ۔ ابوبکر بن عیاش نے کہا ماہنان سے خادمان ہیں ۔ غرض اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے ۔ اس کے نصوص ، اس کی ہدایات اور اس کے قوانین سب کے سب بیک وقت کام کرتے ہیں ان نصوص وہدایات اور قوانین کے دفعات پر علیحدہ علیحدہ غور نہ کیا جائے گا ۔ اسلام کے اصول اور ضابطے بیک وقت روبعمل ہوتے ہیں ۔ اس لئے ان میں باہم تناسق اور تناسب ہوتا ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں ایک ایسا مشورہ وجود میں آتا ہے جس کی نظیر اس کرہ ارض پر انسانی معاشروں میں نہیں ہوتی ۔ وہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد معاشرہ ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رات دن مال خرچ کرنے والوں کی فضیلت اور منقبت اس آیت میں رات دن اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنے کا تذکرہ ہے۔ جو پوشیدہ طور پر اللہ کی راہ میں مال خرچ کریں گے یا علانیہ طور پر قیامت کے دن ان کا خرچ کیا ہوا مال اجر وثواب کی صورت میں انہیں مل جائے گا۔ وہ وہاں غمگین نہ ہوں گے، جبکہ بہت سے لوگ بدعملی کی وجہ سے یا اپنے مالوں کو گناہوں میں خرچ کرنے کی وجہ سے غمگین ہوں گے۔ اس آیت میں مال خرچ کرنے کے بیان میں سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کے سامنے مال خرچ کرنا ریا کاری میں شامل نہیں جس سے گناہ ہو اور خرچ کرنا اکارت ہوجاتا ہو، گو خفیہ طریقہ پر خرچ کرنے کی فضیلت زیادہ ہے لیکن اگر دکھاوا مقصود نہ ہو نام و نمود پیش نظر نہ ہو اور مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہی ہو تو لوگوں کے سامنے خرچ کرنے سے ریا کاری میں شمار نہ ہوگا، ریا کاری اپنے دل کے جذبہ اور ارادہ کا نام ہے، اگر کوئی شخص تنہائی میں نیک عمل کرے اور مال خرچ کرے اور پھر لوگوں کو معتقد بنانے کے لیے اپنے عمل کو ظاہر کرے یا دل میں یہ تڑپ ہو کہ میرے اعمال لوگوں پر ظاہر ہوں تاکہ میری تعریف ہو تو یہ بھی ریا میں شامل ہوجائے گا بلکہ اس میں دہرا ریا ہے کہ لوگ یوں کہیں گے کہ دیکھو کیسے مخلص ہیں تنہائیوں میں عمل کرتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

537 اس ٓیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر وقت اور ہر حال میں خیرات کرنے اور خدمت دین میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے لیل ونہار سے عموم اوقات اور سرد علانیہ سے عموم احوال مراد ہے لیل کو نہار پر اور سر کو علانیہ پر مقدم کر کے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ صدقہ میں اخفاء اور چھپا کردینا افضل اور بہتر ہے۔ المراد باللیل والنھار جمیع الاوقات کما ان المراد بما بعدہ جمیع الاحوال وقدم اللیل علی النہار والسر علی العلانیۃ للایذان بمزیۃ الخفاء علی الاظہار (روح ص 47 ج 3)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 جو لوگ اپنے مال رات کو اور دن کو خفیہ اور علانیہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں تو ایسے لوگوں کو قیامت میں ان کے رب کے حضور ان کا ثواب ملے گا اور ان کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ اور موجود ہے۔ نیز ایسے لوگوں کو نہ کسی قسم کا خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ بلا کسی زمانے کی تخصیص کے اور بلا حالات کے اتار چڑھائو کے ان لوگوں کو خیرات کرنے سے دھیان ہے نہ رات اور دن کا خیال کرتے ہیں نہ پوشیدہ اور علانیہ کی بحث میں پڑتے ہیں بلکہ جیسا موقعہ ہوتا ہے خرچ کرتے ہیں اگرچہ خفیہ خیرات علانیہ خیرات سے بہتر ہے لیکن بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ چھپانے کے انتظار میں حاجت مند کا کام خراب ہوتا ہے تو علانیہ ہی دے دیتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ضرورت مند کی ضرورت اور حاجت کا خیال رکھنا مقدم ہے۔ خوف اور غم کا مطلب ہم اوپر کئی مرتبہ بیان کرچکے ہیں یعنی نہ ان کو کوئی ایسی ناگوار چیز پیش آئے گی۔ جس کا خوف ہو اور نہ کسی گزشتہ واقعہ پر ان کو غم اور افسوس ہوگا یعنی ہر اعتبار سے مطمئن اور مامون ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ قیامت کے دن ہر شخص خوف زدہ ہوگا اور بڑے سے بڑا آدمی ڈر رہا ہوگا اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی ہیبت اور واردگیر سے ڈرنا اور بات ہے اور خوف و غم کی کسی چیز کا پیش نہ آنا اور بات ہے ان دونوں باتوں میں فرق ہے۔ بعض حضرات نے کہا ہے آیت حضرت صدیق اور حضرت عثمان کے بارے میں نازل ہوئی بعض نے کہا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے بعض نے کہا عبدالرحمٰن بن عوف کے حق میں یہ آیت اتری ہے۔ بہرحال شان نزول کچھ بھی ہو آیت کا حکم عام ہے جو شخص بھی بلا قید زمانہ اور بلا تخصیص احوال خرچ کرتا رہتا ہے اس کو یہ آیت شامل ہے اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پوشیدہ خیرات علانیہ سے بہتر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خفیہ کو آشکارا پر مقدم کیا ہے۔ اب آگے اور ایسے احکام بیان کئے جاتے ہیں جن کا تعلق مال سے ہے مثلاً بلا سود کے قرض دینا قرض دار کو مہلت دینا تنگدست کو قرض معاف کردینا لین دین کو تحریر کرلینا لیتے دیتے وقت گواہ مقرر کرنا کاتب موجود نہ ہو تو رہن رکھنا اور کسی چیز کا گرو رکھ کر کام نکال لینا وغیرہ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہاں تک خیرات کا بیان تھا آگے سود کو حرام فرمایا ، جب خیرات کا تقید ہوا تو قرض کا دینا ادنی ہے قرض پر سود کا ہے کو لیا چاہئے۔ (موضح القرآن) مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خیرات کی تاکید فرمائی اور محتاج پر خرچ کرنے کا حکم دیا تو کسی ضرورتمند کو قرض دینا تو اس سے کم درجے کی چیز ہے قرض میں تو رقم واپس ہوتی ہے اور قرض تو کوئی ضرورت مند ہی لیتا ہے خیرات تو بعض دفعہ بلا ضرورت بھی لوگ لے لیتے ہیں لہٰذا کسی حاجت مند کو قرض دے کر اس پر سود کیوں لیا جائے۔ (تسہیل)